Ar-Room 30:7

Ar-Room · from ayah 7

30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۖۚ— وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ۟يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ‌ۖۚ وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ‏

یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They know what is apparent of the worldly life, but they, of the Hereafter, are unaware.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:7

لوگ دُنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه تو (صرف) دنیوی زندگی کے ﻇاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل ہی بےخبر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ دنیوی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں، اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (تو) دنیا کی ظاہری زندگی کو (ہی) جانتے ہیں اور وہ لوگ آخرت (کی حقیقی زندگی) سے غافل و بے خبر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ دنیا کی زندگی میں سے ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے، وہی غافل ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ صرف دنیا کی زندگی کا ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اس دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل ہی بیخبر ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ لوگ تو دنیاوی زندگی کا ایک ہی ظاہری (اور مادی) پہلو جانتے ہیں (اور بس) اور آخرت سے بالکل غافل (و بیخبر) ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے (محض) بیخبر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ دنیا کی زندگی کے بھی صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہیں“

— محترمہ رفعت اعجاز

People simply know the outward aspect of the worldly life but are utterly heedless of the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They know something superficial of the worldly life, but of the Hereafter they are negligent.

— Muhammad Taqi Usmani

They know something superficial of the worldly life, but of the Hereafter they are negligent.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They know only the outer appearance of the life of the world, and they are heedless of the Hereafter.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They know only some appearance of the life of the world, and are heedless of the Hereafter.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They know what is apparent of the worldly life, but they, of the Hereafter, are unaware.

— Saheeh International

They only know the superficial realities of the worldly life and they are unaware of the life to come.

— Muhammad Sarwar

They know the outward of this world's life, but of the hereafter they are absolutely heedless.

— Muhammad Habib Shakir

They know only the outward appearance of the life of the world, and they! of the Hereafter, they are neglecetful.

— Abdul Majid Daryabadi

They know but the outer (things) in the life of this world: but of the End of things they are heedless.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–7

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 4 یعنی اگرچہ آخرت پر دلالت کرنے والے آثار و شواہد کثرت سے موجود ہیں اور اس سے غفلت کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن یہ لوگ اس سے خود ہی غفلت برت رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ یہ ان کی اپنی کوتاہی ہے کہ دنیوی زندگی کے اس ظاہری پردے پر نگاہ جما کر بیٹھ گئے ہیں اور اس کے پیچھے جو کچھ آنے والا ہے اس سے بالکل بیخبر ہیں، ورنہ خدا کی طرف سے ان کو خبردار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ، یعنی یہ لوگ دنیا کی زندگی کے ایک پہلو کو تو خوب جانتے ہیں کہ تجارت کس طرح کریں، کس مال کی کریں، کہاں سے خریدیں، کہاں بیچیں، اور کھیتی کس طرح کریں، کب بیچ ڈالیں کب کاٹیں، تعمیرات کیسی کیسی بنائیں، سامان عیش و عشرت کیا کیا مہیا کریں۔ لیکن اسی حیات دنیا کا دوسرا پہلو جو اس کی حقیقت اور اس کے اصلی مقصد کو واضح کرتا ہے کہ دنیا کا چند روزہ قیام درحقیقت ایک مسافرانہ قیام ہے، انسان یہاں کا مقامی آدمی (نیشنل) نہیں بلکہ دوسرے ملک آخرت کا باشندہ ہے، یہاں کچھ مدت کے لئے ویزا پر آیا ہوا ہے، اس کا اصلی کام یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا و وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (7) اوپر والی آیات میں ان ظاہر پرستوں کے جس اندھے پن کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی توجیہ ہے کہ اول تو یہ لوگ اس دنیا کے صرف ظاہر حالات کو دیکھتے ہیں، ان کے باطن تک ان کی نگاہ نہیں پہنچتی کہ اصل متصرف اس کے اندر کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں اس وجہ سے یہ ان کے لئے ایک کھیل تماشا بن کر رہ گئی ہے، دوسرے یہ آخرت سے بالکل غافل ہیں اور جب یہ آخرت سے غافل ہیں تو آخرت کے بغیر اس کارخانہ کائنات کو مبنی عدل و حکمت تصّور کرنا ناممکن ہے۔ وھم من الاخرۃ ھم غفلون میں مبتدا کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اس حقیقت کو زور تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7-1یعنی اکثر لوگوں کو دنیاوی معاملات کا خوب علم ہے۔ چناچہ وہ ان میں تو اپنی چابک دستی اور مہارت فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کا فائدہ عارضی اور چند روزہ ہے لیکن آخرت کے معاملات سے یہ غافل ہیں جن کا نفع مستقل اور پائیدار ہے۔ یعنی دنیا کے امور کو خوب پہچانتے اور دین سے بیخبر ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–7

2: جیسا کہ اوپر تعارف میں عرض کیا گیا، اس سے مراد غزوہ بدر کی فتح ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–7

الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7) سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی یہ لوگ دنیاوی زندگی کی ظاہری سطح کو جانتے ہیں۔ یہاں کی آسائش و آرائش، کھانا، پینا، پہننا، اوڑھنا، بونا جوتنا، پیسہ کمانا، مزے اڑانا بس یہ ہی ان کے علم و تحقیق کی انتہائی جولان گاہ ہے۔ اس کی خبر ہی نہیں کہ اس زندگی کی تہ میں ایک دوسری زندگی کا راز چھپا ہوا ہے جہاں پہنچ کر اس دنیاوی زندگی کے بھلے برے نتائج سامنے آئیں گے۔ ضروری نہیں کہ جو شخص یہاں خوشحال نظر آتا ہے وہاں بھی خوشحال رہے۔ بھلا آخرت کا معاملہ تو دور ہے، یہیں دیکھ لو کہ ایک شخص یا ایک قوم کبھی دنیا میں عروج حاصل کرلیتی ہے لیکن اس کا آخری انجام ذلت و ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ” یہاں سے موضوع ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ اللہ کی نعمتوں کے حوالے سے نصیحت اور یاددہانی کی طرف موڑا جا رہا ہے اور اس مضمون کے اعتبار سے سورة الروم اور سورة النحل میں بہت گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ہُمْ غٰفِلُوْنَ ” یہ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے ‘ لیکن یہ لوگ دنیا کی اس حقیقت کو بالکل فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ انہیں یاد ہی نہیں کہ آج وہ یہاں جو بوئیں گے کل آخرت میں وہی کچھ انہیں کاٹنا ہوگا۔ ان کے سامنے دنیوی زندگی کا صرف یہی پہلو رہ گیا ہے کہ کھاؤ پیؤ اور عیش کرو ‘ جبکہ آخرت کی زندگی کا تصور ان کے ذہنوں سے بالکل ہی اوجھل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 اس کے دو مطلب ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ ظاہر میں لوگوں کی نظر صرف ظاہری اسباب پر ہوتی ہے۔ اور انھیں اسباب کو دیکھ کر وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں مگر اس کائنات میں ظاہری اسباب کے علاوہ بیشمار باطنی اسباب بھی موجود ہیں۔ جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اور ہر کام کا انجام تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ بسا اوقات ظاہری اسباب کے بالکل الٹ نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور یہ ایسی بات ہے جو عام لوگوں کے علم میں نہیں آسکتی۔ اور اگر اس آیت کو عام معنوں پر محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عام لوگوں کی نظر بس دنیا کے مال و اسباب پر ہی ہوتی ہے اور اسی پر وہ فریفتہ و منتون ہوتے ہیں۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ ان کی ساری عقلیں، ساری کوششیں بس اسی مادی کائنات اور اس کے آئین وقوانین تک محدود ہیں۔ اس کے آگے اور اس کے ماوراء ذرا بھی اپنے ذہن کو نہیں لے جاتے ..... گویا سلسلہ کائنات کے صرف اقل قلیل حصہ کا علم ان کے پلے پڑا ہے۔ اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ آخرت کے وسیع ولق ودق عالم کی طرف سے بیخبر ہی نہیں، بےپروا بھی ہیں۔ کوئی فکر بھی اس کے علم کی نہیں کرتے۔ مادیت اور آخرت فراموشی سے بڑھ کر سطح بینی اور جہالت اور ہو کیا سکتی ہے۔ شیطان نے آج اسی کو ” علم “ کا رنگ روپ دے دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعلمون ظاہرًا من الحیوۃ الدنیا . یہ لوگ دنیا کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں۔ یعنی اپنے امور معاش سے واقف ہیں کہ کیسے کمائی کریں ‘ کیسے تجارت کریں ‘ کیسے کھیتی باری کریں وغیرہ۔ وھم عن الاخرۃ ھم غفلون . اور آخرت کی طرف سے وہ بالکل غافل ہیں۔ یعنی ان کے دلوں میں آخرت کا خیال بھی نہیں آتا ‘ دوسرا ھُمْ پہلے ھُمْ کی تاکید ہے۔ اس جملہ سے سابق جملہ لاَ یَعْلَمُوْنَ کی تاکید ہو رہی ہے ‘ گویا کافروں کو جانوروں سے تشبیہ دی جن کو دنیا کی یزوں کا ظاہری علم بھی پورا نہیں ہوتا ‘ صرف بعض چیزوں کا ہوتا ہے۔ اشیاء حقیقت ‘ خصوصیات ‘ نتائج ‘ اسبب ‘ افعال اور صفات ‘ افعال کا اسباب سے صدور اور کیفیت صدور نیز اشیاء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ مکہ والے تو صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں کہ دنیا میں معاملات بیع وشراء حساب و کتاب ایک کا اور ہزار کا کس طرح ہوتا ہے اور سردیوں میں کن چیزوں کی ضرورت ہے اور گرمیوں میں کس چیز کی ضرورت ہے اور یہ لوگ آخرت کے کاموں سے اور اس کی تیاری سے بالکل بیخبر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : ”ظاھراً“ پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، یعنی وہ دنیا کی زندگی کے بس ظاہر کو جانتے ہیں، وہ بھی تھوڑا سا۔ ان کا علم یہیں تک محدود ہے۔ ان کی ساری تگ و دو دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور ہر قسم کی لذتوں اور آسائش و آرائش کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے ہے۔ وہ دنیا کی زندگی کے باطن، یعنی اس کی اصل حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ یہ چند روزہ ہے اور امتحان گاہ ہے۔ رہی آخرت، تو وہ اس سے بالکل ہی غافل ہیں، یعنی انھیں اس کی فکر ہی نہیں کہ وہاں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے پیش ہونا ہے۔ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکثر لوگ دنیا کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

وعدہ کیونکہ اس کا کلام سچا ہے۔ وہ کفار ہیں وہ تعداد میں زیادہ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وعدہ اللہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے پھر وہ جتنا جانتے ہیں اس کی مقدار کو بیان کیا وہ اپنی معاش اور دنیا کے امر کو جانتے ہیں وہ کب فصل کاشت کریں کب کاٹیں کیسے درخت لگائیں اور کیسے عمارت بنائیں ؟ یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد محلات بنانا، نہریں کھودنا او درخت لگانا ہے۔ معنی ایک ہی ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو شیاطین امور دنیا میں سے ان کی طرف القاء کرتے ہیں جب کہ انہوں نے آسمان سے انہیں چوری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–13

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ صرف معیشت کے ذرائع کو جانتے ہیں کہ وہ کب درخت لگائیں کب فصل بوئیں اور کب وہ کھیتی کو کاٹیں گے اور یہ آخرت سے غافل ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دنیا کی آباد کاری کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کے معاملات سے جاہل ہیں۔ 3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی تجارت کو اپنے حرفہ کو اور اپنی خریدو فروخت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ جانتے ہیں ] [ظَاهِرًا : کچھ ظاہر کو ] مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ښ [دنیوی زندگی میں سے ] وَهُمْ [اور ہ لوگ (ہیں کہ)] عَنِ الْاٰخِرَةِ [آخرت سے ] هُمْ [وہی ] غٰفِلُوْنَ [غفلت برتنے والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: ان آیات میں جو پیشنگوئی کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کی اور محمد ﷺ کی رسالت کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے پوری طرح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک نگاہ ڈال لی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں، نبی ﷺ کی نبوت کے آغاز سے آٹھ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم مارلیس کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوک اس تخت پر قابض ہوگیا۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جنہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں دنیاوی علم کے باوجود جاہل ہیں (یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) (یہ لوگ دنیا والی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں) (وَ ھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ ) (اور وہ آخرت سے غافل ہیں) یہاں جن لوگوں کے حق میں (لَا یَعْلَمُوْنَ ) فرمایا انہی کے حق میں (یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) بھی فرما دیا، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے تصرفات کو نہ جاننا اور اس کی معرفت حاصل نہ کرنا یہ جہالت ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت حاصل نہ ہو اور دنیاوی زندگی کے آلات اور اسباب کو جانتے ہوں نئی نئی چیزیں ایجاد کرتے ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

و فرحت ومسرت برائے اہل ایمان قال اللہ تعالیٰ الم غلبت الروم۔۔۔ الی۔۔۔ وہم عن الاخرۃ ہم غفلون۔ شان نزول : ہجرت سے قبل جب حضور پر نور ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو فارس اور روم میں جنگ ہوئی اور اہل فارس بمقابلہ اہل روم غالب آئے مشرکین مکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ فارس روم پر غالب ہوں کیونکہ اہل فارس اہل مکہ کی طرح مشرک تھے اہل مکہ بت پرست تھے اور اہل فارس آتش پرست تھے اور مسلمان اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اہل روم فارس پر غالب ہوں اس لئے کہ اہل روم نصرانی تھے انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اور دین اسلام کے قریب تھے فارس کی فتح سے کفار قریش کو بہت خوشی ہوئی اور مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ یہ لوگ آخرت کی زندگی سے بالکل غافل ہیں اور اس کے لیے کچھ بھی تیاری نہیں کر رہے وہ صرف دنیا کی زندگی کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو جانتے ہیں اور صرف دنیوی زندگی کے عیش و آرام ہی کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی ساری تگ و دو بس دنیا میں زیست کا ساز و سامان مہیا کرنے کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الروحہ ہے جو اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ روم سے اخذ کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ سورة مکی زندگی میں سورة انشقاق کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی ساٹھ آیات میں اور یہ چھ رکوع پر مشتمل ہے ۔ اس میں 918 الفاظ اور 0252 حروف میں یہ سورة طوالت کے لحاظ سے درمیانی سورتوں میں شمارہوتی ہے۔ رومی سلطنت روم ایک سلطنت کا نام تھا جسے نزول قرآن کے زمانہ میں رومۃ الکبریٰ بھی کہتے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو برطانیہ عظمی Great BRITAIN کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کا اصل مرکز تو اٹلی میں تھا مگر بعد میں اس کا ایک حصہ الگ ہو کر جدید روم کو ملا جس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ 0ۚۖ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ہُمْ غٰفِلُوْنَ۝ 7 ظاهر وظَهَرَ الشّيءُ أصله : أن يحصل شيء علی ظَهْرِ الأرضِ فلا يخفی، وبَطَنَ إذا حصل في بطنان الأرض فيخفی، ثمّ صار مستعملا في كلّ بارز مبصر بالبصر والبصیرة . قال تعالی: أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] ، ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ، إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] ، يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] ، أي : يعلمون الأمور الدّنيويّة دون الأخرويّة، ( ظ ھ ر ) الظھر ظھر الشئی کسی چیز کا زمین کے اوپر اس طرح ظاہر ہونا کہ نمایاں طور پر نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : فی ادنی الارض فی غلبت سے متعلق ھم مبتدا سیغلبون خبر من بعد غلبہم اس سے متعلق غلبہم میں اول قرأت یعنی غلبت کو مجہول مانا جاوے تو مصدر مفعول کی طرف اور دوسری تقدیر میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہے۔ فی بضع متعلق ہے۔ سیغلبون سے بنصر اللہ متعلق ہے۔ یفرح المؤمنون سے وعد اللہ مصدر مؤکد ای وعد اللہ وعدا دول ماتقدم علی فعل المحذوف لا نہ وعد۔ وعدہ مفعول لایخلف۔ تفسیر : اگلی سورة میں اہل کتاب کو مشرکین پر ترجیح دی تھی، بقولہ ولا تجادلوا اھل الکتاب الی قولہ و الہنا و الٰہکم واحد کہ اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر نرمی سے اور یہ کہہ دو جو کچھ تمہارے انبیاء پر نازل ہوا ہے، ہم اس کو مانتے ہیں اور ہمارا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا صلے ج وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ ۔ (الروم : 7) (وہ لوگ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ ) انسان کی کو تاہی فکر اوپر کی آیات سے ہر غور کرنے والے پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ انسان ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اندازے بھی لگاتا ہے اور نتائج بھی اخذ کرتا ہے۔ اور بعض دفعہ اسی بنیاد پر اصول بھی وضع کرتا ہے۔ لیکن اسے کبھی اس بات کا خیال نہیں آتا کہ میں جن ظاہری اسباب پر اپنے خیالات کی بنیاد رکھ رہا ہوں، کہیں ایسا تو نہیں کہ ان ظاہری حالات کے پیچھے کوئی اور قوت بھی کارفرما ہو جسے میری نگاہیں دیکھ نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : رومیّوں کا غالب آنا اور مسلمانوں کا کامیاب ہونا یقینی بات ہے کیونکہ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ وعدہ سے مراد ایک تو یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے مکہ معظمہ میں مسلمانوں سے فرمایا کہ رومی غالب اور فارسی مغلوب ہوں گے جس سے مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔ رومیوں کا فتح یاب ہونا اور مسلمانوں کا مشرکین پر غالب آنا بظاہر اس قدر ناممکن تھا کہ اس پر یقین کرنا مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ ” وَعَدَہٗ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تاکہ کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو یقین اور اطمینان ہوجائے کہ اب مشکلات کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7: یَعْلَمُوْنَ (وہ جانتے ہیں) نحو : یہ لایعلمون کا بدل ہے۔ فائدہ : اس میں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ کہ ایسا علم جو محض جہل ہو اس کا ہونا اور نہ ہونا برا بر ہے اور جو علم دنیا سے آگے نہ بڑھے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیا کی زندگی کے ظاہر کو ) مسئلہ : دنیا کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے دنیا کا ظاہر وہی جو جہلاء کی نگاہوں میں ہے یعنی اس کی زیبائش پر مرے جانا اور اس کا باطن یہ ہے کہ آخرت کی گزرگاہ ہے یہاں سے آخرت کیلئے اعمال صالحہ کا زاد راہ لیا جاتا ہے۔ آیت میں ظاہرؔ کے لفظ کو نکرہ لا کر اشارہ کردیا کہ یہ لوگ دنیا کے من جملہ مظاہر میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7” یعلمون ظاھرامن الحیوۃ الدنیا “ وہ امور معاشی سے واقف ہیں کہ کیسے کمائی کریں کیسے تجارت کریں ، کیسے کھیتی باڑی کریں اور کیسے اس کو کاٹیں اور کیسے عمارتیں تعمیر کریں اور کیسے زندگی بسرکریں ؟ حسن کا قول ہے کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے ناخن کے کنارے سے درہم کو کھرچتا ہے پھر اس کا وزن بیان کرتا ہے اور وہ اس میں غلطی نہیں کھاتا حالانکہ یہ احسن نہیں سمجھتے کہ نماز پڑھیں ۔” وھم عن الاخرۃ ھم غافلون “ وہ اس سے بھولے ہوئے ہیں وہ اس پر غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اس پر عمل کرتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1 تا 7 صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں 1 ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

سورة الروم آیت نمبر : 7-6-5-4-3-2-1 اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے ‘ اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انہیں مکمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 آخرت سے غفلت محرومیوں کی محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ آخرت سے بالکل غافل و بیخبر ہوتے ہیں۔ ان کا اوڑھنا، بچھونا اور مقصود و منتہا دنیا ہی دنیا ہے اور بس۔ سو آخرت سے تو یہ ہر اعتبار سے غافل و بیخبر ہیں ہی مگر اس دنیا کو بھی یہ ہر پہلو اور ہر اعتبار سے نہیں جانتے بلکہ اس کے بھی کسی صرف ظاہری اور مادی پہلو پر ہی ان کی نظر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہاں پر " ظَاہر الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا " نہیں فرمایا گیا بلکہ { ظَاہرًا مِّنَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } فرمایا گیا ہے۔ اور اہل علم پر ان دونوں تعبیروں کے درمیان پایا جانے والا فرق مخفی نہیں۔ سو ان کی نظر صرف اس کے مادی پہلو پر ہوتی ہے۔ اور مادی پہلو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–7

دو ناممکن فتوحات کی بشارت تشریح : محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ایران اور روم کی دو سلطنتیں بڑی زبردست تھیں۔ ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی اہل کتاب تھے۔ 570 ء میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی 610 ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 615 ء میں ایران نے روم کے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر چڑھائی شروع کردی۔ مکہ والے کیونکہ مشرک و کافر تھے، اس لیے ایرانیوں کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور رومی کیونکہ اہل کتاب عیسائی تھے اور اعتقادات کے لحاظ سے مسلمانوں کے کچھ کچھ قریب تھے اس لیے ان کی شکست پر مسلمانوں کو چڑانے لگے کہ دیکھو اللہ والوں کی اللہ نے مدد نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

7 ۔ یعنی محض دنیا کی ظاہری آرائش اور ساز و سامان کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور آخرت کی کوئی فکر نہیں کرتے۔ یا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ ” وہ تو دنیوی زندگی کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے ہیں اور انجام سے بیخبر ہیں “۔ یہ سمجھتے ہیں کہ فتح و شکست کا مدار ظاہری اسباب پر ہے مگر ان کو انجام کی خبر نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ (کذا فی الوحیدی) یا دنیا کے کاموں میں تو خوب ماہر اور زیرک ہیں مگر امور آخرۃ سے بالکل بیخبر اور جاہل۔ امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں : ” ذرا ہم کو تو ناخن پر رکھ کر ہی پرکھ لیتے ہیں مگر نماز پڑھنی نہیں آتی “۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:7) ظاھرا۔ کھلا، اوپری، سطحی، ظاہری پہلو، اسم فاعل واحد مذکر۔ تنوین تحقیر اور تخسیس کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–10

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–8

قیامت کے منکرین کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غوروفکر کریں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے اس کے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات کا پالنے والا ہے، یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں نہیں سوچتے کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کی مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غورکریں تو اچھی طرح جان لیویں کہ یہ تمام مخلوق بیکار پیدا نہیں کی گئی ہے، بلکہ نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی ان کی ساری عقل اور ساری کوشش بس اسی مادی کائنات اور اس کے آئین و قوانین تک محدود ہیں۔ اس کے آگے اور اس کے ماورا ذرا بھی اپنے ذہن کو نہیں لے جاتے۔ انھیں خبر نہیں کہ اس دنیوی زندگی کی تہہ میں ایک دوسری زندگی کا راز چھپا ہوا ہے جہاں پہنچ کر اس دنیوی زندگی کے برے بھلے نتائج سامنے آجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–7

ظاھرا ۔ اس جگہ لفظ ظاہر کو آخرت کے مقابلہ میں رکھا ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ زندگی اصل میں نا مختتم اور مسلسل ہے ۔ مگر کوتاہ بینوں کو اس کا صرف وہ حصہ نظر آتا ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے ۔ اور جو ظاہر ہے موت کے بعد کے واقعات جن کا مستقبل سے تعلق ہے ۔ ان تک ان کی رسائی نہیں ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

7۔ یہ لوگ دنیوی زندگی کی ظاہری سطح اور حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے یہ لوگ بالکل ہی بیخبر ہیں ۔ یعنی دنیوی زندگی کے کاروبار تجارت اور کھیتی باڑی کو جانتے ہیں اور آخرت کی ان کی کچھ خبر نہیں ۔ لا یعلمون اور یعلمون میں منافات نہیں کیونکہ علم کی نفی ہے امور دین میں اور اثبات علم ہے امور دنیا میں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ظاہر دنیا میں جس کا غلبہ دیکھیں اللہ اسی سے خوش ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ اس لئے ان کو نہ اسباب عقوبت سے کہ کفر و انکار ہے اندیشہ ہے، نہ اسباب نجات کی کہ تصدیق و ایمان ہے فکر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دنیا کا ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں : 7۔ انسانیت اور حیوانیت میں سب سے واضح فرق ہی یہ ہے کہ انسانیت آخرت کے یقین کا نام ہے اور حیوانیت دنیا تک محدود رہنے کا پھر جن لوگوں کو آخرت پر پختہ یقین نہیں اور وہ عمل کرتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ وہ جو عمل کر رہے ہیں اس کا نتیجہ آخرت میں کیا مرتب ہوگا تو بلاشبہ وہ حیوان ہیں خواہ وہ کون ہوں ؟ ہاں بلاشبہ خواہ وہ کون ہوں یہاں تک کہ وہ ملک کے صدر ‘ وزیر اعظم ‘ وزیر اعلی یا کوئی دوسرے وزیر ومشیر ہی کیوں نہ ہوں ‘ وہ مذہبی پیشوا ہوں یا سیاسی لیڈر ہوں ان کے ڈھانچے انسانوں کے سے ہیں اس لئے ان کو دیکھنے والوں کو دھوکا ہوتا ہے لیکن حقیقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

يَعْلَمُونَ ظَاهِرً‌ا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَ‌ةِ هُمْ غَافِلُونَ (They know something superficial of the worldly life, but of the Hereafter they are negligent.-7). These disbelievers were quite conversant with the mundane needs, that is how to perform trading, which commodity should they trade in, where should they make purchases, where should they sell etc. Similarly, they knew well how to till, when to put seeds, and when to harvest. They were also equally knowledgeable about the construction of buildings and to furnish them with luxury goods. But they were totally…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

4 That is, "Although there are plenty of Signs and evidences which point to the Hereafter, and there is no reason why one should be heedless of it, yet the people are being heedless of it due to their own short-sightedness. They only see the apparent and the outward aspect of the worldly life and are unaware of what is hidden behind it; otherwise there has been no slackness on the part of God to warn them of it. "

Read the full tafseer →