27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsبیان القرآن

Ayahs 27:75–80

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں ایسی کوئی چیز مخفی نہیں جو لوح محفوظ میں نہ ہو۔ (ف 4)

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بالیقین وہ ایمان داروں کے لیے (خاص) ہدایت اور (خاص) رحمت ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بالیقین آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے (وہ عملی) فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا اور وہ زبردست اور علم والا ہے۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

سو (جب وہ ایسا ہے تو) آپ اللہ پر توکل رکھیے یقیناً آپ صریح حق (طریقہ) پر ہیں۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں (خصوصاً ) جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں۔

ف 4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔
Ayahs 27:81–83

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ آپ ان اندھوں کو ان کی گمراہی سے (بچا کر) رستہ دکھانے والے ہیں آپ تو صرف ان ہی کو سکھا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کا یقین رکھتے ہیں (اور) پھر وہ مانتے (بھی) ہیں۔ (ف 1)

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب وعدہ (قیامت کا) ان پر پورا ہونے کو ہوگا تو ہم ان کے لیے ایک (عجیب) جانور نکالیں گے کہ وہ ان سے باتیں کرے گا کہ (کافر) لوگ ہماری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) آیتوں پر یقین نہ لاتے تھے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس دن (قبروں سے زندہ کرنے کے بعد) ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا (حساب کے لیے) جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو روکا جائے گا۔

ف 1۔ مطلب یہ کہ یہ لوگ تو مشابہ مردوں اور بہروں اور اندھوں کے ہیں پھر ان سے توقع ہدایت اور فہم کی بےکار ہے، جب توقع نہ ہوگی حزن بھی نہ ہوگا۔
Ayahs 27:84–85

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب (موقف میں) حاضر ہوجاویں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرما وے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم ان کو اپنے احاطہٴ علمی میں بھی نہیں لائے بلکہ اور بھی کیا کیا کام کرتے تھے۔ (ف 2)

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور (اب وہ وقت ہے کہ) ان پر وعدہ (عذاب کا) پورا ہوگیا کہ (دنیا میں) انہوں نے (بڑی بڑی) زیادتیاں کیں تھیں سو وہ لوگ بات بھی نہ کرسکیں گے۔

ف 2۔ مطلب یہ کہ سنتے ہی بلا تدبر و تفکر ان کی تکذیب کردی، اور تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا، بکہ یاد کرو کہ اس کے علاوہ اور بھی کیا کیا کرتے رہے مثلا انبیاء کو اور اہل ایمان کو آزار دیا، اسی طرح اور عقائد و اعمال کفریہ و فسقیہ میں مبتلا رہے۔
Ayahs 27:86–89

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے رات بنائی تاکہ لوگ اس میں آرام کرسکیں (اور یہ آرام مشابہ موت کے ہے) اور دن بنایا جس میں دیکھیں (اور یہ مشابہ حیات بعد الموت کے ہے پس) بلاشبہ اس میں بڑی دلیلیں ہیں ان ہی لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ (ف 3)

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور میں پھونک ماری جا وے گی سو جتنے آسمان اور زمین میں ہیں سب گھبرا جاویں گے مگر جس کو خدا چاہے (وہ اس گھبراہٹ سے اور موت سے محفوظ رہے گا) اور سب کے سب اسی کے سامنے دبے جھکے رہیں گے۔

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تو (جن) پہاڑوں کو دیکھ رہا ہے (اور) ان کو کیا خیال کر رہا ہے کہ یہ (اپنی جگہ سے) جنبش نہ کریں گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑے اڑے پھریں گے یہ خدا کا کام ہوگا جس نے ہر چیز کو (مناسب انداز پر) مضبوط بنا کر رکھا ہے یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب افعال کی پوری خبر ہے۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی (یعنی ایمان) لاوے گا سو اس شخص کو اس (نیکی کے اجر) سے بہتر (اجر) ملے گا اور وہ لوگ بڑی گھبراہٹ سے اس روز امن میں رہیں گے۔

ف 3۔ کیونکہ وہ تدبر کرتے ہیں اور دوسرے تدبر نہیں کرتے اور انتاج کے لئے نظر و فکر ضروری ہے، اس لئے دوسرے اس سے منتفع نہیں ہوتے۔
Ayah 27:90

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو شخص بدی (یعنی کفر و شرک) لاوے گا تو وہ لوگ اوندھے منہ آگ میں ڈال دیے جاویں گے اور (ان سے کہا جاوے گا کہ) تم کو ان ہی عملوں کی سزا دی جا رہی ہے جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔ (ف 4)

ف 4۔ اوپر سورت میں جو مضامین ثلاثہ نبوت و توحید و معاد مفصل مذکور ہیں، آگے خاتمہ میں ان کا اجمال و تلخیص ہے۔
Ayah 27:91

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے مالک (حقیقی) کی عبادت کیا کروں جس نے اس (شہر) کو محترم بنایا (ف 5) اور (اس کی عبادت کیوں نہ کی جائے جب کہ وہ ایسا ہے کہ) سب چیزیں اسی کی (ملک) ہیں اور مجھ کو بھی یہ حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبردار رہوں۔

ف 5۔ مطلب یہ کہ عبادت میں شرک سے برکنار ہوں جیسے اب تک برکنار ہوں۔
Ayahs 27:92–93

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور (مجھ کو) یہ (بھی حکم ملا ہے) کہ میں قرآن کریم پڑھ پڑھ کر سناؤں سو (میری تبلیغ کے بعد) جو شخص راہ پر آوے گا سو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے راہ پر آوے گا (ف 1) اور جو شخص گمراہ رہے گا تو آپ کہہ دیجیئے کہ میرا کوئی ضرر نہیں کیوں کہ میں تو صرف ڈرانے والے پیغمبروں میں سے ہوں۔ (ف 2)

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجیئے کہ سب خوبیاں خالص اللہ ہی کے لیے ثابت ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں (یعنی قیامت کے واقعات) دکھلا دے گا سو تم (وقوع کے وقت) ان کو پہچانو گے اور آپ کا رب ان کاموں سے بیخبر نہیں جو تم سب لوگ کر رہے ہو۔

ف 1۔ یعنی اس کو اجر وثواب و نجات ہوگی، میں اس سے کسی مالی یا جاہی نفع کا خواہاں نہیں ہوں۔ 2۔ یعنی میرا کام صرف حکم پہنچانا ہے، سو پہنچا کر سبکدوش ہوجاوں گا، آگے نہ ماننے کا وبال تم کو بھگتنا پڑے گا، مطلب یہ کہ میں پیغمبر ہوں اور تم سے کوئی غرض نہیں رکھتا۔