Ayah 30:11۔ حروف مقطعات پر حاشیہ پارۂ اول کے شروع میں گزر چکا۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ حروف مقطعات قرآن مجید کی جن جن سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں، عموما وہاں معا بعد ذکر ” قرآن “ یا ” کتاب “ یا ” تنزیل “ کا بھی آیا ہے۔ عام قاعدہ یہی ہے۔ البتہ کل تین مقام اس سے مستثنی ہیں۔ اور انہیں تین مستثنیات میں سے ایک موقع یہ ہے۔ قرآن یا کتاب یا تنزیل کا ذکر اعجازی ہی حیثیت سے آیا ہے۔ یہاں اعجازی پہلو بجائے کسی لفظ کے نفس مضمون سے آشکار ہے۔ یعنی جو زبردست پیشگوئی یہاں فورا بعد بیان ہورہی ہے، اس کا تمامتر پورا ہونا بجائے خود اعجاز قرآن کی ایک زبردست شہادت ہے۔
Ayah 30:22۔ اہل ایران سے تقریبا 614 ء ، 615 ء میں) (آیت) ”۔ الروم “۔ سے مراد قدیم ” رومن ایمپائر “ کا وہ مشرقی حصہ ہے، جو 395 ء میں اس سے کٹ کر خود ایک مستقل سلطنت بن گیا تھا۔ مسیحیوں کے قبضہ میں یہ سلطنت 1454 ء تک رہی، اس کے بعد ترکوں کے قبضہ میں آگئی۔ اس کا دارالسلطنت السلطنت استانبول یا قسطنطنیہ تھا۔ اور اسی کا قدیم نام ” جدید رومہ “۔ بھی ہے۔ شام، فلسطین، ایشیائے کو چک کے علاقے سب اسی میں شامل تھے۔ (آیت) ” ادنی الارض “۔ یا ” قرب کی زمین “۔ سے مراد اس کے وہ علاقے ہیں جو عرب سے متصل تھے یعنی شام و فلسطین۔ آیت کا زمانہ نزول 6۔ یا 7۔ قبل ہجرت ہے یعنی 615 ء یا 616 ء عین قریبی زمانہ یعنی 641 ء میں مسیحی رومیوں کو مجوس ایران کے مقابلہ میں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ اور آیت میں اسی جانب اشارہ ہے۔ مجوس ایران کا مذہب چونکہ مشرکین عرب سے ملتا جلتا تھا اور وہ لوگ بھی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے قدرۃ اہل مکہ ان کی فتح کو اپنے نیم ہم مذہبوں کی فتح سمجھے اور بڑے خوش ہوئے اور آپس میں چرچے کرنیلگے کہ جیسے دیوتاؤں اور اوتاروں کے قائل ایران نے کتاب ونبوت کے قائل رومیوں پر فتح پالی ہے، ہم بھی اس کتاب اور رسول والے نئے دین (اسلام) کے مقابلہ میں فتح پائیں گے، مسلمانوں کی ہمدردی قدرۃ رومی مسیحیوں کے ساتھ تھی کہ بحرحال وہ سلسلہ وحی اور کتاب آسمانی کے تو قائل تھے۔
Ayah 30:33۔ (عام اس سے کہ اس وقت کچھ آثار ہوں یا نہ ہوں) (آیت) ” بضع “۔ سے مراد تین اور دس کے درمیانی اعداد ہوتے ہیں۔ المنقطع من العشرۃ ویقال ذلک لمابین الثلاث الی العشرۃ (راغب) گویا قرآن نے دعوے کے ساتھ پیش گوئی یہ کردی کہ اس نتیجہ جنگ پر خوش نہ ہو، نوسال کی قلیل مدت کے اندر ہی اندر پانسہ پلٹنے کو ہے اور جو آج فاتح نظر آرہے ہیں وہ مفتوح ہو کر رہیں گے۔ یہ پیش گوئی وقت کی جنگی صورت حال کے بالکل منافی تھی، خسر ودوم شہنشاہ ایران کی اقبال مندی اوج پر تھی۔ ہرقل (Herculoo) فرمانروائے روم کا عہد حکومت اس وقت بےتدبیری، بداقبالی کا ایک مجسمہ تھا۔ افسران فوج نااہل، خزانہ خالی، دلیر و دل اور سپاہ کا قحط، غرض ظاہری حالات واسباب تمامتر رومیوں کے مخالف ہی تھے اور بڑے سے بڑے جنگی مبصر کیہ بھی پیش بینیاں وپیش قباسیاں رومیوں کے مخالف ہی جارہی تھیں، کہ یک بیک 622 ء میں ہرقل سنبھلا، اور بجائے مدافعانہ کے اب جارحانہ جنگ ایران کے مقابلہ میں شروع کردی۔ ایران کی قسمت دیکھتے ہی دیکھتے پلٹی۔ اور 624 ء میں اس کی قوت بالکل ٹوٹ کر رہ گئی، یہاں تک کہ ایرانیوں کے مقدس ترین آتش کدے برباد ہونے لگے، اور خود شہنشاہ کو بھاگنا پڑا تاریخ ایران در عہد ساسانیاں (مصنفہ پروفیسر کر سٹنسن درفرنچ، ترجمہ اردو از ڈاکٹر شیخ محمد اقبال ‘ میں ہے !” اور آخرکار ہرقل ایرانی فوجوں کی فاتحانہ ترقی کو روکنے میں کامیاب ہوا۔ اس نے ایشیائے کو چک کو دوبارہ فتح کرلیا، اور شہنشاہ کی فوجوں کو آرمینیہ اور آزر بائیجان تک پیچھے ہٹادیا۔ 623 ء یا 624 ء میں اس نے ہٹر گنزککو فتح کرکے آتشکدہ آذر گشنپ کو برباد کردیا۔ خسرو وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور آتش مقدس کو ساتھ لیتا گیا ...... ازاں بعد قیصر وادی دجلہ پر حملہ آور ہوا، اور 628 ء میں اس نے ومنگرو کے قصر شاہی کو لے لیا، اور طیغوں کے محاصرہ کی تیاری کرنے لگا۔ خسرو پایہ تخت کو چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ میں چلا گیا۔ ”(صفحہ 603) شائع کردہ (انجمن ترقی اردو، دہلی 1941 ء۔ )
Ayah 30:44۔ فتح وشکست کے سارے اسباب اور حقیقی تصرفات سب اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اس مغلوبیت سے قبل میں حاکم علی الاطلاق و متصرف وہی تھا۔ اور اس منصوریت کے بعد بھی متصرف وہی رہے گا ..... آیت اس حقیقت کا ایک بار پھر اثبات کررہی ہے کہ عالم ومافی العالم میں جو کچھ بھی ہورہا ہے۔ اخبر تعالیٰ بانفرادہ بالقدرۃ وان مافی العالم من غلبۃ وغیرھا انماھی عنہ، بارادتہ وقدرتہ (قرطبی) مومینن کو خوشی ایک تو اس روز ہوئی، جب بلاکسی سبب ظاہری کے۔ بلکہ خلاف اسباب ظاہر، رومیوں کو فتح ایرانیوں پر حاصل ہوئی۔ اور یہ عین وہ وقت تھا، جب ادھر خود مسلمانوں کو مشرکوں کے مقابلہ میں غزوۂ بدر میں بےشان و گمان نمایاں فتح حاصل ہوئی تھی، لیکن اس میں اشارہ ایک اور پر مسرت فتح عظیم کی طرف بھی نکل سکتا ہے، یہ اس روز جب خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ کے عہد میں خود مسیحی رومیوں پر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور سارا شام و فلسطین مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ اس آیت کے مضمون کا استحضار اگر رہتا تو دنیا ستمبر 1939 ء سے لے کر مسلسل تین چار سال تک جنگ عظیم میں ہٹلر کی کامیابی ککا اس قدر جزم کے ساتھ ہرگز یقین نہ کئے رہتی۔ (آیت) ” للہ الامر “۔ امر سے مراد اجراء احکام لی گئی ہے۔ للہ الا مر ایانفاذ الاحکام (قرطبی)
Ayah 30:55۔ (آیت) ” ینصر من یشآء “۔ محققین نے تصریح کی ہے کہ نصرت الہی جب بھی ہوگی مومنین صادقین ہی کی ہوگی۔ اس لئے تفسیر میں من اولیاۂ محذوف ماننا پڑے گا۔ یعنی من اولیاۂ لان نصرہ مختص بغلبۃ اولیاۂ لاعداۂ فاما غلبۃ اعداۂ لاولیاۂ فلیس بنصر وانما ھو ابتلاء وقد یسمی ظفرا (قرطبی) ...... وہ فتح وشکست اپنے مصالح تکوینی اور اپنی مشیت پر حکمت کے مطابق واقع کراتا رہتا ہے۔ (آیت) ” العزیز “۔ وہ زبردست ہے کافروں کے مقابلے میں، جب چاہے انہیں ان کی ظاہری شان و شوکت کے باوجود مغلوب کردکھائے ! (آیت) ” الرحیم “۔ وہ رحیم ہے مسلمانوں کے حق میں جب چاہے ان کی ظاہری کمزوری اور بےسروسامانی کے باوجود انہیں فتح دیدے۔
Ayah 30:66۔ (اس حقیقت کا کہ مؤثر وفاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے لئے تکوین باسباب وبلاسباب، اسباب کے موافق، اسباب کے مخالف، ہر طرح آسان اور یکسان ہے) عارف رومی (رح) نے اسی مقام کی ترجمانی کی ہے جملہ قرآن است درقطع سبب ‘: عز درویش وہلاک بولہب۔
Ayah 30:77۔ ان کی ساری عقلیں، ساری کوششیں بس اسی مادی کائنات اور اس کے آئین وقوانین تک محدود ہیں۔ اس کے آگے اور اس کے ماوراء ذرا بھی اپنے ذہن کو نہیں لے جاتے ..... گویا سلسلہ کائنات کے صرف اقل قلیل حصہ کا علم ان کے پلے پڑا ہے۔ اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ آخرت کے وسیع ولق ودق عالم کی طرف سے بیخبر ہی نہیں، بےپروا بھی ہیں۔ کوئی فکر بھی اس کے علم کی نہیں کرتے۔ مادیت اور آخرت فراموشی سے بڑھ کر سطح بینی اور جہالت اور ہو کیا سکتی ہے۔ شیطان نے آج اسی کو ” علم “ کا رنگ روپ دے دیا ہے۔
Ayah 30:88۔ مطب یہ ہے کہ تکوینی کائنات خود اس امر کی مقتضی ہے کہ اس کے انجام کے ظہور کیلئے ایک یوم آخرت ہو، جس میں دینے کے لئے کافی ہے (آیت) ” السموت والارض وما بینھما “۔ یعنی جمیع سلسلہ موجودات وکائنات۔ (آیت) ” الا بالحق “۔ کسی خاص مصلحت ومقصد کے ساتھ۔ کسی حکمت کے ماتحت۔
Ayah 30:99۔ مراد یہ ہے کہ یہ اپنی مادیت میں مست وسرشار رہنے والے مشرکین مکہ تو اپنی تجارت کین سلسلہ میں برابر شام ویمن کی آمد ورفت رکھتے ہی ہیں۔ کیا اس پر غور نہیں کرتے کہ اس سے قبل کی بڑی بڑی مہذب ومتمدن وپرشوکت، لیکن خدا فراموش وآخرت فراموش قومیں مثلا عاد وثمود کس طرح اپنے طغیان وعدو ان کی پاداش میں برباد ہو کو رہی ہیں۔ ان کے آثار اور انکے کھنڈر، انہیں یاد نہیں دلاتے کہ اللہ کی نافرمانی کے قدرتی انجام کو دنیا کی کوئی خوش تدبیری، کوئی اقبال مندی، کوئی مرفہ الحالی روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ ان بدبختوں پر کوئی گرفت اللہ کی طرف سے خواہ مخواہ تھوری ہی ہوئی ہے۔ یہ تو خود اپنی حرکتوں سے یہ وقت اپنے اوپر لایا کئے۔ (آیت) ” کانوا انفسھم یظلمون “۔ فاطر کائنات کے تشریعی احکام اور تکوینی ضابطے توڑتے رہنا خود اپنی جانوں پر زیادتی کرنا ہے۔
Ayah 30:1010۔ تمسخر کا درجہ تکذیب سے بڑھا ہوا ہے جو لوگ اس آخری منزل تک پہنچ جائیں ان کا انجام دوزخ ہونا ہی تھا۔ (آیت) ” ایت اللہ “۔ مثلا قرآن کے احکام اور اس کی دی ہوئی خبریں (آیت) ” الذین اسآء و ا “۔ یعنی اپنے انبیاء کو جھٹلاتے رہے۔
Ayah 30:1111۔ خلق کی ایجاد وابداء (یبدؤا الخلق ‘) اعادہ آفرینش (یعیدہ) آخری حساب کے لئے پیشی (الی ترجعون) ان سب کا تعلق صرف ذات باری تعالیٰ سے ہے کوئی دوسری ہستی، کوئی دیوی دیوتا ان صفات وافعال میں اس کا شریک نہیں۔
Ayah 30:1212۔ (ان سے کچھ کہتے سنتے نہ بنے گی) (آیت) ” یبلس “۔ ابلاس۔ شدت خوف وغم سے یاس چھا جانے اور لاجواب ہوجانے کا نام ہے۔ الابلاس الحزن المعترض من شدۃ الباس (راغب) قیل ابلس فلان اذا سکت واذا انقطعت حجتہ (راغب)
Ayahs 30:13–1413۔ یعنی مومن الگ اور کافر الگ۔ اے ال مومن ون والکافرون (بیضاوی)
Ayahs 30:15–1614۔ ایک بار پھر جامع الفاظ میں اس حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ جنت کا ترتب ایمان وعمل صالح پر ہوگا، اور عذاب جہنم کا کفر وتکذیب پر۔ (آیت) ” روضۃ “۔ کی تنوین اظہار عظمت کے لئے ہے۔ عربی محاورہ میں جہاں کثرت یا عظمت کا اظہار منظور ہوتا ہے۔ اسم بجائے معرفہ کے نکرہ لاتے ہیں۔ کما یقال لفلان مال وجاہ اے کثیر وعظیم (کبیر) امام رازی (رح) نے یہاں دو نکتے اور لکھے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین کی جزائے خیر کا ذکر صیغہ فعل (آیت) ” یحبرون “۔ سے کیا ہے نہ کہ صیغہ اسم محبرون سے۔ بخلاف اس کے کافروں کے عذاب کا ذکر صیغہ اسم سے کیا ہے۔ اس میں نکتہ بلاغت یہ ہے کہ صیغہ فعل، تجدد فعل کی خبردیتا ہے۔ یعنی اہل جنت ہر وقت خوش ہوتے رہتے ہیں۔ ہر گھڑی ان کی خوشی تازہ ہوتی رہتی ہے۔ یعنی یاتیھم کل ساعۃ امر یسرون بہ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مومنین کی جزائے خیر کے موقع پر ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا بھی اضافہ کیا ہے۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ عمل صالح معتبر وہی ہے جو ایمان پر مبنی اور متفرع ہو۔ دوسرے یہ کہ گویا اس امر کو صاف کردیا ہے۔ کہ مراتب عالیہ کے لئے اعمال صالحہ بھی ضروری ہیں۔ گونفس نجات کے لئے مجرد ایمان کافی ہے۔ بخلاف اس کے کافروں کی سزا کے سلسلہ میں اعمال سیۂ کا کوئی ذکر نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مجرد کفر انتہائی سزا کیلئے کافی ہے۔ انسانوں کی دو قسموں کا حکم تو اس آیت سے صاف معلوم ہوگیا۔ ایک وہ جو ایمان کے ساتھ صاحب اعمال صالحہ ہیں۔ انہیں جنت کا اعلی مقام حاصل ہے۔ دوسرے وہ جو کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کا عذاب ابدی ہے۔ مگر ایک تیسری قسم ابھی باقی رہ گئی، یعنی مومن تو ہیں مگر اعمال صالحہ زیادہ نہیں رکھتے۔ ؛ اس طبقہ کا ذکر آیت میں نہیں۔ محققین اہل سنت کی تحقیق یہ ہے کہ ایسے شخص کو شروع میں تو عذاب ہوگا لیکن پھر اس سے نجات پا جائے گا۔ دوام عذاب اس کے لئے نہیں۔ اور جنت میں اسے جگہ تو مل جائے گی۔ ، البتہ بلند ترین مرتبہ اس کے لئے نہیں۔ ھو فی الاول فی العذاب ولکن لیس من المحضرین دوام الحضور فی الاخرۃ ھو فی الریاض ولکنہ لیس من المحبورین غایۃ الحبور (کبیر)
Ayah 30:1715۔ (دل سے بھی۔ جس کے اندر ایمان وتصدیق آگئی، اور زبان سے بھی جس کے اندر اقرار اور اذکارآگئے اور عمل سے بھی جس کے اندر ساری عبادتیں آگئیں، خصوصا نماز) (آیت) ” فسبحن اللہ “۔ صیغہ خبر کا ہے، لیکن معنی امر کے ہیں۔ اور سبحان قائم مقام سبحوا کا ہے۔ اخبار فی معنی الامر (بیضاوی) اے سبحوا اللہ تسبیحا (کبیر)
Ayah 30:1816۔ ’ کہ یہ اوقات تجدد نعمت وزیادت ظہور آثارقدرت کے ہیں۔ ان میں تجدید تسبیح کی مناسب ہے۔ بالخصوص نماز کیلئے یہی اوقات مقرر ہیں۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” تمسون “۔ میں مغرب و عشاء کی نمازیں آگئیں۔ (آیت) ” تصبحون “۔ میں صبح کی نماز کی طرف اشارہ ظاہر ہے۔ (آیت) ” عشیا “ میں اشارہ نماز عصر کی جانب ہے (آیت) ” تظھرون “۔ سے مراد نماز ظہر ہے۔ (آیت) ” سبحن اللہ الہ الحمد “۔ تسبیح قرب ذاتی کا مقام ہے اور حمدقرب صفاتی کا۔
Ayah 30:1917۔ ( اور اپنے ان تکوینی وتخلیقی عجائبات کے نمونے دن رات ہر آن دکھاتا رہتا ہے) (آیت) ” یخرج الحی من المیت “۔ جیسے انڈے سے مرغی کا پیدا کرنا۔ (آیت) ” یخرج المیت من الحی “۔ جیسے مرغی سے انڈہ پیدا کرنا۔
18۔ یہ مادہ پرست منکرین بعث و قیامت کے جواب میں ہے، قرآن ان سے کہتا ہے کہ جس شے کو تم ناممکن کہہ رہے اور سمجھ رہے ہو اس کی نظیریں اور مثالیں تو اس زندگی میں اپنی آنکھ سے ہر روز دیکھتے رہتے ہو۔ اس کے عدم امکان پر جمے رہنا تو بےبصیرتی کی انتہا ہے۔ (آیت) ” من آیتہ “۔ یعنی اس کی قدرت و حکمت وصنعت کی نشانیوں میں سے۔ (آیت) ” من ایتہ “۔ کا یہی مفہوم اس رکوع بھر میں ہر جگہ ہے۔
Ayah 30:2019۔ (اور ساری نوع انسان کے درمیان طرح طرح کے خانگی، مجلسی معاشری، تمدنی تعلقات قائم ہوگئے) ۔
Ayah 30:2120۔ آیت، آیات احکام میں بہت اہم ہے اور گویا اسلام کے مجلسی وخانگی نظام زندگی کے لئے سنگ بنیاد ہے۔ یہاں تین باتیں بطور اصل کے بیان ہوئیں :۔ (1) مردوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہاری بیویاں تمہاری ہی، ہم جنس مخلوق ہیں۔ ترکیب حیات میں تمہاری ہی مثل۔ تمہاری ہی جیسی خواہشیں، جذبات و احساسات رکھنے والی، مخلوق بےروح نہیں ہیں۔ (آیت) ” من انفسکم “۔ (2) انکی غایت آفرینش یہی ہے کہ وہ تمہارے لئے سرمایہ راحت وتسکین و باعث سکون خاطر ہوں، تمہارا دل ان سے لگے۔ جی ان سے بہلے۔ (آیت) ” لتسکنوا الیھا “۔ (3) تمہارے ان کے تعلقات بنیاد ہی باہمی محبت، اخلاص وہمدردی پر ہونا چاہیے۔ (آیت) ” جعل بینکم مودۃ ورحمۃ “۔ اسلام میں عورت مرد کی کنیز نہیں، جیسا کہ بعض دوسرے مذاہب میں ہے بلکہ اس کی صاحبہ، انیس، رفیق ومصاحب ہے، ملاحظہ ہوں تفسیر انگریزی کے حاشیے۔ (آیت) ” ان ...... یتفکرون “۔ ماہرین اجتماعیات چاہیں تو ایک پورا فلسفہ انہیں اصول اور بنیادی کلیات سے تیار کرسکتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بیویوں کی طرف میلان والتفات ہونا منافی کمال نہیں جیسا کہ بعض زاہد ان خشک سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہاں اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے موقع احسان پر کیا ہے۔
Ayah 30:2221۔ (کہ اسی اختلاف لون و زبان سے تمدن زندہ ہے اور اس کا تنوع قائم ہے) یہ اختلاف طبعی اس لئے نہیں کہ اس کی بنیاد پر ایک دوسرے پر ظلم روا رکھا جائے اور ایک قوم دوسری قوم کو حقیر و ذلیل سمجھنے لگے۔ (آیت) ” ان ..... للعلمین “۔ ان بنیادوں پر چاہیں تو باخدا اہل علم علوم طبعی اور علوم اجتماعی کے پورے پورے دفتر تیار کرسکتے ہیں۔
Ayah 30:2322۔ (آیت) ” من فضلہ “۔ فضل اللہ کے ایک معنی محاورہ میں اللہ کے دیئے رزق کے بھی آتے ہیں۔ اور وہی یہاں مراد ہیں۔ الرزق من کسبہ (کبیر) اے طلب معاشکم (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ استراحت کے لئے سونا اور اسی طرح اسباب معاش کا حاصل کرنا منافی کمال نہیں کیونکہ موقع فضل وکرم میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ البتہ ان میں انہماک ممنوع ہے۔
Ayah 30:2423۔ چناچہ باخدا اہل علم اگر چاہیں تو ان اشارات سے فائدہ اٹھا کر پورے پورے علوم بارش اور زمین اور کائنات فضائی سے متعلق مرتب کرسکتے ہیں۔ (آیت) ” یریکم ...... طمعا “۔ یعنی ایک طرف تو تمہیں بافراط بارش سے امیدیں بڑی بڑی قائم ہوجاتی ہیں اور تم ان سے آس بھی ہر طرح کی لگانے لگتے ہو۔ اور دوسری طرف طوفانی بارش سے اندیشے بھی بہت زیادہ لگے رہتے ہیں ...... آیت کے مفہوم میں اگر توسع سے کام لیاجائے تو زمانہ حال کی ساری برقی ترقیات بھی اس کے تحت میں آجاتی ہیں۔ برقی آلات سے جدید انسان کیسی امیدیں زندگی کے ہر شعبہ میں ترقیوں کی بھی قائم کرتا ہے اور پھر یہی مشینیں کس درجہ اس کی ہلاکت و بربادی کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ (آیت) ” خوفا وطعما “۔ دونوں کی شان کا پورا ظہور مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خطاب اپنے عموم میں کاملین کو بھی شامل کئے ہوئے ہے۔ یہ عموم خطاب اس امر پر دال ہے کہ خوف وامید طبعی منافی کمال نہیں۔
Ayah 30:2524۔ خود بخود نہیں بلکہ ارادۂ الہی سے۔ اوپر ذکر پیدائش کا ئنات کا تھا، اب ذکر نظام عالم کے قیام کا ہے۔ یہ سب اللہ کے ارادہ ومشیت کے ماتحت وقائم ہے جو نہ کسی آلہ کا محتاج ہے نہ سہارے کا۔ والتعبیر بالامر للمبالغۃ فی کمال القدرۃ والغنی عن الالۃ (بیضاوی) (آیت) ” تقوم السمآء والارض بامرہ “۔ مادی علوم م اسباب کا جال جتنا بھی پھیلاتے جائیں، آخر کہیں تو ان کا سلسلہ ختم ہوگا۔ اور اسی آخری سبب کا نام امرالہی ہے۔ پھر خود ہر سبب قریبی وظاہری بھی بغیر اس امرالہی کے تمامتر غیرموثر۔
25۔ یہ اس وقت جب موجودہ نظام عالم کو درہم وبرہم کرکے ایک دوسرا نظام قائم کرنا اس کی مشیت و حکمت کو منظور ہوگا۔
Ayah 30:2626۔ (تکوینی طور پر) یعنی فرشتہ، جن، انسان، جتنی بھی صاحب حیات وصاحب ارادہ مخلوق ہے۔ سب اضطرارا قانون الہی کی پابند ہے۔ کسی کو مجال سرتابی نہیں۔ کسی کیلئے ممکن نہیں کہ اس کے قوانین تکوینی کے حدود توڑ کر باہر جاسکے۔
Ayah 30:2727۔ امکان حشر وبعث پر جو شبہ پیدا ہوتا تھا۔ اسکے ازالہ کے بار بار اس حقیقت کا استحضار کرایا ہے کہ جس خدا کا موجداول ہونا، خالق کائنات ہونا، تم خود تسلیم کرتے ہو، اسی کیلئے تو اس صفت احیاء کا اثبات کیا جارہا ہے، تم آخر اسے اس کیلئے ناممکن یا مستعبد ہی کیوں سمجھتے ہو ؟۔
28۔ (تمہارے معیار اور تمہاری عادت کے اعتبار سے) حقیقۃ اس قادر مطلق کیلئے تو زیادہ آسان اور کم آسان کا کوئی سوال ہی نہیں۔ یہ سب درجے اور اضافتیں تو ہمارے نسبت سے ہیں۔ (آیت) ” ھو “۔ ضمیر اعادہ واحیاء کے لئے ہے۔ والضمیر للاعادۃ (روح)
29۔ (کہ نہ آسمانوں میں کوئی ایسا بڑا ہے نہ زمین میں) جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” ولہ الکبیریآء فی السموت والارض “۔ متکلمین نے لکھا ہے کہ اللہ کا علواضافی نہیں، مطلق ہے۔ وہ اعلی اس وقت سے ہے جب علو کے مقابل دنوکاوجود بھی نہ ہوا تھا فقہاء نے کہا ہے کہ صاحب مثل اعلی کو ادنی صفات سے ذکر کرنا ناجائز ہے۔ مثلا عاقل شجاع وغیرہ۔ ملکا وخلقا۔ یعنی خالق بھی سب کا وہی ہے اور مالک بھی سب کا وہی۔ (آیت) ” مثل “۔ (بفتحتین) جس کے معنی مثال کے ہیں، اور معنی میں شریک فی الوصف کے ہے۔ اس کا اللہ کیلئے لانا جائز ہے۔ اور اللہ کے مثل (بہ کسرہ میم) کا بیان کرنا، جس کے معنی شریک فی النوع کے ہیں، ناجائز۔ الاعلی اے الذی لیس لغیرہ ما یساویہ اویدانیہ (بیضاوی) اے الوصف الاعلی الذی لیس لغیرہ (مدارک)
30۔ جب چاہے اپنی قدرت سے، حسب اقتضائے اسم العزیز قیامت کو واقع کرسکتا ہے۔ لیکن اپنی حکمت سے اسے واقع اسی وقت کرے گا جس حسب اقتضائے اسم (آیت) ” الحکیم “۔ عین مصلحت ہوگی۔
Ayah 30:2831۔ (جس سے اسی مسئلہ شرک و توحید پر مزید روشنی پڑے گی)
32۔” ظاہر ہے کہ کوئی غلام اس طرح شریک نہیں ہوتا۔ پس جب تمہارا غلام جو نوع وغیرہ میں تمہارا شریک ہے۔ صرف ایک امر اضافی اس میں اور تم میں موجب امتیاز ہے، تمہارے خاص حق امتیاز میں تمہارا شریک نہیں ہوسکتا۔ تو تمہارے قرار دیئے ہوئے معبودات باطلہ کو جو کہ حق تعالیٰ کے غلام اور کسی کمال ذاتی یا وصفی میں خدا کے مماثل نہیں، بلکہ بعض تو ان میں سے خود مخلوقات الہیہ کے مصنوع ہیں۔ یہ معبودین خاص حق تعالیٰ کے حق معبودیت میں کس طرح اس کے ساتھ شریک ہوسکتے ہیں۔ “ (تھانوی (رح) یہ انسان تو تمہارے محض مجازی غلام ہیں، انسانی اوصاف میں تمہارے شریک، تم ان کے خالق نہیں۔ ان کے مالک علی الاطلاق نہیں۔ حقیقی غلام تو انسان ہے تمامتر اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا۔ پھر یہ مال جو تمہارے پاس ہے یہ بھی ذاتی نہیں، محض عطیہ الہی ہے۔ بخلاف اس کے اللہ کے تمام صفات ذاتی اور دائمی ہیں۔ بس جب شرکۃ المساوات انسان کو اپنے غلاموں کی منظور نہیں، تو ظاہر ہے اس کا گزر جناب باری میں کہاں ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” ھل لکم ..... انفسکم “۔ یہاں کوئی اخلاقی بحث مقصود نہیں کہ آیا ایسا ہونا چاہیے بھی، اور ہو تو کس حد تک، مقصود صرف ایک واقعہ سے، جیسا کہ وہ پایا جاتا ہے، استدلال کرنا ہے۔ (آیت) ” کذلک ..... یعقلون “۔ باخدا اہل علم چاہیں تو فطرت بشری سے اسی طرح کے استدلالات سے ایک پورا علم کلام مرتب کرسکتے ہیں۔ (آیت) ” من شرکآء “۔ من زائد تاکید استفہام انکاری کے لئے ہے۔ من مزیدۃ لتاکید الاستفھام الجاری مجری النفی (مدراک۔ بیضاوی) (آیت) ” من انفسکم “۔ من ابتداء کلام کے لئے ہے۔ (آیت) ” مما ملکت ایمانکم “۔ من تبعیض کے لئے ہے۔
Ayah 30:2933۔ یعنی باوجود اس تبیین و تفصیل اور اس توضیح وتشریح کے یہ لوگ دلائل پر غور نہیں کرتے۔ بےانصافی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اتباع اپنی خواہشوں کا کئے جاتے ہیں۔
34۔ (جو انہیں عذاب سے رہائی دلاسکے) یہ ان گمراہوں کی معذوری کا بیان نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ ایسے بد پرہیز لاعلاج مریضوں کے حق میں زیادہ غم وتردد سے کام نہ لیجئے، ہماری طرف توجہ رکھیئے۔ (آیت) ” من اضل اللہ “۔ اللہ کی طرف سے یہ اضلال یا گمراہی ان لوگوں کے عناد اور کجروی کے لازمی نتیجہ کے طور پر ہوگی۔ (آیت) ” لھم “۔ ضمیر کا صیغہ جمع (آیت) ” من اضل اللہ “۔ کے معنی کے اعتبار سے ہے۔ (آیت) ” والجمع باعتبار المعنی (روح)
Ayah 30:3035۔ صیغہ واحد اسی مناسبت سے ہے کہ خطاب مخاطبین کے ایک ایک فرد سے ہے۔
36۔ فطرت کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص میں اللہ تعالیٰ نے خلقۃ یہ استعداد رکھی ہے کہ اگر حق کو سنے اور سمجھنا چاہے تو وہ سمجھ میں آجاتا ہے، اور اس کے اتباع کا مطلب یہ ہے کہ اس استعداد اور قابلیت سے کام لے اور اس کے مقتضاء پر کہ ادارک حق ہے عمل کرے۔ “ یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ یہ دین تو عین فطرت انسانی کے مطابق ہے، اور فطرت بشری میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، اس لئے اس دین میں میں بھی کسی قسم کی ترمیم کی خواہش کرنا سر تا سر بےعقلی اور نادانی ہے۔
37۔ مراد یہ ہے کہ یہ دین قدیم خلقی وازلی ہے، اس کے قبول کی صلاحیت بشر میں رکھ دی گئی ہے۔ یہ بدل نہیں سکتا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ فطریات میں تبدیلی نہیں ہوتی، ریاضت سے صرف تعدیل ہوجاتی ہے۔ اور یہ فن طریق کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔
38۔ (بسبب اپنے اعراض وبے توجہی کے نہ اس لئے کہ خود اس کا فہم کچھ بہت دشوار ہے)
Ayahs 30:31–3239۔ یعنی حق تو بس ایک ہی ہے، جیسے دو نقطوں کے درمیان خط مستقیم، تو اگر یہ لوگ حق پر قائم رہتے، تو ایک ہی گروہ رہتے، البتہ باطل میں تعدد و کثرت ہے۔ جیسے دو نقطوں کے درمیان خطوط منحنی۔ سو اہل باطل نے بھی یہی کہا ہے کہ کسی نے کہیں سے ایک ٹکڑا حق کا لے لیا ہے، کسی نے کہیں سے دوسرا۔ من الذین فرقوا۔ من المشرکین “۔ سے بدل ہے۔ بدل من المشرکین باعادۃ الجار (مدارک۔ روح۔ بیضاوی) اے لاتکونوا من المشرکین الذین قد فرقوا دینھم (ابن کثیر) ان لوگوں سے مراد نصاری و یہود کا ہونا متعددتابعین سے منقول ہے۔ وقال الربیع بن انس الذین فرقوا دینھم اھل الکتب من الیھود والنصاری واقالہ قتادہ ومعمر (قرطبی) وھم الیھود والنصاری (معالم) بعض صحابیوں اور تابعین سے یہ قول بھی نقل ہوا ہے کہ اس سے مراد خود اہل قبلہ کے بدعتی فرقے ہیں۔ تاولہ “۔ ابوہریرہ وعائشہ وابو امامہ انہ لاھل القبلہ انہ لاھل القبلہ من اھل الاھواء والبدع (قرطبی) وقیل ھل اھل البدع من ھذہ الامۃ (معالم) وھذہ الامۃ ایضا اختلفوافی مابینھم علی نحل کلھا ضلالۃ الاواحدۃ وھم اھل السنۃ والجماعہ المتمسکون بکتاب اللہ وسنۃ رسولہ (ابن کثیر)
40۔ اہل باطل آج جو بیشمار ٹکڑیوں، ٹولیوں میں تقسیم ہیں، یہ قابل عبرت ہے، ہندوؤں اور مسیحیوں، سب کے اندر بےگنتی فرقے ہیں، ایک دوسرے کی تکذیب کرنے والے۔ مسلمانوں کے اندر کا اختلاف ظاہر ہے کہ بنیادی نہیں، صرف فرعی ہی ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ بنیادی چیزیں تو بس یہی ہیں جو ابھی گنا دی گئیں۔ (آیت) ” کل حزب بما لدیھم فرحون “۔ یہ حقیقت تو بالکل کھلی ہوئی ہے کہ ہر گروہ اور ہر ٹولی عام اس سے کہ وہ اہل حق میں سے ہو یا اہل باطل سے، بس اپنے ہی مزعومات ومعتقدات، یا آج کل کی زبان میں اپنی آئیڈیالوجی ہی میں مست ہے۔
Ayahs 30:33–3441۔ یعنی حقیقت عنقریب ہی تم پر منکشف ہو کر رہے گی۔ (آیت) ” واذا “۔ الخ۔ لیکفروا “۔ الخ۔ بیان ان دونوں آیتوں میں عام فطرت بشری کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” واذا مس الناس “۔ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ انسان کہ طبیعت مرکب ہے ہدایت وضلال سے۔ مصیبت کے وقت ظہور ہدایت کا ہوتا ہے۔ اور زوال مصیبت کے بعد ضلالت کا۔ (روح) (آیت) ” لیکفروا “۔ ل عاقبۃ کا ہے۔ یعنی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کفر کرنے لگتے ہیں۔ واللام للعاقبۃ (بیضاوی) ل۔ تہدید کے مفہوم میں بھی سمجھا گیا ہے۔ قیل للامر بمعنی التھدید (بیضاوی)
Ayahs 30:35–3642۔ اسی سے ملتی ہوئی ایک آیت سورة یونس (پ 11 ع 2) میں آچکی ہے۔ (آیت) ” واذا مس الانسان “۔ الخ۔ آیت میں کھلا ہوا بیان فطرت بشری کا ہے۔ (آیت) ” ام ..... یشرکون “۔ یعنی کوئی بھی دلیل عقلی یا نقلی ان کے پاس ایسی ہے جو شرک کا حکم دے رہی ہو ؟..... دلائل توحید پر تو بیشمار ہیں شرک پر کوئی ایک بھی دلیل قائم کرکے دکھائی جائے۔ (آیت) ” فھویتکلم “۔ تکلم یہاں لفظی معنی میں نہیں، بلکہ ظہور دلالت کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” فرحوا بھا “۔ اس اتراہٹ سے ان پر جو غفلت اور بےفکری طاری ہوتی ہے وہ انہیں تحقیق وفکر سے بےنیاز کردیتی ہے، اور وہی انہیں کفر وشرک تک پہنچا دیتی ہے۔ فرح کا استعمال لغت عرب میں مدح وذم دونوں موقعوں پر آتا ہے۔ اور قرآن مجید میں بھی یہ لفظ دونوں معنی میں آیا ہے۔ کہیں تو موقع ذم پر، مثلا اسی آیت میں۔ (آیت) ” لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین (قصص) (آیت) ” انہ لفرح فخور “۔ (ھود) وغیرہ اور کہیں موقع مدح پر مثلا (آیت) ” فرحین بما اتھم اللہ “۔ (آل عمران) بلکہ صیغہ امر میں بھی مثلا (آیت) ” فلیفرحوا “۔ (یونس) (آیت) یومئذیفرح ال مومن ون “۔ (عنکبوت) .... گو لفظ مشترک ہے لیکن مفہوم دونوں موقعوں پر الگ الگ ہے۔ اس لئے کوئی تعارض وتناقض نہیں۔ موقع مدح پر فرح سے وہ خوشی مراد ہوتی ہے جو شکر کی جانب لے جاتی ہے، اور ایک طبعی بشری کیفیت کا نام ہے۔ موقع ذم پر مراد فخر وخویش بینی ہوتی ہے۔ جو ایک نفسانی طغیانی کیفیت کا نام ہے۔
Ayah 30:3743۔ (کہ وہ اہل ایمان وعرفان الہ المعاش بھی تمامتر اسی کو یقین کئے رہتے، اور معاش کی فراخی اور تنگی دونوں کے سارے اسباب بس اسی کے ہاتھ میں سمجھتے ہیں) (آیت) ” اولم ..... یقدر “۔ دو شخص ایک ہی معاش جدوجہد میں مشغول ہوتے ہیں۔ بظاہر دونوں کی صلاحتیں، قابلیتیں تو انائیاں بالکل ایک تھیں، اس پر بھی ایک مالا مال ہوجاتا ہے۔ اور دوسرے کی کوشش رائیگاں ہی رہتی ہے۔ وجہ صرف یہ کہ فلاح و کامیابی کے اسباب خفی ودقیق تمامتر اسی حکیم مطلق مسبب الاسباب کے ہاتھ میں ہیں جو اپنے مصالح تکوینی کے اعتبار سے جسے چاہتا ہے کامیاب بناتا ہے اور جسے چاہتا ہے ناکام رکھتا ہے۔ اسباب معاش اور ان کے درمیانی وسائط کا تمامتر حق تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہونا بجائے خود اس کی دلیل ہے کہ معبودیت والوہیت کا حقدار بھی تنہاوہی ہے۔
Ayah 30:3844۔ (اس کا اس کا حق) اسلامی نظام معاشیات میں درجہ بدرجہ عزیزوں کے اور پھر تمام دوسرے اہل حاجت کے حصے مقرر ہیں۔ (آیت) ” حقہ “۔ لفظ حق بہت قابل غور ہے۔ ہر صاحب جائداد کے مال میں ان سب کے حق مقرر ہوگئے ہیں، ان کی ادائی خود اپنے سود و بہبود کے لحاظ سے واجب۔ دوسروں کو دیتے رہنا ان پر کوئی احسان کرنا اور منت رکھنا نہیں۔ فقہائے حنفیہ نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ قریب کے حاجت مند عزیزوں کا نفقہ واجب ہے۔ فیہ دلیل وجوب النفقہ للمحارم کما ھو مذھبنا (مدارک)
45۔ نظام معاشیات کو ان ضوابط الہی کے ماتحت چلانے والے، انفرادی طور پر بھی فلاح یاب رہیں گے اور اجتماعی طور پر بھی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ (آیت) ” یریدون وجہ اللہ “۔ اس قید نے یہ حقیقت صاف کردی کہ خلعت قبول سے سرفرازی پانے کے لئے شرط لازمی یہ ہے کہ یہ خرچ جو کچھ بھی ہو، سب رضاء الہی کی نیت سے ہو محض جبری اور نمائشی چندے اور اسی قبیل کی دوسری چیزیں سب اس مد سے باہر ہیں۔ (آیت) ” وجہ “ کے معنی اس سیاق میں ذات کے ہوتے ہیں۔ یعنی مقصود محض رضا الہی ہوتی ہے۔ اے ذاتہ اے یقصدون بمعروفھم ایاہ خالصا (مدارک)
Ayah 30:3946۔ (اور پھر بڑھ کر اپنے ہی پاس واپس آجائے) (آیت) ” ربا “۔ ربا یہاں اپنے وسیع اور عام ولغوی معنی میں ہے۔ الزیادۃ علی راس المال (راغب) (آیت) ” الربوا “۔ یا ربائے اصطلاحی یا سود، اسی کی ایک مخصوص و متعین شکل ہے۔ نیوتہ وغیرہ کے نام سے جن رقموں سے برادری کی اکثر تقریبات میں شرکت اس امید سے کی جاتی ہے کہ وہ رقم زائد ہو کر پھر اپنے پاس آجائے گی۔ اکثر محققین نے یہاں یہی مراد لی ہے۔ العطیۃ التی تعطی اللاقارب للزیادۃ فی اموالھم (ابن عباس ؓ العطیۃ التی یتوقع بھا مزید مکافاۃ (روح۔ عن ابن عباس ؓ ومجاہد و سعید والضحاک ومحمد بن کعب القرظی وطاؤس وغیرھم) روی عن ابن عباس ؓ و مجاھد ھو الرجل یھب الشیء یرید ان یثاب افضل منہ فذلک الذی لایربوا عنداللہ ولا یوجر صاحب فیہ ولا اثم علیہ (جصاص) قال عکرمۃ الربار بوان ربا حلال وربا حرام فاما الربوا الحلال فھو الذی یھدی یلتمس ماھو افضل منہ (قرطبی)
47۔ یعنی اسے اللہ کے ہاں سند قبول حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ کے ہاں مقبول مطلقا مال نہیں، بلکہ صرف وہی ہوتا ہے جس سے مقصود مطلوب رضائے الہی ہو۔
48۔ یعنی دنیا میں برکت انفرادی، اجتماعی، ہر حیثیت سے اسی مال سے حاصل ہوگی، اور آخرت میں بھی اجر کئی گنا یہی مال دلائے گا .... یہی مال جو رضائے الہی کی نیت سے ادا کیا گیا تھا۔ نہ کہ سودی کاروبار اور نمائشی داد ودہش پر، حالانکہ ظاہرا پر منفعت تمامتر وہی معلوم ہوتا ہے۔ آیت میں تخاطب سود خوار کی طرف بالکل نہیں ....... بعض مفسرین نے نکتہ یہ لکھا کہ وہ ملعون قابل خطاب بھی نہیں (آیت) ” من زکوٰۃ “۔ زکوٰۃ سے یہاں اصطلاحی زکوٰۃ مراد نہیں۔ شریعت کی یہ اصطلاح تو بہت بعد کی ہے بلکہ مطلق صدقہ مراد ہے، جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے دیا جائے۔ اے من صدقۃ (ابن عباس ؓ ما اتیتم من صدقۃ (معالم)
Ayah 30:4049۔ (قیامت میں) یعنی ایجاد وابقاء وافناء تینوں صفات کا مالک صرف وہی ہے۔ پیدا کرنے والا۔ پالنے والا، فنا کرنے والا سب صرف وہی ایک ہے۔ الگ الگ اور تین تین ہستیاں نہیں۔ جیسا کہ برہما وشنو اور شیو کی تریمورتی کا عقیدہ ہے۔ اور پھر قیامت میں اٹھانے وصف بھی اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔