Ar-Room 30:5

Ar-Room · from ayah 5

30:5

بِنَصْرِ اللّٰهِ ؕ— یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۟ۙبِنَصۡرِ اللّٰهِ‌ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُۙ

(یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

In the victory of Allah. He gives victory to whom He wills, and He is the Exalted in Might, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:5

اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست اور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ کی مدد سے، وه جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جس کو چاہتا ہے، فتح دیتا ہے اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کی مدد سے مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے، اور وہ غالب ہے مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کی مدد سے، وہ مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہیں بھی اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔ اللہ جسے چاہے نصرت بخشتا ہے اور وہ سب پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کو چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور عزیز و رحیم تو وہی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کی مدد سے اللہ مدد فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی ہے (سب پر) غالب انتہائی مہربان

— مولانا اسحاق مدنی

وہ جس کو چاہے غالب کردیتا ہے اور وہ زبردست ہے رحیم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(وہ خوش ہوں گے) اللہ کی مدد سے۔ وہ مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے۔ اور وہ زبردست بہت رحم فرمانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی اللہ کی مدد سے، وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب و مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

at the victory granted by Allah. He grants victory to whomsoever He pleases. He is the Most Mighty, the Most Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

with Allah‘s help. He helps whomsoever He wills. And He is the Mighty, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

with Allah‘s help. He helps whomsoever He wills. And He is the Mighty, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

With the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the All-Mighty, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In Allah's help to victory. He helpeth to victory whom He will. He is the Mighty, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

In the victory of Allah. He gives victory to whom He wills, and He is the Exalted in Might, the Merciful.

— Saheeh International

He helps whomever He wants. He is Majestic and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

With the help of Allah; He helps whom He pleases; and He is the Mighty, the Merciful;

— Muhammad Habib Shakir

In Allah succour. He succoureth whomsoever He will, and He is the Mighty, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

With the help of Allah. He helps whom He will, and He is exalted in might, most merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–7

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–6

سورة الروم 2 یعنی پہلے جب ایرانی غالب آئے تو اس بنا پر نہیں کہ معاذ اللہ خداوند عالم ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا، اور بعد میں جب رومی فتح یاب ہوں گے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کھویا ہوا ملک مل جائے گا۔ فرمانروائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ ہی نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔ اس کی خدائی میں کوئی اپنے زور سے غلبہ حاصل نہیں کرسکتا۔ جسے وہ اٹھاتا ہے وہی اٹھتا ہے اور جسے وہ گراتا ہے وہی گرتا ہے۔ سورة الروم 3 ابن عباس، ابو سعید خدری، سفیان ثوری، سدی ؓ وغیرہ حضرات کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ، بِنَصْرِ اللّٰهِ ، یعنی اس روز (جبکہ روم فارس پر غالب آئیں گے) مسلمان خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ نظم عبارت کے اعتبار سے ظاہر یہ ہے کہ یہاں نصر اور مدد سے رومیوں کی نصرت و امداد ہے، وہ اگرچہ کافر تھے مگر دوسرے کے مقابل کافروں کے اعتبار سے کفر میں ہلکے تھے، اس لئے ان کی نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا کوئی امر مستبعد نہیں، خصوصاً جبکہ ان کی نفرت سے مسلمانوں کو بھی خوشی حاصل ہو اور کفار کے مقابلہ میں ان کی جیت بھی ہو۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ نصرت سے مراد یہاں مسلمانوں کی نصرت ہو جو دو وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اول تو یہی کہ مسلمانوں نے رومیوں کے غلبہ کو قرآن کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بنصر اللہ ط ینصر من یشاء و ھو العزیز الرحیم (5) بنصر اللہ کا تعلق سیغلبون سے بھی ہوسکتا ہے اور یفرح المومنون سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ غلبہ جو ان کو حاصل ہوگا اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوگا، اس لئے کہ اللہ ہی جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ یہ امریہاں ملحاظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تمام ترحق و عدل پر مبنی ہے اس وجہ سے وہ انہیں کی مدد فرماتا ہے جو اس کے عدل و حکمت کی رو سے اس کی مدد کے سزا وار ہوتے ہیں۔ ’ عزیز ورحیم ‘ کی صفات کا حوالہ یہاں اس کی مشیت کی نوعیت کے اظہار کے لئے ہے کہ وہ غالب و مقتدر ہے اس وجہ سے اس کی مشیت میں کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5-1عہد رسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک فارس (ایران) کی، دوسری روم کی۔ اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی یعنی اہل کتاب تھی۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ دونوں غیر اللہ کے پجاری تھے۔ جب کہ مسلمان کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں، اس لئے عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی و رسالت پر یقین رکھتے تھے، ان کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔ نبی ﷺ کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آگئی، جس پر مشرکوں کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا، اس موقعہ پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں پیش گوئی کی گئی کہ رومی پھر غالب آجائیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–7

2: جیسا کہ اوپر تعارف میں عرض کیا گیا، اس سے مراد غزوہ بدر کی فتح ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–7

الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7) سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ایک تو اس دن اپنی فتح کی خوشی اس پر مزید خوشی یہ ہوئی کہ رومی اہل کتاب (جو نسبۃً مسلمانوں سے اقرب تھے) فارس کے مجوسیوں پر غالب آئے۔ قرآن کی پیشنگوئی کے صدق کا لوگوں نے مشاہدہ کرلیا۔ کفار مکہ کو ہر طرح ذلت نصیب ہوئی۔ 1 یعنی جسے مغلوب کرنا چاہے تو کوئی زبردستی کر کے روک نہ سکے اور جس پر مہربانی فرمانا چاہے اسے بےروک ٹوک غالب کر کے رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 بِنَصْرِ اللّٰہِط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ” یہاں اگرچہ ذکر نہیں کیا گیا لیکن اس سے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی فتح مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد سے انہیں عنقریب حاصل ہونے والی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

2 یعنی اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے اور نظر آنے والی سب رکاوٹیں خود بخود مٹتی چلی جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (آیت) ” ینصر من یشآء “۔ محققین نے تصریح کی ہے کہ نصرت الہی جب بھی ہوگی مومنین صادقین ہی کی ہوگی۔ اس لئے تفسیر میں من اولیاۂ محذوف ماننا پڑے گا۔ یعنی من اولیاۂ لان نصرہ مختص بغلبۃ اولیاۂ لاعداۂ فاما غلبۃ اعداۂ لاولیاۂ فلیس بنصر وانما ھو ابتلاء وقد یسمی ظفرا (قرطبی) ...... وہ فتح وشکست اپنے مصالح تکوینی اور اپنی مشیت پر حکمت کے مطابق واقع کراتا رہتا ہے۔ (آیت) ” العزیز “۔ وہ زبردست ہے کافروں کے مقابلے میں، جب چاہے انہیں ان کی ظاہری شان و شوکت کے باوجود مغلوب کردکھائے ! (آیت) ” الرحیم “۔ وہ رحیم ہے مسلمانوں کے حق میں جب چاہے ان کی ظاہری کمزوری اور بےسروسامانی کے باوجود انہیں فتح دیدے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بنصر اللہ . اللہ کی مدد سے یا اللہ کی عنایت کردہ فتح کی وجہ سے یعنی رومیوں کے غالب آنے سے پہلے اور رومیوں کے غالب آنے کے بعد بہرحال اللہ ہی کا حکم نافذ ہے۔ کوئی بات اس کے فیصلے اور اندازے کے بغیر نہیں ہوتی۔ یَوْمَءِذٍ یعنی جس روز رومیوں کو فارسیوں پر غلبہ حاصل ہوگا۔ بِنَصْرِ اللہ کہ اللہ نے اہل کتاب کو ان لوگوں پر فتح عنایت کی جو اہل کتاب نہیں۔ یعنی مؤمنوں نے جو بات مشرکوں سے کہی تھی ‘ اللہ نے اس کو سچ کر دکھایا اور شرط میں ان کو غالب کردیا اور ان کے یقین و ثبات کو مزید استحکام عطا فرمایا۔ سدی نے کہا : رسول اللہ کو اس بات سے خوشی ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان مشرکوں پر غالب آئے اور اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

شان نزول : الۗمّۗ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (الخ) امام ترمذی نے ابو سعید سے روایت نقل کی ہے کہ بدر کے دن رومی اہل فارس پر غالب آگئے جس کی وجہ سے مسلمان خوش ہوئے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ الم سے بنصر اللہ تک یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اہل روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب اور ابن جریر نے بھی ابن مسعود سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ابن ابی حاتم نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا کہ رسول اکرم ﷺ کی ہجرت سے پہلے جبکہ مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے مشرکین مسلمانوں سے مباحثہ کیا کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ رومی اہل کتاب ہونے کے مدعی ہیں اور ان پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–5

تفسیر سورة الروم الۗمّۗ ۝ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۝ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ۔۔ : ”الم“ کے متعلق سورة بقرہ کی ابتدا ملاحظہ فرمائیں۔ سورۂ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیش گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کے حق ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں سے پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا اور دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو اس وقت عرب کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے جب بدر کا دن تھا تو رومی ایرانیوں پر غالب آئے اس امر نے مومنوں کو خوش کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں (1) ۔ فرمایا : مومن رومیوں کے ایرانیوں پر غالب آنے سے خوش ہوگئے : کہا : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے : نصر بن علی جہضمی نے پڑھا (2) اور اسے حضرت ابن عباس ؓ سے مکمل روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : (3) مشرک یہ پسند کرتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب آئیں کیونکہ دونوں بت پرست تھے۔ مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے۔ مشرکوں نے اس کا ذکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کیا اور حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–6

فارس اور روم کی جنگ 2۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ فارس والے روم والوں پر غالب آگئے اور مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ فارس والے، روم والوں پر غالب آئیں اور مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور وہ ان کے دین کی طرف زیادہ قریب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی آلم، غلب الروم، فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین، یعنی رومی مغلوب ہوگئے قریب زمین میں اور ان کے غلبہ کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند سالوں میں تو مشرکین نے کہا اے ابوبکر تیرا ساتھی کہتا ہے کہ رومی غالب آجائیں گے فارس والوں پر چند سالوں میں ابوبکر نے کہا آپ نے سچ فرمایا تو ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بِنَصْرِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی مدد سے ] يَنْصُرُ [وہ مدد کرتا ہے ] مَنْ [اس کی جس کی ] يَّشَاۗءُ ۭ [وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہ ہی بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ہمیشہ رحم کرنے ولا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–5

سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار سے ہوگا اور اسی کی قدرت کا مظاہرہ ہوگا۔ (وَ یَوْمَءِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللّٰہِ ) (اور جس دن رومی اہل فارس پر غالب ہوں گے مومن بندے اللہ کی مدد کے ساتھ خوش ہوں گے) مومنین کی خوشی ایک تو اس اعتبار سے ہوگی کہ انہوں نے کفار مکہ کو جو بتایا تھا کہ عنقریب اہل روم اہل فارس پر غالب ہوں گے اس بات کی سچائی سب کے سامنے آجائے گی۔ اور یوں بھی خوشی ہوگی کہ انہی دنوں میں بدر کا واقعہ پیش آئے گا خوشی کے اسباب جمع ہوجائیں گے، لفظ بِنَصْرِ اللّٰہِ کا تعلق ان سب باتوں سے ہوسکتا ہے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کی مدد ہوئی۔ (یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ ) (وہ جس کی چاہے مدد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

و فرحت ومسرت برائے اہل ایمان قال اللہ تعالیٰ الم غلبت الروم۔۔۔ الی۔۔۔ وہم عن الاخرۃ ہم غفلون۔ شان نزول : ہجرت سے قبل جب حضور پر نور ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو فارس اور روم میں جنگ ہوئی اور اہل فارس بمقابلہ اہل روم غالب آئے مشرکین مکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ فارس روم پر غالب ہوں کیونکہ اہل فارس اہل مکہ کی طرح مشرک تھے اہل مکہ بت پرست تھے اور اہل فارس آتش پرست تھے اور مسلمان اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اہل روم فارس پر غالب ہوں اس لئے کہ اہل روم نصرانی تھے انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اور دین اسلام کے قریب تھے فارس کی فتح سے کفار قریش کو بہت خوشی ہوئی اور مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

7:۔ مفعول مطلق کا مفعل ناصب حذف کر کے اسے فاعل کی طرف مضاف کردیا گیا ہے یعنی وعدھم اللہ وعدا (کبیر ج 6 ص 696) اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ رومیوں کو ایران کے آتش پرستوں پر ضرور فتح دے گا اس میں ہرگز تخلف نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ایمان والوں سے بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ توحید پر قائم رہیں گے اور توحید کی خاطر مشرکین کی ایذاؤں پر صبر کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں مشرکین پر غلبہ عطا فرمائے گا اللہ تعالیی نے یہ دونوں وعدے پورے فرما دئیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الروحہ ہے جو اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ روم سے اخذ کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ سورة مکی زندگی میں سورة انشقاق کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی ساٹھ آیات میں اور یہ چھ رکوع پر مشتمل ہے ۔ اس میں 918 الفاظ اور 0252 حروف میں یہ سورة طوالت کے لحاظ سے درمیانی سورتوں میں شمارہوتی ہے۔ رومی سلطنت روم ایک سلطنت کا نام تھا جسے نزول قرآن کے زمانہ میں رومۃ الکبریٰ بھی کہتے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو برطانیہ عظمی Great BRITAIN کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کا اصل مرکز تو اٹلی میں تھا مگر بعد میں اس کا ایک حصہ الگ ہو کر جدید روم کو ملا جس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بِنَصْرِ اللہِ۝ 0 ۭ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0 ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ۝ 5 ۙ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : فی ادنی الارض فی غلبت سے متعلق ھم مبتدا سیغلبون خبر من بعد غلبہم اس سے متعلق غلبہم میں اول قرأت یعنی غلبت کو مجہول مانا جاوے تو مصدر مفعول کی طرف اور دوسری تقدیر میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہے۔ فی بضع متعلق ہے۔ سیغلبون سے بنصر اللہ متعلق ہے۔ یفرح المؤمنون سے وعد اللہ مصدر مؤکد ای وعد اللہ وعدا دول ماتقدم علی فعل المحذوف لا نہ وعد۔ وعدہ مفعول لایخلف۔ تفسیر : اگلی سورة میں اہل کتاب کو مشرکین پر ترجیح دی تھی، بقولہ ولا تجادلوا اھل الکتاب الی قولہ و الہنا و الٰہکم واحد کہ اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر نرمی سے اور یہ کہہ دو جو کچھ تمہارے انبیاء پر نازل ہوا ہے، ہم اس کو مانتے ہیں اور ہمارا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

الٓـمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ م بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ 5 ط لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ م بَعْدُ ط وَیَوْمَئِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ بِنَصْرِاللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الروم : 1 تا 5) (ال م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے۔ اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب وہ غالب آجائیں گے۔ چند سالوں میں، اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔ ) گزشتہ سورة سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–5

فہم القرآن سورۃ العنکبوت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے راستے ہموار کردیتا ہے جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا وہ اپنا مقدر پالے گا۔ اگر آخرت کے لیے کوشاں ہوگا تو آخرت میں اپنا حصہ پائے گا۔ اب اس کا ایک حوالہ دے کر مسلمانوں کو روشن مستقبل کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ دنیا میں ” اللہ “ کی مدد کی ایک عظیم مثال ملاحظہ فرمائیں کہ ایک وقت تھا کہ جب ایرانیوں کے مقابلے میں رومی شکست فاش سے دوچار ہوئے اور مسلمان کفار کے ہاتھوں مار کھا رہے تھے، ان نازک ترین اور ناقابل یقین حالات میں اعلان ہوتا ہے کہ عنقریب رومی غالب ہونگے۔ شکست میں بھی ” اللہ “ کا حکم کار فرما تھا اور فتح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5: بِنَصرِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی مدد سے) اور اس کے اہل کتاب کو غیر اہل کتاب پر غلبہ دینے اور کفار مکہ جو آج کتاب والوں کی ناکامی پر خوش ہو رہے ہیں ان کو ناکامی کا غصہ دلانے سے۔ ایک قول : اللہ تعالیٰ کی نصرت یہ ہے کہ ایمان والوں کی زبانی مشرکین مکہ کو پہنچائی گئی غلبہ روم کی خبر کو سچا کر کے دکھادیا۔ بؔ یفرحؔ سے متصل ہے اسی لئے اللہ ؔ پر وقف ہوگا نہ کہ المؤمنون بنصر اللہ پر۔ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآ ئُ وَھُوَ الْعَزِیْزُ (وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست ہے) وہ اپنے دشمنوں پر غالب ہے۔ الرَّحِیْمُ (رحمت والا ہے) اور اپنے دوستوں پر مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5” بنصر اللہ “ روم کو فارس پر غلبہ دے دیا۔ سدی کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی خوشی ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں مسلمان مشرکوں پر غالب آئے اورا ہل کتاب کو ان لوگوں پر غلبہ حاصل ہواجو کتابی نہیں ہیں ۔” ینصرمن یشاء وھوالعزیز “ اور وہ غالب ہے ۔” الرحیم “ اور مؤمنوں پر رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1 تا 7 صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں 1 ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

سورة الروم آیت نمبر : 7-6-5-4-3-2-1 اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے ‘ اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انہیں مکمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

4 اور اللہ ہی ہے سب پر غالب انتہائی مہربان : پس مسلمان کا اصل تکیہ و بھروسہ اسی خدائے عزیز و رحیم پر ہونا چاہیئے نہ کہ محض ظاہری اسباب و وسائل پر کہ اصل معاملہ بہرحال اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ ایسا عزیز اور زبردست ہے کہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اس کے ارادہ و مشیت میں کوئی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا لیکن وہ چونکہ انتہائی مہربان اور رحیم بھی ہے اس لیے اس کا ہر فیصلہ اور ہر حکم و ارشاد نہایت رحمت و عنایت اور عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہاں پر { بنصر اللہ } کا تعلق { سیغلبون } سے بھی ہوسکتا ہے۔ سو اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–7

دو ناممکن فتوحات کی بشارت تشریح : محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ایران اور روم کی دو سلطنتیں بڑی زبردست تھیں۔ ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی اہل کتاب تھے۔ 570 ء میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی 610 ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 615 ء میں ایران نے روم کے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر چڑھائی شروع کردی۔ مکہ والے کیونکہ مشرک و کافر تھے، اس لیے ایرانیوں کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور رومی کیونکہ اہل کتاب عیسائی تھے اور اعتقادات کے لحاظ سے مسلمانوں کے کچھ کچھ قریب تھے اس لیے ان کی شکست پر مسلمانوں کو چڑانے لگے کہ دیکھو اللہ والوں کی اللہ نے مدد نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، ابو سعید خدری ؓ ، سفیان ثوری ؓ اور بہت سے دیگر اہل علم حضرات کا بیان ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر یہ غلبہ اسی روز حاصل ہوا جس روز مسلمان بدر میں مشرین مکہ پر فتح یاب ہوئے۔ اسی لئے مسلمانوں کو دوہری خوشی ہوئی اور مشرکوں کو دوہرا غم ہوا۔ (ابن کثیر) بعض تابعین (رح) کا خیال ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر صلح حدیبیہ کے سال فتح ہوئی۔ ان کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ قیصر روم نے منت مانی تھی کہ جب وہ فتح یاب ہوگا تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) کا حج کرے گا۔ چناچہ جب وہ ایلیا آیا تو ابھی واپس نہ ہوا تھا کہ اسے حضرت وحیہ ؓ بن خلیفہ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کا وہ خط ملا جو آپ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 5–6

(30:6) وعد اللہ : وعد مصدر مؤکدہ ہے (اسے مصدر مؤکد لنفسہ بھی کہتے ہیں) کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ : وھم من بعد غلبھم سیغلبون ۔ فی بضع سنین ۔ للہ الامر من قبل ومن بعد ، ویومئذ یفرح المؤمنون ۔ بنصر اللہ۔ نفس وعدہ کو متضمن ہے اور مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ای وعد اللہ ذلک وعدا۔ یہ کیا ہے اللہ نے وعدہ۔ اس کی اور مثال : صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ (2:138) ، ونصبھا علی انھا مصدر مؤکد لقولہ تعالیٰ (امنا آیۃ 136) ، وہی من المصادر المؤکدۃ لانفسھا کانہ قیل صبغنا اللہ صبغتہ۔ منصوب بوجہ مصدر مؤکد کے ہے اور یہ مصادر مؤکدہ لانفسہا میں سے ہے۔ لایخلف۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اخلاف (افعال)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–10

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–8

قیامت کے منکرین کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غوروفکر کریں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے اس کے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات کا پالنے والا ہے، یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں نہیں سوچتے کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کی مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غورکریں تو اچھی طرح جان لیویں کہ یہ تمام مخلوق بیکار پیدا نہیں کی گئی ہے، بلکہ نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–6

[1] یہ اشارہ اس جنگ کی طرف ہے جو اس زمانے میں روم اور ایران کی سلطنتوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ 614 عیسوی میں عیسائی رومیوں کو آتش پرست مجوسی ایرانیوں کے مقابلے میں زبردست شکست ہوئی۔ شام، مصر، ایشیائے کوچک وغیرہ کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور رومیوں کا دارسلطنت بھی خطرے میں پڑگیا۔ بیت المقدس سے عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین لے اڑے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ بظاہر کوئی صورت روم کے ابھرنے اور ایران کے تسلط سے نکلنے کی باقی نہ رہی۔ ایران کا مذہب کیونکہ مشرکین عرب سے ملتا جلتا تھا اور وہ لوگ بھی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے قدرتاً اہل مکہ ان کی فتح…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–7

ظاھرا ۔ اس جگہ لفظ ظاہر کو آخرت کے مقابلہ میں رکھا ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ زندگی اصل میں نا مختتم اور مسلسل ہے ۔ مگر کوتاہ بینوں کو اس کا صرف وہ حصہ نظر آتا ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے ۔ اور جو ظاہر ہے موت کے بعد کے واقعات جن کا مستقبل سے تعلق ہے ۔ ان تک ان کی رسائی نہیں ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

5۔ غلبہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوتا ہے وہ جس کی چاہتا ہے مد د کرتا ہے اور وہی ہے بڑا زبردست نہایت رحم والا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ دو بڑی حکومتیں تھیں ایک فارم اور ایک روم یہاں کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا اور روم کے بادشاہ کا قیصر۔ قیصر کی حکومت اہل کتاب کے قبضے میں تھی اور کسریٰ یعنی فارس کی حکومت زردشتی حکومت کہلاتی تھی جو پہلے تو شاید کسی پیغمبر کو مانتی تھی پھر بگڑ کر آتش پرست ہوگئی تھی اور مجوس کی حکومت کہلاتی تھی ان دونوں حکومتوں میں باہمی جنگ بھی ہوجایا کرتی تھی اور پرانے زمانے سے دونوں حکومتوں میں عداوت چلی آتی تھی اور اس عداوت کا مظاہر ہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ جب ملک عرب میں نبی کریم ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے : 5۔ نصرت ومدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہ اپنے قانون کے مطابق جو اس نے کسی کی مدد کے لئے مقرر کیا ہے مدد کرتا ہے اس حقیقت کو ہر انسان نہیں پاسکتا کہ اس کی مدد کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مدد ضروری نہیں کہ نیک لوگوں ہی کی کی جائے کیونکہ اس کے قانون کا تعلق کسی ظاہری نیکی اور بدی سے نہیں اور یہ وہ راز ہے جس کو بہت کم لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں بہرحال رب العزت ہی وہ ذات ہے کہ ہمیشہ غالب آنے والا اور اپنی مخلوق سے پیار کرنے والا ہے اور ہر انسان خواہ وہ نیک ہے یا بد بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے کوئی اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَ‌حُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ‌ اللَّـهِ (And on that day the believers will rejoice with Allah's help - 30:4). The wording of the text apparently implies that "Allah's help" in this verse refers to His help for the people of Rum. Although they too were disbelievers, yet compared to others, their kufr was light. Therefore, their being helped by Allah Ta’ ala was not a far-fetched thing, especially when it was a matter of happiness for the Muslims. The other possibility is that "Allah's help" in the above sentence means Allah's help for the Muslims, for which two explanations…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 Ibn 'Abbas, Abu Said Khudri, Sufyan Thauri;, Suddi and others have stated that the Romans' victory against the Iranians and the Muslims' victory at Badr against the polytheists took place almost at the same time. The Muslims, therefore, were doubly pleased. The same is supported by the histories of Byzantium and Iran. 624 A.D. is the year in which the Battle of Badr was fought and the same is the year in which the Byzantine Emperor destroyed the birth-place of Zoroaster and ravaged the principal fire-temple of Iran.

Read the full tafseer →