Ar-Room 30:6

Ar-Room · from ayah 6

30:6

وَعْدَ اللّٰهِ ؕ— لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟وَعۡدَ اللّٰهِ‌ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] the promise of Allah. Allah does not fail in His promise, but most of the people do not know.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:6

یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ کا وعده ہے، اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اللہ کا کیا ہوا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کا وعدہ اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ تو) اﷲ کا وعدہ ہے، اﷲ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ مگر اکثر لوگ (یہ بات) نہیں جانتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کا وعدہ ہوچکا اور اللہ کبھی خلاف ورزی نہیں فرماتا اپنے وعدے کی لیکن لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں (حق اور حقیقت کو)

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنے کے خلاف نہیں کرتا البتہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اللہ کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— محترمہ رفعت اعجاز

This is Allah's promise and He does not go back on His promise. But most people do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is a promise from Allah. Allah does not fail in His promise, but most of the people do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

It is a promise from Allah. Allah does not fail in His promise, but most of the people do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A promise from Allah, and Allah fails not in His promise, but most men know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is a promise of Allah. Allah faileth not His promise, but most of mankind know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] the promise of Allah. Allah does not fail in His promise, but most of the people do not know.

— Saheeh International

This is the promise of God. God does not ignore His promise, but many people do not know.

— Muhammad Sarwar

(This is) Allah's promise! Allah will not fail His promise, but most people do not know.

— Muhammad Habib Shakir

This is Allah's promise; and Allah faileth not His promise. Yet most men know not.

— Abdul Majid Daryabadi

(It is) the promise of Allah. Never does Allah depart from His promise: but most men understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–7

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–6

سورة الروم 2 یعنی پہلے جب ایرانی غالب آئے تو اس بنا پر نہیں کہ معاذ اللہ خداوند عالم ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا، اور بعد میں جب رومی فتح یاب ہوں گے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کھویا ہوا ملک مل جائے گا۔ فرمانروائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ ہی نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔ اس کی خدائی میں کوئی اپنے زور سے غلبہ حاصل نہیں کرسکتا۔ جسے وہ اٹھاتا ہے وہی اٹھتا ہے اور جسے وہ گراتا ہے وہی گرتا ہے۔ سورة الروم 3 ابن عباس، ابو سعید خدری، سفیان ثوری، سدی ؓ وغیرہ حضرات کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ، بِنَصْرِ اللّٰهِ ، یعنی اس روز (جبکہ روم فارس پر غالب آئیں گے) مسلمان خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ نظم عبارت کے اعتبار سے ظاہر یہ ہے کہ یہاں نصر اور مدد سے رومیوں کی نصرت و امداد ہے، وہ اگرچہ کافر تھے مگر دوسرے کے مقابل کافروں کے اعتبار سے کفر میں ہلکے تھے، اس لئے ان کی نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا کوئی امر مستبعد نہیں، خصوصاً جبکہ ان کی نفرت سے مسلمانوں کو بھی خوشی حاصل ہو اور کفار کے مقابلہ میں ان کی جیت بھی ہو۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ نصرت سے مراد یہاں مسلمانوں کی نصرت ہو جو دو وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اول تو یہی کہ مسلمانوں نے رومیوں کے غلبہ کو قرآن کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وعد اللہ لایخلف اللہ وعدہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (6) ’ وعد اللہ ‘ یہاں مصدر موکد ہے اس وجہ سے اس کے اندر تاکید کا مفہوم پیدا ہوجائے گا۔ یعنی اہل ایمان کی مدد کا یہ وعدہ بالکل قطعی اور اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا لیکن جن لوگوں کی نظر صرف ظاہری اسباب و حالات تک محدود ہے وہ اس مخفی ہاتھ کو نہیں دیکھ رہے ہیں جو ان ظواہر کے اندر کا رفرما ہے۔ اس وجہ سے وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ یہاں جس وعدے کے پورے ہونے کی طرف اشارہ وہ صرف رومیوں کے غلبہ کا وعدہ نہیں ہے بلک پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے غلبہ کہ وہ وعدہ بھی ہے جس کی تکذیب کے لئے قریش نے مجوسیوں کی فتح کو دلیل بنایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6-1یعنی اے محمد ! ﷺ ہم آپ کو جو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب رومی، فارس پر دوبارہ غالب آجائیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو مدت مقررہ کے اندر یقینا پورا ہو کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–7

2: جیسا کہ اوپر تعارف میں عرض کیا گیا، اس سے مراد غزوہ بدر کی فتح ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–7

الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7) سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اکثر لوگ نہیں سمجھتے کہ غالب یا مغلوب کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا کیا حکمتیں ہیں اور یہ قدرت جب کوئی کام کرنا چاہے تو سب ظاہری رکاوٹیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لئے اکثر ظاہر بیں بغیر اسباب ظاہری خدا پر بھروسہ نہیں رکھتے اور کسی کا عارضی غلبہ دیکھ کر سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ ہی اللہ کے ہاں مقبول ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 وَعْدَ اللّٰہِط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ” یہ وہ چھ آیات ہیں جن میں رومیوں کے دوبارہ غلبے اور اہل ایمان کی مشرکین مکہ پر فتح کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یہ آیات تقریباً 614 ء میں نازل ہوئیں۔ نبی اکرم ﷺ پر وحی کا آغاز 610 ء میں ہوا تھا۔ چناچہ ان آیات کے نزول کے وقت آپ ﷺ کی دعوت کو پانچ برس کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اس کے ٹھیک نو 9 برس بعد اس پیشین گوئی کے عین مطابق رومی بھی ایرانیوں پر غالب آگئے اور غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو بھی اللہ کی مدد سے فتح نصیب ہوئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

2 یعنی اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے اور نظر آنے والی سب رکاوٹیں خود بخود مٹتی چلی جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اس حقیقت کا کہ مؤثر وفاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے لئے تکوین باسباب وبلاسباب، اسباب کے موافق، اسباب کے مخالف، ہر طرح آسان اور یکسان ہے) عارف رومی (رح) نے اسی مقام کی ترجمانی کی ہے جملہ قرآن است درقطع سبب ‘: عز درویش وہلاک بولہب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وعد اللہ . اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ مغلوب ہونے کے بعد رومی غالب آئیں گے۔ لا یخلف اللہ وعدہ . وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کے کلام میں کذب ناممکن ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون . لیکن اکثر لوگ (یعنی کفار مکہ اس کے وعدہ کو اور وعدہ کی سچائی کو) نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمانے کا وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں فرماتا مگر مکہ والے یہ نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَعْدَ اللّٰهِ ۭ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ : یعنی روم کا چند سالوں میں فارس پر غالب آنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، جس کی سنت یہ ہے کہ وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : لیکن اکثر لوگ، جن میں کفار قریش بھی شامل ہیں، یہ بات نہیں جانتے، بلکہ جب اللہ تعالیٰ کوئی ایسی بات کرتا ہے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے ممکن نہیں ہوتی تو وہ اللہ کے وعدے کو جھوٹا کہنے لگتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ ظاہری اسباب کے علاوہ بیشمار باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں اور نہ انھیں یہ معلوم ہے کہ تمام ظاہری اور باطنی اسباب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

وعدہ کیونکہ اس کا کلام سچا ہے۔ وہ کفار ہیں وہ تعداد میں زیادہ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وعدہ اللہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے پھر وہ جتنا جانتے ہیں اس کی مقدار کو بیان کیا وہ اپنی معاش اور دنیا کے امر کو جانتے ہیں وہ کب فصل کاشت کریں کب کاٹیں کیسے درخت لگائیں اور کیسے عمارت بنائیں ؟ یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد محلات بنانا، نہریں کھودنا او درخت لگانا ہے۔ معنی ایک ہی ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو شیاطین امور دنیا میں سے ان کی طرف القاء کرتے ہیں جب کہ انہوں نے آسمان سے انہیں چوری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–6

فارس اور روم کی جنگ 2۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ فارس والے روم والوں پر غالب آگئے اور مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ فارس والے، روم والوں پر غالب آئیں اور مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور وہ ان کے دین کی طرف زیادہ قریب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی آلم، غلب الروم، فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین، یعنی رومی مغلوب ہوگئے قریب زمین میں اور ان کے غلبہ کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند سالوں میں تو مشرکین نے کہا اے ابوبکر تیرا ساتھی کہتا ہے کہ رومی غالب آجائیں گے فارس والوں پر چند سالوں میں ابوبکر نے کہا آپ نے سچ فرمایا تو ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَعْدَ اللّٰهِ ۭ [(ہوچکا) اللہ کا وعدہ ] لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ [خلاف نہیں کرتا اللہ ] وَعْدَهٗ [اپنے وعدے کے ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [اور لیکن لوگوں کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتی نہیں ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَعْدَاللّٰہِ ) (اللہ نے وعدہ فرمایا ہے) (لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ) (اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں فرماتا) (وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) نہ ان کو اللہ کے قادر اور مطلق ہونے کا علم ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے، محض ظاہری اسباب کو دیکھتے ہیں، خالق کائنات جل مجدہ کی صفات، قدرت، عزت اور رحمت اور صدق الوعد کو نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

و فرحت ومسرت برائے اہل ایمان قال اللہ تعالیٰ الم غلبت الروم۔۔۔ الی۔۔۔ وہم عن الاخرۃ ہم غفلون۔ شان نزول : ہجرت سے قبل جب حضور پر نور ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو فارس اور روم میں جنگ ہوئی اور اہل فارس بمقابلہ اہل روم غالب آئے مشرکین مکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ فارس روم پر غالب ہوں کیونکہ اہل فارس اہل مکہ کی طرح مشرک تھے اہل مکہ بت پرست تھے اور اہل فارس آتش پرست تھے اور مسلمان اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اہل روم فارس پر غالب ہوں اس لئے کہ اہل روم نصرانی تھے انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اور دین اسلام کے قریب تھے فارس کی فتح سے کفار قریش کو بہت خوشی ہوئی اور مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

7:۔ مفعول مطلق کا مفعل ناصب حذف کر کے اسے فاعل کی طرف مضاف کردیا گیا ہے یعنی وعدھم اللہ وعدا (کبیر ج 6 ص 696) اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ رومیوں کو ایران کے آتش پرستوں پر ضرور فتح دے گا اس میں ہرگز تخلف نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ایمان والوں سے بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ توحید پر قائم رہیں گے اور توحید کی خاطر مشرکین کی ایذاؤں پر صبر کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں مشرکین پر غلبہ عطا فرمائے گا اللہ تعالیی نے یہ دونوں وعدے پورے فرما دئیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الروحہ ہے جو اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ روم سے اخذ کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ سورة مکی زندگی میں سورة انشقاق کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی ساٹھ آیات میں اور یہ چھ رکوع پر مشتمل ہے ۔ اس میں 918 الفاظ اور 0252 حروف میں یہ سورة طوالت کے لحاظ سے درمیانی سورتوں میں شمارہوتی ہے۔ رومی سلطنت روم ایک سلطنت کا نام تھا جسے نزول قرآن کے زمانہ میں رومۃ الکبریٰ بھی کہتے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو برطانیہ عظمی Great BRITAIN کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کا اصل مرکز تو اٹلی میں تھا مگر بعد میں اس کا ایک حصہ الگ ہو کر جدید روم کو ملا جس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعْدَ اللہِ۝ 0ۭ لَا يُخْلِفُ اللہُ وَعْدَہٗ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 6 وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : فی ادنی الارض فی غلبت سے متعلق ھم مبتدا سیغلبون خبر من بعد غلبہم اس سے متعلق غلبہم میں اول قرأت یعنی غلبت کو مجہول مانا جاوے تو مصدر مفعول کی طرف اور دوسری تقدیر میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہے۔ فی بضع متعلق ہے۔ سیغلبون سے بنصر اللہ متعلق ہے۔ یفرح المؤمنون سے وعد اللہ مصدر مؤکد ای وعد اللہ وعدا دول ماتقدم علی فعل المحذوف لا نہ وعد۔ وعدہ مفعول لایخلف۔ تفسیر : اگلی سورة میں اہل کتاب کو مشرکین پر ترجیح دی تھی، بقولہ ولا تجادلوا اھل الکتاب الی قولہ و الہنا و الٰہکم واحد کہ اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر نرمی سے اور یہ کہہ دو جو کچھ تمہارے انبیاء پر نازل ہوا ہے، ہم اس کو مانتے ہیں اور ہمارا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَعْدَاللّٰہِ ط لاَ یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 6) (یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔ ) وَعْدَاللّٰہِ …یہ مفعول مطلق ہے، اس کا عامل محذوف ہے۔ تقدیرِکلام یوں ہے وَعَدَاللّٰہُ وَعْدًا اس کا مقصد وعدے کو مؤکد کرنا ہے۔ ایرانیوں کے غیرمعمولی غلبے اور رومیوں کی ذلت ناک پسپائی کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اب رومی دوبارہ اٹھ سکیں گے۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اب رومی سلطنت چند دنوں کی مہمان ہے۔ لیکن توقع اور حالات کے بالکل برعکس قرآن کریم کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : رومیّوں کا غالب آنا اور مسلمانوں کا کامیاب ہونا یقینی بات ہے کیونکہ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ وعدہ سے مراد ایک تو یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے مکہ معظمہ میں مسلمانوں سے فرمایا کہ رومی غالب اور فارسی مغلوب ہوں گے جس سے مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔ رومیوں کا فتح یاب ہونا اور مسلمانوں کا مشرکین پر غالب آنا بظاہر اس قدر ناممکن تھا کہ اس پر یقین کرنا مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ ” وَعَدَہٗ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تاکہ کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو یقین اور اطمینان ہوجائے کہ اب مشکلات کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6: وَعْدَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ کیا ہے) یہ مصدر مؤکد ہے کیونکہ وھم من بعد غلبھم سیغلبون وعد من اللہ للمؤمنین یعنی یہ آیت اللہ کے مؤمنین سے وعدہ پر دلالت کر رہی ہے۔ پس وعد اللہ یہ بمنزلہ وعداللہ المؤمنین وعدًا کے ہے۔ لَایُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (اللہ تعالیٰ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں فرماتے) عہد سے مراد روم کو فارس پر غلبہ دینا ہے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں) اس بات کو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6” وعداللہ “ مصدر کی بناء پر منصوب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ کیا کہ مغلوب ہونے کے بعد رومی غالب آجائیں گے۔” لا یخلف اللہ وعدہ ولکن اکثرالناس لا یعلمون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1 تا 7 صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں 1 ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

سورة الروم آیت نمبر : 7-6-5-4-3-2-1 اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے ‘ اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انہیں مکمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں : اس لیے یہ جہالت و لاعلمی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں پڑے بھٹک رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ صرف ظاہر کو دیکھتے اور اسی کو جانتے اور مانتے ہیں اور وہ بھی اس حد تک کہ اس سے وہ کیا کیا ظاہری اور مادی فوائد حاصل کرسکتے ہیں اور کیا منافع کما سکتے ہیں اور بس۔ یعنی ان کی نگاہ صرف مادی پہلو تک ہی محصور ہوتی ہے اور بس۔ اور وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ بنایا کس نے ؟ اور نعمتوں اور حکمتوں بھری اس کائنات کو چلاتا کون ہے۔ اور اس کا ہم پر حق کیا ہے ؟ ان کی نگاہیں صرف ظاہری اسباب و وسائل تک محدود رہتی ہیں۔ اور وہ اس مخفی ہاتھ کو نہیں دیکھ سکتے جو اصل میں ان ظواہر کے پیچھے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–7

دو ناممکن فتوحات کی بشارت تشریح : محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ایران اور روم کی دو سلطنتیں بڑی زبردست تھیں۔ ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی اہل کتاب تھے۔ 570 ء میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی 610 ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 615 ء میں ایران نے روم کے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر چڑھائی شروع کردی۔ مکہ والے کیونکہ مشرک و کافر تھے، اس لیے ایرانیوں کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور رومی کیونکہ اہل کتاب عیسائی تھے اور اعتقادات کے لحاظ سے مسلمانوں کے کچھ کچھ قریب تھے اس لیے ان کی شکست پر مسلمانوں کو چڑانے لگے کہ دیکھو اللہ والوں کی اللہ نے مدد نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

7 ۔ یعنی محض دنیا کی ظاہری آرائش اور ساز و سامان کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور آخرت کی کوئی فکر نہیں کرتے۔ یا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ ” وہ تو دنیوی زندگی کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے ہیں اور انجام سے بیخبر ہیں “۔ یہ سمجھتے ہیں کہ فتح و شکست کا مدار ظاہری اسباب پر ہے مگر ان کو انجام کی خبر نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ (کذا فی الوحیدی) یا دنیا کے کاموں میں تو خوب ماہر اور زیرک ہیں مگر امور آخرۃ سے بالکل بیخبر اور جاہل۔ امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں : ” ذرا ہم کو تو ناخن پر رکھ کر ہی پرکھ لیتے ہیں مگر نماز پڑھنی نہیں آتی “۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 5–6

(30:6) وعد اللہ : وعد مصدر مؤکدہ ہے (اسے مصدر مؤکد لنفسہ بھی کہتے ہیں) کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ : وھم من بعد غلبھم سیغلبون ۔ فی بضع سنین ۔ للہ الامر من قبل ومن بعد ، ویومئذ یفرح المؤمنون ۔ بنصر اللہ۔ نفس وعدہ کو متضمن ہے اور مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ای وعد اللہ ذلک وعدا۔ یہ کیا ہے اللہ نے وعدہ۔ اس کی اور مثال : صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ (2:138) ، ونصبھا علی انھا مصدر مؤکد لقولہ تعالیٰ (امنا آیۃ 136) ، وہی من المصادر المؤکدۃ لانفسھا کانہ قیل صبغنا اللہ صبغتہ۔ منصوب بوجہ مصدر مؤکد کے ہے اور یہ مصادر مؤکدہ لانفسہا میں سے ہے۔ لایخلف۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اخلاف (افعال)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–10

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–8

قیامت کے منکرین کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غوروفکر کریں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے اس کے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات کا پالنے والا ہے، یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں نہیں سوچتے کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کی مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غورکریں تو اچھی طرح جان لیویں کہ یہ تمام مخلوق بیکار پیدا نہیں کی گئی ہے، بلکہ نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–6

[1] یہ اشارہ اس جنگ کی طرف ہے جو اس زمانے میں روم اور ایران کی سلطنتوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ 614 عیسوی میں عیسائی رومیوں کو آتش پرست مجوسی ایرانیوں کے مقابلے میں زبردست شکست ہوئی۔ شام، مصر، ایشیائے کوچک وغیرہ کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور رومیوں کا دارسلطنت بھی خطرے میں پڑگیا۔ بیت المقدس سے عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین لے اڑے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ بظاہر کوئی صورت روم کے ابھرنے اور ایران کے تسلط سے نکلنے کی باقی نہ رہی۔ ایران کا مذہب کیونکہ مشرکین عرب سے ملتا جلتا تھا اور وہ لوگ بھی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے قدرتاً اہل مکہ ان کی فتح…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–7

ظاھرا ۔ اس جگہ لفظ ظاہر کو آخرت کے مقابلہ میں رکھا ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ زندگی اصل میں نا مختتم اور مسلسل ہے ۔ مگر کوتاہ بینوں کو اس کا صرف وہ حصہ نظر آتا ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے ۔ اور جو ظاہر ہے موت کے بعد کے واقعات جن کا مستقبل سے تعلق ہے ۔ ان تک ان کی رسائی نہیں ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ۔ یعنی وعدۂ الٰہی کے صدق کا یقین نہیں کرتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بغیر ظاہر اسباب خدا پر بھروسہ نہیں رکھتے۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور بلاشبہ اللہ کبھی اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا : 6۔ قرآن کریم نے پوری دنیا کے سامنے اس بات کا بار بار اعلان کیا ہے کہ اللہ نے جب بھی اور جس سے بھی اور جیسا بھی وعدہ کسی سے کیا ہے اس نے کبھی اس کا خلاف نہیں کیا اور نہ ہی کبھی خلاف ہونے دیا ہے اور یہ بات قرآن کریم میں اتنی بار دہرائی گئی ہے کہ شاید ہی کوئی سورة اس سے خالی ہو جس میں یہ بات نہ دہرائی گئی ہو زیر نظر آیت میں بھی پرزور الفاظ میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ‘ اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ “ (ولکن اکثر الناس لا یعلمون) لیکن اس آیت نے ہم کو یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَ‌حُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ‌ اللَّـهِ (And on that day the believers will rejoice with Allah's help - 30:4). The wording of the text apparently implies that "Allah's help" in this verse refers to His help for the people of Rum. Although they too were disbelievers, yet compared to others, their kufr was light. Therefore, their being helped by Allah Ta’ ala was not a far-fetched thing, especially when it was a matter of happiness for the Muslims. The other possibility is that "Allah's help" in the above sentence means Allah's help for the Muslims, for which two explanations…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

4 That is, "Although there are plenty of Signs and evidences which point to the Hereafter, and there is no reason why one should be heedless of it, yet the people are being heedless of it due to their own short-sightedness. They only see the apparent and the outward aspect of the worldly life and are unaware of what is hidden behind it; otherwise there has been no slackness on the part of God to warn them of it. "

Read the full tafseer →