24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsبیان القرآن

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جس کے (الفاظ) کو (بھی) ہم (ہی) نے نازل کیا ہے اور اس (کے معنی یعنی احکام) کو (بھی) ہم (ہی) نے مقرر کیا ہے اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم سمجھو (اور عمل کرو) ۔ (ف 2)

ف 2۔ اس تمہید میں اپنی طرف منسوب فرماکر الفاظ سورت کی جزالت اور معانی کی جلالت اور معانی پر الفاظ کی وضوح دلالت اور پھر اس مجموعہ کی غایت بیان فرمانے سے ان احکام پر عمل کرنے کا غایت اعتناء شان ہوگیا۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد سو ان میں ہر ایک کے سو دِرّے مارو (ف 3) اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آنا چاہیے اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی جماعت کو حاضر رہنا چاہییے۔ (ف 4)

ف 3۔ یہ سزا اس زانی اور زانیہ کی ہے جو آزاد عاقل بالغ ہوں، اور نکاح کئے ہوئے نہ ہوں، یا نکاح کے بعد ہمبستری نہ کرچکے ہوں اور جو آزاد نہ ہو اس کے پچاس درے لگتے ہیں، اور جو عاقل یا بالغ نہ ہو وہ مکلف ہی نہیں، اور جس مسلمان میں تمام صفتیں ہوں، حریت، بلوغ، عقل، نکاح اور ہمبستری سے فراغ، ایسے شخص کو محصن کہتے ہیں، اس کی سزا رجم ہے، اور جو مرض کی وجہ سے دروں کا متحمل نہ ہو اس کی صحت کا انتظار کریں گے۔ 4۔ تاکہ ان کے ذریعہ سے تشہیر ہو، اور سامعین کو عبرت ہو، اور دوسرے لوگ اس سے رکیں۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا بجز زانیہ یا مشرکہ کے اور (اسی طرح) زانیہ کے ساتھ بھی اور کوئی نکاح نہیں کرتا بجز زانی مشرک کے اور یہ (یعنی ایسا نکاح) مسلمانوں پر حرام (موجب گناہ) کیا گیا ہے۔ (ف 5)

ف 5۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ جو لوگ زنا کے خوگر ہوجاتے ہیں، اور ہنوز انہوں نے توبہ نہ کی ہو، ان کی اصلی رغبت زنا کی طرف ہوتی ہے اور اس میں انکو زیادہ لذت ہوتی ہے، حتی کہ ان کو جو عورت پسند آتی ہے اصل ان کا مقصود یہی ہوتا ہے کہ اس سے زنا میسر ہوجاوے اور یہ ہمارے ساتھ زانیہ ہونا گوارا کرلے۔
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ (زنا) کی تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو اور پھر چار گواہ (اپنے دعوے پر) نہ لا سکیں تو ایسے لوگوں کو اسّی درّے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی قبول مت کرو (یہ تو دنیا میں ان کی سزا ہوئی) اور یہ لوگ (آخرت میں بھی مستحق سزا ہیں اس وجہ سے ہے کہ) فاسق ہیں۔ (ف 6)

ف 6۔ ہر تہمت کا یہ حکم نہیں، بلکہ خاص تہمت بالزنا کا، گویہ قید صریحا مذکور نہیں، مگر اربعة شھداء اس پر دال ہے۔
Ayahs 24:5–10

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اس (تہمت لگانے) کے بعد ( خدا کے سامنے) توبہ کرلیں اور (اپنی حالت کی) اصلاح کرلیں سو (اس حالت میں) اللہ تعالیٰ ضرور مغفرت کرنے والا ہے۔ (ف 7)

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی (منکوحہ) بیبیوں کو (زنا کی) تہمت لگائيں اور ان کے پاس بجز اپنے (ہی دعوٰے کے) اور کوئی گواہ نہ ہوں (جن کا عدد میں چار ہونا چاہیے) تو ان کی شہادت (جو کہ دافع حبس یا حد قذف ہو) یہی ہے کہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ بیشک میں سچا ہوں۔

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر خدا کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور (اس کے بعد) اس عورت سے سزا (حبس یا حد زنا) اسطرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار بار قسم کھا کر کہے بیشک یہ مرد جھوٹا ہے۔

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر خدا کا عذاب ہو اگر یہ سچا ہو۔ (ف 1)1۔ اس طریق سے دونوں سزا سے بچ سکتے ہیں، البتہ وہ عورت اس مرد پر حرام ہوجاوے گی۔ فائدہ : اس طرح کہلانے کو لعان کہتے ہیں اور لعان خاص اس صورت میں ہوتا ہے جب شوہر اپنی عورت کو تہمت زنا کی لگادے یا اپنے بچے کو کہے کہ یہ میرے نطفے سے نہیں ہے۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

(اور اے مردو اور عورتو) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل اور اس کا کرم ہے (کہ ایسے ایسے احکام مقرر کیے ہیں) اور یہ کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا (اور) حکمت والا ہے۔

ف 7۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ ضرور مغفرت کرنے والا رحمت کرنے والا ہے، اور اس لئے فسق کی وجہ سے جو استحقاق عذاب آخرت کا ہوا تھا، وہ مرتفع ہوجاوے گا، گو رد شہادت جو کہ تتمہ تھا حد کا پھر بھی باقی رہے، کیونکہ توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی۔
Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

تو بڑی مضرتوں میں پڑجاتے جن لوگوں نے یہ طوفان (حضرت صدیقہ ؓ کی نسبت) برپا کیا ہے (اے مسلمانو) وہ تمہارے میں کا ایک (چھوٹا سا) گروہ ہے (ف 2) تم اس (طوفان بندی) کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو (بلکہ یہ با اعتبار انجام کے) تمہارے حق میں بہتر ہی بہتر ہے ان میں سے ہر شخص کو جتنا کسی نے کچھ کیا تھا گناہ ہوا اور ان میں جس نے اس (طوفان) میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کو سخت (ف 3) سزا ہوگی۔

ف 2۔ قاذف کل چار تھے، ایک بالذات اور مخترع یعنی عبداللہ منافق اور تین بالواسطہ اور متبع یعنی حسان و مسطح و حمنہ کہ مومن مخلص تھے۔ 3۔ مراد اس سے عبداللہ ابن بی منافق ہے۔
Ayahs 24:12–13

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

(آگے ان قاذفین مومنین کو ناصحانہ ملامت ہے) جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے آپس والوں کے ساتھ گمان نیک (ف 4) کیوں نہ کیا اور ( زبان سے) کیوں نہ کہا کہ یہ صریح جھوٹ ہے۔

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

(آگے اس حسن ظن کے وجوب کی وجہ ارشاد ہے کہ) یہ (قاذف) لوگ اس (اپنے قول) پر چار گواہ کیوں نہ لائے (ف 5) سو جس صورت میں یہ لوگ (موافق قاعدہ کے) گواہ نہیں لائے تو بس اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں۔

ف 4۔ یعنی حضرت صدیقہ اور ان صحابی کے ساتھ دل سے گمان نیک کیوں نہ کیا۔
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور آخرت میں تو جس شغل میں تم پڑے تھے اسمیں تم پر سخت عذاب واقع ہوتا۔ (ف 6)

ف 6۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ صحابہ مقبول التوبہ اور پاک ہو کر آخرت میں مرحوم ہیں۔
Ayah 24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب کہ تم اس (جھوٹ) کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھاری ہے۔ (ف 7)

ف 7۔ یعنی موجب گناہ عظیم۔
Ayahs 24:16–18

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور تم نے جب اس (بات) کو (اول) سنا تھا تو یوں کیوں نہ کہا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے بھی نکالیں معاذالله یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ (ف 8)

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر ایسی حرکت مت کرنا اگر تم ایمان والے ہو۔

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا ہے۔

ف 8۔ جیسا کہ بعض صحابہ نے اسی طرح کہا تھا۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

جو لوگ (بعد نزول ان آیات کے بھی) چاہتے ہیں کہ بےحیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچا ہو (ف 1) ان کے لیے دنیا اور آخرت میں سزائے دردناک (مقرر) ہے اور (اس امر پر سزا کا تعجب مت کرو کیوں کہ) اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

ف 1۔ یعنی یہ خبر شائع ہو کہ ان مسلمانوں میں یہ بےحیائی کی بات ہے، حاصل مطلب یہ کہ جو لوگ ان حضرات مقدسین کی طرف زنا کی نسبت کرتے ہیں۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور (اے تائبین) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل و کرم ہے (جس سے تم کو توفیق توبہ کی دی) اور (یہ کہ اللہ تعالیٰ بڑا شفیق بڑا رحیم ہے تو تم بھی (اس وعید سے) نہ بچتے۔ (ف 2)

ف 2۔ آگے مسلمانوں کو اپنی رحمت سے بلا تخصیص اس معصیت مذکورہ کے تمام معاصی سے احتراز رکھنے کا امر اور تزکیہ بالتوبہ کی تصریح مع امتنان جو اہتما کے واسطے بعنوانات مختلفہ مکرر ہے ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو تم شیطان کے قدم بقدم مت چلو (یعنی اس کے اغوا پر عمل مت کرو) اور جو شخص شیطان کے قدم بقدم چلتا ہے تو وہ تو (ہمیشہ ہر شخص کو) بےحیائی اور نا معقول ہی کام کرنے کو کہے گا اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی کبھی بھی (توبہ کر کے) پاک و صاف نہ ہوتا (ف 3) لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے) (توبہ کی توفیق دے کر) پاک صاف کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ (ف 4)

ف 3۔ یا تو توبہ کی توفیق ہی نہ ہوتی جیسا منافقین کو نہ ہوئی، اور یا تو بہ قبول نہ کی جاتی، کیونکہ ہم پر کوئی چیز واجب تو ہے نہیں۔ 4۔ آگے اس کا بیان ہے کہ بعد نزول آیات براة کے بعض صحابہ نے جن میں حضرت ابوبکر بھی ہیں اور دوسرے صحابہ نے شدت غضب میں قسم کھالی کہ جس جس نے چرچا کیا ہے ہے کہ بعض ان میں حاجت مند بھی تھے ان کو اب سے کسی قسم کی مالی امداد نہ دیں گے، اللہ تعالیٰ عفو تقصیر اور امداد جاری کردینے کے لئے ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayahs 24:22–24

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں (دینی) بزرگی اور (دنیوی) وسعت والے ہیں وہ اہل قرابت کو اور مساکین کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں اور چاہیے کہ یہ معاف کردیں اور در گزر کریں کیا تم یہ بات نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تہارے قصور معاف کر دے بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ (ف 5)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

(آگے منافقین کی وعید کی تفصیل ہے) جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان عورتوں کو جو پاک دامن ہیں (اور) ایسی باتوں (کے کرنے) سے (بالکل بیخبر ہیں (اور) ایمان والیاں ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور ان کو (آخرت میں) بڑا عذاب ہوگا۔

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس روز ان کے خلاف میں ان کی زبانیں گواہی دیں گی اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں بھی (گواہی دیں گے) ان کاموں کی جو یہ لوگ کرتے تھے۔

ف 5۔ سو تم کو بھی تخلق باخلاق اللہ چاہئے، تم بھی اپنے قصور داروں کو معاف کردو۔
Ayahs 24:25–26

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس روز اللہ تعالیٰ ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور اس روز (ٹھیک ٹھیک) ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے (اور) بات (کی حقیقت کو) کھول دینے والا ہے۔ (ف 6)

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

(اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ) گندی عورتیں گندے لوگوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں یہ اس بات سے پاک ہیں جو یہ (منافق) بکتے پھرتے ہیں ان (حضرات) کے لیے (آخرت میں) مغفرت اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے۔

ف 6۔ یہ آیتیں غیر تائبین کے بارے میں ہیں کہ نزول آیت کے بعد بھی اعتقاد افک سے باز نہیں آئے۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو تم اپنے (خاص رہنے کے) گھر کے سوا دوسرے گھروں میں مت داخل ہو جب تک کہ (ان سے) اجازت حاصل نہ کرلو اور (اجازت لینے کے قبل) ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو (ف 1) یہی تمہارے لیے بہتر ہے (یہ بات تم کو اس لیے بتلائی ہے) تاکہ تم خیال رکھو (اور اس پر عمل کرو) ۔

ف 1۔ یعنی اول سلام کر کے ان سے پوچھو کہ ہم آویں ؟ اور ویسے ہی بےاجازت لئے ہوئے مت گھس جاو۔
Ayahs 24:28–29

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر گھروں میں تم کو کوئی (آدمی) نہ معلوم ہو تو (بھی) ان گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ تم کو (مختار اذن کی جانب سے) اجازت نہ دی جائے (ف 2) اور اگر تم سے (اجازت لینے کے وقت) یہ کہہ دیا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو تم لوٹ آیا کرو۔ یہی بات تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی خبر ہے (اگر خلاف کرو گے سزا کے مستحق ہو گے) ۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

تم کو ایسے مکانات میں چلے جانے کا نہ گناہ ہوگا جن میں (گھر کے طور پر) کوئی نہ رہتا ہو انمیں تمہاری کچھ برت ہو اور تم جو کچھ علانیہ کرتے ہو اور جو پوشیدہ طور پر کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔

ف 2۔ یہ مسئلہ استیذان کا مردانہ اور زنانہ سب گھروں کے لئے ہے، اور استیذان واجب ہے، اور تقدیم سلام سنت ہے، اور ہرچند کہ یہاں خطاب مردوں کو ہے مگر عورتوں کا حکم بھی یہی ہے مردانہ میں بھی اور زنا میں بھی۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (ف 3) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (ف 4) یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بیشک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔

ف 3۔ یعنی جس عضو کی طرف مطلقا دیکھنا ناجائز ہے اس کو بالکل نہ دیکھیں اور جس کو فی نفسہ دیکھنا جائز ہے مگر شہوت سے دیکھنا جائز نہیں اس کو شہوت سے نہ دیکھیں۔ 4۔ یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں، جس میں زنا اور لواطت سب داخل ہے۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیئے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں (ف 5) مگر جس اس (موقع زینت) میں سے (غالباً ) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھا کریں اور اپنی زینت (کے مواقع مذکورہ) کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے (محارم پر یعنی) باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر (ف 6) یا اپنے حقیقی (علاتی یا اخیانی) بھائيوں پر) یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی (حقیقی علاتی اور اخیانی) بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر (ف 7) یا اپنی لونڈیوں پر یا ان مردوں پر جو طفیلی (کے طور پر رہتے) ہوں اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے ابھی ناواقف ہیں (مراد غیر مراہق ہیں) اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے اور مسلمانو (تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہوگئی ہو تو) سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

ف 5۔ زینت سے مراد زیور اور ان کے مواقع سے مراد ہاتھ، پنڈلی، بازو، گردن، سر، سینہ، کان، یعنی ان سب مواقع کو سب سے چھپائے رکھیں، بلحاظ ان دو استثناوں کے جو آگے آتے ہیں، اور جب ان مواقع کو اجانب سے پوشیدہ رکھنا واجب ہے جن کا ظاہر کرنا محارم کے روبرو جائز ہے تو اور مواقع و اعضاء جی سے پشت و شکم وغیرہ جن کا کھولنا محارم کے روبرو بھی جائز نہیں ان کا پوشیدہ رکھنا بدلالة النص واجب ہوگیا۔ حاصل یہ ہوا کہ سر سے پاوں تک تمام بدن اپنا پوشیدہ رکھیں۔ 6۔ نہ کہ چچا زاد ماموں زاد وغیرہ پر۔ 7۔ مطلب یہ کہ مسلمان عورتوں پر کیونکہ کافر عورت کا حکم مثل اجنبی مرد کے ہے۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور تم میں (یعنی احرار میں) جو بےنکاح ہوں تم ان کا نکاح کردیا کرو اور (اسی طرح) تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو (نکاح) کے لائق ہوں اس کا بھی․ اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو خدا تعالیٰ (اگر چاہے گا) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا (ف 1) اور اللہ تعالیٰ وسعت والا اور خوب جاننے والا ہے۔

ف 1۔ پس نہ عدم غنا کو مانع نکاح سمجھیں اور نہ نکاح کا مانع غنا، اس کا دارومدار مشیت پر ہے۔
Ayahs 24:33–34

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو جن کو نکاح کا مقدور نہیں ان کو چاہیے کہ (اپنے نفس کو) ضبط کریں کہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (اگر چاہے) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا (پھر نکاح کرلیں) اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں تو (بہتر ہے کہ) انکو مکاتب بنادیا کرو (ف 2) اگر ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ اور اللہ کے دیے ہوئے اس مال میں سے ان کو بھی دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے (تاکہ جلدی آزاد ہو سکیں) اور اپنی (مملوکہ) لونڈیوں کو زنا کرانے پر مجبور مت کرو (اور بالخصوص) جب وہ پاک دامن رہنا چاہیں محض اس لیے کہ دنیوی زندی کا کچھ فائدہ (یعنی مال) تم کو حاصل ہوجائے اور جو شخص ان کو مجبور کر دے گا تو اللہ تعالیٰ انکے مجبور کیے جانے کے بعد (ان کے لیے) بحشنے والا مہربان ہے۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیجے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں انکی بعض حکایات اور (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے نصیحت کی باتیں (بھیجی ہیں) ۔

ف 2۔ مکاتبت شرع میں ایک معاہدہ ہے درمیان غلام اور آقا کے، آقا اس سے یہ کہے کہ تو مجھ کو اس قدر مال کما کر دے دے تو آزاد ہے، اور غلام قبول کرلے۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نور (ہدایت) دینے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا (ف 3) اس کے نور ہدایت کی حالت عجیبیہ ایسی ہے جیسے (فرض کرو ایک طاق ہے (اور) اسمیں ایک چراغ (رکھا ہے اور) وہ چراغ ایک قندیل میں ہے (اور وہ قندیل ایک طاق میں رکھا ہے اور) وہ قندیل ایسا صاف شفاف ہے جیسا ایک چمکدار ستارہ ہو (اور) وہ چراغ ایک نہایت مفید درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے کہ وہ زیتون (کا درخت) ہے جو (کسی آڑ کے) نہ پورب رخ ہے اور نہ پچھم رخ ہے اس کا تیل (اس قدر صاف اور سلگنے والا ہے کہ) اگر اس کو آگ بھی نہ چھوئے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا (اور جب آگ بھی لگ گئی تب تو) نور علی نور ہے (اور) اللہ تعالیٰ اپنے (اس) نور (ہدایت) تک جس کو چاہتا ہے راہ دیتا ہے (ف 4) اور اللہ تعالیٰ لوگوں (کی ہدایت) کے لیے (یہ مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (ف 5)

ف 3۔ یعنی اہل آسمان و زمین میں جن کو ہدایت ہوئی ہے ان سب کو اللہ ہی نے ہدایت دی ہے، اور مراد آسمان و زمین سے کل عالم ہے، پس جو مخلوقات آسمان و زمین سے باہر ہے وہ بھی داخل ہوگئی، جیسے حملة العرش۔ 4۔ پس اس طرح مومن کے قلب میں اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ 5۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ مثالیں یان کرتا ہے اور وہ مثال نہایت مناسب ہوتی ہے تاکہ خوب ہدایت ہو۔
Ayahs 24:36–37

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

وہ ایسے گھروں میں (جا کر) عبادت کرتے ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ انکا ادب کیا جائے (ف 6) اور ان میں اللہ کا نام لیا جائے ان (مسجدوں) میں ایسے لوگ صبح و شام اللہ کی پاکی (نمازوں میں) بیان کرتے ہیں۔ (ف 7)

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

جن کو اللہ کی یاد سے اور بالخصوص نماز پڑھنے سے اور زکوٰة دینے سے نہ خرید غفلت میں ڈالنے پاتی ہے اور نہ فروخت (اور) ایسے دن کی دارو گیر سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ جاویں گی۔

ف 6۔ مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں اور ان کا ادب یہ کہ ان میں جنب وحائض داخل نہ ہو، اور ان میں کوئی نجس چیز داخل نہ کی جاوے، وہاں گل نہ مچایا جاوے، دنیا کے کام اور باتیں کرنے کے لئے وہاں نہ بیٹھیں، بدبو کی چیز کھا کر ان میں نہ جاویں وغیر ذلک۔ 7۔ یعنی پانچوں نمازیں ادا کرتے ہیں، صبح کی نماز عدغدو میں آگئی اور چار نمازیں اصال میں آگئیں، کیونکہ آصال کہتے ہیں آفتاب ڈھلنے سے لیکر تمام رات تک۔
Ayahs 24:38–39

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

انجام (ان لوگوں کا) یہ ہوگا کہ اللہ ان کو انکے اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا (یعنی جنت) اور (علاوہ جزاء کے) ان کو اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے گا (ف 1) اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بیشمار دے دیتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے ایک چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کا پیاسا (آدمی) اس کو (دور سے) پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اس کو (جو سمجھ رکھا تھا) کچھ بھی نہ پایا اور قضائے الہیٰ کو پایا سو اللہ تعالیٰ نے اس (کی عمر) کا حساب اس کو برابر سرا بر چکا دیا (یعنی عمر کا خاتمہ کردیا) اور اللہ دم بھر میں حساب کردیتا ہے۔

ف 1۔ جزا وہ جس کا وعدہ مفصل ہے اور زیادہ جس کا مفصل وعدہ نہیں۔