26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsبیان القرآن

Ayahs 26:190–200

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

اور اس (واقعہ) میں (بھی) بڑی عبرت ہے اور (باوجود اس کے) ان (کفار مکہ) میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب بڑی قوت والا اور بڑی رحمت والا ہے۔

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہے۔

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

آپ کے قلب پر صاف عربی زبان میں تاکہ آپ (بھی) ۔

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

منجملہ ڈرنے والوں کے ہوں۔

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور اس قرآن کا ذکر پہلی امتوں (آسمانی) کتابوں میں (بھی) ہے۔

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لیے یہ بات دلیل نہیں ہے کہ اس پیشن گوئی کو علمائے بنی اسرائیل جانتے ہیں۔

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر (بالفرض) اس (قرآن) کو کسی عجمی (غیر عربی) پر نازل کردیتے۔

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

پھر وہ (عجمی) ان کے سامنے پڑھ بھی دیتا یہ لوگ (بوجہ غایت عناد کے) تب بھی اس کو نہ مانتے۔

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

ہم نے اسی طرح (شدت و اصرار کے ساتھ) اس ایمان نہ لانے کو نافرمانوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی کفر میں شدید اور اس پر مصر ہیں۔
Ayahs 26:201–203

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

یہ لوگ اس (قرآن) پر ایمان نہ لا ویں گے جب تک کہ سخت عذاب کو (مرنے کے وقت یا برزخ میں یا آخرت میں) نہ دیکھ لیں گے۔

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

جو اچانک ان کے سامنے آ کر کھڑا ہوگا اور ان کو (پہلے سے) خبر بھی نہ ہوگی۔

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

پھر (اس وقت جان کے بنے کو) کہیں گے کہ کیا (کسی طور پر) ہم کو (کچھ) مہلت مل سکتی ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ لیکن وہ وقت نہ مہلت کا ہے نہ قبول ایمان کا۔
Ayah 26:204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

کیا ہمارے وعیدوں کو سن کر یہ لوگ ہمارے عذاب کی تعجیل چاہتے ہیں۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی باوجود قیام دلائل صدق کے پھر بھی انکار کرتے ہیں۔
Ayahs 26:205–207

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

اے مخاطب ذرا بتلاؤ تو اگر ہم انکو چند سال تک عیش میں رہنے دیں۔

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر جس (عذاب) کا ان سے وعدہ ہے وہ ان کے سر پر آ پڑے۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو ان کا عیش کس کام آسکتا ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی یہ عیش جو براہ امہال ہے تخفیف عذاب تک میں تو موثر نہیں، اور عدم عذاب میں تو اس کو کیا دخل ہوتا، پس ان کا یہ استدلال محض لغو ہے۔
Ayahs 26:208–213

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور جتنی بستیاں (منکرین کی) ہم نے (عذاب سے) غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے پیغمبر آئے۔

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

اور ہم ظالم نہیں ہیں۔

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نہیں آئے۔

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور یہ (ان) کی حالت) کے مناسب ہی نہیں اور وہ اس پر قادر بھی نہیں۔

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

کیوں کہ وہ تو شیطان (وحی آسمانی) سننے سے روک دیے گئے ہیں۔

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر) تم خدا کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت مت کرنا کبھی تم کو سزا ہونے لگے۔ (ف 7)

ف 7۔ حالانکہ آپ میں نعوذ باللہ نہ احتمال شرک کا نہ تعزیب کا، پس جب آپ کے اعتبار سے بھی ان دونوں میں تلازم کا حکم کیا جاتا ہے تو اور بےچارے تو کس شمار ہیں، شرک سے ان کو کیسے منع نہ کیا جاوے گا، اور شرک کر کے عذاب سے کیونکر بچیں گے۔
Ayah 26:214

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور (اس مضمون سے) آپ (سب سے پہلے) اپنے نزدیک کے کنبہ کو ڈرائیے۔ (ف 8)

ف 8۔ چناچہ آپ نے سب کو پکار کر جمع کیا اور شرک پر عذاب الہی سے ڈرایا، جیسا حدیثوں میں ہے۔
Ayahs 26:215–220

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے ساتھ تو (مشفقانہ) فروتنی سے پیش آئیے جو مسلمانوں میں داخل ہو کر آپ کی راہ چلیں۔

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ (جن کو آپ نے ڈرایا ہے) آپ کا کہنا نہ مانیں تو آپ کہہ دیجیئے کہ میں تمہارے افعال سے بیزار ہوں۔

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور آپ خدائے قادر رحیم پر توکل رکھیے۔

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو آپ کو جس وقت کہ آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہیں اور (نیز نماز شروع کرنے کے بعد) ۔

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشست و برخاست کو دیکھتا ہے۔

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ پس جب اس کو علم بھی کامل ہے اور آپ پر مہربان بھی ہے اور اس کو سب کچھ قدرت ہے تو ضرور وہ لائق توکل ہے، وہ آپ کو ضرر حقیقی سے بچاوے گا۔ (فائدہ) جو ضرر متوکل کو پہنچتا ہے وہ صوری ہوتا ہے جس کے تحت میں ہزاروں منافع ہوتے ہیں، جن کا کبھی دنیا میں کبھی آخرت میں ظہور ہوتا ہے۔
Ayahs 26:221–224

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے کہہ دیجیئے) کیا میں تم کو بتلاؤں کس پر شیاطین اترا کرتے ہیں (جو پہلے سے) ۔

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

دروغ گفتار بڑے بد کردار ہوں۔

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

اور جو (شیاطین کی خبریں سننے کے لیے) کان لگا دیتے ہیں اور وہ بکثرت جھوٹ بولتے ہیں۔

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی راہ تو بےراہ لوگ چلا کرتے ہیں۔ (ف 2)

ف 2۔ مراد راہ سے شعر گوئی ہے، یعنی مضامین خیالی شاعرانہ نثرا یا نظما کہنا ان لوگوں کا شیوہ ہے جو مسلک تحقیق سے دور ہوں، چناچہ خیالی مضمون کہتے ہی اس کو ہیں جو تحقیق کے خلاف ہو۔
Ayahs 26:225–227

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تم کو معلوم نہیں کہ وہ ( شاعر) لوگ (خیالی مضمون کے) ہر میدان میں حیران پھرا کرتے ہیں۔

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

ہاں مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف 3) اور انہوں نے (اپنے اشعار میں) کثرت سے اللہ کا ذکر کیا اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوچکا ہے (اس کا) بدلہ لیا اور عنقریب ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے گا جنہوں نے (حقوق اللہ وغیرہ میں) ظلم کر رکھا ہے کہ کیسی جگہ ان کو لوٹ جانا ہے۔ (ف 4)

ف 3۔ یعنی شرع کے خلاف نہ ان کا قول ہے نہ فعل، یعنی ان کے اشعار میں بےہودہ مضامین نہیں ہیں۔ 4۔ مراد اس سے جہنم ہے۔