Ayahs 30:1–5امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے جب بدر کا دن تھا تو رومی ایرانیوں پر غالب آئے اس امر نے مومنوں کو خوش کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں (1) ۔ فرمایا : مومن رومیوں کے ایرانیوں پر غالب آنے سے خوش ہوگئے : کہا : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے : نصر بن علی جہضمی نے پڑھا (2) اور اسے حضرت ابن عباس ؓ سے مکمل روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : (3) مشرک یہ پسند کرتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب آئیں کیونکہ دونوں بت پرست تھے۔ مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے۔ مشرکوں نے اس کا ذکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کیا اور حضرت ابوبکر صدیق نے نبی کریم ﷺ سے کیا : فرمایا : ” خبردار وہ عنقریب غالب آئیں گے۔ “ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس کا ذکر ان سے کیا : مشرکوں نے کہا : ہمارزے اور اپنے درمیان اس کی مدت معین کرو اگر ہم غالب رہے تو ہمارے لئے یہ ہوگا : اگر تم غالب رہے تو تمہارے لئے یہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کے لئے پانچ سال کی مدت کا تعین کیا رومی اس عرصہ میں ایرانیوں پر غالب نہ آئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو نے اس سے زیادہ کا عرصہ کیوں نہیں معین کیا میرا خیال ہے تو نے دس سال کیوں نہیں معین کیا۔ (1) ۔ “ ابو سعید نے کہا : بضع سے مراد دس سے کم ہے : فرمایا : پھر بعد میں رومی غالب آگئے۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان : سے یہی مراد ہے۔ سفیان نے کہا : میں نے سنا وہ ایرانیوں پر بدر کے روز غالب آئے۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے (2) ۔ اور اسے نیار بن مکرم اسلمی سے بھی روایت کیا ہے۔ کہا : جب یہ آیات نازل ہوئیں ان دنوں میں ایرانی رومیوں پر غالب تھے۔ مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر غالب آئیں کیونکہ مسلمان اور وہ اہل کتاب تھے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا۔ قریش یہ پسند کرتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب آئیں کیونکہ مشرف اور ایرانی اہل کتاب نہیں تھے اور نہ کسی دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان رکھتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : حضرت ابوبکر صدیق ؓ مکہ کے اطراف میں چیخ چیخ کر یہ آیات سنا رہے تھے : قریش کے کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا : یہ ہمارے اور تمہارے درمیان شرط ہے : تیرا صاحب یہ گمان کرتا ہے کہ رومی چند سالوں میں فارس پر غالب آجائیں گے، کیا ہم تیرے ساتھ باہم شرط نہ باندھ لیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : کیوں نہیں : یہ واقعہ شرط باندھنے کی حرمت سے پہلے کا ہے : حضرت ابوبکر اور مشرکوں نے شرط لگائی، اور رہن کے طور پر کوئی چیزیں رکھ دیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا : تو بضع سے کتنے سال مراد لیتا ہے تین سال یا نو سال ؟ تو ہمارے اور اپنے درمیان درمیانی مدت مقرر کرو جس پر تو اپنی شرط کا اختتام چاہتا ہے انہوں نے آپس میں چھ سال مقرر کردیئے رومیوں کے غلبہ سے قبل چھ سال گزر گئے، مشرکوں نے حضرت ابوبکر صدیق کا رہن شدہ مال لے لیا جب ساتواں سال داخل ہوا تو رومی ایرانیوں پر غالب آگئے۔ مسلمانوں نے حضرت ابو بکرصدیق ؓ پر چھ سال مقرر کرنے پر عیب لگا : کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہا : اس موقع پر بیشمار لوگ مسلمان ہوگئے۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے (3) تشیری، ابن عطیہ اور دوسرے علماء نے کہا : جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضر ابوبکر صدیق مشرکوں کے پاس گئے فرمایا : کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ رومی غالب آئیں ؟ کیونکہ ہمارے نبی نے ہمیں خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وہ چند سالوں میں عن قریب غالب آجائیں گے ابی بن خلف اور اس کے بھائی امیہ نے آپ کو کہا : ایک قول یہ کیا جاتا ہے ابو سفیان بن حرب نے کہا : اے ابا فصیل : وہ کنایہ کے طور پر ” ابا بکر “ کی جگہ یہ استعمال کرتے تھے۔ آئو ہم شرط باندھ لیں اور اس کیلئے کوئی چیز رہن کے طور پر رکھ لیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ان کے ساتھ شرط باندھ لی اور مال رہن کے طور پر رکھ دیا۔
قتادہ نے کہا : یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ابھی قمار حرام نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے رہن کے طور پر پانچ اونٹیناں رکھیں اور مدت تین سال مقرر کی : ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے رہن کے طور پر تین اونٹیناں رکھیں پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے او واقعہ بتایا۔ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو نے اس کے لمبے عرصے کو کیوں پیش نظر نہیں رکھا، کیونکہ بضع تین، نو اور دس کے درمیان ہوتا ہے بلکہ واپس جائو رہن کے مال میں اضافہ کرو اور ان سے مدت بھی زیادہ لو “ (1) ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اونٹیناں سو کردیں اور عرصہ نو سال کردیا۔ رومی اس کے دوران غالب آگئے۔ امام شعبی نے کہا : وہ نو سال میں غالب آگئے۔ قشیری نے کہا : روایات میں مشہور یہ ہے کہ رومیوں کا غلبہ اس وقت سے ساتویں سال میں ہوا تھا جس وقت ایرانی رومیوں پر غالب آئے تھے، ممکن ہے شعبی سے جس نے روایت کی ہے اس سے سات سے نو میں تصحیف ہوئی ہو۔
بعض روایات میں ہے کہ اونٹیناں سات سے نو کیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کسری ابرویز کی آخری فتح تھی جس میں اس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا یہاں تک کہ اس میں ایک آتشکدہ بنایا : رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ کو بری لگی تو اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات کو نازل فرمایا۔ نقاش اور دوسرے علماء نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہجرت کا ارادہ کیا تو ابی بن خلف نے انہیں پکڑ لیا اور کہا : مجھے رہن کا کوئی ضامن دیجئے اور اگر رومی مغلوب رہیں تو حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کو ضامن بنایا جب ابی نے احد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو عبدالرحم نے اس سے ضامن طلب کیا تو اس نے ضامن دیا۔ پھر ابی مکہ مکرمہ میں اس زخم کی وجہ سے مرگیا جو نبی کریم ﷺ نے اسے لگایا تھا۔ رومی صلح حدیبیہ کے موقع جبکہ شرط باندھنے نو سال گزرے تھے ایرانیوں پر غالب آئے۔ امام شعبی نے کہا : ابھی وہ عرصہ نہیں گزرا تھا یہاں تک کہ رومی ایرانیوں پر غالب آگئے۔ انہوں نے اپنے گھوڑے مدائن میں باندھے اور وہاں رومیہ بنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ابی پر شرط میں غالب رہے اور اس کے وارثوں سے شرط کا مال لیا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اسے صدقہ کر دو “ تو انہوں نے اس کو صدقہ کردیا۔ مفسرین نے کہا : رومیوں کے ایرانیوں پر غلبہ کا سبب ایک عورت تھی وہ فارس میں رہتی وہ بادشاہوں اور بہادروں کو ہی جنا کرتی تھی۔
کسریٰ نے کہا : میرا ارادہ ہے کہ میں تیرے بیٹوں میں سے ایک کو اس لکشر پر امیر مقرر کروں جس کو میں رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار کر رہا ہوں۔ اس عورت نے کہا : یہ ہر مز ہے جو لومڑی سے مکار اور شکرے سے زیادہ محتاط ہے یہ قرخان ہے جو تلوار سے تیز اور تیر سے زیادہ پار ہونے والا ہے
یہ شہر بزان ہے یہ فلاں ہے زیادہ حلم والا ہے اس کا انتخاب کرلے : کہا : اس نے حلیم کو منتخب کرلیا اور اسے اس لشکر کا سپہ سالار بنا دیا وہ اہل فارس کے ساتھ رومیوں کی طرف چلا اور رومیوں پر غالب رہا۔ عکرمہ اور دوسرے علماء نے کہا : شہر بزان جب رومیوں پر غالب آگیا اس نے ان کے گھروں کو برباد کردیا یہاں تک کہ خلیج تک جا پہنچا۔ اس کے بھائی فرحان نے اسے کہا : میں نے اپنے آپ کو کسریٰ کے تخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔
کسریٰ نے شہر بزان کی طرف لکھا : میرے پاس فرحان کا سر بھیج دو تو اس نے ایسا نہ کیا کسریٰ نے ایرانیوں کی طرف خط لکھ بھیجا : میں نے تم پر فرحان کو امیر مقرر کیا ہے اور شہر بزان کو معزول کردیا ہے اور فرحان کی طرح خط لکھا جب وہ لشکر کا والی بن جائے تو وہ شہر بزان کو قتل کر دے۔ فرحان نے شہر بزان کے قتل کا ارادہ کیا تو شہر بزان نے اسے کسریٰ کے تین خط نکال کردیئے جن میں وہ فرحان کے قتل کا اسے حکم دیتا ہے۔ شہر بزان نے فرحان سے کہا : کسریٰ نے تین خط لکھے کہ میں تجھے قتل کر دوں گا میں نے تیرے معاملہ میں ہمیشہ اس کے حکم کو ٹال دیا، کیا تو مجھے ایک خط کی وجہ سے قتل کرتا ہے ؟ اس نے حکومت اپنے بھائی کے سپرد کردی۔ شہر بزان نے قیصر جو رومیوں کا بادشاہ تھا کی طرف خط لکھا، دونوں نے کسریٰ کے خلاف تعاون کا فیصلہ کیا۔ رومی فارس پر غالب آگئے اور کسریٰ مرگیا۔ حدیبیہ کے دن نبی کریم ﷺ کو یہ خبر ملی۔ حضور ﷺ کے ساتھ جو مسلمان تھے وہ سب خوش ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مقصود ہے۔ سے مراد شام کا علاقہ ہے۔ عکرمہ نے کہا : اذرعات کا علاقہ ہے، یہ عرب اور شام کے علاقے کے درمیان کا علاقہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیصر نے ایک امیر بھیجا جس کا نام یحسنس تھا اور کسریٰ نے شہر بزان کو بھیجا ان کا مقابلہ اذرعات اور بصرہ میں ہوا یہ عرب او عجم کی سرزمین کے شام کا قریبی علاقہ ہے مجاہد نے کہا : مراد جزیرہ ہے یہ عراق اور شام کے درمیان کا علاقہ ہے، مقاتل نے کہا : مراد اردن اور فلسطکین کا علاقہ ہے (1) ادنی کا معنی سب سے قریب ہے : ابن عطیہ نے کہا : اگر واقعہ اذرعات میں ہوا تو مکہ کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ قریب ترین علاقہ ہے (2) اس کا ذکر امرئو القیس نے کیا ہے۔
اگر واقعہ جزیرہ میں ہو تو قیاس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کسریٰ کے علاقے کے زیادہ قریب ہے اگر یہ واقعہ اردن میں ہوا تو یہ رومیوں کے علاقہ کے زیادہ قریب ہے۔ جب یہ واقعہ ہوا اور رومی مغلوب ہوگئے تو کفار خوش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بشارت دی کہ رومی عنقریب مغلوب ہوں گے اور جنگ میں انہیں فتح نصیب ہوگی۔
سورتوں کے آغاز میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے حضرت ابو سعید خدری، حضرت علی بن ابی طالب اور معاویہ بن قرہ ؓ نے غین اور لام کے فتحہ کے ساتھ قرأت کی ہے اس کی تاویل یہ ہے کہ یوم بدر کو جو واقعہ ہوا وہ یہ تھا کہ رومی غالب آئے یہ امر قریش کے کفار پر شاق گزارا اور مسلمان اس سے خوش ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خوشخبری دی کہ وہ چند سالوں میں پھر فتح حاصل کرلیں گے۔ ابو حاتم نے اس تاویل کا ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : اکثر لوگوں کی قرأت غین کے ضمہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ حضرت ابو عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ دونوں نے غلب الروم پڑھا اور دونوں نے سیغلبون قرأت کی ہے۔ ابو حاتم نے حکایت بیان کی ہے کہ عصمہ نے ہارون سے روایت کی ہے کہ یہ اہل شام کی قرأت ہے امام احمد بن حنبل کہتے ہیں : یہ عصمہ ضعیف ہے اور ابو حاتم اکثر اس سے حکایت کرتے ہیں۔ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرأت غلبت غین کے ضمہ کے ساتھ ہے اس اخبار میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر دلیل ہے کیونکہ رومیوں پر ایرانیوں نے غلبہ پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خبر دی کہ چند سالوں میں رومی ایرانیوں پر غالب آجائیں گے اور مومن اس سے خوش ہوں گے کیونکہ رومی اہل کتاب ہیں یہ امر علم غیب سے تعلق رکھتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ کیا جس سے وہ آگاہ نہیں تھے اور حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ شرط لگائیں اور شرط میں اضافہ کریں پھر شرط لگانا حرام قرار دیا گیا ہے اور قمار کی حرمت کے ساتھ شرط لگانے کو منسوخ کردیا۔ ابن عطیہ نے کہا : غین کے ضمہ کے ساتھ قرأت زیادہ صحیح ہے (1) ۔ اس پر اجماع کیا کہ قرأت سیغبلبون یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے اس سے مراد رومی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ سیغلبون کو یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اس قرأت میں اس معنی کا قلب ہے جس معنی کی روایات تائید کرتی ہیں۔
ابو جعفر نحاس نے کہا : جس نے قرأت کی اس کے نزدیک معنی ہوگا یعنی ایرانی غلبہ کے بعد مغلوب ہوجائیں گے روایت بیان کی جاتی ہے کہ رومیوں کا مقابلہ ان سے غزوہ بدر کے دن ہوا جس طرح ابو سعید خدری کی حدیث میں ہے جو ترمذی شریف میں موجود ہے۔ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے مقام پر ہوا۔ اور خبر بیعت رضوان کے دن پہنچی، یہ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے : ابن عطیہ نے کہا : دونوں دنوں میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نصیب ہوئی، علماء نے ذکر کیا ہے۔
رومیوں کے غلبہ اور ان کے بارے میں غلبہ کی خواہش پر مسلمانوں کی خوشی کی وجہ یہ تھی کہ رومی مسلمانوں کی طرح اہل کتاب تھے اور ایرانی بت پرست تھے جس کی وضاحت حدیث میں پہلے گزر چکی ہے
نحاس نے کہا : ایک اور قول بھی ہے اور وہ زیادہ بہتر ہے ان کی خوشی کی وجہ یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو پورا کیا، کیونکہ اس میں نبوت پر دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی کہ کچھ سالوں میں یہ ہوگا تو اسی طرح ہوا : ابن عطیہ نے کہا : اس کی علت بیان کرنا مناسب ہے جس کا تقاضا محبت کی نظر کرتی ہے کہ چھوٹا دشمن مغلوب ہوجائے کیونکہ وہ معونت میں ہلکا ہوتا ہے جب بڑا دشمن غالب آتا ہے تو خوف زیادہ ہوتا ہے۔ اس معنی میں غوروفکر کے ساتھ ہی ساتھ رسول اللہ ﷺ دین کے غلبہ اور وہ شریعت جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معبوث کیا اس کے غلبہ امتوں پر آپ کے غلبہ کی امید رکھتے تھے، نیز کفاریہ ارادہ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایسا حاکم مسلط کر دے گا جو ان کو تہس نہس کر دے گا اور حضور ﷺ سے کفار کو آرام پہنچائے گا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی خوشی اسی وجہ سے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ کی مدد کی، کیونکہ جبریل امین نے نبی کریم ﷺ کو یوم بدر کو اس کی خبر دی، قشیری نے اسے بیان کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ احتمال موجود ہے کہ ان کی خوشی ان سب چیزوں کے مجموعہ سے ہو وہ اس لئے خوش ہوتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دشمنوں پر غلبہ دیا، رومی بھی غالب آگئے اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ بھی پورا کردیا ابو حیوہ شامی اور محمد بن سمیقع نے لام کے سکون کے ساتھ قرأت کی ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں : جس طرح ظعن اور ظعن۔
فراء نے گمان کیا ہے کہ اصل من بعد غلبتھم ہے تاء کو حذف کردیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (الانبیائ :73) میں تاء حذف ہے یہ اصل میں اقامۃ الصلاۃ ہے : نحاس نے کہا : یہ غلط ہے یہ اہل نحو میں کثیر تعداد پر امر مشتبہ نہیں کیونکہ اقامہ الصلاۃ مصدر ہے۔ فعل میں کیونکہ حرف میں قاعدہ جاری ہوتا ہے اس لئے مصدر میں بھی قائعدہ جاری ہوگا۔ یہ تاء مخذوف حروف علت کے عوض ہے۔ غلب اس میں کوئی حریف علت نہیں اس سے کوئی چیز حذف نہیں۔ اصمعی نے حکایت بیان کی ہے اس میں کون سا حذف ہے کیا یہ جائز ہوگا کہ کہا جائے اور جو اس کے مشابہ افعال ہیں کیا اس میں حذف ہے ؟
میں ہاء حذف ہے تاکہ مذکر اور مونث میں فرق کیا جائے اس بارے میں گفتگو سورة یوسف میں گزر چکی ہے۔ اور سنین میں نون مفتوح ہے کیونکہ یہ جمع سالم ہے عربوں میں سے کچھ کہتے ہیں جس طرح وہ کہتے ہیں غسلین یہ جائز ہے کہ سنۃ کی جمع اس طرح بنا دی جائے جس طرح ذوالعقول کی جمع دائونون اور یاء نون سے بنائی جاتی ہے کیونکہ اس سے کوئی چیز حذف ہے تو یہ جمع اس نقص کے عوض میں ہو جو نقص اس کے واحد میں ہے کیونکہ سنۃ کی اصل سنہۃ یا سنوۃ ہے اس کے سین کو کسرہ دیا گیا تاکہ اس امر پر دلالت ہو کہ اس کی جمع قیاس سے خارج ہے : یہ بصریوں کا قول ہے۔ فراء پر لازم ہوگا کہ وہ اس کو ضمہ دے کیونکہ وہ کہتا ہے : ضمہ وائو پر دلیل ہے دو قولوں میں سے ایک قول میں سنۃ کی وائو کو حذف کیا گیا ہے ہم کسی ایسے آدمی کو نہیں جانتے جو اس کو ضمہ دیتا ہے
اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ وہ اپنی قدرت میں منفرد ہے عالم میں جو بھی غلبہ وغیرہ واقع ہوتا ہے وہ بھی اس کی جانب سے اس کے ارادہ سے اور اس کی قدرت سے ہی ہوتا ہے۔ فرمایا احکام کا نفاذ اسی کی شان ہے من قبل و من بعد تقدیر کلام یہ ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے ہر شے سے پہلے ہر شے کے بعد۔ دونوں طرفیں ہیں مبنی برضمہ ہیں کیونکہ یہ جن کی طرف مضاف ہیں ان کے حذف کی وجہ سے یہ معروفہ ہیں اس مضاف الیہ کی وجہ سے جو حذف ہے اس کو یہ دونوں اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہیں
یہ اسماء کی تعری کے خلاف ہیں
تضمین میں یہ دونوں حروف کے مشابہ ہیں پس یہ دونوں مبنی ہیں دونوں ضمہ کے ساتھ خاص ہیں کیونکہ یہ دونوں منادی مفرود کے مشابہ ہیں جب یہ نکرہ ہوں اور انہیں مضاف کیا جائے تو ان کی بناء (مبنی ہوتا) زائل ہوجاتا ہے، اسی طرح یہ دونوں ہیں تو ان دونوں کو ضمہ دیا گیا اور کہا جاتا ہے۔ کسائی نے بنی اسد کے ایک آدمی سے یہ حکایت بیان کی ہے : پہلا ظرف کا کلمہ مجرور اور غیر منون ہے اور دوسرا مضموم تنوین کے بعغیر ہے
فراء نے اسے بعد حکایت کی ہے۔ تنوین کے بغیر مجرور ہیں۔ نحاس نے اس کا انکار کیا اور اس کو رد کیا فراء ہے نے اپنی کتاب میں کہا : قرآن میں کثیر اشیاء ہیں جن میں غلطی (1) واضح ہے ان میں سے ایک یہ بچہ ہے کہ اس نے گمان کیا کہ اسے بعد پڑھنا جائز ہے یہ بھی جائز ہے کیونکہ یہ دونوں نکرہ ہیں زجاج نے کہا : معنی ہے مقدم اور متاخر۔
بنصر اللہ اس کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔ اپنے اولیاء میں سے جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، کیونکہ اس کی مدد اس کے اولیاء کی اس کیدشمنوں کے خلاف غلبہ کی صورت میں مختص ہے جہاں تک اس کے دشمن جو اس کے اولیاء کے خلاف غلبہ پاتے ہیں وہ اس کی مدد نہیں وہ تو آزمائش ہے ہاں اسے ظفر کہا جاسکتا ہے وہ انتقام لینے میں غالب ہے اور اطاعت کرنے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔
Ayahs 30:6–7وعدہ کیونکہ اس کا کلام سچا ہے۔ وہ کفار ہیں وہ تعداد میں زیادہ ہیں
ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وعدہ اللہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے پھر وہ جتنا جانتے ہیں اس کی مقدار کو بیان کیا وہ اپنی معاش اور دنیا کے امر کو جانتے ہیں وہ کب فصل کاشت کریں کب کاٹیں کیسے درخت لگائیں اور کیسے عمارت بنائیں ؟ یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد محلات بنانا، نہریں کھودنا او درخت لگانا ہے۔ معنی ایک ہی ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو شیاطین امور دنیا میں سے ان کی طرف القاء کرتے ہیں جب کہ انہوں نے آسمان سے انہیں چوری چھپے سنا تھا یہ سعید بن جبیر کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مراد ظاہر و باطن ہے جس طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : (الرعد 33)
میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ کا قول ظاہر الحیاہ الدنیا کے زیادہ مناسب ہے یہاں تک کہ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اللہ کی قسم : ان میں سے ایک کا دنیا کے بارے میں علم اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہ درہم کی چھان بین کرتا ہے تو وہ تجھے اس کے وزن کے بارے میں آگاہ کرتا ہے اور وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھ سکتا ابو العباس مبرو نے کہا : کسریٰ نے اپنے دنوں کی تقسیم کی ہوئی تھی اس نے کہا : ہوا والا دن نیند کے لئے مناسب ہے، بادل والا دن شکار کے لئے مناسب ہے، بارش والا دن شراب پینے اور لہو و لعب کے لئے مناسب ہے اور دھوپ والا دن ضروریات کے لئے مناسب ہے : اب خالویہ نے کہا : وہ دنیا کی سیاست کے بارے میں جو وہ بہتر جانتے تھے یہی ان دنیا کی زندگی میں سے ظاہر کو جاننا ہے۔ وہ آخرت کے بارے میں علم اور عمل سے غافل ہیں
ان میں سے بعض نے کہا :
یہ بھی آزمائش میں سے ہے کہ تو اپنے لئے ایک ایسا تھی پائے جو انسا کی شکل میں سننے والا دیکھنے والا ہو وہ اپنے مال میں ہر مصیبت کو سمجھ جاتا ہے اور جب اس کے دین میں مصیبت آتی ہے تو اسے محسوس نہیں ہوتا
Ayah 30:8یہ تفکر کی طرف ہے یہ معفول نہیں حرف جر کے ساتھ اس کی طرف متعدی ہے کیونکہ ان کو حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی ذاتوں میں سوچ و بچار کریں انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ آسمان زمین اور اپنی ذاتوں میں فکر و نظر کو استعمال کریں یہاں تک کہ انہیں علم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور دوسری چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے زجاج نے کہا : کلام میں حذف ہے یعنی فیعلموا کیونکہ کلام میں اس پر دلیل ہے الا بالحق فراء نے کہا : معنی ہے حق کے لئے یعنی ثواب اور عقاب کے لئے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مگر اقامت حق کے لئے ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : بالحق کا معنی عدل کے ساتھ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : حکمت کے ساتھ، معنی قریب قریب ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے بالحق وہ حق ہے اور حق کے لئے اسے پیدا کیا وہ اس کی توحید اور قدرت پر دلالت ہے وہ اجعل مسمی آسمان اور زمین کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس وقت پر وہ پہنچ کر وہ ختم ہوجائیں گے وہ یوم قیامت ہے۔ یہ فنا پر تنبیہ ہے اس بات پر تنبیہ ہے کہ ہر مخلوق کے لئے ایک وقت مقرر ہے محسن کے ثواب اور مسئی کے عقاب پر تنبیہ ہے
ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد ہے جو بھی پیدا کیا اسے ایسے وقت میں پیدا کیا اس کا نام رکھا کہ اللہ تعالیٰ اس شے کو اس وقت میں پیدا فرمائے گا۔
لام تاکید کے لئے ہے تقدیر کلام یہ ہے اس میں تقدیم و تاخیر ہے
وہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں تو کہتا ہے ان زید فی الدار الجالس اگر تو کہے تو یہ بھی جائز ہے اگر تو کہے تو یہ بھی جائز نہیں ہوگا کیونکہ لام اس لئے لایا جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ ان کے اسم اور اس کی جزا کی تاکید لائی جائے جب تو ان دونوں کو لا چکے تو یہ جائز نہیں کہ تو اس لام کو لائے اس طرح اگر تو کہے یہ بھی جائز نہیں۔
Ayah 30:9وہ اپنی آنکھوں اور دلوں سے دیکھیں یعنی زمین کو زراعت کے لئے الٹ پلٹ کیا کیونکہ اہل مکہ کا شتکار نہ تھے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (البقرۃ 71)
ان لوگوں نے اسے آباد کیا اس سے بڑھ کر جس قدر ان لوگوں نے اسے آباد کیا ان کی عمارت اور مدت کی طوالت نے انہیں کوئی نفع نہ دیا بینات سے مراد معجزات ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد احکام ہیں انہوں نے کفر کیا اور ایمان نہ لائے۔ انہیں ان گناہوں کے بغیر، رسولوں کے معبوث کئے بغیر اور دلیل کے بغیر ہلاک کرے وہ شرک اور نافرمانی کا ارتکاب کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
Ayah 30:10یہ سوء سے فعلی کا وزن ہے اسے اسوء کا مونث ہے جس کا معنی قبیح ترین ہے جس طرح حسنی یہ احسن کا مونث ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے یہاں نار (جن ہم) مراد ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : آساء کا معنی ہے انہوں نے شرک کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : دلالت کرتا ہے السوئی جہنم کا نام ہے جس طرح حسنی جنت کا نام ہے۔ اصل میں لان کذبو تھا یہ کسائی کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا : یہ اصل میں بان کذبو تھا نافع ابن کثیر اور ابو عمرو نے پڑھا یہ رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اسے مذکر ذکر کیا کیونکہ اس کی تانیث غیر حقیقی ہے۔ السوئی کان کی خبر ہے باقی قراء نے کان کی خبر کی وجہ سے اسے منصوب پڑھا ہے السوئی یہ رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے یہ بھی جائز ہے کہ اس کا اسم التکذیب ہو تقدیرکلام یہ ہوگی۔ اساء و السوئی اور یہ اساء و کا معفول مطلق ہوگا یا مخذوف کی صفت ہوگا، یعنی اعمش سے مروی ہے : انہوں نے پڑھا یعنی السوء پر رفع پڑھا۔ نحاس نے کہا : اسوء سے مراد شدید ترین شر ہے السوءی اس سے فعلی کا وزن ہے
آیات اللہ سے مراد حضرت محمد ﷺ اور قرآن ہے : یہ کلبی کا قول ہے : مقاتل نے کہا : مراد عذاب ہے جو ان پر نازل ہوگا۔ ضحاک نے کہا : مراد حضرت محمد ﷺ کے معجزات ہیں (1) وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 30:11ابو عمرو اور ابوبکر نے یرجعون یاء کے ساتھ پڑھا اور باقی قراء نے تاء کے ساتھ۔ ابو عبدالرحمن سلمی نے یبلس لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا لغت میں معروف یہ ہے جب وہ خاموش ہوجائے اور اس کی محبت منقطع ہوجائے اور اسے امید نہ ہو کہ اس کے لئے حجت ہو اس کے قریب قریب تحیر ہے جس طرح حجاج نے کہا :
اے میرے ساتھی ! کیا تو رسم مکرسی جانتا ہے اس نے کہا کہاں میں اسے پہچانتا ہوں اور متحیر ہوگیا۔
بعض نحویوں کا خیال ہے کہ ابلیس اس سے مشتق ہے وہ متحیر ہوگیا کیونکہ اس کی صحبت منقطع ہوگئی اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح اس نے کہا تو یہ اسم منصرف ہوتا جبکہ قرآن میں یہ غیر منصرف ہے زجاج نے کہا : مبلس سے مراد ایسی خاموش ہے جس کی حجت منقطع ہوجائے اور ہدایت پانے سے مایوس ہوجائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انہوں نے جن کی عبادت کی انہوں نے کہا : وہ معبود نہیں انہوں نے معبودوں سے برأت کا اظہار کردیا اور معبودوئوں نے ان سے برِأت کا اظہار کردیا جس طرح پہلے کئی مواقع پر گزر چکا ہے۔
Ayahs 30:12–13یعنی مومن کافروں سے جدا ہوجائیں گے پھر اس امر کی وضاحت کی کہ وہ کیسے جدا جدا ہوں گے فرمایا : نحاس نے کہا : میں نے زجاج کو کہتے ہوئے سنا : اما کا معنی ہے جس بحث میں ہم پڑے ہوئے ہیں اس کو چھوڑ دو اور کسی دوسری بات میں شروع ہو جائو سیبویہ نے اسی طرح کہا ہے : ضحاک نے کہا : روضہ سے مراد باغ ہے اور ریاض سے مرد باغات ہیں ابو عبید نے کہا : روضہ اسے کہتے ہیں جو نشیبی جگہ میں ہو جب وہ بلند جگہ ہو تو اسے ترعۃ کہتے ہیں ایک اور عالم نے کہا : بہترین روضہ وہ ہوتا ہے جو وہ بلند جگہ پر ہو۔ اعمش نے کہا :
اونچی جگہ کے باغوں سے بڑھ کر کوئی باغیچہ جو گھاس والا ہو سرسبز و شاداب ہو جس پر موسلادھار بارش نے سخاوت کی ہو پانی سے لبریز کلیاں سورج کے گرد گھومتی ہیں جنہوں نے مکمل نباتات کا تہبند باندھ رکھا ہے اور وہ نباتات اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے کوئی دن اس سے بڑھ کر زیادہ خوشبو والا نہیں ہوتا اور نہ ہی عصر کے وقت اس سے زیادہ جمال والا ہوتا ہے۔
روضہ نہیں کہا جاتا مگر جب اس میں گھاس ہو اگر اس میں گھاس نہ ہو اور وہ بلند جگہ پر ہو تو اسے ترعہ کہتے ہیں ترعہ کی تعبیر میں اور اقوال بھی ہیں : قشیری نے کہا : عربوں کے نزدیک روضہ سے مراد تالاب کے ارد گرد سبزیاں ہیں عربوں کے ہاں اس سے حسین ترین چیز کوئی نہیں ہوتی۔ جوہری نے کہا : اس کی جمع روض اور ریاض آتی ہے وائو یاء ہوگئی ہے کیونکہ اس کا ماقبل مکسور ہے روض جب پانی کی مشکیزہ میں اس کے نصف تک ہو اور حوض میں روضہ اس وقت بولتے ہیں جب پانی اس کے نچلے حصہ کو ڈھانپے ہوئے ہو۔ ابو عمرو نے شعر پڑھا :
کتنے ہی تالاب ہیں جن سے میں نے اپنی سواری کو سیراب کیا۔
ضحاک اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے ان کی عزت کی جائے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر انعام کیا جائے گا، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ خوش ہوں گے سدی نے کہا : وہ خوش ہوں گے، عربوں کے ہاں حبرہ سے مراد سرور و فرحت ہے، ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے۔ جوہری نے کہا : حبر سے مراد حبور ہے جس کا معنی سرور ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یعنی ان پر انعام کیا جائے گا، ان کی تعظیم کی جائے گی اور وہ خوش ہوں گے رجل یحبور یعفول کا وزن ہے جو حبور سے مشتق ہے۔
نحاس نے کہا : کسائی نے حکایت بیان کی ہے حبرۃ میں نے اس کی تعظیم کی میں نے اس پر انعام کیا۔ میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا۔ یہ عربوں کے اس قول سے مشتق ہے علی اسنانہ حبرۃ یعنی اس کے دانتوں پر اثر ہے۔ ان پر نعمتوں کا اثر ہے۔ حبر اس سے مشتق ہے۔ شاعر نے کہا :
ڈول کو نہ بھر اس میں کچھ خالی جگہ چھوڑ کیا جو پانی پلاتا ہے اس کی فضلیت کو نہیں جانتا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی اصل تحبیر ہے جس کا معنی ” تحسین “ ہے یحبرون جس کو حسین بنایا جاتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے جب وہ جمیل اور اچھی حالت والا ہو یہ بھی کہا جاتا ہے گویا تیرے اس قول کا مصدر ہے جب تو اس کو حسین بنائے پہلا اسم ہے۔
اس معنی میں حدیث ہے : ایک آدمی جہنم سے نکلے گا تو اس کا حسن جا چکا ہوگا۔ “
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا : کا معنی ہے وہ جنت میں غنا سنیں گے، یہ اوزاعی کا قول ہے : کہا جب جتنی سماع شروع کریں گے تو جنت میں کوئی درخت نہیں ہوگا مگر وہ تسبیح و تقدیس کے ساتھ اس کا نغمہ کا جواب دے گا اوزاعی نے کہا : حضرت اسرافیل سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی اچھی آواز والا نہیں جب وہ شروع کریں گے تو ساتویں آسمان والے اپنی نمازیں اور تسبیحات ترک کردیں گے۔ (1)
امام اوزاعی کے علاوہ دوسرے علماء نے کہا : جنت میں کوئی درخت نہیں ہوگا مگر وہ اس کا جواب دے گا کوئی پرواہ اور دروازہ نہیں ہوگا مگر اس میں ارتعاش پیدا ہوگا اور وہ کھل جائے گا کوئی حلقہ نہیں رہے گا مگر مختلف آوازوں کے ساتھ بجنے لگے گا اور سونے کی جھاڑیوں میں سی کوئی جھاڑ نہی بچے گی مگر ان کے تنوں سے آواز واقع ہوگی اور وہ اتنے بانسری کے نغمے الاپنے لگیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو وحی کرے گا کہ انہیں جواب دو اور میرے ان بندوں کو سنائو جنہوں نے اپنے کانوں کو شیاطین کے مزامیر سے پاک رکھا وہ مختلف رو وحانی ارشاد فرمائے گا : اے دائود : میرے عرش کے پائے کے ساتھ کھڑے ہو جائو اور میری بزرگی بیان کرو۔ حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے رب کی بزرگی ایسی آواز سے بیان کرنے میں شروع ہوجائیں گے جو تمام آوازوں پر غالب آجائے گی، انہیں جلا بخشے گی اور لذت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے : ترمذی حکیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔
ثعلبی نے حضرت ابو درداء ؓ کی حدیث کا ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نصیحت فرمایا کرتے (2) آپ نے جنت اور اس میں جو کچھ بیویاں اور نعمتیں ہیں ان کا ذکر کیا، لوگوں کے پیچھے ایک بدو بیٹھا ہوا تھا اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت میں سماع ہے ؟ فرمایا ” ہاں : اے بدو : جنت میں ایک نہر ہوگی جس کے دونوں کناروں پر با کرہ عورتیں ہوں گی جو پتلی کمروں والی ہوں گی جو مختلف آوازوں میں گانا گائیں گی۔ جس کی مثل مخلوق نے نہ سنا ہوگا یہ جنت کے نعمتوں میں سے افضل نعمت ہوگی “ ایک آدمی نے حضرت ابو دردا ؓ سے سوال کیا ؟ وہ کیا نغمے گائیں گی ؟ فرمایا :” اللہ تعالیٰ کی تسبیح “۔ خمصانیہ سے مراد جن کا لباس، اعلی پتلی کمر اور نچلے والا دھڑ ضخیم۔
میں کہتا ہوں یہ سب نعیم، سرور اور اکرام میں سے ہے اقوال میں کوئی تعارض نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کیا نسبت رکھتے ہیں (السجدۃ 17) جس کا ذکر آئے گا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے اس میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا و گا کسی کان نے نہیں سنا ہوگا اور کسی انسان کے دل پر اس کا کھٹکا بھی نہ ہوا ہوگا یہ روایت کی گئی ہے :” جنت میں ایسے درخت ہیں جن پر چاندی کی گھنٹیاں ہوں گی جب اہل جنت کا سماع کا ارادہ کریں گے اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے ایک ہوا بھیجے گا وہ گھنٹیاں ایسی آواز کے ساتھ قرأت کریں گی اگر اہل دنیا اس کو سنیں تو خوشی سے مر جائیں “ (1) یہ زمحشری نے ذکر کیا۔
Ayahs 30:14–16اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ اس سے مراد بعث ہے۔
وہ عذاب میں مقیم رہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ جمع ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ نازل ہوں گے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
احدکم الموت یہاں بھی موت نازل ہوگی، یہ ابن شجرہ کا قول ہے معنی قریب قریب ہے۔
Ayahs 30:17–19اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1:۔
اس میں تین قول ہیں (1) ان اوقات میں عبادت کے امرا اور نماز پر برانگخیۃ کرنے کے ساتھ مومومنوں کو خطاب ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قرآن میں پانچ نمازوں کا ذکر ہے (2) آپ سے عرض کی گئی کہاں ؟ فرمایا اللہ کا فرمان ہے : اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ مراد صبح کی نماز ہے، عصر کی نماز، مراد ظہر کی نماز، یہ ضحاک اور سعید بن جبیر کا قول ہے : حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے : آیت میں چار نمازوں پر تنبیہ ہے مغرب، صبح، عصر اور ظہر، علماء نے کہا عشاء اور ایک اور آیت میں ہے۔ (ہود 114) اور پردہ کے اوقات میں ہے۔ نحاس نے کہا : اہل تفسیر کا کہنا ہے کہ یہ آیت نمازوں کے متعلق ہے میں نے حضرت علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا اس کی حقیقت میرے پاس ہے نمازوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو کیونکہ تسبیح نماز میں ہوتی ہے۔ یہ دوسرا قول ہے تیسرا قول ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو۔ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ پہلا قول ذکر کیا ہے اس میں لفظ ہے : اللہ تعالیٰ کی نماز پڑھو جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو نماز کو تسبیح کا نام دینے کی دو ج ہیں ہیں : (1) نماز رکوع اور سجود میں تسبیح کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے (2) یہ سبحہ سے ماخود ہے سبحہ کا معنی نماز ہے۔ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے القیامۃ قیامت کے روز ان کی نماز نہیں ہوگی (1) ۔
مسئلہ نمبر 2:۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات پر حمد کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : کا معنی ہے نماز اسی کے لئے ہے کیونکہ حمد کی قرأت کے ساتھ خاص ہے پہلا قول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے حمد اللہ تعالیٰ کی ایک قسم کی تعظیم ہے اس کی عبادت پر برانگیختہ کرنا ہے اور اس کی نعمت کے دوام پر دلیل ہے یہ نماز کے علاوہ ایک قسم ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ نماز مغرب سے اس کا ذکر شروع کیا کیونکہ رات دن پر مقدم ہوتی ہے سورة اسراء میں ظہر کی نماز سے شروع کیا کیونکہ یہ پہلی نماز ہے جو جبریل امین نے پڑھی۔ ماوردی نے کہا : رات کی نماز کو تسبیح کے نام اور دن کی نماز کو حمد کے نام کے ساتھ خاص کیا کیونکہ انسان کو دن کے وقت میں مختلف کاموں میں ادھر ادھر جانا پڑتا ہے۔ جو اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کو واجب کرتے ہیں رات میں خلوت ہوتی ہے جو تمام برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پاکی کو واجب کرتے ہیں اسی وجہ سے دن کے وقت حمد خاص ہوئی اس کے ساتھ دن کی نماز کا نام رکھا اور رات کے وقت تسبیح خاص ہوئی اس کے ساتھ رات کی نماز کا نام رکھا۔
مسئلہ نمبر 3:
عکرمہ نے پڑھا : اصل کلام یوں ہے تخفیف کے لئے فیہ کو حذف کردیا اس میں گفتگو اس طرح ہے جس طرح اس ارشاد میں گفتگو ہے (البقرۃ 48) جوہری نے کہا : العش سے مراد مغرب کی نماز ہے رات کے ایک تہائی کا وقت ہے تو کہتا ہے کی تصغیر عشیان ہے یہ اپنے مکبر سے خلاف قیاس ہے گویا انہوں نے اس کی تغصیر عشیان بنائی اس کی جمع عشیانات ہے اس کی تصغیر میں عشیشان ہے جمع شیینیات ہے عشیۃ کی تصغیر عشیۃ ہے جمع عشیشیات ہے عشاء کسرہ اور مد کے ساتھ عشی کی مثل ہے عشاء ان سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے ایک قوم کا خیال ہے عشاء سے مراد سورج کے زوال سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت ہے انہوں نے یہ شعر پڑھا۔
اس شعر میں بھی عشاء کا لفظ نصف النہار کے بعد سے لے کر اگلے دن کی صبح تک کا لیا گیا ہے۔
ماوروری نے کہا : عشاء سے مراد دن کا آخری پہر ہے جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکے یہ عشاء العین سے ماخوذ ہے جس سے مراد آنکھ کے نور کا کم ہونا ہے جس طرح سورج کا نور کم ہوجاتا ہے۔
” نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور یونہی (قبروں) سے تمہیں نکالا جائے گا۔ “
اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت کو بیان کیا یعنی جس طرح اس نے زمین کو زندہ کیا اس سے نباتات کو نکال کر، جبکہ اس کا نام و نشان نہ تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ اٹھانے کے ساتھ زندہ کرے گا اس میں قیاس کی صحت پر دلیل ہے سورة آل عمران میں کی وضاحت گزر چکی ہے۔
Ayahs 30:20–26ومن ایتہ ان خلکم۔۔۔۔۔ اس کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کی علامات میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہارے جدا اعلی کو مٹی سے پیدا کیا اور فرع اصل کی طرح ہوتی ہے۔ سورة الانعام میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے ان محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اسی طرح۔
پھر تم عقلاء ہو، با معنی کلام کرتے ہو، ایسے امور میں تصرف کرتے ہو جو تمہاری معاش کا سہارا ہیں اس کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے جو اس پر قادر ہے وہ عبادت اور تسبیح کا اہل ہے۔ یعنی عورتیں جن سے تم سکون حاصل کرتے ہو مردوں کے نطفہ سے اور اپنی جنس سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت حوا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا یہ قتادہ کا قول ہے (1) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : مردۃ سے مراد جماع ہے اور رحمت سے مراد ولد ہے یہ قول حضرت حسن بصری نے بھی کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے مردۃ اور رحمۃ سے مراد ان کے دلوں کا ایک دوسرے پر مہربانی کرنا ہے سدی نے کہا : مردۃ سے مراد محبت اور رحمت سے مراد شفقت ہے یہی معنی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا : مردۃ سے مراد مرد کا اپنی عورت سے محبت کرنا ہے اور رحمتہ سے مراد مرد کا اپنی عورت کے بارے میں رحیم ہونا کہ اسے کوئی اذیت پہنچائے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ مرد کی اصل زمین ہے اس میں زمین کی قوت ہے اس میں شرمگاہ ہے جس سے اس کی تخلیق کا آغاز ہوا تو اسے ضرورت تھی کہ جس سے وہ سکون حاصل کرے عورت کو پیدا کیا گیا تاکہ مرد اس سے سکون حاصل کرے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : مرد کو عورت سے پہلا فائدہ جو ہوتا ہے وہ یہ ہے، اسے عورت سے سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ مرد میں قوت کا جوش ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب شرمگاہ اس میں موجود ہے تو پشت کا پانی اس کی طرف ہیجان کرتا ہے تو مرد عورت سے ہی سکون حاصل کرتا ہے اور عورت کے ذریعے وہ اس ہیجان سے خلاصی پاتا ہے۔ عورتوں کے بضع مردوں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الشعرائ 166) اللہ تعالیٰ نے مردوں کو آگاہ کیا کہ عورتوں کا وہ حصہ مردوں کے لئے پیدا کیا گیا تو عورت پر لازم ہے کہ خاوند جب بھی اسے دعوت دے وہ اسے پیش کردے اگر وہ ایسا کرنے سے روک جاتی ہے تو وہ ظالم اور حرج عظیم میں مبتلا ہے تیرے لئے وہ حدیث کافی ہے جو صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر آنے کی دعوت دیتا ہے وہ عورت اس کے پاس آنے سے انکار کردیتی ہے تو آسمان میں جو بھی ہے وہ اس پر ناراض ہوجاتا ہے یہاں تک کہ خاوند اس عورت پر راضی ہوجائے۔ “ (1) ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں ” جب ایک عورت اپنے خاوند کے بستر سے علیحدہ رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ صبح کرتی ہے “ (2)
سورۃ بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے وہ اعتراف کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے زبان منہ میں ہوتی ہے اس کی کئی لغتیں ہیں، عربی، عجمی، ترکی اور رومی۔ رنگوں کا اختلاف صورتوں میں ہوتا ہے سفید، سیاہ، سرخ تو کسی کو نہیں دیکھے گا مگر تو اس کے اور اس کے غیر میں فرق کرلے گا یہ نطفہ کے افعال نہیں یہ والدین کے افعال میں سے نہیں کسی نہ کسی فاعل کا ہونا ضروری ہے تو اس سے معلوم ہوگیا کہ فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مدبر اور باری (خالق) ہونے پر قطعی دلیل ہے۔
اس میں نیک و بد کے لئے نشانیاں ہیں۔ حفص نے اسے للعالمین لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ عالم کی جمع ہے وہ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس آیت میں تقدیم و تاخیر کا قاعدہ ہے معنی ہے اس کی آیات میں سے کہ تم رات کو سو جاتے ہو اور دن کے وقت اس کا فضل تلاش کرتے ہو۔ النھار سے پہلے حرف جار کو حذف کردیا گیا کیونکہ یہ اللیل کے ساتھ متصل ہے اور النھار کا عطف اللیل پر ہے وائو عاطفہ حرف جر کے قائم مقام ہوجاتا ہے جب وہ معطوف علیہ کے ساتھ متصل ہو خصوصاً اسم ظاہر میں رات کے وقت نیند کو موت پر دلیل بنایا اور دن کے وقت تصرف کو بعث پر دلیل بنایا۔ یہاں سماع سے مراد تفہم اور تدبر کا سماع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ حق سنتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ عظ کو سنتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ قرآن سنتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں معنی قریب قریب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ان سب سے کچھ ایسے بھی تھے جب قرآن پڑھا جاتا ووہ حاضر ہوتے تو وہ اپنے کانوں کو بند کرلیتے یہاں تک کہ وہ اسے نہ سنتے، اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کو ان پر واضح کیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے ان یریکم ان کو حذف کردیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتی ہے طرفہ نے کہا :
اے مجھے ملامت کرنے والے کہ میں جنگ میں حاضر ہوتا ہوں اور لذات میں حاضر ہوتا ہوں کیا تو مجھے ہمیشہ کی زندگی عطا کرسکتا ہے ؟
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں تقدیر کلام یہ ہے اس کی آیات میں سے ایسی آیت ہے جو تمہیں بجلی دکھاتی ہے جس طرح شاعر نے کہا :
زمانہ نہیں مگر دو باریاں ان میں ایک میں مرتا ہوں اور دوسری باری میں زندگی کے لئے تگ و دو کرتا ہوں شعر میں بھی تقدیم و تاخیر ہے
ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی آیات میں سے ہے وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے اپنی آیات سے ڈراتے اور طبمع دلانے کے لئے یہ زجاج کا قول ہے : پس جملہ کا عطف جملہ پر ہے۔ خوفا مسافر کو خوف دلانے اور مقیم کو امید دلانے کے لئے یہ قتادہ کا قول ہے (3) ، ضحاک نے کہا : کڑک سے خوف اور بارش میں طمع دلانے کے لئے، یحییٰ بن سلام نے کہا : سردی سے خوف کہ کہیں کھیتی ہلاک ہی نہ ہوجائے (4) اور بارش میں طمع کے لئے کہ وہ کھیتی کو زندہ کرے۔ ابن بحر نے کہا : خوف اس چیز کا بجلی ایسی بجلی نہ ہو جو نظرو ہی کو اچک ہی نہ لے اور بارش نہ برسائے اور بارش برسانے کی طمع (5) شاعر کا شعر پڑھا :
تیری بجلی برق خلب نہ ہو بہترین بجلی وہ ہوتی ہے جس کے ساتھ بارش بھی ہو۔
ایک اور شاعر نے کہا :
برق خلب اسے کہتے ہیں جس میں بارش نہیں ہوتی گویا وہ دھوکہ کرنے والی ہوتی ہے اس معن میں اسے کہا جاتا ہے جو وعدہ کرے اسے پورا نہ کرے خلب ایسے بادل کو بھی کہتے ہیں جس میں بارش نہ ہو یوں بھی کہا جاتا ہے یعنی مضاف مضاف الیہ کی صورت میں۔
اس کے بارے میں بحث گزر چکی ہے
ان محل رفع میں ہے جس طرح یہ بحث پہلے گزر چکی ہے آسمانوں کا قیام اور ان کا ٹھہرائو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ بغیر ستونوں کے ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی تدبیر اور اس کی حکمت کے ساتھ یعنی اللہ تعالیٰ مخلوق کے منافع کے لئے بغیر ستونوں کے انہیں روکے ہوئے ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مخلوق کے منافع کے بغیر ستونوں کے روکے ہوئے ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے بامرہ سے مراد باذنہ ہے معنی ایک ہی ہے۔
وہ ذات جس نے یہ اشیاء بنائیں وہ اس پر قادر ہے کہ وہ تمہیں تمہاری قبروں سے اٹھائے مراد یہ ہے اس کا وجود تیزی سے ہوتا ہو اس میں کسی قسم کا توقف اور ٹھہرائو نہیں ہوتا جس طرح اس بلانے والے کو بلایا جانے والا جواب دیتا ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہو، جس طرح کسی قائل نے کہا :
میں نے کلیب کو اس کے نام سے بلایا گویا میں نے صدائے باز گشت کو دعوت دی یا اس سے بھی وہ تیز تھا۔
راس الصقود سے مراد وہ صدائے باز گشت لیتا ہے یا وہ پتھر جو لڑھکتا ہے اس کا عطف السموات اور الارض پر ثم سے کیا کیونکہ اس امر سے جو وقوع پذیر ہوگا وہ بہت ہی عظیم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ایسی چیزوں پر قادر ہونا یہ بھی اس کی عظمت پر دلیل ہے وہ یہ فرمائے گا اے قبر والو : اٹھ کھڑے ہو، تو اولین و آخرین میں سے کوئی روح نہ ہوگی مگر وہ دیکھنے لگے گی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الزمر)
پہلا اذا جو میں ہے شرط کے لئے ہے اور دوسرا اذا میں ہے مفاجات کے لئے ہے۔ یہ اس فاء کے قائم مقام ہے جو جواب میں شرط ہوتی ہے قراء کا یہاں تاء کے فتحہ میں جو تنخرجون میں ہے سب کا اتفاق ہے سورة اعراف نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ابو عبید اسی کی طرف میلان رکھتے ہیں دونوں معنی قریب قریب ہیں مگر اہل مدینہ نے سباق کلام کی وجہ سے دونوں میں فرق کیا ہے سورة اعراف میں سیاق کلام ضمہ کے زیادہ مشابہ ہے یعنی جب وہ تمہیں دعوت دے گا تو تم نکل پڑو گے یعنی تم اطاعت کرو گے تو فعل ان کے مناسب ہے یہ نکلنا اس وقت ہوگا جب حضرت اسرافیل دوسرا نفحہ پھونکیں گے جس طرح پہلے گزرا اور بعد میں آئے گا۔ اسے تخرجون کے ضمہ اور اس کے فتحہۃ کے ساتھ پڑھا گیا ہے، زمحشری نے اسے ذکر کیا اور اس پر کسی چیز کا اضافہ کیا اور جو ہم نے فرق بیان کیا ہے اس کا ذکر بھی نہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
خلق، ملک اور بندہ ہونے کے اعتبار سے آسمان و زمین اسی کے ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں قرآن حکیم میں جہاں بھی قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت ہے نحاس نے کہا وہ انقیاء کی سی اطاعت کرتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ عبودیت کا اقرار کرتے ہیں خواہ وہ قولا ہو یا دلاۃ ہو، یہ قول عکرمہ اور ابو مالک اور سدی کا ہے (1)
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قاتنون کا معنی ہے اس کی نماز پڑھتے ہیں (2) ربیع بن انس نے کہا : اس کا معنی ہے قیامت کے روز اس کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔ (3) جس طرح فرمایا : (المطففین) اس روز لوگ حساب کے لئے کھڑے ہوں گے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یہ سب گواہی دیں گے کہ وہ ہر ایک اس کا بندہ ہے (4) سعید بن جبیر نے کہا : کا معنی ہے وہ مخلص ہوں گے (5)
Ayah 30:27پیدائش کا آغاز کرنے سے مراد رحم میں اس کی ولادت سے قبل نطفہ کو رحم کے ساتھ چسپاں کرنا ہے جہاں تک اس کے اعادہ کا تعلق ہے تو موت کے بعد بعث کے لئے دوسرے نفحہ کے ساتھ اسے زندہ کرنا ہے انسان کی پیدائش کا آغاز جو معلوم ہے اسے اس کے اعادہ پر دلیل بنایا ہے جو مخفی ہے یہ غائب کا شاہد پر استدلال کرنا ہے پھر اسے اپنے اس ارشاد کے ساتھ موکد کیا، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر ؓ سے قرأت کی ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (البروج) عام قرأت کی دلیل ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الاعراف) ہون ھین کے معنی میں ہے یعنی دوبارہ زندہ کرنا اس پر آسان ہے یہ ربیع بن خثیم اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ (6) ھون یہ ھین کے معنی میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی بھی چیز کسی شے کے مقابہل میں آسان نہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : جس نے اھون کی تعبیر یہ کی کہ ایک شے سے دوسری شے پر فضلیت رکھتی ہے اس کا قول اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ مردود ہے۔ (النسائ) اور اس فرمان کے ساتھ مردود ہے۔ (البقرہ 255) عرب افعل کے صیغہ کو فاعل پر محمول کرتے ہیں۔ اسی معنی میں فرزدق کا قول ہے :
وہ ذات جس نے آسمان بنایا اس نے ہمارے لئے ایسا گھر بنایا جس کے ستون مضبوط اور طویل ہیں۔
اس شعر میں کے معنی ہیں ایک اور شاعر نے کہا :
تیری زندگی کی قسم : میں نہیں جانتا جبکہ میں ڈر رہا ہوں کہ ہم میں سے کس پر پہلے موت آجائے گی۔ شعر میں اوجل سے مراد دجل ہے ابو عبیدہ نے یہ شعر پڑھا ؎
میں تجھے بےتوجہی دوں گا تیری قسم میں اس بےتوجہی کے باوجود مائل ہوں۔
اس شعر میں بھی امیل مائل کے معنی میں ہو گا
احمد بن یحییٰ نے یہ شعر پڑھا۔
لوگ میری موت کی آرزو کرتے ہیں اگر میں مرگیا تو وہ ایسا راستہ ہے جس میں میں تنہا نہیں۔
اس شعر میں بھی اوحد واحد کے معنی میں ہے ایک اور شاعر نے کہا :
تیری زندگی کی قسم ! زبرقان مال خرچ کرنے والا ہے اس کی نیکی کئی سالوں تک فضلیت رکھتی ہے۔
یہاں بھی افضل فاضل کے معنی ہے اس کے معنی میں ان کا قول ہے اللہ اکبر اس کا معنی ہے اللہ کبیر، معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں ہے مجاہد اور عکرمہ اور ضحاک نے کہا : معنی ہے اللہ تعالیٰ پر دوبارہ زندہ کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے والے سے آسان ہے (1) ۔ اگرچہ سب امور اللہ تعالیٰ پر آسان ہیں یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اس کی توجیہ یہ ہے کہ یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے بیان فرمائی ہے۔ (2)
ارشاد فرمایا : مخلوقات پر شے کو لوٹانا اس کی ابتدا سے آسان ہوتا ہے تو چاہے کہ جو تمہارے نزدیک اور تمہارے درمیان شروع کرنے پر قادر ہے اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ علیہ میں ضمیر مخلوقین کے لئے ہو، یعنی مخلوق پر آسان ہو، ان پر ایک چیخ ماری جائے گی وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور انہیں کہا جائے گا ہو جائو تو وہ ہوجائیں گے یہ ان پر آسان ہوجائے گا کہ وہ نطفہ ہوں جما ہوا خون ہوں پھر مضغہ ہوں پھر جنین ہوں پھر طفل ہوں پھر غلامان ہوں پھر جوان ہوں پھر مرد و عورت ہوں یہ حضرت ابن عباس ؓ اور قطرب نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا : اھون کا معنی ہے زیادہ آسان
ربیع بن خثیم نے کہا : علیہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز غالب نہیں، عکرمہ نے کہا : کفار نے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے بارے میں تعجب کا اظہار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے جو بھی ارادہ کیا وہ ہوگیا خلیل نے کہا : مثل سے مراد صفت ہے : یعنی اس کی اعلیٰ شان ہے : جس طرح فرمایا : (الرعد) یہاں مثل سے مراد صفت ہے۔ اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ مجاہد سے مروی ہے سے مراد لا الہ الا اللہ کا قول ہے : اس کا معنی ہے جس کے لئے اعلیٰ وصف ہے وہ ارفع ہے جس کی صفت واحدنیت ہے قتادہ نے بھی اسی طرح کہا : مثل اعلیٰ یہ لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کرتا ہے : (الروم 28) جس کی وضاحت ہم ابھی کریں گے ان شاء الہ، زجاج نے کہا : سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مثال بیان کی ہر ایسی چیز میں جو مشکل ہے اور آسان ہے وہ پہلی تفسیر کا ارادہ کرتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اس کی مثل کوئی بھی نہیں (1) اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔