Ayah 30:1الف ۔۔۔۔۔۔ لا ۔۔۔۔۔۔۔ م می ۔۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہے :
1۔ الف لام می م حروف مقطعات میں سے ہے ۔ حروف مقطعات کے متعلق سورة البقرہ کی پہلی آیت میں تفصیل سے کردیا گیا ہے ، حروف مقطعات قرآن کریم کی 29 سورتوں کے شروع میں آتے ہیں جن میں سے اس سورت کا نمبر سولہواں ہے ۔
Ayah 30:2بلاریب رومی مغلوب ہوگئے ہیں جو مسیح مذہب کے حامل ہیں :
2۔ ہمارے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی پیدائش موسم میں دو شنبہ کے روز 9 ربیع الاول عام الفیل کے پہلے سال بمطابق 22 اپریل 571 ء مطابق یکم جیٹھ 28 بکرمی بعد از صبح صادق مکہ مکرمہ میں ہوئی اور جب نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک چالیس سال قمری پر ایک دن اوپر ہوا تو 9 ۔ ربیع الاول 41 میلادی مطابق 12 ۔ فروری 610 ء کو بروز دو شنبہ روح الامین حکم نبوت لے کر نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس غار حرا میں آیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ایرانیوں اور روما کے عسائیوں کے درمیان جنگ جاری تھی جو برسوں تک جاری رہی ۔ ایرانی فوجیں انطاکیہ پر قبضہ کرکے 613 عیسوی دمشق میں داخل ہوگئیں اور 614 عیسوی میں بیت اللہ المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ ہیلینیا اور قسطنطین کے شاہی قلعے مسمار کردیئے اور اس طرح رومی ایرانیوں سے مکمل طور پر شکست کھا گئے ۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کا چوتھا سال تھا اور مکہ میں توحید وشرک کی آویزش سنگین صورت حال اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ مکہ اور مضافات مکہ کے مشرکین اسلام کی اس شمع کو بجھانے کے لئے کوشاں تھے اور مسلمان اپنی قوت ایمانی کے بل بوتے پر ان کے پیہم مظالم کو برداشت کر رہے تھے اور نور اسلام کو پھیلانے کے لئے ہر طرح سے کوشاں تھے ۔ جب شام اور فلسطین میں ایرانی مجوسیوں کی کامیابی اور رومی عیسائیوں کی شکست کی خبریں پہنچیں تو کفار مکہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی وہ کہنے لگے جس طرح ہمارے آتش پرست اور مشرک بھائی تمہارے ہم مسلک اہل کتاب کی مرمت کر رہے ہیں اور قدم قدم پر انہیں شکست دے رہے ہیں ہم بھی تم کو اسی طرح نیست ونابود کرکے رکھ دیں گے ، بلاشبہ عیسائیوں اور مسلمانوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا لیکن مشرکین مکہ نے تعلق بنایا اور پھر اس پر استدلال کرکے مسلمانوں پر ظلم کرنے کی مہم کو تیز کردیا ۔ ادھر اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس پر اس آیت کا نزول کیا اور رومیوں کی شکست کو برملا تسلیم کیا جو بلاشبہ ایک حقیقت تھی اور اس شکست کی خبر کی تصدیق کرنے کے بعد ببانگ دہل اعلان کیا جس کا ذکر آنے والی آیت میں کیا گیا ۔ اس وقت آپ کی بعثت کا چھٹا یا ساتواں سال تھا ۔
Ayah 30:3اچھی طرح سن لو کہ عیسائی مغلوب ہونے کے بعد غالب آجائیں گے :
3۔ بلاشبہ حالات کفار مکہ کی تائید کر رہے تھے رومیوں کی قوت دن بدن ٹوٹتی جا رہی تھی ‘ ایرانی افواج آگے بڑھتی چلی جا رہی تھیں اور رومی سلطنت کے مفتوحہ صوبوں کے خزانے لا لا کر کسری کے قدموں میں پہنچاتے جا رہے تھے اس کی فوجیں جدھر کا رخ کرتیں فتح و کامیابی ان کے قدم چوم رہی تھی ۔ شام ‘ فلسطین ‘ اردن ‘ لبنان پر خسرو کا پرچم لہرا رہا تھا ۔ افریقہ میں مصر سے لیبیا تک کا علاقہ فتح کرلیا گیا اور ادھر مکہ مکرمہ میں اس نئی تحریک کے بانی محمد رسول اللہ ﷺ یہ اعلان کر رہے تھے کہ عیسائی مغلوب ہونے کے بعد جلد ہی غالب آجائیں گے ۔ ایسے حالات میں اس طرح کا اعلان بلاشبہ اس وقت لوگوں کو حیرت میں ڈال رہا تھا اور مختلف طرح کے سوالات آپ ﷺ سے کر رہے تھے ۔ مشرکین کی طرف آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا ناطقہ بند کیا جا رہا تھا کہ بتاؤ کتنی مدت میں یہ کام ہوگا جو تم اپنی نادانی اور ناسمجھی کی بنا پر کہہ رہے ہو ۔
Ayah 30:4چند ہی سالوں میں رومی غالب آجائیں گے اور اس وقت مسلمانوں کو بھی خوشی ہوگی :
4۔ البضع من العدد ھو ما بین الواحد والعشرۃ البضع وہ عدد ہے جو ایک تا دس سال کی مدت پر بولا جاتا ہے گویا رومی اپنی شکست کے بعد دس سال کے اندر اندر غالب آجائیں گے اور بلاشبہ یہ مدت اس وقت کے لحاظ سے ان لڑائیوں کے پیش نظر جو اس وقت لڑی جاتی تھیں کوئی زیادہ نہیں تھی۔ گویا یہ اعلان اگر نبوت کے چھٹے سال ہوا تو نبوت کے پندرہویں ‘ سولہویں سال تک زیادہ سے زیادہ ۔ اس طرح کا اعلان اس وقت نہیں تو حالات کے بدل جانے کے بعد سے لوگوں کو یقینا تعجب میں ڈالے ہوئے ہے اور مخالفین انگشت بدنداں ہیں کہ اس کی حقیقت سے بہرحال انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ پھر ساتھ ہی اعلان کردیا کہ جب ایرانی غالب آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے مقابلہ میں نعوذ باللہ کہا کہ اللہ شکست کھا گیا اور اگر رومی غالب آجائیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اللہ میاں جو شکست کھاچکا تھا دوبارہ برسراقتدار آگیا ہو یہ تو دنیا کے حالات ہیں جو بلاشبہ بدلتے آئے ہیں اور بدلتے رہیں گے اور ہر حال میں اصلی حکومت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اس وقت بھی جب خسرو پرویز فتح یاب تھا اور اس وقت بھی جب وہ شکست کھا کر ہلاک ہوگیا ۔ ہاں ! حالات زمانہ جو ایسی تحریکوں سے بدلتے ہیں ان کے تحت اگر آج مشرکین بغلیں بجا رہے ہیں تو اس وقت جب رومی فتح حاصل کریں گے یقینا مسلمانوں کو بھی خوشی ہوگی اگرچہ مسلمان خوش ہو کر کبھی بغلیں نہیں بجاتے بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور یقینا وہ اس وقت بھی اسلام کی پیش گوئی پوری ہونے کے باعث اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں گے ۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ رومی اس مدت کے اندر ہی اندر کس طرح ایرانیوں پر فتح حاصل کر گئے اور ایرانیوں کی انہوں نے کیا گت بنائی اور ان کے آتش کدوں کو کس طرح برباد کیا بلاشبہ یہ سب کچھ آج بھی تاریخ کے صفحات پر وضاحت سے محفوظ ہے ۔
Ayah 30:5بلاشبہ مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے :
5۔ نصرت ومدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہ اپنے قانون کے مطابق جو اس نے کسی کی مدد کے لئے مقرر کیا ہے مدد کرتا ہے اس حقیقت کو ہر انسان نہیں پاسکتا کہ اس کی مدد کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مدد ضروری نہیں کہ نیک لوگوں ہی کی کی جائے کیونکہ اس کے قانون کا تعلق کسی ظاہری نیکی اور بدی سے نہیں اور یہ وہ راز ہے جس کو بہت کم لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں بہرحال رب العزت ہی وہ ذات ہے کہ ہمیشہ غالب آنے والا اور اپنی مخلوق سے پیار کرنے والا ہے اور ہر انسان خواہ وہ نیک ہے یا بد بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے کوئی اس کو تسلیم کرے تو بھی اور اگر تسلیم نہ کرے تو بھی ہاں ! بلاشبہ ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ وہ نہ تسلیم کرنے والوں سے بھی تسلیم کروا لیتا ہے اگرچہ ان کو اس وقت تسلیم کرنے سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہ ہو ۔
Ayah 30:6اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور بلاشبہ اللہ کبھی اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا :
6۔ قرآن کریم نے پوری دنیا کے سامنے اس بات کا بار بار اعلان کیا ہے کہ اللہ نے جب بھی اور جس سے بھی اور جیسا بھی وعدہ کسی سے کیا ہے اس نے کبھی اس کا خلاف نہیں کیا اور نہ ہی کبھی خلاف ہونے دیا ہے اور یہ بات قرآن کریم میں اتنی بار دہرائی گئی ہے کہ شاید ہی کوئی سورة اس سے خالی ہو جس میں یہ بات نہ دہرائی گئی ہو زیر نظر آیت میں بھی پرزور الفاظ میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ‘ اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ “ (ولکن اکثر الناس لا یعلمون) لیکن اس آیت نے ہم کو یہ بھی بتا دیا کہ جن لوگوں کو ہم قلیل ہی سمجھتے ہیں کہ وہ علماء کرام ہیں اس لئے وہ عوام میں شامل نہیں وہ خواص میں نہیں بلکہ ان سب کا نمبر ابھی عوام میں بھی بہت نچلے درجے کا ہے کہ وہ آج تک اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ اللہ بھی کبھی وعدہ کا پابند ہوتا ہے یا ایسا کہا جاسکتا ہے گویا یہ ایسے سطحی ذہن کے لوگ ہیں کہ یہ معمولی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ وعدہ کا پابند وہ ہوتا ہے جو زور آور ہو یا وہ جو کمزور ہو ۔ انہوں نے بادشاہوں اور اپنے اپنے ملک کے وڈیروں کو دیکھا وہ کبھی اپنے کئے ہوئے وعدوں کے پابند نہیں ہوتے چونکہ وہ ان سب لوگوں کو زور آور سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے خیال کیا کہ شاید وعدہ کی پابندی کرنا کمزوری ہے اس لئے یہ سارے زور آور جن سے ان کو واسطہ پڑتا ہے وعدوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور پھر ان کو کوئی پوچھتا بھی نہیں اور نہ ہی پوچھ سکتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یعنی اللہ تعالیٰ تو سارے زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے پھر وہ وعدہ کا پابند ہو تو کیوں اور اس کو کوئی وعدہ کا پابند کہے تو کیوں ؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جن بادشاہوں اور قوم کے وڈیروں سے ان کو واسطہ پڑا بلاشبہ وہ سارے کمزور ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ وہ وعدوں کے پابند نہیں ہوتے ان کمزوروں کو ہمارے علمائے کرام نے اپنی کمزوریوں کے باعث زور آور سمجھا اور اس سے دھوکا کھا گئے اور ضد تو ان کی پہلے ہی معروف بات ہے لہذا اپنی ضد کے باعث انہوں نے ایسا کہا اور پھر کہتے ہی چلتے گئے ، قرآن کریم کی آیات پر انہوں نے غور ہی نہ کیا اور جو نظریہ ان کو اپنے استادوں اور بزرگوں سے ملا اس کو رٹ لیا اور اب وہ رٹی ہوئی بات بار بار کر رہے ہیں حالانکہ قرآن کریم نے اس بات کو اتنی بار دہرایا ہے کہ وہ ذرا آنکھیں کھولنے کے عادی ہوتے تو کبھی ایسی بات نہ کہتے ۔ قرآن کریم میں (وعد) کا لفظ 24 بار استعمال ہوا ہے اور جہاں اس وعدہ سے مراد اللہ کا وعدہ ہے وہ تقریبا بیس جگہ ہیں جہاں (آیت) ” وعداللہ حقا ومن اصدق من اللہ قیلا “۔ اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ استعمال ہوئے جن کا مطلب واضھ الفاظ میں یہی ہے کہ ” اس بات کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اور وعدہ میں اللہ سے زیادہ سچا اور کون ہو سکتا ہے ؟ تفصیل اس کی دیکھنا ہو تو درج ذیل مقامات کی تفسیر دیکھیں ۔ عروۃ الوثقی جلد دوم سورة النساء کی آیت 122 ‘ جلد چہارم سورة یونس کی آیت 4 ‘ 55 ‘ سورة ہود کی آیت 65 ‘ سورة الرعد کی آیت 31 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 22 ‘ جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 5 ‘ 108 ‘ سورة الکہف کی آیت 98 ‘ جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 9 ‘ 97 ‘ سورة القصص کی آیت 13 ‘ جلد ہفتم سورة الروم ‘ 6 ‘ 60 ‘ سورة لقمان کی آیت 9 ‘ 33 ‘ سورة فاطر کی آیت 5 ‘ سورة یس کی آیت 48 ‘ سورة الزمر کی آیت 20 ‘ سورة غافر کی آیت 55 ‘ 77 وغیرہ ‘ وغیرہ ۔
Ayah 30:7وہ دنیا کا ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں :
7۔ انسانیت اور حیوانیت میں سب سے واضح فرق ہی یہ ہے کہ انسانیت آخرت کے یقین کا نام ہے اور حیوانیت دنیا تک محدود رہنے کا پھر جن لوگوں کو آخرت پر پختہ یقین نہیں اور وہ عمل کرتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ وہ جو عمل کر رہے ہیں اس کا نتیجہ آخرت میں کیا مرتب ہوگا تو بلاشبہ وہ حیوان ہیں خواہ وہ کون ہوں ؟ ہاں بلاشبہ خواہ وہ کون ہوں یہاں تک کہ وہ ملک کے صدر ‘ وزیر اعظم ‘ وزیر اعلی یا کوئی دوسرے وزیر ومشیر ہی کیوں نہ ہوں ‘ وہ مذہبی پیشوا ہوں یا سیاسی لیڈر ہوں ان کے ڈھانچے انسانوں کے سے ہیں اس لئے ان کو دیکھنے والوں کو دھوکا ہوتا ہے لیکن حقیقت میں (کالانعام بل ھم اضل) ہیں وہ تو حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہیں ، آخرت سے غفلت کیا ہے ؟ حیوانیت ہے اور اس کے سوا وہ کچھ بھی نہیں ہے اور پھر جن لوگوں کے متعلق اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا یہ ارشاد ہے کہ ” یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں ۔ “ ان کی حیوانیت میں کیا شک رہ گیا کہ وہ انسانیت کے قریب بھی نہیں بھٹکے پھر چونکہ وہ شکل و صورت سے انسان ہیں اگرچہ عملی طور پر نہ سہی اس لئے ان کو حیوانیت سے انسانیت کی طرف آنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور ان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ کبھی غور بھی کرلیا کرو کیونکہ غور وفکر کرنا انسانت کا فعل ہے اور تم بھی شکل و صورت سے انسان ہی نظر آتے ہو۔
Ayah 30:8کبھی اپنی جانوں میں بھی غور وفکر کرلیا کرو اور رب کریم سے کفر مت کرو :
8۔ کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور وفکر نہیں کیا ؟ ہاں ! اگر ان کی نظر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی اس کائنات کی طرف نہیں اٹھی تو کیا انہوں نے اپنی ذات میں بھی کبھی غور نہیں کیا کہ وہ انسان ہیں یا محض حیوان ؟ اگر انسان ہیں تو ان کا فرض تھا کہ وہ غور کرتے کہ اس کائنات کی ہرچیز میرے لئے اللہ نے مسخر کردی ہے اور مجھے اس پر تصرف کرنے کا وسیع اختیار دیا ہے ہاں اگر فی الواقع ایسا ہے تو آخر ایسا کیوں ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ نے پیدا کرکے ایک حد تک آزادی دی ہے جو دوسرے حیوانوں کو نہیں دی اور مجھے ایمان وکفر ‘ طاعت ومعصیت ‘ نیکی اور بدی کی ساری راہیں سمجھا دی ہیں جو دوسرے حیوانوں کو نہیں سمجھائی گئیں آخر ایسا کیوں ہے ؟ بلاشبہ میں حق اور باطل درست اور غلط ‘ اچھے اور برے جس کو بھی اختیار کرنا چاہوں کرسکتا ہوں اور دوسرے حیوانوں میں یہ آزادی نہیں رکھی گئی۔ بلاشبہ مجھ میں پیدائشی طور پر ایک ایسی حس رکھ دی گئی ہے اور ایک حد تک مجھے اختیار دیا گیا ہے اور پھر جتنا اختیار مجھے دیا گیا ہے وہ مجھ سے کسی حال میں بھی سلب نہیں کیا گیا میں نیک بنوں یا بدکار ‘ نمازی بنو یا ڈاکو اور چور ‘ میں آخرت کے لئے کچھ کروں یا میری نظر صرف اور صرف دنیوی زندگی ہی کی طرف جھکی رہے مجھے کبھی مجبور نہیں کیا گیا ۔ یہ تین خصوصیتیں وہ ہیں جو ہر انسان میں پائی جاتی ہیں اس لئے ان تینوں چیزوں کا فطری مطالبہ ہے کہ میں نے جس چیز کا بھی انتخاب کیا اس کا انتخاب کیوں کیا ؟ اور مجھے ایسا کیوں کرلینے دیا گا ؟ اس دارالعمل میں اللہ نے جو کچھ پیدا کیا بلاشبہ میں ان میں سے ہر ایک چیز سے فائدہ حاصل کرسکتا ہوں جیسے چاہوں ان کو استعمال کرسکتا ہوں ۔ اس کی حکمت کیا ہے ؟
پھر ذرا انسان اپنے اندرونی خیال سے باہر بھی غور کرسکتا ہو تو اس کو حق ہے وہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آسمانوں کو پیدا کیا اس زمین کو بھی اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے جو اس قدر ہے کہ اگر میں اس کو شمار کرنا چاہوں تو نہیں کرسکتا پھر جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے وہ محض بیکار نہیں پیدا کیا بلکہ اس کی ایک ایک چیز دوسری چیز سے پیوست ہے اور ہر ایک چیز ہی انسان کے لئے کار آمد بنائی ہے اور پھر میرے لئے اس کو فرمانبردار بھی کردیا ہے اور اس طرح ہر ایک چیز کے لئے ایک اجل مسمی یعنی وقت مقرر کردیا ہے اور وہ وقت مقرر بالکل خطا نہیں ہوتا ۔ یہ کتنا بڑا سورج ہے ہاں ! جو ہمارے اس زمین سے بھی کئی گنا بڑا ہے کس طرح اپنے مقرر وقت پر آ حاضر ہوتا ہے ‘ ہزاروں سال گزر گئے نہ معلوم لاکھوں سال گزر گئے اس کی ہر تاریخ کا دن دوسرے سال کی اس تاریخ سے ایک ساعت بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی ضابطہ بنانے والے کے ضابطہ سے باہر ہے ؟ اس طرح ہر ایک چیز پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظام ایک سے زیاد ناظموں کے تحت چلایا گیا اس لئے اس باقاعدگی کے ساتھ چل رہا ہے اگر اس نظام کے چلانے میں کسی ایک دوسرے کا ہاتھ بھی ہوتا تو کم از کم یہ باقاعدگی ممکن ہی نہ تھی ۔ پھر اس نظام کا ناظم اعلی خود یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک نیا نظام لانے والا ہوں تو اس بات پر ہم کو کیوں یقین نہ آئے ۔ پھر مجھ انسان کو جب یہ عقل و شعور دیا گیا باقی کائنات کی کسی مہیب سے مہیب مخلوق کو بھی نہیں دیا گیا تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ آخر ایسا بےوجہ نہیں کیا گیا اور پھر جب اس نے خود اس کی وجہ ظاہر کردی ہے تو مجھے کیا حق ہے کہ میں باقی کچھ تو تسلیم کروں لیکن ان ساری باتوں میں سے صرف یہ ایک بات ہی مانوں ۔ فرمایا اتنا کچھ سمجھانے کے باوجود بہت لوگ ایسے ہی ہیں جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ملاقات سے انکاری ہیں اور یہ وہی ہیں جو آخرت پر سچا یقین نہیں رکھتے صرف رواج کا ماننا ہی مانتے ہیں اسلام کے نقطہ نگاہ سے وہ نہیں دیکھتے حالانکہ یقینا مرنے کے بعد اپنے رب کے سامنے ان کو حاضر ہونا ہے ۔
Ayah 30:9کیا وہ زمین میں کبھی چلے پھرے نہیں کہ ان کو معلوم ہوتا کہ پہلے منکروں کے ساتھ کیا گزری ؟ :
9۔ سیاحت اتنی ضروری ہے چیز ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو جہاد کے برابر درجہ دیا ہے اور قرآن کریم نے (اولم یسیروا) اور (افلم یسیروا) کے الفاظ سات بار استعمال کئے ہیں اور اس طرح حکم دے کر (سیروا) اور (فسیروا) کے الفاظ بھی سات بار کہے ہیں اور پھر آپ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ فقال النبی ﷺ ان سیاحۃ امتی الجھاد فی سبیل اللہ عزوجل بلاشبہ سیاحت میری امت کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد ہے ۔ (رواہ ابو داؤد باسناد جید) ہاں ! بلاشبہ جانوروں کی طرح آوارہ پھرتے رہنے کا نام سیاحت نہیں اور نہ ہی اس طرح کی سیاحت اور سیر کا ہم کو حکم دیا گیا ہے بلکہ اس پر قید لگا دی ہے کہ ہماری سیاحت اور سیر کا مطلب پہلی اقوام کے علاقوں کو دیکھنا اور ان کی تباہی کے آثار کو ملاحظہ کرنا ہے تاکہ دل میں اس بات کا یقین پیدا ہو کہ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی رہی بلاشبہ ان کو اس زمین میں ایک مدت تک فائدہ اٹھانے دیا گیا لیکن انجام کار ان کو آن کی آن میں فنا کردیا گیا اور وہ اس طرح اس دنیا سے مٹ گئیں گویا کبھی پیدا ہی نہ ہوئی تھیں اور ان کے مسکن اس طرح اجاڑ کر رکھ دیئے گئے کہ وہاں آج ہو کا عالم نظر آتا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ اگر میں نے ایسی غلطی کی یا ہماری قوم نے ایسی غلطیاں کیں تو یقینا ہمارے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ وہ گزشتہ قومیں موجودہ قوموں سے زیادہ طاقتور اور زیادہ ترقی پذیر رہ چکی ہیں ۔ سیدنا داؤد (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی سرگزشت ذرا پڑھ کر دیکھیں کہ آج سے ہزار ہا سال پہلے اس دھرتی میں کیا کیا ترقی کے دور گزر چکے ہیں کہ اس زمانہ کی بنائی گئی اشیاء کو آج اس ترقی کے زمانہ میں ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جانا مشکل ہو کر رہ گیا ہے ابھی تک نہ گزشتہ زمانہ کی مانند ہم برتن سازی کا کام کر رہے ہیں اور نہ ہی عمارات کے بنانے میں اتنے ماہر پیدا کرچکے ہیں اور یہی حال ہمارے دوسرے کاموں کا ہے بلاشبہ اس دور کی ترقیاں ایک اور نوعیت کی ہیں اور ابھی معلوم نہیں اس دور کے بعد کون کون سے دور آنے والے ہیں اور ان میں ہم کو کیا کیا دیکھنا ہے ہاں ! آنے والی نسلوں نے کیا کچھ کر دکھانا ہے اور پھر کس طرح اس نظام کے بدلنے کا جب وقت آئے گا تو اس کو کتنی جلدی سے بدل کر رکھ دیا جائے گا ۔ اگر آج ہم اس زمین میں بہت کچھ کر رہے ہیں تو بلاشبہ گزشتہ قوموں نے بھی اس کو خوب ادھیڑا تھا اور انہوں نے آبادی کے وہ طریقے اختیار کئے تھے جو ابھی تک ہم شاید نہیں کرسکے اور پھر ان کو اتنی عمریں دی گئی تھیں جو ہم کو نہیں دی گئیں اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول آئے تھے جو روشن دلائل لائے تھے لیکن ان لوگوں نے نہ تو رسولوں کے آنے کی کوئی پروا کی اور نہ ہی ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو تسلیم کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا اور اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی ماری حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو بچانے کے لئے ان کی آخرت کو درست کرنے کے لئے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھیجا تھا پھر موجودہ لوگوں کو بھی خیال کرنا چاہئے کہ اگر ان لوگوں نے خود اپنے اوپر ظلم کی پاداش میں ان کو ہلاک کرکے رکھ دیا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہوں اور ہمارے ظلم کا نتیجہ بھی وہی نکل آئے جو ان کے ظلم کا نکل چکا ۔
Ayah 30:10پہلے برائیاں کرنے والوں کا نتیجہ برا ہی نکلا اور آج بھی ایسا ہی نکلے گا :
10۔ زیر نظر آیت میں ایک قانون خداوندی کا اعلان کردیا گیا ہے قانون الہی یہ ہے کہ جو شخص بھی برائی کمائے گا اس کی برائی کا وبال یقینا اسی پر پڑے گا اور اس سے آخرت کا نظریہ لازم آگیا کہ اگر اس کو اس دنیا میں اتنی چھوٹ دی گئی کہ وہ بڑھ چڑھ کر برائیاں کرتا رہا اور اسی طرح برائیاں کرتے کرتے مر گیا اور بلاشبہ ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں کہ برائیوں کے ماحول میں پیدا ہوئے اور بڑے ہو کر برائیاں کرتے رہے اور پھر اسی طرح برائیاں کرتے کرتے مر گئے اور ان کو ان برائیوں کا کوئی وبال مطلق نہ چکھایا گیا پھر اگر آخرت بھی نہ ہوتی تو وہ یقینا ان برائیوں کے وبال سے مکمل طور پر بچ جاتا جو عدل خداوندی کے سراسر خلاف تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اعلان کردیا اور اپنے قانون کی وضاحت کردی کہ جو شخص بھی برائیان کرے گا ان کا انجام آخر کار دیکھے گا اور اسی طرح جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق کا نشانہ بنایا وہ اپنے اس وبال سے دو چار ہوگئے اور آئندہ بھی جس کا معاملہ ایسا ہوا اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا اور کوئی شخص بھی اپنے اعمال کے نتیجہ سے مستثنی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
Ayah 30:11اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور وہی دوبارہ لوٹائے گا :
11۔ قانون الہی کو مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جس اللہ نے پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا اور بغیر کسی میٹیریل کے پیدا کیا اسی طرح وہ ایسی مخلوق کو دوبارہ لوٹائے گا کیا پہلی پیدائش پر آپ کو یقین آیا ہے یا نہیں ؟ اگر آیا ہے تو پھر جس نے پہلی بار پیدا کیا اگر وہ چاہے تو دوسری بار پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیا پہلی بار پیدا کرنا مشکل تھا یا دوسری بار ؟ بلاشبہ پہلی بار ہی کام مشکل ہوا کرتا ہے پھر جس نے اس کو پہلی بار پیدا کردیا جو بظاہر مشکل تھا تو اب دوسری بار پیدا کرنا جو از روئے عقل بھی آسان ہے اگر وہ چاہے تو آخر کیوں ممکن نہیں ہے ۔ حالانکہ انسان کا پہلی بار پیدا کیا جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا کیونکہ عمل کا نتیجہ لازم ہے پھر جب اعمال ہیں تو ان کے نتائج آخر کیوں نہ ہوں گے بلاشبہ انہیں نتائج سے دو چار کرنے کے لئے انسان کا دوبارہ پیدا کیا جانا لازم وضروری ہے اور بلاشبہ ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔
Ayah 30:12جب قیامت برپا ہوگی تو مجرم آس توڑ کر رہ جائیں گے :
12۔ جب قیامت قائم ہوگی تو بلاشبہ مجرم ہکا بکا رہ جائیں گے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تو اس کے بپا ہونے پر یقین ہی نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے جس کام کے ہونے کی انسان کو توقع نہ ہو اگر وہ اچانک ہوجائے تو وہ ہکا بکا نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا ۔ جن لوگوں کو اس جگہ رزق کی فراوانی حاصل ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اللے تللے کر رہے ہیں جب ان کے سامنے قیامت کا ذکر آتا ہے تو وہ منہ چڑھا کر رہ جاتے ہیں کہ یہ خواہ مخواہ کے ڈھکوسلے ان لوگوں نے بنا رکھے ہیں قیامت ویامت کچھ بھی نہیں اور اس طرح کی کتنی ہی بکواس بازیاں ہیں جو وہ کر جاتے ہیں جب اس طرح کے لوگ اس کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ظاہر ہے کہ وہ تو گم سم ہو کر ہی رہ جائیں گے دنیا میں جتنی بک بک وہ کرتے تھے ساری کی ساری ختم ہوجائے گی گویا ان کی وہی حالت ہوگی جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں تو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا کہ ابھی اس طرح کی بحث جاری تھی اور ابھی وہ گھڑی کھڑکھڑاتی ہوئی سامنے آگئی تو وہ سارے لوگ جو اس کام کا انکار کئے جا رہے تھے ان کی حالت بلاشبہ دیدنی ہوگی ۔ اس جگہ مجرمین سے مراد ہر وہ شخص ہے جو نظریاتی طور پر قیامت کے بپا ہونے کا منکر تھا خواہ اس نے چوری ‘ ڈاکہ ‘ زنا اور اسی طرح کے دوسرے گناہ نہ بھی کئے ہوں گے کیونکہ بلاشبہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو فطرتا برے نہیں اور اس طرح کے جرائم ان سے سرزد نہیں ہوئے تاہم وہ قیامت کے آنے کے بھی قائل نہیں اس لئے قانون الہی کے مطابق وہ بھی مجرم ہی ہیں کیونکہ وہ خود اس دنیا میں آئے اور دنیا کی اشیاء سے انہوں نے کافی فائدہ حاصل کیا ‘ کھایا پیا ‘ نسل چھوڑی اور دولت کے انبار بھی ان کے لئے چھوڑ گئے لیکن اس نظریہ کے وہ حامل نہ تھے اگرچہ نیک اعمال کئے ‘ غریبوں کی مدد کی ‘ مسکینوں سے تعاون کیا ‘ راستے بنوائے ‘ انسانوں کو آسانیاں پہنچانے کے لئے اور بھی بہت سے کام کئے لیکن اس نظریہ پر کئے کہ ان سب کا اجر میں قیامت کے روز اپنے مالک حقیقی سے وصول کروں گا ‘ کیونکہ اس نے ان سارے کاموں کا بغیر جزا حاصل کئے مجھے کرنے کا حکم دیا اور میں اس کے حکم کے مطابق ان کاموں کو کرتا ہوں اور اس طرح جو اس نے کیا بلاشبہ سب ادھار کیا اور ظاہر ہے کہ یہ ادھار اس کو واپس لوٹایا جائے گا کیونکہ یہ قانون فطرت ہے لیکن ذرا غور کرو کہ آج جو بھی اس طرح کے کام کرتا ہے بلاشبہ وہ ادھار کرتا ہے لیکن کیا وہ لوگ بھی ادھار کر رہے ہیں جن کو ملاں کے نام سے موسوم کرتے ہو یا وہ ان کا عوض اسی جگہ باضابطہ طور پر وصول کیے چلے جا رہے ہیں پھر ایک بار وصول کرلینے کے بعد دوسری بار وصولی کی امید رکھنے والا عقل مند ہوتا ہے یا بیوقوف ؟ فیصلہ خود کرلو یا کسی ایک ملاں کا نام لو جو نیکیاں کر رہا ہو اور ادھار دیئے چلا جا رہا ہوں ایک مسجد میں مثلا ایک سو آدمیوں نے باجماعت نماز ادا کی لیکن ان میں سے ایک ملاں کے سوا کسی نے نقد اجر وصول نہیں کیا اگر یہ بات صحیح ہے تو بھی بتا دیں اگر غلط ہے تو بھی میں انشاء اللہ غلطی کی معافی مانگ لوں گا ‘ کیونکہ میں نے بحمد اللہ آج تک ضد نہیں کی ۔
Ayah 30:13ان ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کی سفارش نہیں کرے گا :
13۔ جب سے یہ دنیا پیدا ہوئی اس وقت سے لے کر آج تک اور آج سے قیامت تک جتنے لوگوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے یا آئندہ ٹھہرائیں گے ان سب کو تین قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں ‘ رسولوں ‘ ملائکہ ‘ ولیوں ‘ اور پیروں ‘ بزرگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہوگا بلاشبہ یہ سب کے سب قیامت کے روز اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے برملا کہہ دیں گے کہ ان لوگوں نے یہ سب کچھ بغیر ہماری مرضی کے کیا ہم نے ان کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا اور قرآن کریم نے ان سب کی مثال کے لئے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرکے سورة مائدہ کی آیت 112 میں وضاحت فرما دی کہ ” قیامت کے روز اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہے گا کہ اے عیسیٰ تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو سوائے اللہ کے دو معبود بناؤ تو عیسیٰ (علیہ السلام) واضح الفاظ میں کہیں گے اے اللہ ! تو پاک ہے مجھے ایسی بات کہنے کا کب حق تھا ؟ گویا نہ تو ایسی بات کہنے کا مجھے حق تھا اور نہ ہی میں نے کوئی ایسی بات کی ہے ۔ پھر اگر ایسی بات کی ہے تو اس کو تو بلاشبہ تو اس کو جانتا ہے تو علام الغیوب ہے تو ہی بتا دے کہ کیا میں نے کوئی ایسی بات کہی ہے ۔ میں نے تو ان کو تیری عبادت کی دعوت دی جب تک میں ان میں موجود رہا اور میرے بعد انہوں نے کیا کہا اور کیا کیا اس بات کو میں نہیں جانتا لیکن تو تو بلاشبہ جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کچھ کہا اور کیا کچھ کیا ۔
اب میری طرف سے تو بریت کا اعلان ہے ہاں ! یہ لوگ جو اس طرح کہتے رہے ہیں کہ بلاریب تیرے ہی بندے ہیں اب تو ان کو عذاب دے یا چھوڑ دے اس میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ دوسری صورت میں وہ اشیاء ہیں جن میں سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ درخت ‘ پتھر اور حیوانات آتے ہیں بلاشبہ مشرکین نے ان کو رب مانا اور تسلیم کیا ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر ایک خود اس کا اعلان کریں گے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور تیری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے خود کوشش کر کے مکروفریب سے کام لے کر دھوکا اور فریب کرکے چھوٹی موٹی کئی چالیں چل کر اور بعض نے بزور بازو اللہ کے بندوں سے اپنی بندگی کرائی ہوگی جیسے فرعون ‘ شداد ‘ شیطان اور اس طرح کے دوسرے بڑے سردار لوگ اور مذہبی پیشوا اور پیر وغیرہ تو یہ سب وہاں خود پکڑے گئے ہوں گے اور وہ اس وقت چلا چلا کر ان لوگوں کی تکذیب کر رہے ہوں گے اور دنیا میں کئے گئے دعو وں سے منحرف ہوجائیں گے چناچہ ان کا ذکر عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 75 ‘ 137 جلد ششم سورة القصص کی آیت 4 ‘ 5 اور جلد ہفتم میں سورة سبا کی آیت 31 ‘ 43 میں کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 30:14جب قیامت قائم ہوگی تو سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے :
14۔ قیامت کے حالات کا ذکر کس صفائی سے کیا جا رہا ہے اور جو کہا جا رہا ہے بلاشبہ اس کو اس طرح ہونا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس میں ایک ذرہ برابر بھی کمی بیشی ممکن نہیں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ دنیا کی تقسیم جو لوگوں نے قوم ‘ نسل ‘ قبیلہ ‘ برادری ‘ وطن ‘ زبان اور اس طرح کی دوسری تقسی میں کرلی ہیں سب کی سب ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائیں گی اور اس روز آدم سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک ساری امتوں میں سے جتنے نیک لوگ ہیں بلکہ ایمان لانے والے ہیں ان سب کو ملا کر ایک گروہ بنا دیا جائے گا اور باقی سب کی تقسیم بھی ان کے مشترکہ گناہوں کے بل پر کی جائے گی یعنی ساری قوموں کے ایک طرح کے مجرم ایک گروہ بنائے جائیں گے دوسری طرح کے جرم کا دوسرا گروہ اسی طرح شرکیہ عقائد کے لوگوں کو ان کے عقیدہ کے باعث مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا اور پھر ان کے حساب و کتاب کے بعد صرف دو گروہوں میں تقسیم ہوگی یعنی اہل جنت اور اہل دوزخ اور پھر جنت والوں کو جنت کی طرف چلنے کا کہا جائے گا اور دوزخیوں کو جکڑ کر ‘ باندھ کر اور کھینچ کھینچ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور اتنی کثرت کو جکڑنے اور باندھنے پر آپ کو تعجب نہ ہو ‘ فرشتوں کی تعداد انسانوں کی تعداد سے بھی بہت زیادہ ہے اور یہ سارا عمل آنکھ جھپکنے میں ہوچکا ہوگا۔ ان دو گروہوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ سورة الزمر کی آیت 71 سے 73 تک کیا گیا ہے جو آگے آئے گی ۔ انشاء اللہ ۔
Ayah 30:15ایمان لانے والوں کو جنت کے بالاخانوں میں رکھا جائے گا اور وہ بہت خوش ہوں گے :
15۔ (یحبرون) کی اصل ح ب ر ہے اور حبر کے معنی زینت کرنے اور خوشی ومسرت کے آثار ظاہر ہونے کے ہیں ۔ یہ لفظ اس جگہ صرف ایک بار استعمال ہوا ہے اور سورة الزخرف میں ایک بار لفظ (تحبرون) کا استعمال ہوا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے نیک عمل بھی کئے وہ بلاشبہ اپنے اعمال کے نتائج حاصل کرنے سے ہماری مراد اس جگہ انعامات جنت ہیں جو جنتیوں کو پیش کئے جانے والے ہیں ۔
Ayah 30:16کفر کرنے والے اور جھٹلانے والے عذاب الہی میں گرفتار ہوں گے :
16۔ قرآن کریم کا انداز بیان بھی بہت عجیب ہے کہ وہ دراصل بغیر کسی بحث وتمحیث کے بات ہی ایسے رنگ میں کرتا ہے کہ اس کی حقیقت خود بخود عیاں ہوجاتی ہے ، غور کرو کہ اس جگہ بھی اور بہت جگہ بھی اور بہت سی دوسری جگہوں پر بھی جہاں ایمان لانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے تو ساتھ ہی ان کے اچھے اعمال کا ذکر بھی آگیا ہے ۔
(آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” والذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” اما الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ ” فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت “ ۔ اور پھر جب کفار کا ذکر کیا تو ان کے کفر ہی کا فقط ذکر کیا ان کے عمل کا ساتھ ذکر نہیں کیا جیسے (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ ” الذین کفروا “۔ ” اما الذین کفروا “۔ ” والذین کفروا “۔ ” فاما الذین کفروا “۔ وغیرہ ایسا کیوں کیا گیا ؟ معلوم ہوتا ہے کہ کفر بذاتہ اتنی بری چیز ہے کہ اس کے ساتھ اس کے بدعمل کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کو ن کہ کافر کتنا بھی اچھا اور نیک عمل کیوں نہ کرے اس کا تعلق آخرت کے ساتھ قائم ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کا بدلہ اس کو دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے اس لئے اس کے عمل کے ذ کرنے کی کوئی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ، اس سے ان لوگوں کی غلطی دور ہوجانا چاہئے جو اس بحث کو بار بار اٹھاتے ہیں کہ جب نیک عمل نیک ہی ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ بعض کافر بھی بڑے بڑے نیک عمل کرتے ہیں جیسے گنگا رام نے ہسپتال بنا دیا ‘ موتی لعل نے فلاں سرائے بنوائی ‘ رام چند نے فلاں قلعہ تعمیر کروایا اور آج اس میں بیسیوں گھر آباد ہیں ‘ فلاں یہودی نے فلاں فلاں کام کیا جو بہت ہی اچھا کام ہے ‘ فلاں عیسائی نے یہ پل تعمیر کروایا اور یہ سڑک تعمیر کی ، ان کی سمجھ لینا چاہئے کہ گنگا رام کا نام آج تک لیا جا رہا ہے جو اس کے اسی عمل کے باعث لیا جا رہا ہے اور یہی حال ان دوسرے لوگوں کا ہے لہذا یہ بات بالکل صحیح ہے کہ نیک عمل بلاشبہ نیک ہی ہے لیکن ہر نیک عمل کی جزا کا ذکر نہیں کیا بلکہ ایمان لانے کے بعد نیک عمل کا ذکر ہے ہاں اگر ایمان کے بعد جس قوم کے لوگوں نے بھی کوئی نیک عمل کیا بلاشبہ اس کا اجر قائم ودائم ہے اور وہ یقینا ان کو ملے گا کیونکہ نیک عمل کے ساتھ کسی قوم کی بحث نہیں بحث جو کچھ ہے وہ ایمان لانے کی ہے اور بلاشبہ ہر نبی ورسول کی قوم تک کہ نبوت و رسالت جاری تھی تو اس پر ایمان لانا ضروری تھا کیونکہ کسی ایک نبی ورسول کی نبوت و رسالت سے انکار سارے نبیوں اور رسولوں سے انکار کے مترادف قرار دیا گیا ہے اس اعتبار سے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد دنیا کی ساری قوموں کے لئے خواہ وہ کسی نبی ورسول ہی کی طرف اپنی نسبت کیوں نہ رکھتے ہوں آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جب تک وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے اس وقت تک اگرچہ وہ کسی نبی ورسول کی امت کے فرد ہوں ایمان والے متصور نہیں ہوں گے اور اب چونکہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے بعد نبوت و رسالت کے ختم کردینے کا اعلان ہوا ہے اگر کوئی شخص اس کی نبوت و رسالت کا دعوی کرے تو وہ دعوی کرتے ہیں ایمان سے خارج قرار دیا جائے گا اور اس طرح اگر کوئی شخص اس کی نبوت و رسالت مانتا اور تسلیم کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ ایمان سے خارج قرار دیا جائے گا خواہ وہ کون ہو اور کوئی ہو کیونکہ جن چیزوں کے ماننے کا نام ایمان لانا ہے اور جن جن سے انکار کرنے کا نام ایمان لانا ہے ان میں سے ہر ایک پر ایمان لانا اور ہر ایک سے انکار کرنا ضروری ہے اگر ان میں سے کسی ایک پر کوئی شخص ایمان نہ لایا یا انکار کرنے والی باتوں میں سے کسی ایک کا بھی اقرار کرلیا تو ایمان جاتا رہا مثلا قرآن کریم میں ہے کہ (آیت) ” ومن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ “۔ (البقرۃ) جس شخص نے طاغوت سے انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا تو وہ کون ہوا ؟ وہ مومن ہوا اب اگر کوئی شخص طاغوت کا کفر نہیں کرتا لیکن اللہ پر ایمان لانے کا مدعی ہے تو اس کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی اس کو اسلام کی نظر میں مومن کہا جاسکتا ہے اسی طرح ایمان تعبیر ہے اللہ پر ایمان لانے ‘ فرشتوں پر ایمان لانے ‘ سارے رسولوں پر ایمان لانے ‘ ساری آسمانی کتابوں پر ایمان لانے اور آخرت پر ایمان لانے اور اسی طرح اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا اب کوئی شخص ان چھ چیزوں میں سے کسی ایک پر بھی ایمان نہیں لاتا تو اسلام کی زبان میں اس کو مومن نہیں کہا جاسکتا ۔ اور اسی طرح اسلام کے پانچ ارکان قرآن کریم نے ذکر کئے ہیں جن میں کلمہ توحید ‘ نماز ‘ زکوۃ ‘ روزہ اور حج شامل ہیں اگر کوئی شخص ان پانچ میں سے کسی ایک کا بھی انکار کر دے تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ہاں ! عقیدتا تسلیم کرتا ہو اور پھر ان میں سے کسی ایک یا دو یا تین پر وہ عمل نہیں کر رہا تو اس کو عمل کے لئے کہا جائے گا اور ان کی ادائیگی کی سستی میں وہ بلاشبہ گناہگار ہوگا لیکن اس کو ایمان سے خارج نہیں سمجھا جاسکتا ہاں ترغیب کے لئے اس سے کوئی بات کی جائے تاکہ وہ باز آئے تو یہ دوسری بات ہے ۔
Ayah 30:17اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم صبح ہو یا شام یعنی ہر وقت :
17۔ گزشتہ آیات میں ایمان وکفر کی مکمل وضاحت کردی گئی ہے اور دونوں کی پہچان بالکل آسان ہے یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں رہی کہ اسلام کیا ہے اور کفر کیا ہے ؟ ایمان کے دعوی کے بعد انسان پر کیا لازم آتا ہے اور کفر پر قائم رہنا کس چیز کا نام ہے تو اب اس وضاحت کے بعد مسلمان اور کافر کی پہچان بھی یقینا ہوجائے گی لہذا نسلی ایمان اور نسلی کفر کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایمان وکفر کی پہچان کے ساتھ نسل کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مشرکین و کفار شرک کے مرتکب ہو کر اور حیات اخروی کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کو عاجز و درماندہ ثابت کر رہے ہیں اور تم اس کمزوری سے اللہ تعالیٰ کا پاک ہونا بیان کرو گے تو یہ اللہ کی تسبیح کرنا ہے بلاشبہ اس کے مخاطب اول نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ ہیں لیکن آپ کو مخاطب کرکے پوری امت کو حکم دیا گیا ہے اس سے واضح ہوگیا کہ زبان سے صرف سبحان اللہ کا ورد ہی تسبیح نہیں ہے بلکہ تسبیح کا مفہوم بہت وسعت رکھتا ہے پھر شام وصبح کی طرف اشارہ کرکے بتا دیا کہ اس معاملہ سے ایک سچے مومن کو کسی وقت بھی سابقہ پڑ سکتا ہے اور جب اس کو سابقہ پڑے تو وہ تار ہو گویا تیاری کرنے میں وقت ضائع نہ کرے اور یہ بھی کہ اتنا علم ضرور رکھتا ہو کہ وہ یہ فریضہ سرانجام دے سکے لیکن افسوس کہ اس وقت ہم قوم مسلم کے افراد اس فریضہ سے کلی طور پر غافل ہوچکے ہیں اور کفار و مشرک ہیں کہ دن رات وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی کمزوریاں بیان کرنے میں مصروف ہیں اور ہمیں کسی نے بتایا تک نہیں کہ ان کو دندان شکن جواب دینا ہمارے لئے کتنا ضروری ہے بلکہ مذہبی پیشوایان اس بات کو سرے سے قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ۔ جس پر جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔
Ayah 30:18آسمان و زمین میں حمد کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے :
18۔ جس طرح اصل تسبیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان نقائص سے جو لوگوں نے خوش فہمی اور کم عقلی کی بنا پر اس کی طرف منسوب کردیئے ہیں پاک وصاف بیان کیا جائے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا اس طرح اصل تحمید یہ ہے کہ اس کے کمالات کو ظاہر کیا جائے اور اس کی صفات کو واضح طور پر بیان کیا جائے ، جس طرح کے کمالات کے بیان کرنے کی وقت ضرورت محسوس کرے اس طرح کے کمالات کا بیان کرنا ہی ضروری ہے ، یہ کس طرح ممکن ہے ؟ اس طرح کہ دنیا میں جتنے علوم رائج ہوتے جا رہے ہیں ان سب علوم کو مسلمان بڑھ چڑھ کر حاصل کریں گے اور جن کمالات کے بیان کرنے کی جہاں ضرورت پیش آئے ان کو بیان کیا جائے مثلا اس وقت سائنسی علوم ترقی کرتے جا رہے ہیں اور لوگ سائنس کے ذریعہ وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں ان کی نسبت اپنی طرف کئے چلے جا رہے ہیں حالانکہ خدائی کاموں میں سے کسی کام کی نسبت کسی مخلوق کی طرف کرنے کا نام ہی شرک ہے اور جب تک سائنسی علوم حاصل کرکے بلکہ ان سے ایک درجہ بلند ہو کر ان کے منہ پر چانٹا رسید نہیں کیا جائے گا کہ اس چیز کی نسبت تم نے اپنی طرف کیسے کردی جب کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ایک چیز ہے سائنس نے تو فقط اس کو دریافت کیا پھر کسی چیز کا دریافت کرنے والا اس کا خالق کیسے ہوگیا ہاں ! جو کام تم نے کیا اس کی نسبت تمہاری طرف کی جاسکتی ہے لیکن یہ تخلیق تمہاری نہیں ہے یہ ایک مثال بیان کی ہے آج اگر اس نہج پر غور کیا جائے تو مسلم قوم اپنی ذمہ داری سے اس قدر غافل ہوچکی ہے کہ شاید ہی کسی زمانے میں کوئی قوم اتنی غافل رہی ہو ۔ لیکن افسوس کہ ہماری مذہبی پیشوا خود جاہل ہیں ان میں علم نام کی کوئی چیز موجود نہیں وہ صرف کفر کا فتوی صادر کرنا جانتے ہیں کہ جو ان کے کہے کی تصدیق نہ کرے وہ کافر ہے اور پھر فی الواقع جو ان کے کہے کی تصدیق نہیں کرتا وہ اس پر اپنا کفر کا فتوی داغ دیتے ہیں جاہل ہیں اور قوم کو جہالت پر قائم رکھنا چاہتے ہیں انہوں نے آج تک تسبیح وتحمید کے معنی زبان سے سبحان اللہ اور الحمد للہ کہہ دینا ہی سمجھا ہے اور یہی وہ سمجھاتے رہتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ سبحان اللہ کہنے کا کیا مطلب ہے اور الحمد للہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے ۔ وہ خود کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنے علم ہی کو پوری دنیا کے علوم کا مجموعہ سمجھتے ہیں اسی لئے میں نے کہا کہ وہ جاہل ہیں اور قوم کو جاہل رکھنا چاہتے ہیں اور علم سے ان کو ایک حد تک سخت بیر ہے ، فرمایا آسمان و زمین میں حمد کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے اسی کی حمد کرنا چاہئے اور حمد موقت ہو یا کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہ ہو ۔ رہی یہ بات کہ حمد موقت کیا ہے ؟ تو بلاشبہ وہی ہے جس کو صلوۃ کا نام بھی دیا جاتا ہے جو کتابا موقوتا کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اور جس طرح اس کا ادا کرنا ضروری ہے اسی طرح اس حمد کا بھی جو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ عشیا اور تظھرون کے دونوں لفظوں ہی میں بہت وسعت ہے اور اگر غور کریں تو موقت نماز کے پانچوں اوقات ہی اس سے مراد لئے جاسکتے ہیں اور لئے گئے ہیں اس ایک آیت سے بھی اور دونوں آیات کو یعنی اس کو اور گزشتہ کو ملا کر بھی ، بہرحال اس مضمون میں وسعت بہت ہے بلاشبہ مفسرین وعلماء کرام نے اس سے پانچوں نمازوں کے اوقات بیان کئے ہیں جو بلاشبہ صحیح ہیں اور بیان کئے جاسکتے ہیں ‘ مراد لئے جاسکتے ہیں لیکن ان معنوں میں اس حمد وتسبیح کو موقت نماز کے معنوں میں لیا جائے گا اور اپنی جگہ صحیح بھی لیکن وہ وسیع مضمون جو ساری مشرک قوموں کے رد میں بیان کیا جاسکے اس سے بھی زیادہ وسعت رکھتا ہے اس لئے ایک کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں اور نہ ہی بند کرنے کا حکم ہے مضمون میں جتنی وسعت رہ سکتی ہے اس وسیع وعرض کائنات میں اس کا دائرہ تنگ کرنا ہی کنوئیں کا مینڈک بننا ہے اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو وسعت سے کام لینے والا اور کشادہ دل بنا دے ۔ آمین یا رب العالمین ۔
Ayah 30:19مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالنے والا اللہ ہی دوبارہ زندہ کر دے گا :
19۔ زیر نظر آیت کا مضمون پیچھے عروۃ الوثقی جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 27 جلد سوم میں سورة المائدہ کی آیت 110 جلد چہارم میں سورة ابراہیم کی آیت اول میں بیان کیا جا چکا ہے تفصیل وہیں سے ملاحظہ کریں ۔ ہمارے مفسرین نے اس میں انڈے اور مرغی کی مثال بیان کی ہے اور جدید معترضین نے انسانی اور حیوانی فضلات اور بےجان مادے کی مثالیں بھی بیان کی ہیں ان سے انکار نہیں کرتے جو ان کی سمجھ میں آیا بلاشبہ صحیح لیکن ہماری زندگی کے لئے سبق جس میں میسر آئے اور وہ مثال بھی خود قرآن کریم کی تصدیق کردہ ہو تو زیادہ صحیح اور زیادہ بہتر ہوگی اس لئے ہم نے اس سے مراد کفر سے اسلام اور اسلام سے کفر لی ہے یعنی اللہ صاحب قدرت نے آزر جیسے کفر کی موت سے مرے ہوئے انسان سے ابراہیم (علیہ السلام) جیسا اسلامی زندگی کا حامل انسان نکال دیا اور نوح (علیہ السلام) جیسے زندہ وجاوید انسان سے آپ کے فرزند جیسا کفر کی موت مرا ہوا انسان پیدا کر دکھایا بلاشبہ وہ صاحب قدرت ہے جو چاہے کر دکھاتا ہے اور اس طرح مردہ زمین پر آسمانی بارش ڈال کر اس کو زندہ کردیتا ہے اور زندہ وآباد زمینوں کو دیکھتے ہی دیکھتے غیر آباد اور کاشت کے قابل نہ رہنا ہم نے کئی بار مشاہدہ کیا ہے اور بلاشبہ جس طرح وہ ان کاموں کو کردکھاتا ہے اور ہم روز مرہ زندگی میں اکثر دن رات دیکھتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح اپنے وقت مقررہ پر وہ مرے ہوئے انسانوں کو بھی دوبارہ میدان حشر میں اٹھا کرلے آئے گا کیونکہ اس طرح دوبارہ زندہ کردینا پہلی زندگی سے کوئی زیادہ بعید نہیں ہے بلکہ غور کیا جائے تو پہلی پیدائش اس دوسری پیدائش سے زیادہ مشکل تھی پھر جس نے ایک مشکل کو کر دکھایا اس سے کئی گنا آسان وہ کیوں نہیں کر دکھائے گا جس کے لئے اس نے وعدہ بھی کیا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ اپنے وعدہ کا کبھی خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے بیشک وہ قادر وقدیر اور مالک وملیک ہے اور یہی اس کے وعدہ کا خلاف نہ ہونے کی دلیل ہے ۔
Ayah 30:20مٹی سے تم کو پیدا کردینا اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے :
20۔ زیر نظر آیت گزشتہ آیت کی تشریح کے لئے بیان کی جا رہی ہے اس میں انسان کی پہلی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے وہ پہلی پیدائش جب کہ ابھی انسانی زندگی کا کوئی نام ونشان اس کائنات ارضی میں موجود نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس مٹی پر جو ایک جگہ جامد پڑی تھی ایسے کیمیائی عمل کیے کہ وہ مختلف ادوار سے گزرتی گئی اور ہر دور نے اس پر ایک ایسا اثر چھوڑا کہ وہ نہ دیکھی اور نہ سمجھی گئی طاقت کے طور پر زندگی کی طرف پھر نے لگی اور مزید ادوار میں مختلف صورتیں اختیار کرتے کرتے ایک ایسی زندگی میں تبدیل ہوگئی جس زندگی کو انسان کی پیدائش اول سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور یہ کہ اس پیدائش اول میں کتنے انسان اور کہاں کہاں پیدا کردیئے گئے اور ان کی راہنمائی کے لئے ایک انسان کو باوا آدم قرار دے دیا گیا اور اس پیدائش اول سے مخلوق ثانی پیدا ہونا شروع ہوگئی جس کے لئے ایک ضابطہ کا اعلان کردیا وہ اللہ جس نے انسانی زندگی کی ابتدا کی کیا وہ اس کو مٹا کر دوسری پیدائش میں نہیں لاسکتا آخر کیوں نہیں لاسکتا ہاں ! بلاشبہ وہ لاسکتا ہے اور اس کے لئے یہ امر کوئی مشکل نہیں ہے یہی اس سے استدلال کرنا ہے اور یہی استدلال کیا گیا ہے اور بلاشبہ یہ استدلال کیا جاسکتا ہے ۔ غور کرو کہ اس سارے عمل میں کسی انسان کا کوئی عمل دخل ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں نہ تو کسی کا کوئی عمل ودخل ہے اور نہ ہی کسی کی خواہش اس میں شامل ہے بغیر کسی نظریہ اور بغیر کسی مثالی ڈھانچہ کے اور بغیر کسی نمونہ کے اللہ تعالیٰ نے اس خاص نمونہ اور خاص ڈھانچہ اور خاص طرح کی قدوقامت اور خاص طرح کے خواص کا حامل انسان پیدا کردیا اس شکل و صورت میں جس میں وہ آج نظر آرہا ہے اور پھر اس کے فائدہ کے لئے اس کائنات میں اس نے اس کی خاطر پہلے ہی سب کچھ بنا کر تیار کر رکھا تھا اس ایک اشرف المخلوقات کا ذکر کیا اور آج تک اس کا ذکر ہوتا چلا آرہا ہے ورنہ اس زندگی کی حامل بیشمار مخلوق ہے جس کو اس نے اس اشرف المخلوقات کی خدمت کے لئے پیدا کردیا اور تعجب ہے کہ یہی اشرف المخلوقات مخلوق آج اس نظریہ سے عاری ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام انسان کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا ۔ مختصر یہ کہ اس پیدائش اول کے بعد اب موجودہ پیدائش کے ضابطہ الہی کا اعلان عام کیا جا رہا ہے ۔
Ayah 30:21موجودہ پیدائش کے سلسلہ میں بہت نشانیاں ہیں لیکن فکر کرنے والی قوم کے لئے :
21۔ موجودہ انسانی زندگی کا راز اس سے وابستہ کردیا گیا کہ ایک ہی جنس کی دو اصناف مقرر کردی گئیں اور ہر دو اضاف کے ایک کام لگا دیا گیا جب وہ کام ان دونوں اصناف نے سرانجام دے دیا تو اس کے نتیجہ میں انہیں دونوں اصناف کے سے ایک صنف یا بعض اوقات دونوں اصناف کو ایک ہی جوڑ میں پروان چڑھا دیا جس کے نتیجہ میں انہی اصناف کے سیل کی مزید اصناف پیدا ہونا شروع ہوگئیں اور یہ سلسلہ رہتی دنیا تک قائم رکھا گیا مکلف انسان اسی جوڑ سے پیدا ہوتا رہے گا اور اسی ایک ہی جنس کی دونوں اصناف کا فطری میل اور ایک دوسرے کی تڑپ ان کے اندر ودیعت کردی گئی اور اس فطری جوڑ کی طلب اس قدر مضبوط ہے کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک میں کوئی عارضہ لاحق نہ ہوجائے تو دونوں ایک دوسرے کے لئے بےچین رہتے ہیں اور اطمینان کی کوئی صورت نہیں نکلتی عقل وفکر کی ساری جولانیاں اس کے سامنے مجبور محض ہو کر رہ جاتی ہیں اور بلاشبہ سارے فطری تقاضے دیکھنے میں جتنے سہل اور آسان نظر آتے ہیں ان کی جڑیں اتنی ہی مضبوط ہوتی ہیں اگر خدانخواستہ کوئی رکاوٹ پیدا ہوجائے تو اس کا دور کرنا جوئے شیر لانے کے مرادف ہوتا ہے اسی ایک دوسرے کی تڑپ کے لئے قرآن کریم نے (مودۃ ورحمۃ) کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور دونوں الفاظ میں وہ سب کچھ رکھ دیا ہے کہ موجودہ سائنسی ترقی جو کچھ پیش کرسکی ہے وہ ‘ اور جو کچھ وہ آئندہ پیش کرے گی اس سب کی تصویر رکھ دی ہے بلاشبہ الفاظ بدلے گئے ہیں اور بدلے جاتے رہیں گے لیکن حقیقت نہ کبھی بدلی ہے اور نہ آئندہ کبھی بدلے گی انسان عقل کو اتنا کوتاہ ہے کہ جب کوئی شاطر ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ بول دیتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ شاید کوئی نئی چیز پیدا کردی گئی ہے حالانکہ ذرا گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو کچھ بھی ہوا نہیں ہوتا ۔ جس طرح انسانی فطرت میں دونوں اصناف میں ایک دوسرے کی طلب رکھی گئی ہے اسی طرح انسانی ڈھانچہ میں تخیل کی جو لانی بھی ودیعت کی گئی ہے نئی نئی ایجادات اور نئے نئے طریقے اور نئے نئے جوڑ وہ تجربات میں لاتا رہتا ہے اور جب یہ فطری چیز ہے تو اس کو ہونا ہی چاہئے یہ ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی لیکن جن ان انسانوں کے اندر سے یہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو نئی ایجاد سے ہم نے تعبیر کیا ہے جو اذہان تصور خداوندی اور اسلامی تصور حیات بعد الموت سے خالیٰ ہوتے ہیں تو ان کی سوچ کا زاویہ مختلف ہوتا ہے اور اس اختلاف زاویہ کے باعث جو کچھ وہ دریافت کرتے ہیں اس کو اپنی تخلیق اور اپنا نظریہ قرار دے کر اس کا ایک نیا نام رکھ دیتے ہیں عوام میں اتنا شعور نہیں ہوتا لہذا وہ اس کو من وعن اسی طرح بیان کرنا شروع کردیتے ہیں جس طرح انہوں نے اس کو گھڑا اور بیان کیا ہوتا ہے اگر وہ ذہن تصور خداوندی اور تصور حیات بعد الموت سے بھی آشنا ہوتے تو نہ وہ ان کا وہ نام رکھتے اور نہ ہی وہ اس کو اپنی تخلیق قرار دیتے بلاشبہ وہ اس کو دریافت کے نام سے موسوم کرتے جس کا مطلب یہ ہے کہ تلاش شدہ چیز پہلے ہی موجود تھی اور وہ اس کی پیدا کردہ تھی جس نے اسی کائنات کی معلوم اشیاء کو پیدا کیا ہے لیکن چونکہ آج تک وہ دریافت نہ ہوسکی اب وہ ہماری تلاش سے دریافت ہوگئی لہذا اس میں دریافت کرنے والے کا اتنا ہی حصہ ہے کہ اس نے اس کو دریافت کیا اور بلاشبہ وہ اس تحسین کا مستحق بھی ہے لیکن مصیبت تو اس وقت پڑی جب اس نے دریافت سے آگے بڑھ کر موجد اور خالق بننے کی کوشش کی جو سراسر زیادتی تھی ، فی زماننا جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں اور آئے دنوں نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں اور ہوتی ہی چلی جا رہی ہیں مسلمان سائنس دانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان علوم کو آگے بڑھائیں اور ان لوگوں کو اس غلط فہمی سے نکالنے کی کوشش کریں یہ بات موجودہ ملاں کے اختیار کی نہیں ہے اس لئے کہ وہ خود اس سلسلہ میں ابھی جاہل ہے اگرچہ وہ اپنی جہالت کو تسلیم نہیں کرتا۔ قرآن کریم کی آیت کے اس حصہ پر غور کرو جس میں اس کو نشانیاں قرار دیا گیا ہے گویا وہ اپنی جہالت کو تسلیم نہیں کرتا ۔ قرآن کریم کی آیت کے اس حصہ پر غور کرو جس میں اس کو نشانیاں قرار دیا گیا ہے گویا ایک نشانی نہیں بلکہ بہت سی نشانیاں اس میں موجود ہیں لیکن یہ نہیں کہا کہ ہی نشانیاں مسلمانوں کے لئے یا مومنوں کے لئے یا فرمانبرداروں کے لئے یا نیک لوگوں کے لئے یا صالحین کے لئے ہیں بلکہ فرمایا تو یہ کہ وہ (لقوم یتفکرون) نشانیاں صرف اور صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو اس سلسلہ میں غور وفکر کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں اپنی جانیں کھپاتے ہیں کیونکہ اس سلسلہ میں قانون یہ ہے کہ جو تلاش کرتا ہے وہ پاتا ہے اور جتنی تلاش کرتا ہے اتنا پاتا ہے اور جوں جوں تلاش میں آگے بڑھتا جاتا ہے پاتا ہی جاتا ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اس کی کوئی حد بیان نہیں کی ہاں ! صرف ایک طرف سے اس کو بچنے کی ہدایت کی کہ اگر تو خیر چاہتا ہے تو صرف اور صرف تیری اتنی ذمہ داری ہے کہ تو اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ان دیکھی اور ان سمجھی ذات میں غور نہ کرنا ورنہ تو مبہوت ہو کر رہ جائے گا اور تیرا سارا کیا کرایا ختم ہوجائے گا اس کو صرف تسلیم کرنا ہے اور جوں جوں تیری تلاش بڑھتی جائے گی اور نئی نئی چیزیں دریافت ہوتی جائیں گی توں توں تیرا ایمان اس ذات پر پختہ ہوتا جانا لازمی ہے اگر تو نے یہ بات یاد رکھی تو تو کسی حال میں بھی ٹھوکر نہیں کھائے گا اور تیری جستجو میں اس آسمان و زمین کے آگے ابھی بہت سے آسمان پڑے ہیں اور اس مخلوق کے سوا ابھی بہت سی مخلوقات آگے موجود ہیں لیکن افسوس کہ موجودہ دور میں قوم مسلم کے مذہبی پیشواؤں نے ان کو اس طرح دیکھنے ہی نہ دیا وہ خود تو اندھے تھے ہی لیکن انہوں نے ساری قوم کو اندھا کرنے کے لئے اپنا سارا زور صرف کردیا ، بہرحال جو ہوا سو ہوا اب بھی وقت نکل نہیں گیا بلکہ جو چل چل کر تھک ہار چکے ہیں یہ نیا مسافر تازہ دم اٹھ کر ان سے بہت آگے نکل سکتا ہے اور ان کو ترکی بہ ترکی جواب سنا سکتا ہے اگر یہ چلنے کے لئے تیار ہو ۔ اللہ کرے کہ ہماری قوم بھی ان فکر کرنے والوں میں شامل ہوجائے اور اپنی فکر کی بنیاد اسلام پر رکھے جو اس دنیا کا ابدی اور حقیقی و فطری دین ہے ۔ رہی تخلیقی بحث تو وہ ہم اس سے پہلے سورة الحج کی آیت 5 ‘ سورة المومنون کی آیت 11 ‘ 12 اور سورة الفرقان کی آیت 54 میں وضاحت سے کرچکے ہیں اس لئے آپ ﷺ عروۃ الوثقی جلد ششم کی محولہ سورتوں کی آیتوں کی تفسیر کو دیکھ لیں ۔