Ar-Room 30:8

Ar-Room · from ayah 8

30:8

اَوَلَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ ۫— مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ— وَاِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ ۟اَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ وَ اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ لَـكٰفِرُوۡنَ

کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do they not contemplate within themselves? Allah has not created the heavens and the earth and what is between them except in truth and for a specified term. And indeed, many of the people, in [the matter of] the meeting with their Lord, are disbelievers.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:8

کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو بغیر کسی برحق مقصد کے اور کوئی میعاد مقرر کیے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور بہت سے لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار سے جا ملنے کے منکر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق اور ایک مقرر میعاد سے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا کہ اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے پیدا نہیں فرمایا مگر (نظامِ) حق اور مقرّرہ مدت (کے دورانیے) کے ساتھ، اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے مُنکِر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اسے پیدا نہیں کیا مگر حق اور ایک مقرر وقت کے ساتھ اور بیشک بہت سے لوگ یقینا اپنے رب سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کو کسی حقیقی مصلحت اور ایک مقررہ وقت تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ مگر لوگوں میں سے اکثر اپنے پروردگار کی ملاقات سے منکر ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ! اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا ہے مگر غایت و حکمت اور ایک مدت مقرر کے ساتھ۔ اور لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان لوگوں نے کبھی غور و فکر سے کام نہیں لیا اپنے دلوں میں کہ اللہ نے نہیں پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی کائنات کو مگر حق کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت تک کے لئے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات (اور اس کے حضور پیشی) کے پکے منکر ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کو کسی حکمت ہی سے اور ایک میعاد معین تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کثرت سے لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ لوگ اپنی ذات میں غور نہیں کرتے نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک وقت معینّ تک کے لیے اور یقیناً بہت سے لوگ اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور نہیں کیا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لیے پیدا کیا ہے اور بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they not reflect on themselves? Allah created the heavens and the earth and whatever lies between them in Truth and for an appointed term. Yet many people deny that they will meet their Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did they not reflect in their own selves? Allah did not create the heavens and the earth and what is between them but with a just cause and for an appointed time. Yet many of the people are disbelievers in the meeting with their Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

Did they not reflect in their own selves? Allah did not create the heavens and the earth and what is between them but with a just cause and for an appointed time. Yet many of the people are disbelievers in the meeting with their Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Do they not reflect upon themselves) Thinking and pondering how Allah created various things in the upper and lower realms and in the space between, realizing that this was not created in jest or in vain, but in truth, and that it will continue until an appointed time, the Day of Resurrection

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have they not pondered upon themselves? Allah created not the heavens and the earth, and that which is between them, save with truth and for a destined end. But truly many of mankind are disbelievers in the meeting with their Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do they not contemplate within themselves? Allah has not created the heavens and the earth and what is between them except in truth and for a specified term. And indeed, many of the people, in [the matter of] the meeting with their Lord, are disbelievers.

— Saheeh International

Have they not thought that God has not created the heavens and the earth and all that is between them but for a genuine purpose to exist for an appointed term? Many people do not believe in their meeting with their Lord.

— Muhammad Sarwar

Do they not reflect within themselves: Allah did not create the heavens and the earth and what is between them two but with truth, and (for) an appointed term? And most surely most of the people are deniers of the meeting of their Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Ponder they not in their minds: Allah hath not created the heavens and the earth and whatsoever is in-between the twain save with a purpose and for a term appointed? And verily many men in the meecing of their Lord are unbelievers.

— Abdul Majid Daryabadi

Do they not reflect in their own minds? Not but for just ends and for a term appointed, did Allah create the heavens and the earth, and all between them: yet are there truly many among men who deny the meeting with their Lord (at the Resurrection)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو کبھی عالم سفلی پر نظر ڈالو کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بیکار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ دیکھ لو ان کے مخالفین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 5 یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ باہر کسی طرف نگاہ دوڑانے سے پہلے خود اپنے وجود پر غور کرتے تو انہیں اپنے اندر ہی وہ دلائل مل جاتے جو موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں۔ انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بیشمار چیزیں اس کے لیے مسخر کردی گئی ہیں، اور ان پر تصرف کے وسیع اختیارات اس کو بخش دیے گئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اسے اپنی راہ زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایمان اور کفر، طاعت اور معصیت، نیکی اور بدی کی راہوں میں سے جس راہ پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر کیا (دلائل وقوع آخرت کے سن کر بھی ان کی نظر دنیا ہی پر مقصود رہی اور) انہوں نے اپنے دلوں میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان میں ہیں کسی حکمت ہی سے اور ایک میعاد معین (تک) کے لئے پیدا کیا ہے (جیسا اس نے آیات میں خبر دی ہے کہ ان حکمتوں میں سے ایک حکمت جزاء و سزا کی ہے اور میعاد معین قیامت ہے۔ اگر اپنے دلوں میں غور کرتے تو ان واقعات کا امکان عقل سے اور ان کا وقوع نقل یعنی قرآن سے اور اس نقل کا صدق صفت اعجاز سے منکشف ہوجاتا اور آخرت کے منکر نہ ہوتے، مگر غور نہ کرنے سے منکر ہو رہے ہیں) اور (یہی کیا اور) بہت سے آدمی اپنے رب کے ملنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اولم یتفکروا فی انفسھم، ما خلق اللہ السموات والارض وما بینھا الا بالحق ماجل مسمی ط وان کثیرام الناس بلقاء ربھم للکفرون (8) اس آیت میں اور آگے کے چند آیات میں اسی حقیقت کی تائید میں، جو اوپر بیان ہوئی، آفاق کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ خود اپنے باطن میں اتر کو غور کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ان میں سے کسی چیز کو بھی بےغایت و مقصد، محض کھیل تماشے کے طور پر، نہیں بنایا ہے بلکہ ہر چیز ایک غایب و مقصد اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ بندھی ہوئی پیدا ہوئی ہے۔ تو جب اس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر ایک غایت و حکمت رکتھی ہے اور اس کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8-1یا ایک مقصد اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے بےمقصد اور بیکار نہیں۔ اور وہ مقصد ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دی جائے۔ یعنی کیا وہ اپنے وجود پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح انھیں نیست سے ہست کیا اور پانی کے ایک حقیر قطرے سے ان کی تخلیق کی۔ پھر آسمان و زمین کا ایک خاص مقصد کے لیے وسیع و عریض سلسلہ قائم کیا نیز ان سب کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا یعنی قیامت کا دن۔ جس دن یہ سب کچھ فنا ہوجائے گا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں پر غور کرتے تو یقینا اللہ کے وجود اس کی ربوبیت و الوہیت اور اس کی قدرت مطلقہ کا انھیں ادراک و احساس ہوجاتا اور اس پر ایمان لے آتے۔ 8-2اور اس کی وجہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–10

3: یعنی اگر آخرت کو نہ مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات یونہی بغیر کسی مقصد کے پیدا کردی ہے جس میں نہ کسی ظالم اور بدکار سے کوئی حساب کبھی لیا جائے گا اور نہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی انعام کبھی مل سکے گا، نیز یہ کائنات غیر محدود مدت تک اسی طرح بےمقصد چلتی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اولم یتفکروا ۔۔۔۔۔ ربھم لکفرون (8) ” “۔ کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ خود ان کی ساخت اور ان کی تخلیق اور ان کے اردگرد موجود یہ وسیع کائنات اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ وجود ایک سچائی پر قائم ہے۔ ایک ایسے اٹل ناموس فطرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ کائنات کبھی ادھر ڈھلک گئی اور کبھی ادھر۔ نہ اس کی گردش میں فرق آتا ہے ، نہ اجرام فلکی میں تصادم ہوتا ہے اور نہ اس کی حرکت کوئی غیر مرتب اندھی حرکت ہے۔ نہ یہ حرکت بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق بدلتی ہے۔ بلکہ یہ حرکت نہایت ہی گہری ، دقیق اور حکیمانہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ سچائی جس کے مطابق انسانی زندگی اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی عالم کا اتنا زبردست نظام اللہ تعالیٰ نے بیکار پیدا نہیں کیا۔ کچھ اس سے مقصود ضرور ہے وہ آخرت میں نظر آئے گا۔ ہاں یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتا تو ایک بات تھی، لیکن اس کے تغیرات و احوال میں غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ اس کی کوئی حد اور انتہا ضرور ہے۔ لہذا ایک وعدہ مقررہ پر یہ عالم فنا ہوگا اور دوسرا عالم اس کے نتیجہ کے طور پر قائم کیا جائے گا۔ 5 وہ سمجھتے ہیں کہ کبھی خدا کے سامنے جانا ہی نہیں جو حساب و کتاب دینا پڑے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ” اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات ایک مقصد کے تحت پیدا کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار ہر وہ شخص کرتا ہے جو چشم بصیرت سے کائنات کا نظام دیکھتا ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 191 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جب وہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو بےاختیار پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج ”اے ہمارے پروردگار ! ہم سمجھ گئے ہیں کہ تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں فرمایا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 انسان کے اندر بھی ایک پوری کائنات آباد ہے۔ اسی لئے انسان کے اندر کی دنیا عالم اصغر کہا جاتا ہے۔ اور بیرونی دنیا یا کائنات کو عالم اکبر۔ پھر اس اندرونی دنیا کے بھی بیشمار پہلو ہیں۔ ہم سردست انسان کے اس پہلو پر غور کریں گے جس میں وہ دوسرے جانوروں سے ممتاز ہے۔ مفاد خویش ، تحفظ خویش اور بقائے نسل وغیرہ ایسے طبعی تقاضے ہیں جو ہر جاندار اور اسی طرح انسان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اور جن باتوں میں وہ ممتاز ہے وہ یہ ہیں (1) زمین اور اس کے ماحول میں بیشمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہیں۔ اور وہ ان سے جیسے چاہے کام لے سکتا ہے اور یہ صفت انسان کے علاوہ دوسرے کسی جاندار میں نہیں (2) اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ مطب یہ ہے کہ تکوینی کائنات خود اس امر کی مقتضی ہے کہ اس کے انجام کے ظہور کیلئے ایک یوم آخرت ہو، جس میں دینے کے لئے کافی ہے (آیت) ” السموت والارض وما بینھما “۔ یعنی جمیع سلسلہ موجودات وکائنات۔ (آیت) ” الا بالحق “۔ کسی خاص مصلحت ومقصد کے ساتھ۔ کسی حکمت کے ماتحت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولم یتفکروا فی انفسم . کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور نہیں کیا۔ یعنی کیا انہوں نے اپنے علم کو صرف ظاہری دنیا پر منحصر رکھا اور دلوں کے اندر باطن پر غور نہیں کیا کہ ان پر دنیا کے اندرونی گوشوں کا انکشاف ہوتا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے کیا اپنے نفسوں کے متعلق غور نہیں کیا باوجودیکہ ان کے نفوس ان سے اتنے قریب ہیں کہ دوسری کوئی چیز اتنی قریب نہیں۔ اپنے نفس کے اندر غور کرنے والے کو وہ انکشافات ہوتے ہیں جو سارے عالم امکان پر غور کرنے والے کو ہوتے ہیں۔ انسان عالم صغیر ہے (اور عالم کبیر کا نمونہ ہے) اگر وہ اپنے دلوں میں غور کرتے تو ان کو معلوم ہوجاتا اور وہ کہہ اٹھتے کہ ما خلق اللہ السمٰوٰت والارض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان کفار مکہ نے اپنے دلوں میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق اور دیگر چیزوں کو ایک مخصوص وقت تک کے لیے کہ اس کے بعد فیصلہ فرمائے کسی حکمت کے تحت پیدا فرمایا ہے کہ لوگوں اور اوامرو ونواہی کا مکلف فرمائے مگر کفار مکہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ۔۔ : اس میں دو احتمال ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ”اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ“ ایک مستقل جملہ ہے اور ”مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى“ دوسرا جملہ ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے جو اللہ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلاتے ہیں اپنی جانوں میں غور نہیں کیا، کیونکہ ان کی جانوں میں کئی نشانیاں ہیں، جن کے ساتھ وہ جان سکتے ہیں کہ جس ذات نے انھیں عدم سے وجود بخشا ہے وہ اس کے بعد انھیں دوبارہ بھی زندہ کرے گا اور یہ کہ وہ ذات جس نے انھیں ایک سے دوسری کئی حالتوں میں منتقل کیا، چناچہ نطفے سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ تفکر کی طرف ہے یہ معفول نہیں حرف جر کے ساتھ اس کی طرف متعدی ہے کیونکہ ان کو حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی ذاتوں میں سوچ و بچار کریں انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ آسمان زمین اور اپنی ذاتوں میں فکر و نظر کو استعمال کریں یہاں تک کہ انہیں علم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور دوسری چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے زجاج نے کہا : کلام میں حذف ہے یعنی فیعلموا کیونکہ کلام میں اس پر دلیل ہے الا بالحق فراء نے کہا : معنی ہے حق کے لئے یعنی ثواب اور عقاب کے لئے : ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مگر اقامت حق کے لئے ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : بالحق کا معنی عدل کے ساتھ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : حکمت کے ساتھ، معنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–13

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ صرف معیشت کے ذرائع کو جانتے ہیں کہ وہ کب درخت لگائیں کب فصل بوئیں اور کب وہ کھیتی کو کاٹیں گے اور یہ آخرت سے غافل ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دنیا کی آباد کاری کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کے معاملات سے جاہل ہیں۔ 3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی تجارت کو اپنے حرفہ کو اور اپنی خریدو فروخت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا [اور کیا ان لوگوں نے سوچ و چار نہیں کیا ] فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۣ [اپنے جی (یعنی وجود) میں ] مَا خَلَقَ اللّٰهُ [نہیں پیدا کیا اللہ نے ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [آسمانوں اور زمین کو ] وَمَا [اور اس کو جو ] بَيْنَهُمَآ [ان دونوں کے مابین ہے ] اِلَّا بِالْحَقِّ [مگر حق کے ساتھ ] وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [اور ایک معین وقت کے ساتھ ] وَاِنَّ [اور بیشک ] كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ [لوگوں میں سے اکثر ] بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ [اپنے رب کی ملاقات کا ] لَكٰفِرُوْنَ [یقینا انکار کرنے والے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آسمان و زمین کی تخلیق میں فکر کرنے کی تلقین قرآن کریم کے اولین مخاطبین مشرکین عرب تھے۔ ان آیات میں ان کو ان کے بعد آنے والے پوری دنیا جہاں کے انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کو وجود بخشا، یہ سب یوں ہی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے یعنی ان کے پیدا فرمانے میں بڑی حکمتیں ہیں اور بات یہی ہے کہ ان کو ایک معین مدت تک کے لیے وجود بخشا ہے، یہ سب چیزیں خالق کائنات کے پہچاننے کے لیے ہیں، اس وجود کی بقاء کے لیے ایک مدت معین ہے، جب قیامت آئے گی تو آسمان پھٹ جائے گا، زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر ڈال دے گی، پہاڑ روئی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–19

ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔ اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ یہ بھی زجر و تنبیہ ہے۔ کیا وہ اس میں غور و فکر نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا نظام عالم اظہار حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس سے اللہ تعالیی کی قدرت و صنعت، وسعت علم اور اس کی وحدانیت پر استدلال کریں۔ اور پھر اس عالم آب و گل کی ایک انتہاء ہے جس کے بعد قیامت آئے گی اور سب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے۔ لیکن اکثر لوگ غور و فکر نہیں کرتے وہ اللہ کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں اور آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

ربطہ آیات سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ مغلوب رومی عیسائی چند سالوں میں دوبارہ غالب آجائیں گے۔ چناچہ یہ پیشن گوئی نو سال کے اندر اندر پوری ہوگئی۔ ادھر عیسائیوں نے اپنے مقدس مقدمات مجوسیوں سے واگذار کر الیے اور ادھر اللہ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو کافروں پر فتح عطا فرمائی۔ اس پیشن گوئی پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ابی ابن خلف کے درمیان ایک ایک سو اونٹ کی شرط بھی لگ چکی تھی۔ عیسائیوں کے دوبارہ غلبہ پر حضرت صدیق ؓ شرط تو جیت چکے مگر ابی ابن خلف میدان بدر میں مارا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت صدیق ؓ نے سو اونٹ ابی ابن خلف کے رشتہ داروں سے وصول کیے تھے۔ قمار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ۝ 0ۣ مَا خَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى۝ 0ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاۗءِ رَبِّہِمْ لَكٰفِرُوْنَ۝ 8 فكر الْفِكْرَةُ : قوّة مطرقة للعلم إلى المعلوم، والتَّفَكُّرُ : جولان تلک القوّة بحسب نظر العقل، وذلک للإنسان دون الحیوان، قال تعالی: أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ ما خَلَقَ اللَّهُ السَّماواتِ [ الروم/ 8] ، أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ [ الأعراف/ 184] ، إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ [ الرعد/ 3] (ک ر ) الفکرۃ اس قوت کو کہتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : ماخلق مانا فیۃ و فی التقدیر و جہان احد ھما ھو مستانف لا موضع لہ والکلام تام قبلہ والثانی موضعہ نصب یتفکروا والنفی لایمنع ذلک کمالم یمنع فی قولہ وظنوا مالہم من محیص عاقبۃ فمن رفعہ جعلہ اسم کان و فی الخبرو جہان احد ھما السوی ان کذبوا فی موضع نصب مفعولا لہ ای لان کذبوا وبان کذبوا والثانی ان کذبوا و السوئی علی ھذا صفۃ مصدر و من نصب جعلھا خبر کان والاسم السوءی اوان کذبوا والسوءی تانیث الاسوء وھو الاقبح۔ تفسیر : ان لوگوں کو کہ جو ظاہر دنیا پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں، ان آیات میں اپنی قدرت اور جبروت کا مشاہدہ کراتا ہے، فقال اولم یتفکروا الخ کہ وہ اپنے دل میں نہیں سوچتے کہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قف مَاخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَـھُمَآ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسْمًّیط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَـآیِٔ رَبِّہِمْ لَـکٰفِرُوْنَ ۔ (الروم : 8) (کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ایک مدت مقرر کے ساتھ، اور بیشک لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ ) انسان کو تفکر کی دعوت انسان کا یہ طرزفکر کہ وہ دنیا ہی کو انسانی تگ و تاز کا اصل میدان اور اسی میں زیادہ سے زیادہ ترقی کو مقصدزندگی سمجھتا ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–10

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی غفلت کا ایک سبب اسے دنیا میں ملنے والی مہلت ہے جس کی طرف انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اسے اپنے انجام کا خیال رکھنا چاہیے۔ انسان دنیا کی سہولیات اور زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر آخرت کے احتساب کو بھول جاتا ہے۔ خاص طور پر کافر اور مشرک کی جب دنیا میں گرفت نہیں ہوتی تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شائد مرنے کے بعد بھی مجھے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو بالخصوص ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! اپنے آپ اور زمین آسمان اور جو کچھ ان میں موجود ہے اس پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اور کیونکر پیدا کیا ہے۔ اس نے کوئی چیز بھی بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ ہر چیز کے پیدا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دِل کی حکمتوں پر غور : 8: اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ (کیا وہ اپنے نفسوں کے متعلق نہیں سوچتے) نمبر 1۔ اس کے ظرف ہونے کا احتمال ہے گویا اس طرح کہا گیا : اولم یثبتوا التفکر فی انفسہم یعنی کیا وہ اپنے نفوس میں تفکر کو قائم نہیں کرتے وہ دل جو کہ فکر سے فارغ ہیں حالانکہ تفکر کا تو مقام ہی دل ہے لیکن اس میں سوچنے والوں کی حالت کی مزید تصویر کشی فرمائی گئی جیسا کہتے ہیں اعتقدہ فی قلبک میں تمہارے دل میں اس کا اعتقاد کرتا ہوں حالانکہ اعتقاد کا تو محل ہی دل ہے۔ نمبر 2۔ تفکر کا صلہ ہے جیسا کہتے ہیں تفکر فی الامر واجال فیہ فکرہ۔ اس نے معاملے کو سوچا اور اپنی فکر اس میں دوڑائی۔ اس کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 8” اولم یتفکروافی انفسھم ماخلق اللہ السموات والارض ومابینھماالا بالحق “ یعنی برحق بعض نے کہا حق کے قیام کے لئے۔” واجل مسمی معلوم وقت میں ان کی بقاء ہے پھر جب قیامت برپا ہوجائے گی۔” وان کثیرامن الناس بلقاء ربھم لکافرون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–13

8 تا 12۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر کریں کس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے اور اس فکر کے کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے کوئی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غور کریں تو اچھی طرح جان لیں کہ یہ تمام مخلوق بےکار پیدا نہیں کی گئی ہے بلکہ نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے پیدا کی گئی ہے اور ایک معین تک اس کی میعاد مقرر کی گئی ہے اور وہ قیامت کا روز ہے لیکن اکثر لوگ اپنے رب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–10

آیت نمبر 8-10 کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا (فی انفسھم) ” اپنے آپ پر ؟ “ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انہیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی ‘ وہ ہستی جس نے انہیں نطفہ ‘ جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا ‘ پھر اس میں روح پھونکی ‘ پھر اسے بچہ بنایا ‘ اس بچے سے اسے جوان بنایا ‘ پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بےکار چھوڑ دے کہ انہیں کسی چیز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 اپنے باطن میں اتر کر غور و فکر کی دعوت و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی اپنے میں اتر کر غور نہیں کیا "۔ یعنی اگر یہ لوگ اپنے دلوں میں اتر کر سوچتے اور غور و فکر سے کام لیتے تو ان کے سامنے اصل حقائق واضح ہوجاتے۔ اور یہ بات ان کے سامنے کھل کر آجاتی کہ آسمان و زمین کا یہ سارا کارخانہ ہست و بود بےکار اور بےمقصد نہیں ہوسکتا۔ دوسرا مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے خود اپنے بارے میں سوچا اور اپنے نفسوں کے بارے میں غور نہیں کیا جو کہ ان کے سب سے زیادہ قریب ہیں اور جن میں عبرت و بصیرت کے بڑے بڑے درس موجود ہیں۔ حضرات مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کے یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–10

گزرے ہوئے لوگ باعث عبرت تشریح : یہ آیات نظام قدرت واضح کر رہی ہیں دنیا کے تغیر و تبدل قوموں کے عروج وزوال اور کائنات کے بنانے کا مقصد کیا ہے ؟۔ سلطان بشیر محمود صاحب نے بہت اچھی وضاحت کی ہے لکھتے ہیں ” کائنات میں قیامت کے واقعات اس کی تقدیر ہے۔ اور اپنے اپنے وقت پر یہ واقعات ضرور ہی ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ قیامت ی عوامل (قیامت کی قسمیں) مندرجہ ذیل ہیں۔ 1 کسی فرد کی موت ( اس کی قیامت کا آغاز ہے) 2 زمین کے کسی حصہ میں کوئی آفت ناگہانی۔ (کسی قبیلہ یا قوم کی قیامت) 3 کرہ ارض یا شمسی نظام کی مکمل تباہی۔ (یہ تمام نوع انسانی کی قیامت ہوگی) 4 کسی کہکشاں کی تباہی۔ (یہ ہمارے قریبی عالم کی تباہی ہوگی) 5…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔” یا کیا انہوں نے اپنے بارے میں نہیں سوچا “ کہ وہ کیا تھے ؟ کس نے انہیں پیدا کیا اور کیا ان کا انجام ہوگا ؟ بایں صورت یہ تفکر کا مفعول ہوگا۔ (شوکانی) 9 ۔ یعنی یہ نظام کائنات کھیل تماشہ نہیں بنا کہ اس کے پیدا کرنے میں کوئی مقصد کارفرما نہ ہو بلکہ خاص مقصد کے تحت بنایا گیا ہے اور ایک مقررہ وقت تک کے لئے بنایا گیا ہے۔ سورة ملک میں آسمان و زمین کے خلق کو غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ یعنی یہ نظام کائنات محض تمہاری آزمائش کے لئے بنایا ہے کہ تم میں سے کس کا عمل دوسرے کے عمل سے اچھا ہے اور پھر ایک دن یقیناً یہ نظام نا ہوجائے گا اور اس کی جگہ دوسرا نظام جنم لے گا جس میں لوگوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:8) اولم یتفکروا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ واؤ مقدرہ پر عطف کے لئے ہے۔ لم یتفکروا۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر غائب۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا۔ ما خلق اللہ میں ما نافیہ ہے۔ اجل مسمی۔ موصوف و صفت، مقررہ مدت۔ میعاد معین اس کا عطف بالحق پر ہے ای وباجل مسمی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–10

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–8

قیامت کے منکرین کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غوروفکر کریں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے اس کے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات کا پالنے والا ہے، یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں نہیں سوچتے کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کی مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غورکریں تو اچھی طرح جان لیویں کہ یہ تمام مخلوق بیکار پیدا نہیں کی گئی ہے، بلکہ نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328 [5] یعنی عالم کے تغیرات و احوال میں غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ اس کی کوئی حد اور انتہا ضرور ہے۔ لہذا ایک وعدہ مقررہ پر یہ عالم فنا ہوگا اور دوسرا عالم اس کے نتیجے میں قائم کیا جائے گا۔ اب تو سائنس کی بنیاد پر بھی قیامت کا انکار ممکن نہیں۔ چناچہ حرکیات حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermo dynamics) کی رو سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ یہ عالم مادی ہے نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ اس کو لازماً ایک وقت ختم ہونا ہی چاہئے۔ [6] یعنی اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کبھی اللہ کے سامنے پیش ہونا ہی نہیں جو حساب و کتاب دینا پڑے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

بالحق ۔ حق کا لفظ قرآن حکیم میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ کائنات کو یونہی بلا فائدہ نہیں پیدا کیا گیا اس کے پیدا کرنے میں ایک غرض پنہاں ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان رب العزت کے حضور پیش ہونے کے لئے دنیوی نعمتوں سے استفادہ کرے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

8۔ آگے ان کے غور و فکر نہ کرنے پر تنبیہ ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے کیا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں کبھی یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو نہیں پیدا کیا مگر کسی خاص حکمت اور مصلحت سیایک وقت مقررہ تک کے ہی پیدا کیا ہے اور بلا شبہ بہت سے آدمی تو اپنے پروردگار کی پیشی میں حاضرہونے کو مانت ہی نہیں اور پروردگار کے روبرو حاضر ہونیکے منکر ہیں ۔ یعنی بات اتنی مشکل نہیں یہی عالم اس عالم کے لئے دلیل راہ ہوسکتا ہے لیکن اپنے جی میں غور ہی نہیں کرتے اور چونکہ غور نہیں کرتے اس لئے عالم آخرت کے یقین سے محروم ہیں حالانکہ عالم آخرت پر عقلی اور نقلی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ ان حکمتوں میں سے ایک مجازاة ہے اور میعاد معین قیامت ہے۔ 5۔ اگر اپنے دلوں میں غور کرتے تو ان واقعات کا امکان عقل سے اور ان کا وقوع نقل سے اور اس نقل کا صدق صفت اعجاز سے منکشف ہوجاتا، اور آخرت کے منکر نہ ہوتے، مگر غور نہ کرنے سے منکر ہورہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کبھی اپنی جانوں میں بھی غور وفکر کرلیا کرو اور رب کریم سے کفر مت کرو : 8۔ کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور وفکر نہیں کیا ؟ ہاں ! اگر ان کی نظر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی اس کائنات کی طرف نہیں اٹھی تو کیا انہوں نے اپنی ذات میں بھی کبھی غور نہیں کیا کہ وہ انسان ہیں یا محض حیوان ؟ اگر انسان ہیں تو ان کا فرض تھا کہ وہ غور کرتے کہ اس کائنات کی ہرچیز میرے لئے اللہ نے مسخر کردی ہے اور مجھے اس پر تصرف کرنے کا وسیع اختیار دیا ہے ہاں اگر فی الواقع ایسا ہے تو آخر ایسا کیوں ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ نے پیدا کرکے ایک حد تک آزادی دی ہے جو دوسرے حیوانوں کو نہیں دی اور مجھے ایمان وکفر ‘ طاعت ومعصیت ‘ نیکی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The first two verses are an appendix and endorsement to the previous subject that these disbelievers are engrossed so much in the temporary mundane glitter and transitory pleasures that they have totally forgotten the real nature of this world and its ultimate end. If they had pondered over this, the secret of this world would have dawned upon them that the Creator of this universe has not created the sky and the earth, and the creatures in between, just for nothing. There is a great wisdom and purpose behind their creation, which is, that people should recognize the Creator…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 This in itself is a strong argument for the Hereafter. It means this: "If these people had reflected over their own selves, apart from the external phenomena, they would have found in themselves the arguments which prove the necessity of a second life after the present life. There are three special characteristics of man which distinguish him from the other creations on the earth: (l) The earth and the countless things around it have been subjected for him, and he has been granted vast powers to exploit them. (?) He has been life free to choose a way of life for himself. He can follow the…

Read the full tafseer →