Ayahs 30:1–4غلبہ روم کی عظیم پیشگوئی :
1، 2، 3، 4: الٓمٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (قریب ترین زمین میں رومی مغلوب ہوگئے) ۔ وَھُمْ مِّنْ 0 بَعْدِ غَلَبِھِمْ سیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ (اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ چند سال میں) الٓمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (یعنی فارس نے روم پر غلبہ پالیا) ۔ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ (یعنی عرب کے قریب ترین علاقہ میں) الارض میں الف لام عہد کا ہے اور مراد اس سے سرزمین عرب ہے مطلب یہ ہے کہ رومی سرزمین کے قریبی علاقہ شام میں مغلوب ہوگئے ہیں نمبر 2۔ ارض سے رومیوں کی زمین مراد ہو۔ اس صورت میں الف لام مضاف الیہ کے قائم مقام ہوگا یعنی ان کا وہ علاقہ جو دشمن کے قریب تر ہے۔ ہم کی ضمیر الروم کی طرف راجع ہے۔ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ (وہ مغلوب ہونے کے بعد ) ۔
قراءت : الغَلْبُ ، الغَلَبُ لام کے سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ دونوں مصدر ہیں جن کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ سَیَغْلِبُوْنَ (وہ فارس پر غلبہ پائیں گے) اس پر وقف نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ فی بضع سنین کا تعلق اس کے ساتھ ثابت ہو۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ بضع کا لفظ تین سے دس تک بولا جاتا ہے۔
ایک قول :
روم وفارس کی جنگ اذرعات و بصریٰ کے درمیان پیش آئی جس میں فارس کو روم پر برتری حاصل ہوگئی۔ فارس کا حکمران کسریٰ پرویز تھا۔ یہ اطلاعات مکہ پہنچیں۔ رسول اللہ اور مؤمنوں پر یہ بات گراں گزری کیونکہ اہل فارس مجوسی تھے جن کی کوئی کتاب نہ تھی اور رومی اہل کتاب تھے مشرکین نے اس پر خوشیاں منائیں اور مسلمانوں پر آوازیں کستے ہوئے کہنے لگے تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی اَن پڑھ ہیں۔ ہمارے دوست تمہارے دوستوں پر غالب آگئے۔ ہم بھی تم پر یونہی غالب رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری۔ ابوبکر ؓ نے کفار کو کہا اللہ تعالیٰ کی قسم ضرور رومی چند سالوں میں فارسیوں پر غالب آئیں گے۔ ابی بن خلف نے یہ بات سنکر کہا تم جھوٹ بولتے ہو ابوبکر صدیق نے اس سے تین سال کی شرط پر دس اونٹیاں طے کرلیں۔ ابوبکر صدیق ؓ نے رسول ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا بضع کی بعید ترین مدت مقرر کرلو اور انعام میں بھی اضافہ کرو۔ چناچہ نوسال کی مدت پر ایک سو اونٹنیاں طے پاگئیں۔ ابی بن خلف تو بدر میں آنحضرت ﷺ کے زخم سے مرگیا۔
حدیبیہ یا بدر کے دن رومیوں کو فارسیوں پر غلبہ حاصل ہوا۔ ابوبکر ؓ نے مقررہ شرط کے مطابق ابی بن خلف کی اولاد سے شرط کا معاوضہ وصول کیا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو صدقہ کردینے کا حکم فرمایا۔ ] ترمذی[ یہ آیت آنحضرت ﷺ کی نبوت پر واضح دلیل ہے اور قرآن مجید کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ یہ علم غیب کی اطلاعات ہیں۔ یہ موقعہ وہ تھا جب کہ قمار حرام نہ ہوا تھا۔
قولِ قتادہ (رح) :
اور مذہب امام ابی حنیفہ اور محمد رحمہما اللہ یہ ہے کہ دارا لحرب میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان عقود فاسدہ درست ہیں انہوں نے اسی واقعہ سے دلیل اخذ کی ہے۔
لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ 0 بَعْدُ (پہلے ‘ پیچھے اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہے) یعنی ہر چیز سے پہلے اور ہر چیز کے بعد یا جب وہ غالب ہوتے اور جب مغلوب ہوتے ہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا ان کے غالب ہونے سے پہلے (وہ ان کے مغلوب ہونے کا وقت) اور ان کے مغلوب ہونے کے بعد ( وہ ان کے غالب ہونے کا وقت) یعنی ان کا پہلے مغلوب اور پھر غالب ہونا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم و تقدیر سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا وتلک الایام نداولھا بین الناس ] آل عمران : 140[ وَیَوْمَپذٍ (اور اس دن) اور جس دن روم کو فارس پر غلبہ ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ غلبے کی صورت میں پورا ہوگا۔ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (مؤمن خوش ہونگے)
Ayah 30:55: بِنَصرِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی مدد سے) اور اس کے اہل کتاب کو غیر اہل کتاب پر غلبہ دینے اور کفار مکہ جو آج کتاب والوں کی ناکامی پر خوش ہو رہے ہیں ان کو ناکامی کا غصہ دلانے سے۔
ایک قول :
اللہ تعالیٰ کی نصرت یہ ہے کہ ایمان والوں کی زبانی مشرکین مکہ کو پہنچائی گئی غلبہ روم کی خبر کو سچا کر کے دکھادیا۔ بؔ یفرحؔ سے متصل ہے اسی لئے اللہ ؔ پر وقف ہوگا نہ کہ المؤمنون بنصر اللہ پر۔ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآ ئُ وَھُوَ الْعَزِیْزُ (وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست ہے) وہ اپنے دشمنوں پر غالب ہے۔ الرَّحِیْمُ (رحمت والا ہے) اور اپنے دوستوں پر مہربان ہے۔
Ayah 30:66: وَعْدَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ کیا ہے) یہ مصدر مؤکد ہے کیونکہ وھم من بعد غلبھم سیغلبون وعد من اللہ للمؤمنین یعنی یہ آیت اللہ کے مؤمنین سے وعدہ پر دلالت کر رہی ہے۔ پس وعد اللہ یہ بمنزلہ وعداللہ المؤمنین وعدًا کے ہے۔
لَایُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (اللہ تعالیٰ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں فرماتے) عہد سے مراد روم کو فارس پر غلبہ دینا ہے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں) اس بات کو۔
Ayah 30:77: یَعْلَمُوْنَ (وہ جانتے ہیں)
نحو : یہ لایعلمون کا بدل ہے۔
فائدہ : اس میں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ کہ ایسا علم جو محض جہل ہو اس کا ہونا اور نہ ہونا برا بر ہے اور جو علم دنیا سے آگے نہ بڑھے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔
ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیا کی زندگی کے ظاہر کو )
مسئلہ : دنیا کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے دنیا کا ظاہر وہی جو جہلاء کی نگاہوں میں ہے یعنی اس کی زیبائش پر مرے جانا اور اس کا باطن یہ ہے کہ آخرت کی گزرگاہ ہے یہاں سے آخرت کیلئے اعمال صالحہ کا زاد راہ لیا جاتا ہے۔ آیت میں ظاہرؔ کے لفظ کو نکرہ لا کر اشارہ کردیا کہ یہ لوگ دنیا کے من جملہ مظاہر میں سے ایک مظہر کو صرف جانتے ہیں۔ وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ (اور وہ آخرت سے بالکل غافل ہیں)
نحو : دوسرا ھمؔ مبتدأ اور غافلون اس کی خبر ہے۔ اور یہ مکمل جملہ پہلے ھمؔ کی خبر ہے۔
فائدہ : اس میں وضاحت فرمائی کہ وہ غفلت کا اس قدر شکار ہیں گویا غفلت کا مرکز اور اس کی جائے قرار ہیں۔
Ayah 30:8دِل کی حکمتوں پر غور :
8: اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ (کیا وہ اپنے نفسوں کے متعلق نہیں سوچتے) نمبر 1۔ اس کے ظرف ہونے کا احتمال ہے گویا اس طرح کہا گیا : اولم یثبتوا التفکر فی انفسہم یعنی کیا وہ اپنے نفوس میں تفکر کو قائم نہیں کرتے وہ دل جو کہ فکر سے فارغ ہیں حالانکہ تفکر کا تو مقام ہی دل ہے لیکن اس میں سوچنے والوں کی حالت کی مزید تصویر کشی فرمائی گئی جیسا کہتے ہیں اعتقدہ فی قلبک میں تمہارے دل میں اس کا اعتقاد کرتا ہوں حالانکہ اعتقاد کا تو محل ہی دل ہے۔
نمبر 2۔ تفکر کا صلہ ہے جیسا کہتے ہیں تفکر فی الامر واجال فیہ فکرہ۔ اس نے معاملے کو سوچا اور اپنی فکر اس میں دوڑائی۔ اس کے مطابق آیت کا معنی یہ ہے۔ کیا انہوں نے اپنے ان دلوں میں سوچا نہیں جو دل ان کے اس مخلوق سے قریب تر ہیں اور وہ ان کے احوال کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہے پس ان کو چاہیئے کہ جو ظاہری و باطنی عجیب و غریب حکمتیں اس دل میں ودیعت کر رکھی ہیں ان پر غور کریں۔ اس لئے کہ وہ تدبیر پر دلالت کرنے والی ہیں بےتوجہی ان سے مناسب نہیں اور ضروری ہے کہ اس کی انتہاء ایک ایسے وقت پر ہو جس میں احسان کا بدلہ احسان سے دیا جائے۔ اور برائی کا بدلہ اسی جیسا ملے تاکہ اس وقت تمام مخلوق کو معلوم ہوجائے کہ تمام مخلوق کا معاملہ محض حکمت و تدبیر سے چل رہا ہے اور اس کا ایک آخری وقت ہونا چاہیے۔ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ (اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور ان کی درمیانی کائنات کو برحق ہی پیدا کیا ہے) یہ قول محذوف کا متعلق ہے اس کا معنی یہ ہے اولم یتفکروا فیقولوا ھذا القول کیا وہ سوچتے نہیں کہ وہ یہ بات کہتے ہیں۔
ایک قول یہ ہے کہ وہ سوچتے نہیں اگر وہ سوچتے تو جان لیتے کیونکہ کلام میں اس کی دلیل موجود ہے۔
حکمت بالغہ بنایا :
اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّّسَمًّی (مگر حق کے ساتھ اور ایک وقت مقررہ کے ساتھ) یعنی ان کو باطل اور عبث نہیں بلکہ حکمت بالغہ کے ساتھ بنایا ہے اور ان کو ہمیشہ باقی رہنے کیلئے بھی نہیں بنایا۔ بلاشبہ ان کو حق کے ساتھ حکمت سے پُر بنایا اور ایک مقررہ اندازہ سے پیدا کیا اس کا اختتام ضروری ہے۔ اور اسی کا نام قیام قیامت اور وقت حساب اور ثواب و عقاب کی گھڑی ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو غور سے دیکھو افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون کیا تم نے گمان کرلیا کہ ہم نے تمہیں بےکاربنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جائوگے کس طرح ان کے بغیر لوٹانے کے یونہی چھوڑ دینے کو عبث فرمایا ؟
وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآ یِٔ رَبِّھِمْ (اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات) لقاء سے بعث و جزاء مراد ہے۔ لکافرون (کے انکاری ہیں) ضد سے نہیں مانتے۔
Ayah 30:9قولِ زجاج :
اپنے رب کی ملاقات سے انکاری ہیں۔
9: اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ (کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کس طرح ان لوگوں) عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (کا انجام ہوا جو ان سے پہلے ہوئے) یہ استفہام تقریری ہے کہ وہ شہروں میں چلے پھرے ہیں اور انہوں نے عادو ثمود وغیرہ سرکش اقوام کے تباہ شدہ مقامات دیکھے ہیں۔ پھر ان اقوام کی تھوڑی حالت ذکر فرمائی کَانُوْا اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً (وہ ان سے طاقت میں زیادہ تھے) ۔ وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ (انہوں نے زمین کو آباد کیا) زمین میں کھیتی باڑی کی۔ وَعَمَرُوْھَآ (اور اس کو آباد کیا) ان تباہ ہونے والوں نے اَکْثَرَ (ان سے زیادہ)
نحو : یہ مصدر محذوف کی صفت ہے مما عمرو ھا کا مامصدریہ ہے۔
مِمَّا عَمَرُوْھَا (اہل مکہ کے تعمیر کرنے سے) وَجَآ ئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (اور ان کے رسول ان کے پاس دلائل لائے) یہاں وقف کیا جائے گا کیونکہ حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے فلم یؤمنوا فاھلکوا ان کے رسول ان کے پاس دلائل لاتے پس وہ ایمان نہ لائے تو ہلاک کردیے گئے۔
فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ (اللہ تعالیٰ ایسے تو نہیں کہ ان پر ظلم کریں) ان کی ہلاکت ظلماً نہ تھی۔ وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (لیکن وہ اپنے نفوس پر ظلم کرنے والے تھے) اس طرح کہ وہی اعمال کرنے لگے جو ان کی ہلاکت کا باعث بنے۔
Ayah 30:1010: ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ اَسَآ ئُ وا السُّوْآٰ ی (پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے بدی کی تھی بہت برا ہوا) ۔
قراءت : عاقبۃ کو شامی و کوفی قراء نے منصوب پڑھا ہے۔
السُوآی یہ اسوأ کی تانیث ہے اور اس کا معنی قبیح ترین جیسا کہ حسنیٰ احسن کی تانیث ہے۔
نحو : کان کا اسم ہونے کی وجہ سے یہ مرفوع ہے۔ یہ ان کے نزدیک ہے جنہوں نے عاقبۃ کو خبرؔ کی وجہ سے نصب دیا ہے۔ نمبر 2۔ جنہوں نے عاقبۃُ کا رفع پڑھا انہوں نے اس کو محلاً منصوب قرار دیا ہے۔ معنی یہ ہے دنیا میں ان کا نتیجہ تباہی ہوا پھر ان کا انجام بہت ہی برا ہے۔ یہاں ضمیر کی بجائے اسم ظاہر الذین اسائو واؔ کو لائے۔ مطلب اس طرح ہے وہ سزا جو کہ بدترین سزا آخرت میں دی جانے والی ہے وہ وہی آگ ہے جو کفار کیلئے تیار کی گئی۔ اَنْ کَذَّبُوْا (اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا)
نحو : اس سے پہلے لام تعلیلیہ ہے۔ لانؔ نمبر 2۔ بانؔ سببیہ ہے۔ اس صورت میں اسائو وا کا معنی کفرواؔ ہوگا۔
بِاٰٰیٰتِ اللّٰہِ وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَہْزِئُ وْنَ (اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ اور وہ ان معجزات کا مذاق اڑانے والے تھے) یعنی پھر کفار کا انجام آگ ہوگا اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔
Ayah 30:111 1: اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ (اللہ تعالیٰ ہی نے مخلوق کو اول مرتبہ پیدا کیا) ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (پھر وہی ان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کریں گے) ۔ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (پھر اسی ہی کی طرف تمہاری واپسی ہوگی)
Ayah 30:12قراءت : ابو عمرو اور سہل نے یرجعون یاء سے پڑھا ہے۔
12: وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُبْلِسُ (اور جب قیامت قائم ہوگی ناامید ہوں گے) مایوس و حیران ہونگے عرب کہتے ہیں ناظرتہ فابلس جبکہ بول نہ سکے اور دلیل پیش کرنے سے مایوس ہوجائے۔ الْمُجْرِمُوْنَ (مجرم) یعنی مشرکین۔
Ayah 30:1313: وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ مِّنْ شُرَکَآ ئِ ھِمْ (اور ان کے شرکاء میں سے کوئی بھی نہ ہوگا) ان میں سے جن کی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سواء عبادت کی ہوگی اور ان کو سفارشی فرض کیا۔ شُفَعٰٓؤُا (سفارشی) کتابت ِقرآن میں یہ لفظ الف سے قبل وائو سے ہی لکھا جائے گا۔ جیسا کہ علمؤا بنی اسرائیل لکھا جاتا ہے۔ السوأی کا لفظ بھی یاء سے قبل الف کے ساتھ اس ہمزہ کو قائم رکھتے ہوئے اس حرف کی صورت میں جس سے اس کی حرکت ہے۔
وَکَانُوْا بِشُرَکَاپھِمْ کٰفِرِیْنَ (وہ اپنے شرکاء کے انکاری ہوجائیں گے) نمبر 1۔ وہ اپنے شرکاء کا شدت و قوت سے انکار کردیں گے۔ نمبر 2۔ دنیا میں وہ ان شرکاء کی وجہ سے کافر بنے۔
Ayah 30:1414: وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّا عَۃُ یَوْمَپذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ (اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن وہ سب منتشر ہوجائیں گے )
نحو : یتفرقون کی ضمیر کا مرجع مومن و کافر سب ہیں۔ اسلئے کہ مابعد اس پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 30:15مومن کا اکرام ہوگا :
15: فَاَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ فَہُمْ (پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے وہ باغات) فِیْ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوْْنَ (میں مزے لے رہے ہونگے) روضۃ باغ کو کہتے ہیں اس کو نکرہ لائے کیونکہ اس کا معاملہ مبہم ہے اور تنوین تفخیم شان کیلئے ہے یحبرون اتنا خوش ہونا جس سے چہرہ ٹمٹمانے لگے اور خوشی کا اثرچہرے پر نظر آئے۔ پھر اس میں اختلاف ہے کیونکہ خوشی کی وجوہ بہت ہیں۔ نمبر 1۔ ان کا اکرام کیا جائے گا۔ نمبر 2۔ زیور پہنائے جانا۔ نمبر 3۔ جنت میں سریلی آواز کا سننا۔
Ayah 30:1616: وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا وَلِقَآ یِٔ الْاٰخِرَۃِ (اور پھر وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا) لقایٔ الآخرۃ سے بعث بعد الموت مراد ہے۔ فَاُولٰٓپکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ (وہ لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے) اقامت پذیر ہونگے اور اس سے غائب نہ ہونگے اور نہ ان سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : وما ھم بخارجین منھا ] المائدہ : 37[
Ayah 30:17پانچوں نمازیں :
( علیہ السلام) 17: جب وعدے اور وعید کا ذکر کیا تو اس کے بعد ایسی چیز ذکر کی جو وعدے تک پہنچانے والی اور وعید سے محفوظ کرنے والی تھی۔ پس فرمایا۔ فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ (پس تم اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرو) اس سے مراد ظاہری تسبیح ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کو عیب سے پاک قرار دینا ہے اور ان اوقات میں ان کی خیر سے تعریف کرنا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ظاہری نعمتوں کی تجدید ہوتی ہے۔ نمبر 2۔ نماز مراد ہے۔ ابن عباس ؓ سے سوال کیا گیا کیا پانچ نمازیں قرآن سے ثابت ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں اور یہ آیت تلاوت فرمائی یہ مصدر ہونے کی بناء پر منصوب ہے مطلب یہ ہے اس چیز سے پاک قرار دو جو اس کی ذات کے مناسب نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر نماز پڑھو۔ حِیْنَ تُمْسُوْنَ (جب تم شام کرتے ہو) اس میں نماز مغرب و عشاء آگئیں۔ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (جب تم صبح کرتے ہو) اس میں نماز فجر آئی۔
Ayah 30:1818: وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اسی ہی کیلئے تعریف آسمانوں اور زمین میں ہے) یہ جملہ معترضہ ہے سمجھدارلوگ جو آسمان و زمین میں ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا چاہیے۔
نحو : فی السٰموٰت یہ الحمد سے حال ہے۔
وَعَشِیًّا (اور پچھلے پہر) ۔ اس میں صلاۃ العصر آگئی۔
نحو : اس کا عطف حین تمسون پر ہے۔ وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ (اور جب تم دوپہر کرتے ہو) اس میں صلاۃ الظھر آگئی۔ عرب کا محاورہ ہے۔ اظھر ای دخل فی وقت الظہر۔ وہ وقت ظہر میں داخل ہوا۔ اکثر مفسرین کا قول یہ ہے پانچوں نمازیں مکہ میں فرض ہوئیں۔
Ayah 30:1919: یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ (وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے) پرندہ انڈے سے یا انسان نطفہ سے یا مومن سے کافر۔ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ( اور میت کو زندہ سے نکالتا ہے) انڈہ پرندے سے یا انسان سے نطفہ یا مومن سے کافر۔
قراءت : المیّتُ میں المیْت دونوں مقام پر مکی وشامی، ابو عمرو، ابوبکر، حماد نے تخفیف سے پڑھا ہے۔ اور دیگر نے تشدید سے۔
وَیُحْیِ الْاَرْضَ (اور وہ زمین کو زندہ کرتا ہے) ۔ نباتات کے ذریعہ اس کے مرجانے کے بعد بَعْدَ مَوْتِھَا (مردہ ہونے کے بعد) زمین کے مرجانے سے خشک ہونا مراد ہے۔ وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ (اور اسی طرح تمہیں نکالا جائے گا) ۔
قراءت : حمزہ، علی، خلف نے تَخرُجُوْن پڑھا ہے۔ یعنی اس نکالنے کی طرح تم اپنی قبور سے نکلو گے۔
ان آیات کا عظیم ثواب :
کذلک کی کاف محل نصب ہے اور تخرجون اس کا عامل ہے مطلب یہ ہے ابداء اور اعادہ اس کی قدرت میں برابر ہیں۔ جو کہ مردہ کو زندہ اور زندہ کو مردہ سے نکالنے پر قدرت رکھتا ہے۔ روایت ابن عباس ؓ : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس نے سبحان اللہ حین تمسون۔ تین مرتبہ اور سورة صافات کی آخری آیات ہر فرض نماز کے بعد پڑھیں آسمان کے ستاروں کے عدد کی مناسبت سے اور بارش کے قطرات کی گنتی کے مطابق اور اسی طرح درختوں کے پتے اور ریت کے ذرات کے مطابق نیکیاں ملیں گی۔ اور جب وہ مرجائے گا تو ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں اس کی قبر میں حاصل ہونگی اور انہی سے رسول ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا جس نے صبح کے اوقات میں سبحان اللّٰہ حین تمسون و حین تصبحون سے الی قولہ وکذلک تخرجون پڑھا۔ اس کو وہ سب کچھ مل جائے گا جو اس سے اس دن میں رہ گیا اور جس نے شام کے وقت پڑھ لیا، اس نے رات میں فوت شدہ وظیفہ کا ثواب پالیا۔ ] رواہ ابو دائود : 5076[
Ayah 30:20دلائل قدرت ‘ انسانی تخلیق :
20: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ (اور اس کی ربوبیت اور قدرت کی علامات میں سے ہے) ۔ اَنْ خَلَقَکُمْ (تمہارا پیدا کرنا ہے) ۔ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ (مٹی سے پھر کچھ مدت کے بعد تم آدمی بن کر) کم سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد مراد ہے۔ تَنْتَشِرُوْنَ (تم پھیلے پھرتے ہو) تم ان چیزوں میں تصرف کرتے ہو جن میں تمہارا سامان معیشت ہے۔
مسئلہ : اذا مفاجات کیلئے ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ثم فاجاتم وقت کو نکم بشرا منتشرین فی الارض پھر اچانک تمہارے بشر بن جانے پر تم زمین میں پھیلے پھرتے ہو۔
Ayah 30:21ازواج کا پیدا کرنا :
21: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْآ اِلَیْھَا (اور اس کے نشا نہائے قدرت میں سے یہ ہے کہ تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تمہیں ان کے پاس آرام ملے) یعنی حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور ان کے بعد عورتوں کو مردوں کی صلب سے پیدا فرمایا۔ یہ من ابتدائیہ ہے یا تمہاری ہم شکل اور ہم جنس کسی اور جنس سے نہیں اس صورت میں من بیانیہؔ ہے کیونکہ دونوں ایک جنس ہوں تو الفت و سکون ہوتا ہے۔ اور دو مختلف جنسیں ہوں تو نفرت ِعرب کہتے ہیں سکن الیہ ای مال الیہ۔ وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَ دَّۃً وَّ رَحْمَۃً (اور تمہارے مابین دوستی اور مہربانی بنادی) ازواجی تعلق سے باہمی محبت و رحمت پیدا کردیا۔
قولِ حسن (رح) :
المودۃ یہ جماع سے کنایہ ہے۔ اور رحمت سے مراد اولاد ہے۔ ایک قول یہ ہے مودت کا لفظ جو ان کے لئے استعمال ہو اور رحمت کا لفظ بوڑھی کیلئے۔ اور ایک قول یہ ہے مودت و رحمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور تفرق شیطان کی طرف سے یعنی بغض جو میاں بیوی کے درمیان ہو اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (اس میں البتہ نشانیاں ہیں سوچ وبچار والی قوم کیلئے) پس وہ جانتے ہیں کہ دنیا کا قیام وبقاء تناسل کے سبب سے ہے۔
Ayah 30:22تخلیق ارض و سماء ‘ اختلاف رنگ :
22: وَمِنْ ٰایَاتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کی پیدائش) وَ اخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ (اور تمہاری بولیوں کا مختلف ہونا ہے) نمبر 1 : السنہ سے مراد لغات کا مختلف ہونا، نمبر 2۔ بولنے کے طریقوں اور آوازوں کی کیفیتوں کا مختلف ہونا۔ وَاَلْوَانِکُمْ (اور تمہارے رنگوں کا) سیاہ، سفید وغیرہ۔ اور اسی اختلاف سے تعارف و پہچان پیدا ہوئی ورنہ اگر انسان باہمی ہم شکل اور ایک طرح کے ہوتے تو التباس اور تجاہل پیدا ہوتا اور مصلحتیں معطل ہو کر رہ جاتیں۔ اس میں واضح علامت قدرت ہے۔ ایک باپ اور ماں سے پیدا ہوئے اور ان کی کثرت تعداد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا مگر تمام میں باہمی فرق پایا جاتا ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ (بلاشبہ اس میں بڑی نشانیاں ہیں جاننے والوں کیلئے) عالمین یہ عالِمٌ کی جمع ہے۔
قراءت : حفص نے عالمیْن کسرہ سے عالم کی جمع اور کسرہ کیلئے یہ آیت شاہ ہے وَمَا یعقلھا الا العالمون ] العنکبوت : 43[
Ayah 30:23رات کی نیند :
23: وَمِِنْ ٰایٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ اور اس کے نشانہائے قدرت میں سے تمہارا یہ رات کو سونا) وَ النَّھَارِ وَابْتِغَآ ؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (اور دن کو اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرنا) نمبر 1۔ یہ لف و، نشر مرتب ہے ومن آیاتہ منامکم وابتغاؤکم من فضلہ بالّیل والنھار۔ البتہ اول دونوں ساتھیوں میں اور پچھلے دونوں ساتھیوں میں فاصلہ کیا گیا۔ نمبر 2۔ تمہارا دونوں زمانوں میں نیند کرنا اور دونوں میں رزق طلب کرنا۔
مسلک ِجمہور :
اول زیادہ بہتر ہے کیونکہ قرآن مجید میں بار بار استعمال ہوا ہے اور سب سے درست معنی وہ ہے جس کو قرآن بیان کرے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ (بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں سننے والی قوم کیلئے) یسمعون سے مراد تدبر کے ساتھ یاد رکھنے والے کانوں سے سننا مراد ہے۔
Ayah 30:24بادل کا پانی اتارنا :
24: وَمِنْ ٰایٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ (اور اس کے نشانہائے قدرت میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے) ۔
نحو : یریکم میں دو صورتیں ہیں۔ نمبر 1۔ اَنْ کو مضمر مان لیں جیسا کہ قراءت ابن مسعود ؓ میں ہے۔ (تمہارا بجلی دیکھنا) نمبر 2۔ فعل کو مصدر کی جگہ لیا گیا۔ اس مثال کی تشریح اسی طرح کی جاتی ہے تسمع بالمعیدی خیر من ان تراہ۔ ای ان تسمع او سماعک خَوْفًا (ڈر کی بناء پر) کڑک سے یا سیلاب سے ڈر کر وَّ طَمَعًا ( اور طمع میں) بارش کی۔ نمبر 2۔ خطرہ مسافر کیلئے اور طمع مقیم کیلئے ہے۔
: یہ مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام قرار دیا ای ارادۃ خوف وارادۃ طمع۔ نمبر 2۔ نصب حال ہونے کی بناء پر ہے۔ ای خائفین و طامعین اس حال میں کہ وہ خوف کرنے والے اور طمع کرنے والے ہوتے ہیں۔
وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآ ئِ (اور وہ آسمان سے اتارتا ہے) ۔ قراءت : مکی و بصری علماء نے تخفیف سے ینْزِلُ پڑھا ہے۔ مَآ ئً (پانی) یعنی بارش فَیُحْیٖ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (پس وہ اس کے ساتھ زمین کے بنجرہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرتا ہے بیشک اس میں عقلمندوں کیلئے نشانیاں ہیں) یعقلون سے مراد عقلوں سے سوچ بچار کرتے ہیں۔
Ayah 30:25آسمان و زمین کا قیام :
25: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ (اور ان کی نشانیوں میں سے کھڑا ہونا) بغیرستونوں کے قائم رہنا۔ السَّمَآ ئُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ (آسمان اور زمین کا اسی کے حکم سے ہے) اس کے قائم کرنے نمبر 2۔ اس کی تدبیر و حکمت سیثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ (پھر جب وہ تمہیں بلائے گا) اٹھنے کیلئے۔
دَعْوَۃً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ (بلانا یکدم تو تم زمین سے نکل کھڑے ہوگے) اپنی قبور سے۔
یہ جملہ بھی مفرد کے موقع پر معنوی اعتبار سے یریکمؔ کی طرف واقع ہے۔ گویا اس طرح فرمایا ومن آیاتہ قیام السمٰٰوٰت والارض واستمساکھا بغیر عمدٍ ثم خروج الموتٰی من القبور اذا دعاھم دعوۃ واحدۃ یاھل القبور اخرجوا۔ اور اس کے نشانات قدرت میں آسمان و زمین کا قائم رکھنا اور بغیر ستون کے ان کا ٹھہرانا پھر قبروں سے مردوں کا نکلنا جب کہ ان کو ایک ہی آواز یاھل القبور اخرجوا سے دی جائے گی۔ مقصد یہ ہے کہ بلا توقف یہ بات پائی جائے گی ثم کے ذریعے اس کو قیام السمٰوٰت والارض پر عطف کیا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ معاملہ بہت بڑا ہوگا اور اس چیز پر اللہ تعالیٰ کو مکمل قدرت حاصل ہے کہ وہ اس طرح فرمائیں اے قبروں والو ! اٹھو ! تو ایک فرد بھی اولین و اخرین میں نہ رہے گا مگر کہ وہ کھڑا جھانک رہا ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا ثم نفخ فیہ اخری فاذاھم قیام ینظرون ] الزمر : 68[
نحو : پہلا اذاؔ شرط کا معنی دے رہا ہے۔ اور دوسرا مفاجات کیلئے ہے اور یہ جوابِ شرط میں آنے والی فاء کے قائم مقام ہوتا ہے۔ من الارضؔ یہ فعل کے متعلق ہے مصدر سے نہیں اور اس محاورہ دعوتہ من مکان کذا میں مکانکؔ مراد ہو یا مکان صاحبک ہو۔
Ayah 30:26تمام اس کے غلام :
26: وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ (اور اسی ہی کے لئے ہے جو آسمان و زمین ہیں اور تمام اس کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں) وہ اس کے مطیع ہیں کیونکہ اس کے افعال کا وجود ان میں پایا جاتا ہے ان سے رک نہیں سکتا یا اس کی غلامی کا اقرار کرنے والے ہیں۔
Ayah 30:27اعادئہ خلق اس کے لئے بہت آسان ہے :
27: وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (اور وہ وہی ذات ہے جس نے مخلوق کی ابتداء کی پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا) وہ ان کو پیدا کرتا ہے پھر ان کو دوبارہ اٹھانے کیلئے زندہ کرے گا۔ وَھُوَ (اور وہ) بعث اَھْوَنُ (زیادہ آسان ہے) ۔ عَلَیْہِ یہ عندکم کے معنی میں ہے کیونکہ اعادہ تمہارے ہاں نئے سرے سے پیدا کرنے کی نسبت آسان ہے، پھر تم اعادہ کا کیوں انکار کرتے ہو۔
نکتہ : ھوا ھون علیہ میں صلہؔ کو مؤخر کیا اور ھو علیّ ھیِّن ] مریم : 9[ میں مقدم کیا۔ کیونکہ وہاں مریم میں تخصیص مقصود ہے گویا اختصاص کا کوئی مقصد نہیں اس لئے مؤخر کردیا۔
قولِ ابو عبیدہ وزجاج و قتادۃ رحمہم اللہ :
اھون یہاں ھین کے معنی میں ہے اور اس کا استعمال ذات باری تعالیٰ کیلئے کیا جاتا ہے۔ یہاں اھون بمعنی کان ذلک علی اللہ یسیرًا کے ہے۔ جیسا کہ اللہ اکبربمعنی کبیر ہے۔
اعادہ اگرچہ اپنی ذات کے اعتبار سے بہت بڑا ہے مگر انشاءؔ کے مقابلہ میں آسان تر ہے۔ نمبر 2۔ وہ مخلوق کے مقابلہ میں پیدا کرنے سے آسان تر ہے کیونکہ ایک ہی آواز سے انکا کھڑے ہوجانا یہ نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ سے تکمیل تخلیق تک مقابلہ میں آسان تر ہے۔
سب سے بلند ترین وصف وحدانیت :
وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَ عْلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اسی کی شان اعلیٰ ہے آسمانوں اور زمین میں) یعنی ایسی اعلی صفت و تعریف جو اس کے سوا اور دوسرے کیلئے نہیں اور وہ اس کے ساتھ مشہور ہے اور اسی سے اس کی آسمان و زمین میں مخلوقات کی زبان پر تعریف کی جاتی ہے۔ اور دلائل کی زبان سے بھی ثناء بیان کی جاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ وہ ممکنات کی ہر چیز کے انشاء و اعادہ پر پوری قدرت رکھتا ہے اس سے کسی طور پر عاجز نہیں اور وَھُوَ الْعَزِیْزُ کی صفت اس پر دلالت کرتی ہے عزیزکا معنی جو ہر مقدور پر زبردست غالب ہو۔ الْحَکِیْمُ (وہ حکمت والے ہیں) اس کا ہر فعل حکمت و علم کے مطابق چل رہا ہے۔
قولِ ابن عباس ؓ :
المثل الا علی سے مراد کمثلہٖ شیٔ وھوا لسمیع البصیر ] الشوری : 11[ ہے۔ قول مجاہد (رح) : اس سے مراد لا الٰہ الا اللہ ہے اور اس کا معنی یہ ہے سب سے بلند ترین وصف وحدانیت اسی ہی کیلئے ہے اور اگلی آیت اس کی تائید کرتی ہے۔
Ayah 30:2828: ضَرَبَ لَکُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ (اللہ تعالیٰ ایک مضمون تمہارے ہی حالات میں سے بیان کرتے ہیں) یہ مثال ان لوگوں کے لئے بیان فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کا شریک تجویز کرتے ہیں۔
نحو : منؔ یہ ابتدائیہ ہے گویا اس طرح فرمایا۔ اس نے ایک مثال لی اور وہ تمہارے سب سے قریب چیز یعنی تمہارے نفوس سے لی ہے۔ ھَلْ لَّکُمْ ( کیا تمہارے لیے ہے) اے آزاد لوگو ! مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (ان میں سے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں) یعنی تمہارے غلاموں میں سے۔
نحو : منؔ تبعیضیہ ہے۔
مِّنْ شُرَکَآ ئَ (کوئی شریک )
نحو : منؔ تاکید استفہام کیلئے لایا گیا ہے جو کہ نفی کے قائم مقام ہے اس کا معنی یہ ہے کیا تم اپنے نفوس کیلئے پسند کرتے ہو۔ (حالانکہ تمہارے غلام تمہاری طرح انسان ہیں اور غلاموں کی طرح غلام ہیں) کہ وہ تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں۔ فِیْ مَارَزَقْنٰکُمْ (اس روزی میں جو ہم نے تمہیں دی) یعنی اموال وغیرہ۔ فَاَنْتُمْ (پس تم) اے آزاد اور مملوک لوگو ! فِیْہِ (اس رزق میں) سَوَآ ئٌ (برابر ہو) آزاد غلام کے فرق کے بغیر تمہارے غلام تمہارے اموال میں تمہاری طرح کا رمختار ہوں۔ تَخَا فُوْنَھُمْ (تمہیں ان کا خطرہ لگا رہتا ہو) ۔
نحو : یہ سواءؔ کی ضمیر فاعلی سے حال ہے یعنی اے سادات ! تمہیں اپنے غلاموں کا خطرہ اپنے اموال و جائیداد کے متعلق لگا رہتا ہو کہ تم ان کی اجازت کے بغیر اس میں کوئی حکم نافذ نہ کرتے ہو کہ کہیں وہ تمہیں روک ٹوک کریں۔
کَخِیْفَتِکُمْ (جیسا کہ تم اندیشہ کرتے ہو) اَنْفُسَکُمْ (اپنے لوگوں کا) جیسا تم آزاد لوگ ایک دوسرے سے مشترک چیز میں اندیشہ کرتے ہو۔ پس جب تم اپنے نفوس کے متعلق یہ بات پسند نہیں کرتے تو پھر کیونکر یہ چیز تم رب الارباب اور مالک الاحرار والعبید کے لئے پسند کرتے ہو۔ کہ اس کے بعض غلاموں کو اس کا شریک بنائو۔
کَذٰلِکَ (اسی طرح) کافؔ یہاں محل نصب میں واقع ہے یعنی اس تفصیل کی طرح۔ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ (ہم آیات کی تفصیل کرتے ہیں) یعنی وضاحت کرتے ہیں کیونکہ تمثیل معانی کو کھولتی اور واضح کرتی ہے۔ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (عقل مند لوگوں کیلئے) جو امثلہ میں غور کرتے ہیں۔
Ayah 30:2929: جب انہوں نے اس سے اثر نہ لیا تو ان سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا۔ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (بلکہ ظالموں نے اتباع کی) ظلموا یعنی شرک کر کے اپنے اوپر ظلم کیا۔ جیسا ان الشرک لظلم عظیم ] لقمان : 13[ میں ہے۔
اَھْوَآ ئَ ھُمْ بِغَیْرِعِلْمٍ (اپنی خواہشات کی بغیر علم کے) ای اتبعوا اھواء ھم جاہلین جہالت کا ارتکاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی خواہشات کی اتباع کی۔
فَمَنْ یَّھْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ـ(جس کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے) اضل اللہ ای اضلہٗ
اللہ ضمیر مفعولی حذف ہے۔ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (اور ان کیئے کوئی مددگار نہ ہوگا) جو عذاب کے سلسلہ میں ان کی مدد کرسکے۔
Ayah 30:30دین پر استقامت اختیار کرو :
30: فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ (پس آپ اپنا رخ سیدھا دین کی طرف کرلیں) اپنے چہرے کو بالکل اسی ہی کی طرف کرلیں، دائیں، بائیں متوجہ نہ ہوں۔ یہ درحقیقت دین کی طرف پوری توجہ، اس پر استقامت، اور اس کے اسباب کا اہتمام کرنے کی تمثیل ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کا اہتمام کرتا ہے وہ اپنی نگاہ کو اسپر مرکوز کرلیتا ہے اور اپنی نظر اس کی طرف درست کرتا اور چہرے کو سیدھا کرلیتا ہے۔ حَنِیْفًا (یکسو ہو کر)
نحو : یہ مأمور اور دین سے حال ہے۔
توحید اور دین اسلام کے قابل پیدا کیا ‘ اسے مت بدلو :
فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا : (اللہ تعالیٰ کی فطرت کو لازم پکڑ لو جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا) یہاں فعل محذوف ہے یہ الزموا ہے اور اصل عبارت ہے : الزموا فطرۃ اللّٰہ۔ تم اللہ تعالیٰ کی فطرت کو لازم پکڑو۔ الفطرۃؔ خلقت کو کہتے ہیں اس کی تائید کیلئے آیت کا اگلا حصہ دیکھیں۔ لا تبدیل لخلق اللّٰہ (اللہ تعالیٰ کی اس خلقت کو مت بدلو ! ) مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو توحید اور دین اسلام کے قابل پیدا فرمایا نہ کہ اس سے دور ہونے والے اور اس کا انکار کرنے والے بنو۔ کیونکہ دین پر چلنا یہ عقل کے عین مطابق اور صحیح نظر وفکر کے ہم قرین ہے اس کو چھوڑ کر اس سے اعلیٰ کا انتخاب کر ہی نہیں سکتے جس نے اس راہ کو گم کیا وہ شیاطین انس و جن کے اغواء کا ہی نتیجہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد اسی بات کی ترجمانی کررہا ہیـ : تمام بندوں کو میں نے حنیف پیدا کیا ان کو دین کے سلسلہ میں شیاطین نے آگھیرا اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہرائیں ] مسلم : 2865[ اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے والدین اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں۔
قول زجاج (رح) : اس کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ایمان ہی کی حالت میں پیدا کیا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو ان کی صلب سے چیونٹیوں جیسی صورت میں نکالا اور ان کو اپنے اوپر گواہ بنایا کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے پس فطرۃ اللہؔ کا معنی دین اللہ ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا۔ لاتبدیل لخلق اللہ کا مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ کی اس فطرت کو تبدیل و متغیر کرنا مناسب نہیں۔
قولِ زجاج (رح) :
اس کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ کے دین کو مت بدلو۔ اس کی دلیل آیت کا مابعد والا حصہ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ہے۔ (یہ مضبوط دین ہے) یعنی مستقیم دین ہے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ ۔ (لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اس حقیقت کو ) ۔
Ayah 30:3131: مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ (اسی ہی کی طرف تم رجوع کرو)
نحو : یہ نمبر 1۔ یہ الزموا کی ضمیر سے حال ہے۔ اور اتقوا اور اقیموا اور لا تکونوا یہ تمام اس مضمر پر معطوف ہیں۔ نمبر 2۔ اقم وجھک سے حال ہے۔ کیونکہ آپ کو حکم یہ امت ہی کو حکم ہے گویا اس طرح فرمایا فاقیموا وجوھکم منیبین الیہ تم اپنے چہروں کو درست کرو اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے نمبر 3۔ یا تقدیر عبادت یہ ہے کہ کُوْنوا منیبین الیہ تم اس کی طرف رجوع کرنے والے بنو اس کی دلیل ولا تکونوا ہے۔
وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (اور اس سے ڈرو اور نماز کی پابندی کرو) یعنی اس کے اوقات میں ادا کرو۔ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ( اور تم ان شرک کرنے والوں میں سے مت بنو) جو غیروں کو اس کی عبادت میں حصہ دار بنانے والے ہیں۔
Ayah 30:3232: مِنَ الَّذِیْنَ (جنہوں نے)
نحو : یہ المشرکینؔ سے بدل ہے حرف جر کو دوبارہ لایا گیا ہے۔
فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ (اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ) ۔ اور اختلاف خواہشات کی وجہ سے اس کو کئی دین بنا ڈالا۔
قراءت : حمزہ و علی نے فارقواؔ پڑھا یہ علی مرتضی ؓ کی قراءت ہے اسی طرح معنی یہ ہے انہوں نے دین اسلام کو چھوڑدیا۔ وَکَانُوْا شِیَعًا (اور وہ بہت سے گروہ بن گے) شیعہ کا معنی گروہ ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے مقتداء کے پیچھے چل رہا ہے۔ جس نے اس کو گمراہ کیا۔ کُلُّ حِزْبٍ (ان میں سے ہر گروہ) ۔ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ (جو اس کے پاس ہے اس پر مگن ہے) اپنے مذہب پر خوش و خرم ہے اس کے باطل کو حق جانتا ہے۔
Ayah 30:33کیا شرک کی دلیل ہے :
33: وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ (اور جب لوگوں کو کوئی دکھ چھو لیتا ہے) ضُر سے جسمانی کمزوری نمبر 2۔ مرض نمبر 3۔ قحط نمبر 4۔ اسی طرح کی دیگر چیزیں مراد ہیں۔ دَعَوْارَ بَّھُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَآ اَذَا قَھُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً (وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کر کے پھر جب وہ اپنی طرف سے کسی قدر رحمت کا مزہ ان کو چکھاتا ہے) ۔ رحمتؔ سے یہاں مراد اس شدت و سختی سے چھٹکارا ہے۔ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ (اسی وقت ہی ایک جماعت ان میں سے اپنے رب کا شریک بنانے لگ جاتی ہے) ۔ عبادت میں شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ یعنی خلاصی دلانے میں دوسروں کو حصہ دار ماننے لگ جاتے ہیں۔
Ayah 30:3434: لِیَکْفُرُوْا (تاکہ وہ ناشکری کریں) ۔
نحو : یہ لام کَیْ ہے۔ نمبر 2۔ یہ لام امر ہے جو وعید کیلئے لائی گئی ہے۔
بِمَآ ٰاتَیْنٰھُمْ (جو کچھ نعمتیں ہم نے ان کو دیں) ۔ فَتَمَتَّعُوْا (پس تم مزے اڑا لو) اپنے کفر کے سبب تھوڑی دیر دنیا میں۔ یہ امر و عید کیلئے لایا گیا ہے۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (تم عنقریب اپنے اس نفع اٹھانے کا وبال جان لوگے) ۔
Ayah 30:3535: اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا (کیا ہم نے ان پر کوئی سند نازل کی ہے) سلطاناً کا معنی حجت و دلیل ہے۔ فَھُوَ یَتَکَلَّمُ (وہ ان سے کہہ رہی ہے۔ ) یہاں تکلمہؔ مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہتے ہیں کتابہ ناطق بکذا وھذا مما نطق بہ القرآن۔ یعنی شہادت و گواہی گویا تقدیر کلام اس طرح ہے فھو یشہد بشرکھم وبصحتہٖ وہ گواہی دیتا ہے ان کے شرک اور اس کی درستی کی۔
بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ (جس کے سبب سے وہ شرک کر رہے ہیں) ما ؔ مصدریہ ہے ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے سبب نمبر 2۔ ماؔ موصولہ ہے اور ضمیر بہؔ کی اس کی طرف لوٹتی ہے تقدیر کلام اس طرح ہوا فھو یتکلم بالا مرالذی بسببہٖ یشرکون۔ وہ اس امر کا کلام کرتا ہے جس وجہ سے وہ شرک کرتے ہیں۔ ایک اور تفسیر : یا ہم نے ان پر دلیل والا یعنی فرشتہ اتارا کہ جس کے پاس دلیل ہے۔ پس وہ فرشتہ اس دلیل کو بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ شرک کرتے ہیں۔
Ayah 30:36تنگ دستی و بدحالی گناہوں سے ہے :
36: وَاِذَٓا اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً (اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں) رحمت سے یہاں بارش والی نعمت مراد ہے۔ نمبر 2۔ خوشحالی مراد ہے۔ نمبر 3۔ صحت جسمانی مراد ہے۔ فَرِحُوْا بِھَا (وہ اس کی وجہ سے اتراتے ہیں) فرح کا یہاں معنی اترانا، تکبر کرنا ہے۔ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ (اور اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے) سیئۃ سے خشک سالی، نمبر 2۔ تنگدستی، نمبر 3۔ بیماری کی مصیبت مراد ہے۔ 0 بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ (ان کے کرتوت کے سبب) یعنی ان کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے۔ اِذَا ھُمْ یَقْنَطُوْنَ (اسی وقت ہی وہ آس توڑ بیٹھتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ اذاؔ یہ مفاجات کیلئے بطور جواب ِشرط لایا گیا ہے یہ فاء کی جگہ لایا گیا کیونکہ تعقیب میں دوہم قرین ہیں۔
Ayah 30:3737: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآ ئُ وَیَقْدِرُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کا رزق فراخ کرنا چاہتے ہیں فراخ کردیتے ہیں اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اس میں مؤمنوں کیلئے نشانیاں ہیں) استفہام انکاری ہے اس میں ان پر انکار کیا گیا کہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق کو کھولنے اور تنگ کرنے والے ہیں پھر یہ کیوں کر اس کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں ؟ اور اللہ تعالیٰ کی طرف گناہوں سے توبہ کر کے کیوں نہیں آتے وہ گناہ جن کی سختی کی وجہ سے یہ سزا ملی ہے تاکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی طرف لوٹ آئے۔
Ayah 30:38افعالِ لازمہ کا تذکرہ :
38: اور جب یہ ذکر کردیا گیا کہ تنگدستی اور بدحالی ان کے گناہوں کی وجہ سے آئی ہے اس کے بعد اس چیز کا ذکر کیا کہ کن افعال کو کرنا لازم اور کن سے دست کش ہونا ضروری ہے چناچہ فرمایا۔ فَٰاتِ ذَاالْقُرْبٰی حَقَّہٗ (تم اپنے قرابت والے کو اس کا حق) صلہ رحمی اور حسن سلوک میں سے دو ۔ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ (اور مسکین اور مسافر کو) ان کا حق صدقہ جو ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ دو ۔
مسئلہ : محارم پر خرچ کرنا واجب و فرض ہے جیسا کہ مذہب احناف رحمہم اللہ ہے۔
ذٰلِکَ (یہ) یعنی ان کے حقوق کی ادائیگی خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ (بہت بہتر ہے ان لوگوں کے حق میں جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہتے ہیں) وجہ اللہ سے ذات حق تعالیٰ مراد ہے مطلب یہ ہے وہ اپنی اس بھلائی سے خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کو راضی کرنے والے ہیں۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنََ (اور وہی کا میاب ہیں) ۔
Ayah 30:39سود مال کو گھٹاتا اور زکوٰۃ بڑھاتی ہے :
39: وَمَآ ٰاتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَالِ النَّاسِ (اور وہ چیز جو تم اس لئے دو گے تاکہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر وہ بڑھ جائے) مراد یہ ہے کہ جو مال تو سود کھانے کیلئے لگائو گے تاکہ لوگوں کے مال میں وہ نشونما پائے اور بڑھ جائے۔ فَلاَ یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا) اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ نشونما نہیں پاتا۔ اور نہ ہی اس میں برکت ڈالی جاتی ہے۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد وہ اضافہ و نمو ہے جو حلال ہے اب مطلب اس طرح ہوا جو ہدیہ تم اس غرض سے دیتے ہو کہ اضافہ کے ساتھ تمہیں واپس دیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا کیونکہ اس سے رضائے الٰہی مقصود ہی نہیں۔ وَمَآ ٰاتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ (اور جو تم زکوٰۃ دو گے) زکوٰۃ سے یہاں مطلق صدقہ مراد ہے۔ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ (اس سے تم اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہنے والے ہو) خالصۃً اس سے رضاء الٰہی مطلوب ہو۔ اور کسی بدلہ کی چاہت نہ ہو اور نہ سود خوری اور ریاکاری کی غرض ہو۔ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ (پس وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑھانے والے ہیں) نیکیوں میں کئی گنا اضافہ پانے والے ہونگے۔ المضعفؔ کے لفظ کی نظیر المقوی اور الموسر ہے جو کہ ذی القوۃ وذی الیسار کو کہا جاتا ہے۔
قراءت : اتیتم من رباؔ بغیر مد کے مکی نے پڑھا یعنی سود دے کر جو ملاوٹ اور کھوٹ تم نے کی لتُربوا ؔ مدنی نے پڑھا ہے یعنی تاکہ اضافہ کیا جائے ان کے مالوں میں۔
نکتہ : اولئک ھم المضعفون میں شاندار التفات ہے کیونکہ یہ عموم کا فائدہ دیتا ہے گویا اس طرح فرمایا جس نے یہ کیا تو اس کا راستہ مخاطبین والا راستہ ہے اور المضعفون کا معنی المضعفون بہٖ ہے ( وہ اس کو بڑھانے والے ہیں) کیونکہ اس میں ضمیر کا ہونا ضروری ہے۔ جو ماموصولہ کی طرف لوٹے۔
قولِ زجاج (رح) :
پس اولئک ھم المضعفون کی تقدیر کلام فاھلھا ہم المضعفون ہے۔ مطلب یہ ہے وہی لوگ ہیں جن کو بڑھا کر ثواب دیا جائے گا اور نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا۔
Ayah 30:4040: پھر انکے معبود ان مجوزہ کی عاجزی کو ذکر کرتے ہوے فرمایا : اَللّٰہُ الَّذیْ خَلَقَکُمْ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا) ۔
نحو : یہ مبتدأ و خبر ہے۔
رزق ‘ موت ‘ زندگی اللہ کے پاس ہے :
ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (پھر تم کو رزق دیا پھر تم کو موت دے گا پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا) ۔ یعنی وہ تخلیق کرنے ‘ روزی دینے اور موت و زندگی دینے کے ساتھ خاص ہے۔ ھَلْ مِنْ شُرَکَآ ئِ کُمْ (کیا تمہارے فرضی شریکوں میں سے) یعنی وہ اصنام جن کے متعلق تمہارا گمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں۔ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ ( کون ایسا ہے جو اس میں سے کوئی کام کرنے کی طاقت رکھتا ہو) یعنی پیدا کرنا، رزق دینا، موت و زندگی بخشنا وغیرہ۔ مِّنْ شَیْ ئٍ (ذرا سی) یعنی ان افعال میں سے ذرہ بھر۔ کفار کی طرف سے کوئی جواب نہ دیا گیا تو بطور استبعاد فرمایا۔ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (وہ پاک ہے اور ان کی شرک آفرینیوں سے بلندوبالا ہے) مِنؔ پہلا، دوسرا اور تیسرا ہر ایک ان میں سے مستقل طور پر ان کے معبود ان باطلہ کی عاجزی اور ان کی پوجا کرنے والوں کی جہالت کی تاکید در تاکید ظاہر کرنے کیلئے لایا گیا ہے۔