27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 27:1

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

1: طٰٰسٓٓ تِلْکَ اٰیٰتُ القُرْاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ ہُدًی و بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (طس۔ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ وہ ایمان والوں کیلئے ہدایت و بشارت ہے) ۔ کتاب مبین ای آیات کتاب مبین۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ تِلْکَ سے سورت کی آیات کی طرف اشارہ ہے اور کتاب مبین سے لوح محفوظ مراد ہے۔ مبین کا معنی : مبین کا معنی نمبر 1۔ ابانت و ظہور ہے اور اس کے ظہور کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ ہونے والا اس میں ظاہر کردیا گیا اس میں دیکھنے والوں کے لئے قرآن کی آیات واضح ہیں۔ نمبر 2۔ کتاب مبین سے قرآن مجید مراد ہے اور اس کے ابانت کا مطلب یہ ہے کہ جو حکمتیں اور علوم اس میں بیان کیے گئے یہ ان کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ اس صورت میں عطف صفۃ علی الصفۃ الاخری کی قسم سے ہوگا۔ مثلاً ہذا فعل السخی والجواد۔ وجہ تنکیر : کتاب کو نکرہ تفخیم شان کے لئے لایا گیا ہے۔ ایک قول : یہاں کتاب کو نکرہ اور سورة الحجر میں معرفہ لائے۔ اور یہاں قرآن کو معرفہ اور وہاں نکرہ لایا گیا۔ کیونکہ القرآن اور الکتاب دونوں اسم علم ہیں اور آنحضرت ﷺ پر منز ّل شدہ وحی متلو کو کہتے ہیں اور اس کے وصف ہیں اس لئے کہ وہ کتاب پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ پس اس حیثیت سے بطور علم معرفہ لائے اور اس حیثیت سے کہ یہ اسی کی صفتیں ہیں تو صفت کا لحاظ کر کے نکرہ لائے۔
Ayah 27:2

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

2: ہُدًی وَّبُشْرٰی (وہ ہدایت و بشارت ہے) ۔ آیات سے حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہیں۔ مطلب یہ ہوا یہ آیات راہنمائی کرنے والی اور بشارت دینے والی ہیں۔ ان میں عامل وہی ہے جو تلک کا عامل ہے۔ یعنی نمبر 1۔ اشارہ کا معنی۔ نمبر 2۔ مجرور ہے اس طور پر کہ یہ کتاب سے بدل ہے۔ نمبر 3۔ کتاب کی صفت ہونے کی بناء پر مجرور ہے۔ نمبر 4۔ مرفوع ہیں ان کا مبتدأ محذوف ہے ہدًی و بشری۔ نمبر 5۔ آیات کا بدل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ نمبر 6۔ تلک کی دوسری خبر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے تلک آیات وہادیۃ من الضلالۃ و مبشرۃ بالجنۃ۔ وہ آیات ہیں اور وہ گمراہی سے ہدایت بخشنے والی اور جنت کی خوشخبری والی ہیں۔ ایک قول : ہدی لجمیع الخلق و بشرٰی لِلْمُؤْمِنِیْن خاصۃ۔ یہ تمام مخلوق کے لئے ہدایت اور مومن کے لئے خصوصًا خوشخبری دینے والی ہیں۔
Ayah 27:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں

تکرارِ ضمیر کا فائدہ : 3: الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ (ـجو نماز قائم کرتے ہیں) اس کے فرائض و سنن پر مداومت اختیار کرنے والے ہیں۔ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (اور وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں) اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ (اور وہی آخرت پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں) ۔ یہ نمبر 1۔ الذین کے صلات میں سے صلہ ہے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے پہلے صلہ پورا ہوجائے اور یہ نمبر 2۔ جملہ معترضہ ہو۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ہؤلاء الذین یؤمنون ویعملون الصالحات من اقامۃ الصلاۃ وایتاء الزکاۃ ہم الموقنون بالآخرۃ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے جیسے اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کرتے رہے وہ آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں اور اس پر دلالت موجود ہے۔ جملہ اسمیہ لایا گیا اور اس میں ہم مبتدأ کو تکرار کے ساتھ لائے۔ یہاں تک کہ اس کا معنی اس طرح بن گیا۔ اگر آخرت پر کسی کو یقین ہے تو وہ یہی لوگ ہیں جو ایمان و عمل صالح کو جمع کرنے والے ہیں۔ کیونکہ انجام کا خوف ان کو مشقتیں اٹھانے کیلئے آمادہ کرتا ہے۔
Ayah 27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

4: اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ یَّنَّالَہُمْ اَعْمَالَہُمْ (بیشک وہ لوگ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ہم نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کردیا ) ۔ ان میں شہوت پیدا کر کے یہاں تک کہ وہ اس کو اچھا سمجھنے لگے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے۔ افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا [ فاطر : 8] فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ (پس وہ سرگرداں و حیران ہیں) اپنی گمراہی میں متردد ہیں۔ جیسا کہ راستہ سے گم گشتہ شخص کا حال ہوتا ہے۔
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

5: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ لَہُمْ سُوْئُ الْعَذَابِ : (یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے) ۔ قتل و قید کا جو بدر کے دن پیش آگیا۔ اس لئے کہ ان کے اعمال برے تھے۔ وَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ (اور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں) ۔ وہ خسارے میں تمام لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ ایمان لے آتے تو تمام امتوں پر گواہ بنتے۔ پس ان کو یہ نقصان بھی ہوا اور نقصان نجات اور نقصان ثواب اللہ تو اس سے زائد ہے۔
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

تمہیدی آیت : 6: وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْ ٰانَ (اور بیشک آپ کو قرآن دیا جا رہا ہے) ۔ تاکہ آپ اس کو لیں اور حاصل کریں۔ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ (حکمت والی علم والی ذات کی طرف سے) کتنے بڑے علیم اور کتنے بڑے حکیم کی طرف سے۔ اور یہ معنی ان دونوں کے نکرہ لانے سے ہے۔ یہ آیت بعد والے واقعات کے لئے بطور تمہید لائی گئی ہے اور ان میں جو اللہ تعالیٰ کی لطیف حکمتیں اور علمی نکات ہیں ان کے لئے ابتدائیہ ہے۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستہ کا) پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارا تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

واقعہ موسیٰ ( علیہ السلام) مدین سے مصر واپسی : 7: اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓٓ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں کو کہا) ۔ اذ۔ اذکر کی وجہ سے منصوب ہے گویا اس طرح فرمایا لو ! اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حکمت و علم کے آثار سے یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اہلہ سے ان کی زوجہ محترمہ مراد ہیں اور ان کے ساتھ جو مدین سے مصر واپسی میں ان کے ساتھ تھے۔ اِنِّیْ ٰانَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ (بیشک میں نے آگ دیکھی ہے۔ میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر ضرور لاؤنگا) ۔ جو راستہ کے حالات سے متعلق ہو کیونکہ آپ راستہ بھول گئے تھے۔ اَوْ ٰاتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ (یا تمہارے پاس کوئی بھڑکتی آگ کا شعلہ لے کر آئوں گا) ۔ قراءت : کوفی قراء نے شہاب کو تنوین سے پڑھا ہے۔ شہاب روشن شعلے کو کہتے ہیں۔ قبس۔ چنگاری۔ قبس یہ بدل ہے یا صفت ہے۔ دیگر قراء نے بشہاب قبس۔ اضافت سے پڑھا ہے۔ کیونکہ شہاب کی دو قسمیں ہیں قبس اور غیر قبس۔ ایک نکتہ : یہاں ساتیکم اور القصص۔ 29 میں لعلی اتیکم ہے ان دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ ایک سے رجاء اور دوسرے سے تیقن ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ جب امید پختہ ہوجائے تو یوں کہا جاتا ہے۔ سافعل کذا و سیکون کذا۔ اگرچہ اس میں ناکامی کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ سین تسویف لا کر آپ نے اپنے اہل سے آگ لانے کا وعدہ فرمایا ٗ خواہ اس میں آہستگی ہو یا فاصلہ زیادہ ہو۔ لفظ اَوْ کا فائدہ : اَوْ اس لئے لائے کہ یہ ظاہر ہو کہ اگر وہ اپنی کامل ضرورت نہ پا سکے تو کم از کم ایک سے محروم نہ ہونگے۔ خواہ راستہ کی راہ نمائی خواہ آگ کی چنگاری اور ان کو معلوم نہ تھا کہ اس آگ پر تو ان کی دو حاجتیں مکمل پوری ہوجائیں گی۔ وہ دنیا کی عزت اور آخرت کا شرف۔ مسئلہ : ان دونوں سورتوں میں ایک قصہ کو مختلف الفاظ سے لانا اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث بالمعنی نقل کرنا بھی درست ہے۔ اسی طرح فارسی میں نماز کا جواز (یہ مرجوح قول ہے) اور نکاح اور تزویج کے الفاظ کے بغیر جواز نکاح۔ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ (تاکہ تم تاپ لو) ۔ آگ سے اس سردی کو دور کرلو جو تمہیں پہنچ چکی ہے۔ تصطلون میں طاء یہ تائے افتعل کے بدلہ میں صاد کی وجہ سے آئی ہے۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (بجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے

نری برکت : 8: فَلَمَّا جَآئَ ہَا (پس جب وہ آگ کے پاس پہنچے) ۔ ہا سے مراد وہ آگ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھی تھی۔ نُوْدِیَ (موسیٰ کو آواز دی گئی) ۔ اَنْ بُوْرِکَ (کہ اس پر برکت ہے) ۔ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا 1۔ (جو آگ میں ہیں اور اسکے اردگرد ہیں) نحو : ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ نودی موسٰی بانہ بورک۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی اس لئے کہ ان کو برکت دی گئی۔ اس میں ضمیر شان کی ہے۔ اور یہ ضمیر بلا عوض بھی لانی درست ہے۔ اگرچہ زمخشری اس کو نہیں مانتے دلیل یہ ہے کہ بورک دعا ہے۔ دعا کے احکام دیگر نحوی قوانین سے بہت مختلف ہیں۔ نمبر 2۔ اَن مفسرہ ہے کیونکہ نداء میں قول کا معنی پایا جاتا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے قیل لہ بورک ای قدس یا جعل البرکۃ والخیر فی من فی النار ومن حولہا ای بورک من فی مکان النار وہم الملائکۃ ومن حول مکان لہا ای موسٰی ان کو کہا گیا۔ بورک یعنی مقدس بنادیا گیا۔ یا برکت و خیر ان میں رکھ دی گئی جو آگ میں اور جو اس کے اردگرد ہیں یعنی جو آگ کی جگہ میں ہیں ان کو برکت دی گئی اور وہ ملائکہ ہیں اور ان کو برکت دی گئی جو آگ کی جگہ کے گرد ہیں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اس لئے کہ اس جگہ میں ایک دینی معاملہ پیش آیا اور وہ موسیٰ سے اللہ تعالیٰ کا کلام فرمانا ہے۔ اور ان کا نبوت ملنا اور معجزات کا ظاہر ہونا۔ وَ سُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ پاک ہے جو رب العالمین ہیں) ۔ یہ بھی اس نداء میں سے ہے۔ اس میں ذات باری تعالیٰ نے اپنے کو تشبہ وغیرہ جو اس کی ذات کے لائق نہیں ہے منزہ قرار دیا۔ تاکہ درخت ٗ آگ ٗ نداء سے کوئی تشبہ و حول نہ نکال سکے۔
Ayah 27:9

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

پاک ہے اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب و دانا ہوں

9: یٰمُوْسٰی اِنَّہٗ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (اے موسیٰ حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں جو غالب اور حکمت والا ہے) انہ میں ضمیر شان ہے۔ اَنَا اللّٰہُ ۔ مبتدأ و خبر ہیں۔ العَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ یہ دونوں خبر کی صفات ہیں یا ہٗ ضمیر اس طرف لوٹتی ہے جس پر ماقبل کی دلالت ہے یعنی اَن مکلمک انا اور اللہ یہ انا کا بیان ہے۔ العزیز الحکیم۔ اور یہ مبین کی صفات ہیں۔ یہ ان معجزات کی تمہید ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر کیے جانے والے تھے۔
Ayah 27:10

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈالدو جب اسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

10: وَاَلْقِ عَصَاکَ (اور تم اپنی لاٹھی پھینک دو ) ۔ تاکہ تمہیں اپنی نبوت کا معجزہ معلوم ہو اور تو اس سے مانوس ہوجائے۔ اس کا عطف بورک پر ہے۔ کیونکہ معنی اس طرح ہے۔ نودی ان بورک من فی النار و ان الق عصاک۔ یہ دونوں نودی کی تفسیر ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کو کہا گیا برکت دی گئی اس کو جو آگ میں ہے اور ان کو کہا گیا۔ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ۔ اس پر دلالت کے لئے سورة قصص کی یہ آیت وان الق عصاک القصص۔ 31۔ جو کہ ان یا موسٰی انی انا اللہ کے بعد حرف تفسیر کو دوبارہ لا کر ذکر کی گئی۔ فَلَمَّا رَ ٰاہَا تَہْتَزُّ (جب اس کو حرکت کرتے دیکھا) ۔ نحو : یہ رآہا کی ہا سے حال ہے۔ کَاَنَّہَا جَآنٌّ۔ (گویا وہ ہلکا پھلکا سانپ ہے) ۔ چھوٹا سانپ۔ نحو : تہتز کی ضمیر سے حال ہے۔ وَلّٰی (موسیٰ (علیہ السلام) مڑے) ۔ مُدْبِرًا (اس سے پیٹھ پھیر کر) اور اس کو پشت کی جانب خوف کی وجہ سے کردیا کہ کہیں وہ حملہ آور نہ ہو۔ وَلَمْ یُعَقِّبْ (اور متوجہ بھی نہ ہوئے) ۔ یا نہ لوٹے اہل عرب کہتے ہیں قد عقب فلان۔ جبکہ وہ لوٹ کر لڑنا شروع کر دے۔ اس کے بعد کہ وہ پیٹھ پھیر کر جا چکا تھا۔ پس ان کو آواز دی گئی۔ یٰمُوْسٰی لَا تَخَفْ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ (اے موسیٰ ڈرو نہیں میرے ہاں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) ۔ میرے مخاطبت کے وقت پیغمبر میری بارگاہ میں ڈرا نہیں کرتے۔ یا نمبر 2۔ میرے ہاں پیغمبر دوسروں سے ڈرا نہیں کرتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو خوف پیدا ہوا وہ طبعی تھا اور ممانعت خوف عقلی کی ہے۔
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

11: اِلاَّ مَنْ ظَلَمَ (مگر وہ جس سے قصور ہوا) لیکن جس نے قصور کیا دوسروں میں سے۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) ظلم نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ لیکن جس نے قصور کیا ان میں سے۔ مرسلین میں سے جس سے لغزش ہوگئی۔ جو اس کے مرتبہ عالی کے مناسب نہ تھی۔ اگرچہ وہ فی نفسہٖ درست ہو۔ جیسا کہ آدم (علیہ السلام) سے جلد بازی اور یونس ٗ سلیمان ٗ دائود (علیہم السلام) سے جلدی ہوئی۔ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا (پھر اس نے اس کو اچھائی سے بدل لیا) یعنی توبہ کرلی۔ بَعْدَ سُوْئٍ (لغزش کے بعد) ۔ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (پس بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں) ۔ اس کی توبہ کو قبول کرتا اور لغزش کو بخش دیتا اور اس پر رحم کرتا ہوں اور اس کی امید کو پورا کردیتا ہوں۔ گویا یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قول پر تعریض ہے جبکہ قبطی ان کے مکہ سے مرگیا ہے۔ جیسا دوسری جگہ فرمایا : رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ۔ القصص۔ 16۔
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا بےعیب (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اسکی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں

12: وَاَدْخِلْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ (اپنے ہاتھ کو اپنی قمیص کے اندر داخل کرو) ۔ اور اس کو نکالو۔ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ (وہ سفید ہو کر نکلے گا) ۔ اس کی چمک نور آفتاب پر غالب آجائے گی۔ مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ (بغیر کسی خرابی کے) ۔ برص وغیرہ کی۔ نحو : بیضاء اور مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ دونوں حال ہیں۔ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ (نو معجزات میں ہیں) ۔ : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اور فی کا تعلق محذوف کے ساتھ۔ ای اذہب فی تسع آیات۔ نمبر 2۔ والق عصاک وادخل یدک فی جملۃ تسع آیات۔ القائے عصا اور ید بیضاء دونوں من جملہ 9 آیات سے ہیں۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہٖ (فرعون اور اس کی قوم کی طرف) ۔ الی کا تعلق مرسلاً محذوف سے ہے ای مرسلاً الی فرعون الایۃ۔ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (بلاشبہ وہ فاسق قوم تھی) ۔ فاسق کا معنی یہاں کفر کرنا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے نکلنا ہے۔
Ayah 27:13

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچی کہنے لگے یہ صریح جادو ہے

واضح آیات : 13: فَلَمَّا جَآئَ تْہُمْ ٰایٰتُنَا (جب ان کے پاس ہماری آیات آچکیں) ۔ آیات سے معجزات مراد ہیں۔ مُبْصِرَۃً (کھلم کھلا) ۔ یہ حال ہے۔ یعنی ظاہر و واضح۔ نمبر 1۔ آیات کے لئے یہاں ابصار کا لفظ لائے۔ حالانکہ حقیقت میں آیات تو غور و فکر کرنے والوں کے لئے ہیں۔ کیونکہ نظر و فکر میں وہ آیات ان سے ملا بست رکھنے والی ہیں۔ نمبر 2۔ ان آیات کو اس طرح قرار دیا گیا گویا وہ دیکھی جاتی ہیں پس ان سے راہ مل جاتی ہے۔ کیونکہ اندھا راہ پانے پر قدرت نہیں رکھتا چہ جائیکہ وہ دوسرے کی راہنمائی کرے۔ عرب کا یہ قول اسی قسم میں سے ہے۔ کلمۃ عوراء۔ کیونکہ اچھی بات راہنمائی کرتی ہے اور بری گمراہ کرتی ہے۔ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (وہ کہنے لگے یہ کھلا جادو ہے) ۔ مبین کا مطلب یہ ہے غور کرنے والے کے لئے ظاہر ہے۔ آیت میں المبصرۃ اور المبین میں مقابلہ کیا گیا ہے۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فسان کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

14: وَجَحَدُوْا بِہَا (انہوں نے ان آیات کا انکار کردیا) ۔ ایک قول : یہ ہے کہ جحود تو جاحد کے علم سے ہوتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ جحود انکار کو کہتے ہیں۔ اور بعض اوقات اشیاء کا انکار اس سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہوتا ہے اور کبھی پہچان کے بعد ضد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (کذافی شرح التاویلات) الدیوان کتاب میں مذکور ہے۔ کہا جاتا ہے جحد حقہٗ وبحقہٖ ایک ہی معنی میں ہیں۔ وَاسْتَیْقَنَتْہَا (اور یقین کرچکے تھے) ۔ و او حالیہ ہے۔ اور اس کے بعد قد مضمر ہے۔ اسیتقان ایقان سے زیادہ بلیغ ہے۔ اَنْفُسُہُمْ (انکے دل) یعنی زبانوں سے تو انہوں نے انکار کیا مگر انکے ضمیر و دل ان آیات پر یقین کرچکے تھے۔ ظُلْمًا (ظلم کے طور پر) ۔ : یہ جحدوا کی ضمیر سے حال ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر دل سے یقین کرلے مگر انسان ان کو سحر قرار دیکر انکار کر دے۔ وَّعُلُوًّا (اور تکبر کی بنا پر) ۔ ایمان سے اپنے کو بلند قرار دیتے ہوئے تکبر اختیار کیا۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (تم دیکھو تباہ کاروں کا انجام کیا ہوا) ۔ دنیا میں غرق اور آخرت میں حرق۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی

15: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا (اور ہم نے دائود و سلیمان (علیہما السلام) کو یقینا علم دیا) ۔ یہاں آتینا اعطینا کے معنی میں ہے یعنی عطا کیا۔ علماً ۔ نمبر 1۔ کچھ علم۔ نمبر 2۔ شاندار علم۔ اس سے مراد بہر صورت علم دین اور فیصلہ ہائے نبوت ہیں۔ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ (دونوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے اپنے بہت سے مومن بندوں پر ہمیں فضیلت دی) ۔ اور یہ آیت ہماری دلیل ہے معتزلہ کے خلاف اصلح للعباد کو چھوڑنے ہیں۔ یہاں محذوف ہے تاکہ وائو کا عطف صحیح ہوجائے۔ اگر محذوف نہ مانیں تو پھر فاء آنی چاہیے۔ جیسا کہ اس قول میں اعطیتہ فشکر۔ آیت میں تقدیر عبارت اس طرح ہوگی۔ آتینا ہما علمًا فعملا بہ وعلماہ وعرفا حق النعمۃ فیہ وقالا الحمد للہ الایۃ۔ ہم نے ان دونوں کو علم دیا پس انہوں نے عمل کیا اور اس کو سکھایا اور اللہ تعالیٰ کا حق اس میں جانا اور کہا الحمد للہ۔ الخ۔ کثیر سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جن کو علم نہیں ملا۔ نمبر 2۔ وہ لوگ مراد ہیں جن کو علم تو ملا مگر ان جیسا نہیں ملا اور اس میں یہ بات ہے کہ ان کو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی گئی اور بہت سوں کو ان پر فضیلت دی۔ فائدہ : یہ آیت دلیل ہے کہ علم بڑے مرتبہ والی چیز ہے اور علم والے مقدم و معزز ہیں اور نعمت علم عظیم الشان انعام ہے اور جس کو یہ میسر ہو اس کو بہت سے بندوں پر فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے شرف و منزلت میں اسی قرب کی وجہ سے ان کو ورثۃ الانبیاء قرار دیا ہے۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) جو پیغام دیکر بھیجے گئے یہ اس کو قائم رکھنے والے ہیں۔ اعتراف ِنعمت : مسئلہ نمبر 1: اس عظیم نعمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس ملنے والے علم پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں اور عالم کے ذہن میں یہ بات ہو کہ اگر اس کو بہت سے بندوں پر فضیلت حاصل ہے تو اس پر بھی دوسروں کو فضیلت حاصل ہے۔ فاروق اعظم ؓ کا قول اس سلسلہ میں کتنا شاندار ہے۔
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ اسکا صریح فضل ہے

کل الناس افقہ من عمر۔ 16: وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗٗدَ (اور سلیمان دائود کے وارث ہوئے) ۔ دوسرے بیٹوں کی بجائے ان کو نبوت و بادشاہت ملی۔ دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے۔ قولِ علماء : ان کو صرف والد کی طرح نبوت ملی تو گویا کہ یہ ان کے وارث بنے۔ ورنہ نبوت وراثت میں نہیں ملتی۔ وَقَالَ یٰٰٓاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ (سلیمان نے کہا اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی) ۔ اس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ذکر کر کے مشہور کیا۔ اور اس نعمت کے مرتبہ کا اعتراف کیا اور معجزہ کے تذکرہ سے لوگوں کو اس کی تصدیق کی طرف بلایا۔ یہ معجزہ پرندوں کی بولی ہے۔ المنطق۔ ہر وہ آواز جو مفرد یا مرکب مفید وغیر مفید نکالی جائے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں کی بولی اسی طرح سمجھتے جیسے پرندے ایک دوسرے کی سمجھتے ہیں۔ نمونہ گفتگو : لطیفہ : روایت تفسیریہ میں ہے کہ نمبر 1۔ فاختہ بولی تو آپ نے فرمایا یہ کہتی ہے۔ کاش یہ مخلوق پیدا نہ کی جاتی۔ نمبر 2۔ مور نے آواز دی۔ تو آپ نے فرمایا یہ کہتا ہے۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ نمبر 3۔ ہد ہد نے آواز نکالی تو آپ نے فرمایا۔ یہ کہتا ہے۔ اے گناہ گار گناہوں کی معافی مانگو۔ نمبر 4۔ ابابیل بولی آپ نے فرمایا یہ کہتی ہے۔ بھلائی بھیجو اس کو پالو گے۔ نمبر 5۔ کبوتری چیخی۔ آپ نے فرمایا یہ کہتی سبحان ربی الاعلی اس کے آسمان بھر کر اور زمین بھر کر حقدار ہیں۔ نمبر 6۔ قمری بولی تو آپ نے فرمایا۔ یہ کہتی سبحان ربی الاعلیٰ ۔ نمبر 7۔ چیل چیخی تو آپ نے فرمایا یہ کہتی ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سو ائے اللہ تعالیٰ کے۔ نمبر 8۔ کو نج بول اٹھی تو آپ نے فرمایا یہ کہتی ہے۔ جو خاموش رہا وہ بچ گیا۔ نمبر 9۔ مرغ نے اذان دی تو آپ نے فرمایا یہ کہتا ہے۔ اے غافلو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔ نمبر 10۔ گدھ چیخا تو آپ نے فرمایا یہ کہتا ہے اے ابن آدم تو زندہ رہ لے جتنا رہنا ہے تیرا انجام موت ہے۔ نمبر : 11 عقاب بولا تو آپ نے فرمایا یہ کہتا ہے۔ لوگوں سے دوری میں مایوسی ہے۔ نمبر : 12 مینڈک ٹرایا تو آپ نے فرمایا یہ کہتا ہے پاکیزگی والا میرا رب سبحان ہے۔ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ (اور ہمیں سب کچھ دیا گیا) ۔ اس سے مراد ان چیزوں کی کثرت بیان کرنا ہے جو ان کو عنایت کی گئیں۔ جیسا کہتے ہیں۔ فلان یعلم کل شئی۔ اور اس کی مثل یہ ارشاد ہے۔ واوتیت من کل شئی۔ النمل۔ 23 اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ (بیشک یہ البتہ کھلا ہوا فضل ہے) ۔ یہ بات بطور شکر کہی۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انا سید ولد آدم ولا فخر۔ (رواہ الحاکم) یعنی میں یہ قول بطور شکر کہتا ہوں۔ بطور فخر نہیں کہتا۔ علمنا و اوتینا یہ نون واحد ہی کا ہے جو مطاوعت کے طور پر لایا گیا۔ آپ نے اپنے شاہانہ انداز میں اپنے اہل طاعت و رعایا کی حالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ الفاظ فرمائے۔ اس میں تکبر کا کوئی دخل نہیں۔ (مجہول کے صیغے لا کر اشارہ کردیا۔ دینے والے اور سکھانے والے کا کمال ہے۔ مترجم)
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سیلمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

لشکر سلیمان۔ : 17۔ وَحُشِرَ (اور جمع کیے گئے) ۔ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ (سلیمان کے لشکر جن میں جن و انس و پرند شامل تھے) ۔ روایت تفسیریہ میں ہے۔ آپ کا معسکرو چھاونی 100۔ 100 فرسخ تھا۔ ان میں 25 فرسخ جنات کے لئے ٗ 25 انسانوں اور 25 پرندوں کے لئے تھے۔ جبکہ پچیس و حشی جانوروں کے لئے تھے۔ اور آپ کے لکڑی پر بنے ہوئے شیشے کے ایک ہزار مکانات تھے۔ ان میں تین سو آپ کے حرم اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ اور جنات نے آپ کے لئے سونے اور ابریشم کا قالین ایک مربع فرسخ میں تیار کیا۔ آپ کا منبر درمیان میں رکھا جاتا۔ یہ منبر سونے چاندی کا بنا تھا۔ جب آپ تشریف فرما ہوتے۔ تو چھ ہزار کرسیاں سونے چاندی کی آپ کے اردگرد رکھی جاتیں۔ انبیاء سنہری کرسیوں پر اور علماء فضی کرسیوں پر بیٹھتے تھے۔ اور ان کے گرد لوگوں کا مجمع ہوتا اور لوگوں کے گرد شیاطین و جنات بیٹھتے۔ اور پرندے اپنے پروں سے ان پر سایہ کرتے۔ تاکہ دھوپ نہ لگے۔ آپ تیز ہوا کو اس کے اٹھانے کا حکم دیتے اور نرم ہوا کو اس کے چلانے کا ارشاد فرماتے۔ جب آسمانوں و زمین کے مابین آپ چلے جا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں نے تمہاری مملکت میں اضافہ کردیا۔ کوئی چیز جو کلام کرے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کو بذریعہ ہوا تمہارے پاس ڈال دے گا۔ حکایت میں ہے کہ : آپ کا گزر کسانوں کے پاس سے ہوا تو وہ کہنے لگے آل دائود کو بہت بڑی مملکت ملی ہے۔ ہوا نے یہ بات آپ کے کانوں میں پہنچائی۔ آپ تخت سے اتر کر کسانوں کی طرف چل دیئے۔ اور فرمایا میں تمہارے پاس چل کر آیا تاکہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز نہ مانگ لو جس کی طاقت نہ ہو۔ پھر فرمایا۔ آل دائود کو جو سلطنت ملی ہے۔ ایک بار اللہ تعالیٰ کی تسبیح جن کو اللہ تعالیٰ قبول فرما لے اس سے افضل ہے۔ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ (ان کو روکا جاتا تھا) ۔ ان کے پہلوں کو پچھلوں کے ساتھ ملانے کے لئے روکا جاتا تھا۔ پس وہ مجتمع ہو کر چلتے اور یہ لشکر کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔ الوزع۔ وزع روکنے کو کہتے ہیں۔ اسی سے حضرت عثمان ؓ کا ارشاد ہے۔ مایزع السلطان اکثر مما یزع القرآن۔ جتنا بادشاہ لوگوں سے برائی روکتا ہے وہ اس سے زیادہ ہے جتنا لوگ قرآن سے رکتے ہیں۔
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اسکے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

آیت 18: حَتّٰی اِذَآ اَتَوْا عَلٰی وَادِ النَّمْلِ (یہاں تک کہ ان کا گزر ایک چیونٹیوں کی وادی سے ہوا) ۔ یہ شام کی وادی ہے جہاں چیونٹیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ اتی کا فعل علی سے متعدی کیا گیا ہے کیونکہ آپ کا گزر تو تخت پر ہوا تھا۔ اسی لئے استعلاء کا حرف لایا گیا۔ چیونٹی کا واقعہ : قَالَتْ نَمْلَۃٌ (ایک چیونٹی نے کہا) ۔ یہ لنگڑی تھی جس کا نام طاخیہ تھا یا منذرہ تھا۔ قول قتادہ ! وہ کوفہ میں داخل ہوئے تو ہر طرف سے لوگ ان کو لپٹ گئے۔ قتادہ نے کہا۔ جو چاہو سوال کرو۔ ابوحنیفہ نے جو جوان تھے سوال کیا کہ سلیمان کی چیونٹی مذکر تھی یا مؤنث۔ وہ لاجواب ہوگئے۔ ابوحنیفہ (رح) نے کہا وہ مؤنث تھی۔ ان سے پوچھا گیا تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا۔ تو انہوں نے کہا۔ اس ارشاد الٰہی سے۔ قالت نملۃ۔ اگر مذکر ہوتی تو کہا جاتا قال نملۃ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے نملۃ کا لفظ حمامۃ کی طرح ہے۔ جس کا اطلاق مذکر و مؤنث ہر دو پر ہوتا ہے ان کے درمیان علامت سے فرق کیا جاتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں حمامۃ ذکر حمامۃ انثٰی۔ نملۃ کا لفظ بھی اسی طرح ہے۔ یٰٓاَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْ (اے چیونٹیوں تم اپنے گھروں میں داخل ہوجائو) ۔ یہاں ادخلن نہیں کہا کیونکہ جب چیونٹی کو قائلہ قرار دیا۔ اور چیونٹیوں کو مخاطبین بنایا تو عقلاء کی طرح ان کا خطاب بھی قرار دیا گیا۔ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ (تمہیں نہ مٹا دیں) ۔ توڑ دیں۔ الحطم۔ توڑنا یہ نہی جملہ مستانفہ ہے۔ یہ ظاہر میں سلیمان (علیہ السلام) کو روندنے سے روکا ہے۔ مگر حقیقت میں ان کو رکنے اور باہرنکلنے کی ممانعت کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں۔ لا ارینّک ہٰہنا۔ یعنی تو اس جگہ مت آ۔ ایک قول یہ ہے۔ یہ جواب امر ہے۔ مگر یہ قول ضعیف ہے۔ نون تاکید اس کا انکار کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ ضرورت شعر میں سے ہے۔ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ (سلیمان اور اس کا لشکر) ۔ ایک قول یہ ہے۔ اس نے کہنا چاہا لا یحطمنکم جنود سلیمان۔ مگر اس سے زیادہ بلیغ جملہ وہ لائی۔ وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور ان کو معلوم نہیں) ۔ کہ تم یہاں رہتی ہو یعنی اگر وہ جان لیں تو ایسا نہ کریں۔ اس نے معذرت کے طور پر سلیمان اور ان کے لشکر کے عدل کی تعریف کی۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کا یہ قول تین میل دور سے سن لیا۔
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما

19: فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا (اس کی بات پر آپ نے تبسم کیا ہنستے ہوئے) ۔ اس کی احتیاط پر تعجب کرتے ہوئے اور اپنی مصلحت کو صحیح جانچ لینے اور چیونٹیوں کو نصیحت کرنے پر متعجب ہوئے۔ نمبر 2۔ ظہور عدل پر خوشی کا اظہار کیا۔ ضاحکًا۔ یہ تاکیدی حال ہے کیونکہ تبسم ضحک کے معنی میں ہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کا اکثر ضحک تبسم ہی ہوتا ہے۔ زجاج نے اسی طرح کہا ہے۔ دعائے سلیمانی : وَقَالَ رَبِّ اَوْ زِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ (اور کہا اے میرے رب تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکریہ ادا کروں جو آپ نے مجھ پر فرمائی ہیں) ۔ او زعنی کا معنی مجھے الہام فرما۔ اور حقیقت میں اس کا معنی یہ ہے۔ تو مجھے ہر چیز سے روک دے سوائے اپنی نعمتوں پر شکریہ کے۔ انعمت علی سے نبوت ٗ بادشاہت ٗ علم مراد ہے۔ وَعَلٰی وَالِدَیَّ (اور میرے والدین پر) کیونکہ والدین پر انعام اولاد پر احسان ہے۔ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ (اور یہ کہ میں نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہوں) ۔ اپنی بقیہ زندگی میں۔ وَاَدْ خِلْنِیْ بِرَحْمََتِکَ (اور تو مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔ ) یعنی جنت میں داخل فرما۔ بِرَحْمَتِکَ کا لفظ لا کر بتلایا کہ محض اپنی رحمت سے نہ کہ میرے عمل صالح سے۔ اسلئے کہ کوئی رحمت الٰہی کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ (اپنے نیک بندوں میں) ۔ اپنے انبیاء مرسلین کے زمرہ میں۔ نمبر 2۔ اپنے صالح بندوں میں۔ روایت تفسیریہ ہے کہ چیونٹی نے لشکروں کی آواز محسوس کی۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ لشکر ہوا میں ہیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے ہوا کو رکنے کا حکم دیا۔ تاکہ وہ خوف زدہ نہ ہوں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مکانات میں داخل ہوگئیں۔ پھر آپ نے یہ دعا کی۔
Ayah 27:20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کہ کیا سبب ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا ؟ کیا کہیں غائب ہوگیا ہے

واقعہ ہد ہد : آیت 20: وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَالِیَ (اور آپ نے پرندوں کو طلب کیا) ۔ پس فرمایا۔ مجھے ہدہد دکھائی نہیں دیتا۔ قراءت : مَالِیَ مکی ٗ علی ٗ عاصم نے نصب سے پڑھا جبکہ دیگر قراء نے سکون یاء سے پڑھا ہے۔ التفقد اس چیز کو ڈھونڈنا جو تم سے غائب ہو۔ لَا اَرَی الْہُدْہُدَ اَمْ کَانَ مِنَ الْغَآپبِیْنَ (میں ہدہد کو نہیں دیکھتا یا وہ غائب ہونے والوں میں سے ہے) ۔ ام۔ یہاں بل کے معنی میں ہے۔ آپ نے پرندوں کا معاینہ کیا تو ہدہد کو نہ پایا۔ تو آپ نے فرمایا۔ وہ مجھے کیوں نظر نہیں آرہا۔ مطلب یہ ہے۔ وہ اس لئے نظر نہیں آرہا کہ کسی روک نے اس کو چھپا ڈالا۔ نمبر 2۔ یا کوئی دوسری صورت ہے۔ پھر آپ کو واضح ہوگیا کہ وہ واقعی غائب ہے۔ پس اس بات سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا بلکہ وہ تو غائب ہے۔ بیان کیا گیا کہ جب سلیمان ( علیہ السلام) نے حج کیا۔ تو آپ یمن کی طرف سے نکلے۔ آپ کا گزر صنعاء کے زمانہ زوال میں ہوا۔ آپ صنعاء میں اتر کر نماز ادا فرمانے لگے۔ مگر انہوں نے پانی نہ پایا۔ ہدہد آپ کا کنواں انجینئر تھا۔ وہ پانی زمین کے نیچے دیکھ پاتا ہے۔ جیسا کہ شیشے میں پانی نظر آتا ہے۔ شیاطین کھود کر جلد پانی نکال لیتے۔ آپ نے اسی لئے اس کو تلاش فرمایا۔ ایک تذکرہ : ایک تذکرہ یہ بھی ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے سر پر سورج کی ایک لپٹ پہنچی آپ نے دیکھا تو ہدہد کی جگہ خالی تھی۔ آپ نے پرندوں کے راہنما کو بلایا اور وہ گدھ تھا۔ اس سے پوچھا تو اس نے کہا مجھے علم نہیں۔ پھر پرندوں کے سردار کو کہا اور وہ شاہین ہے کہ اس کو میرے پاس لے آئو وہ اڑا اور نگاہ ڈالی تو ہدہد آرہا تھا۔ پس اس نے اس کو پکڑنے کا قصد کیا تو ہدہد نے اس کو اللہ تعالیٰ کی قسم دی جس کی وجہ سے باز اس سے باز رہا۔ جب سلیمان (علیہ السلام) کے قریب آیا تو اپنی دم جھکا لی۔ اور دونوں بازوئوں کو زمین پر کھینچنے اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے پیغمبر : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے کھڑے ہونے کو یاد کر۔ اس پر سلیمان (علیہ السلام) کانپ گئے اور اس کو معاف کردیا۔
Ayah 27:21

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنی بےقصوری) کی دلیل صریح پیش کرے

21: لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا (میں اس کو عذاب دونگا) ۔ اس کے بال و پر نوچ ڈالے جائیں گے اور اس کو دھوپ میں ڈال دیا جائے گا۔ نمبر 2۔ اس کے اور اس کے مالوفات کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔ اس کو اپنے ہمجولیوں کا خادم بنادیا جائے گا اور سربراہی اس سے چھین لی جائے گی۔ نمبر 3۔ اس کے مخالفین کے ساتھ جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ بعض کا قول ہے۔ اضیق السجون معاشرۃ الاضداد۔ سب سے تنگ قیدی جو مخالفین کے نرغہ میں رہے۔ نمبر 4۔ پنجرے میں ڈال دیا جائے گا۔ نمبر 5۔ چیونٹیوں کے سامنے اس کو ڈال دیا جائے گا تاکہ وہ اس کو کھا لیں۔ مسئلہ : سلیمان (علیہ السلام) کو جائز تھا کہ وہ مصلحت کی بناء پر ہدہد کو سزا دیں۔ جیسا کہ کھانے کی غرض سے پرندوں کو کھانا جائز ہے۔ اسی طرح دیگر منافع حاصل کرنے کے لئے بھی ذبح جائز ہے۔ جب پرندے ان کے لئے مسخر کیے گئے تھے تو سیاست و تادیب کے لئے ان کو سزاد ینا درست تھا ورنہ تسخیر ہی کامل نہ ہوتی۔ اَوْلَاَذْ بَحَنَّہٗٗ اَوْلَیَاْتِیَنِّیْ (یا میں ضرور اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ ضرور میرے پاس لے آئے) ۔ لیاتینی کی نون ثقیلہ ہے تاکہ اس میں اور لاعذبنہ میں مشاکلت پیدا ہوجائے۔ اور ایک نون کو تخفیف کیلئے حذف کیا گیا ہے۔ قراءت : مکی نے دونوں سے لیاتینّنی پڑھا۔ اول نون تاکید اور دوسری نون عماد ہے۔ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (واضح دلیل کے ساتھ) ۔ اپنی غیر موجودگی کی ایسی دلیل جس میں اس کا عذر ظاہر ہو۔ ایک اشکال : آپ ( علیہ السلام) نے تین باتوں میں سے ایک پر قسم اٹھائی۔ پہلی دو تو آپ نے کیں اور اس میں بات کی گنجائش نہیں مگر تیسری تو ہدہدنے کی اور یہی قابل اشکال ہے۔ کیونکہ ان کو یہ کس طرح معلوم ہوا کہ وہ دلیل پیش کر دے گا اور آپ نے یہاں تک فرما دیا۔ لیأتینی بسلطان ؟ جواب : ان کے کلام کا معنی یہ ہے کہ ان میں سے ایک کام ضرور ہوگا۔ یعنی اگر دلیل لے آئے گا تو سزا نہ ہوگی۔ نہ ذبح اور اگر وہ نہ ہوئی تو پھر ان میں سے ایک ہوگی۔ عقلاً تو اس میں کوئی دعویٰ نہیں۔
Ayah 27:22

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ (ہد ہد آموجود ہو اور) کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں

آیت 22: فَمَکَثَ (پس ٹھہرا) ۔ ہدہد سلیمان (علیہ السلام) کی پڑتال کے بعد۔ قراءت : عاصم ٗ سہل ٗ یعقوب کے علاوہ دیگر قراء نے کاف کا ضمہ پڑھا ہے۔ غَیْرَ بَعِیْدٍ (تھوڑی دیر) ۔ یعنی مکثا غیر طویل۔ زیادہ طویل ٹھہرائو نہ تھا۔ نمبر 2۔ غیر زمان بعید۔ دور زمانہ نہ تھا جیسا کہ کہتے : عن قریب۔ اس کے ٹھہرنے کو مدت قلیلہ سے بیان کیا کیونکہ خوف سلیمانی اس کے اسراع کی دلالت ہے۔ جب وہ لوٹ کر آیا آپ نے زمانہ غیبوبت کی تفصیل دریافت کی۔ فَقَالَ اَحَطْتُّ (میں نے آپ کی اطراف سے کچھ معلومات کیں) ۔ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ (جو آپ کو نہیں) ۔ اس نے سلیمان (علیہ السلام) سے ان کے علم کی آزمائش کے لئے یہ بات کی باوجودیکہ سلیمان (علیہ السلام) کو نبوت کی فضیلت اور بیشمار علوم دیئے گئے تھے۔ مسئلہ : اس میں روافض کے اس قول کی تردید ہے کہ امام پر کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی اور اسکے زمانہ میں اس سے بڑا علم والا کوئی نہیں ہوتا۔ وَجِئْتُکَ مِنْ سَبَاٍ 0 بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ (اور میں ملک سبا کی ایک یقینی خبر لایا ہوں) ۔ قراءت : ابوعمرو نے سبأ کو غیر منصرف پڑھا۔ اور اس کو قبیلہ کا نام قرار دیا یا شہر کا نام۔ اور دیگر قراء نے تنوین سے پڑھا ہے اور اس کو خاندان کا نام یا باپ کا نام بتلایا ہے۔ النبأ۔ عظیم الشان خبر۔ یہ الفاظ من سبأ بنبأ۔ خوبصورت ترین کلام ہے۔ اس کو بدیع کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ بھی عجیب و خوبصورت ہے۔ اور معنی کے لحاظ سے بھی۔ نمبر 1۔ توجہ فرمائیں بنبأ کی بجائے بخبر ہوتا تو معنی صحیح ہوتا۔ مگر نبأ تو اس کے بالمقابل اصح ہے اور وصف حالی میں اس کے مناسب ہے۔
Ayah 27:23

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے

23: اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً (میں نے پائی ایک ایسی عورت جو سبا پر حکمرانی کرتی ہے) ۔ بلقیس کا سلسلہ نسب : وہ بلقیس بنت سراحیل ہے۔ اسکا والدیمن کا بادشاہ تھا۔ اسکے چالیس آباء بادشاہ ہوئے۔ اسکا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا۔ فقط یہی بیٹی تھی۔ یہ بادشاہت پر قابض ہوگئی۔ یہ اور اس کی قوم مجوسی ٗ سورج کے پچاری تھے۔ تَمْلِکُہُمْ (ان کی حکمران ہے) ۔ سبأ کی طرف تملکہم کی ضمیر بتاویل قوم ہے یا اہل المدینہ کی تاویل میں ہے۔ وَاُْوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ (اور اس کو سب کچھ دیا گیا ہے) ۔ : اوتیت حال ہے۔ اور قد مقدرہ ہے۔ من کل شئی سے وہ اسباب ِدنیا مراد ہیں جو اسکے حال کے ساتھ مناسبت رکھتے تھے۔ وَلَہَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ (اس کا تخت بہت بڑا ہے) ۔ عرش بمعنی تخت اور عظیم بڑا کے معنی میں ہیں۔ ایک قول : یہ اسی ہاتھ مربع تھا۔ اور اسی ہاتھ اونچا تھا۔ یہ سونے چاندی سے بنا تھا۔ قسم قسم کے جواہرات اس پر جڑائو کیے گئے تھے۔ اس کے پائے سرخ و سبز یا قوت اور موتی اور زمرد کے بنے ہوئے تھے۔ اور اس پر سات کمرے تھے ہر کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اس نے اس کی حالت کو سلیمان کی حالت کے مقابلہ میں چھوٹا قرار دیا اور اس کے تخت کو بہت بڑا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) سے مصلحت کی بناء پر مخفی رکھا۔ جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کی جائے رہائش یعقوب (علیہ السلام) پر مخفی رکھی۔
Ayah 27:24

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے انکے اعمال انھیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور انکو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ راستے پر نہیں آئے (اور نہیں سمجھتے )

ہدایت سے عاری قوم : 24: وَجَدْتُّہَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ (میں نے اس کو اور اس کی قوم کو سورج کے سامنے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سجدہ کرتے دیکھا اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے مزین کر کے ان کو راہ سے روک دیا) ۔ السبیل سے راستہ توحید مراد ہے۔ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ (پس وہ ہدایت نہیں پاتے) راہ حق کی طرف۔ اور ہدہد سے یہ بعید نہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا راستہ پالیا۔ اور سجدہ کا وجوب اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے اور سورج کے لئے سجدہ کی حرمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی گئی ہو جیسا کہ کئی دیگر پرندوں کو ایسی لطیف معرفتیں اس کی طرف سے الہام کی جاتی ہیں۔ جن کے متعلق بڑے عقلاء کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔
Ayah 27:25

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں نہ سجدہ کریں

25: اَلاَّ یَسْجُدُوْا اللہ ِ (کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے) ۔ : نمبر 1۔ الا تشدید کے ساتھ۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے فصدہم عن السبیل لئلا یسجدوا۔ اَنْ کے ساتھ حرف جار کو حذف کر کے نون کو لام میں ادغام کردیا گیا۔ نمبر 2۔ لا زائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور معنی یہ ہو فہم لا یہتدون ان یسجدوا۔ وہ سجدہ کی طرف راہ نہیں پاتے۔ نمبر 3۔ اَلَا کو یزید وعلی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ الا یا ہؤلاء اسجدوا۔ پس الا حرف تنبیہ اور یاء حرف نداء ہے اور اس کا منادی محذوف ہے۔ اور اس صورت میں فہم لا یہتدون پر وقف ہوگا۔ اور جنہوں نے تشدید سے پڑھا۔ جیسا پہلی دو صورتوں میں ہے۔ انہوں نے العرش العظیم پر وقف کیا۔ اور تخفیف والوں نے فہم لا یہتدون پر وقف کیا پھر ابتداء الا اسجدوا سے کی۔ سجدہ تلاوت ان دونوں قراءتوں میں واجب ہے۔ بخلاف زجاج کے وہ کہتے ہیں تشدید کے صورت میں سجدہ لازم نہیں۔ نمبر 1۔ کیونکہ سجدہ کے مقامات پر یا تو سجدہ کا حکم دیا جاتا ہے۔ نمبر 2۔ یا پھر سجدہ کرنے والے کی مدح و تعریف کی جاتی ہے۔ نمبر 3۔ چھوڑنے والے کی مذمت کی جاتی ہے۔ اور دونوں میں سے ایک قراءت امر ہے اور دوسری چھوڑنے والے کے لئے مذمت ہے۔ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْئَ (اس اللہ تعالیٰ کے لئے جو پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے) ۔ الخبأ مصدر ہے۔ اسم مفعول کو مصدر سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمانوں و زمین میں) ۔ بقول قتادہ : آسمان کی مخفی چیز سے بارش اور زمین کی مخفی چیز سے نباتات مراد ہیں۔ وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ (اور وہ جانتا ہے ان باتوں کو جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو) ۔ قراءت : ان دونوں میں تاء علی اور حفص کی قراءت ہے۔ جبکہ حمزہ ‘ نافع ‘ ابو عمرو وغیرہ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 27:26

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

26: اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے) ۔ ہدہد نے بطور تعظیم کے عرش الٰہی کی عظیم کے ساتھ صفت ذکر کی۔ اس عظیم سے مراد آسمان و زمین اور تمام مخلوقات کے مقابلہ میں عظیم ہونا مراد ہے۔ جبکہ ملکہ بلقیس کے تخت کی بھی عظیم کے ساتھ صفت بیان کی مگر وہاں عظیم سے مراد اس کے ہم جنس بادشاہوں کے تختوں کے مقابلہ میں بڑا ہونا مراد ہے۔ یہاں تک ہدہد کا کلام ہے۔
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

(سلیمان نے) کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے

27: جب وہ اپنی گفتگو سے فارغ ہوا تو قَالَ (سلیمان (علیہ السلام) نے ہدہد کو فرمایا) ۔ سَنَنْظُرُ (عنقریب ہم دیکھیں گے) یہ نظر بمعنی تامل کے لئے یعنی ہم غور کریں گے۔ اَصَدَقْتَ (کیا تم سچے ہو) ۔ اس خبر میں جو تم نے دی ہے۔ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ (یا تم جھوٹوں میں سے ہو) ۔ یہ کلام ام کذ بت کی بنسبت زیادہ فصیح ہے۔ نمبر 1۔ کیونکہ جب وہ جھوٹوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا تو لا محالہ اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے گا اور جب وہ جھوٹا ہوگا تو جو وہ اطلاع دے گا اس پر جھوٹے ہونے کا احتمال ہوگا اور وہ قابل اعتماد شمار نہیں ہوگا۔ خط سلیمانی : پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اس انداز سے خط لکھا من عبداللّٰہ سلیمان بن داوٗد الی بلقیس ملکۃ سبا بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم السلام علی من اتبع الہدٰی امابعد فلا تعلوا علی واتونی مسلمین اور کستوری سے اس کو بند کر کے اس پر اپنی مہر لگائی اور ہدہد کو کہا۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے انکی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

28: اِذْ ہَبْ بِّکِتٰبِیْ ہٰذَا فَاَلْقِہْ (میرا یہ خط لے جائو اور اس کو ڈال دو ) ۔ قراءت : القہ۔ ہاء کے سکون کے ساتھ بطور تخفیف ابو عمرو ‘ عاصم اور حمزہ نے پڑھا اختلاس کسرہ کے ساتھ تاکہ یائے محذوفہ پر دلالت کرے یزید قالون اور یعقوب نے پڑھا ہے فَأَلْقِہِیْ یاء کے اثبات کے ساتھ دیگر قراء نے نمبر 1۔ (فالقہی) پڑھا ہے۔ اِلَیْہِمْ (یعنی بلقیس اور قوم بلقیس کی طرف) ۔ یہاں بھی ضمیر مذکر اور جمع کی لائی کیونکہ ہدہد نے اپنے قول میں اسی طرح ذکر کیا وجدتہا وقومہا یسجدون للشمس۔ [ النمل : 24] اسی لئے خط میں خطاب کی بنیاد جمع کے لفظ کے ساتھ لائی گئی۔ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ (پھر الگ ہوجائو تم ان سے) ۔ کسی ایسے مقام میں جو بالکل قریب ہو کہ تم ان کو دیکھ سکو اور وہ تمہیں نہ دیکھ پائیں۔ تاکہ تم ان باتوں کو سن سکو جو وہ کہیں۔ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ (پس دیکھ لو وہ کیا جواب دیتے ہیں) ۔
Ayah 27:29

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(ملکہ نے) کہا دربار والو ! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے

ہد ہد کی پیغام رسانی : 29: ہدہد نے وہ خط لے کر اپنی چونچ میں سنبھالا اور ایک روشن دان سے اس کے پاس داخل ہوا اور خط کو اس کے سینے پر ڈال دیا جبکہ وہ سو رہی تھی اور روشن دان میں جا چھپا۔ وہ اچانک بیدار ہوئی یا وہ ہدہد پہنچا۔ جبکہ لشکر اس ملکہ کے اطراف میں موجود تھے وہ کچھ دیرسست یا پھر خط اس کی گود میں ڈال دیا اور وہ پڑھی لکھی تھی جب اس نے مہر کو دیکھا تو اپنی قوم کو کہنے لگی یہ خط جھکا دینے والا اور ڈرا دینے والا ہے۔ قَالَتْ (تو کہنے لگی) ۔ یٰٓاَ یُّہَا الْمَلَؤُا اِنِّیْ اُلْقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیمٌ (اے سردارو ! بیشک میری طرف ایک معزز خط ڈالا گیا ہے) ۔ کتاب کریم کا مضمون : قراءت : انی کو مدنی نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس خط کو کریم کہا گیا اس کے مضمون کی خوبی کی وجہ سے یا مہر کی وجہ سے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کر امۃ الکتٰب ختمہ۔ خط کی عظمت اس کی مہر میں ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جس نے کوئی خط لکھا اور اس نے مہر نہ لگائی تو اس نے اس کی توہین کی یا خط کو کریم اس لئے کہا کہ وہ سے شروع ہونے والا تھا یا اس لئے کہ وہ ایک معزز بادشاہ کا خط تھا۔
Ayah 27:30

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

30: اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ (کہ یہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون سے شروع ہوتا ہے) ۔ یہ در حقیقت جو خط اس کی طرف پہنچا تھا اس کی وضاحت ہے گویا کہ جب اس نے یہ کہا انی القی الی کتب کریم۔ تو اسے کہا گیا کہ وہ خط کس کی طرف سے ہے اور اس کا کیا مضمون ہے تو وہ کہنے لگی انہ من سلیمان وانہ کیت وکیت۔ یعنی وہ ایسے ہے۔
Ayah 27:31

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(بعد اس کے یہ) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع و منقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ

31: اَلاَّ تَعْلُوْا عَلَیَّ (کہ تم بڑے مت بنو اور تکبر مت کرو) ۔ جس طرح کہ بادشاہ کیا کرتے ہیں۔ ان یہاں مفسرہ ہے جیسا کہ اس قول میں وانطلق الملا منہم ان امشوا سورة ص آیت نمبر 6۔ یعنی ای امشوا۔ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ (اور تم میرے پاس فرمانبردار ہو کر آجائو) اور اطاعت گذاروں کے معنی میں ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کے خطوط ایجاز و اختصار کا نمونہ ہوتے ہیں۔
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنا کر) کہنے لگی کہ اہل دربار میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو (اور اصلاح نہ دو ) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

32: قَالَتْ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْ اَمْرِیْ (اس نے کہا اے سردارو ! میرے معاملہ میں مجھے مشورہ دو ) ۔ یعنی اب پیش آنے والے معاملہ میں مشورہ دو ۔ ملکہ کی مشاورت : الفتوی : حادثے کے جواب کو کہا جاتا ہے۔ یہ الفتاء فی السن سے بطور استعارہ مشتق کیا گیا ہے اور یہاں فتوی سے مراد اپنی رائے سے مشورہ دینا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے تاکہ ان سے مشورہ لے کہ ان کے دل خوشی سے اس کی طرف مائل ہوجائیں اور وہ بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں۔ مَا کُنْتُ قَاطِعَۃً اَمْرًا (اور میں کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی) ۔ قاطعۃً کا یہاں معنی فاصلۃ ہے یا حکم دے ڈالنا حَتّٰی تَشْہَدُوْنِ (جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو) ۔ قراءت۔ نون کے کسرہ کے ساتھ فتحہ پڑھنا اس میں لحن ہے کیونکہ نون مفتوح رفع کے مقام پر ہوتی ہے اور یہ مقام نصب ہے۔ یہ اصل میں تَشْہَدُوْنَنِیْ ہے۔ پہلی نون کو نصب کی وجہ سے حذف کیا اور یاء کو اس لئے حذف کیا کہ کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ یعقوب نے وصل ووقف میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی آیت کا یہ ہے کہ : یہاں تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو یا مجھے مشورہ نہ دے دو اور اس بات کی درستی پر گواہ نہ بن جائو۔ مطلب یہ تھا میں تمہاری موجود گی کے بغیر کسی معاملے کو طے نہیں کرتی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کو مشورہ دینے والوں کی تعداد تین سو تیرہ آدمی تھے۔ جن میں سے ہر ایک دس ہزار پر نگران تھا۔
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم کیجیے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجئے گا

مشورئہ جنگ : 33: قَالُوْا (انہوں نے اس کے جواب میں کہا) ۔ نَحْنُ اُولُوْا قُوَّۃٍ وَّ اُولُوْا بَأسٍ شَدِیْدٍ (ہم بڑے طاقتور اور سخت جنگجو ہیں) ۔ قوۃ سے ان کی مراد آلات اور اجسام کی قوت تھی۔ اور بأس سے مراد لڑائی کے وقت آزمائش اور شدت شجاعت تھی۔ وَالْاَمْرُ اِلَیْکِ فَانْظُرْیْ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ (اب اختیار تیرے ہاتھ میں ہے آپ خود ہی غور کرلیں۔ جو آپ حکم دیں) ۔ یعنی حکم تمہارے سپرد ہے ہم تمہاری اطاعت کرنے والے ہیں۔ پس تم ہمیں حکم دو ہم اس کو مانیں گے تیری مخالفت ہرگز نہیں کریں گے گویا ان سب نے لڑائی کا مشورہ دیا۔ نمبر 2۔ یا ان کی مراد یہ تھی کہ ہم جنگجو ہیں ہم مشورہ دینے والوں کی اولاد نہیں تو خود ذی رائے اور ذی تدبیر ہے اس لئے تو غور کرلے تو کیا رائے دینا چاہتی ہے ہم تیری رائے کی اتباع کریں گے۔ جب ملکہ بلقیس نے ان کا میلان لڑائی کی طرف پایا تو وہ مصالحت کی طرف مائل ہوئی اور جواب کو ترتیب دیا۔ اس سے پہلے جو بات انہوں نے ذکر کی اس کو فضول قرار دیا اور ان کی غلطی اس میں یہ کہتے ہوئے واضح کی۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسکو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے

مزاجِ شاہان : 34: قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً (کہنے لگی کہ بادشاہ کسی بستی میں جب داخل ہوتے ہیں) یہاں داخلے سے زبردستی غلبے سے داخل ہونا مراد ہے۔ اَفْسَدُوْہَا (وہ اس کو اجاڑ دیتے ہیں) ۔ وَجَعَلُوْا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃً (اور وہاں کے معزز باشندوں کو ذلیل کردیتے ہیں یعنی معززین کو ذلیل کرتے ہیں اور شرفاء کی توہین کرتے ہیں اور ان کو قتل و قید میں ڈالتے ہیں۔ پس اس نے لڑائی کے برے نتیجے کو ذکر کرتے ہوئے کہا۔ وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ (اور وہ اسی طرح کیا کرتے ہیں) اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ان کی دوامی عادت ہے کہ جس میں تبدیلی نہیں۔ کیونکہ وہ پرانے بادشاہوں کے گھروں میں پلی تھی اور اس کے بارے میں بہت کچھ سنا اور دیکھا تھا اسی لئے اس نے اس خطرے کا احساس ان کو دلایا۔ پھر اس نے اپنی درست رائے کے مطابق ہدیے کا تذکرہ کیا۔ ایک اور قول : یہ اللہ کی طرف سے اس کے قول کی تصدیق ہے۔ ارشاد مفسر : اس زمین میں ایک فساد پیدا کرنے والے نے اس آیت سے استدلال کیا حالانکہ جس نے کسی حرام کو جائز کیا اس نے کفر کیا۔ اگر اس نے قرآن کو بطور تحریف کے دلیل بنایا ہے تو اس نے دو کفروں کو جمع کیا۔ نمبر 1۔ تحریف قرآن نمبر 2۔ اباحت حرام۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں انکی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

ملکہ کی عاقلانہ رائے : 35: وَاِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ اِلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ (میں ان کو ایک ہدیہ بھیجوں گی) یعنی قاصدوں کو ہدیہ دیکر بھیجوں گی۔ فَنٰظِرَۃٌ (پھر دیکھوں گی) ۔ پس انتظار کروں گی۔ نحو : اصل میں بما ہے کیونکہ حرف جر کے ساتھ ما استفہامیہ آئے تو الف حذف کردیا جاتا ہے۔ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْن (قاصد کیا جواب لے کر آتا ہے) ۔ ان ہدیوں کی قبولیت کا یا واپس لوٹانے کا۔ کیونکہ وہ بادشاہوں کی عادت اور ہدایا کے اچھے مواقع سے واقف تھی۔ پس اگر وہ بادشاہ ہوگا تو ان کو قبول کرلے گا اور اگر وہ پیغمبر ہوا تو ان کو رد کر دے گا اور ہم سے سوائے اتباع دین کے کسی چیز پر راضی نہ ہوگا۔ اس نے ہدایا میں پانچ سو غلام جن کو لڑکیوں کا لباس اور زیورات پہنا کر ایسے گھوڑوں پر سوار کیا جو ریشم سے ڈھنپے ہوئے تھے اور ان گھوڑوں کی لگا میں اور کاٹھیاں سونے اور جواہرات سے مزین تھیں اور پانچ لڑکیاں جو لڑکوں کے لباس میں گھوڑیوں پر سوار تھیں۔ اور ایک ہزار سونے ‘ چاندی کی اینٹیں اور موتی اور یاقوت کا جڑائو کیا ہوا تاج اور ایک ڈبیہ جس میں ایک نایاب موتی اور ایک ٹیڑھا کیا ہوا پوتھ رکھ کر بند کردیا اور قاصد بھیجے اور ان کا نگران منذربن عمرو کو بنایا۔ اس کی دلیل اس ارشاد میں ہے بِمَ یرجع المرسلون۔ اور اس نے ایک خط لکھا جس میں سارے ہدایا کی تفصیل تھی اور یہ کہا گیا کہ اگر آپ نبی ہیں تو لونڈیوں اور غلاموں میں امتیاز کر دیجئے اور یہ بھی اطلاع کر دیجئے کہ ڈبیہ میں کیا ہے اور موتی کے درمیان میں درست سوراخ کردیا جائے اور پوتھ کے اندر دھاگہ ڈال دیا جائے پھر اس نے منذر کو یہ حکم دیا کہ اگر وہ تمہیں غضب ناک نگاہوں سے دیکھے تو سمجھ لینا کہ وہ بادشاہ ہے۔ ہرگز اس سے خوف زدہ نہ ہونا اور اگر تم ان کو ہشاش بشاش نرمی والا پائو تو وہ پیغمبر ہیں۔ ہد ہد کی آگاہی کی صورت : ہدہد حاضر ہوا اور سلیمان (علیہ السلام) کو اس ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے جنات کو حکم دیا۔ کہ وہ سونے چاندی کی اینٹیں تیار کریں۔ اور سامنے کے میدان میں جس کی لمبائی سات فرسخ ہو اس کا فرش لگا دیں اور اس میدان کے اردگرد دیوار بھی سونے چاندی کی اینٹوں کی کھینچ دیں پھر آپ نے حکم دیا کہ سمندر اور خشکی کے بہترین جانوروں کو اس میدان کے دائیں اور بائیں ان عمارتوں پر باندھ دیا جائے اور جنات کی اولاد کو حکم دیا کہ وہ اس میدان کے دائیں اور بائیں بیٹھ جائیں پھر آپ اپنے تخت پر تشریف فرما ہوئے تو تخت کے دونوں اطراف میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ شیاطین صفیں باندھے کئی فرسخ تک اور اسی طرح انسان صفیں باندھے کئی فرسخ تک اور وحشی جانور درندے اور پرندے اور کیڑے مکوڑے سب صف بستہ تھے۔ جب انہوں نے جانوروں کو سونے چاندی کی اینٹوں پر گوبر کرتے دیکھا تو ان کو اپنے ہدایا حقیر معلوم ہوئے۔ اس لئے ان کو وہیں پھینک دیا اور بڑھتے ہوئے سلیمان (علیہ السلام) کے جب سامنے آ کھڑے ہوئے تو آپ نے ان سب کو ہنس مکھ چہرے سے دیکھا۔ انہوں نے ملکہ کا خط حاضر خدمت کیا آپ نے فرمایا موتی کہاں ہے پھر دیمک کو حکم دیا۔ تو اس نے ایک بال پکڑ کر اس موتی میں سوراخ کردیا اور ایک سفید کیڑے نے اپنے منہ میں دھاگہ لے کر اس پوتھ میں دھاگہ ڈال دیا پھر آپ نے پانی منگوایا۔ رنڈیاں پانی کو پہلے ایک ہاتھ میں پکڑتی پھر دوسرے پر رکھتیں اور پھر اس کو اپنے منہ پر ڈالتیں اور لڑکے اس کو جونہی پکڑتے اپنے چہرے پر ڈال لیتے ان کے درمیان بھی امتیاز کردیا پھر سارے ہدایا کو واپس کردیا پھر منذر کو کہا جائو واپس لوٹ جائو۔