25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsبیان القرآن

Ayahs 25:39–41

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ہم نے (مم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی مؤثر اور بلیغ) مضامین بیان کیے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ (کفار مکہ) اس بستی پر ہو گزرے جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے (مراد قریہ قوم لوط (علیہ السلام) کا ہے) سو کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں رہتے بلکہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کا احتمال ہی نہیں رکھتے (یعنی آخرت کے منکر ہیں) ۔

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ سے تسخر کرنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ) یہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی ایسا آدمی رسول نہ ہونا چاہئے، اگر رسالت کوئی چیز ہے تو کوئی رئیس ہونا چاہئے تھا، پس یہ رسول نہیں۔
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس شخص نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر (مضبوطی سے) قائم نہ رہتے (ف 6) اور (مرنے کے بعد) جلد ہی ان کو معلوم ہوجاوے گا جب عذاب کا معائنہ کریں گے کہ کون شخص گمراہ تھا۔

ف 6۔ یعنی ہم تو ہدایت پر ہیں، اور یہ ہم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
Ayahs 25:43–44

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ نے اس شحض کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے سو کیا آپ اس کی نگرانی کرسکتے ہیں۔

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

يا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (ف 7) یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں (کہ وہ بات کو نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں) بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں۔ (ف 8)

ف 7۔ مطلب یہ کہ آپ ان کی ہدایت نہ ہونے سے مغموم نہ ہوجایئے، کیونکہ آپ ان پر مسلط نہیں کہ خواہی نخواہی ان کو راہ پر لاویں، اور نہ ہدایت کی ان سے توقع کیجئے کیونکہ ان کو نہ سماع ہے نہ عقل ہے۔ 8۔ کیونکہ وہ اس راہ دین کے مکلف نہیں تو ان کا نہ سمجھنا مذموم نہیں، اور یہ مکلف ہیں، پھر نہیں سمجھتے۔
Ayahs 25:45–47

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے اپنے پروردگار کی (اس قدرت) پر نظر نہیں کی اس نے سایہ کو کیوں کر (دور تک) پھیلایا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھیرایا ہوا رکھتا پھر ہم نے آفتاب کو اس (سایہ کی درازی اور کو تاہی) پر علامت مقرر کیا تھا۔

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پردہ کی چیز اور نیند کو راحت کی چیز بنایا اور دن کو زندہ ہونے کا وقت بنایا۔ (ف 9)

ف 9۔ اس اعتبار سے کہ سونا مشابہ موت کے ہے اور دن کا وقت جاگنے کا ہے۔
Ayahs 25:48–51

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی امید دلا کر دل کو) خوش کردیتی ہیں اور آسمان سے پانی برساتے ہیں جو پاک صاف کرنے کی چیز ہے۔

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

اس کے ذریعہ سے مردہ زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چارپایوں اور بہت سے آدمیوں کو سیراب کردیں۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم اس (پانی کو) (بقدر مصلحت) ان لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ لوگ غور کریں سو (چاہیے تھا کہ غور کر کے اس کا حق ادا کرتے لیکن) اکثر لوگ ناشکری کیے نہ رہے۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ( آپ کے علاوہ اسی زمانہ میں) ہر بستی میں ایک پیغمبر بھیج دیتے۔ (ف 1)

ف 1۔ اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے، لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے، اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا، تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے۔
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

سو (اس نعمت کے شکریہ میں) آپ کافروں کی خوشی کا کام نہ کیجیئے قرآن سے ان کا زور شور سے مقابلہ کیجیے۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی عام اور تام تبلیغ کیجئے، یعنی سب سے کہئے، اور بار بار کہیئے، اور ہمت قوی رکھیئے، جیسا اب تک آپ کرتے رہے ہیں۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

(آگے پھر عود ہے دلائل توحید کی طرف سے) اور وہ ایسا ہے جس نے دریاؤں کو ( صورةً ) ملایا جن میں ایک (کا پانی) تو شیریں تسکین بخش ہے اور ایک (کا پانی) شور تلخ ہے اور ان کے درمیان میں اپنی قدرت سے) ایک حجاب اور ایک مانع قوی رکھ دیا۔ (ف 3)

ف 3۔ مراد ان دو دریاوں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں، وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کا سطح ایک معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقی کے ایک جانب سے پانی لیا جاوے تو شیریں اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول سے بالکل قریب ہے پانی لیا جاوے تو تلخ، چناچہ بنگال میں بھی ایسا موقع موجود ہے۔
Ayahs 25:54–56

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے پانی سے (یعنی نطفہ سے) آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا سسرال والا بنادیا اور (اے مخاطب) تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور (با وجود اس کے) یہ (مشرک) لوگ (ایسے) خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کچھ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ ان کو کچھ ضرر پہنچا سکتی ہیں اور کافر تو اپنے رب کا مخالف ہے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو صرف اس لیے بھیجا ہے (کہ ایمان والوں کو جنت کی) خوشخبری سنائیں اور (کافروں کو دوزخ سے) ڈرائیں۔ (ف 4)

ف 4۔ ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا کیا نقصان ہے، پھر آپ کیوں غم کریں، اور نہ آپ اس مخالفت کو معلوم کر کے فکر میں پڑیں۔
Ayah 25:57

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم میں سے اس (تبلیغ) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہاں جو شخص یوں چاہے کہ اپنے رب تک (پہنچنے کا راستہ) اختیار کرلے۔ (ف 5)

ف 5۔ تو یہ البتہ چاہتا ہوں، چاہئے اس کو معاوضہ کہو یا نہ کہو۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اس حیّ لایموت پر توکل رکھیے اور (اطمینان کے ساتھ) اس کی تسبیح و تمحید میں لگے رہیے (ف 6) اور وہ (خدا) اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی (طور پر) خبردار ہے۔ (ف 7)

ف 6۔ یعنی تبلیغ کی کہ طاعت متعدیہ ہے اور تسبیح وتحمید کہ عبادت لازمہ ہے ان کو بےفکری سے ادا کیجئے۔ 7۔ ان جملوں میں رسول اللہ ﷺ سے حزن و فکر و خوف کو زائل فرمایا ہے۔
Ayahs 25:59–60

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر تخت (شاہی) پر قائم ہوا وہ بڑا مہربان ہے تو اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھنا چاہیے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو (بوجہ جہل وعناد کے) کہتے ہیں کہ رحمٰن کیا چیز ہے کیا ہم اس کو سجدہ کرنے لگیں جس کو تم سجدہ کرنے کے لیے ہم کو کہو گے اور اس سے ان کو اور زیادہ نفرت ہوتی ہے۔ (ف 8)

ف 8۔ لفظ رحمن ان میں کم مشہور تھا، مگر یہ نہیں کہ جانتے نہ ہوں، مگر اسلامی تعلیم سے جو مخالفت بڑھی ہوئی تھی تو اطلاقات افضلیہ میں بھی مخالفت کو نباہتے تھے۔ قرآن میں جو یہ لفظ بکثرت آیا وہ اس میں بھی مخالفت کر بیٹھے، اور اس حیثیت سے کہ قرآنی محاورہ ہے تجاہل عارفانہ کے طور پر اس میں کلام اور اس کا انکار کرنے لگے، گو خدا ہی کا انکار اور سوء ادب لازم آجائے۔
Ayahs 25:61–63

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

وہ ذات بہت عالی شان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور اس (آسمان) میں ایک چراغ) يعنی آفتاب) اور نورانی چاند بنایا۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے بنائے (اور یہ سب کچھ جو دلائل و نعم مذکور ہوئے) اس شخص کے (سمجھنے کے) لیے ہیں جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہیے۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور (حضرت) رحمٰن کے (خاص) بندے وہ ہیں جو زمین میں عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں (ف 1) اور جب ان سے جہالت والے لوگ (جہالت کی) بات (چیت) کرتے ہیں تو وہ رفع شر کی بات کرتے ہیں۔ (ف 2)

ف 1۔ مطلب یہ کہ ان کے مزاج میں تواضع ہے تمام امور میں، اور اسی کا اثر چلنے میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ 2۔ مطلب یہ کہ اپنے نفس کے لئے انتقام قولی یا فعلی نہیں لیتے۔
Ayahs 25:64–72

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو راتوں کو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام (یعنی نماز) میں لگے رہتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ہم سے جہنم کے عذاب کو دور رکھیے کیوں کہ اس کا عذاب پوری تباہی ہے۔

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

بیشک وہ جہنم برا ٹھکانا اور برا مقام ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

(یہ تو ان کی حالت طاعات بدنیہ میں ہے اور (اطاعت مالیہ میں ان کا یہ طریقہ ہے کہ) وہ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور جو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش نہیں کرتے اور جس شخص (کے قتل کرنے) کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہاں مگر حق پر اور وہ زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسے کام کریگا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا۔

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

کہ قیامت کے روز اس کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا اور وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ ہمیشہ ذلیل (و خوار) ہو کر رہے گا۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جو (شرک و معاصی سے) توبہ کرلے اور ایمان (بھی) لے آئے اور نیک کام کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے (گزشتہ) گناہوں کی جگہ نیکیاں عنایت فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو شخص (جس معصیت سے) توبہ کرتا ہے اور نیک کام کرتا ہے تو وہ (بھی عذاب سے بچا رہے گا کیوں کہ وہ) اللہ تعالیٰ کی طرف خاص طور پر رجوع کر رہا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ بیہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور اگر (اتفاقاً ) بیہودہ مشغلوں کے پاس سے ہو کر گزریں تو سنجیدگی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔
Ayahs 25:73–74

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ ایسے ہیں جس وقت ان کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے ذریعے سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان (احکام) پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے۔

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور ایسے ہیں کہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک (یعنی راحت) عطا فرما (ف 4) اور ہم کو متقیوں کا افسر بنا دے۔ (ف 5)

ف 4۔ خود جیسے دین کے عاشق ہیں، اسی طرح اپنے اہل و عیال کے لئے بھی اس کے ساعی اور داعی ہیں۔ چناچہ عملی کوشش کے ساتھ حق تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کو دیندار بنا دے، اور ہم کو ہماری اس سعی دینداری میں کامیاب فرما کر ان کو دینداری کی حالت میں دیکھ کر راحت اور سرور ہو۔ 5۔ اصل مقصود افسری مانگنا نہیں گو اس میں بھی قباحت نہیں مگر مقام دلالت نہیں کرتا، بلکہ اصل مقصود اپنے خاندان کے متقی ہونے کی درخواست ہے۔
Ayahs 25:75–77

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ایسے لوگوں کو (بہشت میں رہنے کو) بالا خانے ملیں گے بوجہ ان کے (دین وطاعت پر) ثابت قدم رہنے کے اور ان کو اس (بہشت) میں (فرشتوں کی جانب سے) ۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

بقا کی دعا اور سلام (ملے گا اور) اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہ کیسا اچھا ٹھکانا اور مقام ہے۔

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

آپ (عام طور پر لوگوں سے کہہ دیجیے کہ میرا رب تمہاری ذرا بھی پرواہ نہ کرے گا اگر تم عبادت نہ کرو گے سو تم (احکام الہیٰہ کو) جھوٹا سمجھتے ہو تو عنقریب یہ (جھوٹا سمجھنا تمہارے لیے) وبال (جان) ہوگا۔ (ف 1)

ف 1۔ خواہ دنیا میں جیسے واقعہ بدر میں کفار پر مصیبت آئی یا آخرت میں اور وہ ظاہر ہے۔