26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsبیان القرآن

Ayahs 26:1–8

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ ( مضامین جو آپ پر نازل ہوتے ہیں) کتاب واضح (یعنی قرآن کی) آیتیں ہیں۔

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے پر (رنج کرتے کرتے) اپنی جان دے دیں گے۔

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک بڑی نشانی نازل کردیں پھر ان کی گردنیں اس نشانی سے پس ہوجاویں۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور (ان کی حالت یہ ہے کہ) ان کے پاس کوئی تازہ فہمائش (حضرت) رحمٰن کی طرف سے ایسی نہیں آتی جس سے یہ بےرخی نہ کرتے ہوں سو (اس بےرخی کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ) ۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

انہوں نے (دین حق کو) جھوٹا بتلا دیا سو عنقریب ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کے ساتھ یہ استہزاء کرتے تھے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کس قدر عمدہ عمدہ قسم کی بوٹیاں اگائی ہیں۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

اس میں (توحید کی) ایک بڑی نشانی ہے اور ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (ف 3)

ف 3۔ معلوم ہوا کہ ان کے عناد نے ان کی فطرت کو بالکل مختل کردیا، پھر ایسوں کے پیچھے کیوں جان کھوئی جائے۔
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بلا شبہ آپ کا رب غالب ہے رحیم ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ اس کی رحمت عامہ دنیا میں کفار سے بھی متعلق ہے، اس کا اثر یہ ہے کہ ان کو مہلت دے رکھی ہے، ورنہ کفر یقینا مزموم اور مقتضی عذاب ہے۔
Ayahs 26:10–14

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور (ان لوگوں سے اس وقت کا ذکر کیجیئے) جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا (اور حکم دیا) کہ تم ان ظالم لوگوں کے یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ۔

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

(اور اے موسیٰ (علیہ السلام) دیکھو) کیا یہ لوگ (ہمارے غضب سے) نہیں ڈرتے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلانے لگیں۔

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور (طبعی طور پر ایسے وقت میں) میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان (اچھی طرح) نہیں چلتی اس لیے ہارون (علیہ السلام) کے پاس بھی وحی بھیج دیجیئے۔

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور میرے ذمہ ان لوگوں کا یک جرم بھی ہے (ف 5) سو مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھ کو (قبل تبلیغ رسالت) قتل کر ڈالیں۔

ف 5۔ جرم ایک قبطی کے قتل کا جس کا قصہ سورة قصص میں آوے گا۔
Ayahs 26:15–17

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ کیا مجال ہے سو (اب) تم دونوں ہمارے احکام لے کر جاؤ ہم (نصرت و امداد سے) تمہارے ساتھ ہیں سنتے ہیں۔

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

سو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور (اس سے) کہو کہ ہم رب العالمین کے فرستادہ ہیں۔

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ لے جانے دے۔ (ف 1)

ف 1۔ مجموعہ دعوت کا حاصل حقوق اللہ و حقوق العباد میں تعدی کا ترک کرنا ہے۔
Ayahs 26:18–21

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

(دونوں حضرات گئے اور فرعون سے سب مضامین کہہ دیے) فرعون کہنے لگا (آہا تم ہو) کیا ہم نے تم کو بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تم اپنی اس عمر میں برسوں ہم میں رہا سہا کیے۔

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی (یعنی قبطی کو قتل کیا تھا) اور تم بڑے ناسپاس ہو۔

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ (واقعی) اس وقت وہ حرکت میں کر بیٹھا تھا اور مجھ سے غلطی ہوگئی تھی۔

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر جب مجھ کو ڈر لگا تو میں تمہارے یہاں سے مفرور ہوگیا پھر مجھ کو میرے رب نے دانشمندی عطا فرمائی اور مجھ کو پیغمبروں میں شامل کردیا۔ (ف 2)

ف 2۔ خلاصہ جواب یہ کہ میں پیغمبر ہی کی حیثیت سے آیا ہوں جس میں دبنے کی کوئی وجہ نہیں، اور پیغمبری اس واقعہ قتل خطا کے منافی نہیں، کیونکہ وہ خطا تو تھا، جو قادح استعداد کے بعد فعلیت مستبعد نہیں۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور (رہا احسان جتلانا پر ورش کا سو) وہ یہ نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت میں ڈال رکھا تھا۔ (ف 3)

ف 3۔ کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا جس کے خوف سے میں صندوق میں رکھ کردیا میں ڈالا گیا اور تیرے ہاتھ لگ گیا، اور تیری پرورش میں رہا، تو اس پرورش کی اصلی وجہ تو تیرا ظلم ہی ہے، تو ایسی پرورش کا کیا احسان جتلایا اجتا ہے بلکہ اس سے تو اپنی ناشائستہ حرکات کو یاد کر کے شرمانا چاہئے۔
Ayahs 26:23–24

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون (اس بات میں لاجواب ہوا اور سخن کا پہلو بدل کر اس) نے کہا کہ رب العالمین کی ماہیت (اور حقیقت) کیا ہے۔

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمینوں کا اور جو کچھ (مخلوقات) ان کے درمیان میں ہے اس کا اگر تم کو یقین کرنا ہو (تو یہ پتہ بہت ہے) ۔ (ف 4)

ف 4۔ مطلب یہ کہ ماہیت سے اس کی معرفت نہیں ہوسکتی، جب سوال ہوگا صفات ہی سے جواب ملے گا۔
Ayahs 26:25–38

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے ارد گرد (بیٹھنے) والوں سے کہا کہ تم لوگ (کچھ سنتے ہو (سوال کچھ جواب کچھ) ۔

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے تمہارا اور تمہارے بزرگوں کا۔

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون (نہ سمجھا اور) کہنے لگا کہ یہ تمہارا رسول جو (بزعم خود) تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہے مجنون معلوم (ہوتا) ہے۔

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے مشرق کا اور مغرب کا اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے اس کا بھی اگر تم کو عقل ہو (تو اس کو مان لو) ۔

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

(آخر جھلاّ کر) کہنے لگا کہ اگر تم میرے سوا کوئی اور معبود تجویز کرو گے تو تم کو جیل خانہ بھیج دوں گا۔

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میں کوئی صریح دلیل پیش کر دوں تب بھی (نہ مانے گا) ۔

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا تو وہ دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو وہ دفعتہً ایک نمایاں اژدھا بن گیا۔

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور ( دوسرا معجزہ دکھلانے کے لیے) اپنا ہاتھ (گریبان میں دے کر) باہر نکالا تو وہ دفعتہً سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہوگیا۔

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اہل دربار سے جو اس کے آس پاس (بیٹھے) تھے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

اس کا (اصل) مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہاری زمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو۔

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

اور درباریوں نے کہا کہ آپ کو اور ان کے بھائی کو (چندے) مہلت دیجیئے اور شہروں میں چپراسیوں کو (حکم نامے دے کر) بھیج دیجیئے۔

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

(کہ وہ سب شہروں سے) سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

غرض وہ جادوگر ایک معین دن کے خاص وقت پر جمع کیے گئے۔ (ف 1)

ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔
Ayahs 26:39–40

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور (فرعون کی طرف سے بطور اعلان عام کے) لوگوں کو یہ اشتہار دیا گیا کہ کیا تم لوگ جمع ہو گے (یعنی جمع ہوجاؤ) ۔

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی راہ پر رہیں۔ (ف 2)

ف 2۔ مطلب یہ کہ جمع ہو کر دیکھو، امید ہے کہ جادوگر غالب رہیں گے، تو ہم لوگوں کے طریق کا حق ہونا حجت سے ثابت ہوجاوے گا۔