Explained with ayahs 2–7
معرکہ روم وفارس کا انجام
یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
سورة الروم 2
یعنی پہلے جب ایرانی غالب آئے تو اس بنا پر نہیں کہ معاذ اللہ خداوند عالم ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا، اور بعد میں جب رومی فتح یاب ہوں گے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کھویا ہوا ملک مل جائے گا۔ فرمانروائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ ہی نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔ اس کی خدائی میں کوئی اپنے زور سے غلبہ حاصل نہیں کرسکتا۔ جسے وہ اٹھاتا ہے وہی اٹھتا ہے اور جسے وہ گراتا ہے وہی گرتا ہے۔
سورة الروم 3
ابن عباس، ابو سعید خدری، سفیان ثوری، سدی ؓ وغیرہ حضرات کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ، بِنَصْرِ اللّٰهِ ، یعنی اس روز (جبکہ روم فارس پر غالب آئیں گے) مسلمان خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ نظم عبارت کے اعتبار سے ظاہر یہ ہے کہ یہاں نصر اور مدد سے رومیوں کی نصرت و امداد ہے، وہ اگرچہ کافر تھے مگر دوسرے کے مقابل کافروں کے اعتبار سے کفر میں ہلکے تھے، اس لئے ان کی نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا کوئی امر مستبعد نہیں، خصوصاً جبکہ ان کی نفرت سے مسلمانوں کو بھی خوشی حاصل ہو اور کفار کے مقابلہ میں ان کی جیت بھی ہو۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ نصرت سے مراد یہاں مسلمانوں کی نصرت ہو جو دو وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اول تو یہی کہ مسلمانوں نے رومیوں کے غلبہ کو قرآن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
غلبت الروم۔ فی ادنی الارض و ھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین للہ الامر من قبل ومن بعد ویومئذ یفرح المومنون (2۔ 4)
ادنی الارض سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کردیا اور ان علاقوں سے ان کو بےدخل کردیا۔ یہ واقعہ 214 ء یعنی نبی ﷺ کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔
وھم من بعد غلبھم سیغلبون۔ غلب اپے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یہ قرآن نے پیش گوئی فرمائی کہ اگرچہ رومی اس وقت مغلوب ہوگئے ہیں لیکن یہ مغلوبیت ان کی عارضی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سُوْرَۃُ الرُّوْمِ30یہ سورت مکی ہے اس میں 60 آیات اور -6 رکوع ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
2: جیسا کہ اوپر تعارف میں عرض کیا گیا، اس سے مراد غزوہ بدر کی فتح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7)
سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔
اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور…
Read the full tafseer →7 یعنی نو سال کے اندر اندر رومی غالب ہوجائیں گے۔ کیونکہ لغت میں اور حدیث میں " بضع " کا اطلاق تین سے نو تک ہوا ہے۔ ان آیات میں قرآن نے ایک عجیب و غریب پیشنگوئی کی جو اس کی صداقت کی عظیم الشان دلیل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس زمانہ کی بڑی بھاری دو سلطنتیں " فارس " (جسے " ایران " کہتے ہیں) اور " روم " مدت دراز سے آپس میں ٹکراتی چلی آتی تھیں۔ 602 ء سے لے کر 614 ء کے بعد تک ان کی حریفانہ نبرد آزمائیوں کا سلسلہ جاری رہا کیا، جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی تصریحات سے ظاہر ہے۔ 570 میں نبی کریم ﷺ کی ولادت شریفہ اور چالیس سال بعد 610 ء میں آپ کی بعثت ہوئی۔ مکہ والوں میں جنگ روم وفارس کے متعلق خبریں…
Read the full tafseer →آیت 4 فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ ط ”
عربی میں لفظ ”بِضْع“ کا اطلاق گنتی کے اعتبار سے تین سے نو تک کے اعداد پر ہوتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر رض کو نو سال کی مدت تک شرط طے کرنے کا فرمایا تھا۔ واضح رہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت تک شرط یا جوئے کی حرمت کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْم بَعْدُ ط ”
اللہ ہی کے حکم سے ہوا جو پہلے ہوا اور اللہ ہی کے حکم سے ہوگا جو بعد میں ہوگا۔ فرماں روائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔
وَیَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 سورة روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کی حقانیت پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں پہلی پیشین گوئی یہ ہے کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا۔ اور دوسری پیشین گوئی یہ تھا کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و متہور ہیں۔ تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا اور قرآن نے یہ دونوں پیشین گوئیاں ایسے وقت میں بیان کیں جبکہ ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کے دور دور تک کہیں آثار نظر نہیں آرہے تھے۔
تفصیل اس اجال کی یہ ہے کہ جس زمانہ میں آپ ﷺ کو نبوت عطا…
Read the full tafseer →4۔ فتح وشکست کے سارے اسباب اور حقیقی تصرفات سب اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اس مغلوبیت سے قبل میں حاکم علی الاطلاق و متصرف وہی تھا۔ اور اس منصوریت کے بعد بھی متصرف وہی رہے گا ..... آیت اس حقیقت کا ایک بار پھر اثبات کررہی ہے کہ عالم ومافی العالم میں جو کچھ بھی ہورہا ہے۔ اخبر تعالیٰ بانفرادہ بالقدرۃ وان مافی العالم من غلبۃ وغیرھا انماھی عنہ، بارادتہ وقدرتہ (قرطبی) مومینن کو خوشی ایک تو اس روز ہوئی، جب بلاکسی سبب ظاہری کے۔ بلکہ خلاف اسباب ظاہر، رومیوں کو فتح ایرانیوں پر حاصل ہوئی۔ اور یہ عین وہ وقت تھا، جب ادھر خود مسلمانوں کو مشرکوں کے مقابلہ میں غزوۂ بدر میں بےشان و گمان نمایاں فتح حاصل ہوئی تھی، لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…
Read the full tafseer →فی بضع سنین . چند سال میں۔ بِضْعٌ کا اطلاق تین سے نو تک یا سات تک یا دس سے کم پر ہوتا ہے۔ جوہری نے لکھا ہے کہ دس کے ساتھ (نیز دس سے کم کے لئے) تو لفظ بِضْع اور بِضْعَۃ کا استعمال ہوتا ہے بیس سے اوپر (کی اکائیوں پر) اس کا اطلاق نہیں ہوتا ‘ لیکن جوہری کا یہ قول استعمال حدیث کے خلاف ہے۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے : اَلْاِیْمَان بضعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعبَۃً ایمان کی کچھ اوپر ستر شاخیں ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ فارس اور روم میں جنگ تھی۔ مشرک دل سے چاہتے تھے کہ اہل فارس رومیوں پر غالب آجائیں کیونکہ فارس والے مجوسی تھی ‘ ان کے پاس کوئی آسمان کتاب نہیں تھی اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی فتح یاب ہوجائیں کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
شان نزول : الۗمّۗ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (الخ)
امام ترمذی نے ابو سعید سے روایت نقل کی ہے کہ بدر کے دن رومی اہل فارس پر غالب آگئے جس کی وجہ سے مسلمان خوش ہوئے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ الم سے بنصر اللہ تک یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اہل روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب اور ابن جریر نے بھی ابن مسعود سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ابن ابی حاتم نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا کہ رسول اکرم ﷺ کی ہجرت سے پہلے جبکہ مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے مشرکین مسلمانوں سے مباحثہ کیا کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ رومی اہل کتاب ہونے کے مدعی ہیں اور ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر سورة الروم
الۗمّۗ ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ۔۔ : ”الم“ کے متعلق سورة بقرہ کی ابتدا ملاحظہ فرمائیں۔
سورۂ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیش گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کے حق ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں سے پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا اور دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو اس وقت عرب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے جب بدر کا دن تھا تو رومی ایرانیوں پر غالب آئے اس امر نے مومنوں کو خوش کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں (1) ۔ فرمایا : مومن رومیوں کے ایرانیوں پر غالب آنے سے خوش ہوگئے : کہا : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے : نصر بن علی جہضمی نے پڑھا (2) اور اسے حضرت ابن عباس ؓ سے مکمل روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : (3) مشرک یہ پسند کرتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب آئیں کیونکہ دونوں بت پرست تھے۔ مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے۔ مشرکوں نے اس کا ذکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کیا اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
فارس اور روم کی جنگ
2۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ فارس والے روم والوں پر غالب آگئے اور مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ فارس والے، روم والوں پر غالب آئیں اور مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور وہ ان کے دین کی طرف زیادہ قریب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی آلم، غلب الروم، فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین، یعنی رومی مغلوب ہوگئے قریب زمین میں اور ان کے غلبہ کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند سالوں میں تو مشرکین نے کہا اے ابوبکر تیرا ساتھی کہتا ہے کہ رومی غالب آجائیں گے فارس والوں پر چند سالوں میں ابوبکر نے کہا آپ نے سچ فرمایا تو ان…
Read the full tafseer →فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ڛ [چند سالوں میں ] لِلّٰهِ [اللہ ہی کے لئے ہیں ] الْاَمْرُ [تمام معاملات ] مِنْ قَبْلُ [پہلے (بھی)] وَمِنْۢ بَعْدُ ۭ [اور بعد میں (بھی)] وَيَوْمَىِٕذٍ [اور اس دن ] يَّفْرَحُ [خوش ہوں گے ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار سے ہوگا اور اسی کی قدرت کا مظاہرہ ہوگا۔
(وَ یَوْمَءِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللّٰہِ ) (اور جس دن رومی اہل فارس پر غالب ہوں گے مومن بندے اللہ کی مدد کے ساتھ خوش ہوں گے) مومنین کی خوشی ایک تو اس اعتبار سے ہوگی کہ انہوں نے کفار مکہ کو جو بتایا تھا کہ عنقریب اہل روم اہل فارس پر غالب ہوں گے اس بات کی سچائی سب کے سامنے آجائے گی۔ اور یوں بھی خوشی ہوگی کہ انہی دنوں میں بدر کا واقعہ پیش آئے گا خوشی کے اسباب جمع ہوجائیں گے، لفظ بِنَصْرِ اللّٰہِ کا تعلق ان سب باتوں سے ہوسکتا ہے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کی مدد ہوئی۔ (یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ ) (وہ جس کی چاہے مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
و فرحت ومسرت برائے اہل ایمان
قال اللہ تعالیٰ الم غلبت الروم۔۔۔ الی۔۔۔ وہم عن الاخرۃ ہم غفلون۔
شان نزول : ہجرت سے قبل جب حضور پر نور ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو فارس اور روم میں جنگ ہوئی اور اہل فارس بمقابلہ اہل روم غالب آئے مشرکین مکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ فارس روم پر غالب ہوں کیونکہ اہل فارس اہل مکہ کی طرح مشرک تھے اہل مکہ بت پرست تھے اور اہل فارس آتش پرست تھے اور مسلمان اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اہل روم فارس پر غالب ہوں اس لئے کہ اہل روم نصرانی تھے انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اور دین اسلام کے قریب تھے فارس کی فتح سے کفار قریش کو بہت خوشی ہوئی اور مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ…
Read the full tafseer →4:۔ بضع عدد مبہم ہے اور تین سے نو تک کے لیے استعمال ہوتا ہے اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ابی بن خلف مشرک سے کہا مجوسیوں کی فتح پر اتنی خوشی نہ کرو عنقریب ہی رومی مجوسیوں پر غالب آجائیں گے۔ چناچہ دونوں نے دس دس اونٹ شرط پر لگا دئیے اور رومیوں کے غلبے کی میعاد تین سال مقرر کی جبحضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ابوبکر سے فرمایا لفظ بضع تو تین سے ون تک کے لیے ہوتا ہے اس لیے تم اس کے ساتھ شرط اور مدت میں اضافہ کرلو۔ حضرت ابوبکر ؓ دوبارہ ابی بن خلف سے ملے اور سو اونٹ شرط پر لگادئیے اور میعاد نو سال تک بڑھا دی جسے اس نے منظور کرلیا۔ یہ واقعہ تحریم قمار (شرط وغیرہ) سے پہلے کا ہے (روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الروحہ ہے جو اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ روم سے اخذ کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ سورة مکی زندگی میں سورة انشقاق کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی ساٹھ آیات میں اور یہ چھ رکوع پر مشتمل ہے ۔ اس میں 918 الفاظ اور 0252 حروف میں یہ سورة طوالت کے لحاظ سے درمیانی سورتوں میں شمارہوتی ہے۔
رومی سلطنت
روم ایک سلطنت کا نام تھا جسے نزول قرآن کے زمانہ میں رومۃ الکبریٰ بھی کہتے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو برطانیہ عظمی Great BRITAIN کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کا اصل مرکز تو اٹلی میں تھا مگر بعد میں اس کا ایک حصہ الگ ہو کر جدید روم کو ملا جس…
Read the full tafseer →فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ 0ۥۭ لِلہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْۢ بَعْدُ 0ۭ وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ 4ۙ
بِضع
بالکسر : المنقطع من العشرة، ويقال ذلک لما بين الثلاث إلى العشرة، وقیل : بل هو فوق الخمس ودون العشرة، قال تعالی: بِضْعَ سِنِينَ [ الروم/ 4] .
بِضع
البضع ( بکسرالبا ) عدد جو دس الگ کئے گئے ہیں یہ لفظ تین سے لے کر نو نک بولا جاتا ہے نعیض کہتے ہیں کہ پانچ سے اوپر اور دس سے کم پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ { بِضْعَ سِنِينَ } ( سورة يوسف 42) چند سال ۔
أمر
الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :
إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ترکیب : فی ادنی الارض فی غلبت سے متعلق ھم مبتدا سیغلبون خبر من بعد غلبہم اس سے متعلق غلبہم میں اول قرأت یعنی غلبت کو مجہول مانا جاوے تو مصدر مفعول کی طرف اور دوسری تقدیر میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہے۔ فی بضع متعلق ہے۔ سیغلبون سے بنصر اللہ متعلق ہے۔ یفرح المؤمنون سے وعد اللہ مصدر مؤکد ای وعد اللہ وعدا دول ماتقدم علی فعل المحذوف لا نہ وعد۔ وعدہ مفعول لایخلف۔
تفسیر : اگلی سورة میں اہل کتاب کو مشرکین پر ترجیح دی تھی، بقولہ ولا تجادلوا اھل الکتاب الی قولہ و الہنا و الٰہکم واحد کہ اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر نرمی سے اور یہ کہہ دو جو کچھ تمہارے انبیاء پر نازل ہوا ہے، ہم اس کو مانتے ہیں اور ہمارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
الٓـمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ م بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ 5 ط لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ م بَعْدُ ط وَیَوْمَئِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ بِنَصْرِاللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الروم : 1 تا 5)
(ال م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے۔ اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب وہ غالب آجائیں گے۔ چند سالوں میں، اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔ )
گزشتہ سورة سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
فہم القرآن
سورۃ العنکبوت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے راستے ہموار کردیتا ہے جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا وہ اپنا مقدر پالے گا۔ اگر آخرت کے لیے کوشاں ہوگا تو آخرت میں اپنا حصہ پائے گا۔ اب اس کا ایک حوالہ دے کر مسلمانوں کو روشن مستقبل کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔
دنیا میں ” اللہ “ کی مدد کی ایک عظیم مثال ملاحظہ فرمائیں کہ ایک وقت تھا کہ جب ایرانیوں کے مقابلے میں رومی شکست فاش سے دوچار ہوئے اور مسلمان کفار کے ہاتھوں مار کھا رہے تھے، ان نازک ترین اور ناقابل یقین حالات میں اعلان ہوتا ہے کہ عنقریب رومی غالب ہونگے۔ شکست میں بھی ” اللہ “ کا حکم کار فرما تھا اور فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
غلبہ روم کی عظیم پیشگوئی :
1، 2، 3، 4: الٓمٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (قریب ترین زمین میں رومی مغلوب ہوگئے) ۔ وَھُمْ مِّنْ 0 بَعْدِ غَلَبِھِمْ سیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ (اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ چند سال میں) الٓمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (یعنی فارس نے روم پر غلبہ پالیا) ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (یعنی عرب کے قریب ترین علاقہ میں) الارض میں الف لام عہد کا ہے اور مراد اس سے سرزمین عرب ہے مطلب یہ ہے کہ رومی سرزمین کے قریبی علاقہ شام میں مغلوب ہوگئے ہیں نمبر 2۔ ارض سے رومیوں کی زمین مراد ہو۔ اس صورت میں الف لام مضاف الیہ کے قائم مقام ہوگا یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
تفسیر۔ 4۔ فی بضع سنین بضع کا اطلاق تین سے سات تک ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ تین سے لے کرنوتک ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ تین سے لے کردس تک ہوتا ہے ۔ عبد اللہ بن عمر وابو سعید خدری حسن بصری عیسیٰ بن عمر ونے غلبت غین کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔” سیغلبون “ یاء کے ضمہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے روم اور فارس کے غلبہ کی خبردی ۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ روم فارس پر غالب آگئے قریب ترین زمین میں اور ان کے غلبہ کے بعد عنقریب ہم مسلمانوں کو چند سالوں میں ان پر غالب کردیں گے ۔ اس مدت کے پورا ہونے پر مسلمانوں نے رومیوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1 تا 7 صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں 1 ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الروم
آیت نمبر : 7-6-5-4-3-2-1
اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے ‘ اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انہیں مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4 اور اللہ ہی ہے سب پر غالب انتہائی مہربان : پس مسلمان کا اصل تکیہ و بھروسہ اسی خدائے عزیز و رحیم پر ہونا چاہیئے نہ کہ محض ظاہری اسباب و وسائل پر کہ اصل معاملہ بہرحال اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ ایسا عزیز اور زبردست ہے کہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اس کے ارادہ و مشیت میں کوئی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا لیکن وہ چونکہ انتہائی مہربان اور رحیم بھی ہے اس لیے اس کا ہر فیصلہ اور ہر حکم و ارشاد نہایت رحمت و عنایت اور عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہاں پر { بنصر اللہ } کا تعلق { سیغلبون } سے بھی ہوسکتا ہے۔ سو اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
دو ناممکن فتوحات کی بشارت
تشریح : محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ایران اور روم کی دو سلطنتیں بڑی زبردست تھیں۔ ان کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی اہل کتاب تھے۔ 570 ء میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی 610 ء میں آپ کو نبوت ملی۔ 615 ء میں ایران نے روم کے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر چڑھائی شروع کردی۔ مکہ والے کیونکہ مشرک و کافر تھے، اس لیے ایرانیوں کی کامیابی پر بڑے خوش ہوئے اور رومی کیونکہ اہل کتاب عیسائی تھے اور اعتقادات کے لحاظ سے مسلمانوں کے کچھ کچھ قریب تھے اس لیے ان کی شکست پر مسلمانوں کو چڑانے لگے کہ دیکھو اللہ والوں کی اللہ نے مدد نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة روم۔
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10
اسرارومعارف
رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
4 ۔ کئی برس سے ایران اور روم کے درمیان جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ روم کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں اور ان کی فتح سے خوش تھے اور ایرانی آتش پرست تھے اس لئے مشرک ان کے غلبہ اور فتح سے خوش ہوتے۔ آخر کار آنحضرت ﷺ کی بعثت کے تقریباً پانچ سال بعد، ایران اور روم کے درمیان ایک زبردست معرکہ ہوا جس میں ایرانی غالب رہے، جس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں سے ازراہ فخر و غرور کہنے لگے کہ دیکھا غیر کتاب والے (ایرانی) کتاب والوں یعنی رومیوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب رہیں گے۔ ان باتوں سے مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوتا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور قرآن نے…
Read the full tafseer →(30:4) بضع سنین۔ چند سال۔ بضع (باء کے کسرہ کے ساتھ) وہ عدد جو دس سے الگ کئے گئے ہوں یہ لفظ تین سے لے کر نو تک بولا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک پانچ سے اوپر۔ اور دس سے کم پر۔ بضاعۃ مال کا وافر حصہ جو تجارت کے لئے الگ کیا گیا ہو۔ سرمایہ۔ پونجی۔ ھذا بضاعتنا ردت الینا (12:65) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔
بضعۃ (باء کے فتح کے ساتھ) ٹکڑہ۔ فلان بضعۃ منی فلاں میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ یعنی نہایت قریبی رشتہ دار ہے۔
للہ الامرحکم اللہ ہی کا ہے یعنی احکام کا اجراء اللہ ہی کے اختیار میں ہے یہاں الامر سے مراد انفاذ الاحکام (اجراء احکام) ہے
من قبل ومن بعد۔ پہلے بھی اور بعد میں بھی۔
یومئذ۔ اس روز ای یوم اذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔
غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
قیامت کے منکرین کا حشر۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غوروفکر کریں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے اس کے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات کا پالنے والا ہے، یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں نہیں سوچتے کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کی مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غورکریں تو اچھی طرح جان لیویں کہ یہ تمام مخلوق بیکار پیدا نہیں کی گئی ہے، بلکہ نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
[1] یہ اشارہ اس جنگ کی طرف ہے جو اس زمانے میں روم اور ایران کی سلطنتوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ 614 عیسوی میں عیسائی رومیوں کو آتش پرست مجوسی ایرانیوں کے مقابلے میں زبردست شکست ہوئی۔ شام، مصر، ایشیائے کوچک وغیرہ کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور رومیوں کا دارسلطنت بھی خطرے میں پڑگیا۔ بیت المقدس سے عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین لے اڑے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ بظاہر کوئی صورت روم کے ابھرنے اور ایران کے تسلط سے نکلنے کی باقی نہ رہی۔ ایران کا مذہب کیونکہ مشرکین عرب سے ملتا جلتا تھا اور وہ لوگ بھی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے قدرتاً اہل مکہ ان کی فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
حل لغات :۔ بضع ۔ تین سے نو تک ہر عدد کو بضع کہتے ہیں ،
Read the full tafseer →4۔ یہ غلبہ چند برسوں میں حاصل کریں گے یعنی تین سال سے لیکرنو سال کے اندر اندر اللہ تعالیٰ ہی کو پہلے بھی اختیار ہے اور بعد اسی کے ہاتھ اختیار ہے اور اس دن مسلمان اس پیشین گوئی کے پورا ہونے سے بہت خوش ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 2۔ اس لئے یہ پیشنگوئی ضرور پوری ہوگی۔
Read the full tafseer →چند ہی سالوں میں رومی غالب آجائیں گے اور اس وقت مسلمانوں کو بھی خوشی ہوگی :
4۔ البضع من العدد ھو ما بین الواحد والعشرۃ البضع وہ عدد ہے جو ایک تا دس سال کی مدت پر بولا جاتا ہے گویا رومی اپنی شکست کے بعد دس سال کے اندر اندر غالب آجائیں گے اور بلاشبہ یہ مدت اس وقت کے لحاظ سے ان لڑائیوں کے پیش نظر جو اس وقت لڑی جاتی تھیں کوئی زیادہ نہیں تھی۔ گویا یہ اعلان اگر نبوت کے چھٹے سال ہوا تو نبوت کے پندرہویں ‘ سولہویں سال تک زیادہ سے زیادہ ۔ اس طرح کا اعلان اس وقت نہیں تو حالات کے بدل جانے کے بعد سے لوگوں کو یقینا تعجب میں ڈالے ہوئے ہے اور مخالفین انگشت بدنداں ہیں کہ اس کی حقیقت سے بہرحال انکار نہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّـهِ (And on that day the believers will rejoice with Allah's help - 30:4). The wording of the text apparently implies that "Allah's help" in this verse refers to His help for the people of Rum. Although they too were disbelievers, yet compared to others, their kufr was light. Therefore, their being helped by Allah Ta’ ala was not a far-fetched thing, especially when it was a matter of happiness for the Muslims.
The other possibility is that "Allah's help" in the above sentence means Allah's help for the Muslims, for which two explanations…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2 That is, "When the Iranians became victorious first, it did not mean that the Lord of the worlds, God forbid, had been humbled and when the Romans will gain victory afterwards, it will not mean that Allah's lost kingdom will be restored to Him. Sovereignty in any case belongs to AIIah. Allah gave victory to the side that became victorious first, and Allah will give victory to the side that will gain victory after wards. For no one in his Kingdom can achieve domination solely by his own power. He whom He raises, rises and he whom He causes to fall, falls."
Read the full tafseer →