30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 30:1
(1 تا 5) الم۔ اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں وہ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے یا یہ کہ ایک قسم کے طور پر ہے۔ اہل روم فارس کے ایک قریبی علاقہ میں مغلوب ہوگئے یہ خبر سن کر مسلمانوں کو پریشانی ہوئی اور مشرکین اس سے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمھی ایمان والوں پر غالب آجائیں گے جیسا کہ فارس والوں نے رومیوں پر غلبہ کرلیا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ رومی فارس سے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب سات سالہ عرصہ میں دوبارہ فارس پر غالب آجائیں گے۔ اور اس غلبہ کی پیش گوئی پر حضرت ابوبکر صدیق نے ابی بن خلف جمحی سے دس اونٹوں پر پہلے (اور پھر بعد میں سو پر) معاہدہ کرلیا تھا۔
Ayahs 30:2–5

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

(اہل) روم مغلوب ہوگئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوجائیں گے

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

(یعنی) چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اس روز مومن خوش ہوجائیں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

(یعنی) خدا کی مدد سے وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے

شان نزول : الۗمّۗ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (الخ) امام ترمذی نے ابو سعید سے روایت نقل کی ہے کہ بدر کے دن رومی اہل فارس پر غالب آگئے جس کی وجہ سے مسلمان خوش ہوئے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ الم سے بنصر اللہ تک یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اہل روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب اور ابن جریر نے بھی ابن مسعود سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ابن ابی حاتم نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا کہ رسول اکرم ﷺ کی ہجرت سے پہلے جبکہ مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے مشرکین مسلمانوں سے مباحثہ کیا کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ رومی اہل کتاب ہونے کے مدعی ہیں اور ان پر مجوسی غالب آگئے اور تم بھی اس بات کے دعویدار ہو کہ اس کتاب کی وجہ سے جو کہ تمہارے نبی کریم پر نازل ہوئی ہے تم بھی ہم پر غالب آجاؤ گے تو اب مجوسی رومیوں پر کیسے غالب آگئے حالانکہ رومی تو اہل کتاب ہیں تو ہم بھی تم پر غالب آجائیں گے جیسا کہ اہل فارس روم پر غالب آگئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ اور ابن جریر نے اسی طرح عکرمہ اور یحییٰ بن عمیر اور قتادہ سے روایت کیا مگر پہلی روایت میں غلبت غیب کے زبر کی قرات کے ساتھ روایت کیا ہے کیونکہ یہ آیت مبارکہ بدر کے دن جس وقت مسلمان کافروں پر غالب ہوئے نازل ہوئی اور دوسری روایت میں پیش کے ساتھ یہ لفظ روایت کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فارس کے رومیوں پر غلبہ کرجانے کے بعد عنقریب مسلمان بھی ان پر غلبہ پائیں گے۔
Ayah 30:6

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمانے کا وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں فرماتا مگر مکہ والے یہ نہیں جانتے۔
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ تو دنیا کہ ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہیں

یہ مکہ والے تو صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں کہ دنیا میں معاملات بیع وشراء حساب و کتاب ایک کا اور ہزار کا کس طرح ہوتا ہے اور سردیوں میں کن چیزوں کی ضرورت ہے اور گرمیوں میں کس چیز کی ضرورت ہے اور یہ لوگ آخرت کے کاموں سے اور اس کی تیاری سے بالکل بیخبر ہیں۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے دل میں غور کیا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں

ان کفار مکہ نے اپنے دلوں میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق اور دیگر چیزوں کو ایک مخصوص وقت تک کے لیے کہ اس کے بعد فیصلہ فرمائے کسی حکمت کے تحت پیدا فرمایا ہے کہ لوگوں اور اوامرو ونواہی کا مکلف فرمائے مگر کفار مکہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی ؟ (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ ان سے زور و قوت میں کہیں زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو جوتا اور اسکو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

اور یہ مکہ والے زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کا انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے پر کیا انجام ہوا۔ حالانکہ وہ ان سے جسمانی طاقت میں بہتر تھے اور ان سے زیادہ انہوں نے سفر و تجارت کیا تھا یا یہ کہ ان سے بڑھ کر انہوں نے زمین کو بویا جوتا تھا اور ان مکہ والوں سے زائد انہوں نے زمین کو آباد کیا تھا اور اس میں باقی رہے تھے اور ان کے پاس بھی ان کے رسول احکام و معجزات لے کر آئے تھے اور وہ بھی ایمان نہیں لائے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ اللہ تعالیٰ ہلاک کر کے ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی کفر و شرک اور انبیاء کرام کی تکذیب کر کے اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔
Ayah 30:10

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا اس لئے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے

سو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تھا آخرت میں بدلے میں دوزخ ہی ملے گی محض اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کی تکذیب کر رہے ہیں اور آیات خداوندی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
Ayah 30:11

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

خدا ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

اللہ تعالیٰ انسان کو پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے اور اس کو قیامت کے دن پھر پیدا کرے گا اور پھر تم قیامت کے دن اس کے سامنے لائے جاؤ گے۔
Ayah 30:12

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار ناامید ہوجائیں گے

وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز مشرکین ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔
Ayah 30:13

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے نامعتقد ہوجائیں گے

اور ان بتوں کے پجاریوں کے لیے ان معبودوں میں سے ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا کہ عذاب الہی سے بچانے کے لیے ان کی سفارش کرے اور یہ لوگ خود بھی اپنے معبودوں کی پرستش سے منکر ہوجائیں گے۔ اور عرض کریں گے کہ اللہ کی قسم اے پروردگار ہم مشرک نہ تھے۔
Ayah 30:14

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز وہ الگ الگ فرقے ہوجائیں گے

اور قیامت کے دن سب جدا جدا ہوجائیں گے۔
Ayah 30:15

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ (بہشت) کے باغ میں خوشحال ہوں گے

ایک جماعت جنت میں جائے گی تو دوسری دوزخ میں چناچہ جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تھے وہ جن کے باغوں میں مسرور اور صاحب اعزاز ہوں گے۔
Ayah 30:16

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے

اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا تھا اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا وہ لوگ دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
Ayah 30:17

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

تو جس وقت تم کو شام ہو اور جس وقت صبح ہو خدا کی تسبیح کرو (یعنی نماز پڑھو)

سو تم مغرب و عشاء اور صبح کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیا کرو۔
Ayah 30:18

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی تعریف ہے اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو (اس وقت بھی نماز پڑھا کرو)

تمام آسمان اور زمین والوں پر اسی کا شکر و اطاعت واجب ہے اور اسی طرح نماز ظہر اور عصر کی نماز کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیا کرو۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہی زندے کو مردے سے نکالتا اور (وہی) مردے کو زندے سے نکالتا ہے اور (وہی) زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم (دوبارہ زمین میں سے) نکالے جاؤ گے

وہ جاندار کو بےجان سے باہر لاتا ہے یعنی بچے اور جانوروں کو نطفہ سے اور پرندے کو انڈے سے اور کھجور کو گھٹلی سے اور بےجان کو جاندار سے باہر لاتا ہے یعنی انسان اور جانوروں سے نطفہ اور پرندے سے انڈا اور کھجور سے گٹھلی اور زمین کو اس کے خشک اور بنجر ہوجانے کے بعد پھر زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم لوگ زندہ کیے جاؤ گے اور قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو کر جابجا پھیل رہے ہو

اور اس کی وحدانیت وقدرت اور اپنے نبی کو نبوت عطا کرنے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تمہیں آدم ؑ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور تم سب آدم ؑ کی اولاد ہو اور پھر تم سب آدمی بن کر زمین پر فائدہ اٹھا رہے ہو۔
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ ان کی طرف (مائل ہو کر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

اور اس کی علامت قدرت وحدانیت سے یہ امر ہے کہ تمہارے فائدے کے لیے اس نے تمہاری جنس کی بیویاں بنائیں یہ کہ تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ رہ کر آرام سے ہے اور تم دونوں میں محبت و ہمدردی پیدا کی کہ یہ بیوی کو خاوند سے محبت اور خاوند کو بیوی کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے یا یہ کہ چھوٹے کو بڑے کے ساتھ محبت اور بڑے کو چھوٹے پر شفقت اور اس کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے ان مذکورہ امور میں عقل مندوں کے لیے قدرت خداوندی کی نشانیاں ہیں۔
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا اہل دانش کے لئے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

اور اسی کی وحدت وقدرت کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا بنانا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا علیحدہ علیحدہ ہونا ہے کہ کسی کی زبان عربی تو کسی کی فارسی اور کسی کی رنگت سیاہ اور کسی کی سفید ان مذکورہ باتوں میں جن و انس کے لیے نشانیاں ہیں۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے تمہارا رات میں اور دن میں سونا اور اس کے فضل کا تلاش کرنا جو لوگ سنتے ہیں ان کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

اور اس کے دلائل قدرت میں سے تمہارا رات میں سونا لیٹنا اور ان میں اس کا رزق تلاش کرنا ہے اس میں بھی ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ان باتوں کو سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ تم کو خوف اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینہ برساتا ہے پھر زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ (و شاداب) کردیتا ہے عقل والوں کے لئے ان (باتوں) میں بہت سی نشانیاں ہیں

اور اس کے دلائل قدرت میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں آسمان پر بارش کے وقت بجلی چمکتی ہوئی دکھاتا ہے جس سے مسافر کو تو بارش کا ڈر ہوتا ہے کہ سامان سب بھیگ جائے گا اور مقیم کو بارش سے امید ہوتی ہے کہ کھیتی سیراب ہوجائے گی اور وہی آسمان سے بارش برساتا ہے کہ پھر اس سے زمین کے خشک اور اس کے بنجر ہوجانے کے باوجود پھر اسے تروتازہ کردیتا ہے اس امر میں بھی ان لوگوں کے لیے جو اس کے لیے اللہ کی طرف سے ہونے کی تصدیق کرتے ہیں قدرت خداوندی کی نشانیاں ہیں۔
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب قیامت کے دن اللہ عالی تمہیں اسرافیل ؑ کی زبانی قبروں سے بلائے گا تو تم ایک دم نکل پڑو گے۔
Ayah 30:26

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں (جتنے فرشتے اور انسان وغیرہ ہیں) اسی کے (مملوک) ہیں (اور) تمام اس کے فرمانبردار ہیں

اور تمام آسمان و زمین سب اسی کی ملکیت میں ہیں اور کافروں کے علاوہ سب اسی کے اطاعت گزار ہیں۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اسے بہت آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان نہایت بلند ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

اور وہ وہی ہے جو پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے اور پھر وہی قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے نزدیک بہ نسبت پہلی بار پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے۔ اور آسمان و زمین والوں میں اس کی شان قدرت سب سے بلند ہے اور وہ اپنی بادشاہت و سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ (الخ) ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ فرمانے کے بارے میں متعجب ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی وہ وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے اور پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں ؟ اور کیا تم اس میں (ان کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو ؟ (اور کیا) تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ اسی طرح ہم عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

اے کفار مکہ اللہ تعالیٰ تم سے ایک عجیب مضمون تمہارے جیسے انسانوں میں سے بیان کرتا ہے۔ شان نزول : هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ (الخ) طبرانی نے ابن عساکر سے روایت کیا ہے کہ مشرکین اس طرح تلبیہ پڑھا کرتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک۔ اس کے بعد کہا کرتے تھے الا شریکا ھو لک تملکہ ومالک یعنی نعوذ باللہ تیرا صرف ایک شریک ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ھل لکم (الخ) یعنی کیا تمہارے غلاموں میں کوئی تمہارا اس مال میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے شریک ہے اور جبیر نے بواسطہ داؤد بن ابی ہند اور ابو جعفر محمد بن علی سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں

بلکہ ان کافروں یعنی یہود و نصاری اور مشرکین نے اپنے شرکیہ خیالات کا بلا کسی صحیح دلیل و حجت کے اتباع کر رکھا ہے۔ سو جس کو اللہ ہی اپنے دین سے گمراہ کرے اس کو کون دین کے راستے پر لاسکتا ہے۔ اور ان یہود و نصاری اور مشرکین کا عذاب الہی سے کوئی بھی حفاظت کرنے والا نہ ہوگا۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تو تم ایک طرف کے ہو کر دین (خدا کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

سو تم اپنی ذات اور اپنے عمل کو دین اسلام کی طرف رکھو یعنی اپنے دین و عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرو اور دین اسلام پر ڈٹے رہو اور دین خداوندی کی پیروی کرو جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان کی ماؤں کے پیٹ میں پیدا فرمایا ہے یا یہ کہ میثاق کے دن کی پیروی اللہ تعالیٰ کے دین کو بدلنا نہیں چاہیے۔ بس سیدھا راستہ یہی ہے مگر مکہ والے اس چیز کو نہیں جانتے کہ صحیح دین الہی وہ دین اسلام ہے۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

مومنو ! اسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا

تم ایمان والے ہوجاؤ یا یہ کہ اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعہ اللہ کی طرف رجوع کرو اور جن چیزوں کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے ان کو اچھی طرح پورا کرو اور پانچوں نمازوں کی پابندی کرو اور مشرکین کے ساتھ ہو کر ان کے دین کو مت اپناؤ۔
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

(اور نہ) ان لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے سب فرقے اس سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے

جنہوں نے دین اسلام کو چھوڑ دیا اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے کوئی یہودی ہے تو کوئی نصرانی اور کوئی مجوسی اور ہر ایک گروہ اپنے اس طریقہ پر نازاں ہے جو اس کے پاس ہے اور اپنے خیال میں اسی کو حق سمجھ رہا ہے۔
Ayah 30:33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں پھر جب وہ انکو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

اور جب ان کفار مکہ کو کوئی تکلیف و سختی پہنچتی ہے تو اپنے رب حقیقی کو اسی کی طرف متوجہ ہو کر پکارنے لگتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے کچھ نعمت و عنایت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو بس پھر ان کفار میں سے ایک جماعت اپنے پروردگار کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہرانے لگتی ہے۔
Ayah 30:34

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائے گا

جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو خوشحالی دی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں سو مکہ والو دنیا میں چند روز اور مزے اڑا لو پھر جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ ان کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے ؟

کیا ہم نے ان مکہ والوں پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کی ہے کہ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کو کہہ رہی ہے اور کیا اس میں اس چیز کی سند اور دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شرک کا حکم دیا ہے۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو ناامید ہو کر رہ جاتے ہیں

اور جب ہم بالخصوص کفار مکہ پر کچھ رحمت نازل کردیتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں مگر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اور اگر ان کے اعمال بد کی وجہ سے جو حالت شرک میں پہلے کرچکے ہیں کوئی مصیبت جیسے بیماری و قحط آپڑتی ہے تو بس یہ لوگ بےصبرے بن کر رحمت خداوندی سے ناامید ہوجاتے ہیں۔
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جسکے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے ؟ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

کیا ان کفار مکہ کو اللہ کی کتاب کے ذریعے یہ بات نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ آزمائش کے طور پر اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے کم دیتا ہے۔ اس بسط و قدر میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں توحید موجود ہیں۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تو اہل قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں

اے نبی اکرم ﷺ بس آپ تو قرابت دار کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرو اور مسکین کو بھی کھانا اور لباس دیا کرو اور مسافر جو آپ کے پاس آکر ٹھہرے تین دن تک اس کی خوب مہمان نوازی کرو اور اس سے زیادہ مہمان نوازی کرنا یہ آپ کی طرف سے نیکی اور احسان ہے۔ یہ مذکورہ چیزیں ان لوگوں کے لیے ثواب و کرامت کے اعتبار سے آخرت میں بہتر ہیں جو اپنی ان بخششوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب سے نجات پانے والے ہیں۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اس سے خدا کی رضامندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجب برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں

اور جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں ملکر تمہارے اموال کو زیادہ کر کے لائے تو دوسرے لوگ تمہارے دیے ہوئے اموال سے زیادہ پھر تمہیں دیں تو اس قسم کا دیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور نہ قبول ہوتا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہیں دیا گیا ہے۔ اور جو مساکین وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی نیت سے مال دو گے تو ایسے لوگوں کے صدقات آخرت میں بڑھتے رہیں گے اور دنیا میں بھی ان کے احوال حفاظت و برکت کی وجہ سے زائد ہوتے رہیں گے۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے ؟ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک سے بلند ہے

اللہ ہی وہ ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں بچہ کی صورت میں پیدا کیا اور پھر تمہارے اندر روح پھونک کر تمہیں باہر نکالا اور پھر تمہیں مرنے تک پاکیزہ رزق دیا اور پھر تمہاری مدت پوری ہونے پر تمہیں موت دیتا ہے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن تمہیں زندہ کرے گا۔ اے مکہ والو اب بتاؤ تو سہی کہ کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے لہٰذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ شرک و اولاد سے پاک اور ان کے شریک کردہ بتوں سے بالا و برتر ہے۔