30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 30:1–3

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی مغلوب ہوگئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

قریب کی سر زمین میں۔ اور وہ اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے

فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْم بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ”۔“ نقشے میں دیکھیں تو جزیرہ نمائے عرب کے اوپر شمال کی سمت میں شام ہے جبکہ شام کے ساتھ ہی نیچے عراق اور پھر عراق کے ساتھ مشرق کی سمت میں ایران واقع ہے۔ چناچہ جزیرہ نمائے عرب کی سرحد پر واقع ان علاقوں کو قریب کی سرزمین کہا گیا ہے جہاں ایرانیوں اور رومیوں کے درمیان مذکورہ جنگ جاری تھی۔
Ayah 30:4

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند سالوں میں اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن اہل ایمان خوشیاں منا رہے ہوں گے

آیت 4 فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ ط ” عربی میں لفظ ”بِضْع“ کا اطلاق گنتی کے اعتبار سے تین سے نو تک کے اعداد پر ہوتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر رض کو نو سال کی مدت تک شرط طے کرنے کا فرمایا تھا۔ واضح رہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت تک شرط یا جوئے کی حرمت کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْم بَعْدُ ط ” اللہ ہی کے حکم سے ہوا جو پہلے ہوا اور اللہ ہی کے حکم سے ہوگا جو بعد میں ہوگا۔ فرماں روائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔ وَیَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ” اس وقت اہل ایمان کو ایک خوشی تو آتش پرستوں پر اہل کتاب عیسائیوں کی فتح پر ہوگی اور اس کے علاوہ :
Ayah 30:5

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

(وہ خوش ہوں گے) اللہ کی مدد سے۔ وہ مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے۔ اور وہ زبردست بہت رحم فرمانے والا ہے

آیت 5 بِنَصْرِ اللّٰہِط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ” یہاں اگرچہ ذکر نہیں کیا گیا لیکن اس سے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی فتح مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد سے انہیں عنقریب حاصل ہونے والی تھی۔
Ayah 30:6

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

آیت 6 وَعْدَ اللّٰہِط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ” یہ وہ چھ آیات ہیں جن میں رومیوں کے دوبارہ غلبے اور اہل ایمان کی مشرکین مکہ پر فتح کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یہ آیات تقریباً 614 ء میں نازل ہوئیں۔ نبی اکرم ﷺ پر وحی کا آغاز 610 ء میں ہوا تھا۔ چناچہ ان آیات کے نزول کے وقت آپ ﷺ کی دعوت کو پانچ برس کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اس کے ٹھیک نو 9 برس بعد اس پیشین گوئی کے عین مطابق رومی بھی ایرانیوں پر غالب آگئے اور غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو بھی اللہ کی مدد سے فتح نصیب ہوئی۔
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا کی زندگی کے بھی صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں

آیت 7 یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ” یہاں سے موضوع ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ اللہ کی نعمتوں کے حوالے سے نصیحت اور یاددہانی کی طرف موڑا جا رہا ہے اور اس مضمون کے اعتبار سے سورة الروم اور سورة النحل میں بہت گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ہُمْ غٰفِلُوْنَ ” یہ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے ‘ لیکن یہ لوگ دنیا کی اس حقیقت کو بالکل فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ انہیں یاد ہی نہیں کہ آج وہ یہاں جو بوئیں گے کل آخرت میں وہی کچھ انہیں کاٹنا ہوگا۔ ان کے سامنے دنیوی زندگی کا صرف یہی پہلو رہ گیا ہے کہ کھاؤ پیؤ اور عیش کرو ‘ جبکہ آخرت کی زندگی کا تصور ان کے ذہنوں سے بالکل ہی اوجھل ہوگیا ہے۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اپنی ذات میں غور نہیں کرتے نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک وقت معینّ تک کے لیے اور یقیناً بہت سے لوگ اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں

مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ” اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات ایک مقصد کے تحت پیدا کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار ہر وہ شخص کرتا ہے جو چشم بصیرت سے کائنات کا نظام دیکھتا ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 191 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جب وہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو بےاختیار پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج ”اے ہمارے پروردگار ! ہم سمجھ گئے ہیں کہ تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں فرمایا۔“
Ayahs 30:9–11

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو کاشت کیا اور اسے آباد کیا اس سے کہیں بڑھ کر جو (آ ج) انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس بھی ان کے رسول ؑ آئے تھے کھلی نشانیاں لے کر سو اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے ُ بری روش اختیار کی بہت برا ہوا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے رہے

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرتا ہے پھر اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے

آیت 11 اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ” یہ الفاظ قرآن حکیم میں بار بار آئے ہیں۔ یُعِیْدُہٗ فعل مضارع ہے اور اس لحاظ سے اس میں حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ فعل حال میں کیا جائے تو دنیا میں مخلوقات کی بار بار پیدائش reproduction مراد ہوگی ‘ جیسے ایک فصل بار بار کٹتی ہے اور بار بار پیدا ہوتی ہے ‘ جبکہ فعل مستقبل کے ترجمے کی صورت میں اس کا مفہوم عالم آخرت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے تک وسیع ہوجائے گا۔
Ayahs 30:12–13

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوجائے گی تو مجرم اس دن مایوس ہو کر رہ جائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور نہیں ہوں گے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی ان کے لیے سفارش کرنے والے اور وہ خود بھی اپنے شریکوں کا انکار کرنے والے ہوں گے

آیت 13 وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ مِّنْ شُرَکَآءِہِمْ شُفَعٰٓؤُا وَکَانُوْا بِشُرَکَآءِہِمْ کٰفِرِیْنَ ” جب وہ دیکھیں گے کہ جن سے انہوں نے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کر رہے تو وہ ان کے منکر ہوجائیں گے۔
Ayah 30:14

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے

آیت 14 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَءِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ” بنی نوع انسان کی یہ تقسیم polarization کس بنیاد پر ہوگی ؟ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Ayahs 30:15–18

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے تھے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تھے وہ ایک باغ میں مسرور کیے جائیں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا تو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

تو تم تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں اور رات کو اور جب تم ظہر کرتے ہو

آیت 18 وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ” ان دونوں آیات میں صبح ‘ شام ‘ رات اور دن ڈھلنے کے اوقات کا ذکر کر کے پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور (اسی طرح) وہ نکالتا ہے ُ مردہ کو زندہ سے اور وہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد۔ اور اسی طرح تمہیں بھی نکال لیا جائے گا

آیت 19 یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ” مثلاً انڈے میں بظاہر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ‘ لیکن اس میں سے اللہ کی قدرت سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے۔ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ” مثلاً مرغی جاندار ہے اور اس سے انڈا برآمد ہوتا ہے جو بظاہر بےجان ہے۔ اسی طرح زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ برآمد ہونے کی بہت سی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ” جس طرح اللہ تعالیٰ بظاہر مردہ زمین سے فصلیں اور دوسرے نباتات نکالتا ہے اسی طرح وہ تمہیں بھی اس میں سے نکال کر حاضر کرلے گا ‘ چاہے تمہارے اجزاء تحلیل ہو کر کسی بھی شکل میں ہوں اور کہیں بھی ہوں۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن گئے (زمین میں) پھیلے ہوئے

آئندہ آیات کا اسلوب اور انداز بہت منفرد ہے۔ ان میں اللہ کی خلاقیّ کی علامات اور اس کی رحمت کے مظاہر کا ذکر تکرار کے ساتھ اس طرح ہوا ہے کہ ہر آیت کے آغاز میں وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اور آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ قبل ازیں اس سے ملتا جلتا ا انداز ہم سورة النمل اور سورة الشعراء میں بھی دیکھ آئے ہیں۔ سورة النمل کے پانچویں رکوع میں بھی آفاقی و انفسی آیات الٰہیہ کا ذکر اسی طرح تکرار کے ساتھ کیا گیا ہے اور ہر آیت کے آخر میں ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِکے الفاظ آئے ہیں۔ جبکہ سورة الشعراء میں ایک تسلسل کے ساتھ عبرت انگیز تاریخی حقائق و بصائر کا ذکر ہوا ہے اور ہر واقعہ کے آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ کی تکرار ہے۔
Ayahs 30:21–22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیے تمہارے لیے تمہاری نوع میں سے جوڑے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور رحمت پیدا کردی یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کریں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا فرق یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط ” پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان بولی جانے والی طرح طرح کی زبانوں کے اندر پایاجانے والا تنوّع بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اسی طرح مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کے مختلف رنگ بھی اس کی صناعی اور خلاقی کے مظاہر کی مثالیں ہیں کہ کس طرح ایک ہی نسل سے تعلق کے باوجود کوئی زرد رو ہے تو کوئی سرخ رو ‘ کوئی سفید فام ہے تو کوئی سیاہ فام۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں

آیت 23 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط ” تمہارا رات کے وقت سونا ‘ دوپہر کے وقت قیلولہ کرنا ‘ اور پھر آرام کے ان اوقات کے علاوہ معاشی دوڑ دھوپ میں سرگرم عمل رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ” یہ سب نشانیاں یقیناً ان لوگوں کے لیے ہیں جو انسانی کانوں یعنی دل کے کانوں سے سنتے ہیں ‘ نہ کہ محض حیوانی کانوں سے۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں بجلی (کی چمک) دکھاتا ہے خوف اور امید کے ساتھ اور وہ برساتا ہے آسمان سے پانی پھر زندہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں

آیت 24 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا ” آسمانوں میں بادلوں کا چھانا اور بجلی کا چمکنا بھی اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے جس میں لوگوں کو بجلی کے گرنے اور طوفان وغیرہ کا خوف بھی ہوتا ہے جبکہ باران رحمت کے برسنے کی امید بھی۔
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ قائم ہیں آسمان و زمین اس کے حکم سے پھر جب وہ تمہیں پکارے گا ایک ہی بار زمین سے (نکلنے کے لیے) تو تم دفعۃً نکل پڑو گے

آیت 25 وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ” ہماری زمین ‘ سورج ‘ نظام شمسی اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں اور سیاروں کا ایک عظیم الشان اور لامتناہی نظام بھی اس کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ اس نظام کے اندر ایسے ایسے ستارے بھی ہیں جن کے مقابلے میں ہمارے سورج کی جسامت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ اتنے بڑے بڑے اجرام سماویہ اللہ ہی کے حکم سے اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں اور یوں اس کی مشیت سے کائنات کا یہ مجموعی نظام چل رہا ہے۔ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً ق مِّنَ الْاَرْضِق اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ” قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی شان ”کُن فیکُون“ کا ظہور ہوگا اور اس کے ایک ہی حکم سے پوری نسل انسانی زمین سے باہر نکل کر اس کے حضور حاضر ہوجائے گی۔
Ayahs 30:26–27

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں۔ سب اسی کے حکم کے تابع فرمان ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو پھر اسے دوبارہ بھی پیدا کرے گا اور وہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے اور اس کی شان بہت بلند ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بہت زبردست ہے کمال حکمت والا

آیت 27 وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَہُوَ اَہْوَنُ عَلَیْہِ ط ” یہ بعث بعد الموت کے بارے میں عقلی دلیل ہے جو قرآن میں متعدد بار دہرائی گئی ہے۔ معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی اس دلیل کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی کام کا پہلی دفعہ کرنا دوسری دفعہ کرنے کے مقابلے میں نسبتاً مشکل ہوتا ہے ‘ اور جب کسی کام کو ایک دفعہ سر انجام دے دیا جائے اور اس سے متعلق تمام مشکلات کا حل ڈھونڈ لیا جائے تو اسی کام کو دوسری مرتبہ کرنا نسبتاً بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اہل عرب جو قرآن کے مخاطب اول تھے ‘ وہ اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اور اس پوری کائنات کا خالق اللہ ہی ہے۔ ان کے اس عقیدے کا ذکر قرآن میں بہت تکرار سے ملتا ہے۔ مثلاً : وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط لقمٰن : 25 ”اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے !“ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں ان لوگوں کو خالص منطقی اور عقلی سطح پر یہ نکتہ سمجھانا مقصود ہے کہ جس اللہ کے بارے میں تم مانتے ہو کہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے اور خود تمہارا بھی خالق ہے اس کے بارے میں تمہارے لیے یہ ماننا کیوں مشکل ہو رہا ہے کہ وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرے گا ؟ جس اللہ نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہ آخر دوسری مرتبہ ایسا کیوں نہیں کرسکے گا ؟ جبکہ کسی بھی چیز کو دوسری مرتبہ بنانا پہلے کی نسبت کہیں آسان ہوتا ہے۔ وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ” یہاں پر اللہ تعالیٰ کے لیے ”مثل“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لیکن مثل یا مثال کا جو مفہوم ہمارے ذہنوں میں ہے اس کا اللہ کے بارے میں تصور کرنا مناسب اور موزوں نہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ”مثل“ کا ترجمہ ”شان“ یا ”صفت“ سے کیا جائے کہ اس کی شان بہت اعلیٰ اور بلند ہے یا اس کی صفت سب سے برتر ہے۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہارے لیے خود تمہارے اندر سے ایک مثال بیان کرتا ہے بھلا وہ (غلام اور لونڈیاں) جو تمہاری ملکیت ہیں کیا ان میں سے کچھ شریک بن جاتے ہیں اس مال و اسباب میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس طرح کہ (وہ اور) تم برابر ہوجاؤ اور کیا تم ان کے بارے میں ایسے خدشات رکھتے ہو جیسے خدشات خود اپنے بارے میں رکھتے ہو اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں

ہَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ ” ظاہر ہے کوئی آقا اپنے کسی غلام کو کبھی بھی اپنی ملکیت اور اپنی جائیداد میں اس طرح تصرف کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کا حق اور اختیار خود اس کے برابر ہوجائے۔ گویا یہ امر محال ہے۔ تَخَافُوْنَہُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ط ” یعنی کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے خدشات اور اندیشے تم اپنی ذات اور اپنے مال و اسباب کے بارے میں رکھتے ہو ان لونڈی غلاموں کے بارے میں بھی تمہیں ایسے ہی اندیشے لاحق ہوئے ہوں ؟ تم لوگ اپنے آپ ‘ اپنی اولاد ‘ اپنی ملکیت کے بارے میں تو ہر وقت متفکرّ رہتے ہو کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے ‘ ویسا نہ ہوجائے ‘ مگر کبھی تمہیں اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بارے میں بھی ایسی ہی سوچوں نے پریشان کیا ہے ؟ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ” یعنی تم لوگ اگر کچھ بھی عقل رکھتے ہو تو تمہیں اس مثال سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جب تم لوگ اپنے غلاموں کو اپنے برابر بٹھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تو پھر تم یہ کیسے سوچ لیتے ہو کہ اللہ اپنی مخلوق کو اپنے برابر کرلے گا ؟ تم لوگ خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ بڑا معبود اللہ ہی ہے اور تمہارے بنائے ہوئے شریک چھوٹے معبود ہیں تو تم چھوٹے معبودوں کے بارے میں کیسے گمان کرلیتے ہو کہ اللہ انہیں اپنے اختیارات کا مالک بنا دے گا اور ان کی سفارش اللہ کو مجبور کر دے گی ؟ تمہارے یہ من گھڑت معبود چاہے ملائکہ میں سے ہوں یا انبیاء اور اولیاء اللہ میں سے ‘ وہ سب کے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور مخلوق میں سے یہ لوگ خالق کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان ظالموں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے بغیر کسی علم کے تو اس شخص کو کون ہدایت دے گا جس کو اللہ نے بھٹکا دیاہو اور اب ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے

فَمَنْ یَّہْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط ” اگر کسی کی ہٹ دھرمی کی سزا کے طور پر اللہ ہی نے اس کی گمراہی پر مہر ثبت کردی ہو تو وہ ہدایت کیسے پاسکتا ہے ؟ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ” اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں دین کی بنیاد اور اصل روح بیان ہوئی ہے۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس تم قائم رکھو اپنے چہرے کو (اللہ کے) دین کے لیے یکسو ہو کر اللہ کی بنائی ہوئی فطرت پر (قائم رہو) جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہی ہے سیدھا دین لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

آیت 30 فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط ” تم اپنے کردار میں ایسی توحیدی شان پیدا کرو کہ تمہارا ایک ایک عمل گویا اس دعوے کی گواہی بن جائے : قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الانعام ”آپ ﷺ کہیے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“۔ اور دنیا کے تمام جھمیلوں کو چھوڑ کر اپنی توجہ ذات باری تعالیٰ کی طرف اس انداز سے مرکوز کردو کہ تمہاری زندگی کے شب و روز میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان الفاظ کا رنگ جھلکتا نظر آئے : اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ الانعام ”میں نے تو اپنا رخ کرلیا ہے یکسو ہو کر اس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“ فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا ط ” یہی فطرت سلیمہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کی ہے۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کی اس فطرت پر کچھ اور رنگ چڑھا دیتے ہیں یا اس کے ماحول کی وجہ سے اس کا رخ کسی اور طرف مڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ 1 ”ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے والدین اسے یہودی ‘ نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“ لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط ” یعنی اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ یوں بھی کیا ہے : ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو تبدیل نہ کیا جائے“۔ یا ”اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے اس کو بگاڑنا اور مسخ کرنا جائز نہیں ہے۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف اور اسی سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے مت ہونا

آیت 31 مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ” یہاں مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ کے الفاظ میں گویا پچھلی آیت کے مضمون فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط کا ہی تسلسل ہے۔ پچھلی آیت میں صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب تھا اور اب جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اس حکم میں امت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کا قبل ازیں کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مکی سورتوں میں اکثر مقامات پر حضور ﷺ سے صیغہ واحد کے پردے میں اصل خطاب امت سے ہی ہوتا ہے۔
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

(یعنی) ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ مختلف گروہ بن گئے ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے

آیت 32 مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط ” فَرَقَکے معنی جدا کرنا اور پھاڑ دینا کے ہیں ‘ جبکہ فَرَّقَ میں اس بنیادی معنی پر مستزاد کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ توڑ دینا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیناکا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا : وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ آیت 50 ”اور یاد کرو جب کہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں بچالیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا“۔ اس طرح فرق یا فرقہ کے معنی کسی چیز کا کٹا ہوا حصہ یا ٹکڑا کے ہیں۔ جیسا کہ سورة الشعراء کی اس آیت میں ہے : فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ”تو وہ سمندر پھٹ گیا ‘ پھر ہوگیا ہر ٹکڑا ایک بہت بڑے پہاڑ کی مانند۔“ اس اعتبار سے دین کو پھاڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کے نام لیواؤں نے اپنی اطاعت کو اس طرح منتشر کردیا کہ زندگی کے ایک حصے میں تو اللہ کی اطاعت کرتے رہے ‘ جبکہ کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی بات مانتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا نظام زندگی منتشر ہو کر رہ گیا۔ اس سلسلے میں اللہ کا حکم بہت واضح ہے : وَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط الاعراف : 29 ”اور اسی کو پکارو دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے“۔ یعنی اللہ کی اطاعت کے متوازی کسی دوسرے کی اطاعت قابل قبول نہیں کہ کچھ احکام اللہ کے مان لیے جائیں اور کچھ میں کسی دوسرے کی پیروی کی جائے۔ ہاں اللہ کی اطاعت کے تابع رہ کر کسی اور کی اطاعت میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً والدین کی اطاعت کرنا ‘ اساتذہ کا کہنا ماننا اور حکامّ کا فرمانبردار بن کر رہنا ضروری ہے ‘ مگر اس وقت تک جب تک کہ ان میں سے کوئی اللہ کی معصیت کا حکم نہ دے۔ اس سلسلے میں نبی مکرم ﷺ نے بہت واضح اصول بیان فرما دیا ہے : لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ 1 یعنی مخلوق کی ایسی اطاعت نہیں کی جائے گی جس سے خالق کی نافرمانی ہوتی ہو۔ کُلُّ حِزْبٍم بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ ” ایک گروہ دین کے ایک حصے پر عمل کر رہا ہے ‘ دوسرے گروہ نے اپنی پسند کے کچھ اور احکام کو اپنی پیروی کے لیے منتخب کرلیا ہے اور تیسرے نے کوئی اور راستہ نکال لیا ہے۔ غرض مختلف گروہوں نے دین کے مختلف حصوں کو آپس میں بانٹ لیا ہے اور ہر گروہ اپنے طریقے میں مگن ہے اور اس پر اترا رہا ہے ‘ حالانکہ ان میں سے کوئی گروہ بھی پورے دین پر عمل پیرا نہیں ہے۔
Ayahs 30:33–34

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب انسانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تا کہ ناشکری کریں اس کی جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے تو ٹھیک ہے (چند روزہ زندگی کا) فائدہ اٹھا لو پھر جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا

آیت 34 لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰہُمْ ط ” یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کر کے عملی طور پر اس کی ناشکری کا ثبوت دیں۔ فَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ” یہ وہی انداز ہے جو سورة التّکاثُر میں آیا ہے : کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ ہے ‘ اس محدود مہلت میں تم اپنی من مانیوں کے مزے اڑالو۔ بالآخر تم نے ہمارے پاس ہی آنا ہے اور وہ وقت دور بھی نہیں۔ چناچہ بہت جلد اصل حقائق تم پر منکشف ہوجائیں گے۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی سند اتاری ہے جو انہیں ان چیزوں کے متعلق بتارہی ہے جن کو یہ شریک ٹھہرا رہے ہیں

آیت 35 اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ ” اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے بارے میں کیا ان لوگوں کے پاس کسی آسمانی کتاب میں کوئی دلیل موجود ہے جو اس شرک کی صداقت پر شہادت دیتی ہو جو یہ کر رہے ہیں ؟ کیا ان پر ایسی کوئی ہدایت نازل ہوئی ہے کہ فلاں شخصیت بھی اللہ کے برابر ہوسکتی ہے اور فلاں ہستی بھی اس کے اختیارات میں حصہ دار بن سکتی ہے ؟ یہاں پر آسمانی سند یعنی الہامی کتاب کے بارے میں لفظ یَتَکَلَّم آیا ہے ‘ یعنی کیا اللہ کی نازل کردہ کتاب ان سے اس بارے میں گفتگو کرتی ہے ؟ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں قرآن کے لیے جو لفظ ”گویا“ گفتگو کرنے والا استعمال کیا ہے شاید اس کا تصور انہوں نے یہیں سے لیا ہو : مثل حق پنہاں وہم پیدا ست ایں زندہ و پائندہ و گویا ست ایں ! یعنی حق تعالیٰ کی مانند یہ کلام پوشیدہ بھی ہے ‘ ظاہر بھی ہے اور زندہ و پائندہ بھی۔ دوسری بہت سی صفات کے علاوہ اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والے کے ساتھ ہم کلام ہوتی ہے اور اس سے گفتگو کرتی ہے۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتے ہیں اور اگر ان پر کوئی مصیبت آجاتی ہے ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب تو جبھی وہ آس توڑ دیتے ہیں

وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ اِذَا ہُمْ یَقْنَطُوْنَ ” موافق حالات میں تو یہ لوگ اپنی کامیابیوں پر پھولے نہیں سماتے ‘ لیکن اگر ان کے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب کبھی ان پر برا وقت آجاتا ہے تو مایوسی سے گویا ان کی کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔
Ayahs 30:37–39

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا وہ دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور نپا تلا دیتا ہے (جسے چاہتا ہے) یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تو قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو یہی بہتر روش ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو کچھ تم دیتے ہو سود پر تاکہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو (اور اس سے) اللہ کی رضا چاہتے ہو تو یہی لوگ ہیں جو (اللہ کے ہاں اپنے مال کو) بڑھانے والے ہیں

آیت 39 وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج ” اس آیت کا حوالہ سورة البقرۃ کی آیت 275 کی تشریح کے ضمن میں بھی دیا گیا ہے۔ دراصل اپنے مستقبل کے لیے بچت کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ پھر ہر شخص نہ صرف اپنی بچت کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بچائی ہوئی رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے۔ قرآن اس بچت کو ”العَفْو“ یعنی قدر زائد surplus value قرار دے کر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں اللہ کے بینک میں جمع کرانے کی ترغیب دیتا ہے : وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ ط البقرۃ : 219 ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ وہ سب خرچ کر دو جو ضرورت سے زائد ہے !“ انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں ایسے مال سے محتاجوں اور ناداروں کی مدد بھی کی جاسکتی ہے اور اسے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے بھی کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کا کم تر درجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرض حسنہ کی شکل میں وقتی طور پر کسی ضرورت مند کی مدد کردی جائے۔ بہر حال اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کے راستے میں خرچ کیا ہوا مال اس کے ہاں محفوظ بھی رہے گا اور بڑھتا بھی رہے گا۔ یعنی آخرت میں اس کا اجر کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا۔ وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ” دنیا میں جو لوگ زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کی صورت میں اللہ کے راستے میں خرچ کر رہے ہیں انہیں آخرت میں اس کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کردیا جائے گا ‘ بلکہ اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے اسے اور بھی زیادہ بڑھا دے گا۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں اجر موعود کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔ اس آیت میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کا تقابل کر کے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کسی شخص کی بچت کا بہترین مصرف ہے۔ اس میں منافع اجر وثواب بہت زیادہ بھی ہے اور دائمی بھی۔ دوسری طرف سود پر رقم دینا کسی بچت کا بد ترین مصرف ہے ‘ جس میں ایک شخص بغیر کوئی محنت کیے اور بغیر کوئی خطرہ مول لیے ایک طے شدہ رقم باقاعدگی سے حاصل کرتا رہتا ہے جبکہ اس کی اصل رقم بھی محفوظ رہتی ہے۔ اس کے بارے میں یہاں فرمایا گیا کہ سود کی شکل میں سرمائے میں بظاہر جو اضافہ ہوتا نظر آتا ہے اللہ کی نظر میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ صدقات اور سود کے تقابل کے حوالے سے دراصل یہاں دو متضاد ذہنیتوں کا تقابل بھی سامنے آتا ہے۔ ایک اس شخص کی ذہنیت ہے جو اپنے مال سے اللہ کی رضا کا متمنیّ ہے جبکہ دوسرا شخص اللہ کے احکام کی پروا کیے بغیر ہر قیمت پر اپنے سرمائے میں اضافہ چاہتا ہے۔ یہاں ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس سرمایہ ہے مگر وہ خود محنت یا تجارت وغیرہ نہیں کرسکتا اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے سرمائے میں اضافہ ہوتا رہے اس کے لیے شریعت اسلامی میں مضاربت کا طریقہ ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنی رقم کسی دوسرے شخص کو کاروبار وغیرہ کے لیے دے اور اس سے منافع وغیرہ کی شرائط طے کرلے۔ اب اگر اس کاروبار میں منافع ہوگا تو سرمایہ فراہم کرنے والا شخص اس میں سے شرائط کے مطابق اپنے حصے کا حق دار ہوگا لیکن نقصان کی صورت میں تمام نقصان اسے خود ہی برداشت کرنا ہوگا۔ عامل محنت کرنے والا اس نقصان میں حصہ دار نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کے لیے فقہ کی کتب سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا کیا تمہارے شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی بھی کام کرتا ہو وہ پاک ہے اور بہت بلندو برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

ہَلْ مِنْ شُرَکَآءِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْءٍ ط ” اے گروہ مشرکین ! کیا تمہارے لات ‘ منات اور عزیٰ میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی ایک کام بھی سر انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو ؟ دراصل مشرکین مکہ خود ہی یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہے اور زندگی و موت کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ لات و منات وغیرہ کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا : ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش سے آخرت میں وہ چھوٹ جائیں گے۔