27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsبیان القرآن

Ayahs 27:40–42

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

جس کے پاس کتاب (ف 2) کا علم تھا (غرض) اس (علم والے) نے (اس جن سے) کہا کہ میں اس کو تیرے سامنے تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لا کھڑا کرسکتا ہوں (ف 3) جب سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو رو برو دیکھا تو (خوش ہو کر شکر کے طور پر) کہنے لگے کہ یہ بھی میرے پروردگار کا ایک فضل ہے تاکہ وہ میری آزمائش کرے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا (خدانخواستہ) ناشکری کرتا ہوں اور (ظاہر ہے کہ) جو شخص شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع کے لیے شکر ادا کرتا ہے (الله تعالیٰ کا کوئی نفع نہیں اور (اسی طرح) جو ناشکری کرتا ہے میرا رب غنی ہے کریم ہے۔

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

(ا سکے بعد) سلیمان (علیہ السلام) نے (بلقیس کی عقل کو آزمانے کے لیے) حکم دیا کہ اس کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو ہم دیکھیں کہ اس کو پتہ لگتا ہے یا اس کا ان میں شمار ہے جن کو (ایسی باتوں کا) پتہ نہیں لگتا۔

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

سو جب بلقیس آئی تو اس سے کہا گیا کہ تمہارا تخت ایسا ہی ہے وہ کہنے لگی کہ ہاں ہے تو ایسا ہی اور (یہ بھی کہا گیا کہ) ہم لوگوں کو تو اس واقعے سے پہلے ہی (آپ کی نبوت کی) تحقیق ہوچکی ہے اور ہم (اسی وقت سے دل سے) مطیع ہوچکے ہیں۔

ف 2۔ اقرب یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں۔ 3۔ چناچہ آپ نے حق تعالیٰ سے دعا کی اور تخت فورا سامنے آموجود ہوا۔
Ayahs 27:43–44

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اس کو (ایمان لانے سے) غیر اللہ کی عبادت نے (جس کی اس کو عادت تھی) روک رکھا تھا (اور وہ عادت اس لیے پڑگئی تھی کہ) وہ کافر قوم میں کی تھی۔ (ف 1)

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

بلقیس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو (وہ چلیں راہ میں حوض آیا) تو جب اس کا صحن دیکھا تو اس کو پانی سے (بھرا ہوا) سمجھا اور (اس کے اندرگھسنے کے لیے) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں (اس وقت) سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو ایک محل ہے جو شیشوں سے بنایا گیا ہے (اس وقت) بلقیس کہنے لگیں کہ اے میرے پروردگار میں نے (اب تک) اپنے نفس پر ظلم کیا تھا (کہ شرک میں مبتلا ہوگئی تھی) اور اب میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ (یعنی ان کے طریقہ پر) ہو کر رب العالمین پر ایمان لائی۔

ف 1۔ اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) نے یہ چاہا کہ علاوہ اعجاز و شان نبوت دکھلانے کے اس کو ظاہری شان سلطنت بھی دکھا دی جاوے تاکہ اپنے کو دنیا کے اعتبار سے بھی عظیم نہ سمجھے، اس لئے ایک شیش محل بنوا کر اس کے صحن میں حوض بنوایا اور اس میں پانی اور مچھلیاں بھر کر اس کو شیشہ سے پاٹ دیا، اور شیشہ ایسا صاف تھا کہ بادی النظر میں نظر نہ آتا تھا، اور وہ حوض ایسے موقع پر تھا کہ اس محل میں جانے والے کو لامحالہ اس پر سے عبور کرنا پڑے۔
Ayahs 27:45–46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے (قوم) ثمود کے پاس ان کے (برادری کے) بھائی صالح (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا یہ (پیغام دے کر) کہ تم اللہ کی عبادت کرو سو اچانک ان میں دو فریق ہوگئے (جو دین کے بارے میں) باہم جھگڑنے لگے۔ (ف 2)

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے بھائیو تم نیک کام (یعنی توبہ و ایمان) سے پہلے عذاب کو کیوں جلدی مانگتے ہو تم لوگ اللہ کے سامنے (کفر سے) معافی کیوں نہیں چاہتے جس سے توقع ہو کہ تم پر رحم کیا جاوے (یعنی عذاب سے محفوظ رہو) ۔

ف 2۔ یعنی ایک فرقہ تو ایمان لے آیا اور ایک نہ لایا، اور ان میں جو جھگڑا اور کلام ہوا بعض اس میں کا سورة اعراف میں مذکور ہے اور بعض اس سے آگے مذکور ہے۔
Ayahs 27:47–49

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں صالح (علیہ السلام) نے (جواب میں) فرمایا کہ تمہاری (اس) نحوست (کا سبب) اللہ کے علم میں ہے (ف 3) بلکہ تم وہ لوگ ہو کہ (اس کفر کی بدلت) عذاب میں مبتلا ہو گے۔

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور (کفر کے سرغنہ) اس بستی میں نو شخص تھے جو سر زمین میں (یعنی بستی سے باہر تک بھی) فساد کیا کرتے تھے اور (ذرا) صلاح نہیں کرتے تھے۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ آپس میں سب (اس پر) اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم شب کے وقت صالح اور ان کے متعلقین (یعنی ایمان والوں) کو ماریں گے پھر (بر وقت تحقیق) ہم ان کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم ان کے متعلقین کے (اور خود ان کے) مارے جانے میں موجود (بھی) نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔

ف 3۔ یعنی تمہارے اعمال کفریہ اللہ کو معلوم ہیں، یہ شرور ان ہی اعمال پر مرتب ہیں۔
Ayahs 27:50–53

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور (یہ مشورہ کر کے) انہوں نے ایک خفیہ تدبیر کی اور ایک خفیہ تدبیر ہم نے کی (اور اس تدبیر کی) ان کو خبر نہ ہوئی۔ (ف 4)

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

سو دیکھیے ان کی شرارت کا کیا انجام ہوا کہ ہم نے ان کو (بطریق مذکور) اور (پھر) ان کی قوم کو سب کو آسمانی عذاب سے) غارت کردیا۔

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو یہ ان کے گھر ہیں جو ویران پڑے ہیں ان کے کفر کے سبب بلا شبہ اس (واقعہ) میں بڑی عبرت ہے دانشمندوں کے لیے۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ایمان اور تقویٰ والوں کو نجات دی۔

ف 4۔ وہ یہ کہ ایک پہاڑ سے ایک پتھر پر لڑھک آیا اور وہ سب وہاں ہی کھپت رہے، یعنی ہلاک ہوئے۔
Ayahs 27:54–57

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا تھا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ سمجھدار ہو۔ (ف 5)

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اور اس کی برائی میں کوئی شبہ نہیں) بلکہ (اس باب میں) تم (محض) جہالت کر رہے ہو۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

سو (اس تقریر کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے آپس میں کہنے لگیں کہ لوط (علیہ السلام) کے لوگوں کو تم اپنی بستی سے نکال دو (کیوں کہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

سو ہم نے (اس قوم پر عذاب نازل کیا (اور) لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے متعلقین کو بچا لیا بجز ان کی بیوی کے کہ اس کو (بوجہ ایمان نہ لانے کے) ہم نے ان ہی لوگوں میں تجویز کر رکھا تھا جو عذاب میں رہ گئے تھے۔

ف 5۔ یعنی کیا اس کی قباحت نہیں سمجھتے۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک نئی طرح کا مینہ (ف 1) برسایا سو ان لوگوں کا کیا برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے تھے۔ (ف 2)

ف 1۔ وہ پتھروں کا مینہ تھا۔ 2۔ شروع سورت سے یہاں تک رسالت کی بحث تھی، آگے توحید کی بحث ہے۔
Ayahs 27:59–64

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

آپ (بیان توحید کے لیے بطور خطبہ کے) کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے سزا وار ہیں اور اس کے ان بندوں پر سلام (نازل) ہو جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے کہ اللہ بہتر ہے (ف 3) یا وہ چیزیں جن کو شریک ٹھیراتے ہیں۔

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

یا وہ ذات (بہتر ہے) جس نے آسمان اور زمین کو بنایا اور اس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی بر سایا پھر اس (پانی) کے ذریعہ سے ہم نے رونق دار باغ اگائے (اور نہ) تم سے ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں) کے درختوں کو اگا سکو (یہ سن کر بتلاؤ کہ) کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ (عبادت میں شریک ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین پھر بھی نہیں مانتے) بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ (دوسروں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں۔

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

یا وہ ذات جس نے زمین کو (مخلوق کا) قرار گاہ بنایا ہے اور اس کے درمیان نہریں بنائیں اور اس (زمین) کے ٹھیرانے کے لیے پہاڑ بنائے اور دریاؤں کے درمیان ایک حد فاصل بنائی کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین نہیں مانتے) بلکہ ان میں زیادہ تو (اچھی طرح) سمجھتے بھی نہیں۔

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

یا وہ ذات جو بےقرار آدمی کی سنتا ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے اور (اس کی) مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم کو زمین میں صاحب تصرف بناتا ہے (یہ سن کر بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (مگر) تم لوگ بہت ہی کم یاد رکھتے ہو۔

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

(اچھا پھر اور کمالات سن کر بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں) یا وہ ذات جو تم کو خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں رستہ سوجھاتا ہے اور جو کہ ہواؤں کو بارش سے پہلے بھیجتا ہے (جو بارش کی امید دلا کر) خوش کردیتی ہیں (یہ سن کر بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (ہر گز نہیں بلکہ) اللہ ان لوگوں کے شرک سے برتر ہے۔

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

یا وہ ذات جو مخلوقات کو اول بار پیدا کرتا ہے (جو کہ مسلم ہے) پھر اس کو دوبارہ زندہ کرے گا اور جو کہ آسمان (سے) پانی بر سا کر اور زمین سے (نباتات نکال) کر تم کو رزق دیتا ہے (یہ سن کر اب بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے آپ کہیے (اچھا) تم (ان کے استحقاق عبادت پر) اپنی دلیل پیش کرو اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو۔

ف 3۔ یعنی ظاہر اور مسلم ہے کہ اللہ ہی بہتر ہے۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ جتنی مخلوقات آسمان اور زمین (یعنی عالم) میں موجود ہیں (ان میں سے) کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے اور (اسی وجہ سے) ان (مخلوقات) کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تو بےبتلائے سب معلوم ہے، اور کسی کو بےبتلائے کچھ بھی معلوم نہیں، مگر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے امور جن کا پہلے سے علم نہیں ہوتا واقع ہوتے ہیں اس سے معلوم ہوتا کہ عدم علم عدم وقوع کو مستلزم نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بعض علوم کا غیب رکھنا منظور ہے، سو قیامت کی تعین بھی ان ہی امور میں سے ہے، اسی لئے مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا گیا، مگر اس سے عدم وقوع کیسے لازم آگیا۔
Ayahs 27:66–69

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے بارے میں خود ان کا علم (بالوقوع ہی) نیست ہوگیا بلکہ یہ لوگ اس سے شک میں ہیں بلکہ یہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ (ف 1)

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ کیا ہم لوگ جب (مر کر) خاک ہوگئے اور (اسی طرح) ہمارے بڑے بھی تو کیا (پھر) ہم (زندہ کر کے قبروں سے) نکالیں جاویں گے۔

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کا تو ہم سے اور ہمارے بڑوں سے (محمد (علیہ السلام) کے) پہلے سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے نقل ہوتی چلی آئی ہیں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ تم زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ مجرمین کا انجام کیا ہوا۔

ف 1۔ یعنی جیسے اندھے کو طریق نظر نہیں آتا، اس لئے مقصود تک پہنچنا مستبعد ہے، اسی طرح تصدیق بالآخرت کا جو طریق ہے یعنی دلائل صحیحہ یہ لوگ غایت عناد سے اس میں تدبر و تامل نہیں کرتے، اس لئے وہ دلائل ان کو نظر نہیں آتے، جس سے مطلوب تک پہنچ جانے کی امید ہوتی، پس یہ شک سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ شک والا بعض اوقات دلائل میں نظر کر کے رفع شک کرلیتا ہے اور یہ نظر بھی نہیں کرتے۔
Ayahs 27:70–72

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور (اگر باوجود ان مواعظ بلیغہ کے پھر بھی مخالفت پر کمر بستہ رہیں تو) آپ ان پر غم نہ کیجیئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ نہ ہوجیئے۔ (ف 2)

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ (بےباکانہ) یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب قبر کا کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ) ۔

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ عجب نہیں کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہی آ لگا ہو۔

ف 2۔ کہ اور انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے۔
Ayahs 27:73–74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور (اب تلک جو دیر ہو رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ) آپ کا رب تو لوگوں پر (اپنا) بڑا فضل رکھتا ہے (ف 3) لیکن اکثر آدمی (اس بات پر) شکر نہیں کرتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور آپ کے رب کو سب خبر ہے جو کچھ ان کے دلوں میں مخفی ہے اور جس کو وہ علانیہ کرتے ہیں۔

ف 3۔ اس رحمت عامہ کی وجہ سے قدرے مہلت دے رکھی ہے۔