30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 30:1–10

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی مغلوب ہوگئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

نزدیک کے ملک (علاقے) میں اور اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب وہ غالب آجائیں گے

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند ہی سالوں میں۔ پہلے بھی اور پیچھے بھی اللہ ہی کا حکم ہے۔ اور اس روز مومن خوش ہوجائیں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی مدد سے ۔ وہ جس کو چاہیں مدد دیتے ہیں ۔ اور وہ غالب (اور) مہربان ہیں

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں فرماتے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ لوگ صرف دنیا کی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے دلوں میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کسی حکمت ہی سے اور ایک معیاد معین کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ اور بیشک بہت سے آدمی اپنے پروردگار کے ملنے سے منکر ہیں 0

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں تو (جس میں) دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا۔ وہ ان سے قوت میں بھی بڑے ہوئے تھے اور انہوں نے زمین کو جوتا اور جتنا انہوں نے اس کو آباد کررکھا ہے اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا اور ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر نشانیاں (معجزات) لے کر آتے رہے۔ تو اللہ ایسے نہ تھے کہ ان پر زیادتی کرتے بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر ایسے لوگوں کا انجام جو برائی کرتے تھے براہی ہوا اس لئے کہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے چناچہ مشرکین کہنے لگے کہ اب یہ ممکن نہیں تو ارشاد ہوا کہ ایسا ضرور ہوگا اور اس روز مسلمانون کو بہت خوشی نصیب ہوگی اور واقعی مسلمانون کے لیے بہت خوشی کا موقع آیا۔ اول تو واقعی چند سالوں بعد رومیوں کو دوبارہ فتح نصیب ہوئی اور قرآن کریم کی پیش گوئی پوری ہو کر آپ ﷺ کے معجزہ کا اظہار ہوا دوسرے یپہ کہ عین انہی دنوں میں بدر کا معرکہ پیش آیا اور مسلمانوں کو بہت بڑی فتح نصیب ہوئی اور تیسرے یہ دونوں کافر طاقتیں تھیں بالآخر دونون نے مسلمانوں کے مقابل آنا تھا یہ بات بھی خوشی کی تھی کہ وہ آپس میں لڑ کر کمزور ہوں۔ کفار کا یہ خیال کہ اب رومی نہیں جیت سکتے ایسا ہی ہے جیسا کہ ان کے خیال میں مسلمان مقابلہ نہیں کرسکتے مگر یہ محض اسباب ظاہری کو دیکھ کر اندازے لگاتے ہیں حالانکہ یہ فتح اللہ کی مدد سے ہوگی اور وہ جس کی چاہے مدد کرے کہ اہل مکہ کے مقابل مسلمانوں کو فتح عطا کی جو بظاہر ممکن نظر نہ آتی تھی ایسے ہی فارس پر روم کو کہ وہ غالب ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ اللہ نے جب ارشاد فرمادیا تو اس کا فرمایا ضرور ہو کر رہتا ہے کہ خود اسے کرنا ہوتا ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن لوکون کی اکثریت اس حقیقت کو نہیں جان سکتی۔ بس صرف دنیا کے اسباب اور مال و دولت اور عیش و عشرت میں الجھ کر رہ گئے اور آخرت کو فراموش کر بیٹھے حالانکہ اللہ کا وعدہ ہے ضرور پورا ہوگا۔ کی ا انہوں نے کبھی غور و فکر نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ پیدا فرمایا ہے اس کے مسلسل پیدا ہونے اور خاص خصوصیات کے حامل ہونے اجزا کے ملنے اجسام کے بننے اور نظام عالم کے چلنے میں کس قدر صحیح ترین اندازے مقدار کے بھی اور اوقات کے مقرر کیے ہیں۔ کبھی کوئی اندازہ غلط نہیں ہوتا۔ سورج چاند بادل بارش ہوا نمو اور روئیدگی ہر شے اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہورہی ہے وہی عظیم خالق جب یہ سب کچھ دوبارہ بنا کر کھڑا کرنے کا وقت متعین کردے تو آخر ایسا کیون نہ ہوگا کہ لوگوں کی اکژریت قیام قیامت اور اللہ کی بارگاہ میں پیشی سے منکر ہو رہی ہے۔ اگر انہیں اپنے مال و دولت اور اقتدار و وقار کے نشہ نے اندھا کر رکھا ہے تو کیا یہ زمین پر سفر نہیں کرتے اور انہیں اپنے سے پہلے کفار کا انجام نظر نہیں آتا جو ان سے زیادہ مالدار اور طاقتور ہوا کرتے تھے اور ان لوگوں کی نسبت ان لوگوں کی حکومت و سلطنت زیادہ مضبوط تھی۔ پھر ان کے پاس اللہ کے رسول مبعوث ہوئے اور واضح دلائل پیش کیے مگر وہ نہ مان کر تباہ ہوگئے۔ اللہ نے ان پر زیادتی نہیں کی بلکہ خود انہوں نے کفر اختیار کر کے اپنے اوپر ظلم کیا لہذا ان کا انجام بھی ان کے کردار کی طرح بہت برا ہوا۔ اس لیے کہ ظالم نہ صرف انکار کرتے تھے بلکہ آیات الہی کا مزاق اڑاتے تھے۔
Ayahs 30:11–19

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا فرماتے ہیں پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا فرمائیں گے پھر تم ان کے پاس لائے جاؤ گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار ناامید ہوجائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور یہ لوگ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب آدمی جدا جدا ہوجائیں گے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے رہے تھے وہ لوگ تو باغ میں مسرور ہوں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا تو وہی لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو تو اللہ کی پاکی بیان کیا کرو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی حمد ہوتی ہے تمام آسمانوں اور زمین میں اور بعد زوال کے اور ظہر کے وقت

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ جاندار کو بےجان سے باہر لاتے ہیں اور بےجان کو جان دار سے باہر لاتے ہیں اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ فرماتے ہیں اور اسی طرح تم لوگ (بھی) نکالے جاؤ گے

آیات 11 تا 19 اسرارومعارف خالانکہ یہ ظاہر و باہر ہر شے کو اللہ پیدا فرماتے ہیں اور عدم سے وجود میں لاتے ہیں وہ یقینا اسے دوبارہ پیدا کریں گے اور اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر ہونا ہے آج انکار بھی کرتے ہیں تو کیا ہوا کل جب قیامت ہوجائے گی تو انہوں نے قیامت کی جو امیدین باندھ رکھی ہیں دم توڑ جائیں گی حتی کہ جن کو انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ ان کی سفارش تک نہ کرسکیں گے بلکہ ان سے ناامید ہو کر یہ خود انکا انکار کردیں گے کہ ہم نے انہیں کبھی شریک مانا ہی نہ تھا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ الگ الگ قسموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ نیک و بد مومن و کافر جدا جدا ہوں گے۔ سو جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کیے تو بہترین باغات میں ان کا استقبال اور مدارات ہوگی اور جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کی آیات کا انکار کیا نیز قیام قیامت کے منکر تھے وہ سب عزاب میں جمع کیے جائیں گے۔ ذکردوام : لہذا اس کامیابی کو پانے کے لیے یاد الہی کو دائمی طور پر اپنا لینا چاہیے کہ اسی کا ذکر کرتے ہوئے سو جاؤ اور رات گزارو جب اٹھو تو اسی کو یاد کرنے لگو اس لیے ساری کائنات میں صرف وہی ایک ذات ہے جس کے لیے سب تعریفیں ہیں لہذا نہ صرف صبح شام بلکہ دن ڈھلے اور رات کے ڈھلنے کے وقت بھی اسے یاد کرتے رہا کرو اور اس کی پاکی بیان کیا کرو اس میں سب نمازیں تسبیحات تلاوت اور سب نیک اعمال شامل ہیں نیز اصل مراد ذکر قلبی ہے تاکہ کوئی لمحہ غفلت نہ آئے۔ اس کی قدرت کے دلائل تو روشن ہیں کہ مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہے اور مادہ سے حیوان بناتا ہے ایسے ہی حیات سے بھرپور جسموں کو موت سے ہمکنار کردیتا ہے جس طرح سارا روئے زمین خشک ہو کر مردہ ہوجاتا ہے پھو اسکے انگ انگ سے حیات پھوٹنے لگتی ہے ایسے ہی تم لوگ بھی زندہ کیے جاؤ گے۔
Ayahs 30:20–27

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم مٹی سے پیدا فرمایا پھر اب تم انسان ہو کر جا بجا پھیل رہے ہو

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں (تصرفات) میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے بیبیاں پیدا فرمائیں تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تمہارے (میاں بیوی کے) درمیان محبت اور ہمدردی پیدا فرمائی۔ جو لوگ غور وفکر کرتے ہیں یقینا ان کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کا پیدافرمانا ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا الگ الگ ہونا ہے۔ بیشک اس میں دانشمندوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں سونا ، لیٹنا ہے اور اس کے فضل (روزی) کا تلاش کرنا۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم کو بجلی دکھاتے ہیں جس میں ڈر بھی ہوتا ہے اور امید بھی اور وہی آسمان سے پانی برساتے ہیں پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کردیتے ہیں۔ یقینا اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب ہم تم کو زمین میں سے (نکلنے کے لئے) آواز دیں گے تو تم جھٹ سے نکل پڑو گے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور جتنے آسمان اور زمین میں موجود ہیں ، سب اسی کے تابع ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو خلق کو اول بار پیدا فرماتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا اور وہ اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان اعلیٰ ہے اور وہ غالب ، حکمت والا ہے

آیات 20 تا 27 اسرارومعارف تخلیق انسانی : اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل انسانی کی بقا کا باعث ہو اور اس کام کو محض شرعی فریضہ ہی نہیں رکھا بلکہ تم میں محبت کے جذبات پیدا کردیے کہ میاں بیوی کی محبت ایک خاندان کی صرف تعمیر ہی نہیں کرتی سب کے لیے اللہ کی رحمت بھی ثابت ہوتی ہے اگر اس سارے نظام پر کوئی غور کرے تو اس میں اللہ کی عظمت کر بہت زیادہ دلائل ہیں۔ اس کی قسرت کاملہ کا اظہار آسمانوں اور اس میں بیشمار عجائبات زمین اور اس کے بیشمار کمالات کی تخلیق سے ظاہر ہے پھر ہر زمین کے باسی انسانوں کو الگ رنگت عطا کردی بولنے کا طریقہ الگ سکھا دیا اور سب ملکوں کے باسی ایک سی ضروریات رکھنے کے باوجود رنگت چہرے کے نقوش اور اظہار مطلب میں مختلف ہیں اگر صرف اس پہلو پر غور کیا جائے تو تمام جہانوں کے لیے اس میں بیشمار دلائل موجود ہیں۔ تمہارا راتوں کو بےسدھ سونا اور دنیا ومافیہا سے کٹ جانا کہ سوتے میں شاہ و گدا کا فرق بھی مٹ جائے اسی کی عظمت کی دلیل ہے ایسا ہی پھر سے جاگ اٹھنا اور معاملات دنیا میں مصروف ہوجانا بہت بڑی دلیل ہے جو لوگ بات سن کر اس پر غور کریں تو وہ یہ حقیقت جان سکتے ہیں۔ اسی طرح کڑکتی ہوئی بجلی اور گرجتے ہوئے بادل بھی تو اس کی قدرت کاملہ کے گواہ ہیں کہ جب امڈ کر آئیں تو انسان کا دل دہل جاتا ہے مگر اسی میں اسے رحمت کی بارش کی امید بھی ہوتی ہے۔ اور پھر اسی بادل سے پانی برسا کر مردہ زمین میں حیات پیدا کردیتا ہے اور رنگا رنگ زندگی لہریں لینے لگتی ہے اگر کسی کی عقل سلامت ہو تو اس کے لیے بہت بڑے دلائل ہیں یعنی ان حقائق پر غور و فکر کا نام ہی سائنس ہے اور اسی علم کو سمجھنا اور اس کے ذریعے سے عظمت باری کو پانا ہی عقلمندی ہے۔ اچھا تو یہ دیکھ کہ ان زمینوں اور آسمانوں کو اس قادر مطلق نے کیسے قائم کر رکھا ہے اور زمین پر کس قدر حیات ہے جو پھر مٹی میں ملتی چلی جارہی ہے تو جس قادر مطلق نے پہلے یہ سب نظام چلا رکھا ہے موت کے بعد بھی جیسے تمہیں پکارے گا تو تم زمین کے پیٹ سے نکل کر کھڑے ہوجاؤ گے۔ زمین وآسمان کے نظام کو محض اسباب کی کارکردگی نہ جانو بلکہ زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ بھی اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور سب اسی کی ملکیت ہیں اور سب کے سب وجود ہوں یا اسباب و ذرائع اس کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ وہ ہی ایک ذات ہے جو عدم سے مخلوق کو وجود میں لاتا ہے کچھ بھی نہیں ہوتا تو وہ پید افرما دیتا ہے۔ وہی ذات دوبارہ پھر پیدا کر دے گا اور یہ سب کچھ اس کی ذات کے لیے بالکل آسان ہے۔ اور اس کا مثل کوئی نہیں۔ زمین اور آسمانوں میں اس کی شان بیحد بلند ہے اور وہ ہر شے پہ غالب ہے اور بہت حکمت والا ہے۔
Ayahs 30:28–40

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

(اللہ) تمہارے ہی حالات میں سے تمہارے لئے ایک مثال بیان فرماتے ہیں ۔ کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی شخص اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ہے شریک ہے کہ تم اور وہ اس میں برابر ہوں جن کا تم اس قدر خیال کرو جیسا اپنے آپس کا خیال کرتے ہو ہم اسی طرح عقل والوں کے لئے صاف صاف دلائل بیان فرماتے ہیں

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ ظالموں نے بنا دلیل اپنے خیالات کا اتباع کررکھا ہے۔ جس کو اللہ گمراہ کرے تو اس کو کون راہ پر لائے اور ان (ظالموں) کا کوئی مددگار نہیں ہے

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تو تم ایک طرف کے (یکسو) ہو کر دین پر سیدھا رخ کیے چلے جاؤ۔ اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اختیار کیے رہو) ۔ اللہ کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تبدیلی نہیں ہوتی (یعنی نہ کرنا چاہیے) یہی سیدھا دین ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

اسی کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں میں سے مت ہونا (کسی طرح کا شرک مت کرو)

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور وہ گروہ گروہ ہوگئے ہر گروہ اپنے اس طریقہ پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع ہوتے ہوئے پکارتے ہیں پھر جب وہ ان کو اپنی طرف سے عنایت (کا مزہ) چکھا دیتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں سو (چند روز) فائدہ اٹھا لو پھر تم کو جلدی معلوم ہوجائے گا

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل نازل فرمائی ہے کہ وہ ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے ؟

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت (کا مزہ) چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں ۔ اور اگر ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں ان کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ ناامید ہو کر رہ جاتے ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے یہ کہ اللہ جس کے لئے چاہتے ہی رزق فراخ فرمادیتے ہیں اور (جس کے لئے چاہیں) کم کردیتے ہیں۔ بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے (بہت) نشانیاں ہیں

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس قرابت دار کو اس کا حق دیا کرو اور مسکین اور مسافر کو بھی۔ یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو چیز تم سود پر (اس غرض سے) دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجائے تو اللہ کے نزدیک (اس میں) بڑھوتری نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اللہ کی رضامندی طلب کرتے ہوئے تو ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند ، سہ چند کرنے والے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تم کو پیدا فرمایا پھر تم کو رزق عطا فرمایا پھر تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے وہ (اللہ) پاک ہے اور ان کے شرک بالاتر ہے

آیات 28 تا 40 اسرارو معارف اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ ہوچکا ہوتا۔ اسی طرح سے دلائل بہت واضح بیان کیے جاتے ہیں مگر بات عقلمندوں کی سمجھ میں آسکتی ہے جبکہ ان ظالموں کی عقل بھی خواہشات نفس کی پیروی کے باعث کام نہیں کرتی اور یہ بغیر کسی عملی اور عقلی دلیل کے محض خواہشات کے اسیر ہیں۔ اور جب کسی کی برائی اس حد تک پہنچ جائے کہ اللہ ناراض ہو کر اسے گمراہی پہ لگا دیں تو پھر اسے کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا اور کوئی باس کی مدد کرنے والا بھی نہیں ہوسکتا تو اے مخاطب تو اپنا رخ درست رکھ اور ہر طرف سے یکسو ہو کر دین اسلام کو اختیار کرلے۔ دین فطرت : کہ یہی دین حق عین انسانی فطرت پر ہے وہ مزاج اور فطرت جو مسخ نہ ہوا ہو اسلام اس کے عین مطابق ہے کہ انسان فطرۃ کسی غلامی پسند نہیں کرتا اور اسلام اسی کا حکم دیتا ہے کہ ہر انسان صرف اللہ کا بندہ ہے بندوں کا نہیں ہر انسان جان مال آبرو کا تحفظ چاہتا ہے جو سب سے بہتر اور اعلی طریقے سے اسلام عطا کرتا ہے غرض ہر کام میں اور عقیدے عمل اخلاق ہر اعتبار سے اسلام ہی انسانی مزاج کے عین مطابق ہے کہ اللہ ہر ایک کو وہی انسانی فطرت عطا کرتا ہے کسی کی فطرت تبدیل نہیں کرتا ہاں وہ کود اگر بےدین اور بدکار محفل و کردار اپنا کر اسے دھندلانہ دے اسی لیے علماء حق کا قول ہے کہ صحبت بد سے اجتناب فرض ہے اور فطری استعداد کی حفاظت کرنا فرض ہے اسلام بلکل سیدھا راستی ہے لیکن لوگوں کی اکثریت جو اپنی فطری انسانی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرچکے ہیں اس حققت کو بھی سمجھ نہیں پاتے۔ لہذا ہمیشہ اپنی ساری امیدیں اللہ سے وابستہ رکھو اور اس کی اطاعت و عبادت میں کوتاہی نہ کرو کبھی شرک مت کرو جیسا کہ لوگوں نے شرک کر کے دین میں پھوٹ ڈالی اور بہت سے گمراہ فرقے ہوگئے۔ لفظ شیعہ : لفظ شیعہ یہ ان بھی گمراہ فرقے پر بولا گیا ہے ہر فرقی اپنی گمراہی پر خوش ہے اور خود کو حق پر سمجھ رہا ہے حالانکہ حق تو اللہ واحد کی اطاعت اور صرف اسی کی عبادت میں تھا جسے چھوڑ کر انہیوں نے بندوں کی رائے مان لی اور دین میں ختلاف کر کے الگ ہوگئے س بات سے پتہ چل جاتا ہے کہ فظرت انسانی کیا ہے کہ جب کسی انسان پر ایسی مصیبت پڑے کہ وہ سب آسروں سے ناامید ہوجائے تو پھر نہایت خلوص سے صرف اللہ کو پکارتا ہے یعنی اپنی فطرت کی طرف پلٹتا ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ اس کی مصیبت دور فرما دیتا ہے اس کے باوجود کچھ لوگ اس کے بعد بھی شرک کرنے لگتے ہیں۔ اور میرے احسانات کا تو انکار کرنے لگتے ہیں مگر میری ہی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور کھاتے پیتے عیش کرتے ہیں لیکن بہت جلد انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوجائے گا کیا اللہ نے ان پر کوئی ایسی نشانی یا کتاب نازل کردی جو انہیں شرک کرنے کا حکم دے رہی ہے ہرگز نہیں پہلے یہ ثابت ہوا کہ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل بھی نہیں کہ انتہائے مصیبت میں پھر سب چھوڑ کر اللہ ہی کو پکارتے ہیں اب یہ ارشاد ہوا کہ شرک پر کوئی نقلی دلیل بھی تو نہیں۔ بلکہ ان لوگوں کا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو بہت خوش ہوتے ہیں اور پھولے نہیں سماتے مگر جب ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آجائے تو بالکل ناامید ہونے لگتے ہیں یعنی انہیں دکھ سکھ کسی حال میں اللہ سے تعلق نصیب نہیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ جسے چاہے بیشمار نعمتیں عطا کردیتا ہے اور جسے چاہے اس پر تنگی بھیج دیتا ہے یہ سب اس کی اپنی حکمت کے تابع ہے اور جن کو ایمان نصیب ہوتا ہے اس کے لیے اس میں بہت نڑی نشانیاں ہیں۔ بلکہ جب مال اور فرخی نصیب ہوتی ہے تو وہ مال صرف اس کا نہیں اس میں اللہ نے بہت سے لوگوں کا حق رکھا ہے جیسے قرابت داروں کا اور مساکین کا نیز مسافر کا بھی زکوۃ کی صورت میں اور کبھی صدقہ نفل کی صورت میں یا احسان و تبرخ کی صورت میں اور جن لوگوں کا مقصد اللہ کریم کی رضا ہے ان کے لیے یہ بہت بہتر ہے کہ دنیا کی نعمتیں اس کی رضا کی خاطر قربان کرتے ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور اگر کسی عزیز یا دوست کو مول اس نیت پر دیا جائے کہ کل یہ اس سے زیادہ مجھے دے گا جیسے عموما شادی بیاہ یا کسی کی وفات وغیرہ پہ لوگ کرتے ہیں جو بظاہر تو احسان کر کے کرتے ہیں مگر نیت کل اس سے زیادہ وصول کی ہوتی ہے تو اگرچہ دنیا میں انہیں زیادہ مل بھی جائے اللہ کے نزدیک وہ یا اس کا ثواب و اجر نہیں بڑھتا بلکہ صرف وہ مال جو صرف اللہ کی رضا مندی کے لیے دیا جاتا ہے وہی بڑھتا رہتا ہے اور اس کے اجر میں زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ اللہ تو وہ ذات ہے جو تمہارا خالق ہے جو تم کو پیدا کرتا ہے اور جب تک دنیا میں رکھتا ہے تمہیں رزق عطا کرتا ہے پھر تم کو موت سے ہمکنار کرتا ہے اور موت کے بعد پھر تمہین زندہ کرے گا کیا تمہارے یہ معبودان باطلہ جن کو تم اللہ کا شریک سمجھتے ہو ایسا کرسکتے ہیں ہرگز نہیں بلکہ اللہ تمہارے ان مشرکانہ خیالات سے پاک اور بہت بلند ہے۔