30. Surah Ar-Room
الرومThe Romans · 60 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
(سورۃ نمبر ٣٠ ۔ کل رکوع ٦ ۔ آیات ٦٠ ۔ الفاظ و کلمات ٨٠ ۔ حروف ٤٤١٠ ۔ مقام نزول مکہ مکرمہ ۔ ) ( سورة روم ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان رسالت، حشر و نشر، قیامت، آخرت ، جزا و سزا، مشرکانہ اعمال کی مذمت، جنت و جہنم، اللہ کی قدرت کی نشانیوں ، قرآن کریم کا نزول اور دنیا کی بدکارقوموں کے برے انجام کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ) جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ آزاد، خودمختار زندگی گذار رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے قبیلوں میں تقسیم تھے اور آپس ہی میں ایک دوسرے سے بات بات پر لڑتے جگھڑتے اور قتل و غارت گری کرتے رہتے تھے۔ اسی زمانہ میں (جو معلوم دنیاتھی) اس میں دو باقاعدہ زبردست سلطنتیں تھیں جو سپر پاورز (Super Powers) کی حیثیت رکھتی تھیں اور ساری معلوم دنیا پر حکومت کر رہی تھیں اور ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے آپس میں ٹکراتی رہتی تھیں۔ قیصر روم کی سلطنت ملک شام، مصر، فلسطین، اردن اور افریقہ اور ایشیا کے بعض ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ ساب مسیحی تھے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے تھے۔ دوسرے بڑی ایرانی سلطنت مجوسیوں یعنی آگ کو اپنا معبود ماننے والوں کی تھی جس کا سربراہ خسرہ پرویز تھا۔ ان دونوں طاقت ور حکومتوں کے درمیان ساتویں صدی عیسوی میں زبردست اور خونریز جنگیں ہوئیں۔ ایرانی بادشاہ خسرو پرویز کی للچائی ہوئی نظریں ہمیشہ رومی سلطنت کو حاصل کرنے کی طرف لگی رہتی تھیں۔ جب روم میں قیصر کے خلاف اندرونی بغاوت ہوئی تو ایرانی بادشاہ کو رومی سلطنت پر حملہ کرنے کا ایک بہانہ ہاتھ آگیا۔ اس کی فوجوں نے رومیوں کے انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئی رومیوں کو ہر محاذ پر بری طرح شکست دینا شروع کی، رومیوں کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے روم کی سلطنت کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ ہزاروں عیسائیوں گا قتل عام کیا گیا۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کر کے ہزاروں عورتوں اور مردوں کو غلام بنا لیا گیا تھا۔ ( جب یہ سورة نازل ہوئی تو اس وقت مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کفار مکہ کے ظلم و ستم کی انتہا ہوچکی تھی۔ کفارومشرکین اہل ایمان کو مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے اور جس سے انسانیت بھی شرما جائے اس ظلم و زیادتی سے باز نہیں آ رہے تھے۔ یہاں تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے صحابہ کرام (رض) مکہ چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت شروع کرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دینے کے لیے قیصرو کسریٰ جیسی طاقتوں والی قوموں کے مٹنے اور بننے کے واقعہ کو بیان کر کے بتایا ہے کہ اہل ایمان بہت جلد کامیاب ہوں گے اور کفار مٹادیئے جائیں گے۔ ) اس طرح خسرو پرویز نے سلطنت روم کو جڑ و بنیاد سے کھود کر رکھ دیا۔ ٹھیک یہی وہ زمانہ تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اور جب مجوسیوں نے عیسائیوں کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی تو عرب کے کفارومشرکین مجوسیوں کی فتح پر بہت خوش تھے کیونکہ جس طرح مجوسی آگ کو پوجتے تھے اسی طرح مکہ کے کفاربتوں کو پوجتے تھے۔ اس کے بر خلاف اہل ایمان کو یہ بتایا گیا تھا کہ عیسائی اہل کتاب ہیں جو اگرچہ اصل تعلیم سے بہت دور جاچکے ہیں مگر اللہ کو اور وحی کو کسی حد تک مانتے تھے۔ اس لیے رومیوں کی سلطنت کے زوال پر مکہ کے مظلوم مسلمان رنجیدہ تھے۔ پھر کفار مکہ بھی کھل کر یہ کہنے لگے تھے کہ جس طرح آگ پرستوں نے عیسائیوں کو تباہ کردیا ہے اسی طرح مکہ کے لوگ بھی مسلمانوں کو اسی طرح تباہ و برباد کر کے ان کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کریں گے۔ ان طعنوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو بہت صدمہ پہنچتا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورة روم کو نازل فرما کر تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ ان حالات سے بالکل رنجیدہ اور پریشان نہ ہوں کیونکہ حالات بہت جلد بدلنے والے ہیں اور رومی جو شکست کھاچکے ہیں وہ چند برسوں میں پھر سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة روم کی ابتدائی آیتوں میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ بیشک آج رومی شکست کھاچکے ہیں لیکن چند برسوں (تین سے نو سال کے درمیان) میں پھر سے مجوسیوں پر غالب آجائیں گے۔ اور یہ دن اہل ایمان کے لیے بھی انتہائی خوشی اور مسرت کا دن ہوگا ۔ سورئہ روم کی ان آیات میں نہ صرف رومیوں کے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے بلکہ کفار پر اہل ایمان کی فتح و کامیابی کا واضح اشارہ بھی کردیا گیا تھا۔ ظاہری حالات میں رومیوں کی دوبارہ فتح اور مسلمانوں کی کامیابی کا دور دور تک پتہ نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے رومیوں کی فتح کی پیش گوئی فرما دی تھی جس پر اہل ایمان کو پختہ یقین تھا کہ چند برسوں میں دوبارہ رومی سلطنت قائم ہوگی اور مکہ میں مسلمانوں کو کفار پر مکمل غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) مکہ مکرمہ کی جس محفل سے گذرتے وہاں قرآن کریم کی اس پیش گوئی کا ذکر فرماتے، وہ فرماتے کہ اے کفار مکہ تم مجوسیوں کی وقتی فتح پر خوش مت ہو کیونکہ چند برسوں میں رومی پھر سے ایرانیوں پر غلبہ حاصل کرلیں گے۔ کفار مکہ ان باتوں کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتے یہاں تک کہ ابی ابن خلف نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) ابی ابن خلف کو ایک سو اونٹ دیں گے اور اگر قرآن کی یہ پیش گوئی صحیح ہوگئی اور رومی ایراینوں پر غالب آگئے تو ابی ابن خلف حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ایک سو اونٹ دے گا۔ اگرچہ اس طرح کی دو طرفہ شرط اسلام میں اب حرام ہے لیکن جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے شرب باندھی تھی اس وقت تک جوئے کے حرام ہونے کے احکامات نہیں آئے تھے کیونکہ شراب اور جوئے کے حرام ہونے کے احکامات سن ٢ ھجری میں مدینہ منورہ میں نازل ہوئے تھے۔ رومیوں کی شکست نے کفارو مشرکین مکہ کے حوصلے اور بھی بڑ ھا دیئے تھے اور مسلمانوں نے اس میں عافیت محسوس کی کہ مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر کی جائے چناچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے صحابہ کرام (رض) نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اسی سال قیصر روم ہر قل نے تیاری کرکے ایرانیوں پر زبردست حملہ کردیا۔ یہ حملہ اس قدر بھر پور اور اچانک تھا کہ ایرانی فوجیں ان کے سامنے ڈھیر ہو کر رہ گئیں۔ آہستہ آہستہ قیصر روم ہر قل نے ایرانیوں سے وہ تمام علاقے واپس لے لیے جن پر انہوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ ہر قل فتح کے جھنڈے گاڑتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ اس نے ایرانیوں کے آتش کدے مسمار کردیئے اور ہزاروں ایرانیوں کو قتل کر کے روم کی سلطنت پر مکمل قبضہ کرلیا اور اس طرح صرف سات سال کے عرصے میں رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن رومیوں نے ایرانیوں پر مکمل فتح حاصل کی اسی دن اہل ایمان کو کفار مکہ پر غزوہ بدر کے دن ایک پھر پور کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح قرآن کریم کی دونوں پیش گوئیاں پوری ہوئیں اور اہل ایمان ان دونوں کامیابیوں پر بہت زیادہ خوش ہوئے اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) ابی ابن خلف سے جیت چکے تھے۔ اگرچہ اس وقت ابی ابن خلف مر چکا تھا مگر آپ نے ابی ابن خلف کے وارثوں سے مطالبہ کیا کہ شرط کے سو اونٹ ان کے حوالے کردیئے جائیں۔ ابی ابن خلف کے وارثوں نے ایک سو اونٹ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے حوالے کردیئے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابوبکر ان اونٹوں کو صدقہ کر دو ۔ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ اونٹ صدقہ کردیئے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ شرط باندھی تھی اس وقت تک اس طرح کی شرط کرنا حرام نہیں تھا اور جب آپ کو شرط کے سو اونٹ ملے تو اس وقت مدینہ منورہ میں اس طرح کی شرط کو ” جوا “ قرار دیا گیا اور ہر طرح کا جوا اور شرط قیامت تک حرام کردی گئی۔ اس سے یہ مسئلہ بالکل واضح ہو کر سامنے آگیا ہے کہ اگر کسی کو حرام مال مل جائے تو وہ اس کو اپنی ذات پر خرچ نہ کرے بلکہ اس کو صدقہ کردے۔ ہمارے دور میں سود کا لین دین بہت زیادہ ہوگیا ہے خاص طور پر بینکوں کا سود۔ اس کے لئے علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کا مال یا بینک کا سود مل جائے تو وہ اس کو لے کر بغیر ثواب کی نیت کے کسی ایسے غریب آدمی کو دے دے جو صاحب نصاب نہ ہو یعنی غریب آدمی ہو۔ بینکوں وغیرہ میں سود چھوڑنے کا نقصان یہ ہے کہ موجودہ دور میں بینک ہر اس رقم کو جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں ہوتا اس کو ڈیڈ اکائونٹ (Dead Account) میں ڈال کر اکثر مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسی رقم ہو تو اس کو لے کر صدقہ کردیا جائے۔
الٓمّٓۚ Open ayah 30:1 in the Quran reader
الۗمّۗ
غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader
روم والے مغلوب ہو گئے
فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader
قریب کی سر زمین میں (شکست کھا گئے) اور اپنی مغلوبیت (شکست) کے بعد
فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader
چند سال کے اند پھر غلبہ حاصل کرلیں گے۔ پہلے بھی اللہ کا اخیتار تھا اور بعد میں بھی۔ اور اس دن مومن بھی خوش ہوں گے۔
بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader
یہ سب اللہ کی مدد سے ہوگا۔ اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔
وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader
یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو جانتے نہیں ہیں۔
یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader
لوگ دنیا کی زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بیخبر ہیں۔
اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader
کیا انہوں نے کبھی اپنے دلوں میں غور کیا ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کو برحق اور (مقرر) مدت تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اپنے پروردگار کے سامنے حاضری کا انکار کرتے ہیں۔
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader
کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا ہے ؟ وہ لوگ ان سے زیادہ طاقت ور تھے۔ انہوں نے زمین کو خوب سر سبز و شاداب کیا تھا۔ اس کو اتنا آباد کیا تھا جتنا ان لوگوں نے بھی نہیں کیا ہے۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ پھر اللہ تو ظالم نہیں ہے البتہ وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے۔
ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader
ان لوگوں کا انجام کتنا بھیانک ہوا جنہوں نے برائیاں کی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader
جس اللہ نے پہلی مرتبہ تخلیق کیا (پیدا کیا) ہے پھر وہی دوبارہ اس کو پیدا کرے گا۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader
اور وہ دن جب قیامت قائم ہوگی تو یہ مجرم (گناہ گار) بدحواس اور مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader
کیونکہ ان کے سفارشیوں میں سے کوئی ان کی سفارش نہ کرے گا۔ اور پھ وہ خود ہی ان شریکوں کا انکار کردیں گے۔
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اسی دن سب لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader
پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ہوں گے تو وہ جنت میں خوش اور مسرور ہوں گے۔
وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا تو وہ لوگ عذاب میں (پکڑے ہوئے) حاضر کئے جائیں گے۔
فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader
لوگو ! اللہ کی ذات پاک بےعیب ہے۔ جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو (تو اس کا ذکر کرو)
وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین میں ساری حمد و ثنا اللہ کے لئے ہے۔ اور تم رات کو اور دوپہر کے وقت اللہ کی پاکی بیان کیا کرو۔
یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader
وہی تو ہے جو جان دار کا مردے سے نکالتا ہے اور وہی تو ہے جو مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہی اللہ زمین کو دوبارہ زندہ (تر و تازہ) کردیتا ہے اور اسی طرح تم بھی (قبروں سے) نکالے جائو گے۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader
اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی یہ ہے کی) اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر تم انسان کی حیثیت سے پھیلتے جاتے ہو۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader
اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی یہ ہے کہ) اس نے تمہاری جنس ہی سے تمہارے جوڑے (بیویاں) پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور پیار (کے رشتے) قائم کئے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں موجود ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader
اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی) زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنا ہے (جس میں) تمہاری زبانیں اور رنگ مختلف ہیں۔ بلا شبہ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو لوگ جانتے ہیں (اہل علم ہیں) ۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader
اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی) رات کے وقت تمہاری نیند اور دن کے وقت اس کا فضل (رزق) تلاش کرنے میں ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (حق اور سچی باتوں کو غور سے) سنتے ہیں۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader
اس کی نشانیوں میں سے (یہ بھی ایک نشانی ہے کہ) وہ تمہیں خوف اور امید کے ساتھ بجلی (کی کڑک اور چمک) دکھاتا ہے۔ اور وہ آسمان سے (بلندی سے) پانی برساتا ہے۔ پھر وہ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader
اسی کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی یہ ہے کہ) اس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں۔ پھر جب وہ پکارے گا (صور پھونکے گا) تو اس وقت تم (زمین سے) نکل آئو گے۔
وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader
اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اسی کی ملکیت ہے۔ اور ہر چیز اس کی فرماں بردار ہے۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader
اسی نے ساری مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ اور زمین و آسمانوں میں اس کی شان سب سے اعلیٰ اور بہترین ہے۔ وہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader
وہ تمہارے لئے خود تمہاری ذات سے ایک مثال بیان کرتا ہے۔ کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جن کے تم مالک ہو کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیئے ہوئے (مال و دولت) میں سے تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں۔ اور تم ان کا اسی طرح لحاظ کرتے ہو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کا خیال کرتے ہو۔ ہم اپنی ان آیات کو ان لوگوں کے لئے کھول کر بیان کر رہے ہیں جو عقل و فہم رکھتے ہیں۔
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader
بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ظالم لوگ جاہلانہ طریقوں پر (بےسوچے سمجھے) اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ وہ کان ہے جو ان لوگوں کو راستہ دکھائے گا جن کو اللہ ہی بےبھٹکادیا ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہے۔
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader
تم یکسو ہو کر اپنا چہرہ دین حنیف پر قائم رکھو۔ اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کی خلق (بناوٹ) میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader
اسی (ایک اللہ کی طرف) رجوع کرنے والے بن جائو۔ اسی سے ڈرو، نماز قائم کرو اور ان مشرکین میں سے مت ہو جانا
مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader
جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ گروہوں میں بٹ گئے اور ہر ایک گروہ جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اسی میں مگن اور خوش ہے۔
وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader
جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بےقرار ہو کر اپنے رب کو پکارنے لگتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنے کرم کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب (کے ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہرانے لگتا ہے
لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader
اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس پر ناشکری کرنے لگتا ہے۔ (ایسے مشرکین سے کہا جا رہا ہے کہ ) تم چند دنوں تک مزے اڑا لو بہت جلد تمہیں (ساری حقیقت ) معلوم ہوجائے گی۔
اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader
کیا ہم نے ان پر کوئی سند (کتاب) نازل کی ہے جو ان سے کہتی ہے کہ وہ اللہ کا شریک بنائیں۔
وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader
(حال یہ ہے کہ) جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت اور کرم کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ اور اگر ان کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو وہ مایوس ہو کر وہ جاتے ہیں۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ (کی یہ قدرت ہے کہ) وہ جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader
تم رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا و خوشنودی چاہتے ہیں۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader
اور جو کچھ دیتے ہو تاکہ ان کو مالوں میں شامل ہو کر وہ بڑھ کر واپس آئے تو (یاد رکھو) یہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ تم اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے زکوۃ دیتے ہو یہی مال اللہ کے ہاں وہ بڑھاتے رہیں گے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں رزق دیا ہے۔ وہی تمہیں موت دے گا اور پھر وہ (قیامت کے دن) تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو ان کاموں کو انجام دیتا ہو۔ وہ اللہ پاک بےعیب ذات ہے۔ وہ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔