24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsبیان القرآن

Ayahs 24:40–44

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا وہ ایسے ہیں جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے کہ اس کو بڑی لہر نے ڈھانک لیا ہو اس (لہر) کے اوپر دوسری لہر اس کے اوپر بادل (ہے غرض اوپر تلے بہت سے اندھیرے (ہی اندھیرے) ہیں اگر (کوئی ایسی حالت میں) اپنا ہاتھ نکالے (اور دیکھنا چاہے) تو دیکھنے کا احتمال بھی نہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ ہی نور (ہدایت) نہ دے اس کو (کہیں سے بھی) نور نہیں (میسر ہو سکتا) ۔ (ف 2)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں اور (بالخصوص) پرندے جو پر پھیلائے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں سب کو اپنی اپنی دعا اور اپنی تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی طرف (سب) کو لوٹ کر جانا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تجھ کو یہ بات نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ (ایک) بادل کو (دوسرے بادل کی طرف) چلتا کرتا ہے (اور) پھر اس بادل (کے مجموعہ) کو باہم ملا دیتا ہے پھر اس کو تہہ بتہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس (بادل) کے بیچ میں سے نکلتی ہے اور اسی بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصوں میں سے اولے برساتا ہے پھر ان کو جس (کی جان پر یا مال) پر چاہتا ہے گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس کو ہٹا دیتا ہے (اور) اس بادل کی بجلی کی چمک کی یہ حالت ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس نے اب بینائی لی۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

(اور نیز) اللہ تعالیٰ رات اور دن کو (بھی) بدلتا رہتا ہے اس (سب مجموعہ) میں اہل دانش کے لیے استدلال (کا موقع) ہے۔

ف 2۔ پس ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ اتباع احکام الہیہ کا ارادہ کرتے، تو اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑہتا چلا جاتا ہے اور وہ ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
Ayahs 24:45–46

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ (تعالیٰ ہی) نے ہر چلنے والے جاندار کو (برّی ہو یا بحری) پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں بعضے تو وہ (جانور) ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں (ف 3) اور بعضے ان میں وہ ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں (ف 1) اور بعضے ان میں وہ ہیں جو چار (پیروں) پر چلتے ہیں (ف 2) اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے بناتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پورا قادر ہے۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے (حق کے) سمجھانے والے دلائل نازل فرمائے ہیں اور ان (عام میں سے) جس کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے راہ راست کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔

ف 3۔ جیسے سانپ اور مچھلی۔ 1۔ جیسے انسان اور پرندے جب کہ ہوا میں نہ ہوں۔ 2۔ جیسے مواشی
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (یہ منافق) لوگ ( زبان سے) دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور خدا اور رسول (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور (خدا اور رسول ﷺ کا) حکم (دل سے) مانا پھر اس کے بعد (متوقع ظہور صدق دعویٰ پر) ان میں کا ایک گروہ سرتابی کرتا ہے اور یہ لوگ (دل میں) اصلاً ایمان نہیں رکھتے۔ (ف 3)

ف 3۔ مراد اس صورت سے وہ صورت ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو، اور صاحب حق اس منافق سے درخواست کرے کہ چلو جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ لے چلیں، اس موقع پر یہ سرتابی کرتے ہیں، کیونکہ جانتے ہیں کہ آپ کے اجلاس میں جب حق محقق ہوجاوے گا تو اسی کے موافق آپ فیصلہ کریں گے۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول (علیہ السلام) ان کے (اور ان کے خصوم کے) درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں کا ایک گروہ پہلو تہی کرتا ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ یہ بلانا رسول ہی کی طرف ہے، مگر چونکہ آپ کا فیصلہ موافق حق خداوندی ہوتا ہے اس لئے الی اللہ بڑہا دیا۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کا حق (کسی کی طرف واجب) ہو تو سر تسلیم خم کیے ہوئے آپ کے پاس چلے آتے ہیں۔ (ف 5)

ف 5۔ کیونکہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہاں حق رسی ہوگی۔
Ayahs 24:50–54

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں (کفر جازم کا) مرض ہے یا یہ (نبوت کی طرف سے) شک میں پڑے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (علیہ السلام) ان پر ظلم نہ کرنے لگیں نہیں (ہے) بلکہ (اصل سبب یہ ہے کہ) یہ لوگ برسر ظلم (ہوتے) ہیں۔ (ف 6)

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مسلمانوں کا قول تو جبکہ ان کو (کسی مقدمہ میں) اللہ کی اور اس کے رسول (علیہ السلام) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں یہ ہے کہ (خوشی خوشی) کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور (اس کو) مان لیا اور ایسے لوگ (آخرت میں) فلاح پائیں گے۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانے اور اللہ سے ڈرے اور اس کی مخالفت سے بچے بس ایسے لوگ با مراد ہوں گے۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور وہ لوگ بڑا زور لگا کر قسمیں کھایا کرتے ہیں کہ والله (ہم ایسے فرمانبردار ہیں کہ) اگر آپ ان کو (یعنی ہم کو) حکم دیں تو وہ ابھی نکل کھڑے ہوں آپ (ان سے کہہ دیجیئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) فرمانبرداری (کی حقیقت) معلوم ہے (کیوں کہ) اللہ تعالیٰ تہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ کہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول (علیہ السلام) کی اطاعت کرو پھر اگر تم لوگ (اطاعت سے) روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ رسول (علیہ السلام) کے ذمہ وہی (تبلیغ) ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے اور (تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے اور اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو راہ پر جا لگو گے اور (بہرحال) رسول (علیہ السلام) کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔

ف 6۔ اس لئے حضور نبوی میں مقدمہ لانا پسند نہیں کرتے۔
Ayahs 24:55–57

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

(اے مجموعہ امت) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں (ف 7) ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطا فرمائے گا جیسا ان سے پہلے ( اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی (ف 1) اور جس دین کو ( اللہ تعالیٰ نے) ان کے لیے پسند کیا ہے (یعنی اسلام) اس کو ان کے (نفع آخرت کے) لیے قوت دے گا اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو مبدّل بہ امن کر دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں (اور) میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو شخص بعد (ظہور) اس (وعدے) کے ناشکری کرے گا (ف 2) تو یہ لوگ بےحکم ہیں۔ (ف 3)

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو) نماز کی پابندی رکو اور زکوٰة دیا کرو اور (باقی احکام میں بھی) رسول (علیہ السلام) کی اطاعت کیا کرو تاکہ تم پر (کامل) رحم کیا جائے۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

(اے مخاطب) کافروں کی نسبت یہ خیال مت کرنا کہ زمین میں (بھاگ کر ہم کو) ہرا دیں گے اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

ف 7۔ یعنی ہدایت کا کامل اتباع کریں۔ 1۔ مثلا بنی اسرائیل کو قبطیوں پر غالب کیا، پھر عمالقہ پر غلبہ دیا، اور مصر و شام کی حکومت دی۔ 2۔ یعنی دین کے خلاف طریقہ اختیار کرے۔ 3۔ اس آیت میں مجموعہ امت سے وعدہ ہے ایمان و عمل صالح پر حکومت دینے کا، جس کا ظہور خود عہد نبوی سے شروع ہو کر خلافت راشدہ تک متصلا ممتد رہا، چناچہ جزیرہ عرب آپ کے زمانہ میں اور دیگر ممالک زمانہ خلافت راشدہ میں فتح ہوگئے، اور بعد میں وقتا فوقتا گو اتصال نہ ہو دوسرے صلحاء ملوک و خلفاء کو حق میں اس وعدہ کا ظہور ہوتا رہا، اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو (تمہارے پاس آنے کے لیے) مملوکوں کو اور تم میں جو حد بلوغ کو نہیں پہنچے تین وقتوں میں اجازت لینا چاہیئے ایک (تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے) جب (سونے سے لیٹنے کے لیے) دوپہر کو اپنے (بعض) کپڑے اتار دیے ہو اور (تیسرے) نماز عشاء کے بعد (ف 4) یہ تین وقت تمہارے پردوں کے وقت ہیں (اور) ان اوقات کے سوا نہ تم پر کوئی الزام ہے اور نہ بلا اجازت چلے آنے میں) ان پر کچھ الزام ہے (کیوں کہ) وہ بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس اور کوئی کسی کے پاس اسی طرح (جیسا یہ حکم صاف صاف کردیا) اللہ تعالیٰ تم سے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (ف 5)

ف 4۔ یعنی یہ اوقات چونکہ عادة اور غالبا تخلیہ اور استراحت کے ہیں، ان میں اکثر آدمی بےتکلفی سے رہتے ہیں، اس لئے اپنے مملوکین اور نابالغ بچوں کو سمجھا دو کہ بےاطلاع اور اجازت لئے بغیر تمہارے پاس نہ آیا کریں۔ (فائدہ) کچھ تخصیص تین وقت کی نہیں اس وقت عادت اسی کے موافق تھی، باقی جہاں جیسی ضرور ہو وجود علت پر مدار ہے۔ 5۔ پس سب مصالح اور حکمتوں پر اس کی نظر ہے، اور احکام میں ان کی رعایت فرماتا ہے۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جس وقت تم میں وہ لڑکے (جن کا اوپر حکم آیا ہے) حد بلوغ کو پہنچیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جیسا کہ ان سے اگلے لوگ اجازت لیتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ اس کو مکرر اس لئے لایا گیا کہ قانون استیذان کی مصلحتیں نہایت واضح اور اس کے احکام نہایت قابل رعایت ہیں، تکریر سے اہتمام ظاہر ہوگیا۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی بوڑھی عورتیں جن کو (کسی کے) نکاح (میں آنے کی) کچھ امید نہ رہی ہو (ف 7) انکو (البتہ) اس بات میں گناہ نہیں کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت (کے مواقع) کا اظہار نہ کریں اور (ہر چند کے بڑھیوں کو منہ کھولنے کی اجازت ہے لیکن اگر) اس سے بھی احتیاط رکھیں (تو ان کے لیے اور زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ (سب) کچھ سنتا ہے (سب) کچھ جانتا ہے۔

ف 7 یعنی جو اصلا محل رغبت نہیں رہیں۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو اندھے آدمی کے لیے مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے آدمی کے لیے کچھ مضائقہ ہے اور نہ بیمار کے لیے مضائقہ ہے اور نہ خود تمہارے لیے اس بات میں (کچھ مضائقہ ہے) کہ تم اپنے گھروں سے (جن میں بی بی اور اولاد کے گھر بھی آگئے) کھانا کھالو یا اپنے باپ کے گھر سے یا اپنی ماں کے گھر سے یا اپنے بھائيوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھپھیوں کے گھروں سے یا اپنے مامؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے پھر (اس میں بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ (کھاؤ) پھر (یہ بھی معلوم رکھو کہ) جب تم اپنے گھروں میں جانے لگا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو (جو کہ) دعا کے طور پر (ہے اور) جو خدا کی طرف سے مقرر ہے (اور) برکت والی چیز ہے (خدا تعالیٰ نے جس طرح یہ احکام بتلائے) اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے (اپنے) احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (اور عمل کرو) ۔ (ف 1)

ف 1۔ اوپر بہت سے اور امر و نواہی ارشاد فرمائے، آگے ایک حکم خاص مناسب اس وقت کے ارشاد فرماتے ہیں جس سے رسول اللہ ﷺ کی غایت اطاعت کا وجوب ثابت ہوتا ہے، جو کہ موکد ہے جمیع اوامرو نواہی مذکورہ کا، بلکہ جمیع سعادات دنیویہ و اخرویہ ظاہرہ و باطنہ کا۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

پس مسلمان تو وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اور جب رسول (علیہ السلام) کے پاس ایسے کام پر ہوتے ہیں جس کے لیے مجمع کیا گیا ہے (اور اتفاقاً وہاں سے جانے کی ضرورت پڑتی ہے) تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں نہیں جاتے (ف 2) (اے پیغمبر) جو لوگ آپ سے (ایسے موقع پر) اجازت لیتے ہیں پس وہی اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں (ف 3) تو جب یہ ( اہل ایمان لوگ) ایسے موقع پر اپنے کسی ضروری کام کے لیے آپ سے جانے کی اجازت طلب کریں تو ان میں سے جس کے لیے آپ چاہیں اجازت دے دیا کریں (ف 4) اور (اجازت دے کر بھی) آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجیئے (ف 5) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

ف 2۔ یعنی جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں اور آپ اس پر اجازت نہ دیدیں۔ 3۔ حاصل یہ کہ ایمان بدون استیذان کے نہیں پایا جاتا اور کوئی منافق اجازت نہیں لیتا تھا۔ 4۔ یعنی اس کا فیصلہ حضور ﷺ کی رائے مبارک پر مفوض ہے۔ 5۔ کیونکہ استیذان گو کسی قوی عذر کی وجہ سے ہو لیکن تاہم اس میں دنیا کی تقدیم دین پر تو لازم آئی۔ اور اس میں ایک نقص کا شائبہ ہے اس کی تلافی کے لئے استغفار کا امر ہوا۔
Ayahs 24:63–64

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

تم لوگ رسول (علیہ السلام) کے بلانے کو ایسا (معمولی بلانا) مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے (ف 6) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو (دوسروں کی) آڑ میں ہو کر تم میں سے (مجلس نبوی (علیہ السلام) سے) کھسک جاتے ہیں سو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی (جو کہ بواسطہ رسول (علیہ السلام) کے پہنچا ہے) مخالفت کرتے ہیں ان کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر (دنیا میں) کوئی آفت (نہ) آن پڑے یا ان پر (آخرت میں) کوئی دردناک عذاب نازل (نہ) ہوجائے۔ (ف 7)

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

(اور یہ بھی) یاد رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے سب خدا ہی کا ہے اللہ تعالیٰ اس حالت کو بھی جانتا ہے جس میں جب اس کے پاس دوبارہ زندہ کر کے لائے جائیں گے پھر وہ ان سب کو جتلاوے گا جو کچھ انہوں نے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ (تو) سب کچھ جانتا ہے۔

ف 6۔ کہ چاہئے آیا یا نہ آیا۔ پھر آکر بھی جب تک چاہا بیٹھا چاہا اٹھ کر بےاجازت لئے چل دیا۔ رسول اللہ ﷺ کا بلانا ایسا نہیں ہے اور بےاجازت جانا حرام۔ 7۔ یہ وجوب استیذان اس وقت ہے جب بلائے ہوئے آویں، یا کسی مشورہ وغیرہ کے لئے بذریعہ خاص اعلام یا عام اعلان کے، ورنہ حضور ﷺ کی مجلس میں بارہا لوگ خود حاضر ہوئے اور خود چلے گئے، ان پر ملامت نہیں کی گئی، اور اب بھی امام المسلمین اگر لوگوں کو جمع کرتے تو بےاجازت اس کی جانا جائز نہیں۔