Ayah 28:11: طٰسٓٓمٓٓ اللہ تعالیٰ ہی اس کی مراد کو جانتے ہیں۔
Ayah 28:22: تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ (یہ کتاب مبین کی آیات ہیں) ۔ کہا جاتا ہے۔ بان الشیٔ و ابان۔ دونوں کا ایک معنی ظاہر ہونا۔ اور کہا جاتا ہے ابنتہ فابان۔ یہ لازم و متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ یعنی اس کی خیر و برکت ظاہر ہے۔ نمبر 2۔ یہ حلال و حرام کو ظاہر کرنے والی اور وعدہ ووعید اور اخلاص و توحید کو ظاہر کرنے والی ہے۔
Ayah 28:33: نَتْلُوْا عَلَیْکَ (ہم تم پر پڑھتے ہیں) ۔ یہاں نتلوا نقرأ علیک کے معنی میں ہے۔ یعنی ہمارے حکم سے جبرئیل پڑھیں گے۔
نتلوا کا مفعول مِنْ نَّبَأِ مُوْسٰی وَ فِرْعَوْنَ ہے۔ یعنی ہم تم پر ان کے بعض حالات پڑھیں گے۔ (موسیٰ و فرعون کی کچھ خبر) من تبعیضیہ ہے۔ بِالْحَقِّ (حق کے ساتھ) ای محقین۔ پختگی کرنے والے ہیں۔
نحو : یہ حال ہے۔
لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والے لوگوں کے لئے) ۔ جن کے متعلق ہمارے علم میں یہ بات سبقت کرچکی کہ وہ ایمان لائیں گے۔ کیونکہ تلاوت الٰہی ان ہی کو فائدہ دے گی نہ کہ دوسروں کو۔
Ayah 28:44: اِنَّ فِرْعَوْنَ (بیشک فرعون) ۔ نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے مجمل کی تفسیر کی طرح ہے۔ گویا کوئی اس طرح کہہ رہا ہے۔ ان کی خبر کس طرح ہوگی۔ تو فرمایا بیشک فرعون نے تکبر کیا۔ عَلَا (سرکشی کی) اور ظلم میں انتہاء کو پہنچ گیا۔ نمبر 2۔ تکبر کیا اور اپنے آپ پر فخر کرنے لگا۔ اور اپنی غلامی کو بھول گیا۔ فِی الْاَرْضِ (زمین میں) یعنی سرزمین مصر میں۔ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِیَعًا (اور اس کے رہنے والوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا ) ۔ ایک گروہ اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ دینے والا اور اطاعت کرنے والا تھا۔ ان میں سے کسی کو اختیار نہ تھا کہ وہ اس کی گردن کو خلاف ارادہ موڑ دے۔ نمبر 2۔ مختلف گروہوں میں بانٹ دیا۔ ایک گروہ پر مہربانی کرتا اور دوسرے کی تذلیل۔ قبطی گروہ کو عزت دی اور گروہ اسرائیل کو ذلت میں ڈال دیا۔ یَسْتَضْعِفُ طَآپفَۃً مِّنْہُمْ (ان میں سے ایک گروہ کو اس نے کمزور کر رکھا تھا) ۔ طائفہ سے مراد بنو اسرائیل ہیں۔ یُذَبِّحُ اَبْنَآئَ ہُمْ وَیَسْتَحْیٖ نِسَآئَ ہُمْ (وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑتا) ۔ ان کی بیٹیوں کو خدمت کے لئے زندہ چھوڑتا۔
وجہِ ذبحِ اطفال :
ایک قبطی کاہن نے فرعون کو کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا۔ جس کے ہاتھ تیرا ملک برباد ہوگا۔ اس میں فرعون کی حماقت ٹپکتی ہے۔ اس لئے کہ اگر کاہن نے سچ کہا تو اس کو قتل سے فائدہ نہ ہوگا اور اگر اس نے جھوٹ بولا تو قتل کا کیا مقصد ؟
نحو : یستضعف یہ جعل کی ضمیر سے حال ہے۔ نمبر 2۔ شیعًا کی صفت ہے۔ نمبر 3۔ جملہ مستانفہ ہے اور اور یذبح یہ یستضعف کا بدل ہے۔
اِنَّہ کََانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ (بلاشبہ وہ مفسدین میں سے تھا) ۔
نحو : اس میں دلیل ہے کہ ظلماً قتل یہ مفسدین کا فعل ہے۔ کاہن نے سچ کہا یا جھوٹ اس کے تحت قتل فضول حرکت ہے۔
Ayah 28:55: وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ (اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم احسان کریں) ۔ ہم فضل و مہربانی کریں۔
یہ آیت مسئلہ اصلح میں دلیل ہے۔
نحو : یہ جملہ ان فرعون علا فی الارض پر معطوف ہے۔ کیونکہ نبا ٔ موسیٰ و فرعون کی تفسیر ہونے میں یہ اس کی نظیر ہے۔ اور اس کا بیان ہے۔ نمبر 2۔ یستضعف سے حال ہے۔ یعنی فرعون نے ان کو کمزور بنا رکھا تھا اور ہم ان پر احسان کرنا چاہتے تھے۔
اور ارادئہ الٰہی تو بہر صورت واقع ہونے والا ہے۔ پس اس جملہ کو ان کے استضعاف کے ساتھ بطور مقارنت ذکر کیا۔
عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَپِمَّۃً (ان لوگوں پر جن کو زمین میں کمزور کردیا گیا تھا اور ہم ان کو پیشوا بنائیں) ۔ نمبر 1۔ ایسے قائد جن کی خیر میں اقتداء کی جاتی ہے۔ نمبر 2۔ بھلائی کے داعی۔ نمبر 3۔ والی اور بادشاہ۔
وَنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِیْنَ (اور ہم ان کو وارث بنائیں) ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے ملک و اسباب کا ان کو وارث بنائیں۔
Ayah 28:66: وَنُمَکِّنَ (اور ہم ان کو حکومت دیں) ۔ مکن لہ کا معنی اس کے لئے ایسی جگہ بنادینا جس پر وہ بیٹھ سکے۔ نمبر 2۔ یا سو سکے اور تمکین فی الارض کا مطلب ارض مصر و شام کو اس طرح کردینا کہ وہاں ان کو کوئی روک ٹوک نہ ہو اور ان کو تسلط دے دیا جائے اور ان کا حکم چلے۔ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ (زمین میں) ۔ ارض سے شام و مصر مراد ہے۔ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا (اور فرعون ٗ ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ بات دکھا دی) ۔ قراءت : نُری۔ نون کا ضمہ اور فرعون اور مابعد کا نصب۔ نمبر 2۔ یاء کے ساتھ یُری اور فرعون اور مابعد پر رفع علی و حمزہ نے پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ یرون منہم ماحذروہ من ذہاب ملکہم وہلاکہم علی ید مولود منہم۔ انہوں نے ان سے وہ دیکھ لیا جس کا خطرہ تھا یعنی ملک کا ہاتھ سے نکلنا اور انہی میں سے ایک بچے کے ہاتھ ان کا ہلاک ہونا۔ نمبر 3۔ یَری نصب کی صورت میں اس کا ماقبل منصوب پر عطف ہے جیسا کہ نون کی قراءت ہے۔ نمبر 4۔ جملہ مستانفہ ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ مِنْہُمْ سے مراد بنی اسرائیل۔
نحو : نری کے متعلق ہے۔ یحذرون کے متعلق نہیں ہے۔ کیونکہ صلہ موصول سے مقدم نہیں آسکتا۔ مَا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ (وہ باتیں جن سے وہ ڈرتے اور اندیشہ کرتے تھے) ۔ الحذر نقصان سے بچنا۔
Ayah 28:77: وَ اَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اُمِّ مُوْسٰٓی (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں بات ڈال دی) ۔ وحی سے۔ نمبر 1۔ الہام سے۔ نمبر 2۔ خواب سے۔ نمبر 3۔ فرشتے کی اطلاع سے جیسا کہ مریم کیلئے ہوا۔ اس سے وحی رسالت مراد نہیں پس وہ رسول نہ تھیں۔
اَنْ اَرْضِعِیْہِ (تم دودھ پلائو) ۔ : یہ اَن۔ ای کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ ان مصدریہ ہے۔ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ (پس جب تمہیں اس کے متعلق خطرہ ہو) ۔ قتل کا اس طرح کہ پڑوسی اس کی آواز سن کر چغلی لگا دیں۔ فَاَلْقِیْہِ فِی الْیَمِّ (پس اس کو دریا میں ڈال دو ) ۔ الیمّ سے نیل مصر مراد ہے۔ وَلَا تَخَافِیْ (اور تم نہ ڈرنا) ۔ ڈوب جانے اور ضائع ہونے سے۔ وَلَا تَحْزَنِیْ (اور نہ غم کرنا) ۔ اس کی جدائی کا۔ اِنَّا رَآدُّوْہُ اِلَیْکِ (بیشک ہم اس کو تیرے ہاں لوٹانے والے ہیں) ۔ ایک لطیف انداز سے تاکہ تو اس کی پرورش کرے۔ وَجَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور اس کو رسولوں میں سے بنانے والے ہیں) ۔
دو اہم باتیں :
اس آیت میں دو امر ہیں۔ اور دو نہی ہیں۔ اور دو خبریں اور دو بشارتیں ہیں۔ خوف وحزن میں فرق یہ ہے۔ خوف ایسا غم جو انسان کو کسی متوقع معاملے میں لاحق ہو۔
الحزن۔ ایسا غم جو واقعہ پیش آنے کے بعد لاحق ہو اور وہ موسیٰ کی جدائی اور اس کے متعلق خطرات ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں سے منع کردیا۔
بشارتیں :
موسیٰ (علیہ السلام) کو واپس لوٹائے جانے کی بشارت۔ نمبر 2۔ رسالت ملنے کی بشارت۔
ایک روایت ہے :
کہ موسیٰ کی تلاش میں فرعون نے نوے ہزار بچے ذبح کر ڈالے۔
روایت میں ہے :
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا زمانہ قریب آیا تو ایک دائی کو بلایا یہ انہی عورتوں میں سے تھی جن کو فرعون نے بنی اسرائیل کی حاملہ عورتوں کے لئے مقرر کیا تھا۔ وہ والدئہ موسیٰ کی سہیلی تھی۔ دائی نے معالجہ شروع کیا جب موسیٰ پیدا ہوگئے تو دائی کو ایک نور نے ڈرا دیا جو موسیٰ کی پیشانی سے نکل رہا تھا۔ موسیٰ کی محبت اس دائی کے دل میں سما گئی۔ کہنے لگی میں تیرے بچے کو قتل کرنے آئی تھی اور فرعون کو اطلاع پہنچانے آئی تھی لیکن مجھے تیرے بیٹے سے محبت ہوگئی ہے۔ جو میں نے کہیں نہیں دیکھی پس تو اس کی حفاظت کر۔ ادھر دائی نکلی تو فرعون کے جاسوس آگئے۔ موسیٰ کی والدہ نے موسیٰ کو کپڑے میں لپیٹ کر جلتے تنور میں رکھ دیا۔ ڈر اور خوف سے اس کی عقل اس طرح اڑ گئی کہ اسے معلوم نہ ہوا۔ کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ جاسوسوں نے اندر گھس کر تلاشی لی تو کچھ بھی نہ ملا۔ وہ اپنے منہ نکل گئے۔ موسیٰ کی والدہ کو یاد نہیں آرہا تھا کہ میں نے موسیٰ کو کہاں رکھ دیا۔ اتنی دیر میں تنور سے رونے کی آواز سنی۔ تو اس کی طرف چل دی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے آگ کو یرد سلام بنادیا۔ جب فرعون نے بچوں کی تلاش میں تیزی پیدا کردی تو اللہ تعالیٰ نے دریا میں ڈالنے کا حکم فرمایا۔ تین ماہ دودھ پلانے کے بعد ان کو دریائے نیل میں ڈال دیا۔
Ayah 28:88: فَالْتَقَطَہٗٗ آلُ فِرْعَوْنَ (فرعون کے لوگوں نے موسیٰ کو اٹھا لیا) لے لیا۔
قولِ زجاج۔ :
فرعون اصطخر کا رہنے والا فارسی تھا۔
لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا (تاکہ وہ ان کا دشمن بن جائے) ۔ یعنی تاکہ معاملہ یہاں تک پہنچے۔ یہ مراد نہیں کہ انہوں نے اس مقصد کی خاطر اٹھایا۔ جیسا کہتے ہیں۔ للموت ماتلد الوالدۃ۔ ماں موت کے لئے جنتی ہے۔ حالانکہ ماں نے تو موت کے لئے نہیں جنا لیکن انجام تو موت ہی ہے۔
زجاج : نے اسی طرح کہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے اس لام کو لام عاقبت وصیرورت کے نام سے موسوم کیا ہے۔
صاحب ِکشاف (رح) کا قول :
یہ لام کَیْ ہے جو تعلیل کا معنی دیتی ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ جئتک لتکرمنی۔ میں تیرے پاس آیا تاکہ تو میرا اکرام کرے۔ مگر اس میں تعلیل کا معنی بطور مجاز وارد کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب ان کے اٹھانے کا یہ نتیجہ نکلا تو اس فعل کو داعی کے اس فعل سے تشبیہ دی۔ وہ داعی کہ فاعل اپنا فعل اس کی خاطر کرلے۔ اور وہ اکرام ہے جو کہ تشریف آوری کا ہی نتیجہ ہے۔ وَحَزَنًا (اور غم کا باعث) ۔ علی و حمزہ نے حُزنًا پڑھا ہے۔ دیگر نے حَزَنًا۔ یہ دونوں لغات ہیں۔ اس کی نظیر العُدْم اور العَدَم ہے۔ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا کَانُوْا خٰطِپیْنَ (بیشک فرعون ٗ ہامان اور ان کا لشکر غلطی کرنے والے تھے) ۔ خاطئین تخفیف کے ساتھ ابوجعفر نے پڑھا۔ ای کانوا مذنبین وہ گناہ گار تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ کہ میرا رب ان کا دشمن تھا۔ اور وہ بھی جو ان کے سامنے ہلاک ہونے کا سبب بنے۔ نمبر 2۔ وہ ہر چیز میں خطا کرنے والے تھے۔ اپنے دشمن کی تربیت کرنا یہ ان کی کوئی پہلی غلطی نہ تھی۔
Ayah 28:99: وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ (فرعون کی بیوی نے کہا یہ میرے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے) ۔ روایت میں ہے۔ کہ جب انہوں نے صندوق اٹھا لیا۔ تو اس کو کھولنے کی کوشش کی مگر نہ کھلا۔ پھر توڑنا چاہا اس سے بھی عاجز رہے۔ آسیہ قریب ہوئیں تو انہوں نے صندوق کے درمیان میں نور دیکھا۔ پس اس نے کھولنے کی کوشش کی تو صندوق کھل گیا۔ اچانک بچے کو دیکھا جس کی جبین نور سے ٹمٹما رہی تھی۔ ان سب کو دیکھتے ہی اس سے محبت ہوگئی۔ فرعون کی ایک بیٹی برص زدہ تھی۔ اس نے اس بچے کے چہرے پر نگاہ ڈالی تو اس کا برص جاتا رہا۔ فرعون کی قوم کے بعض گمراہ لوگوں نے کہا یہی وہ بچہ ہے جس سے آپ کو خطرہ تھا ہمیں اس کے قتل کی اجازت دیں۔ فرعون نے ارادہ کرلیا مگر آسیہ نے کہا قرت عین لی ولک۔ یہ میرے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے کہا تیرے لئے نہ کہ میرے لئے۔ حدیث الفتون جس کی تخریج نسائی نے کی ہے۔ یہ ہے اگر وہ کہتا جیسا آسیہ نے کہا تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دیتے جیسا اس کو ملی۔ اور یہ بطور فرض کے فرمایا۔ اگر اس کے دل پر سخت دلی کی مہر نہ لگی ہوتی تو وہ اسی طرح کہتا جیسا کہ اس نے کہا اور وہ اسلام لے آتا جیسا وہ اسلام لائی۔
نحو : ہو مبتدأ محذوف ہے اور قُرۃ اس کی خبر ہے۔ اور لی ولک یہ دونوں قرۃ کی صفتیں ہیں۔
لَاتَقْتُلُوْہُ (اس کو قتل مت کرو) ۔ اس کو بادشاہوں کی طرح عزت سے خطاب کیا۔ نمبر 2۔ گمراہوں کو مخاطب کر کے اس نے عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ کہا۔ اس لئے کہ اس میں برکات چھپی ہیں۔ نفع کی دلالتیں موجود ہیں اور وہ چہرے پر نورانیت اور برصاء لڑکی کا درست ہونا ہے۔ اَوْ نَتَّخِذَہٗٗ وَلَدًا (یا اس کو بیٹا بنالیں) ۔ یا اس کو متبنّیٰ بنالیں یہ بادشاہوں کا متبنّیٰ بننے کے قابل ہے۔ وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور ان کو احساس بھی نہ تھا) ۔
نحو : نمبر 1۔ آل فرعون ذوالحال اور یہ اس کا حال ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ فالتقطہ آل فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا وقالت امرأۃ فرعون کذا وہم لا یشعرون انہم علی خطأ عظیم فی التقاطہ ورجاء النفع منہ و تبنّیہ۔ نمبر 2۔ اِنّ فرعون یہ جملہ معترضہ ہے۔ جو کہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان واقع ہے۔ اور ان کے خطا کے مفہوم کی تاکید ہے۔ اس کلام کا نظم معانی وبیان والوں کے ہاں کتنا ہی خوب ہے۔
Ayah 28:1010: وَاَصْبَحَ یہ صار کے معنی میں ہے۔ (ہو گیا) ۔ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا۔ (موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل خالی) ۔ جب اس کو فرعون کے ہاتھ میں پڑنے کی اطلاع ملی تو شدید گھبراہٹ سے ان کو کچھ سوجھ نہ رہی۔ (اکثر مفسرین نے فرمایا کہ ان کا دل موسیٰ کی محبت کے علاوہ ہر چیز سے خالی ہوگیا) (مترجم) اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ (قریب تھا کہ وہ اس کو ظاہر کردیتی) ۔ : ہٗ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ مراد اس کا معاملہ اور واقعہ کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔
ایک قول یہ ہے :
جب اس نے صندوق کے ساتھ امواج نیل کو کھیلتے دیکھا تو قریب تھا کہ وہ چیخ کر یہ کہہ ڈالے یا بناہ ! (قول مقاتل)
قولِ دیگر :
جب فرعون کے صندوق پکڑ لینے کی اطلاع ملی تو اس کو اس میں قطعاً شک نہ رہا کہ وہ اس کو قتل کر ڈالے گا تو قریب تھا کہ وہ شفقۃًً کہہ ڈالے۔ وابناہٗ ۔ : اِن یہ مخففہ من المثقلہ ہے۔ ای انہا کا دت۔ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِہَا (اگر ہم اس کے دل کو نہ تھامتے) ۔ الربط علی القلب : الہام صبر سے دل کو تقویت دینا۔ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے) ۔ یعنی ہمارے وعدے کو سچا جاننے والوں میں سے بن جائے۔ اور وہ وعدہ انا راد وہ الیک ہے۔
لولا کا جواب محذوف ہے۔ ای لَاَبْدَتْہٗ ۔ ضرور ظاہر کردیتی۔ نمبر 2۔ اس کا دل غم سے خالی ہوگیا جب اس نے سنا کہ فرعون نے اس کو متبنّیٰ بنا لیا ہے۔ قریب تھا کہ خوشی میں ظاہر کر بیٹھیں کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ کیونکہ اس خبر کو سن کر اس کو اپنے اوپر خوشی سے اختیار نہ رہا اگر ہم اس کے دل کو مطمئن نہ کرتے اور دل کے اضطراب کو پرسکون نہ بناتے جس کی وجہ سے انتہائی خوشی پیش آئی تھی۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر پختہ یقین کرنے والے لوگوں میں سے ہوجائے نہ کہ فرعون کے متبنّیٰ بنانے پر۔
یوسف بن حسین نے کہا : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو دو باتیں کہی گئیں۔ اور دونوں باتوں سے منع کیا گیا اور دو بشارتیں دی گئیں۔ مگر اس کو ان سے فائدہ نہ ہوا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کر کے ان کے دل کو مضبوط نہ کردیا۔
Ayah 28:1111: وَقَالَتْ لِاُخْتِہٖ (اور اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا) ۔ اخت کا نام مریم تھا۔ قُصِّیْہِ (اس کے پیچھے پیچھے چلی جائو) ۔ تو اس کے پیچھے چلی جا تاکہ تو اس کے حالات معلوم کرسکے۔ فَبَصُرَتْ بِہٖ (پس اس نے دور سے دیکھا) ۔ عَنْ جُنُبٍ جنب یہاں دور کے معنی میں ہے۔ : یہ بہٖ کی ضمیر سے حال ہے۔ یا بصرت کی ضمیر سے۔ وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور ان کو خبر تک نہ تھی) ۔ کہ یہ اس کی بہن ہے۔
Ayah 28:1212: وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ (اور ہم نے روک دیا موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں کو) ۔ حرمنا۔ ممانعت کے معنی میں ہے۔ تحریم شرعی مراد نہیں یعنی ہم نے ان کو روک دیا کہ وہ اپنی ماں کے پستان کے علاوہ دوسرا پستان قبول کرلے۔ وہ کسی مرضعہ کا پستان قبول نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے ہاں یہ بات اہمیت پکڑ گئی۔
المراضع جمع مرضع۔ دودھ پلانے والی عورت۔ نمبر 2۔ مرضع کی جمع ہے یعنی موضع الرضاع یعنی پستان۔ نمبر 3۔ دودھ پلانا۔
مِنْ قَبْلُ (مریم کے اس کے پیچھے جانے سے پہلے) ۔ نمبر 2۔ والدہ کی طرف لوٹانے سے پہلے۔ فَقَالَتْ (اس نے کہا) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا جب کہ وہ مراضع کے درمیان فرعونی محل میں داخل ہوگئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ پستان قبول نہیں کر رہا۔ ہَلْ اَدُلُّکُمْ (کیا میں تمہیں بتلائوں) ۔ تمہاری راہنمائی کروں۔ عَلٰٓی اَہْلِ بَیْتٍ یَّکْفُلُوْنَہٗ (ایسے گھر والوں کے متعلق جو اس کی کفالت کریں گے) ۔ ہٗ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ لَکُمْ وَہُمْ لَہٗٗ نٰصِحُوْنَ (جو تمہارے لئے اس کی خیر خواہی کرتے رہیں) ۔ النصح۔ فساد و بگاڑ کی ملاوٹ سے عمل کا اخلاص۔
روایت میں ہے :
کہ جب مریم نے کہا وہم لہ ناصحون۔ تو ہامان نے کہا۔ یہ اس بچے کو پہچانتی ہے۔ اور اس کے گھر والوں کو پہچانتی ہے۔ اس کو پکڑ لو تاکہ اس لڑکے کے متعلق اطلاع دے۔ لڑکی کہنے لگی میری مراد یہ ہے کہ وہ بادشاہ کے خیر خواہ ہیں۔ پس وہ اپنی والدہ کی طرف ان کے حکم سے گئی اور والدہ کو لے کر آگئی۔ اس وقت بچہ فرعون کے ہاتھوں میں تھا وہ اس کو شفقت سے بہلا رہا تھا۔ اور بچہ دودھ کے لئے رو رہا تھا۔ جونہی اس کی خوشبو محسوس کی تو بچہ مانوس ہوگیا۔ اور اس کے پستان سے چمٹ گیا فرعون نے دایہ کو کہا۔ تو اس کی کیا لگتی ہے ؟ اس نے ہر عورت کے پستان کو قبول کرنے سے انکار کردیا مگر تیرے دودھ کو۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا میں ایک پاکیزہ ہوا والی عورت ہوں۔ دودھ بھی پاکیزہ رکھتی ہوں ہر بچہ مجھے قبول کرلیتا ہے۔ اس نے بچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے سپرد کردیا اور اس کا وظیفہ جاری کردیا۔ وہ اس کو لے کر اپنے گھرآ پہنچیں۔ اللہ تعالیٰ نے واپسی لوٹانے والا وعدہ پورا فرمایا۔ اس وقت والدئہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ پختہ یقین ہوگیا۔ کہ وہ عنقریب پیغمبر ہونگے۔ اور اس ارشاد میں یہی فرمایا۔
Ayah 28:1313: فَرَدَدْنٰہُ اِلٰٓی اُمِّہٖ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُہَا (پس ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو) ۔ اس کے ساتھ ٹھہرنے سے۔ وَلَا تَحْزَنَ (اور وہ اس کی جدائی سے غم زدہ نہ ہو) ۔ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ (اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے) ۔ یعنی تاکہ اس کو مشاہدہ سے علم ہوجائے جیسا اطلاع سے علم ہوا۔
نحو : ولا تحزن کا عطف تَقَرَّ پر ہے اور ان کی ماں کے لئے وہ دینار حلال ہوگیا جس کو وہ ہر روز لیتی تھیں جیسا کہ سدی نے فرمایا کیونکہ وہ حربی کا مال تھا نہ یہ کہ وہ ان کے دودھ پلانے کی اجرت تھی۔
وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن ان کی اکثریت نہیں جانتی) ۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم کے تحت داخل ہے۔ یعنی اور تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ان کی اکثریت نہیں جانتی کہ وہ سچا ہے پس وہ شک کرنے لگتے ہیں۔ یہ ارشاد اس پر تعریض کے مشابہ ہے جو گھبراہٹ اس پر طاری ہوئی جب اس نے موسیٰ کی خبر سنی۔
Ayah 28:1414: وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ (جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) طاقت کی انتہاء کو پہنچے اور تکمیل قوت عقلیہ ہوچکی۔ اشُدٌّ۔ جمع شدۃ کی ہے جیسا نِعْمَۃ و اَنْعُمٌ۔ عند سیبویہ۔ وَاسْتَوٰٓی (اور درست ہوگئے) ۔ اعتدال کو پہنچ گئے اور ان کا عقلی استحکام ہوچکا۔ یہ چالیس سال کی عمر ہے۔ روایت کیا جاتا ہے کہ ہر پیغمبر کو چالیس سال کی انتہاء پر پیغمبر بنایا گیا۔
ٰاتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا (اور ہم نے ان کو حکم و علم عنایت فرمایا) ۔ حکم سے نبوت اور علم سے سمجھ یا مصالح دارین کا علم عنایت فرمایا۔ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (اور ہم اخلاص برتنے والوں کو اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں) ۔ جیسا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے ساتھ کیا۔ اسی طرح ہم مؤمنین کے ساتھ کرتے ہیں۔
قولِ زجاج۔ :
اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت کو احسان پر بدلہ قراردیا۔ کیونکہ یہ دونوں جنت کا ذریعہ ہیں۔ جو کہ محسنین کی جزاء ہے۔
العالم الحکیم سے وہ شخص مراد ہے جو اپنے علم پر عمل کرلے۔ کیونکہ ارشاد الٰہی ہے ولبئس ماشروا بہٖ انفسہم لوکانوا یعلمون۔ البقرہ۔ 102۔ علم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان کو جاہل قرار دیا گیا۔
Ayah 28:1515: وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ وہ (مصر کے) شہر میں داخل ہوئے۔ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا (جبکہ شہر والے بیخبر تھے) ۔ : یہ فاعل سے حال ہے۔ یعنی چھپ کر مغرب و عشاء کے درمیان یا قیلولہ کے وقت جبکہ نصف النہار کا وقت تھا۔ ایک قول یہ ہے۔ جب آپ جوان ہوئے اور عقل پختہ ہوئی تو حق کی بات کہنے لگے اور غلط باتوں پر نکیر کرنے لگے۔ فرعونیوں نے ان کو ڈرایا۔ پس آپ شہر میں مخفی طور پر داخل ہوئے۔ فَوَجَدَ فِیْہَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ہٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ (پس اس میں دو آدمی پائے جو باہمی لڑ رہے تھے ایک ان کے گروہ کا تھا) ۔ ان میں سے تھا جو بنی اسرائیل میں سے دین میں آپ کے ساتھ چلنے والے تھے۔ ایک قول : یہ سامری تھا۔
وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ (اور یہ اس کے دشمن میں سے) ان کے مخالفین اقباط میں سے۔ اس کا نام فاتون تھا۔ ان کے متعلق ہذا ٗ ہذا کہا گیا اگرچہ وہ غائب تھے۔ یہ علی سبیل الحکایت ہے۔ یعنی جب کوئی دیکھنے والا دیکھے تو کہے گا یہ اس کے گروہ میں سے ہے اور یہ اس کے دشمن گروہ سے۔ فَاسْتَغَاثَہُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِہٖ عَلَی الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّہٖ فَوَکَزَہٗ مُوْسٰی (اس شخص نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے گروہ میں سے تھے مدد طلب کی اس کے خلاف جو آپ کے دشمنوں میں سے تھا) ۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکہ مارا یا تھپڑ مارا۔ استغاثہ۔ مدد طلب کرنے کو کہتے ہیں۔ فَقَضٰی عَلَیْہِ (اس کا کام تمام ہوگیا) ۔ وہ مرگیا۔ قَالَ ہٰذَا (اس نے کہا) یہ۔ ہذا سے بلا قصد ہونے والے قتل کی طرف اشارہ کیا۔ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ (یہ شیطانی عمل ہے) ۔ قتل کافر کو شیطان کا عمل قرار دیا اور اس کو اپنے نفس کے لئے ظلم قرار دیا اور اس سے استغفار کیا۔ کیونکہ آپ ان میں مستأمن تھے اور کافر حربی کا قتل جائز نہیں۔ نمبر 2۔ اجازت قتل سے پہلے آپ نے اس کو قتل کردیا۔
قولِ ابن جریج۔ :
امر کے بغیر کسی پیغمبر کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ (وہ کھلا غلطی میں ڈالنے والا دشمن ہے) ۔ اس کی دشمنی ظاہر و باہر ہے۔
Ayah 28:1616: قَالَ رَبِّ (موسیٰ نے کہا اے میرے رب) ۔ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ (بےشک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا) ایسے فعل سے جو قتل پر منتج ہوا۔ فَاغْفِرْلِیْ (پس تو میری لغزش معاف فرما۔ ) فَغَفَرَلَہٗ (پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا) ۔ اس کی لغزش کو۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ (بیشک وہ بخشنے والا ہے) ۔ لغزشوں کا ازالہ کر کے۔ الرَّحِیْمُ (رحیم ہے) شرمندگی کا ازالہ فرما کر۔
Ayah 28:1717: قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا (کہا اے میرے رب اس لئے کہ آپ نے مجھ پر انعام فرمایا میں ہرگز پشت پناہ نہ بنوں گا) ۔ ظہیر۔ معاون۔ لِلْمُجْرِمِیْنَ (مجرمین کے لئے) ۔ کفار کے لئے بما انعمت علی۔ یہ قسم ہے۔ اس کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ میں تیرے انعام مغفرت کی قسم اٹھاتا ہوں میں توبہ کرتا ہوں پس میں ہرگز کافروں کا پشت پناہ نہ ہوں گا۔ نمبر 2۔ طلب مہربانی ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ اے میرے رب تو میری حفاظت فرما اس مغفرت والے انعام کے حق سے جو آپ نے مجھ پر فرمایا۔ اگر آپ نے میری حفاظت فرمائی تو میں ہرگز مجرموں کا معاون نہ بنوں گا۔ مجرمین کی پشت پناہی سے مراد فرعون کے ساتھ رہنا اور تمام کے ساتھ انتظام کرنا اور اس کی جماعت میں اضافہ کرنا۔ اس طرح کہ اس کے سواروں کے ساتھ اس طرح سوار ہوتے جیسے بیٹا والد کے ساتھ ہوتا ہے۔
Ayah 28:1818: فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَۃِ خَآپفًا (آپ نے شہر میں خوف کی حالت میں صبح کی) ۔ اپنے متعلق قتل قبطی کے سلسلہ میں خوف زدہ تھے کہ ان کو پکڑ لیا جائے۔ یَتَرَقَّبُ (انتظار کرتے) ۔ نحو : یہ حال ہے۔ ناپسند چیز کی توقع کرتے اور وہ اندیشہ انتقام تھا۔ یا نمبر 2۔ اطلاع قتل نمبر 3۔ جو کچھ اس کے بارے میں کہا جا رہا تھا۔
قول ابن عطاء m :
اپنے نفس کے متعلق خطرہ تھا اپنے رب کی مدد کے منتظر تھے۔
نحو : اس میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے ڈرنے میں حرج نہیں۔ بخلاف ان لوگوں کے جو اس کو درست قرار نہیں دیتے۔ فَاِذَا الَّذِی (اچانک وہ شخص جس نے) ۔ نحو : اذا مفاجات کے لئے ہے اور اس کا مابعد مبتدأ ہے۔ اسْتَنْصَرَہٗٗ (موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی تھی) ۔ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ۔ (کل گزشتہ وہی ان کو چیخ کر پکار رہا تھا) ۔ ان سے فریاد طلب کر رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اسی سابقہ اسرائیلی نے دوسرے قبطی کے خلاف مدد کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی۔ قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓی (موسیٰ (علیہ السلام) نے اسرائیلی کو فرمایا) ۔ اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ (تو بلاشبہ کھلا ہوا ٹیڑھا چلنے والا ہے) ۔ ہدایت سے ہٹا ہوا ہے جس کی گمراہی واضح ہے۔ تو نے کل گزشتہ ایک آدمی سے لڑائی مول لی۔ تیری وجہ سے جس کو میں نے قتل کردیا۔ عقل و سمجھ والا تو ایسی مصیبت اپنے اوپر ڈالتا ہی نہیں اور نہ اس پر جو اس کی امداد کرے۔
Ayah 28:19آیت 19: فَلَمَّا اَنْ اَرَادَ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا) ۔ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ (اس قبطی کی طرف ہاتھ بڑھائیں ) ۔ ہُوَ عَدُوٌّلَّہُمَا (جو دونوں کا دشمن تھا) ۔ یعنی موسیٰ و اسرائیلی کا کیونکہ وہ ان کے دین پر نہ تھا۔ اور قبطی بنی اسرائیل کے دشمن تھے۔ قَالَ (اس اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا) ۔ اس کو وہم و خیال ہوا کہ موسیٰ مجھے پکڑنے لگے ہیں نہ کہ قبطی کو اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو انک لغوی مبین فرمایا تھا۔ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا (اے موسیٰ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے جیسا کہ تو نے ایک جان کو قتل کیا) نفس سے قبطی مراد ہے۔ بِالْاَمْسِ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ جَبَّارًا (کل گزشتہ تو نہیں چاہتا مگر زور بٹھانا) ۔ اِن نافیہ ہے۔ جبارًا۔ (شدت غضب سے قتل کرنے والا) ۔ فِی الْاَرْضِ ارض سے مصر مراد ہے۔ وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ (اور تو صلح کرانے والوں میں سے بننا نہیں چاہتا) ۔ غصہ کو دبا کر۔ کل والے قبطی کا قتل تو لوگوں میں معروف تھا۔ لیکن قاتل معلوم نہ تھا۔ جب اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بات ظاہر کردی۔ تو قبطی کو معلوم ہوگیا کہ کل کا قاتل موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ اس نے جا کر فرعون کو اطلاع دی۔ پس انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پختہ ارادہ کرلیا۔
Ayah 28:2020 : وَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ (اور ایک آدمی شہر کے آخری کنارے سے آیا) ۔ یہ آل فرعون کا مومن ہی تھا۔ یہ فرعون کا چچا زاد تھا۔ یَسْعٰی (دوڑتا ہوا) ۔ نحو : یہ رجل کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ رجل سے حال ہے کیونکہ اس کی صفت من اقصی المدینۃ سے کی گئی ہے۔ قَالَ مُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ (کہا اے موسیٰ بلاشبہ سردار تمہارے متعلق مشورہ کر رہے ہیں تاکہ تمہیں قتل کردیں) ۔ وہ ایک دوسرے کو تیرے قتل کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ نمبر 2۔ وہ تیرے متعلق باہمی مشورہ کر رہے ہیں۔
الائتمار۔ (مشورہ کرنا) ۔ کہا جاتا ہے الرجلان یتأمران و یأتمران۔ وہ دو مشورہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو کسی چیز کا حکم دیتا ہے۔ یا کسی کام کا اشارہ کرتا ہے۔ فَاخْرُجْ (تو اس شہر سے نکل) ۔ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ (بیشک میں تیرا خیر خواہ ہوں) ۔ نحو : لک یہ بیان ہے۔ یہ ناصحین کا صلہ نہیں ہے کیونکہ صلہ موصول سے پہلے نہیں آسکتا۔ گویا عبارت اس طرح ہے۔ انی من الناصحین پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ لک تمہارا جیسا محاورہ میں کہتے ہیں۔ سقیًا لک و مرحبًا لک۔
Ayah 28:2121: فَخَرَجَ (پس موسیٰ (علیہ السلام) نکلے) ۔ مِنْہَا (اس شہر سے) خَأپفًا یَتَرَقَّبُ (ڈرتے ڈرتے ٹوہ لگاتے) کہ راستے میں کوئی تعرض کرنے والا نہ ہو یا کہیں ان کو قتل کرنے والا نہ آملے۔ اللہ کی مدد کی امید کرتے اور دشمنوں سے ڈرتے ہوئے نکل پڑے۔ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (کہا اے میرے رب تو مجھے ظالم قوم سے نجات عنایت فرما) ۔ یعنی قوم فرعون سے۔
Ayah 28:2222: وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَآئَ مَدْیَنَ (جب وہ مدین کی جانب چل دیئے) ۔ تلقاء۔ (جانب) ۔ التوجہ۔ (کسی چیز کی طرف پورے متوجہ ہونا) ۔ مدین۔ یہ شعیب (علیہ السلام) کا شہر ہے۔ اس کا نام مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا۔ یہ علاقہ سلطنت فرعون میں نہ تھا۔ اس کا مصر سے آٹھ دن رات کا پیدل سفر تھا۔
قول ابن عباس ؓ :
موسیٰ (علیہ السلام) نکلے مگر ان کو راستہ کا علم نہیں تھا۔ فقط اپنے رب پر حسن ظن تھا۔ قَالَ عَسٰی رَبِّیْ اَنْ یَّہْدِیَنِیْ سَوَآئَ السَّبِیْلِ (کہا امید ہے کہ میرا رب میری راہنمائی سیدھے راستہ کی طرف فرما دے گا) ۔ سواء : وسط اور بڑے راستہ کو کہا جاتا ہے پس ایک فرشتہ آیا اور ان کو مدین لے گیا۔
Ayah 28:2323: وَلَمَّا وَرَدَ (جب آپ پہنچے) ۔ مَآئَ مَدْیَنَ (مدین کے پانی پر) ۔ جس سے لوگ جانوروں کو پلاتے تھے۔ یہ کنواں تھا۔ وَجَدَ عَلَیْہِ (اس کنوئیں کے ایک جانب پایا) ۔ اُمَّۃً (بڑی جماعت کو) مِنَ النَّاسِ (مختلف انسانوں کی) ۔ یَسْقُوْنَ (وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے) ۔ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمْ (اور آپ نے پایا ان سے نچلی جانب) ۔ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ (دو عورتیں وہ روکنے والی تھیں اپنی بکریوں کو پانی سے) ۔ کیونکہ پانی پر ان سے قوی تر لوگ قابض تھے۔ وہ پلانے کی طاقت نہ رکھتی تھیں۔ نمبر 2۔ یا اس لئے کہ ان کی بکریاں دوسروں میں نہ مل جائیں۔ الذود : دور کرنا۔ ہانکنا۔ قَالَ مَا خَطْبُکُمَا (آپ نے فرمایا تمہارا کیا معاملہ ہے) ۔ یہ حقیقت میں اس طرح ہے ما مخطوبکما ؟ تمہارا ان بکریوں کو روکے رکھنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ نے مخطوب کو خطب سے تعبیر فرمایا۔ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ (دونوں نے کہا ہم اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلاتی ہیں) ۔ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَآئُ (یہاں تک کہ چرواہے لوٹا لے جائیں اپنے مویشیوں کو) ۔
قراءت : یَصْدُرُ ۔ شامی ٗ یزید ٗ ابوعمرو ٗ کی قراءت میں ہے۔ معنی یہ ہے : لوٹ جائیں۔ الرعاء جمع راع کی ہے۔ جیسا قائم کی جمع قیام ہے۔ وَاَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ (اور ہمارا والد بہت بوڑھا ہے) ۔ اور بکریوں کو پانی پلانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ کبیر سے مراد وہ اپنی حالت میں بڑا ہے یا عمر میں بڑا ہے۔ بکریوں کو چرانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پانی پلانے کی ذمہ داری سنبھالنے کا عذر واضح کردیا۔
Ayah 28:2424: فَسَقٰی لَہُمَا (پس آپ نے ان کو پلا دیا) ۔ ان کی بکریوں کو ان کی خاطر نیکی میں رغبت کرتے ہوئے اور مظلوم کی مدد کرتے ہوئے پانی پلادیا۔
روایت میں ہے :
آپ نے لوگوں کو کنوئیں سے ہٹایا۔ اور ان سے ڈول لیا۔ انہوں نے ڈول دے دیا۔ اور کہنے لگے اس سے پانی پلائو۔ اس ڈول کو چالیس آدمی کھینچتے تھے۔ آپ نے اس ڈول سے پانی نکالا۔ اور اس کو حوض میں ڈال کر برکت کی دعا فرمائی۔
ترک ِمفعول :
یسقون اور تذودان اور لا نسقی اور فسقٰی میں مفعول کو ترک کردیا گیا۔ کیونکہ اصل مقصد فعل ہے۔ مفعول نہیں۔ ذرا غور تو کریں۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان پر رحم آیا۔ کیونکہ وہ بکریوں کو روکے کھڑی تھیں۔ اور لوگ پلا رہے تھے اور ان پر رحم نہ کھا رہے تھے۔ کیونکہ ان کی روکی ہوئی بکریاں ہوں گی اور پانی والے اونٹ۔ اسی طرح لانسقی اور فسقٰی میں مقصود سقی ہے۔ پلانے والا نہیں اور ان کے جواب کی مطابقت کی وجہ موسیٰ (علیہ السلام) کا سوال تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے روکنے کا سبب دریافت کیا۔ تو دونوں نے عرض کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم عورتیں ہیں۔ جو کہ کمزور اور ضعیف ہیں۔ مردوں سے مزاحمت کی طاقت نہیں۔ اور اختلاط سے حیاء مانع ہے۔ اس لئے ہمارے حق میں ان کی فراغت تک تاخیر کرنا ضروری ہوگیا۔
شعیب ( علیہ السلام) کا عمل :
شعیب (علیہ السلام) کا اپنی بیٹیوں کے حق میں جانوروں کے چرانے اور پانی پلانے کا کام سپرد کرنا فی نفسہٖ جائز ہے۔ دین اس کا انکار نہیں کرتا۔ البتہ مروت اور لوگوں کی عادات اس سلسلہ میں مختلف ہیں۔ عرب کے حالات اس میں اہل عجم سے مختلف ہیں۔ شہری لوگوں کا راستہ اس میں دیہاتیوں سے جدا جدا ہے۔ خصوصًا جبکہ ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ کار نہ ہو۔ ثُمَّ تَوَلّٰی اِلَی الظِّلِّ (پھر وہ سایے کی طرف لوٹ گئے) ۔ کیکر کے درخت کا سایہ۔
نحو : دنیا میں استراحت کا جواز اس سے نکلتا ہے۔ اگرچہ شدت پسند صوفیوں کا مذہب اس کے خلاف ہے۔ جب آزمائش طویل ہوجائے تو مولیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرنا نقص نہیں۔
فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ (کہا اے میرے رب جو کچھ آپ نعمت مجھے بھیج دیں بیشک میں اس کا) ۔ خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ۔ موٹی ہو یا چھوٹی۔ فَقِیْرٌ (محتاج ہوں) ۔ فقیر لام سے متعدی بنایا گیا۔ کیونکہ یہ سائل و طالب کے معنی کو متضمن ہے۔
ایک قول یہ ہے :
انہوں نے سات روز سے کھانا چکھا تک نہیں تھا۔ آپ کی پشت سے پیٹ جا لگا تھا۔
ایک احتمال :
یہ ہے کہ یہ مراد لی جائے انّی فقیر من الدنیا لاجل ما انزلت الی من خیر الدارین وہو النجاۃ میں دنیا میں محتاج ہوں اس لئے کہ آپ نے میری طرف دونوں جہان کی خیر یعنی نجات اتاری ہے۔ کیونکہ فرعون کے پاس رہتے ہوئے دولت و بادشاہت والے تھے۔ یہ بات آپ نے اللہ تعالیٰ کے روشن عدل پر خوش ہو کر شکریہ میں کہی۔ قول ابن عطاء (رح) : عبودیت کی نگاہ سے ربوبیت کو دیکھا اسی لئے محتاجی کی زبان سے بات کی اس لئے کہ اپنے اندروں انوار پائے۔
Ayah 28:2525: فَجَآئَ تْہُ اِحْدٰہُمَآ تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآئٍ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ (پس ان میں سے ایک موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی جو شرمائی ہوئی تھی) ۔ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا (چلتی تھی اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آپ نے ہماری خاطر پانی پلایا ہے) ۔ نحو : علی استحیائٍ یہ حال ہے تمشی کی ضمیر سے اے مستحیۃً ۔
یہ آیت اس عورت کے کمال ایمان کی دلیل ہے اور عفت و حیا کی گواہی ہے۔ کیونکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مہمانی کی دعوت دے رہی تھی آیا وہ یہ نہ جانتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کو قبول کریں گے یا کہ نہیں۔ پس وہ ان کے پاس حیاء کے ساتھ اپنے کرتے کی آستین کو اوڑھنی بنائے ہوئے حاضر ہوئی۔
نحو : ماسقیت میں ما مصدریہ ہے۔ ای جزاء سقیک۔ روایت میں ہے کہ جب وہ لوگوں سے پہلے اپنے والد کی طرف لوٹ کر گئیں اور ان کی بکریاں دودھ سے بھری تھیں۔ والد نے ان سے سوال کیا۔ آج تم جلد کیوں لوٹ آئیں۔ دونوں نے جواب دیا۔ ہم نے آج ایک نیک آدمی پایا جس نے ہم پر رحم کھا کر ہماری بکریوں کو پانی پلا دیا۔ والد نے ان میں سے ایک سے کہا تم جا کر اس آدمی کو بلا لائو۔ وہ آئیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے چلے۔ ہوا نے کپڑے کو اس کے جسم سے چمٹا دیا جس سے اس کے جسم کے کچھ حصہ کی کیفیت ظاہری ہوئی۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے کہا۔ تم میرے پیچھے چلو اور راستہ بتلاتی جائو۔ فَلَمَّا جَآئَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ (جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچ گئے اور اپنے واقعہ کو بیان کیا) ۔ اپنا واقعہ اور فرعون کے ساتھ گزرنے والے حالات۔ القصص مصدر ہے۔ مقصوص کو قصہ کہا۔ قَالَ (اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا) ۔ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (تم ڈرو نہیں ظالم قوم سے تم نے نجات پالی ہے) ۔ کیونکہ اس سرزمین میں فرعون کی حکومت نہیں۔
مسائل : نمبر 1۔ اس میں دلیل ہے کہ خبر واحد پر عمل جائز ہے۔ اگرچہ خبر دینے والا غلام و عورت ہی کیوں نہ ہو۔ نمبر 2۔ اس احتیاط و پاکبازی کے ساتھ اجنبیہ کے ساتھ چلنا درست ہے۔ نمبر 3۔ نیکی و احسان پر اجر و مزدوری لینے میں بعض نے ضرورت کے وقت جواز نقل کیا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت ضرورت تھی۔ نمبر 4۔ اس کے باوجود مروی ہے کہ جب اس عورت نے کہا۔ لیجزیک تو آپ نے ناپسند کیا۔ مگر اس کی بات کو قبول کرلیا تاکہ اس کا مقصد ِآمد فوت نہ ہو۔ کیونکہ ایک عورت تھی۔ جب شعیب (علیہ السلام) نے کھانا رکھا تو آپ نے ہاتھ ہٹا لیا۔ شعیب (علیہ السلام) نے دریافت کیا۔ کیا تمہیں بھوک نہیں ؟ آپ نے کہا کیوں نہیں ! لیکن مجھے خطرہ ہے کہ یہ پانی پلانے کا بدلہ نہ بن جائے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا۔ ہم لوگ اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت نہیں کرتے اور نہ ہی نیکی پر قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ کھانے کی خدمت تو ہماری ہر آنے والے مہمان کے ساتھ ہے۔
Ayah 28:2626: قَالَتْ اِحْدٰہُمَا یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ (ان میں سے ایک نے کہا اے ابا جی ! اس کو اجیر بنالیں) ۔ اس کو بکریاں چرانے والا مزدور بنالیں۔ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجِرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (ان میں سے بہتر جس کو آپ مزدور بنائیں جو امانت دار اور طاقتور ہو) ۔ شعیب (علیہ السلام) نے کہا تمہیں اس کی امانت وقوت کا کیسے علم ہوا۔ اس نے ڈول والا واقعہ ذکر کردیا اور پیچھے چلنے کا حکم دینے والے واقعہ کا۔
نکتہ : استأجرت ماضی کے لفظ سے لائے۔ تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ اس کی امانت و قوت دونوں قطعی چیزیں ہیں۔ اور لڑکی کا مقولہ ان خیر من استأجرت القوی الامین۔ یہ جامع کلام ہے۔ اس میں اس نے بتلا دیا کہ جب اس ذمہ دار میں یہ دو خصلتیں جمع ہوجائیں۔ تو آپ کا دل خدشات سے خالی ہوجائے گا اور مقصود بھی حاصل ہوجائے گا۔
ایک قول :
القوی سے قوی فی الدین مراد ہے۔ الامین۔ امین ہمسائیگی میں۔ اس مثل کے قائم مقام کلام نے اس قسم کی باتوں سے بےنیاز کردیا۔ استأجرہ لقوتہ وامانتہٖ ۔
قول ابن مسعود۔ :
لوگوں میں فراست والے تین آدمی گزرے ہیں۔ نمبر 1۔ شعیب (علیہ السلام) کی لڑکی جس نے یہ کہا۔ نمبر 2۔ یوسف (علیہ السلام) کا صاحب جس نے عسی ان ینفعنا (یوسف۔ 21) کہا۔ نمبر 3۔ ابوبکر صدیق جنہوں نے عمر ؓ کو خلیفہ بنایا۔
Ayah 28:2727: قَالَ اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیْنِ (شعیب (علیہ السلام) نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میں ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کر دوں) ۔ انکحک کا معنی شادی کرنا ہے۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ان کے علاوہ بیٹیاں بھی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے وعدہ ہے۔ یہ عقد نکاح نہیں تھا۔ اگر عقد ہوتا تو اس طرح کہتے ہیں۔ قد انکحتک عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ (اس شرط پر کہ تو آٹھ سال میری ملازمت کرلے) ۔ تاجر یہ اجرتہ سے ماخوذ ہے جب کسی کے ہاں مزدوری کی جائے۔ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ (آٹھ سال) ۔ یہ تأجر کا ظرف ہے۔ الحجۃ۔ سال کو کہتے ہیں اس کی جمع حجج ہے۔
مسئلہ : بکریاں چرانے پر شادی بالا جماع جائز ہے۔ کیونکہ یہ شادی کو قائم کرنے والے معاملات کی قسم سے ہے۔ اس لئے اس پر اعتراض نہیں۔ بخلاف تزوج علی الخدمۃ کے۔ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا (اگر تم نے پورے دس سال کام کیا) ۔ فَمِنْ عِنْدِکَ (تو یہ تیری جانب سے ہے) ۔ یعنی یہ تیری مہربانی ہے۔ تم پر لازم نہیں یا اس کی تکمیل تیری طرف سے ہے۔ میں اس میں تم پر کوئی حتمی بات لازم نہیں کرتا۔ لیکن اگر تم کردو تو یہ تمہاری طرف سے مہربانی اور تبرع شمار ہوگا۔ وَمَآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ (اور میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا ) ۔ کہ دونوں مدتوں میں سے کامل ترین مدت ضرور تم پوری کرو۔ اشق علیہ کی حقیقت یہ ہے شققت علیہ وشق علیہ الامر۔ جبکہ وہ معاملہ گراں گزرے اور تمہارا گمان دو حصوں میں بٹ جائے۔ کبھی تم کہو کہ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور کبھی کہے میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (عنقریب تم مجھے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا نیکوں میں سے پائو گے) ۔ جو حسن معاملہ سے پیش آتے ہیں۔
شرطِ وعدہ :
انشاء اللہ کے ساتھ اپنے وعدے کو مشروط کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و معونت پر اعتماد اور بھروسہ ثابت ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو کوئی کام ہوسکتا ہے اور اگر نہ چاہے تو نہیں ہوسکتا۔
Ayah 28:2828: قَالَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا) ۔ ذٰلِکَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ (یہ میرے اور تیرے درمیان ہے) ۔ نحو : ذلک مبتدأ اور بینی و بینک خبر ہے۔ مراد یہ ہے جو تم نے کہا اور مجھ سے معاہدہ کیا اور اس پر شرائط مقرر کیں۔ وہ ہمارے درمیان طے ہوگیا۔ ہم میں سے کوئی اس سے نہ نکلے۔ نہ ہی میں ان شرائط کی خلاف ورزی کروں اور نہ آپ اپنی مقرر کردہ شرائط سے پھریں پھر کہا۔ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ (دونوں میں سے جو مدت میں پوری کر دوں) ۔ ان دونوں مدتوں میں سے۔ آٹھ ہوں یا دس۔
نحو : قضیت کی وجہ سے ای منصوب ہے اور ما تاکید کے لئے زائد ہے۔ کیونکہ ای مبہم ہے۔ یہ ما شرط کا معنی دے رہا ہے اور اس کا جواب فَلاَ عُدْوَانَ عَلَیَّ ہے۔ یعنی اس پر اضافہ کرنے میں مجھ پر تعدی نہ کی جائے گی۔
قول مبرد۔ :
موسیٰ ( علیہ السلام) نے معلوم کرلیا کہ تکمیل میں اگرچہ مجھ پر زیادتی نہ ہوگی۔ لیکن انہوں نے دونوں مدتوں کو جمع کردیا تاکہ قلیل مدت وفا میں طے شدہ سمجھی جائے۔ اور جس طرح دس سال کی کامل مدت پر اضافہ ادھر سے عدوان بنتا تھا اسی طرح اقل مدت میں اور قلت کا مطالبہ تعدی تھی۔ وَاللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ وَکِیْلٌ (اور اللہ تعالیٰ اس پر جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہیں) ۔ وکیل کو وکل الیہ الامر جن کو معاملہ سپرد کیا جائے سے لیا گیا۔ اور علیٰ سے یہاں اس کو متعدی لایا گیا۔ کیونکہ یہاں یہ گواہ اور نگران کے معنی میں آیا ہے۔
روایت میں ہے کہ شعیب (علیہ السلام) کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کی ایک لاٹھی چلتی آرہی تھی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رات کے وقت کہا اس کمرے میں داخل ہو کر ان لاٹھیوں میں سے ایک لے لو۔ آپ نے وہ لاٹھی لے لی جس کو لے کر آدم (علیہ السلام) زمین پر تشریف لائے تھے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) اس کے وارث چلے آرہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ شعیب (علیہ السلام) تک پہنچی۔ موسیٰ (علیہ السلام) جو لاٹھی اٹھا کر لائے شعیب (علیہ السلام) نے اس کو چھوا تو باوجود نابینا ہونے کے وہ پہچان گئے۔ آپ نے فرمایا اور کوئی لائو۔ اسی طرح سات مرتبہ ہوا۔ یہی لاٹھی سات مرتبہ ان کے ہاتھ میں آئی۔ پس شعیب (علیہ السلام) نے جان لیا کہ اس کو عظیم الشان مرتبہ ملنے والا ہے۔ جب صبح ہوئی تو شعیب (علیہ السلام) نے کہا۔ جب تم چلتے چلتے چورا ہے پر پہنچو تو دائیں جانب کے گھاس کو مت چرائو اگرچہ وہاں گھاس زیادہ ہے مگر وہاں سانپ ہے جس سے میں تمہارے اور بکریوں کے متعلق خطرہ محسوس کرتا ہوں۔ آپ نے بکریوں کو لیا۔ مگر ان کو دائیں جانب سے نہ روک سکے۔ ان کے پیچھے چلتے گئے۔ اچانک اس جگہ عمدہ گھاس اور کھیت تھے جن جیسے کہیں نظر نہ پڑتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) سو گئے۔ تو سانپ کی آواز سنائی دی۔ لاٹھی نے اس سانپ کا مقابلہ کر کے اس کو ہلاک کردیا۔ اور خون آلود موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ کر آگئی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) لکڑی کو خون سے آلودہ اور آواز کو بند پایا تو راحت محسوس کی۔ جب شعیب (علیہ السلام) کی طرف لوٹے تو بکریوں کے پیٹ بھرے تھے اور ان کے پستانوں سے دودھ امڈ رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بات کی اطلاع دی وہ بڑے خوش ہوئے ان کو معلوم ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور لاٹھی کو ایک عجیب شان حاصل ہے۔ پھر فرمایا۔ میں نے اپنی بکریوں کے بچوں میں سے جو ابلق پیدا ہو وہ دے دیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خواب میں اشارہ ہوا کہ اپنی لاٹھی کو بکریوں کے پانی پینے کی جگہ میں ماردو انہوں نے ایسا کردیا۔ جس بکری نے وہ پانی پیا اس نے ابلق بچہ جنا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی شرط کو پورا کردیا۔
Ayahs 28:29–3029: فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت کو پورا کیا) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپ نے مدت کامل ترین پوری کی اور شادی ان دونوں میں سے چھوٹی سے کی۔ (یہ ہیثمی کی روایت ہے) مگر یہ گزشتہ روایت کے خلاف ہے۔ وَسَارَ بِاَہْلِہٖ (آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چلے) ۔ اہل سے مراد بیوی کو مصر کی طرف لے کرچلے۔
قول ابن عطاء m :
جب آپ نے مشقت کا زمانہ پورا کرلیا تو قرب کا زمانہ قریب آن لگا۔ انوار نبوت ظاہر ہونے لگے۔ اپنے گھر والوں کو لے کر مصر روانہ ہوئے تاکہ بیوی بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں میں شریک حال ہو۔ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِاَہْلِہِ امْکُثُوْا اِنِّیْ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْ اٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ (طور کی جانب آگ کو دیکھا۔ آپ نے اپنے گھر والوں کو کہا تم ٹھہرو میں آگ دیکھ رہا ہوں۔ شاید وہاں سے کوئی خبر لائوں) ۔ راستہ کے متعلق کیونکہ آپ راستہ بھول گئے تھے۔ اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ فَلَمَّا اَتٰہَا نُوْدِیَ (یا آگ کی جلتی لکڑی تاکہ تم تاپ سکو۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ) ۔ مِنْ شَاطِیئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ (پر پہنچے تو برکت والی وادی کے دائیں کنارے سے آواز دی گئی) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت دایاں۔ فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَکَۃِ (مبارک بقعہ میں) ۔ اس مقام میں شرف کلام بخشنے کے سبب۔ مِنَ الشَّجَرَۃِ (درخت سے) ۔ یہ درخت عناب یا عوسج کا تھا۔ اَنْ یّٰمُوْسٰی (کہ اے موسیٰ ) ۔
نحو : یہ ان مفسرہ ہے یا مخففہ من المثقلہ ہے۔ اِنِّیْ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (بلاشبہ میں ہی رب العالمین ہوں) ۔
قولِ جعفر۔ :
انہوں نے آگ دیکھی جس نے ان کی انوار کی طرف راہنمائی کی اس لئے کہ انہوں نے نور کو نار کی شکل میں دیکھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچے تو ان کو انوار قدسیہ نے گھیرے میں لے لیا۔ اور موانست کی چادریں ان پر ڈال دی گئیں۔ انتہائی لطیف انداز سے ان کو خطاب کیا گیا۔ اور ان سے بہترین جواب دلایا گیا۔ پس اس طرح وہ اعلیٰ مرتبہ والے متکلم بن گئے۔ جو انہوں نے مانگا وہ مل گیا۔ خوف سے ان کو مطمئن کردیا۔
قراءت : الجذوۃ۔ تینوں لغات سے پڑھا گیا ہے۔ عاصم نے فتحہ اور حمزہ و خلف نے ضمہ اور دیگر قراء نے کسرہ پڑھا ہے۔ اس موٹی لکڑی کو کہتے ہیں جس کے سرے پر خواہ آگ ہو یا نہ ہو۔
پہلا مِن اور دوسرا ابتدائے غایت کے لئے ہے۔ یعنی درخت کی جانب وادی کے کنارے سے ان کو آواز آئی۔ من الشجرۃ۔ یہ من شاطی الواد کا بدل الاشتمال ہے۔ کیونکہ درخت وادی کے کنارے پر اگا ہوا تھا۔
Ayah 28:3131: وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ (اور یہ کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ) ۔ اور ان کو آواز دی گئی کہ اپنی لاٹھی ڈال دو انہوں نے ڈال دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو سانپ سے بدل دیا۔ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حرکت کرتے دیکھا) ۔ تہتز کا معنی حرکت کرنا۔ کَاَنَّہَا جَآنٌّ (گویا کہ وہ سانپ ہے) ۔ دوڑنے میں چھوٹا سانپ اور جسامت میں بڑا سانپ۔ وَلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ (پشت پھیر کر بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا ) ۔ لم یعقب کا معنی نہ لوٹے۔ پس ان کو کہا گیا۔ یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ (اے موسیٰ متوجہ ہو اور ڈرو نہیں بیشک تو امن والوں میں سے ہے) ۔ یعنی تو اس سے امن میں ہے کہ سانپ کی طرف سے تجھے کوئی ناپسندیدہ چیز پیش آئے۔