30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

(سورۃ نمبر ٣٠ ۔ کل رکوع ٦ ۔ آیات ٦٠ ۔ الفاظ و کلمات ٨٠ ۔ حروف ٤٤١٠ ۔ مقام نزول مکہ مکرمہ ۔ ) ( سورة روم ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان رسالت، حشر و نشر، قیامت، آخرت ، جزا و سزا، مشرکانہ اعمال کی مذمت، جنت و جہنم، اللہ کی قدرت کی نشانیوں ، قرآن کریم کا نزول اور دنیا کی بدکارقوموں کے برے انجام کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ) جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ آزاد، خودمختار زندگی گذار رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے قبیلوں میں تقسیم تھے اور آپس ہی میں ایک دوسرے سے بات بات پر لڑتے جگھڑتے اور قتل و غارت گری کرتے رہتے تھے۔ اسی زمانہ میں (جو معلوم دنیاتھی) اس میں دو باقاعدہ زبردست سلطنتیں تھیں جو سپر پاورز (Super Powers) کی حیثیت رکھتی تھیں اور ساری معلوم دنیا پر حکومت کر رہی تھیں اور ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے آپس میں ٹکراتی رہتی تھیں۔ قیصر روم کی سلطنت ملک شام، مصر، فلسطین، اردن اور افریقہ اور ایشیا کے بعض ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ ساب مسیحی تھے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے تھے۔ دوسرے بڑی ایرانی سلطنت مجوسیوں یعنی آگ کو اپنا معبود ماننے والوں کی تھی جس کا سربراہ خسرہ پرویز تھا۔ ان دونوں طاقت ور حکومتوں کے درمیان ساتویں صدی عیسوی میں زبردست اور خونریز جنگیں ہوئیں۔ ایرانی بادشاہ خسرو پرویز کی للچائی ہوئی نظریں ہمیشہ رومی سلطنت کو حاصل کرنے کی طرف لگی رہتی تھیں۔ جب روم میں قیصر کے خلاف اندرونی بغاوت ہوئی تو ایرانی بادشاہ کو رومی سلطنت پر حملہ کرنے کا ایک بہانہ ہاتھ آگیا۔ اس کی فوجوں نے رومیوں کے انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئی رومیوں کو ہر محاذ پر بری طرح شکست دینا شروع کی، رومیوں کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے روم کی سلطنت کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ ہزاروں عیسائیوں گا قتل عام کیا گیا۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کر کے ہزاروں عورتوں اور مردوں کو غلام بنا لیا گیا تھا۔ ( جب یہ سورة نازل ہوئی تو اس وقت مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کفار مکہ کے ظلم و ستم کی انتہا ہوچکی تھی۔ کفارومشرکین اہل ایمان کو مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے اور جس سے انسانیت بھی شرما جائے اس ظلم و زیادتی سے باز نہیں آ رہے تھے۔ یہاں تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے صحابہ کرام (رض) مکہ چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت شروع کرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دینے کے لیے قیصرو کسریٰ جیسی طاقتوں والی قوموں کے مٹنے اور بننے کے واقعہ کو بیان کر کے بتایا ہے کہ اہل ایمان بہت جلد کامیاب ہوں گے اور کفار مٹادیئے جائیں گے۔ ) اس طرح خسرو پرویز نے سلطنت روم کو جڑ و بنیاد سے کھود کر رکھ دیا۔ ٹھیک یہی وہ زمانہ تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا اور جب مجوسیوں نے عیسائیوں کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی تو عرب کے کفارومشرکین مجوسیوں کی فتح پر بہت خوش تھے کیونکہ جس طرح مجوسی آگ کو پوجتے تھے اسی طرح مکہ کے کفاربتوں کو پوجتے تھے۔ اس کے بر خلاف اہل ایمان کو یہ بتایا گیا تھا کہ عیسائی اہل کتاب ہیں جو اگرچہ اصل تعلیم سے بہت دور جاچکے ہیں مگر اللہ کو اور وحی کو کسی حد تک مانتے تھے۔ اس لیے رومیوں کی سلطنت کے زوال پر مکہ کے مظلوم مسلمان رنجیدہ تھے۔ پھر کفار مکہ بھی کھل کر یہ کہنے لگے تھے کہ جس طرح آگ پرستوں نے عیسائیوں کو تباہ کردیا ہے اسی طرح مکہ کے لوگ بھی مسلمانوں کو اسی طرح تباہ و برباد کر کے ان کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کریں گے۔ ان طعنوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو بہت صدمہ پہنچتا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورة روم کو نازل فرما کر تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ ان حالات سے بالکل رنجیدہ اور پریشان نہ ہوں کیونکہ حالات بہت جلد بدلنے والے ہیں اور رومی جو شکست کھاچکے ہیں وہ چند برسوں میں پھر سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة روم کی ابتدائی آیتوں میں جو کچھ فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ بیشک آج رومی شکست کھاچکے ہیں لیکن چند برسوں (تین سے نو سال کے درمیان) میں پھر سے مجوسیوں پر غالب آجائیں گے۔ اور یہ دن اہل ایمان کے لیے بھی انتہائی خوشی اور مسرت کا دن ہوگا ۔ سورئہ روم کی ان آیات میں نہ صرف رومیوں کے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے بلکہ کفار پر اہل ایمان کی فتح و کامیابی کا واضح اشارہ بھی کردیا گیا تھا۔ ظاہری حالات میں رومیوں کی دوبارہ فتح اور مسلمانوں کی کامیابی کا دور دور تک پتہ نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے رومیوں کی فتح کی پیش گوئی فرما دی تھی جس پر اہل ایمان کو پختہ یقین تھا کہ چند برسوں میں دوبارہ رومی سلطنت قائم ہوگی اور مکہ میں مسلمانوں کو کفار پر مکمل غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) مکہ مکرمہ کی جس محفل سے گذرتے وہاں قرآن کریم کی اس پیش گوئی کا ذکر فرماتے، وہ فرماتے کہ اے کفار مکہ تم مجوسیوں کی وقتی فتح پر خوش مت ہو کیونکہ چند برسوں میں رومی پھر سے ایرانیوں پر غلبہ حاصل کرلیں گے۔ کفار مکہ ان باتوں کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتے یہاں تک کہ ابی ابن خلف نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) ابی ابن خلف کو ایک سو اونٹ دیں گے اور اگر قرآن کی یہ پیش گوئی صحیح ہوگئی اور رومی ایراینوں پر غالب آگئے تو ابی ابن خلف حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ایک سو اونٹ دے گا۔ اگرچہ اس طرح کی دو طرفہ شرط اسلام میں اب حرام ہے لیکن جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے شرب باندھی تھی اس وقت تک جوئے کے حرام ہونے کے احکامات نہیں آئے تھے کیونکہ شراب اور جوئے کے حرام ہونے کے احکامات سن ٢ ھجری میں مدینہ منورہ میں نازل ہوئے تھے۔ رومیوں کی شکست نے کفارو مشرکین مکہ کے حوصلے اور بھی بڑ ھا دیئے تھے اور مسلمانوں نے اس میں عافیت محسوس کی کہ مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر کی جائے چناچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے صحابہ کرام (رض) نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اسی سال قیصر روم ہر قل نے تیاری کرکے ایرانیوں پر زبردست حملہ کردیا۔ یہ حملہ اس قدر بھر پور اور اچانک تھا کہ ایرانی فوجیں ان کے سامنے ڈھیر ہو کر رہ گئیں۔ آہستہ آہستہ قیصر روم ہر قل نے ایرانیوں سے وہ تمام علاقے واپس لے لیے جن پر انہوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ ہر قل فتح کے جھنڈے گاڑتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ اس نے ایرانیوں کے آتش کدے مسمار کردیئے اور ہزاروں ایرانیوں کو قتل کر کے روم کی سلطنت پر مکمل قبضہ کرلیا اور اس طرح صرف سات سال کے عرصے میں رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن رومیوں نے ایرانیوں پر مکمل فتح حاصل کی اسی دن اہل ایمان کو کفار مکہ پر غزوہ بدر کے دن ایک پھر پور کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح قرآن کریم کی دونوں پیش گوئیاں پوری ہوئیں اور اہل ایمان ان دونوں کامیابیوں پر بہت زیادہ خوش ہوئے اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) ابی ابن خلف سے جیت چکے تھے۔ اگرچہ اس وقت ابی ابن خلف مر چکا تھا مگر آپ نے ابی ابن خلف کے وارثوں سے مطالبہ کیا کہ شرط کے سو اونٹ ان کے حوالے کردیئے جائیں۔ ابی ابن خلف کے وارثوں نے ایک سو اونٹ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے حوالے کردیئے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابوبکر ان اونٹوں کو صدقہ کر دو ۔ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ اونٹ صدقہ کردیئے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ شرط باندھی تھی اس وقت تک اس طرح کی شرط کرنا حرام نہیں تھا اور جب آپ کو شرط کے سو اونٹ ملے تو اس وقت مدینہ منورہ میں اس طرح کی شرط کو ” جوا “ قرار دیا گیا اور ہر طرح کا جوا اور شرط قیامت تک حرام کردی گئی۔ اس سے یہ مسئلہ بالکل واضح ہو کر سامنے آگیا ہے کہ اگر کسی کو حرام مال مل جائے تو وہ اس کو اپنی ذات پر خرچ نہ کرے بلکہ اس کو صدقہ کردے۔ ہمارے دور میں سود کا لین دین بہت زیادہ ہوگیا ہے خاص طور پر بینکوں کا سود۔ اس کے لئے علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کا مال یا بینک کا سود مل جائے تو وہ اس کو لے کر بغیر ثواب کی نیت کے کسی ایسے غریب آدمی کو دے دے جو صاحب نصاب نہ ہو یعنی غریب آدمی ہو۔ بینکوں وغیرہ میں سود چھوڑنے کا نقصان یہ ہے کہ موجودہ دور میں بینک ہر اس رقم کو جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں ہوتا اس کو ڈیڈ اکائونٹ (Dead Account) میں ڈال کر اکثر مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسی رقم ہو تو اس کو لے کر صدقہ کردیا جائے۔

Ayah 30:1
Ayahs 30:2–10

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

روم والے مغلوب ہو گئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

قریب کی سر زمین میں (شکست کھا گئے) اور اپنی مغلوبیت (شکست) کے بعد

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند سال کے اند پھر غلبہ حاصل کرلیں گے۔ پہلے بھی اللہ کا اخیتار تھا اور بعد میں بھی۔ اور اس دن مومن بھی خوش ہوں گے۔

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

یہ سب اللہ کی مدد سے ہوگا۔ اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو جانتے نہیں ہیں۔

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

لوگ دنیا کی زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بیخبر ہیں۔

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے کبھی اپنے دلوں میں غور کیا ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کو برحق اور (مقرر) مدت تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اپنے پروردگار کے سامنے حاضری کا انکار کرتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا ہے ؟ وہ لوگ ان سے زیادہ طاقت ور تھے۔ انہوں نے زمین کو خوب سر سبز و شاداب کیا تھا۔ اس کو اتنا آباد کیا تھا جتنا ان لوگوں نے بھی نہیں کیا ہے۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ پھر اللہ تو ظالم نہیں ہے البتہ وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے۔

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

ان لوگوں کا انجام کتنا بھیانک ہوا جنہوں نے برائیاں کی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور اذیت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کفارو مشرکین صحابہ کرام ؓ کو ستانے کے بہانے تلاش کرتے رہتے تھے۔ وہ اس بات سے خوف زدہ تھے کہ اگر انہوں نے اسلامی طرز زندگی کو اختیار کرلیا تو ان کے ذاتی مفادات، مذہبی رسومات اور ان بتوں کی عبدت و بندگی چھوٹ جائے گی جب کو وہ اپنے مشکل وقتوں کا سہارا سمجھتے تھے۔ جب کہ نبی کریم ﷺ اس بات کی تعلیم دے رہے تھے کہ سب مل کر ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں باپ دادا سے جو غلط رسمیں چلی آرہی ہیں ان کو چھوڑ دیں اور لکڑی، مٹی اور پتھر سے بنائے گئے وہ معبود جو اپنے وجود کے لئے بھی دوسروں کے ہاتھوں محتاج ہیں ان کی عبادت و پرستش نہ کریں۔ کفر واسلام کی یہی کشمکش جاری تھی کہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے ایرانی شہنشاہ خسرو پرویز نے رومیوں کے انتشار سے فائدہ اٹھا کر اچانک ان پر چڑھائی کردی۔ ملک شام اور بصرہ کے درمیانی علاقے سے حملہ شروع کیا۔ یہ حملہ اس قدر زبردست اور بھر پور تھا کہ رومیوں کے سارے علاقے فتح ہوتے چلے گئے۔ یروشلم، مصر، اردن اور دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد رومیوں کے مضبوط گڑھ قسطیطینہ پر تسلط کے بعد وہاں سب سے بڑا آتش کدہ بنا لیا تھا۔ اس طرح رومی مکمل طور پر شکست کھاچکے تھے اور ایرانی مجوسیوں کی کامیابیوں نے انہیں انتہائی مغرور و متکبر بنا دیا تھا۔ ان تمام حالات کی اطلاع مکہ مکرمہ بھی پہنچ رہی تھی ۔ ایرانیوں کی فتح کو کفار و مشرکین اپنی فتح سمجھ رہے تھے وجہ یہ تھی کہ مکہ کے کفار و مشرکین بتوں کو پوجتے تھے اور مجوسی آگ کی پر ستش کرتے تھے دونوں کے مذہبی عقیدے قریب قریب تھے جب کہ مسلمانوں کے نزدیک نصاری اور مجوسی دونوں ہی کافر تھے مگر رومی نصاری یعنی عیسائیوں سے دلچسپی اس لئے تھی کہ وہ کم از کم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت، وحی کی کیفیت اور اللہ کو کسی حد تک مانتے تھے۔ اس لئے ان کو خواہش تھی کہ رومیوں کو اس طرح شکست نہ ہو ۔ مگر رومیوں کی شکست پر شکست سے کفار مکہ کے حو صلے کچھ زیادہ ہو چلے تھے۔ مسلمانوں کو چھیڑنے اور ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے والوں پر آتش پرست چھا گئے ہیں اور آتش پرستوں نے اللہ کا نام لینے والوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دیا ہے اسی طرح ہم بھی تم مسلمانوں کو شکست دیں گے اور تمہیں نکال باہر کریں گے۔ رومیوں کی شکست اور کفارومشرکین مکہ کے طعنوں سے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سخت رنجیدہ اور پریشان رہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ رہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة روم کی مذکورہ آیتیں نازل کر کے صاف صاف اعلان کردیا کہ اہل ایمان صبر اور برداشت سے کام لیں رومی شکست کھاچکے ہیں لیکن چند برسوں (تین سے نو سال کے عرصے) میں دو بارہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایرانی مجوسیوں پر فتح حاصل کرلیں گے ان کو ان کے ملک میں گھس کر ماریں گے۔ پوری طرح غالب آجائیں گے اور یہ دن اہل ایمان کے لئے بھی خوش خبری والا دن ہوگا ۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہوگا ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ شدید مایوسی میں قرآن کریم کی ان آیات کو سن کر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ خوش ہوگئے۔ چونکہ ان آیات میں نہ صرف رومیوں کے دوبارہ غالب آنے کے لئے فرمایا گیا ہے بلکہ ایمان کو بھی خوش خبری سنا دی گئی تھی کہ ان کو بھی کفار مکہ پر اسی طرح کامیابی حاصل ہوگی۔ قوموں کی زندگی میں دو چار دس برس بڑی مدت نہیں ہوا کرتی۔ اس لئے جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اس کے دوسرے سال ہی ہر قل نے پوری تیاری کے ساتھ ایرانیوں پر اتنے زبردست حملے کئے کہ ایرانی مجوسی ہر محاذ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور رومی فوجوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ ایرانیوں کو مارتے مارتے وہ قسطنطنیہ پر قابض ہوگئے۔ رومیوں نے آتش پرستوں کے آتش کدے مسمار کردیئے۔ ہزاروں مجوسیوں کا قتل عام کیا اور پوری طرح رومی سلطنت کو دوبارہ قائم کرلیا۔ ان ہی دنوں اللہ نے مسلمانوں کو غزوہ بدر میں زبردست کامیابی عطا کی اور اہل ایمان کو بت پرستوں پر مکمل جنگی اور اخلاقی فتح عطا فرمادی۔ اس طرح قرآن کریم کی پیش گوئی صرف سات سال پوری ہوگئی۔ جب قرآن کریم کی یہ پیش گوئی پوری ہوگئی تو روایات کے مطابق بہت سے کفار نے اسلام قبول کرلیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ قرآن اللہ کا سچا کلام ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ صرف ظاہری چیزوں کے دیکھنے کے عادی ہیں اور اپنے عیش و آرام میں پڑ کر آخرت سے غافل ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ اس کائنات کا خالق ومالک صرف اللہ ہے وہی اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے وہ ہر چیز کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہے زمین، آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ فضول، بےمقصد اور بےکار پیدا نہیں کیا گیا بلکہ ان کے پیدا کرنے میں بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ اللہ جب تک چاہے گا اس نظام کائنات کو چلائے گا لیکن جب اس کی مدت پوری ہوجائے گی تو کائنات کی اس بساط کو لپیٹ کر رکھ دے گا۔ فرمایا کہ آخرت تو ایک حققیت کا نام ہے جہاں ہر شخص کو اللہ کے سامنے حاضر ہو کر زندگی بھر کا حساب کتاب دینا ہوگا لیکن کبھی کھنی تو اللہ فنا کے اس عمل کو اس دنیا میں بھی دکھا دیتا ہے جس کی سب سے بڑی دلیل ترقی یافتہ قوموں کے دہ کھنڈرات ہیں جہاں کبھی بڑی رونقیں تھیں۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ لوگوں نے خوب محنتیں کر کے عظیم الشان بلڈنگیں بنائی تھیں جن کا اس دور میں تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ ہر طرف باغات، لہلہاتے ہوئے کھیت، مالی لین دین، مال و دولت کی کثرت تھی لیکن جب انہوں نے اپنی ترقیات پر اترانا شورع کیا اور اللہ کی نافرمانیاں شروع کردیں تو اللہ نے ان کو آگاہ کرنے کے لئے اپنے رسول بھیجے جن کو انہوں نے جھٹلایا اور ان کی کسی بات کو نہیں مانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی نافرمانیاں انہیں لے ڈوبیں۔ ان کی تہذیب و ترقی اور بلند وبالا عمارتیں راکھ کا ڈھیربن گئیں۔ یہ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ ہی اپنے اوپر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر وہ پنی عقل و فکر سے کام لے کر غور کریں تو ان پر یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ اس کائنات میں ہر طرح کی طاقت و قوت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی اطاعت و فرماں برداری سے ہر طرح کی کامیابیاں ملتی ہیں اور نافرمانیوں سے دنیا اور آخرت میں سوائے تباہی کے کچھ بھی نہیں ملتا۔
Ayahs 30:11–19

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

جس اللہ نے پہلی مرتبہ تخلیق کیا (پیدا کیا) ہے پھر وہی دوبارہ اس کو پیدا کرے گا۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور وہ دن جب قیامت قائم ہوگی تو یہ مجرم (گناہ گار) بدحواس اور مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

کیونکہ ان کے سفارشیوں میں سے کوئی ان کی سفارش نہ کرے گا۔ اور پھ وہ خود ہی ان شریکوں کا انکار کردیں گے۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اسی دن سب لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ہوں گے تو وہ جنت میں خوش اور مسرور ہوں گے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا تو وہ لوگ عذاب میں (پکڑے ہوئے) حاضر کئے جائیں گے۔

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

لوگو ! اللہ کی ذات پاک بےعیب ہے۔ جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو (تو اس کا ذکر کرو)

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں ساری حمد و ثنا اللہ کے لئے ہے۔ اور تم رات کو اور دوپہر کے وقت اللہ کی پاکی بیان کیا کرو۔

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہی تو ہے جو جان دار کا مردے سے نکالتا ہے اور وہی تو ہے جو مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہی اللہ زمین کو دوبارہ زندہ (تر و تازہ) کردیتا ہے اور اسی طرح تم بھی (قبروں سے) نکالے جائو گے۔

لغات القرآن آیت نمبر (اا تا 19 ) ۔ الخلق (تخلیق۔ پیدائش) ۔ یعید (وہ لوٹائے گا) ۔ یبلس (وہ ناامید ہوتا ہے) ۔ روضتہ (باغ۔ باغیچہ) ۔ یحبرون (حبر) (خوش کئے جائیں گے) ۔ تمسون (تم شام کرتے ہو) ۔ تصبحون (تم صبح کرتے ہو) ۔ عشی (رات کا وقت) ۔ تظھرون (تم دوپہر کرتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 19 ) ۔ ” جو لوگ دنیا کے عیش و آرام اور بےفائدہ مشغلوں میں پڑ کر کفروشرک کی راہوں کو اختیار کرچکے ہیں ان کی سمچھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب سارے انسان مر کھپ جائیں گے۔ ان کے وجود کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ زندہ کیسے پیداکئے جائیں گے ؟ حالانکہ ایسی سوچ رکھنے والے اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں تو یہ بات بہت واضح اور روشن ہے کہ جس اللہ نے خلق اور تخلیق کی ابتداء کی ہے، جس نے انسان اور کائنات کو وجود بخشا ہے اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ کائنات میں بکھرے ہوئے ذرات کو جمع کر کے پھر سے انسان کو زندہ کر دے۔ یہ ایک ایسی کھلی ہوئی سچائی ہے جس پر یقین کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ انسانوں کی دوبارہ پیدائش میں شک کرنے والے جب آخرت میں پہنچیں گے تو وہ سخت بدحواش ہوجائیں گے کیونکہ زندگی بھرجس سچائی کو وہ کھٹلاتے رہے تھے آج ان کے سامنے ہوگی۔ ان کی بدحواسی اور مایوسی اس وقت اور بھی بڑھ جائے گی جب ان کے وہ سہارے ٹوٹ جائیں گے جن سے وہ اس بات کی امیدیں باندھے ہوئے تھے کہ وہ آخرت کی زندگی میں ان کے کام آئیں گے۔ ان کی سفارش کریں گے۔ ان کو ہر طرح کی آفتوں سے بچالیں گے کیونکہ وہ بت کہہ اٹھیں گے کہ الہٰی ! ہمیں نہیں معلوم کہ یہ ہماری عبادت و بندگی کیوں کرتے تھے۔ ان کے گناہوں اور کفروشرک سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ غیر اللہ کے اس کو رے جواب سے مشرکین سخت مایوس ہوجائیں گے کہ اب ان کی طرف سے بولنے والا اور سفارش کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ شرمندگی کے عالم میں خود ان بتوں پر لعنت بھیجنا شروع کردیں گے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب سارے انسان دو گرو ہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اہل ایمان اور اہل کفر۔ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے۔ انہوں نے عمل صالح کئے ہوں گے وہ تو جنت کے عیش و آرام کے ساتھ خوش و خرم اور مسرور ہوں گے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفرو شرک کی روش اخیتار کر کے اللہ کی آیتوں کا انکار اور اللہ کے سامنے حاضری اور ملاقات کو زندگی بھر جھٹلایا ہوگا وہ اپنے اعمال کے مطابق پکڑ کر اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ ان آیات میں دوسرے بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ آخرت میں کامیاب ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جو صبح و شام اور راتوں کی تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کر کے اپنے دلوں کو زندہ کرتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ زمین و آسمان میں کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد وثناء نہ کررہی ہو ۔ اونچے اونچے پہاڑ، بہتے دریا، سر سبز و شاداب نباتات، خوبصورت کھیت، چہچہاتے پرندے، ہوائیں، فضائیں اور ہر ایک جان دار اور بےجان ہر وقت اس کی تسبیح کر رہا ہے یہ اور بات ہے کہ ہم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی تسبیح اور حمد و ثنا کر رہا ہے۔ علماومفسرین نے فرمایا ہے کہ انسانوں کی تسبیح اور حمد و ثنا کا اعلی ترین نمونہ ” نماز “ ہے کیونکہ نماز کا قیام اور ادائیگی اللہ کی سب سے بہتر اور اعلیٰ تسبیح اور حمد و ثنا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے ارشادات اور عمل سے یہ بات ثابت ہے کہ ہر روز پانچ وقت کی نمازیں ادا کرنا ہر مسلمان عاقل و بالغ پر فرض ہے اور اس کی کسی حالت میں (سوائے مخصوص حالات کے) معافی نہیں ہے۔ اسی بات کو صحابہ کرام ؓ نے اپنے عمل سے ثابت فرمایا اور اس پر پوری امت متفق ہے۔ اس آیت میں پانچوں وقت کی تسبیح یعنی نماز کے اوقات کا اظہار ہے۔ اس کے علاوہ سورة ہود اور سورة طہ میں بھی نمازوں کے پانچوں اوقات کو بتایا گیا ہے۔ آخر میں اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی ذات بےعیب ہے۔ وہ اللہ کی ذات بےعیب ہے۔ وہ اللہ اس کائنات کے نظام کو اپنی مرضی سے چلا رہا ہے وہ زندہ کو مردہ سے زندہ کو پیدا کر رہا ہے۔ اسی طرح وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ تمام مرنے والوں کو دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے نکال لائے گا اور پھر ہر ایک سے اس کے کئے ہوئے اعمال کا حساب لے گا۔
Ayahs 30:20–27

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی یہ ہے کی) اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر تم انسان کی حیثیت سے پھیلتے جاتے ہو۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی یہ ہے کہ) اس نے تمہاری جنس ہی سے تمہارے جوڑے (بیویاں) پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور پیار (کے رشتے) قائم کئے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں موجود ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی) زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنا ہے (جس میں) تمہاری زبانیں اور رنگ مختلف ہیں۔ بلا شبہ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو لوگ جانتے ہیں (اہل علم ہیں) ۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی) رات کے وقت تمہاری نیند اور دن کے وقت اس کا فضل (رزق) تلاش کرنے میں ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (حق اور سچی باتوں کو غور سے) سنتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے (یہ بھی ایک نشانی ہے کہ) وہ تمہیں خوف اور امید کے ساتھ بجلی (کی کڑک اور چمک) دکھاتا ہے۔ اور وہ آسمان سے (بلندی سے) پانی برساتا ہے۔ پھر وہ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اسی کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی یہ ہے کہ) اس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں۔ پھر جب وہ پکارے گا (صور پھونکے گا) تو اس وقت تم (زمین سے) نکل آئو گے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اسی کی ملکیت ہے۔ اور ہر چیز اس کی فرماں بردار ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اسی نے ساری مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ اور زمین و آسمانوں میں اس کی شان سب سے اعلیٰ اور بہترین ہے۔ وہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔ تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں اور چلی گئیں اس دنیا میں کسی کو ہمیشہ کی زندگی دی گئی۔ کسی کو بقا نہیں ہے سوائے اس اللہ کی ایک ذات کے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور اس نے اس پورے نظام کائنات کو سنبھالا ہوا ہے۔ وہ جب بھی چاہے گا کائنات کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دے گا۔ پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اللہ ہی اپنی قدرت سے تمام لوگوں کو زندہ کرکے میدان حشر میں جمع کرے گا۔ جب اس کائنات میں ساری قدرت اللہ کی ہے اسی نے سب کو پیدا کیا ہے تو سب انسانوں کے مر جانے اور کائنات کے مٹ جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اس ذات کے لئے کونسی مشکل اور مشوار بات ہے۔ فرمایا کہ اللہ کی معرفت اور پہچان کے لئے اگر کائنات کے نظام پر غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے اس نظام کائنات کو نبایا ہے وہی اس کا محافظ ہے اور جب چاہے گا اس نظام کو ختم کر کے دوبارہ پیدا فرمادے گا اللہ نے اپنی چند نشانیوں کو پیش کر کے فرمایا ہے کہ ان کو اللہ کے سوا کسی دوسرے نے نہیں بنایا نہ اس کام میں اس کا کوئی شریک ہے۔ ارشاد ہے۔ (1) انسانی زندگی کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا جنہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا تھا۔ مٹی در حقیقت ایسے اجزاء کا نام ہے جس میں بظاہر تاریکی ہے روشنی اور چمک نہیں ہے لیکن اللہ نے اس خاک کے پتلے میں ایسی عظمتیں بھر دی ہئن جو بقیہ کائنات میں نہیں ہیں۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات نبایا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد جب فرشتوں سے اور ابلیس سے جو جنات کو قوم میں سے تھا اور فرشتوں کا سردار تھا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کے لئے کہا تو ابلیس نے یہ کہہ کر انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا کہ میں آگ سے بنایا گیا ہوں یعنی جس میں روشنی اور چمک ہے اور انسان مٹی سے پیدا کیا گیا ہے یعنی جس میں تار ی کی اور پستی ہے یہ اصول کے خلاف ہے کہ روشنی تاریکی کے سامنے اور بلندی پستی کے سامنے جھک جائے۔ اسی طرح فرشتوں نے بھی سمجھنے کے لئے عرض کیا الہی آپ جس کے سر پر خلافت کا تاج رکھ رہے وہ تو زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ گویا فرشتے بھی انسان کے ظاہری پہلو سے اس میں تاریکی محسوس کر رہے تھے۔ اللہ نے ان کے اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس حقیقت کو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ جب فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے علم کی روشنی کی ایک جھلک دکھائی گئی تو سارے فرشتوں نے انسان کی عظمت کو تسلیم کرلیا اور سجدہ میں گر گئے لیکن شیطان اپنے تکبر اور غرور پر قائم رہا اور اس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے صاف انکار کردیا اور اللہ کے نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی یہ سب سے بڑی نشانی ہے کہ اس نے انسان کو مٹی سے بنایا اور انسانی نسلوں کو چلایا اور اس کائنات میں اللہ نے اس کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا۔ انسان میں یہ عظمت صرف اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کی ہے۔ ورنہ خود انسان کے اندر یہ عظمت اور روشنی موجود نہ تھی۔ (2) دوسری نشانی یہ ہے کہ اللہ نے صرف یہی نہیں کہ انسان کو پیدا کیا بلکہ سکون قلب کے لئے اس کی بیوی کو بھی پیدا کیا جو اس کی تنہائیوں کی ساتھی، اس کی نسل کو بڑھانے کا سبب اور محبت و اخلاص کے رشتے قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔ گھر اسی سکون و اطمینان کا نام ہے ۔ اگر کسی گھر میں امن و عافیت اور حقیقی راحت و آرام نہ ہو تو وہ گھر گھر نہیں ہے۔ انسان کو سکون قلب با قاعدہ ازدواجی زندگی سے ملتا ہے جس سے انسان کو اولادیں اور اولادوں کی اولادیں نصیب ہوتی ہین، بچے، رشتہ دار، دوست احباب اس کی خوشیوں اور غموں میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہو تو انسان کو سب کچھ مل سکتا ہے مگر سکون قلب نصیب نہیں ہو سکتا۔ (3) تیسری نشانی زمین و آسمان کی پیدائش ہے۔ اللہ نے زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا اور آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح اس پر تان دیا، چاند، سورج اور ستاروں سے اس کو روشن ومنور کیا۔ زمین پر مختلف قوموں، نسلوں اور خاندانوں کو پھیلایا جن کی زبانیں، رنگ، نسل مختلف ہیں۔ سب کے سب جسمانی اعتبار سے ایک جیسے ہیں وہی چہرہ، آنکھیں، کان، ناک، ہونٹ، زبان لیکن کتنے مختلف ہیں۔ کروڑوں اربوں انسان ہیں مگر ہر ایک کی شکل صورت دوسرے سے مختلف ہے۔ خواہشات، ضروریات اور تمنائیں الگ الگ ہیں۔ جن لوگوں میں علم و بصیرت موجود ہے وہ زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر اللہ کی معرفت اور پہچان حاصل کرسکتے ہیں۔ (4) اس کی چوتھی نشانی رات اور دن کا آنا جانا ہے۔ انسان دن بھر اپنی روزی رزق کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے دن بھر کی محنت و مشقت کے بعد رات کو سو جاتا ہے تو اگلے دن کام کے لئے وہ تازہ دم ہوجاتا ہے اور پھر سے زندگی کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں۔ سردی، گرمی اور برسات کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ اگر دن ہی دن ہوتا یا ایک طویل رات ہی ہوتی تو انسان اس یکسانیت سے اکتا جاتا نہ اس کو آرام ملتا اور نہ رزق ملتا۔ رات اور دن کا آنا جانا اس میں ہر عقل و فہم رکھنے والے کے لئے اللہ کی نسانی، معرفت اور پہچان موجود ہے لیکن اس کو ہی تسلیم کرتے ہیں جن میں ضد اور ہٹ دھرمی نہیں ہوتی اور وہ بات کو دھیان دے کر سنتے ہیں۔ (5) اس کی پانچویں نشانی آسمان پر چمکنے اور کڑ کنے والی بجلی ہے جس کو دیکھ کر خوف کے ساتھ ساتھ ایک امید سی بندھ جاتی ہے کہ اب بارش برسے گی کھیتوں، باغوں اور زمین میں ایک نئی زندگی اور تازگی پیدا ہوگی۔ گرمی کی شدت کم ہوگی اور موسم خوش گوار ہوجائے گا۔ بجلی کی چمک اور کڑک سے ایک امید اور دہشت ناک آوازوں سے خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی بہت بڑی نشانی ہے جس پر وہی غور و فکر کرتے ہیں جنہیں اللہ نے عقل و سمجھ عطا فرمائی ہے۔ (6) چھٹی نشانی یہ ہے کہ زمین و آسمان اپنی جگہ ٹہرے ہوئے ہیں یہ انسان کو لے کر ایک طرف نہیں ڈھلک جاتے بلکہ اپنی رفتار سے کھومنے اور چلنے کے باوجود اس پر رہنے والوں کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ زمین اور آسمان، چاند، سورج اور ستارے سب کے سب ایک خاص نظام کے تحت قائم ہیں اور چل رہے ہیں۔ وہ اللہ ہی اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے وہ جب چاہے گا اس کو توڑ پھوڑ کر ایک نیا جہاں تعمیر فرمادے گا جس میں تمام انسان اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندگی کا حساب کتاب پیش کریں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اور اس میں بسنے والی مخلوق اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی ملکیت اور اس کی نشانی ہے اور اس کے حکم کے تابع فرماں ہے۔ اسی نے زندگی کی ابتداء کی ہے وہی اس پر موت طاری کرے گا اور پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ یہ اس اللہ کے لیے کوئی مشکل یا ناممکن بات نہیں ہے کیونکہ جس نے ان تمام چیزوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے ان ہی چیزوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے بلکہ اس کے لئے آسان ہے۔ اس آسمان و زمین میں سب سے بر تر و اعلیٰ ذات اللہ کی ہے جس کے ہاتھ میں ہر طرح کی طاقتیں موجود ہیں وہی زبردست حکمت والا ہے۔
Ayahs 30:28–32

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہارے لئے خود تمہاری ذات سے ایک مثال بیان کرتا ہے۔ کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جن کے تم مالک ہو کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیئے ہوئے (مال و دولت) میں سے تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں۔ اور تم ان کا اسی طرح لحاظ کرتے ہو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کا خیال کرتے ہو۔ ہم اپنی ان آیات کو ان لوگوں کے لئے کھول کر بیان کر رہے ہیں جو عقل و فہم رکھتے ہیں۔

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ظالم لوگ جاہلانہ طریقوں پر (بےسوچے سمجھے) اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ وہ کان ہے جو ان لوگوں کو راستہ دکھائے گا جن کو اللہ ہی بےبھٹکادیا ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہے۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تم یکسو ہو کر اپنا چہرہ دین حنیف پر قائم رکھو۔ اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کی خلق (بناوٹ) میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

اسی (ایک اللہ کی طرف) رجوع کرنے والے بن جائو۔ اسی سے ڈرو، نماز قائم کرو اور ان مشرکین میں سے مت ہو جانا

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ گروہوں میں بٹ گئے اور ہر ایک گروہ جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اسی میں مگن اور خوش ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر ( 28 تا 32 ) ۔ ضرب (اس نے چلایا۔ بیان کیا) ۔ ایمان (داہنا (ہاتھ) ۔ سواء (برابر) ۔ اھوآئ (ھوائ) (خواہشیں۔ تمنائیں) ۔ اقم (قائم کر) ۔ وجھ (چہرہ) ۔ حنیف (اللہ ہی کا ہوجانا) ۔ فطرۃ اللہ (دین اسلام۔ اللہ کی فطرت) ۔ دین القیم (بہترین دین) ۔ منیبین (رجوع کرنے والے۔ پلٹنے والے ) ۔ فرقوا (وہ گروہ بن گئے۔ جداجدا ہوگئے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ) ۔ فرحون (خوش اور مگن رہنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (28 تا 32) ۔ ” دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی برکت سے آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا رواج تو ختم ہوچکا ہے لیکن نزول قرآن کے وقت غلام اور لونڈیوں کا نہ صرف رواج تھا بلکہ انسانوں کی خریدوفروخت کا ایک زبردست کاروبار تھا اور اس طرح آقا اور غلام دو مستقل جماعتیں بن چکی تھیں۔ “ غلام اور باندیوں کے کوئی انسانی حقوق نہ تھے۔ دو وقت کی روٹی کی خاطر غلام اور لونڈیوں کو ہر وہ کام کرنا پڑتا تھا جس میں ان کے آقا اور مالک کی خوشنودی ہوا کرتی تھی۔ وہ انسانی حقوق سے قطعاً ناواقف تھے ہر آقا اپنے غلام کا اس طرح مالک ہوا کرتا تھا کہ دوسرے کسی کو اس کے بارے میں بولنے کا حق تک حاصل نہ تھا۔ سب سے پہلے دین اسلام کے سچے اصولوں اور نبی کریم ﷺ کے طرز عمل نے غلاموں اور باندیوں کو انسانی حقوق سے آشنا کیا۔ غلاموں کی آزادی کو نہ صرف ایک عبادت کا درجہ دیا بلکہ آپ نے اپنے جان نثار صحابہ کرام ؓ کو بتایا کہ کسی غلام کو خرید کر آزاد کرنا جہنم کی آگ سے نجات پانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ آپ کی ازواج مطہرات ؓ ، خلفائے راشدین ؓ اور صحابہ کرام ؓ نے ہزاروں، لاکھوں غلاموں، باندیوں کو خرید کر آزاد کردیا تھا تاکہ وہ آزاد و خود مختار انسانوں کی طرح زندگی گذار سکیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین سے جو اللہ کی ذات وصفات اور اختیارات میں جھوٹے معبودوں کو شریک کرتے ہیں سوال کیا ہے کہ تمہارے وہ غلام اور لونڈیاں جو تمہاری ملکیت ہیں جو انسانی ضروریات میں تمہاری طرح ہیں کیا تم ان کو اپنے برابر کا درجہ دیتے ہو ؟ اپنے مال و دولت اور وراثت میں ان کو شریک کرتے ہو ؟ جس طرح تم دوسروں کا لحاظ کرتے ہو کیا ان کا بھی اتنا ہی خیال اور لحاظ کرتے ہو ؟ فرمایا کہ یہ کتنی بڑی زیادتی اور ظلم ہے کہ تم اپنے بےحقیقت جھوٹے معبودوں کو اللہ کے برابر کا درجہ دیتے ہو اور اس کا شریک سمجھتے ہو۔ اور کائنات میں ان کو اسی طرح بااختیار جانتے ہو جس طرح اللہ اس کائنات کو چلانے میں اپنا پورا پورا اختیار رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت، نادانی، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کسی سچی بات کو سننا تک گوارا نہیں کرتے۔ لیکن ہم ان کو یہ سچی بات ضرور بتائیں گے کہ وہ اپنے جن معبودوں کا اپنا مشکل کشا مان رہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ ان کے محض گمان اور خیالات ہیں جن کی وہ پیروی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے ضدی لوگوں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا، ان کو توفیق نہیں دیتا تو پھر مخلوق میں وہ کان ہے جو ایسے لوگوں کو راہ ہدایت دکھائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ایسے ضدی، ہٹ دھرم ، جاہل و نادان لوگوں کے راستے پر ہرگز مت چلنا بلکہ یکسو ہو کر ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرنا، پوری دلچسپی اور توجہ سے اسی دین کا دامن تھامے رکھنا کسی اور جانب مت دیکھنا۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے آپ کے واسطے سے پوری امت سے کہا جارہا ہے کہ وہ دین حنیف اور فطرۃ اللہ کی اتباع و پیروی کریں۔ دین حنیف یعنی ہر شخص اپنا رخ اور دھیان صرف ایک اللہ کی طرف جمادے اور اللہ جو کہ وحدہ لا شریک ہے اس کے سوا کسی کی طرف خیال تک نہ لے جائے۔ فطرۃ اللہ سے مراد دین اسلام ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو پیدائشی طور پر سیدھی سچی فطرت اور عادت اور جبلت پر پیدا کیا ہے یہ اور بات ہے کہ اس کے والدین اس کو اپنی ٹیڑھی فطرت، مزاج اور عقیدوں کا خوگر بنا دیتے ہیں اور اس کا رخ اللہ کی طرف ہونے کے بجائے غیر اللہ کی طرف پھیر دیتے ہیں اور پھر وہ شخص وہی سب کچھ کرنے لگتا ہے جو اس نے اپنے اردگرد کے ماحول میں دیکھا ہے۔ قرآن کریم کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ماحول کی گرد میں کتنا ہی کیوں نہ گم ہوجائے اگر اس کے سامنے سچائی آتی ہے تو وہ اس کو قبول کرنے کے لئے کم از کم اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے اور اگر اس پر محنت کی جائے تو وہ اس کو دل سے قبول کرلیتا ہے۔ اس سے تبلیغ دین کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے یعنی اللہ کے دین کے سچے اصولوں کا پہنچا دینا ضروری ہے بقیہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ہمارا کام سلیقے طریقے سے اللہ کے دین کو پہنچانا ہے دلوں کا موڑنا یہ اللہ نے اپنے ذمے لیا ہوا ہے۔ اہل ایمان سے فرمایا جارہا ہے کہ وہ دین کو پہنچانے کی کوشش بھی کریں اور خود بھی اپنے دلوں میں اللہ کا خوف اور ڈر زندہ رکھیں۔ نمازوں کی پابندی کریں۔ زکوۃ ادا کریں اور مشرکانہ طریقے اختیار کرنے سے اجتناب اور پرہیز کریں۔ کیونکہ مشر کین وہ مفاد پرست لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کے معمولی معمولی فائدوں کے لئے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور آج ہر ایک گروہ کا یہ خیال ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس وہی سب کچھ ہے وہی حق اور سچ ہے وہ اسی میں مست اور مگن ہے۔
Ayahs 30:33–37

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بےقرار ہو کر اپنے رب کو پکارنے لگتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنے کرم کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب (کے ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہرانے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس پر ناشکری کرنے لگتا ہے۔ (ایسے مشرکین سے کہا جا رہا ہے کہ ) تم چند دنوں تک مزے اڑا لو بہت جلد تمہیں (ساری حقیقت ) معلوم ہوجائے گی۔

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی سند (کتاب) نازل کی ہے جو ان سے کہتی ہے کہ وہ اللہ کا شریک بنائیں۔

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

(حال یہ ہے کہ) جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت اور کرم کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ اور اگر ان کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو وہ مایوس ہو کر وہ جاتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ (کی یہ قدرت ہے کہ) وہ جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ مس (اس نے چھوا ۔ ہاتھ لگایا) ۔ ضر (تکلیف۔ مصیبت ) ۔ اذاق (اس نے چکھایا ) ۔ تمتعوا (تم فائدہ حاصل کرلو۔ مزے اڑالو ) ۔ سلطان (قوت۔ سند۔ حجت ) ۔ یتکلم (بات کرتا ہے۔ بتاتا ہے) ۔ یقنطون (وہ مایوس ہوتے ہیں) ۔ یبسط (وہ کھولتا ہے۔ کشادہ کرتا ہے) ۔ یقدر (اندازہ کرتا ہے۔ کم دیتا ہے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ ” مومن دل کی گہرائیوں سے اس بات پر یقین کامل رکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور رازق صرف ایک اللہ ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی کے حکم سے ہوتا ہے، راحت و آرام، تکلیف یا مصیبت، رزق میں اضافہ یا کمی سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مومن کو راحت و آرام ملتا ہے تو وہ قدم قدم پر نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر اس کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اور اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے یہی وہ سچی فطرت اور عادت ہے جو دین اسلام نے ایک مومن کو سکھائی ہے جس پر بےانتہا اجر وثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اس کے بر خلاف کفارو مشرکین جو خلاف فطرت زندگی گذارتے ہیں اگر ان کو ان کے برے اعمال یا کرتوتوں کی وجہ سے کوئی تکلیف یا آفت پہنچتی ہے تو وہ بد حواس ہو کر بےصبری اور ناشکری کا مظاہرہ کرتے اور مایوسی کی انتہاؤں تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر ان کو مال و دولت، راحت و سکون، عیش و آرام اور حکومت و سلطنت مل جاتی ہے تو وہ فخر و غرور کا پیکر بن کر دنیا کے تمام لوگوں کو اپنے سے کم تر اور بےحقیقت سمجھنے لگتے ہیں اور کسی ظلم و زیادتی سے پیچھے نہیں رہتے یہی وہ خلاف فطرت زندگی ہے جس کو اللہ نے ناپسند فرمایا ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بےقرار اور بےچین کو ہو کر صبح و شام اپنے رب کا پکارتے ہیں اور اگر ان کو راحت و آرام کے اسباب دے دیئے جاتے ہیں تو وہ لوگ نہ صرف اللہ کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا شروع کردیتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگ دنیا کے مال و دولت اور وقتی عیش و آرام میں مزے اڑالیں چنددنوں کی بات ہے بہت جلد ان پر ساتی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ وہ کفر و شرک کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے ان پر اللہ نے کوئی ایسی کتاب نازل کی ہے جو ان کو بتاتی ہے کہ وہ دوسروں کو اللہ کی ذات، صفات اور عبادت میں شریک کریں۔ حالانکہ ان کے پاس ایسی کوئی سند، حجت اور دلیل نہیں ہے مگر وہ اپنی جگہ بڑے خوش، مسرور اور مطمئن ہیں۔ فرمایا کہ وہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کسی کو بہت زیادہ رزق دیا جانا اور کسی کو کم تر رزق ملنا یہ سب اسی کی قدرت سے ہے وہ جس کو جتنا دینا چاہے دیتا ہے ہر چیز کا اختیار اسی کو حاصل ہے۔ فرمایا کہ اللہ کی یہ نشانیاں ہر وقت ہر ایک کے سامنے ہیں لیکن ان نشانیوں سے صرف وہی فائدہ حاصل کرتے ہیں جن کے دل نور ایمانی سے روشن ومنور ہیں۔
Ayahs 30:38–40

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تم رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا و خوشنودی چاہتے ہیں۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو کچھ دیتے ہو تاکہ ان کو مالوں میں شامل ہو کر وہ بڑھ کر واپس آئے تو (یاد رکھو) یہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ تم اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے زکوۃ دیتے ہو یہی مال اللہ کے ہاں وہ بڑھاتے رہیں گے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں رزق دیا ہے۔ وہی تمہیں موت دے گا اور پھر وہ (قیامت کے دن) تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو ان کاموں کو انجام دیتا ہو۔ وہ اللہ پاک بےعیب ذات ہے۔ وہ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (38 تا 40 ) ۔ یریدون (وہ چاہتے ہیں) ۔ لا یربوا (وہ نہیں بڑھتا ہے ) ۔ المضعفون (دو گنا حاصل کرنے والے ) ۔ تعالیٰ (بلندو بر تر ذات ) ۔ تشریح : آیت نمبر (38 تا 40) ۔ ” مومن کا ہر کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے تاکہ اس پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اور وہ اللہ کی ناراضگی سے محفوظ رہے۔ وہ اگر اپنے رشتہ داروں، ضرورت مندوں اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ دوسروں کو بھیک دے رہا ہے بلکہ ان کا حق سمجھ کر ان کی مدد کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ نے اسے اس قابل کیا کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ اس کے بر خلاف کفارو مشرکین اور دنیا دار اگر کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کے پیچھے یہ جذبہ چھپا ہوا ہوتا ہے کہ اگر آج اس نے کسی کو اپنا مال دے دیا تو کل وہ اس سے زیادہ واپس لوٹے گا۔ گویا وہ دوسروں کی مدد نہیں کرتا بلکہ تجارت کرتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرتے وقت مقصد صرف دکھاوا اور دنیا کو خوش کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کے ان مزاجوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کافر و مشرک اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اس اللہ نے اس کو وجود عطا کیا، زندگی اور اس کے تمام اسباب عطا کئے۔ زندگی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور موت بھی۔ اور اسی کی قدرت ہے کہ وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کر کے ان کو میدان حشر میں جمع کرے گا اور ان سے دی گئی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے گا۔ اور اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے جب بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا اور اللہ کی ذات وصفات اور عبادت و بندگی میں دوسروں کو شریک کر رکھا تھا وہ ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ کیونکہ انسان زندگی اس کے اسباب، موت وحیات ان میں سے ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو ان جھوٹے شریک معبودوں نے بنائی ہو۔ مومن اور کفار و مشرکین کے ان ذہنوں کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے۔ (اے مومنو ! ) تم رشتہ داروں کو ان کا حق دہ ۔ محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہے جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی چاہتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ہر طرح کی فلاح و کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔ (رہے وہ لوگ) جو اپنے مالوں کو دوسروں کے مالوں میں اس لئے شامل کرنے کے لئے دیتے ہیں کہ جو دیا گیا ہے اس سے زیادہ ہو کر واپس آئے گا تو ایسے لوگ یاد رکھیں کہ ان کے نزدیک شاید مال بڑھ کر مل جائے لیکن اللہ کے نزدیک وہ مال بڑھتا نہیں ہے کیونکہ جو مال اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے دیا جاتا ہے وہی مال (دنیا اور آخرت میں ) دو گنا ہو کر ملے گا۔ فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اس نے تمہیں رزق دیا ہے۔ وہی موت دے گا اور پھر قیامت کے دن وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ فرمایا کہ کیا تمہارے ان معبودوں میں سے جن کو تم اللہ کا شریک سمجھتے ہو ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جس نے ان میں سے کوئی چیز بنائی ہو۔ فرمایا کہ اللہ کی ذات پاک اور بےعیب ہے۔ وہ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند باتیں عرض ہیں۔ (1) مومن کا ہر کام محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے۔ اس کا مقصد دنیا والوں کو خوش کرنا یا دکھاوا نہیں ہوتا بلکہ اس درجہ کا خلوص ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا والے جوش ہوں یا نہ ہوں اس کا پروردگار اس سے خوش ہوجائے۔ (2) جب وہ کسی رشتہ دار یا ضرورت مند، غریب، مسکین اور پریشان حال مسافر کی مدد کرتے ہیں تو وہ ان کا حق سمجھ کر ان کی مدد کرتے ہیں اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ کو توفیق سے وہ کسی کے کام آسکے۔ وہ کسی کی مدد کرتے وقت احسان جتانے اور مخر و غرور کے بجائے نہایت عاجزی و انکساری سے کام لیتے ہیں جو اللہ کو بہت پسند ہے۔ (3) ایسے مخلص لوگ دنیا والوں کی نظروں میں کتنے بھی نا کام سمجھے جائیں مگر اللہ کے نزدیک یہی وہ کامیاب و با مراد لوگ ہیں قیامت میں حقیقی کامیابی ان ہی کا مقدر ہوگی۔ (4) یہاں بعض حضراب نے ” ربوا “ اور زکوۃ کے لفظوں کو مقابل قرار دیا ہے یعنی جو لوگ اپنے مالوں کے ذریعہ مال کماتے ہیں تو وہ مال دنیا میں کتنا بھی کیوں نہ بڑھ جائے اللہ کے نزدیک اس مال کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس کے بر خلاف وہ لوگ جو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنے مالوں میں سے زکوۃ نکالتے ہیں۔ زکوۃ نکالنے کی وجہ سے بظاہر ان کا مال کتنا بھی کم کیوں نہ ہوجائے مگر اللہ کے نزدیک آخرت میں ان کا مال بڑھتا ہی رہے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں اور ” ربوا “ یعنی سود کے حرام ہونے اور زکوۃ کو ایک نصاب کے مطابق ادا کرنے کے احکامات مدینہ منورہ میں نازل ہوئے ہیں۔ لہذا اس سے مراد معاشرہ کی وہ خرابی ہے جس میں خلوص و اخلاص کے بجائے دنیاداری غالب ہوتی ہے جس میں ایک شخص کسی کی مدد اس لئے نہیں کرتا کہ وہ ضرورت مند ہے بلکہ اس لئے مال خرچ کرتا ہے تاکہ وہ دوگنا ہو کر واپس آئے یا جس کی مدد کی گئی ہے وہ احسانات کے نیچے اس طرح دب جائے کہ آئندہ وہ مال داروں کی من مانیوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجائے۔ (5) اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کی ڈور ہے اور ساری دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر وہی اللہ اپنی قدرت کاملہ سے انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ اللہ کی اس قدرت و طاقت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور نہ کسی کے بس میں ہے کہ وہ یہ تمام کام کرسکے۔ لہذا اللہ وہ ہے جو ان تمام چیزوں سے افضل، برترو اعلیٰ ہے جن کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔