25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsبیان القرآن

Ayahs 25:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی عالیشان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب (یعنی قرآن) اپنے بندہٴ خاص (حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی تاکہ وہ بندہ تمام دنیا جہان والوں کے لیے ڈرانے والاہو۔

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

ایسی ذات جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو (اپنی) اولاد قرار نہیں دیا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے حکومت میں اور اس نے (ممکنات میں سے) ہر (موجود) چیز کو پیدا کیا پھر سب کا الگ الگ انداز رکھا۔ (ف 2)

ف 2۔ کسی چیز کے آثار و خواص کچھ ہیں کسی کے کچھ ہیں۔
Ayahs 25:3–4

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (باوجود حق تعالیٰ کے ایسے یکتا ہونے کے) ان مشرکین نے خدا کی (توحید) کو چھوڑ کر ایسے معبود قرار دیے جو کسی چیز کے خالق نہیں اور (بلکہ) وہ خود مخلوق ہیں اور خود اپنے لیے نہ کسی نقصان کے (دفع کرنے) کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع ( کے حاصل کرنے) کا اور نہ کسی کے مرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی کے جینے کا اور نہ کسی کو (قیامت میں) دوبارہ جلانے کا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر (یعنی مشرک) لوگ (قرآن کے بارے میں) یوں کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں نرا جھوٹ ہے جس کو ایک شخص (یعنی پیغمبر ﷺ نے گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس (گھڑت) میں اس کی امداد کی ہے (ف 3) سو یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے۔

ف 3۔ مراد اس سے وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے یا آپ کی خدمت میں ویسے ہی حاضر ہوا کرتے تھے۔
Ayahs 25:5–6

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور یہ (کافر) لوگ (یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے ہوتی چلی آتی ہیں جن کو اس شخص (یعنی پیغمبر ﷺ نے لکھوا لیا ہے پھر وہی (مضامین) اس کو صبح شام پڑھ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

آپ (اس کے جواب میں کہہ دیجیئے) کہ اس (قرآن) کو تو اس ذات نے اتارا ہے جس کو چھپی باتوں کی خواہ آسمانوں میں ہوں یا زمین میں خبر ہے (ف 4) واقعی اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

ف 4۔ حاصل جواب یہ ہوا کہ اس کلام کا اعجاز دلیل ہے اس کی کہ کفار کا کہنا اساطیر الاولین غلط ہے، اور اسی سے ثابت ہوگیا کہ وہ لوگ مرتکب ظلم و زور کے ہیں، اگر یہ خود پیغمبر ﷺ کا کلام مفتری یا مکتسب ہوتا یا قوم آخرین کی اعانت سے تصنیف ہوتا تو معجز کیسے ہوگا۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور یہ (کافر) لوگ ( رسول (علیہ السلام) کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ رسول (علیہ السلام) کو کیا ہوا کہ وہ (ہماری طرح) کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے (ف 5) اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ رہ کر ڈراتا۔

ف 5۔ یعنی بشر ہے جو کہ محتاج ہوتا ہے طعام و اہتمام معاش کا، مطلب یہ کہ رسول کو فرشتہ ہونا چاہئے۔
Ayahs 25:8–10

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کے پاس (غیب سے) کوئی خزانہ آپڑتا یا اس کے پاس کوئی (غیبی) باغ ہوتا جس سے یہ کھایا کرتا اور (ایمان داروں سے) یہ ظالم یوں (بھی) کہتے ہیں کہ تم لوگ ایک مسلوب العقل آدمی کی راہ پر چل رہے ہو۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ دیکھیے تو یہ لوگ آپ کے لیے کیسی کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کر رہے ہیں سو (ان خرافات سے) وہ (بالکل) گمراہ ہوگئے پھر وہ راہ نہیں پاسکتے۔

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ ذات بڑی عالیشان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دے دے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور آپ کو بہت سے محل دے دے۔ (ف 1)

ف 1۔ مطلب یہ کہ جو کچھ جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا، اور فی نفسہ ضروری تھا نہیں، پس شبہ محض بیہودہ ہے۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں (ف 2) اور (انجام اس کا یہ ہوگا کہ) ہم نے ایسے شخص کے لیے جو قیامت کو جھوٹ سمجھتے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ (ف 3)

ف 2۔ اس لئے فکر انجام نہیں ہے، اور جو جی میں آتا ہے کرلیتے ہیں، بک دیتے ہیں۔ 3۔ کیونکہ قیامت کی تکذیب سے اللہ و رسول کی تکذیب لازم آتی ہے، جو اصل سبب ہے دوزخ میں جانے کا۔
Ayahs 25:12–17

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو وہ لوگ (دور ہی سے) اس کا جوش و خروش سنیں گے۔

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور پھر جب وہ اس (دوزخ) کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈالیں جاویں گے۔

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

تو وہاں موت موت پکاریں گے آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

آپ (ان کو یہ مصیبت سنا کر) کہیے کہ (یہ بتلاؤ کہ) کیا (مصیبت کی حالت) اچھی ہے یا وہ ہمیشہ رہنے کی جنت (اچھی ہے) جس کا خدا سے ڈرنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کے لیے (ان کی اطاعت کا) صلہ ہے اور ان کا (آخری ٹھکانا۔

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

(اور) ان کو وہاں وہ سب چیزیں ملیں گی جو کچھ وہ چاہیں گے (اور) وہ (اس میں) ہمیشہ رہیں گے (اے پیغمبر ﷺ یہ ایک وعدہ ہے جو آپ کے رب کے ذمہ ہے اور قابل درخواست ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس روز اللہ تعالیٰ ان (کافر) لوگوں کو اور جن کو وہ لوگ خدا کے سوا پوجتے تھے ان (سب) کو جمع کرے گا پھر (ان معبودین سے) فرماوے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ (خود ہی) راہ (حق) سے گمراہ ہوگئے تھے۔ (ف 4)

ف 4۔ مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت کہ واقع میں ضلالت ہے تمہاری امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ (معبودین) عرض کریں گے معاذ اللہ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم آپ کے سوا اور کارسازوں کو تجویز کریں (لیکن) آپ نے (تو) ان کو اور ان کے بڑوں کو (خوب) آسودگی دی (ف 5) یہاں تک کہ وہ (آپ کی) یاد کو بھلا بیٹھے اور یہ لوگ خود ہی برباد ہوئے۔ (ف 6)

ف 5۔ جس کا مقتضی تو یہ تھا کہ منعم کی معرفت اور اس کا شکر و اطاعت کرتے۔ 6۔ مطلب جواب کا ظاہر ہے کہ دونوں شقوں میں ضلوا السبیل کی شق کو اختیار کیا، اور ضلالت کی شناعت و فظاعت کو ذکر تمتیع سے موکد کیا، جس سے خوب ناراضی ان عابدین سے ظاہر ہوجاوے۔
Ayahs 25:19–20

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

(اس وقت اللہ تعالیٰ ان عابدین کو اظہار لا جواب کرنے کے لیے فرماوے گا کہ) تمہارے ان معبودوں نے تو تم کو تمہاری باتوں میں جھوٹا ٹھیرا دیا سو (اب) تم نہ تو خود (عذاب کو) ٹال سکتے ہو اور (نہ کسی دوسرے کی طرف سے) مدد دیے جاسکتے ہو اور جو (جو) تم میں ظالم (یعنی مشرک) ہوگا ہم اس کو بڑا عذاب چکھائیں گے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے (ف 7) اور ہم نے تم (مجموعہ مکلفین) میں ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے کیا صبر کرو گے (یعنی صبر کرنا چاہیے) اور آپ کا رب خوب دیکھ رہا ہے۔

ف 7۔ مطلب یہ کہ نبوت و اکل طعام وغیرہ میں تنافی نہیں۔
Ayahs 25:21–22

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے (بوجہ اس کے کہ اس کے منکر ہیں) وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور یہ لوگ حدِ (انسانیت) سے بہت دور نکل گئے ہیں۔

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز مجرموں (یعنی کافروں کے) لیے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی (ف 1) اور کہیں گے کہ پناہ ہے پناہ ہے۔

ف 1۔ وہ دن قیامت کا دن ہے۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

ہم اس روز ان کے (یعنی کفار کے) ان (نیک) کاموں کی طرف جو کہ وہ (دنیا میں) کرچکے تھے متوجہ ہوں گے سو ان کو ایسا (بےکار) کردیں گے جیسے پریشان غبار۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی جس طرح غبار کسی کام نہیں آتا اسی طرح ان کفار کے اعمال پر کچھ ثواب نہ ہوگا۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

( البتہ) اہل جنت اس روز قیام گاہ میں اچھے رہیں گے اور آرام گاہ میں بھی خوب اچھے ہوں گے۔ (ف 3)

ف 3۔ مراد مستقر اور مقیل سے جنت ہے، یعنی جنت ان کے لئے جائے قیام اور جائے آرام ہوگی، اور اچھا ہونا اس کا ظاہر ہے۔
Ayahs 25:25–26

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس روز آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا اور فرشتے (زمین پر) بکثرت اتارے جاویں گے۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

(اور) اس روز حقیقی حکومت (حضرت) رحمٰن (ہی) کی ہوگی (ف 4) اور وہ (دن) کافروں پر بڑا سخت دن ہوگا۔ (ف 5)

ف 4۔ یعنی حساب و کتاب و جزا و سزا میں کسی کو دخل نہ ہوگا۔ 5۔ کیونکہ ان کے حساب کا انجام جہنم ہی ہے۔
Ayahs 25:27–30

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس روز ظالم (یعنی آدمی غایت حسرت سے) اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھاوے گا اور) کہے گا کیا اچھا ہوتا میں رسول (علیہ السلام) کے ساتھ (دین کی راہ) پر لگ لیتا۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری شامت (کہ ایسا نہ کیا اور) کیا اچھا ہوتا کہ میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا۔

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس (کمبخت) نے مجھ کو نصیحت آئے پیچھے بہکا دیا (اور ہٹا دیا) اور شیطان تو انسان کو (عین وقت پر) امداد کرنے سے جواب دے ہی دیتا ہے۔

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور (اس دن) رسول (علیہ السلام) کہیں گے کہ اے میرے پروردگار میری (اس) قوم نے اس قرآن کو (جو کہ واجب العمل تھا) بالکل نظر انداز کر رکھا تھا۔ (ف 6)

ف 6۔ مطلب یہ کہ خود کفار بھی اپنی ضلالت کا اقرار کریں اور رسول بھی شہادت دیں گے، اور ثبوت جرم کی یہی دو صورتیں معتاد ہیں، اقرار اور شہادت۔ اور دونوں کے اجتماع سے یہ ثبوت اور بھی موکد ہوجاوے گا، اور سزا یاب ہوں گے۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح (یعنی جس طرح یہ لوگ آپ سے عداوت کرتے ہیں) مجرم لوگوں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہتے ہیں (ف 7) اور ہدایت کرنے کو اور مدد کرنے کو آپ کا رب ہی کافی ہے۔

ف 7۔ یعنی یہ سنت قدیمہ ہے کہ کفار انبیاء کے ساتھ عداوت کرتے رہے ہیں، سو یہ کوئی نئی بات نہیں جس کا غم کیا جاوے۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ (پیغمبر ﷺ پر یہ قرآن دفعتاً واحدةً کیوں نہیں نازل کیا گیا اس طرح (تدریجاً ) ا سلیے (ہم نے نازل کیا) ہے تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور (اس لیے) ہم نے اس کو بہت ٹھیرا ٹھیرا کر اتارا ہے۔ (ف 8)

ف 8۔ چناچہ تئیس سال میں پورا ہوا تاکہ نزول تدریجی کا فائدہ تمام ہو۔
Ayahs 25:33–34

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

یہ لوگ کیسا ہی عجیب سوال آپ کے سامنے پیش کریں گے مگر ہم (اس کا) جواب اور وضاحت میں بڑھا ہوا آپ کو عنایت کردیتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مونہوں کے بل جہنم کی طرف لے جائے جاویں گے یہ لوگ جگہ میں بھی بدتر ہیں اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہیں۔ (ف 1)

ف 1۔ جگہ سے مراد دوزخ اور طریقہ سے مراد مسلک اور مذہب۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور (بہ تحقیق) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (یعنی توریت) دی تھی (ف 2) اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو (ان کا) معین بنایا تھا۔

ف 2۔ یعنی وہ بہت جلیل القدر صاحب کتاب نبی تھے۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر ہم نے (دونوں کو) حکم دیا کہ دونوں آدمی ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری (توحید کی) دلیلوں کو جھٹلایا ہے (ف 3) سو ہم نے ان کو (اپنے قہر سے) بالکل (ہی) غارت کردیا۔

ف 3۔ مراد اس قوم سے فرعون اور اس کی قوم ہے۔
Ayahs 25:37–38

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح (علیہ السلام) کو بھی ہم ہلاک کرچکے ہیں جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو (لوگوں کی عبرت) کے لیے ایک نشان بنادیا اور (آخرت میں ہم نے ان ظالموں کے لیے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرّس (ف 4) اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا۔

ف 4۔ رس لغت میں کہتے ہیں کنوئے کو، اور کچھ لوگ قوم ثمود کے رہ گئے تھے اور کسی کنوے پر آباد تھے، وہ اصحاب الرس ہیں۔