30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الروم اس سورت کا ایک خاص تاریخی پس منظر ہے جو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کی سچائی اور حقانیت کا ناقابل انکار ثبوت فراہم کرتا ہے، جس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت عطا ہوئی اس وقت دنیا میں دو بڑی طاقتیں تھیں، ایک ایران کی حکومت جو مشرق کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی، اور اس کے ہر بادشاہ کو کسری کہا جاتا تھا، یہ لوگ آتش پرست تھے، یعنی آگ کو پوجتے تھے، دوسری بڑی طاقت روم کی تھی، جو مکہ مکرمہ کے شمال اور مغرب میں پھیلی ہوئی تھی، شام، مصر، ایشیائے کو چک اور یورپ کے علاقے اسی سلطنت کے ماتحت تھے، اور اس کے ہر بادشاہ کو قیصر کہا جاتا تھا، اور ان کی اکثریت عیسائی مذہب پر تھی، جس زمانے میں یہ سورت نازل ہوئی ہے اس وقت ان دونوں طاقتوں کے درمیان شدید جنگ ہورہی تھی، اور اس جنگ میں ایران کا پلہ ہر لحاظ سے بھاری تھا، اور اس کی فوجوں نے ہر محاذ پر روم کی فوجوں کو شکست دے کر ان کے بڑے بڑے شہر فتح کرلئے تھے، یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں عیسائیوں کا مقدس ترین کلیسا تباہ کرکے رومیوں کو مسلسل پیچھے دھکیلتی جارہی تھی، اور روم کے بادشاہ ہرقل کو جائے پناہ تلاش کرنا مشکل ہورہا تھا، ایران کی حکومت چونکہ آتش پرست تھی اس لئے مکہ مکرمہ کے بت پرستوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں، اور جب کبھی اریان کی کسی فتح کی خبر آتی تو مکہ مکرمہ کے بت پرست اس پر نہ صرف خوشی مناتے بلکہ مسلمانوں کو چڑاتے کہ عیسائی لوگ جو آسمانی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں مسلسل شکست کھاتے جارہے ہیں، اور ایران کے لوگ جو ہماری طرح پیغمبر یا آسمانی کتاب کو نہیں مانتے، انہیں برابر فتح نصیب ہورہی ہے، اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی، اور اس کے بالکل شروع میں یہ پیشینگوئی کی گئی کہ روم کے لوگ اگرچہ اس وقت شکست کھاگئے ہیں، لیکن چند سالوں میں وہ فتح حاصل کرکے ایرانیوں پر غالب آجائیں گے، اور اس دن مسلمان اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، اس طرح اس سورت کے شروع میں بیک و قت دو پیشنگوئیاں کی گئیں، ایک یہ کہ روم کے جو لوگ شکست کھاگئے ہیں وہ چند سالوں میں ایرانیوں پر غالب آجائیں گے، اور دوسرے یہ کہ مسلمان جو اس وقت مکہ مکرمہ کے مشرکین کے ہاتھوں ظلم وستم کا شکار ہیں اس دن وہ بھی مشرکین پر فتح منائیں گے، یہ دونوں پیشینگوئیاں اس وقت کے ماحول میں اتنی بعید از قیاس تھیں کہ کوئی شخص جو اس وقت کے حالات سے واقف ہو ایسی پیشینگوئی نہیں کرسکتا تھا، مسلمان اس وقت جس طرح کافروں کے ظلم وستم میں دبے اور پسے ہوئے تھے، اس کے پیش نظر بظاہر کوئی امکان نہیں تھا کہ وہ اپنی فتح کی خوشی منائیں، دوسری طرف سلطنت روما کا حال بھی یہ تھا کہ اس کے ایرانیوں کے مقابلے میں ابھرنے کا دور دور کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا تھا، چنانچہ سلطنت روما کا مشہور مؤرخ ایڈروڈ گبن اس پیشینگوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : جس وقت مبینہ طور پر یہ پیشینگوئی کی گئی اس وقت کسی بھی پیشینگوئی کا پورا ہونا اس سے زیادہ بعید نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے کہ قیصر ہرقل کی حکومت کے پہلے بارہ سالوں میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی تھی کہ رومی سلطنت کا خاتمہ بالکل قریب آچکا ہے : Gibbon: The Decline and Fall of the Roman Epaire, chapter 46, Volume 2, P.125, Great Books, V.38, University of Chicago, 1990 چنانچہ مکہ مکرمہ کے مشرکین نے اس پیشینگوئی کا بہت مذاق اڑایا، یہاں تک کہ ان کے ایک مشہور سردار ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے یہ شرط لگالی کہ اگر آئندہ نوسال کے درمیان روم کے لوگ ایرانیوں پر غالب آگئے تو وہ حضرت ابوبکر کو سو اونٹ دے گا، اور اگر اس عرصے میں وہ غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق اس کو سو اونٹ دیں گے (اس وقت تک اس قسم کی دو طرفہ شرط لگانا حرام نہیں کیا گیا تھا) ، چنانچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی ایرانیوں کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک وہ قیصر کے پایہ تخت قسطنطنیہ کی دیواروں تک پہنچ گئے اور انہوں نے قیصر ہرقل کی طرف سے صلح کی ہر پیشکش کو ٹھکرا کر یہ جواب دیا کہ انہیں ہرقل کے سر کے سوا کوئی اور پیشکش منظور نہیں ہے، جس کے نتیجے میں ہرقل تیونس کی طرف بھاگنے کا منصوبہ بنانے لگا لیکن اسکے فوراً بعد حالات نے عجیب و غریب پلٹا کھایا، ہرقل نے مجبور ہو کر ایرانیوں پر عقب سے حملہ کیا جس میں اسے ایسی کامیابی حاصل ہوئی جس نے جنگ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا، اس پیشینگوئی کو ابھی سات سال گزرے تھے کہ رومیوں کی فتح کی خبر عرب تک پہنچ گئی، جس وقت یہ خبر پہنچی یہ ٹھیک وہ وقت تھا جب بدر کے میدان میں سردار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش مکہ کے لشکر کو عبرتناک شکست دی تھی، اور مسلمانوں کو اس فتح پر غیر معمولی خوشی حاصل ہوئی تھی، اس طرح قرآن کریم کی دونوں پیشینگوئیاں کھلی آنکھوں اس طرح پوری ہوئیں جس کا بظاہر حالات کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا، اور اس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کی سچائی روز روشن کی طرح واضح ہوگئی، اس وقت ابی بن خلف جس نے حضرت ابوبکر (رض) سے شرط لگائی تھی مرچکا تھا، لیکن اس کے بیٹوں نے شرط کے مطابق سو اونٹ حضرت ابوبکر (رض) کو ادا کئے، اور چونکہ اس وقت جوے کی حرمت آچکی تھی اور دو طرفہ شرط جوے ہی کی ایک شکل ہے، اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صدیق اکبر (رض) کو حکم دیا کے وہ یہ اونٹ خود استعمال کرنے کے بجائے صدقہ کردیں۔ اس پیشینگوئی کے علاوہ اس سورت میں اسلام کے بنیادی عقائد تو حید، رسالت اور آخرت کو مختلف دلائل سے ثابت کیا گیا ہے اور مخالفین کی تردید کی گئی ہے۔

Ayah 30:1
Ayah 30:2

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی لوگ مغلوب ہوگئے ہیں

Ayah 30:3

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ (1)

1: اس پیشینگوئی کی تفصیل اوپر سورت کے تعارف میں آچکی ہے، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ”چند سالوں“ کے لیے قرآن کریم نے ”بضع“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا ترجمہ اردو میں ”چند“ کیا جاتا ہے، لیکن عربی زبان میں ”بضع“ کا لفظ تین سے لے کر نو تک کیلئے بولا جاتا ہے۔ چنانچہ شروع میں ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر ؓ سے جو شرط لگائی تھی، وہ یہ تھی کہ اگر تین سال کے اندر اندر رومی فتح پا گئے تو وہ حضرت ابوبکر ؓ کو دس اونٹ دے گا، ورنہ حضرت ابوبکر ؓ اس کو دس اونٹ دیں گے۔ جب حضرت ابوبکر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس شرط کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں ”بضع“ کا لفظ آیا ہے، اور اس میں تین سے لے کر نو سال تک کا احتمال ہے، اس لیے تم ابی بن خلف سے دس کے بجائے سو اونٹوں کی شرط لگا لو، البتہ مدت کو تین سال سے بڑھا کر نو سال کردو۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے ایسا ہی کیا۔ چونکہ رومیوں کے فتح پانے کا دور دور بھی کوئی احتمال نظر نہیں آتا تھا، اس لیے ابی بن خلف بھی اس پر راضی ہوگیا، اور اب شرط یہ قرار پائی کہ اگر نو سال کے اندر اندر رومی غالب آگئے تو ابی بن خلف سو اونٹ حضرت ابوبکر ؓ کو دے گا، ورنہ حضرت ابوبکر ؓ اس کو سو اونٹ دیں گے۔ اور یہ بات اوپر عرض کی جا چکی ہے کہ اس وقت ایسی شرط لگانا حرام نہیں ہوا تھا، لیکن جب یہ پیشینگوئی پوری ہوگئی اور ابی بن خلف کے بیٹے نے سو اونٹ حضرت ابوبکر ؓ کو ادا کیے تو اس وقت ایسی شرط لگانا جائز نہیں رہا تھا اس لیے آنحضرت ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ان اونٹوں کو صدقہ کردیں۔
Ayahs 30:4–7

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند ہی سالوں میں ! سارا اختیار اللہ ہی کا ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے اللہ کی دی ہوئی فتح سے خوش ہوں گے، (2)

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے، فتح دیتا ہے اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ اللہ کا کیا ہوا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

وہ دنیوی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں، اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں۔

2: جیسا کہ اوپر تعارف میں عرض کیا گیا، اس سے مراد غزوہ بدر کی فتح ہے۔
Ayahs 30:8–10

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

بھلا کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو بغیر کسی برحق مقصد کے اور کوئی میعاد مقرر کیے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ (3) اور بہت سے لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار سے جا ملنے کے منکر ہیں۔

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں، تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور انہوں نے زمین کو بھی جوتا تھا، اور جتنا ان لوگوں نے اسے آباد کیا ہے، اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا، اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، چنانچہ اللہ تو ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برائی کی تھی ان کا انجام بھی برا ہی ہوا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا، اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

3: یعنی اگر آخرت کو نہ مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات یونہی بغیر کسی مقصد کے پیدا کردی ہے جس میں نہ کسی ظالم اور بدکار سے کوئی حساب کبھی لیا جائے گا اور نہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی انعام کبھی مل سکے گا، نیز یہ کائنات غیر محدود مدت تک اسی طرح بےمقصد چلتی رہے گی۔
Ayahs 30:11–12

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، اور وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ (4) پھر تم سب اس کے پاس واپس بلا لیے جاؤ گے۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز مجرم لوگ ناامید ہوجائیں گے۔

4: جو لوگ اس بات کو ناممکن سمجھتے تھے کہ انسان کے مرنے اور گلنے سڑنے کے بعد اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا، یہ ان کا جواب ہے، یعنی ہر چیز کا قاعدہ یہ ہے کہ اسے پہلی بار بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے، لیکن جب کوئی چیز ایک مرتبہ بنالی جائے تو دوبارہ اسی جیسی چیز بنانا اتنا مشکل نہیں ہوتا، یہ آیت بتارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام چیزوں کو پہلی بار پیدا فرمایا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کے لئے انہیں دوبارہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے ؟
Ayahs 30:13–18

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور انہوں نے جن کو اللہ کا شریک مان رکھا تھا، ان میں سے کوئی ان کا سفارشی نہیں ہوگا، اور خود یہ لوگ اپنے مانے ہوئے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔ (5)

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی، اس روز لوگ مختلف قسموں میں بٹ جائیں گے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، ان کو تو جنت میں ایسی خوشیاں دی جائیں گی جو ان کے چہروں سے پھوٹی پڑ رہی ہوں گی۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، تو ایسے لوگوں کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

لہذا اللہ کی تسبیح کرو اس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے۔

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو) اور اس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔

5: یعنی ایک مرحلے پر یہ مشرک لوگ صاف جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں کبھی شرک ہی نہیں کیا تھا، چنانچہ سورة انعام میں قرآن کریم نے ان کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ واللہ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ (ہم اللہ اپنے پروردگار کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔) دیکھئے سورة انعام (6۔ 23)۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ جاندار کو بےجان سے نکال لاتا ہے، اور بےجان کو جاندار سے نکال لیتا ہے۔ (6) اور وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اور اسی طرح تم کو (قبروں سے) نکال لیا جائے گا۔

6: جاندار کو بےجان سے نکالنے کی مثال جیسے انڈے سے مرغی اور بےجان کو جاندار سے نکالنے کی مثال جیسے مرغی سے انڈا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ مثال دی ہے کہ زمین قحط کی وجہ سے مردہ ہوچکی ہوتی ہے، اور اس میں کچھ اگانے کی صلاحیت نہیں رہتی، لیکن اللہ تعالیٰ بارش برساکر اسے دوبارہ زندگی بخشتے ہیں، اسی طرح انسانوں کو بھی مرنے کے بعد وہ دوبارہ زندہ کردیں گے۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تم دیکھتے ہی دیکھتے انسان بن کر (زمین میں) پھیلے پڑے ہو۔ (7)

7: یہاں سے آیت نمبر : 37 تک اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں پھیلی ہوئی اپنی قدرت کی بہت سی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اگر کوئی شخص حقیقت پسندی اور انصاف سے ان پر غور کرے تو اسے نظر آئے گا کہ ان میں سے ہر چیز گواہی دے رہی ہے کہ جس ذات نے کائنات کا یہ محیر العقول نظام بنایا ہے، وہ اپنی خدائی میں کسی شریک کا محتاج نہیں ہوسکتی، اور نہ یہ بات معقول ہے کہ اتنے عظیم الشان کارناموں کے بعد چھوٹے چھوٹے خداؤں کی ضرورت محسوس کرے۔
Ayahs 30:21–22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے، (8) یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے۔ یقینا اس میں دانش مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

8: عام طور پر نکاح سے پہلے میاں بیوی الگ الگ ماحول میں پرورش پاتے ہیں، لیکن نکاح کے بعد ان میں ایسا گہرا رشتہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پچھلے طرز زندگی کو خیر باد کہہ کر ایک دوسرے کے ہو رہتے ہیں، ان کے درمیان یک بیک وہ محبت پیدا ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے، جوانی میں ان کے درمیان محبت کا جوش ہوتا ہے اور بڑھاپے میں اس پر رحمت اور ہمدردی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ تمہارا رات اور دن کے وقت سونا اور اللہ کا فضل تلاش کرنا ہے۔ (9) یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو بات سنتے ہوں۔

9: رات کے وقت سونے اور دن کے وقت اللہ کا فضل یعنی روزگار تلاش کرنے کا یہ نظام اللہ تعالیٰ ہی نے بنایا ہے، اس کے لئے انسانوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، اگر یہ کام لوگوں کی صوابدید پر چھوڑدیا جاتا تو کچھ لوگ ایک وقت سونا چاہتے اور دوسرے لوگ اسی وقت کام میں مشغول ہو کر ان کی نیند خراب کرتے۔
Ayahs 30:24–27

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی لگتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے۔ (10) اور آسمان سے پانی برساتا ہے، جس کے ذریعے وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ ایک پکار دے کر تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم فورا نکل پڑو گے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ کام اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اور اسی کی سب سے اونچی شان ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جو اقتدار والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔

10: ڈر اس بات کا کہ بجلی گر کر کوئی نقصان نہ پہنچا دے، اور امید اس بات کی کہ اس کے نتیجے میں رحمت کی بارش برسے۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیا ہے، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو (اور) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ (11) ہم اسی طرح دلائل ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیں۔

11: کوئی بھی شخص یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کا غلام اس کی املاک میں اس کے برابر ہوجائے اور کوئی کام کرتے وقت اس سے اسی طرح ڈرنا پڑے جیسے دو آزاد آدمی جو کاروبار میں ایک دوسرے کے شریک ہوں، ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں، اگر یہ بات مشرک لوگ اپنے لیے گوارا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں دوسروں کو کیسے شریک ٹھہرا دیتے ہیں۔
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو۔ (12) اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

12: یعنی اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں اسے ہدایت کی توفیق نہ دی ہو۔
Ayahs 30:30–31

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ (13) اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ (14) یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو) کہ تم نے اسی (اللہ) سے لو لگا رکھی ہو اور اس سے ڈرتے رہو، اور نماز قائم کرو اور ان لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

13: اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں یہ صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کو پہچانے، اس کی توحید کا قائل ہو، اور اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین کی پیروی کرے، اسی کو آیت میں فطرت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 14: یہ فطری صلاحیت جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عطا فرمائی ہے، اس صلاحیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ماحول کے اثر سے انسان غلط راستے پر جاسکتا ہے، لیکن اس کی یہ صلاحیت ختم نہیں ہوسکتی، چنانچہ جب کبھی وہ ضد اور عناد کو چھوڑ کر حق پرستی کے جذبے سے غور کرے گا تو اس کی یہ صلاحیت کام دکھائے گی، اور حق تک پہنچ جائے گا، البتہ یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص مسلسل ضد اور عناد کی روش اختیار کئے رکھے، اور حق بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ خود اس کے دل پر مہر لگادے، جیسا کہ کئی آیتوں میں بعض کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے، سورة بقرہ (2۔ 7) اور پیچھے آیت نمبر : 29 میں یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 30:32–36

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

وہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ اپنے اپنے طریقے پر مگن ہے۔ (15)

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے لو لگا کر اسی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں کسی رحمت کا ذائقہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ یکایک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ ہم نے انہیں جو کچھ دیا تھا اس کی ناشکری کریں۔ اچھا ! کچھ مزے اڑا لو، پھر وہ وقت دور نہیں جب تمہیں سب پتہ چل جائے گا۔

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

بھلا کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو اس شرک کا ارتکاب کرنے کو کہتی ہو جو یہ اللہ کے ساتھ کرتے رہے ہیں ؟

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتے ہیں، اور اگر انہیں خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچ جائے تو ذرا سی دیر میں وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔

15: انسان جب پہلے پہل دنیا میں آیا تو اس نے فطری صلاحیت سے کام لے کر دین حق کو اختیار کیا، لیکن پھر لوگوں نے الگ الگ طریقے اختیار کرکے اپنے آپ کو مختلف مذاہب میں بانٹ لیا، اسی کو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فرقوں میں بٹ جانے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہے) تنگ کردیتا ہے۔ (16) اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لائیں۔

16: یعنی تنگی کے مواقع پر مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کے بجائے اول تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وسعت اور تنگی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مصلحت کے تحت فرماتا ہے جو ضروری نہیں کہ ہر ایک کی خواہشات کے مطابق ہو، یا اس کی سمجھ میں بھی آجائے، دوسرے چونکہ وسعت اور تنگی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں، اس لیے تنگی کے مواقع پر اسی کی طرف رجوع کر کے اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

لہذا تم رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی (17) جو لوگ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ بہتر ہے، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

17: پچھلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لئے جو کچھ اس نے عطا فرمایا ہے وہ اسی کے حکم اور ہدایت کے مطابق خرچ ہونا چاہیے، لہذا اس میں غریبوں مسکینوں اور رشتہ داروں کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ ان کو دینا ضروری ہے، اور دیتے وقت یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے مال میں کمی آجائے گی، کیونکہ جیسا کہ پچھلی آیت میں فرمایا گیا رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے وہ تمہیں حقوق کی ادائیگی کے بعد محروم نہیں فرمائے گا، چنانچہ آج تک نہیں دیکھا گیا کہ حقوق ادا کرنے کے نتیجے میں کوئی مفلس ہوگیا ہو۔
Ayahs 30:39–40

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ (18) اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔ (19)

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر اس نے تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا ہوا ہے، کیا ان میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کرتا ہو ؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر اس شرک سے جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے ہیں۔

18: واضح رہے کہ سورة روم کی یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی، اور یہ پہلی آیت ہے جس میں سود کی مذمت کی گئی ہے، اس وقت تک سود کو واضح لفظوں میں حرام نہیں کیا گیا تھا، لیکن اشارہ فرما دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود کی آمدنی بڑھتی نہیں، یعنی سود لینے والا لیتا تو اسی ارادے سے ہے کہ اس سے اس کی دولت بڑھے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑھتی نہیں، کیونکہ اول تو دنیا میں بھی حرام مال اگرچہ گنتی میں بڑھ جائے، لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی، مال و دولت کا اصل فائدہ تو یہ ہے کہ انسان کو اس سے آرام و راحت نصیب ہو، لیکن حرام آمدنی کی گنتی بڑھانے والے بکثرت دنیا میں بھی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ اور انہیں راحت نصیب نہیں ہوتی۔ دوسرے دولت کی یہ بڑھوتری آخرت میں کچھ کام نہیں آتی، اس کے برخلاف صدقات آخرت میں کام آتے ہیں۔ اسی حقیقت کو سورة بقرہ میں 276 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں رباء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مشہور معنی سود کے ہیں ؛ لیکن اس کے ایک معنی اور ہیں اور وہ یہ کہ کوئی شخص اس نیت سے کسی کو کوئی تحفہ دے کہ وہ اس کو اس سے زیادہ قیمتی تحفہ دے گا، مثلاً شادی بیاہ کے موقع پر نیوتہ کی جو رسم ہوتی ہے اس کا یہی مقصد ہوتا ہے ؛ چنانچہ بہت سے مفسرین نے یہاں رباء کے یہی معنی مراد لئے ہیں، اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں نیوتہ کی رسم کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اس قسم کا تحفہ جس کا مقصد قیمتی تحفہ حاصل کرنا ہو اس کو سورة مدثر (آیت نمبر : 6) میں بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ 19: سورة آل عمران : 261 میں فرمایا گیا ہے کہ صدقے کا ثواب سات سو گنا ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتے ہیں، مزید اضافہ فرما دیتے ہیں۔