Ayah 27:7676: اِنَّ ہٰذَا الْقُرْٰانَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر وہ واقعات اکثر بیان کرتا ہے) ۔ کھول کر بیان کرتا ہے۔ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں) ۔ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کے متعلق اختلاف کیا۔ اور اس میں کئی گروہ بن گئے۔ ان کے مابین بہت سی اشیاء میں اختلاف ہوا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگے۔ قرآن مجید نے اتر کر اس چیز کی وضاحت کردی جس کو انہوں نے اختلاف کا نشانہ بنایا تھا۔ اگر وہ انصاف سے کام لیں۔ اور اس کو اختیار کرلیں۔ اور اسلام لے آئیں۔ بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔
Ayah 27:7777: وَاِنَّہٗ لَہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (اور بیشک یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے) ۔ ان لوگوں کے لئے باعث رحمت ہے جو بنی اسرائیل میں سے بالکل انصاف کرنے والے اور ایمان لانے والے ہیں یعنی بنی اسرائیل میں سے۔ نمبر 2۔ ان میں سے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے۔
Ayah 27:7878: اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَہُمْ (بیشک آپ کا رب ان کے مابین فیصلہ فرمائے گا) ۔ مؤمنوں اور کافروں کے درمیان۔ بِحُکْمِہٖ (اپنے حکم یعنی عدل سے) کیونکہ وہ فیصلہ ہی عدل سے فرماتے ہیں۔ پس یہاں محکوم بہٖ (فیصلہ) کو حکم فرمایا۔ نمبر 2۔ اپنی حکمت سے فیصلہ فرماتے ہیں اور اس پر بحِکَمِہٖ کی قراءت دلالت کرتی ہے۔ حکم جمع حکمت کی ہے۔ وَہُوَ الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) ۔ اس کی تقدیر کو واپس نہیں کیا جاسکتا۔ الْعَلِیْمُ (وہ ان کو جانتا ہے) کہ کن کے حق میں فیصلہ دینا ہے اور کن کے خلاف دینا ہے۔ نمبر 2۔ وہ العزیز ہے یعنی باطل پرستوں سے انتقام لینے میں العلیم حق پرستوں اور باطل پرستوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو جانتے ہیں۔
Ayah 27:7979: فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (پس تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو) ۔ اس میں آپ ﷺ کو توکل علی اللہ کا حکم دیا گیا۔ اور اعدائے دین کی پرواہ نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ (بیشک آپ صریح حق پر ہیں) ۔ یہ التوکل کی علت بیان فرمائی۔ اس لئے کہ آپ صریح حق پر ہیں۔ وہ صریح حق وہ دین ہے۔ جس سے شک کبھی متعلق ہو نہیں سکتا۔
نکتہ : اس میں وضاحت کردی۔ کہ حق پرست کو اللہ تعالیٰ پر کامل و ثوق واعتماد اور اس کی مدد پر یقین ہونا چاہیے۔
Ayah 27:80آیت 80: اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ (آپ یقینا مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں) ۔
Ayah 27:8181: وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ (اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں) ۔ جب کفار مکہ جو سنتے اس کو یاد نہ رکھتے اور نہ سنتے اور نہ اس سے نفع اٹھاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مردوں سے مشابہت دی حالانکہ وہ ظاہر میں زیادہ صحیح الحواس تھے اور ان بہروں سے تشبیہ دی جن کو پکارا جائے تو نہ سنتے ہوں اور ان اندھوں سے جو راستہ گم کردیں۔ کوئی شخص اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ ان سے یہ چیزیں ہٹا کر ان کو راستہ دیکھنے والا اور راستہ پر چلنے والا بنا دے مگر اللہ جل شانہ ٗ (اور اسی کی طرف سے ہدایت ان کو ملنی نہیں کیونکہ انہوں نے گمراہی کو جان بوجھ کر اختیار کیا ہے) پھر بہرے کی حالت کو یہ کہہ کر اور مؤکد کیا گیا ہے اذا ولوا مدبرین کیونکہ بہرا جب آواز دینے والے سے دور ہو اور اس کی طرف پشت کرنے والا بھی ہو تو وہ دائمی کی آواز کے ادراک سے بالکل ہی محروم رہے گا۔
قراءت : ولا تسمع الصُّم مکی نے یہاں پڑھا اور سورة روم میں بھی اسی طرح اور وما انت تہدی العمیَ یہاں پڑھا اور الروم میں بھی اسی طرح حمزہ نے پڑھا۔ اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا (آپ تو صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں۔ جو ہماری آیات کا یقین رکھتے ہیں) ۔ آپ کا سنانا فائدہ نہ دے گا مگر صرف ان لوگوں کو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ وہ اس کی آیات پر ایمان لائیں گے یعنی ان آیات کی تصدیق کریں گے۔ فَہُمْ مُّسْلِمُوْنَ (اور وہ فرمانبردار ہیں) پھر وہ جانتے بھی ہیں اپنے قول میں مخلص ہیں جیسا اس ارشاد میں ہے : بلٰی من اسلم وجہہ للّٰہ وہو محسن۔ ] البقرہ۔ 112[
اس کو صحیح سالم اور خالص اللہ کے لئے قرار دیا۔
Ayah 27:8282: وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ (جب ان پر قول واقع ہوجائے گا) ۔ یہاں قول کے مقصد اور نتیجہ کو قول سے تعبیر فرمایا۔ اور وہ عذاب اور قیام ساعت کا وعدہ ہے۔ وقوعہ۔ کا معنی حصول ہے اور مراد قرب اور اس کی نشانیوں کا ظہور ہے اور وہ وقت جبکہ توبہ فائدہ مند نہ ہوگی۔ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ (ہم ان کے لئے زمین سے ایک چوپایہ نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا) ۔ یہ وہی ہے جس کو حدیث میں جساسہ سے تعبیر کیا گیا۔ اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ ہوگی ٗ اس کو پکڑنے والا پکڑ نہ سکے گا اور بھاگنے والا اس سے فرار اختیار نہ کرسکے گا۔ اس کی چار ٹانگیں ہونگی۔
داڑھی ٗ دو پیر ٗ اور اس کا سر بیل جیسا ٗ آنکھیں خنزیر جیسی ٗ کان ہاتھی جیسے ٗ سینگ بارہ سینگھے جیسے ٗ گردن شتر مرغ کی طرح ٗ سینہ شیر کی مانند ٗ رنگت چیتے جیسی ٗ کو کھیں بلی نما ٗ دم مینڈھے کی طرح ٗ پائوں اونٹ جیسے اور اس کے دو جوڑوں کے مابین دس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ صفا سے نکل کر عربی زبان میں بات کرے گا اور کہے گا۔ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ (لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے) ۔ یعنی میرے نکلنے پر۔ کیونکہ اس کا نکلنا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اور وہ یہ کہے گا : الا لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین۔
نمبر 2۔ ان سے تمام ادیان کے باطل ہونے اور فقط دین اسلام کے برحق ہونے کی بات کرے گا۔ نمبر 3۔ اور یہ بات کرے گا کہ یہ شخص مومن اور یہ کافر ہے۔
قراءت : اَنَّ کوفی وسہل نے مفتوح پڑھا اور جار کو حذف کردیا۔ یعنی تکلمہم باَنَّ ۔ دیگر قراء نے کسرہ دیا کیونکہ کلام قول کے معنی میں ہے اور قول کے بعد اِنّ آتا ہے۔ یا قول مضمر ہے۔ یعنی تقول الدابۃ ذلک۔ اب آیات سے آیات ربنا مراد ہونگی۔ یا نمبر 2۔ اس وقت یہ اللہ تعالیٰ کے قول کی حکایت ہے۔ پھر قیامت کا تذکرہ فرمایا۔
Ayah 27:8383: وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا (اور اس دن کو یاد کرو جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کا ایک گروہ جمع کریں گے) ۔
نحو : من تبعیض کے لئے ہے۔ ای اذکر یوم نجمع من کل امۃ من الامم زمرۃ۔ اس دن کو یاد کرو جب ہم ہر امت میں سے ایک گروہ جمع کریں گے۔ مِّمَّنْ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا (جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے رہے) ۔
نحو : مَن تبیین کے لئے ہے۔ آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو ہمارے انبیاء (علیہم السلام) پر اتاری گئیں۔ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ (پھر ان کو روکا جائے گا) ۔ اول کو روکیں گے تاکہ پچھلے ان کے ساتھ جمع ہوسکیں۔ پھر ان کو موضع حساب کی طرف لے جائیں گے۔ اس تعبیر سے مقصود کثرت تعداد کو بیان کرنا ہے اور الفوج سے بھی بہت بڑی جماعت مراد ہے۔
Ayah 27:8484: حَتّٰی اِذَا جَآئُ وْ (یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے) ۔ موقف حساب وسوال میں جمع ہوجائیں گے۔ قَالَ (تو اللہ تعالیٰ ان کو بطور تہدید فرمائیں گے) ۔ اَکَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِہَا عِلْمًا (کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا بلا سوچے سمجھے سرسری رائے سے تکذیب کردی اور اس کی حقیقت کے معلوم ہونے کے بغیر) کہ یہ واقعہ میں سچی حقیقت ہے یا جھوٹی بات۔ اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (یا پھر تم کیا عمل کرتے رہے۔ جبکہ تم نے ان میں غور ہی نہیں کیا۔ تمہیں بےکار تو نہیں بنایا گیا) ۔
Ayah 27:8585: وَوَقَع الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لاَ یَنْطِقُوْنَ (اور ان پر بات انکے ظلم کرنے کی وجہ سے واقع ہوجائے گی۔ اسلئے وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے) ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کا جو ظلم انہوں نے ڈھایا تھا اسکی وجہ سے موعودہ عذاب انکو ڈھانپ لے گا اور وہ ان کو معذرت و بات چیت سے مشغول کردے گا جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے۔ ہذا یوم لا ینطقون۔ ] المرسلات۔ 35[
Ayah 27:8686: اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ لوگ اس میں آرام کریں) ۔ والنَّہَارَ مُبْصِرًا (اور دن بنایا جس میں دیکھیں) ۔ : مبصرًا یہ حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کو دن کے لئے بنایا اور دن آنکھوں والوں کے لئے ہے۔ معنی کے اعتبار سے تقابل کی رعایت کی گئی کیونکہ مبصرا کا معنی یہ ہے تاکہ وہ معاش میں آنے جانے کے راستے دیکھ لیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (بیشک اس میں البتہ ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں) ۔ جو تصدیق کر کے ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
اس میں دلیل ہے کہ اٹھایا جانا درست ہے۔ کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے رات اور دن کو بنایا ہے معاش کے دنیا میں برقرار رہنے کا ذریعہ تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کو بیکار نہیں بنایا بلکہ آزمائش کے لئے ہے پس ثواب و عذاب کا ہونا یقینی و ضروری ہے۔ جب یہ ثواب و عذاب اس دنیا میں پیش نہیں آتے تو ایک اور گھر ثواب و عقاب کے لئے ہونا ضروری ہے۔
Ayah 27:8787: وَیَوْمَ (اور اس دن کو یاد کرو) ۔ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ (جس دن صور میں پھونک مار دی جائے گی) ۔ الصور جمع صورۃ کی ہے یا سینگ کو کہتے ہیں۔ صور پھونکنے والے اسرافیل (علیہ السلام) ہونگے۔ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ (پس گھبرا جائیں گے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہیں) ۔ اس سے نفخہ اولیٰ والا فزع مراد ہے جب سب بےہوش ہوجائیں گے۔
نکتہ : فزع ماضی لائے یفزع مضارع ذکر نہیں کیا۔ تاکہ فزع کا قطعی و یقینی وقوع ثابت کردیا جائے۔ کہ وہ بہر صورت آئے گی۔ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ (مگر جن کو چاہے اللہ تعالیٰ ) مگر جن کے دل کو اللہ تعالیٰ ملائکہ میں سے مضبوط کردیں گے۔ قولِ علماء۔ نمبر 1۔ وہ جبرائیل میکائیل ٗ اسرافیل ٗ ملک الموت (علیہم السلام) مراد ہیں۔ نمبر 2۔ شہداء کی ارواح مراد ہیں۔ نمبر 3۔ حوریں اور آگ کا داروغہ اور حملۃ العرش۔ نمبر 4۔ جابر ؓ سے روایت ہے کہ ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ ان کو ایک مرتبہ بےہوشی ہوچکی ہے۔ اور اسی طرح اس آیت میں ہے : و نفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوٰت ومن فی الارض الامن شاء اللہ۔ ] الزمر۔ 68[
وَکُلٌّ اَتَوْہُ دٰخِرِیْنَ (اور سب کے سب اس کے سامنے دبے جھکے رہیں گے) ۔ قراءت : حمزہ ٗ حفص ٗ خلف نے اَتَوْہُ پڑھا ہے دیگر قراء نے اَتُوہ پڑھا ہے۔ اور اس کی اصل آتیوہ ہے۔
نحو : داخرین یہ حال ہے۔ ای صاغرین ذلیل و عاجز ہو کر۔ الاتیان کا مطلب موقف میں حاضری ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع اور اس کے حکم کی اطاعت۔
Ayah 27:8888: وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا (اور تم پہاڑوں کو دیکھو گے۔ تم خیال کرو گے کہ وہ) : تحسبہا۔ ضمیر مخاطب سے حال ہے۔ قراءت : تَحْسَبُہَا۔ شامی ٗ حمزہ ٗ یزید ٗ عاصم نے فتحہ سین سے پڑھا۔ جبکہ دیگر قراء نے کسرہ سین سے تَحْسِبُہَاپڑھا ہے۔ جَامِدَۃً (اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں) کھڑے اور حرکت سے رکے ہوئے ہیں۔ یہ جمد فی مکانہ سے بنا ہے۔ جبکہ وہ اپنی جگہ سے نہ ٹلے۔ وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ (حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں)
نحو : ہی تمتر یہ تحسبہ کی ضمیر منصوب سے حال ہے۔
مرّ السحاب ای مرًا مثل مرّ السحاب۔ بادلوں جیسا چلنا۔ مطلب یہ ہے۔ جب تم نفخہ کے وقت پہاڑوں کو دیکھو تو تم ان کو اپنی جگہ جما ہوا محسوس کرو گے۔ کیونکہ وہ بڑی جسامت والے ہیں۔ مگر واقعہ میں وہ جمے ہوئے نہیں بلکہ بادل کی طرح تیزی سے چلے جا رہے ہونگے۔ جبکہ ہوا ان کو دھکیل رہی ہو۔ بڑے اجسام جب حرکت کرتے ہیں تو ان کی حرکت معلوم نہیں ہوتی۔ جیسے نابغہ ذبیانی نے جیش کی تعریف میں کہا۔ بأَرْ عَنَ مثل الطَّودِ و تَحْسَبُ اَنّہم۔ وقوفُ لِحاجٍ والرِّکابُ تَہَمْلَجُ ۔ صُنْعَ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے) ۔
نحو : یہ مصدر ہے اس کا عامل وہی ہے جس پر تمر دلالت کر رہا ہے کیونکہ ان کا بادلوں کی طرح چلنا یہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری میں ہے۔ گویا عبارت اس طرح ہے صنع اللّٰہ ذلک صنعًا۔ (اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا بنانا) ۔ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام اللہ ذکر کیا کیونکہ پہلے کلام میں مذکور نہیں۔ الَّذِیْ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْئٍ (جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا) ۔ اِنَّہٗ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ (وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہیں) ۔ قراءت : یفعلون مکی اور بصری نے سوائے سہل اور یحییٰ کے پڑھا اور ابوبکر نے پڑھا ہے۔ جبکہ دیگر قراء نے تاء سے پڑھا۔ وہ جو کچھ بندے کرتے ہیں۔ ان اعمال سے واقف ہے۔ پس وہ ان کو اس کے مطابق بدلہ دیں گے۔
Ayah 27:89پھر اس کا خلاصہ ذکر فرمایا۔
89: مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ (جو شخص نیکی لایا) ۔ حسنۃ سے جمہور نے لا الہ الا اللہ کا سچا اقرار مراد لیا ہے۔ فَلَہ خَیْرٌ مِّنْہَا (اس
کے لئے اس سے بہت بہتر ملے گا) یعنی اس کو اس عمل حسنہ کی جانب سے اس سے بہتر بدلہ حاصل ہوگا۔ وہ جنت ہے اس صورت میں خیر افضل کے معنی میں نہ آئے گی۔ نحو : منہا یہ موضع رفع میں خیر کی صفت ہے۔ وہم من فزع (اور وہ گھبراہٹ سے) ۔
قراءت : کوفی من فزعٍ شدید جو بہت ہی زیادہ ہو۔ نمبر 1۔ اور وہ آگ کا خوف ہے۔ نمبر 2۔ یا ہر قسم کا خوف خواہ معمولی ہو۔ باقی قراء نے بلا تنوین پڑھا ہے۔ یَوْمَپذٍ کوفی ‘ مدنی نے میم کے فتحہ سے جبکہ دیگر نے کسرئہ میم سے یوم سے قیامت کا دن مراد ہے۔ اٰمِنُوْنَ (وہ امن میں ہونگے) ۔ أمِنکا لفظ حرف جار کے ساتھ بھی متعدی ہوتا ہے اور اس کے بغیر بھی۔ جیسا کہ اس آیت میں افامنوا مکرا للّٰہ ] الاعراف : 99[
Ayah 27:9090: وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ (اور جو کوئی برائی لایا) ۔ السّیئۃ سے شرک مراد ہے۔ فَکُبَّتْ (پس ان کو اوندھے کیا جائے گا) ۔ القیت (ڈالے جائیں گے) وُجُوْہُہُمْ فِی النَّار (ان کے چہرے آگ میں) ۔ کہا جاتا ہے کببت الرجل اے القیتہ علی وجہہ۔ (میں نے اسے چہرے کے بل گرا دیا) ۔
آیت میں تمام جسم کو وجہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سر اور گردن سے تعبیر کرتے ہیں۔ ای القوافی النار۔ ان کو رلانے کے لئے اوندھا کردیا جائے گا۔ اور کہا جائے گا۔ ہَلْ تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تمہیں نہیں بدلہ دیا جا رہا مگر اتنا ہی جو کچھ تم کرتے تھے) ۔ یعنی دنیا میں رہتے ہوئے۔ مثلاً شرک اور دیگر معاصی۔
Ayah 27:9191: اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الْبَلْدَۃِ (مجھے حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں) ۔ البلدۃ سے مکہ مراد ہے۔ الَّذِیْ حَرَّمَہَا (جس کو اس نے حرمت والا بنایا) ۔ امن والا حرم محترم بنایا۔ اس میں پناہ لینے والا محفوظ رہتا ہے۔ اسکے کانٹے کو کاٹا نہ جائیگا اور نہ اسکی گھاس کو اکھاڑا جائیگا اور اسکے شکار کو بھگایانہ جائے گا۔ وَلَہٗ کُلُّ شَیْئٍ (اور چیز اسی ہی کی ہے) ۔ اس شہر سمیت وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں اسکی فرمانبرداری کروں) ۔
Ayah 27:9292: وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْ ٰانَ (اور یہ حکم ملا کہ میں قرآن کی تلاوت کروں) ۔ اتلوا کو اگر تلاوت مصدر سے بنائیں تو قرآن کی تلاوت کروں اور اگر اس کو التُّلُوُّسے لیا جائے جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ واتبع ما یوحٰی الیک من ربک۔ (الاحزاب) ۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم ملا کہ آپ کہیں امرت ان اخص اللہ وحدہٗ بالعبادۃ مجھے حکم ملا ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلے کو عبادت کے ساتھ خاص کروں۔ اور قریش کی طرح اس کا شریک نہ بنائوں۔
اور میں ہوجائوں اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں میں سے اور ہوجائوں ان میں سے جو ملت اسلام پر جمنے والے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کروں تاکہ حلال و حرام کا امتیاز کرسکوں۔ جن کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔
نکتہ : مکہ کو تمام شہروں میں خاص کیا اور اپنے اسم مبارک کی طرف اضافت فرمائی۔ کیونکہ مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب اور زیادہ مرتبے والا ہے اور اس کی طرف اس قول سے اشارہ فرمایا۔ ہذہ البلدۃ۔ یہ ہذہٖ اسم اشارہ مکہ کی تعظیم کے لئے لایا گیا۔ اور اشارہ قریب اس بات پر دلالت کرنے کے لئے کہ یہ اس کے پیغمبر کا وطن و مولد اور مھبط وحی ہے اور اپنی ذات کی صفات کو الذی حرمہا سے تعبیر فرمایا۔ کیونکہ یہ خصوصی وصف مکہ مکرمہ کو ہی حاصل ہے۔ اور ہر چیز اس کی ربوبیت اور ملکوتیت کے ماتحت اسی طرح داخل ہے جیسا تابع اپنے متبوع کے ماتحت ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اس کی ربوبیت میں داخل ہیں۔ فَمَنِ اہْتَدٰی (جو سیدھے راستہ پر چلے گا) ۔ خاص میری پیروی کرتے ہوئے ان باتوں میں جو میں بتلاتا ہوں جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور شرکاء کی نفی اور ملت حنیفیہ میں داخل ہونا اور میرے اوپر اترنے والی وحی میں میری اتباع کرنا۔ فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ (وہ سیدھے راستہ پر اپنے لئے چلے گا) ۔ اس کی ہدایت کا فائدہ اسی کی طرف لوٹنے والا ہے نہ کہ میری طرف۔ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ (اور جو شخص گمراہ ہوا تو آپ اس کو فرما دیں بیشک میں تو ڈرانے والوں میں سے ہوں) ۔ جو شخص گمراہ ہوا اور اس نے میری اتباع اختیار نہ کی اس کا مجھ پر الزام نہیں اس لئے کہ میں تو ڈر سنانے والا رسول ہوں۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔ ] النور۔ 54[
Ayah 27:9393: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ ٰایٰتِہٖ (اور کہہ دیں (الحمدللہ) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں عنقریبفَتَعْرِفُوْنَہَا وہ اپنی آیات دکھلائیں گے اس وقت تم ان کو پہچان لو گے) ۔ پھر آپ کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت نبوت پر شکریہ ادا کریں جس کے برابر کوئی نعمت نہیں اور یہ بھی حکم دیا کہ اپنے دشمن کو دھمکائیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو آخرت میں اپنی آیات دکھائیں گے اس وقت ان کو یقین آجائے گا۔
ایک قول یہ ہے :
کہ اس سے مراد چاند کا پھٹنا ٗ دھواں کا ظاہر ہونا۔ اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی جو سزائیں ان پر اتریں۔
وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (اور آپ کا رب ان کاموں سے بیخبر نہیں جو تم کرتے ہو) ۔ قراءت : تعملونکو تاء کے ساتھ مدنی شامی اور حفص ٗ یعقوب نے پڑھا ہے۔ اس صورت میں اہل مکہ کو خطاب ہے۔ اور دیگر قراء نے یاء سے پڑھا ہے۔ یعنی ہر وہ عمل جو وہ کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والے ہیں۔ غفلت و سہو و نسیان سے اس کی ذات وراء الوراء ہے۔
الحمدللہ آج 20 ذیقعد لیلۃ الجمعہ 1423 ھ بعد نماز عشاء ترجمہ سورة نمل مکمل ہوا۔ ذلک من فضل اللّٰہ عَلیّ