29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئیے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

1: الٓمٓ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا ٰامَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ۔ الم (کیا لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لے آئے۔ ، ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی) ۔ الحسبان۔ باہمی متناقض چیزوں میں سے ایک کا دوسرے کے مقابلہ میں قوت پکڑنا جیسا کہ ظن میں ہوتا ہے۔ الشک۔ دو متناقضین میں دونوں کے مابین ٹھہرنا۔ العلم۔ دو میں سے ایک کے متعلق قطعیت پیدا ہونا۔ ان دونوں کا اطلاق معانی مفردات پر نہیں آتا بلکہ مضامین جمل پر ہوتا ہے۔ اگر تم اس طرح کہو۔ حسبت زیدًا وظننت الفرس۔ تو اس سے کچھ حاصل نہیں جب تک کہ تم اس طرح نہ کہو۔ حسبت زیدًا عالمًا وظننت الفرس جوادًا۔ کیونکہ زید عالم اور الفرس جواد یہ دونوں مضمون جملہ پر دلالت کرتے ہیں۔ جب تو ایسا مضمون جملہ جو تمہارے ہاں ثابت ہو بطور ظن کے خبر دینا چاہو تو جملے کے دو حصوں پر حسبان کو داخل کردو گے تو تمہاری غرض حاصل ہوجائے گی۔ اس موقعہ پر حسبان کا تقاضا کرنے والا مضمون جملہ ان یترکوا ان یقولوا آمنا وہم لا یفتنون ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ احسبوا ترکہم غیر مفتونین لقولہم آمنا۔ (انہوں نے اپنے آپ کو بےامتحانی سمجھ لیا آمنا کہنے کی وجہ سے) ۔ پس حسب کے دونوں مفعولوں میں سے اول کو ترک کردیا ہے۔ اور آمنا خبر ہے۔ بلا آزمائش ہونے کو ترک کہا گیا کیونکہ یہ ترک وہ ہے جو تصییر کے معنی میں آتا ہے۔ جیسا کہ عنترہ کا قول ہے۔ فترکتہ جزر السباع یَنُشْنَہٗ ۔ ذرا غور تو کرو کہ حسبان کے لانے سے قبل تم اس طرح کہہ سکتے ہو۔ ترکہم غیر مفتونین لقولہم امنا۔ (ان کو بلا آزمائش چھوڑ دیا ان کے صرف آمنا کہنے پر) ۔ اس میں لام سے قبل حاصل و مستقر مقدر ہوگا۔ یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے۔ الفتنۃ سے مراد سخت تکالیف جیسے وطن سے جدائی ‘ دشمنوں سے جہاد ٗ تمام مشکل طاعات ٗ ترک شہوات ٗ فقر ٗ قحط ٗ انفس و اموال میں قسم قسم کے مصائب ٗ کفار کا ان کی ایذاء دہی اور ان کے خلاف سازشوں پر جمنا وغیرہ مراد ہیں۔ روایت ہے : کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کے متعلق نازل ہوئی جو مشرکین کی ایذائوں پر گھبرا گئے یا عمار بن یاسر ؓ کے متعلق اتری ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر تکالیف دی جاتی تھیں۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

3: وَلَقَدْ فَتَنَّا (ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا) ۔ امتحان لیا۔ یہ أحسب سے متصل ہے۔ نمبر 2۔ لا یفتنون سے متصل ہے۔ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (وہ لوگ جو ان سے قبل ہوئے) ۔ مختلف قسم کی آزمائشوں کے ذریعہ ان کو آزمایا ان میں سے بعض کے سروں پر آرا رکھ کردو حصوں میں چیر دیا گیا۔ مگر یہ بات بھی اس کو دین سے ہٹا نہ سکی۔ اور بعض کو لوہے کی کنگھیوں سے چھیدا گیا مگر یہ چیز ان کو دین سے نہ پھیر سکی۔ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ (پس اللہ تعالیٰ امتحان سے ضرور ظاہر کرے گا) ۔ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا (ایمان میں سچے لوگوں کو) وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ (اور ضرور بضرور ایمان میں جھوٹے لوگوں کو ظاہر کر کے رہے گا) ۔ علم باری تعالیٰ : کا مطب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے موجود کو اس کے وجود کے وقت اور وجود سے قبل بھی جانتے ہیں۔ کہ وہ ایجاد فرمائیں گے بالفعل ظاہر فرمائیں گے یعنی سچے اور جھوٹے کو بالفعل جدا کردیں گے۔ قول ابن عطاء (رح) : بندے کا صدق و کذب تنگدستی اور خوشحالی میں جانا جاتا ہے۔ جو خوشحالی میں شکر کرے اور ایام مصیبت میں صبر کرے۔ وہ سچا ہے۔ اور جو خوشحالی کے ایام میں تکبر و خودستائی میں مبتلا ہوا اور مصیبت میں جزع و فزع کی وہ جھوٹا ہے۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ جو یہ خیال کرتے ہیں برا ہے

4: اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ (کیا بدکاریاں کرنے والوں نے گمان کرلیا) ۔ السیئات سے شرک و گناہ مراد ہیں۔ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا (کہ وہ ہم سے سبقت کر جائیں گے) ۔ وہ ہم سے نکل جائیں گے۔ یعنی سزا ان کو بہر صورت ملے گی۔ نحو : ان کا صلہ مسند اور مسند الیہ کو شامل ہونے کی وجہ سے دو مفعولوں کے قائم مقام ہوگیا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ] البقرہ۔ 214[ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ حَسِبَ میں قدّر کا معنی متضمن ہو۔ اور ام منقطعہ ہو اور اس میں اضراب کا معنی پایا جائے۔ اس طرح کہ یہ گمان تو پہلے گمان سے بھی زیادہ باطل تر ہے۔ کیونکہ وہ تو صرف یہ فرض کیا گیا کہ ایمان لانے پر اس کا امتحان نہ لیا جائے گا اور یہ گمان کر بیٹھا ہے کہ اس کی سیئات پر اس کو سزا نہ ملے گی۔ بعض کا قول : یہ ہے کہ اول تو ایمان والوں کے متعلق ہے کہ مؤمنوں نے عدم آزمائش کا گمان کیا۔ اور دوسرا گمان کافروں سے متعلق ہے۔ سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ (وہ بہت برا فیصلہ کرتے ہیں) ۔ ما موضع رفع میں ہے۔ معنی یہ ہے ساء الحکم حکمہم۔ ان کا فیصلہ بدترین فیصلہ ہے۔ ماموضع نصب میں ہے۔ معنی یہ ہے ساء حکما یحکمون۔ بہت برا ہے فیصلہ کے لحاظ سے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ مخصوص بالذم محذوف ہے ای بئس حکما یحکمونہ حکمہم ہذا۔ ان کا یہ حکم جو وہ کر رہے ہیں بہت برا حکم ہے۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص خدا کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

5: مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید رکھتا ہو) ۔ نمبر 1۔ یعنی اس کے ثواب کی امید رکھتا ہو۔ نمبر 2۔ اس کے محاسبہ سے ڈرتا ہو۔ رجاء میں امید و خوف دونوں کا احتمال ہے۔ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ (پس بیشک اللہ تعالیٰ کا معین وقت ضرور آنے والا ہے) ۔ اجل اللہ سے مراد وہ وقت جو ثواب و عقاب کے لئے مقرر کردیا گیا ہے۔ لَاٰتٍ (لا محالہ آنے والا ہے) ۔ پس اس کو چاہیے کہ وہ اعمال صالحہ اختیار کرے جو اس کی امید کو سچا کردکھائیں اور اس کی تمنا پوری ہوجائے۔ وَہُوَ السَّمِیْعُ (اور وہی ہر بات کو سننے والا ہے) ۔ جو اس کے بندے کہتے ہیں۔ الْعَلِیْمُ (جاننے والا ہے) جو اس کے بندے کر رہے ہیں۔ اس کے علم سے کوئی چیز نکل جانے والی نہیں۔ قول زجاج۔ : من شرطیہ ہے ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور فان اجل اللّٰہ جواب ِشرط ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ ان کان زید فی الدار فقد صدق الوعد۔ اگر زید گھر میں ہے تو اس نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

6: وَمَنْ جَاہَدَ (جس نے اپنے نفس سے جہاد کیا) ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ‘ نفس کو مضبوطی سے روک کر۔ نمبر 2۔ وساوس کو دور کر کے شیطان سے جہاد کیا۔ نمبر 3۔ کفار سے جہاد کیا۔ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہٖ (پس بیشک وہ اپنے نفس کیلئے جہاد کرے گا) کیونکہ اس کا فائدہ اسے ہی ملے گا، اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ (اللہ تعالیٰ تو جہاں والوں میں سب سے بےنیاز ہیں) ان کی اطاعت اور مجاہدات کی اسے ضرورت نہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی یہ بندوں پر محض رحمت ہیں۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

7: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے) ۔ ہم ضرور بضرور ان کی سیئات کو مٹا دیں گے۔ ایمان و توبہ کی برکت سے شرک و معاصی کو مٹا دیا جائے گا۔ وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور ضرور بضرور ہم ان کو بہترین بدلہ ان اعمال کا دیں گے جو وہ کرتے تھے) ۔ یعنی اسلام میں کیے جانے والے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیو تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے ہو میں تم کو بتلاؤں گا

8: وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا (اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کی نصیحت کی) وصّی اس نے حکم دیا۔ امر کا معنی اور استعمال بھی اسی معنی میں ہوتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں۔ وصیت زیدًا بان یفعل خیرا۔ جیسا کہ کہتے ہیں امرت زیدًا بان یفعل خیرًا۔ اس ارشاد میں بھی یہی معنی ہے۔ ووصی بہا ابراہیم بنیہ۔ ] البقرہ۔ 132[ ہم نے ان کو کلمہ توحید کی وصیت کی اور اس کا حکم دیا۔ باقی اس مقولہ کا مطلب وصیت زیدا بعمرو۔ میں نے اس کو وصیت کی کہ عمرو کا خیال و دھیان رکھے اور اس کی نگرانی کرے وغیرہ اور اسی طرح کا معنی اس ارشاد میں ہے۔ ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا اور ہم نے اس کو وصیت کی کہ وہ اپنے والدین کو بھلائی پہنچائے۔ نمبر 2۔ ہم نے اس کو وصیت کی کہ وہ اپنے والدین کو حسن و بھلائی کا والی بنائے۔ یعنی خوبی والے فعل کا والی بنائے یا وہ فعل جو اپنی ذات کے لحاظ سے خوب تر ہو اس لئے کہ اس میں خوبی بہت پائی گئی تو گویا وہ فعل مجسمہ حسن بن گیا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ و قولوا للناس حسنا۔] البقرہ 83[ لوگوں کو وہ بات کہو جو ذات کے اعتبار سے بہت خوب ہو۔ نمبر 3۔ یہ بھی جائز ہے حسنًا کو اس کلام کے قبیلہ سے قرار دیں زیدًا ای اضرب زیدًا۔ جبکہ تم اس کو ضرب کے لئے تیاری کرتے ہوئے پائو تو کہو۔ زیدًا۔ پس حسنا کا نصب اَوْلِہِما فعل مضمر کی وجہ سے ہے۔ ای اعطہما یا افعل بہما حسنا۔ کیونکہ وصیت اس پر دلالت کر رہی ہے۔ اور اس کا مابعد اس کے مطابق ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا ہے۔ قلنا اولہما معروفا ولا تطعہما فی الشرک اذا حملاک علیہ اور ہم نے کہا تو ان کو بھلائی کا والی بنا اور شرک میں ان کی اطاعت نہ کر جبکہ وہ تمہیں اس پر آمادہ کریں۔ اس تفسیر کے مطابق اگر بوالدیہ پر وقف کریں اور حسنًا کو ابتدائی کلام قرار دیں تو یہ وقف خوب ہے۔ اور اگر تفسیر اول مراد لیں تو قال کو مضمر ماننا ضروری ہے۔ ای وقلنا۔ وَاِنْ جَاہَدٰکَ (اور اگر وہ تمہیں مجبور کریں) اے انسان۔ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (تاکہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تمہیں علم نہیں) ۔ یعنی اس کی الوہیت کا تمہیں علم نہیں۔ مقصود نفی علم سے نفی معلوم ہے۔ گویا کہ کلام اس طرح ہے لتشرک بی شیئا لایصح ان یکون الہًا۔ تاکہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا الٰہ ہونا درست نہیں۔ فَلاَ تُطِعْہُمَا (تو ان کی بات مت مان) ۔ اس سلسلہ میں کیونکہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ (تم نے میرے ہاں لوٹ کر آنا ہے) ۔ تمام کا مرجع خواہ وہ ایمان لایا یا شرک کیا۔ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (میں تمہیں مطلع کروں گا ان اعمال کے متعلق جو تم کرتے رہے) ۔ پھر ان پر صحیح صحیح بدلہ دونگا یہاں مرجع اور وعید دونوں کو ذکر کر کے شرک میں ان کی متابعت سے ڈرانا مقصود ہے اور دین میں استقامت پر آمادہ کیا گیا ہے۔ روایت میں ہے : کہ سعد بن ابی وقاص ؓ جب مسلمان ہوگئے تو ان کی والدہ نے نذر مانی کہ وہ اس وقت تک نہ کھائے گی اور نہ پیئے گی جب تک سعد دین اسلام کو نہ چھوڑیں گے۔ سعد نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کر کے استفتاء کیا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اور وہ آیت جو لقمان۔ 14۔ اور وہ آیت جو احقاف 15 میں ہے۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

9: وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْ خِلَنَّہُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے ہم ضرور بضرور انہیں صالحین میں داخل فرمائیں گے) ۔ منجملہ صالحین میں۔ الصلاح مؤمنین کی کامل ترین صفت ہے۔ یہ انبیاء (علیہم السلام) کا مطلوب ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کی دعا میں ہے وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین ] النمل۔ 19[ دعائے یوسف (علیہ السلام) میں ہے۔ توفنی مسلمًا والحقنی بالصالحین ] یوسف۔ 10[ نمبر 2۔ فی الصالحین سے صالحین کے داخل ہونے کی جگہ جنت مراد ہے۔ شان نزول۔ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں ؟

10 : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَا اُوْذِیَ (اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے) ۔ فِی اللّٰہِ (جب ان کو اللہ کی راہ میں دکھ پہنچتا ہے) ۔ اس سے مراد منافقین ہیں یعنی جب ان کو کفار کی طرف سے ایذاء پہنچتی ہے۔ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ (وہ آدمیوں کی طرف سے ملنے والی تکلیف کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح قرار دیتا ہے) ۔ یعنی اس تکلیف پر اسی طرح جزع فزع کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب پر کیا جاتا ہے۔ وَلَپنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ (اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کیلئے کوئی مدد آجائے تو وہ ضرور کہنے لگتا ہے ہم بھی تو تمہارے ساتھ تھے) ۔ جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد کر کے ان کو مال غنیمت عنایت فرماتا ہے تو وہ معترض ہوتے ہیں۔ اور کہتے ہیں بلاشبہ ہم تمہارے ساتھ تھے یعنی تمہارے دین میں تمہارے پیچھے لگنے والے اور تمہاری طرح اس پر ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ اس لئے ہمیں اس غنیمت میں سے حصہ دو ۔ اَوَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ (کیا اللہ تعالیٰ کو جہاں والوں کے سینوں کی باتوں کا علم نہیں) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو اچھی طرح جانتے ہیں۔ جو کچھ جہان والوں کے سینوں میں ہے اور اسی میں سے ان لوگوں کے سینوں کا نفاق بھی ہے۔ اور مؤمنوں کے دلوں کا اخلاص بھی ہے۔ پھر اگلی آیت میں ایمان والوں سے وعدہ اور منافقین کو دھمکی دی۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا

11: وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ (اور ضرور بضرور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ظاہر کریں گے) اور الْمُنٰفِقِیْنَ (منافقین کو بھی ظاہر کریں گے) ۔ ان کا حال بخوبی ظاہر ہوجائے گا۔ ان دونوں کی حالت اس کے سامنے ظاہر ہے۔ جو ان دونوں کو بدلہ دینے کا اختیار رکھتا ہے۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

12: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا (اور کافروں نے مؤمنوں کو کہا ہماری راہ پر چلو) ۔ تو ہم تمہارے جرائم وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ (ضرور اپنے اوپر اٹھا لیں گے) ۔ کفار نے مسلمانوں کو اپنے کفریہ راستے پر چلنے کا امر کیا اور اپنے بارے میں ان کے گناہوں کی ذمہ داری قبول کرنیکا حکم دیا۔ امر کا عطف امر پر کیا گیا۔ مقصد کفار کا یہ تھا کہ یہ دونوں امر حاصل ہونے چاہئیں۔ نمبر 1۔ ہمارے راستے کی پیروی۔ نمبر 2۔ تمہاری خطائوں کو اپنے سر لینا۔ حاصل یہ ہوا کہ اگر تم ہمارے راستہ کی اتباع کرو گے تو تب ہم تمہارے گناہوں کو اٹھالیں گے۔ کفار قریش یہی کہتے تھے۔ جو شخص ان میں سے اسلام قبول کرتا۔ ہم اور تم اٹھائے نہیں جائیں گے اگر اٹھائے بھی گئے تو ہم تمہارے گناہ اپنے سر لے لیں گے۔ وَمَا ہُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰہُمْ مِّنْ شَیْئٍ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ (اور وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہ اٹھائیں گے۔ واقع میں وہ جھوٹے ہیں) ۔ کیونکہ وہ بات زبانوں سے تو کہہ رہے ہیں مگر ان کے اپنے دل اس کو نہیں مانتے یہ ان جھوٹوں کی طرح ہیں جو کسی چیز کو شمار کرتے ہیں مگر ان کے دل میں نیت اس کے خلاف ہوتی ہے۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی

13: وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ (اور یہ لوگ اپنے بوجھ اٹھائیں گے) ۔ اپنے نفسوں کا بوجھ اٹھائیں گے۔ یعنی وہ بوجھ جو ان کے گناہوں کے سبب ہونگے۔ وَ اَثْقَالاً مَّعَ اَثْقَالِہِمْ (اور اپنے اعمال کے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے) ۔ وہ اور بوجھ اٹھائیں گے جو ان کا ہوگا جن کی گمراہی کا یہ سبب بنے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ لیحملوا اوزارہم کاملۃ یوم القیامۃ ومن اوزار الذین یضلونہم بغیر علمٍ ۔ ] النمل۔ 25[ یہ وہ بوجھ نہیں جن کی وہ مسلمانوں کو ضمانت دیتے تھے۔ وَلَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ( اور ضرور ان سے قیامت کے دن ان کی افتراء پر دازیوں کی باز پرس ہوگی۔ جو جھوٹ اور باطل باتیں گھڑتے تھے) ۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

14: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْہِمْ (اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا) ۔ پس وہ ان میں اَلْفَ سَنَۃٍ اِلاَّ خَمْسِیْنَ عَامًا (ساڑھے نو سو سال ٹھہرے) ۔ ہدایت دینے میں مشغول رہے۔ نوح (علیہ السلام) : کی عمر مبارک ایک ہزار پچاس سال تھی۔ چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ اور اپنی قوم کو دعوت دینے میں نو سو پچاس سال صرف فرمائے۔ طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔ وہب (رح) کا قول : یہ ہے کہ ان کی عمر چودہ سو سال تھی ان کو ملک الموت نے کہا۔ اے انبیاء (علیہم السلام) میں سب سے زیادہ عمر والے ! تم نے دنیا کو کیساپایا۔ آپ نے فرمایا۔ جیسے ایک مکان ہو جس کے دو دروازے ہوں ایک میں سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جائے۔ آپ نے نو سو پچاس نہیں کہا۔ اگر اس طرح فرماتے تو اس عدد کا اطلاق اکثر پر ہوتا۔ اور یہ وہم کو زائل کرنے کے لئے فرمایا۔ گویا اس طرح فرمایا۔ نو سو پچاس سال پورے پورے مگر یہ انداز بیان مختصر اور لفظوں کے اعتبار سے لذیذ تر ہے اور فائدہ سے پر ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ واقعہ نوح (علیہ السلام) کے ابتلاء کو بیان کرنے کے لئے آیا ہے۔ جو امت کی طرف سے پیش آیا اور طویل صبر والی زندگی گزاری۔ اس میں ہمارے پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی ہے۔ ایک ہزار کا ذکر تفخیم شان کے لئے ہے۔ اور غرض کو زیادہ واضح کرنے والا ہے۔ اولاً سنۃ کو تمیز کے ساتھ لایا گیا پھر عامًا کو بطور تمیز لائے۔ کیونکہ ایک ہی لفظ کا تکرار قاعدئہ بلاغت کے خلاف ہے۔ فَاخَذَہُمُ الطُّوْفَانُ (ان کو طوفان نے آپکڑا) ۔ طوفان وہ پانی جو چکر لگائے اور کثرت و غلبہ سے راستہ کو گھیرلے۔ نمبر 2۔ رات کا اندھیرا۔ نمبر 3۔ اسی طرح کی چیزیں۔ وَہُمْ ظٰلِمُوْنَ (اس حال میں کہ وہ اپنے نفوس پر کفر کے سبب ظلم کرنے والے تھے) ۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

15: فَاَنْجَیْنٰہُ وَاَصْحٰبَ السَّفِیْنَۃِ (پس ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو نجات دی) ۔ ہٗ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ اصحاب کی تعداد اٹھتر نفوس پر مشتمل تھی۔ آدھے مرد اور نصف عورتیں تھیں۔ ان میں نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام ٗحام ٗ یافث۔ اور ان کی عورتیں۔ وَجَعَلْنٰہَا (اور ہم نے کشتی کو بنادیا) یا واقعہ کو یا حادثہ غرق کو ٰایَۃً (عبرت و نصیحت) لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کے لئے) وہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

16: وَاِبْرَاہِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (اور ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا۔ یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) ۔ نحو : ابراہیم اذکر محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اذ قال یہ اس کا بدل الاشتمال ہے۔ کیونکہ اوقات ان تمام چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو ان میں ہوتی ہیں۔ نمبر 2۔ اس کا عطف نوحًا پر ہے ای وارسلنا ابراہیم اور اذ یہ ارسلنا کا ظرف ہے۔ یعنی ارسلناہ حین بلغ من السنّ یا بلغ من العلم مبلغًا صلح فیہ لان یعظ قومہٗ ویأمرہم بالعبادہ والتقوی۔ اور ہم نے اس وقت ان کو بھیجا جب ان کی عمر نبوت کی عمر تک پہنچ چکی۔ یا علم میں ایک مقام تک پہنچ چکے اور لوگوں کو نصیحت کرنے اور عبادت وتقویٰ کا حکم دینے کے لائق ہوگئے۔ قراءت : ابراہیم نخعی اور ابوحنیفہ رحمہما اللہ نے و ابراہیم رفع کے ساتھ اس معنی کی بناء پر پڑھا۔ ومن المرسلین ابراہیم۔ وَاتَّقُوْہُ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّـکُمْ (اور اس سے تقویٰ اختیار کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے) ۔ کفر سے۔ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اگر تم جانتے ہو) اگر تم میں وہ ہے جو تمہارے لئے بہت بہتر ہے اس کے مقابلہ میں جو کہ تمہارے لئے بہت بری ہے۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جاؤ گے

17: اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا (بیشک تم اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی عبادت کرتے ہو) ۔ وَّتَخْلُقُوْنَ (تم جھوٹ بولتے ہو یا جھوٹ گھڑتے ہو) ۔ قراءت : ابوحنیفہ اور سلمی رحمہما اللہ نے تُخَلِّقُوْنَ پڑھا ہے۔ یہ خلّق سے لیا گیا۔ جس کے معنی : التکثیر فی الخلق یعنی جس کی خلق میں کثرت ہو۔ اِفْکًا (جھوٹ) ۔ قراءت : یہ اَفِکًا پڑھا گیا ہے۔ یہ مصدر ہے جیسے کذب ولعب۔ الافک یہ کذب و لعب کی طرح مخفف ہے۔ اختلاف الافک۔ بتوں کو معبود قرار دینا۔ اور اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا (بیشک وہ جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو وہ تمہارے لئے رزق کے مالک نہیں) ۔ وہ تمہیں رزق کی ایک چیز کا ذرہ بھی نہیں دے سکتے۔ فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ (پس تم اللہ تعالیٰ کے ہاں رزق تلاش کرو) ۔ یعنی تمام رزق۔ اس لئے کہ وہی اکیلا رزاق ہے اس کے سوا اور کوئی رزق نہیں دے سکتا۔ وَاعْبُدُوْہُ وَاشْکُرُوْا لَہٗ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (تم اسی ہی کی عبادت کرو اور اسی ہی کا شکریہ ادا کرو اسی ہی کی طرف تم لوٹائے جائو گے) ۔ اس کی عبادت کر کے اس کی لقاء کی تیاری کرو اور اس کی نعمتوں پر شکریہ ادا کرو۔ قراءت : یعقوب نے تَرْجِعُوْنَ پڑھا ہے۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

18: وَاِنْ تُکَذِّبُوْا فَقَدْ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ (اور اگر تم میری تکذیب کرو تو تم سے پہلے بہت سی امتیں تکذیب کرچکیں) ۔ وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (اور رسول پر تو کھول کر بیان کرنا ہے) ۔ اگر تم میری تکذیب کرو گے تکذیب کے ساتھ تم مجھے کچھ نقصان نہ پہنچائو گے اس لئے کہ مجھ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں نے جھٹلایا اور ان کا کوئی نقصان نہ کرسکے۔ بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا جبکہ تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب اترا۔ باقی رسول کا فریضہ تو پورا ہوچکا اس لئے کہ انہوں نے کھول کر پیغام پہنچا دیا جس سے شک جاتا رہا اور وہ ان کی آیات و معجزات سمیت آنا تھا۔ مطلب یہ ہے اگر تم میری تکذیب کرتے ہو تو میرے لئے تمام انبیاء میں اسوہ حسنہ موجود ہے۔ جب ان کی تکذیب کی گئی اور رسول کے ذمہ تو بات کو پہنچانا ہے۔ ان کے ذمہ یہ نہیں کہ ان کی تصدیق کی جائے اور تکذیب نہ کی جائے۔ دو احتمال نمبر 1: یہ آیت اور اس کے بعد والی آیات فما کان جواب قومہٖ تک احتمال رکھتی ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو خطاب ہو۔ اور الامم سے مراد قوم شیث (علیہ السلام) اور ادریس ٗ نوح وغیر ہم انبیاء (علیہم السلام) کی قومیں مراد ہونگی۔ نمبر 2۔ یہ بھی احتمال ہے کہ جملہ معترضہ کے طور پر یہ آیات نبی اکرم ﷺ کی شان اور قریش کی حالت کے متعلق ہوں۔ اور اول و آخر ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ہو۔ سوال : اب اس پر ایک سوال ابھرتا ہے۔ کہ جملہ معترضہ کا ان کے ساتھ اتصال ضروری ہے۔ جن کے درمیان بطور اعتراض واقع ہو۔ اس طرح نہیں کہا جاسکتا۔ مکۃ و زیدٌ قائم خیر بلاد اللہ ؟ جواب : جی ہاں یہ بات درست ہے ! اس کی تشریح اس طرح ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ آپ کی تسلی و دلاسہ کے لئے لایا گیا۔ کہ آپ کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کی طرف سے شرک اور عبادت اصنام کے ابتلاء میں ڈالے گئے اس دوران جملہ معترضہ لائے۔ وان تکذبوا۔ (اگر تم جھٹلائو) ۔ اے گروہ قریش ! اگر تم محمد ﷺ کو جھٹلاتے ہو تو ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا۔ اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ کیونکہ فقد کذب امم من قبلکم کا ارشاد ضروری ہے کہ امت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ہو۔ اور یہ متصل جملہ معترضہ کی طرح ہے۔ پھر بقیہ آیات جو اس کے بعد آرہی ہیں وہ اس کے توابع میں سے ہیں۔ کیونکہ وہ توحید اور دلائل توحید اور انہدام شرک اور شرک کی بنیادوں کی تدمیر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و سلطنت کی تعریف اور اللہ تعالیٰ کی دلیل وبرہان کی خوب وضاحت کر رہیں ہیں۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اسکو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے یہ خدا کو آسان ہے

19: اَوَلَمْ یَرَوْا کَیْفَ یُبْدِیُٔ اللّٰہُ الْخَلْقَ (کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو کس طرح پہلی بار پیدا کرتا ہے) ۔ قراءت : حفص کے علاوہ دیگر کوفی قراء نے ترَوْا پڑھا ہے۔ اولم یروا کا مطلب یہ ہے انہوں نے یہ بات دیکھی اور جانی ہے۔ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا) ۔ اس کا عطف یبدیٔ پر نہیں۔ اور نہ ہی اس پر رؤیت واقع ہونے والی ہے۔ بلکہ اس کا عطف اولم یروا کیف یبدیٔ الخلق پر ہے۔ اور یبدیٔ موت کے بعد اعادہ کے وقوع کی خبر ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں کیف بدأ الخلق ثم اللّٰہ ینشیٔ النشأۃ الاخرۃ (العنکبوت : 20) نظر بدء پر ہے انشاء پر نہیں۔ اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ اعادہ) عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ (اللہ تعالیٰ پر آسان ہے) ۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دا کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر خدا ہی پچھلی پیدائش کرے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

20: قُلْ (کہہ دیجئے) اے محمد ﷺ اور اگر یہ کلام ابراہیم (علیہ السلام) کا بقیہ ہو تو تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ اوحینا الیہ ان قل : سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَالخْلْقَ (تم زمین میں چلو پھرو پس دیکھو کس طرح اس نے مخلوق کی ابتداء کی) ۔ ان کی کثرت تعداد اور کثرت احوال کے باوجود تاکہ تم فطرت الٰہی کو مشاہداتی رنگ میں دیکھ سکو۔ بدأ اور ابدأ دونوں کا ایک معنی ہے۔ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِیُٔ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ (پھر اللہ تعالیٰ دوسری نشأت میں اٹھائے گا) ۔ اس سے مراد بعث ہے۔ قراءت : ابوعمرو اور مکی نے جہاں بھی آئے نشأۃ کو مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نشأتین دو ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک ابتداء اور اختراع اور عدم سے وجود دینا ہے۔ البتہ آخرت والی انشاء پہلی انشاء کی مثل ہے۔ اور پہلی انشاء اس طرح کی نہیں۔ قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ اس طرح کہا جائے۔ کیف بدأ اللّٰہ الخلق ثم ینشیٔ النشاۃ الاخرۃ۔ کیونکہ ان کے ساتھ گفتگو اعادہ کے سلسلہ میں تھی۔ جب ابداء میں یہ بات پختہ کردی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تو ان کے خلاف اس طرح حجت پیش کی کہ اعادہ بھی اسی طرح انشاء ہے جیسا کہ ابداء ٗ جب اللہ ابداء سے عاجز نہ رہا تو لازمی ماننا پڑے گا کہ وہ اعادہ سے بھی عاجز نہیں۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ثم ذاک الذی انشاء النشاۃ الاولی ہو الذی ینشی النشاء الاخرۃ۔ پھر وہ وہی ہے جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا وہی دوسری مرتبہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس معنی پر متنبہ کرنے کے لئے اس نے اپنا نام ظاہر کیا اور اس کو مبتدأ بنایا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے) ۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

21: یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (وہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے) ۔ رسوائی و ذلت کے ساتھ وَیَرْحَمُ مَنْ یَّشَآئُ (اور جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے) ۔ ہدایت عنایت فرما کر۔ نمبر 2۔ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے حرص میں مبتلا کر کے اور رحم کرتا ہے قناعت عنایت فرما کر۔ نمبر 3۔ عذاب دیتا ہے بد اخلاقی کے ذریعہ اور رحم کرتا ہے حسن اخلاق میسر فرما کر۔ نمبر 4۔ عذاب دیتا ہے یعنی اللہ سے وہ اعراض اختیار کرتا ہے۔ اور رحم کرتا ہے اس کی طرف توجہ فرما کر۔ نمبر 5۔ بدعات کی پیروی کے ساتھ عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور متابعت ِسنت سے رحم فرماتا ہے۔ وَاِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ (اور تم اسی طرف پلٹے جائو گے) ۔ لوٹائے جائو گے اور واپس کیے جائو گے۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم (اسکو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

22: وَمآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (اور تم اپنے رب کو عاجز بنا دینے والے نہیں) ۔ یعنی اگر تم اس کے حکم وقضاء سے بھاگنا چاہو تو اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتے ہو۔ فِی الْاَرْضِ (زمین کی وسعتوں میں) وَلَافِی السَّمَآئِ (اور نہ ہی آسمان میں) جو زمین سے وسیع تر ہے اور اس سے زیادہ پھیلائو والا ہے اگر تم اس میں ہوتے۔ وَمَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ (اور تمہارا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست نہیں جو تمہارے امور کا ذمہ دار ہو) ۔ وَلَا نَصِیْرٍ (اور نہ مددگار) جو تمہیں میرے عذاب سے بچا سکے۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

23: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَلِقَآپہٖ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا) ۔ آیات سے مراد وحدانیت کے دلائل اور کتب الٰہیہ اور معجزات اُولٰٓپکَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ (وہ میری رحمت سے ناامید ہونگے) ۔ رحمت سے جنت مراد ہے۔ وَاُولٰٓپکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے) ۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو انکی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر خدا نے ان کو آگ (کی سوزش) سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

24: فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖ (ان کی قوم کا جواب یہ تھا) کہ قوم ابراہیم (علیہ السلام) کا اس وقت یہ جواب تھا جب آپ نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی۔ اِلَّآ اَنْ قَالُوْ اقْتُلُوْہُ اَوْ حَرِّ قُوْہُ (کہ کہنے لگے اس کو قتل کردو یا اس کو جلا دو ) ۔ نمبر 1۔ وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے۔ یا نمبر 2۔ ان میں سے ایک نے کہا اور باقی اس پر خوش تھے۔ تو وہ تمام ہی کہنے والوں کے حکم میں ہوگئے۔ سب نے ان کو جلانے پر اتفاق کیا۔ فَاَنْجٰہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ (پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بچا لیا) ۔ جبکہ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) ۔ جو کچھ کہ انہوں نے کہا اور ہم نے کیا۔ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والوں کے لئے نشانیاں تھیں) ۔ روایت میں ہے : کہ اس دن کوئی کافر آگ سے فائدہ نہ اٹھا سکا جس دن ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا۔ کیونکہ اس کی حرارت جا چکی تھی۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم) نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا

25: وَقَالَ (اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا) ۔ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ (بیشک تم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس کے دنیوی تعلقات کی وجہ) فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا سے بتوں کو معبود بنا رکھا ہے۔ قراءت : حمزہ و حفص نے مودۃ بینکم پڑھا اور مدنی ‘ شامی ٗ حماد ٗ یحییٰ ٗ خلف نے مودۃً بینکم مکی ٗ بصری ٗ علی نے مودۃُ بینکم پڑھا اور شمونی ٗ برجمی نے مودۃٌ بینکم پڑھا ہے۔ نحو : نصب کی دو وجہیں ہیں۔ نمبر 1۔ تعلیل یعنی تاکہ تم آپس میں محبت کرو اور ان کی عبادت پر اجتماع واتفاق کی وجہ سے آپس میں مواصلت پیدا کرو۔ جیسا کہ لوگ ایک مذہب پر متفق ہوتے ہیں تو یہی ان کی باہمی محبت کا سبب بن جاتا ہے۔ نمبر 2۔ مفعول دوم بنے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے اتخذ اِلٰہہٗ ہوٰہٗ ۔ (الفرقان : 43) ما کافہ ہے۔ مطلب یہ ہے۔ تم نے بتوں کو اپنے مابین محبت کا سبب ٹھہرایا ہے۔ اس صورت میں مضاف محذوف ہے ای سبب المودۃ۔ نمبر 2۔ اتخذتموہا مودۃً بینکم یعنی مودودۃ بینکم تم نے ان کو اپنا محبوب بنایا ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ ومن الناس من یتخذ من اللّٰہ دون اندادًا یحبونہم کحب اللّٰہ۔ ] البقرہ آیت۔ 165[ رفع میں دو صورتیں : نمبر 1۔ اِنّ کی خبر ہے اور ما موصولہ۔ نمبر 2۔ مبتدأ محذوف ہی کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بلاشبہ یہ بت تمہارے مابین محبوب ہیں یا سبب ِمودت ہیں۔ جنہوں نے المودۃ کو مضاف کیا تو انہوں نے بینکم کو اسم تسلیم کیا نہ کہ ظرف۔ جیسا کہ اس ارشاد میں شہادۃ بینکم۔ ] المائدہ۔ 106[ اور جنہوں نے تنوین دی اور بینکم کو منصوب مانا تو انہوں نے اسے ظرف قرار دیا۔ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ (پھر قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے) ۔ اصنام اپنے عابدین سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا (اور ایک دوسرے کو لعنت کریں گے) ۔ قیامت کے دن ان کے مابین تلاعن ہوگا اور پیروکار اپنے لیڈروں کو لعنت کریں گے اور وہ ان کو۔ وَّمَاْوٰکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (اور تمہارے لئے اس جگہ کوئی مددگار نہ ہوگا) ۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

26: فَاٰمَنَ لَہٗ (پس لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی) ۔ لُوْطٌ لوط (علیہ السلام) یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بھانجے ہیں۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ابراہیم کی تصدیق کی جبکہ وہ آگ سے صحیح سالم باہر آگئے۔ وَقَالَ (اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا) ۔ اِنِّیْ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْ (بیشک میں اپنے رب کے حکم پر ہجرت کرنے والا ہوں) ۔ مقام کو ثیٰٰ سے جو سواد کوفہ میں واقع تھا۔ حران کی جانب۔ پھر وہاں سے فلسطین کی سرزمین میں۔ یہ شام کا جنگلی علاقہ ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ نبی (ا) نے ایک ہجرت کی مگر ابراہیم (علیہ السلام) نے دو ہجرتیں فرمائیں۔ ہجرت میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت سارہ ساتھ تھیں۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پہلے سے بیوی تھیں۔ الٰی ربی کا مطلب یہ ہے الی حیث امرنی ربی بالھجرۃ الیہ۔ جس جگہ کی طرف میرے رب نے مجھے ہجرت کا حکم فرمایا۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ (بلاشبہ وہ زبردست ہے) مجھے میرے دشمنوں سے بچائے گا۔ الْحَکِیْمُ (حکمت والا ہے) وہ مجھے وہی حکم فرمائے گا جس میں میرے لئے خیر ہوگی۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کردی اور انکو دنیا میں بھی اس کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

27: وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ (اور ہم نے ان کو اسحاق بیٹا عنایت کیا) ۔ وَیَعْقُوْب (اور یعقوب پوتا) ۔ اور اسماعیل (علیہ السلام) کا تذکرہ معروف ہونے کی وجہ سے نہیں کیا۔ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ (اور ہم نے ذریت ابراہیم (علیہ السلام) میں نبوت کو قائم کردیا) ابراہیم انبیاء (علیہم السلام) کیلئے درخت کی مانند ہیں۔ وَالْکِتٰبَ (اور کتابیں) ۔ مراد جنس کتاب ہے۔ تورات انجیل و زبور اور فرقان۔ وَاٰتَیْنٰہُ اَجْرَہٗ (اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کا اجر ثنائے حسن کی صورت میں دیا) ۔ اور اختتام زمانہ تک ان پر رحمت اور اہل ملل میں مودت ڈال۔ نمبر 2۔ ان کی قبر کے پاس ضیافت کا باقی رہنا جو اور کسی کی قبر کے پاس نہیں۔ فِی الدُّنْیَا (دنیا میں) ۔ فائدہ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی بدلہ دنیا میں بھی عنایت فرما دیتے ہیں۔ وَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اور بیشک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہونگے) ۔ اہل جنت میں سے ہونگے یہ حسن بصری کا قول ہے۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

28: وَلُوْطًا یہ اذ کر فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ (جب کہ انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا۔ تم بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو) ۔ الفاحشۃ یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور وہ لواطت کا فعل تھا۔ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (نہیں سبقت کی اس کی طرف جہان میں سے کسی نے تم سے پہلے) یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اس فعل کے فاحشہ ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ گویا کہنے والا اس طرح کہہ رہا ہے۔ کہ وہ بےحیائی کا ارتکاب کیوں کرتے تھے ؟ تو جواب دیا گیا۔ کہ ان سے قبل یہ حرکت کسی نے بھی نہ کی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ قوم لوط سے قبل کوئی نر کسی نر سے جفتی نہ کرتا تھا۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ

29: اَپنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ (کیا تم مردوں سے بدکاری کرتے ہو اور راہزنی کرتے ہو) ۔ قتل اور مال لوٹ کر جیسا کہ ڈاکو کرتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے : وہ چلتے راستوں پر لوگوں کو پکڑ کر بدفعلی کرتے تھے۔ وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ (اور تم اپنی مجالس میں بری حرکات کرتے ہو) ۔ مجلس کو نادی اس وقت کہا جاتا ہے جبکہ مجلس والے اس میں موجود رہیں۔ المنکر سے مراد آواز کے ساتھ ریاح خارج کرنا۔ جماع کرنا۔ گالی گلوچ کرنا۔ فحش مذاق کرنا۔ کنکریاں مارنا۔ علک چباتے۔ انگلیاں چٹکاتے۔ لوگوں کے درمیان مسواک 0 فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (قوم کے پاس ان کی بات کا کوئی جواب نہ تھا سوائے اس بات کے کہ تو اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ اگر تو سچا ہے) ۔ جو تو ہمارے ساتھ نزول عذاب کا وعدہ کرتا ہے۔ قراءت : اِنَّکم کو أَپنَّکُمْ شامی ٗ حفص نے پڑھا ہے۔ اور مصحف عثمانی میں یہی موجود ہے۔ اور ہر ایک ان میں سے دو ہمزہ کے ساتھ کوفی قراء نے سوائے حفص کے پڑھا ہے۔ اور ابو عمرو نے آئِنّکُمْ ہمزہ ممدددہ جس کے بعد یاء مک سورة ہے پڑھا ہے۔ اور مکی نے اَینَّکم اور نافع نے بھی پڑھا ہے مگر قالون نے نہیں اور اسی طرح سہل و یعقوب نے تو پڑھا مگر زید نے نہیں۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا اے میرے پروردگار (ان) مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما

30: قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ (کہا اے میرے رب تو میری انزال عذاب میں مدد فرما) ۔ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ (اس مفسد قوم کے خلاف) جو کہ لوگوں کو معاصی و فواحش پر برانگیختہ کر کے فساد کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں

31: وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِیْمَ بِالْبُشْرٰی (جب ہمارے قاصد ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لائے) ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی خوشخبری اور پوتے یعقوب کی بشارت دینے آئے۔ قَالُوْا اِنَّا مُہْلِکُوْا اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ (انہوں نے کہا بلاشبہ ہم ان بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں) ۔ نحو : مہلکوا کی اضافت سے تعریف کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ مضارع کے معنی میں ہے۔ القریۃ سے مراد سدوم ہے۔ جس کے بارے میں کہا گیا۔ اَجْوَرُ مِنْ قَاضِی سدوم۔ (سدوم کے قاضی سے بڑھ کر ظالم) ۔ ہذہ القریہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے قریبی علاقہ میں یہ بستیاں تھیں۔ اِنَّ اَہْلَہَا کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ (بلاشبہ وہاں کے رہنے والے ظالمین تھے) ۔ یعنی ظلم ان سے لگاتار چلتا آرہا تھا۔ اور ظلم تو کفر ہی تھا اور دیگر قسم قسم کے معاصی۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انکو اور انکے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

32: قَالَ (ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا) وہاں تواِنَّ فِیْہَا لُوْطًا (لوط بھی رہتا ہے) ۔ کیا تم ان کو اسی حالت میں ہلاک کردو گے کہ وہاں تو لوط ہے جو کہ ظلم سے پاک اور بری ہے۔ قَالُوْا (ملائکہ نے کہا) ۔ نَحْنُ اَعْلَمُ (ہم آپ سے زیادہ واقف ہیں) ۔ بِمَنْ فِیْہَا لَنُنَجِّیَنَّہٗ (ان سے جو اس بستی میں ہیں ہم ضرور اس کو نجات دیں گے) ۔ قراءت : لَنُنَجِّیَنَّہٗ یعقوب و کوفی نے سوائے عاصم کے پڑھا ہے۔ وَاَہْلَہٗ اِلاَّ امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ (اور اس کے اہل کو مگر ان کی بیوی وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہوگی) ۔ جو عذاب میں گرفتار ہونے والے ہونگے۔ پھر ملائکہ کے لوط (علیہ السلام) کے پاس جانے کی خبر آئندہ دی جا رہی ہے ٗ جبکہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے رخصت لے کر چل دیئے۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے (فرشتوں نے کہا) کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

33: وَلَمَّا اَنْ جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْئَ بِہِمْ (جب ہمارے قاصد لوط کے پاس پہنچے تو لوط کو ان کی وجہ سے دکھ ہوا) ۔ ان کا آناناپسند ہوا۔ ان یہ ایسا صلہ ہے جو دو فعلوں کے وجود کو پختہ کرتا ہے کہ جن میں سے ایک دوسرے پر مرتب ہوتا ہے۔ گویا کہ وہ دونوں فعل ایک ہی جزء زمانہ میں پائے گئے ہیں۔ گویا عبارت اس طرح تھی کما احسّ بمجیئہم فاجاتہ المساءۃ من غیر ریث خیفۃ علیہم من قومہ ان یتناولوہم بالفجور۔ جونہی ان کی آمد کو آپ نے محسوس کیا تو بغیر انتظار کے ناپسندیدگی ان کے ہاں آگئی۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ ان کی قوم ان کو اپنے فجور کا نشانہ نہ بنائیں۔ قراءت : سییٔ بہم باشمام کسرۃ السین الضمۃ کے ساتھ مدنی ٗ شامی ٗ علی نے پڑھا ہے۔ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا (اور ان کا دل تنگ ہوا) ۔ ان کی حالت اور ان کے معاملہ میں اپنی تدبیر کے سبب ان کا دل تنگ ہوا یعنی طاقت عاجز ہوئی۔ محاورہ عرب میں ضیق الذرع والذراع اس جملہ کو فقد طاقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ رحب الزراع۔ جبکہ طاقت والا ہو۔ اور اس میں اصل یہ ہے کہ جب آدمی کا بازو طویل ہوجاتا ہے۔ تو وہ چیز اس کے ذریعہ پکڑ سکتا ہے جو چھوٹے بازو والا پکڑ نہیں سکتا۔ اور اس کو عاجزی اور قدرت میں بطور مثال بیان کیا جاتا ہے۔ نحو : یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ وَّقَالُوْا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ اِنَّا مُنَجُّوْکَ (اور انہوں نے کہا۔ مت ڈرو اور نہ غم کرو بیشک ہم تمہیں نجات دینے والے ہیں) ۔ قراءت : حفص کے علاوہ کوفی اور مکی قراء نے مُنْجُوْکَ تخفیف سے پڑھا ہے۔ وَاَہْلَکَ (اور اپنے اہل کو) ۔ ک محل جر میں ہے۔ اہلک فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای ننجی اہلک۔ اِلاَّ امْرَاتَکَ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ (مگر تیری بیوی کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہوگی) ۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

34: اِنَّا مُنْزِلُوْنَ (بیشک ہم اتارنے والے ہیں) ۔ قراءت : منزّلون تشدید کے ساتھ شامی نے پڑھا ہے۔ عَلٰٓی اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ رِجْزًا (ان بستی والوں پر عذاب) ۔ مِنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (آسمان سے اس سبب سے کہ وہ فسق کرتے تھے) ۔ یعنی ان کے فسق کے سبب اور ان کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے نکل جانے کی وجہ سے۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی

35: وَلَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْہَا (اور ہم نے چھوڑ دیئے ان بستیوں سے) ۔ ٰایَۃً بَیِّنَۃً (کھلے نشانات) ۔ وہ ان کے برباد شدہ مکانات کے کھنڈرات ہیں۔ ایک قول یہ ہے : سطح زمین پر سیاہ پانی۔ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (عقل والوں کے لئے) نحو۔ : لِقومٍ یہ ترکنا کے متعلق ہے۔ نمبر 2۔ بینۃ کے متعلق ہے۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

36: وَاِلٰی مَدْیَنَ (اور مدین کی طرف) ۔ اور ہم نے مدین کی طرف بھیجا۔ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ (ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) پس انہوں نے کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو) ۔ اور ایسے افعال کرو جس پر آخرت میں ثواب کے امیدوار بن سکو۔ نمبر 2۔ اس سے ڈرو۔ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو) ۔ فساد کا قصد کرتے ہوئے۔
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے انکو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

37: فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ (پس انہوں نے اس کو جھٹلا دیا) ۔ آخر ان کو سخت زلزلہ نے پکڑ لیا۔ الرجفۃ : سخت زلزلہ۔ نمبر 2۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری۔ جس سے ان کے دل کانپ اٹھے۔ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ (انہوں نے اپنے گھروں میں صبح کی) ۔ اپنے شہر اور سرزمین میں۔ نمبر 2۔ گھروں میں۔ دار کو واحد لائے کیونکہ اس میں کوئی التباس و اشتباہ نہ تھا۔ جٰثِمِیْنَ (زانو کے بل بیٹھے ہوئے مرگئے) ۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چناچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

38: وَعَادًا (اور عاد کو ہلاک کیا) ۔ یہ اہلکنا مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ کیونکہ فاخذتہم الرجفۃ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ اہلاک کے ہم معنی ہے۔ وَثَمُوْدَا (اور ثمود کو) ۔ قراءت : حمزہ ٗ حفص اور سہل اور یعقوب نے پڑھا ہے۔ وَقَدْتَّبَیَّنَ لَکُمْ (اور تمہارے لئے واضح ہو رہا ہے) ۔ اس سے جو ان کا ہلاک کرنا بیان کیا۔ مِنْ مَّسٰکِنِہمْ (ان کے مقامات سے) سکونت کی جانب سے۔ جب کہ تم گزرتے ہوئے ان پر نگاہ ڈالو۔ اہل مکہ اپنے سفروں میں آتے جاتے ان کو دیکھتے تھے۔ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ (اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے مزین کردیئے) ۔ اعمال سے کفر و معاصی مراد ہیں۔ فَصَدَّ ہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ (پس اس نے ان کو راہ سے روک دیا تھا) ۔ وہ راستہ جس پر چلنے کا ان کو حکم دیا گیا۔ وہ ایمان باللہ والرسل ہے۔ وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ (اور وہ ہوشیار تھے) ۔ عقل اور غور و فکر کی قدرت اور حق کو باطل سے الگ کرنے کی قوت رکھتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کردیا) اور انکے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ (ہمارے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

39: وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ (اور قارون فرعون اور ہامان کو) ہم نے ہلاک کردیا۔ وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ (تحقیق ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) دلائل لے کر آئے۔ پس انہوں نے زمین) وَمَا کَانُوْا سٰبِقِیْنَ (میں تکبر کیا اور وہ ہم سے آگے بڑھنے والے نہ تھے) کہ گرفت سے نکل جاتے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم عذاب نے ان کو آلیا پس وہ بھاگ نہ سکے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

40: فَکُلاًّ اَخَذْنَا بِذَنْچبِہٖ (پس تم ہر ایک کو ہم نے ان کے گناہوں کے بدلے پکڑ لیا) ۔ نحو : اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے بلا گناہ عذاب کو جائز قرار دیا۔ فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا (ان میں سے بعض وہ ہیں جن پر ہم نے پتھر برسانے والی ہوا بھیجی) ۔ حاصب اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جس میں کنکریاں ہوں۔ اس سے مراد قوم لوط ہے۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ (اور ان میں سے بعض کو چیخ نے آپکڑا) ۔ یہ اصحاب مدین اور قوم ثمود ہے۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ (اور ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا) ۔ یعنی قارون۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا (اور ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو ہم نے ڈبو دیا) ۔ یعنی قوم نوح (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنۃ۔ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَہُمْ (اور اللہ تعالیٰ ان پر ظلم کرنے والے نہ تھے) ۔ کہ بغیر گناہ کے ان کو وہ سزا دے دیتے۔ وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ (اور لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے) ۔ کفر و سرکشی کے سبب۔