27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہو گے

جوابِ سلیمان ( علیہ السلام) تم دنیا پر اترانے والے ہو : 36: فَلَمَّا جَائَ (جب اس کا قاصد منذر بن عمرو آیا) ۔ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ (سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تو آپ نے فرمایا کیا تم مال سے میری مدد کر رہے ہو) ۔ قراءت۔ تمدونن اس میں دونون اور وصل ووقف میں باء کا اثبات مکی اور سہل نے کیا ہے مدنی اور ابوعمرو نے وصل میں ان کی موافقت کی۔ اتمدونِّی حمزہ اور یعقوب نے دونوں حالتوں میں پڑھا ہے جبکہ دیگر تمام قراء نے وقف اور وصل دونوں حالتوں میں بغیر یاء کے پڑھا ہے اور اس میں قاصدوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ فَمَا ٰاتٰنِ اللّٰہُ (جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے) ۔ یعنی نبوت بادشاہی اور نعمت۔ قراءت : یَ کے فتحہ کے ساتھ مدنی ابوعمرو نے اور حفص نے پڑھا ہے۔ خَیْرٌ مِّمَّا ٰاتٰکُمْ (وہ اس سے بہت بہتر ہے جو اس نے تم کو دیا ہے) ۔ یعنی دنیا کی ٹھاٹھ باٹھ کی چیزیں۔ بَلْ اَنْتُمْ بِہَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُوْنَ (بلکہ تم تو اپنے ہدیے پر اتراتے ہو) ۔ الہدیۃ۔ ہدیہ میں پیش کی جانے والی چیز جیسے عطیہ ہدیہ میں دی جانے والی چیز۔ ہدیے کی اضافت ہدیہ دینے والی اور جس کو ہدیہ دیا جائے دونوں کی طرف درست ہے جیسے کہتے ہیں ہذہ ہدیۃ فلان۔ اس سے مراد وہ چیز ہے جو اس نے ہدیہ میں دی۔ یا یوں کہتے ہیں اہدیت الیہ مجھے یہ ہدیہ دیا گیا۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ اس سے بہت ہی اعلٰی ہے جو تمہارے پاس ہے وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ دین دیا کہ جس میں اعلیٰ نصیب اور وسیع مالداری ہے اور اس نے مجھے وہ دنیا دی ہے کہ جس پر اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کس طرح میرا ہمسر مجھے مالی امداد دے سکتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ ظاہری دنیا ہی کو جانتے ہو۔ اسی لئے جو تمہیں زاد راہ یا ہدیہ دیا جائے اس پر اترانے لگتے ہو۔ کیونکہ تمہاری ہمت اسی حد تک پہنچنے والی ہے مگر میری حالت تمہاری حالت سے مختلف ہے میں تمہاری کسی چیز پر خوش نہیں ہوسکتا سوائے ایمان کے اور اسی بات پر خوش ہوسکتا ہوں کہ تم مجوسیت کو چھوڑ دو ۔ لغوی نکتہ : اتمدنی بمال وانا اغنی منک اور اسی طرح اس کو فاء یا واو کے ساتھ لانے میں فرق یہ ہے۔ کہ جب وائو سے لائو گے تو مخاطبین میری مالداری سے واقف ہیں اور اس کے باوجود وہ مجھے مالی امداددے رہے ہیں۔ اور اگر فاء کے ساتھ لائیں تو مخاطب میری مالداری کو نہیں جانتا پس میں اس کو اس وقت اطلاع دے رہا ہوں کہ مجھے تمہاری معاونت کی ضرورت نہیں۔ گویا میں اس کو اس طرح کہہ رہا ہوں۔ انکر علیک مافعلت فانی غنی عنہ۔ جو معاملہ تم نے کیا ہے میں اس کو عجیب سمجھتا ہوں۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ پس فما اتانی اللّٰہ میں فاء اسی بات کو ظاہر کر رہی ہے۔ بل کو لا کر آپ نے ان کی بات سے اعراض اختیار کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ نے ان کی امداد کو انوکھا قرار دیا اور اپنے انکار کی علت بیان کی۔ اس سے اعراض کرتے ہوئے آپ نے اس سبب کو بیان کردیا جو اس کا باعث بنا تھا اور وہ یہی تھا کہ وہ خوشی و ناراضی کے ہدیہ والے سبب سے واقفیت رکھتے ہیں۔ جو کہ محض دنیا ہے۔ وہ اس کے سوا اور کسی سبب سے واقفیت ہی نہیں رکھتے۔ یعنی ان کی نگاہ فقط دنیا تک ہے جو کہ کوتاہ نگا ہی کی علامت ہے۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اس کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی انکو طاقت نہ ہوگی اور انکو وہاں سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

37: اِرْجِعْ (تو لوٹ جا) ۔ یہ قاصد کو خطاب ہے۔ یا ہدہد کو فرمایا۔ اگر دوسرے خط کا احتمال تسلیم کیا جائے۔ اِلَیْہِمْ (ان کی طرف) بلقیس اور اس کی قوم کی طرف۔ فَلَنَاْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍلاَّ قِبَلَ لَہُمْ بِہَا (ہم ایسا لشکر لے کر ان پر جا پہنچیں گے جن کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہیں) ۔ القبل کی حقیقت مقابلہ و مقاومت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے مقابلہ پر قادر نہ ہونگے۔ وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَا اور (ہم ان کو ضرور سبأ سے نکال باہر کریں گے) اَذِلَّۃً وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ (بےعزت کر کے اور وہ ذلیل ہونگے) ۔ الذل عزت ٗ ملک کا چلاجانا۔ الصغار۔ قید و غلامی میں مبتلا ہونا۔
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان) نے کہا کہ اے دربار والو ! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اسکے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

38: جب ملکہ کی طرف اس کے قاصد اپنے ہدایا لے کر واپس آئے اور انہوں نے واقعات بیان کیے۔ تو بلقیس نے کہا وہ نبی ہیں ہمیں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ پھر اس نے اپنے تخت کو سات کمروں میں بند کر کے ان کے دروازے بند کردیئے اور اس پر پہردار مقرر کیے۔ جو حفاظت کریں اور سلیمان (علیہ السلام) کی طرف پیغام بھیجا کہ میں خدمت میں حاضر ہو رہی ہوں تاکہ آپ کی دعوت پر غور کروں۔ اور بارہ ہزار سرداروں کی سربراہی میں روانہ ہوئی ہر سردار کے ماتحت بھی ہزاروں لوگ تھے۔ جب سلیمان (علیہ السلام) سے اس کا فاصلہ ایک فرسخ رہ گیا تو آپ نے فرمایا۔ اظہارِ معجزہ : قَالَ یٰٓـاَیُّہَا الْمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ (آپ نے فرمایا : اے سردارو ! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لے آئے گا۔ اس سے قبل کہ وہ فرمانبردار بن کر آئے) ۔ نمبر 1۔ آپ نے یہ چاہا کہ اس کو وہ عجائبات دکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر فرمائے تھے۔ تاکہ نبوت ِسلیمان (علیہ السلام) کے لئے وہ شاہد کا کام دیں۔ اگر بلقیس کو اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا کچھ علم تھا۔ نمبر 2۔ آپ نے اس تخت کو اس کے اسلام لانے سے قبل لینا چاہاکیون کہ اسلام لانے کے بعد اس کے مال کا لینا آپ کے لئے جائز نہ تھا۔ مگر یہ قول تحقیق کے خلاف اور غلط ہے۔ نمبر 3۔ آپ نے اس کی عقل کا امتحان لینا چاہا۔ کہ آیا اس کو پہچانتی ہے یا نہیں اسی لئے اس کے جڑائو میں تبدیلی کرا دی۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اسکے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اسکو پاس لا حاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

39: قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ (جنات میں سے ایک خبیث دیو نے کہا) ۔ عفریت۔ خبیث سرکش کو کہتے ہیں۔ اس کا نام ذکوان تھا۔ اَنَا ٰاتِیْکَ بِہٖ (میں اس کو تمہارے پاس لاسکتا ہوں) قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ (اس سے قبل کہ آپ اپنی مجلس فیصلہ وقضاء سے اٹھیں) وَاِنِّیْ عَلَیْہِ (اور میں اس کو لانے پر) اٹھانے پر۔ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ (طاقتور امانت دار ہوں) میں اس کو اسی طرح لے آئوں گا۔ اس سے کوئی چیز کم نہ کروں گا۔ اور نہ تبدیل کروں گا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا۔ میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے

کرامت آصف خیار : 40: قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ (کہا اس نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا) ۔ نمبر 1۔ وہ فرشتہ جو تقدیر کی کتاب لئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عفریت کی اس بات پر انا اتیک بہٖ قبل ان تقوم الایۃ۔ اس فرشتہ کو بھیجا۔ نمبر 2۔ جبرئیل (علیہ السلام) اور کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ نمبر 3۔ خضر علیہ السلام۔ نمبر 4۔ آصف بن برخیا ؓ جو سلیمان (علیہ السلام) کے کاتب وحی تھے اور سب سے صحیح ترین قول یہی ہے اور جمہور کا یہی قول ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتے تھے۔ جس سے جب دعا کی جائے تو فوراً قبول ہوتی ہے۔ اور وہ یہ ہے یاحی یا قیوم یا ذالجلال والاکرام۔ یا اِلہَنا والہ کل شیٔ الہًا واحدًا۔ لا الہ الا انت۔ ایک قول یہ ہے : وہ الہام الٰہی سے غیب کے مقامات اجراء کو جان لیتے۔ اَنَا ٰاتِیْکَ بِہٖ (میں اس کو تیرے پاس لے آئوں گا) ۔ بِہٖ سے تخت مراد ہے۔ اتیک۔ دونوں مقام پر فعل بھی بن سکتا ہے۔ نمبر 2۔ اسم فاعل بھی بن سکتا ہے۔ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ (اس سے قبل کہ تیری نگاہ تیری طرف لوٹ کر آئے) ۔ تم اپنی نگاہ کوئی چیز دیکھنے کے لئے متوجہ کرو۔ اس کو اپنے طرف لوٹانے سے قبل تخت کو اپنے سامنے پائو گے۔ مروی ہے کہ آصف نے سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا۔ آپ اپنی آنکھوں کو حد نگاہ تک دراز کریں۔ آپ نے اپنی دونوں آنکھوں کو سامنے متوجہ کیا پھر آپ نے دائیں جانب دیکھا ادھر آصف نے دعا کی تو تخت زمین کے نیچے سے حکم الٰہی کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے نگاہ لوٹانے سے پہلے مجلس میں ظاہر ہوگیا۔ فَلَمَّا رَ ٰاہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ (جب اس تخت کو سامنے رکھا دیکھا) ۔ بلا اضطراب سامنے جما ہوا۔ قَالَ ہٰذَا (تو سلیمان (علیہ السلام) نے کہا) ۔ یعنی میرے مقصد کا حاصل ہوجانا ہے اور وہ تخت بلقیس کا لانا ہے۔ جو پلک جھپک میں حاصل ہوگیا۔ مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ (یہ میرے رب کا فضل ہے) ۔ جو مجھ پر ہے اور اس کا بلا استحقاق کے احسان مجھ پر ہے۔ بلکہ یہ فضل تو عوض سے بھی خالی ہے اور غرض سے مبرأ ہے۔ لِیَبْلُوَنِیْ ئَ اَشْکُرُ (تاکہ وہ میری جانچ کرے کہ میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں) ۔ یبلو کا معنی امتحان لینا ہے۔ شکر کا فائدہ : نمبر 1۔ اشکر سے انعام کا شکریہ مراد ہے۔ اَمْ اَکْفُرُ وَمَنْ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ (یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شکر کرے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے شکر کرے گا) ۔ کیونکہ وہ اس شکریہ کے ذریعے اپنے فرض کی ذمہ داری اپنے سے اتار رہا ہے اور ناشکری کے نشان سے نفس کو بچاتا ہے اور شکریہ سے مزید کو حاصل کرنے والا اور نعمت کو باقی رکھنے والا ہے۔ شکریہ موجود نعمت کا بندھن اور مفقود نعمت کو شکار کرنا ہے۔ بعض کا مقولہ ہے : کفر انِ نعمت ہلاکت ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وحشی جانور کی رسّی ڈھیلی کردینے سے وہ اپنے مرکز پر واپس لوٹ آئے منتشر نعمتوں کو شکر سے پاس بلا اور اپنے عمدہ پڑوس سے سابقہ کو قائم رکھ اور یہ خوب سمجھ لو ! کہ اللہ تعالیٰ کی ستاری کا لٹکا ہوا پردہ اٹھ جائے گا اگر تم اس کی عظمت کا خیال نہ کرو گے۔ یعنی اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کرو گے۔ وَمَنْ کَفَرَ (جس نے ناشکری اختیار کی) ۔ نعمتوں کا شکریہ ترک کر کے۔ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ (پس میرا رب بےنیاز ہے) ۔ شکریے سے کَرِیْمٌ (کرم کرنے والا ہے) اور جو اس کی نعمتوں کی ناشکری ہے اس پر اپنی نعمتوں سے کرم کرنے والا ہے۔ واسطی کا قول ہے : ہمارا شکریہ تو اپنے لئے ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ملنے والی نعمت بھی ہمیں ہی پہنچتی ہے اور اس کا احسان و فضل ہم پر سایہ افگن ہے۔
Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

41: قَالَ نَکِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا (آپ نے فرمایا اس کا تخت تبدیل کردو) ۔ یعنی اس کے مقدم کو موخر اور اعلیٰ کو اسفل کردو۔ نَنْظُرْ (ہم دیکھیں) ۔ نحو : جزم کی صورت میں یہ جواب ہے۔ اَتَہْتَدِیْ (کیا اس کو صحیح پتہ چلتا ہے) ۔ اپنے تخت کی پہچان کرنے میں موقعہ سوال پر درست جواب دینے میں۔ اَمْ تَکُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَہْتَدُوْنَ (یا اس کا شمار انہی لوگوں میں ہے جو ایسی باتوں کا پتہ نہیں لگا سکتے) ۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت و شان کا) علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

42: فَلَمَّا جَآئَ تْ (پس جب بلقیس آئی) ۔ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِ (اس کو کہا گیا۔ تیرا تخت اسی طرح کا ہے) ۔ نحو : ہا حرف تنبیہ ہے اور کاف تثنیہ کے لئے ذا اسم اشارہ ہے۔ عجیب سوال و جواب : آپ نے أہکذا عرشک فرمایا۔ اہذا عرشک۔ امثل ہذا عرشک نہیں فرمایا۔ تاکہ تلقین نہ بنے۔ قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ (اس نے کہا۔ گویا یہ وہی ہے) اس نے بہترین جواب دیا اور اس نے ھو ہو یا لیس بہٖ نہیں کہا۔ یہی اس کی عقل مندی کی علامت تھی۔ کہ ایسی بات کہی جس میں دونوں باتوں کا احتمال تھا۔ یا جب انہوں نے اہکذا عرشک کہہ کر اس پر معاملے کو مشتبہ کیا تو اس نے بھی اپنے قول کَانَّہ ہُوَ سے ان پر بات کو مشتبہ کردیا۔ باوجودیکہ اس کو معلوم ہوچکا تھا کہ یہ اسی کا تخت ہے۔ ملکہ کا اعتراف : وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا (اور ہمیں تو اس نشانی سے قبل ہی علم ہوگیا تھا) ۔ یہ کلام بلقیس ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور آپ کی صحت نبوت کا علم گذشتہ معجزات سے ہوچکا تھا۔ تخت منگوانے والے معجزہ کے ظہور سے پہلے یا اس حالت سے پہلے۔ وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ (اور ہم آپ کے فرمانبردار ہیں) ۔ اور آپ کے حکم کو ماننے والے ہیں۔ نمبر 2۔ یا یہ سلیمان (علیہ السلام) اور آپ کے سرداروں کا کلام ہے اور اس کا عطف و اوتینا العلم پر ہے۔ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی ذات وصفات اور اس کی طرف سے آنے والی وحی پر اس کے علم سے پہلے ہی علم ہے۔ نمبر 3۔ ہمیں اس کا مسلمان ہونا معلوم ہوچکا تھا اور اس کی آمد سے قبل اس کا مسلمان ہو کر آنا معلوم ہوچکا تھا اور ہم اس کو وحدہ لاشریک ماننے والے اور اس کے سامنے جھکنے والے ہیں۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی (سلیمان نے) اسکو منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

اسے کس چیز نے روکا : 43: وَصَدَّہَا مَا کَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو ان معبودوں کی عبادت سے روک دیا جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتی تھی) ۔ یہ سلیمان (علیہ السلام) کے کلام سے متصل ہے۔ یعنی سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو روک دیا اس علم کی بنیاد پر جو ہم نے ان کو سکھایا تھا۔ یا اسلام کی طرف پیش قدمی کرنے نے اس کو سورج کی پوجا اور کفار کے مابین نشونما سے روک دیا۔ پھر کفار کے درمیان اس کا پرورش پانا واضح فرمایا۔ اِنَّہَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔ یا یہ ابتدائی کلام ہے۔ ای قال اللّٰہ تعالیٰ و صدہا قبل ذلک عما دخلت فیہ ضلالہا عن سواء السبیل۔ نمبر 3۔ صدہا اللّٰہ۔ نمبر 4۔ صدہا سلیمان عما کانت تعبد۔ حرف جار کے حذف کو مقدر مان کر اور فعل کو ملا کر۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں (سلیمان نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

44۔ قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ (اس کو کہا گیا تو محل میں داخل ہو) ۔ الصرح۔ محل نمبر 2۔ گھر کا صحن۔ فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً (جب اس کو دیکھا تو اس کو موجیں مارنے والا پانی گمان کیا) ۔ لُجۃ۔ (بڑا پانی) ۔ وَّکَشَفَتْ عَنْ سَا قَیْہَا (اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا) ۔ قراءت : مکی نے سأقیہا ہمزہ سے پڑھا ہے۔ روایت تفسیریہ میں ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی آمد سے قبل حکم دیا کہ اس کے راستے پر سفید شیشے کا محل بنایا جائے اور اس کے نیچے پانی جاری کردیا اور اس پانی میں مچھلیاں چھوڑ دیں اور اس کے درمیان میں اپنا تخت بچھا کر بیٹھ گئے اور پرندے اور جنات و انس آپ کے ساتھ رک گئے۔ یہ فعل آپ نے اپنے معاملے کی عظمت کو بٹھانے اور نبوت کی سچائی ثابت کرنے کیلئے کیا۔ ایک قول یہ ہے : جنات اس سے شادی کرنا ناپسند کرتے تھے اپنے اسرار و رموز اس کے پاس رکھتے کیونکہ یہ جنیۃ کی بیٹی تھی۔ ایک قول یہ ہے : ان کو خطرہ تھا کہ اس کا ایسا لڑکا پیدا نہ ہو جو جن و انس کی فطانت کا جامع ہو۔ وہ سلیمان کی بادشاہت سے نکل کر اس سے سخت بادشاہت میں نہ پھنس جائیں۔ وہ سلیمان (علیہ السلام) کو کہنے لگے اس کی عقل میں خرابی ہے اور اس کی پنڈلیوں پر بہت بال ہیں اور اس کے پائوں گدھے کے کھروں کی طرح ہیں۔ آپ نے تخت کو تبدیل کر کے اس کی عقل کا امتحان لیا اور محل بنایا تاکہ پنڈلیوں اور پائوں کا پتہ چل سکے۔ جب اس نے پانی سمجھ کر اس میں گھسنا چاہا تو اس کی پنڈلیاں اور پائوں لوگوں میں خوبصورت ترین تھے۔ مگر ان پر بال تھے آپ نے اپنی نگاہ مبارک پھیرلی۔ پھر فرمایا۔ قَالَ (آپ نے اس کو فرمایا) ۔ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ (بیشک یہ محل ہے بنا ہوا) ۔ ملائم ٗ برابر اور امرد کا لفظ بےبال لڑکا اسی سے ہے۔ مِّنْ قَوَارِیْرَ (شیشے کا) ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے شادی کرنا چاہی مگر اس کے بالوں کو ناپسند کیا۔ شیاطین نے نورہ تیار کیا جس سے بال جاتے رہے۔ پس سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے نکاح کرلیا اور اس سے محبت کی اور اس کو اس کے ملک پر برقرار رکھا۔ مہینہ میں ایک مرتبہ اس کے ہاں جاتے اور تین روز قیام فرماتے۔ اس سے اولاد بھی پیدا ہوئی۔ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ (اس نے کہا اے میرے رب بیشک میں نے اپنے اوپر ظلم کیا) ۔ سورج کی عبادت میں مصروف رہ کر۔ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (اور سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لائی) ۔ قولِ محققین : کہ اس بات کا قطعاً احتمال بھی جائز نہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) اس کی پنڈلیاں دیکھنے کے لئے یہ حیلہ کریں جبکہ وہ اجنبیہ تھی۔ حاشا وکلا۔ اس لئے اس جیسی باتیں درست نہیں۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

قوم ثمود کا ذکر : 45 : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا (تحقیق ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا) ۔ اخاہم۔ نسبی بھائی۔ نحو : صالحًا یہ اخاہم سے بدل ہے۔ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) ۔ قراءت : اَنِ کی نون کو وصل میں کسرہ سے عاصم ٗ حمزہ ٗ بصری قراء نے پڑھا اور دیگر قراء نے نون کو ضمہ سے باء کی اتباع میں پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے تم اللہ کو وحدہ لاشریک مانو۔ فَاِذَا یہ مفاجات کیلئے ہے۔ ہُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ (اچانک دو فریق جھگڑنے لگے) ۔ ہم مبتدأ فریقان خبر ہے۔ یختصمون یہ صفت ہے اور یہی اذا میں عامل ہے۔ مطلب یہ ہے۔ کہ اچانک قوم صالح کے دو گروہ مومن و کافر بن کر جھگڑنے لگے۔ ہر فریق کہتا تھا کہ حق میرے ساتھ ہے۔ اس کی وضاحت اس آیت اعراف 75۔ 76 میں موجود ہے۔ قال الملأ الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن ٰامن منہم اتعلمون ان صالحًا مرسل من ربہ قالوا انا بما ارسل بہٖ مؤمنون۔ 75 قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہٖ ] کافرون 76[۔ اور کافر کہنے لگے۔ یصالح آتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین۔ ] الاعراف۔ 77[
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

46: قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَۃِ (کہا ! اے میری قوم تم برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو) ۔ السیئۃ سے وہ عذاب مراد ہے جس کو ان سے نہ ماننے کی صورت میں وعدہ کیا جاتا تھا۔ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ (اچھائی سے پہلے) ۔ توبہ سے قبل۔ لَوْ لَا (کیوں نہیں) ۔ تَسْتَغْفِرُوْنَ (تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے) ۔ کفر سے توبہ کر کے اور ایمان لا کر کیوں معافی نہیں مانگتے اس سے قبل کہ عذاب نازل ہو۔ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (تاکہ تم پر رحم کیا جائے) ۔ تمہیں قبولیت عنایت فرما کر۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہو (صالح نے) کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

47: قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ (ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں) ۔ کیونکہ ان کی بعثت کے وقت تکذیب کی وجہ سے ان پر قحط مسلط کردیا گیا تھا۔ کفار نے آپ کی آمد کی طرف اس کی نسبت کی اور اطَّیَّرْنَا اصل میں تطیرنا ہے۔ اور اس طرح بھی پڑھا گیا ہے۔ تاء کو طاء میں ادغام کر کے سکون طاء کو پڑھنے کے لئے الف کا اضافہ کردیا۔ وَبِمَنْ مَّعَکَ (اور ان سے جو تیرے ساتھ ہیں) ۔ ایمان لانے والے۔ قَالَ طٰٓپرُکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ (کہا تمہاری نحوست اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے) ۔ یعنی وہ سبب جس سے تمہارے لئے خیر و شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ وہ اسی نے بنایا اور اسی کی ہی تقسیم ہے۔ نمبر 2۔ تمہارا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھا ہوا ہے۔ پھر جو کچھ اترا بطور سزا اور آزمائش وہ اسی کی طرف سے اترا اور اس آیت میں یہی مذکور ہے۔ وکل انسان الزمناہ طائرہ فی عنقہ۔ ] الاسراء۔ 13[ تطائر کی اصل : اہل جاہلیت کے ہاں یہ تھی۔ جب مسافر کسی پرندے کے پاس سے گزرتا اور اس کو وہ ڈانٹ پلاتا۔ پرندہ ڈر کر اگر اس کے دائیں طرف سے گزر جاتا تو وہ اس کو متبرک قرار دیتے اور اگر وہ بائیں طرف گزرتا تو وہ اس سے بدشگونی لیتا۔ جب خیرو شر کی نسبت انہوں نے طائر کی طرف کی تو استعارۃً اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تقسیم کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ نمبر 2۔ تمہاری قسمت بندے کے عمل سے ہے۔ وہ بندہ جو کہ رحمت و عذاب میں اصل سبب ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ (بلکہ تم آزمائی ہوئی قوم ہو) ۔ تمہارا امتحان لیا گیا ہے۔ نمبر 2۔ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں عذاب دیا جا رہا ہے۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

ثمود کے مفسد : 48: وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ (اور شہر میں) ۔ شہر سے ثمود کا شہر مراد ہے۔ جس کا نام الحجر تھا۔ تِسْعَۃُ رَہْطٍ (نو اشخاص تھے) نحو : یہ جمع ہے جس کا واحد نہیں۔ اسی لئے یہ تسعۃ کی تمیز کے طور پر استعمال ہوگیا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا گیا۔ تسعۃ انفس۔ کیونکہ تین سے دس تک کی تمیز جمع مجرور آتی ہے۔ قول ابن درید (رح) : ان کا سربراہ قدار بن سالف تھا یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے میں دوڑ دھوپ کی تھی۔ یہ سب بڑے لوگوں کی اولاد تھے۔ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ (وہ زمین میں فساد مچاتے درستی نہ کرتے تھے) ۔ یعنی ان کا کام خالص بگاڑ پھیلانا تھا جس میں اصلاح کا ذرہ بھی نہ ہو۔ جیسا کہ بعض مفسدین سے کبھی کبھی صلاح و درستی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ قول حسن (رح) : لوگوں کے عیب نکالتے اور ستر پوشی نہ کرتے۔
Ayahs 27:49–50

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ یم رات کو اس پر اور اسکے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم بھی ایک چال چلے اور انکو کچھ خبر نہ ہوئی

آیت 49: قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ (انہوں نے کہا سب منکر آپس میں قسمیں اٹھائو) ۔ : نمبر 1۔ یہ تقاسموا خبر ہے جو محل حال میں واقع ہے۔ اور قد مضمر ہے۔ ای قالوا متقاسمین باللّٰہ۔ نمبر 2۔ یہ امر ہے۔ یعنی انہوں نے ایک دوسرے کو قسم کا کہا اور حکم دیا۔ تقاسموا کا معنی تحالفوا۔ باہمی حلف ہے۔ لَنُبَیِّتَنَّہٗ (ہم اس پر شب خون ماریں گے) ۔ راتوں رات اس کو ضرور قتل کردیں گے۔ وَاَہْلَہٗ (اور اس کے اہل کو) ۔ اولاد و پیروکاروں کو ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہٖ (پھر ہم اس کے اولیاء کو کہیں گے) ۔ خون کے وارث۔ قراءت : حمزہ و علی کی قراءت میں لتبیتنہ تائے اولیٰ اور تائے ثانیہ کے ضمہ سے۔ لتقولُن تاء اور ضمہ لام کے ساتھ آیا ہے۔ ماشہدنا، ( ہم تو موجود ہی نہ تھے) مہلک اہلہ (اس کے اہل کے ہلاک ہونے کی جگہ میں) قراءت، حفص نے مہلک پڑھا اور ابوبکر ‘ حماد ‘ مفضل نے مَہْلَکَ پڑھا اور اصل ہلک قرار دیا۔ اول کا معنی موضع ہلاکت اور دوسرا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہلاکت ہے۔ دیگر قراء نے مُہْلَک پڑھا اور اہلک کو اصل قرار دیا۔ نمبر 1۔ اس کا معنی اہلاک (ہلاک کرنا) نمبر 2۔ مکان اہلاک۔ ہلاک کرنے کی جگہ۔ حاصل معنی نمبر 1۔ یہ ہے ہم نے اس کے اہل و عیال پر کوئی تعرض ہی نہیں کیا۔ پس ہم ان پر کیسے تعرض کرسکتے ہیں۔ نمبر 2۔ ہم تو اس کی ہلاکت کے ٹھکانے پر موجود نہ تھے۔ ہم اس کی ہلاکت کے کیونکر ذمہ داربنیں۔ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ (اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں) اس بات میں جو ہم نے کی ہے۔ وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّ مَکَرْنَا مَکْرًا وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور انہوں نے ایک خفیہ تدبیر کی اور ہم نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی اور اس تدبیر کی ان کو خبر بھی نہ تھی) ۔ مکرہم سے ان کی وہ تدبیر جو انہوں نے صالح (علیہ السلام) اور ان کے اہل کے متعلق شبخون مارنے کی بنائی تھی۔ مکر اللّٰہ سے مراد ان کا اس طور پر ہلاک کردینا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوئی۔ آیت میں (نحو) بطور استعارہ تدبیر کو ماکر کے مکر سے تشبیہ دی ہے۔ صالح ( علیہ السلام) کے خلاف سازش قتل : روایت میں ہے کہ گھاٹی میں صالح (علیہ السلام) کی مسجد تھی جس میں آپ نماز ادا فرمایا کرتے تھے وہ کہنے لگے کہ صالح کا خیال یہ ہے کہ وہ ہم سے تین دن میں فارغ ہوجائے گا۔ ہم کیوں نہ اس سے اور اس کے اہل سے تین دن سے پہلے فارغ ہوجائیں۔ چناچہ نو آدمی گھاٹی کی طرف نکل کر گئے۔ اور آپس میں کہنے لگے اگر وہ نماز ادا کرنے آئے گا تو ہم اس کو قتل کردیں گے۔ پھر اس کے اہل پر حملہ آور ہو کر ان کو قتل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک پتھر مسلسل بارش سے ان کی جانب بھیج دیا۔ وہ جلدی بھاگے تو پتھر اوپر سے آ کر ان پر گھاٹی میں فٹ ہوگیا۔ ان کی قوم کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ وہ کہاں گئے اور نہ ان کو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کا کیا حشر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام کو اسی جگہ سزا دے دی اور صالح (علیہ السلام) کو اور تمام ایمان والوں کو بچالیا۔
Ayah 27:51

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

قوم کی ہلاکت : 51 : فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْ اَنَّا دَ مَّرْنٰہُمْ (غور کرو ان کی تدبیر کا انجام کیا ہوا بیشک ہم نے تمام کو تہس نہس کردیا ) ۔ قراءت : کوفی و سہل نے اَنَّا کو فتحہ سے پڑھا اور دیگر قراء نے اِنّا پڑھا اور جملہ مستانفہ قرار دیا۔ نحو : جنہوں نے فتحہ دیا انہوں نے اس کو۔ نمبر 1۔ العاقبۃ کا بدل مان کر مرفوع قرار دیا۔ نمبر 2۔ مبتدأ محذوف کی خبر مان لیا۔ تقدیر کلام یہ ہوئی وہی تدبیرہم اور جنہوں نے نصب دیا۔ انہوں نے لاَنَّالام کو محذوف مانا۔ نمبر 2۔ یا اس کو کان کی خبر قرار دیا۔ تقدیر کلام کان عاقبۃ مکرہم الدمار وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ (اور ان کی ساری قوم کو) ۔ چیخ کے ذریعہ
Ayah 27:52

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں جو لوگ دانش رکھتے ہیں ان کے لئے ان میں نشانی ہے

آیت 52: فَتِلْکَ بُیُوْتُہُمْ خَاوِیَۃً (پس یہ ان کے مکانات گرپڑے ہیں) ۔ منہدم گرپڑے ہیں۔ خاویۃ یہ خوی النجم سے بنا ہے۔ جب کہ وہ گرے۔ نمبر 2۔ خالی پڑے ہیں۔ جبکہ الخواء سے لیا جائے۔ نحو : یہ حال ہے۔ جس پر تلک کا مدلول عامل ہے۔ بِمَا ظَلَمُوْا (ان کے ظلم کی وجہ سے) ۔ ان کے ظلم کے باعث۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) ۔ جو کچھ ثمود کے ساتھ ہوا۔ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (جاننے والی قوم کے لئے نشانی ہے) ۔ ہماری قدرت کی پس وہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

53: وَاَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو (صالح (علیہ السلام) پر) ایمان لائے) ۔ وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ (اور وہ تقویٰ والے تھے) ۔ وہ اس کے اوامر کو ترک کرنے سے بچنے والے تھے۔ ان کی تعداد چار ہزار تھی جنہوں نے صالح (علیہ السلام) کے ساتھ عذاب سے نجات پائی۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

مجالس میں بےحیائی : 54: وَلُوْطًا اِذْ قَالَ (اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ کرو جب انہوں نے کہا) ۔ لوطًا۔ اذ کر کی وجہ سے منصوب ہے اور اذ یہ لوطًا سے بدل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اذ کر وقت قول لوط۔ (لوط کے قول کے وقت کو یاد کرو۔ ) لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ (اپنی قوم سے کیا تم بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو) ۔ لواطت فاحشہ مراد ہے۔ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (حالانکہ تم سمجھدار ہو) ۔ تم جانتے ہو کہ وہ بےحیائی ہے تو کیوں اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ تبصرون سے نمبر 1۔ بصر قلب مراد ہے۔ نمبر 2۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے۔ کیونکہ مجالس میں اعلانیہ اس کا ارتکاب کرتے ایک دوسرے سے چھپانے کے لئے پردہ نہ کرتے تھے۔ اس وجہ سے کہ وہ اس معصیت میں شدید منہمک تھے۔ اور مذاق و مخول کے طور پر کرتے تھے۔ نمبر 3۔ تم اپنے سے قبل مجرموں کے آثار دیکھتے ہو۔ اور جو کچھ ان پر اترا وہ بھی تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ پھر اگلی آیات میں صراحۃً فرمایا۔
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت (حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ احمق لوگ ہو

55: اَئِنَّکُمْ (کیا تم ہی) ۔ قراءت : شامی ٗ کوفی نے دو ہمزہ سے پڑھا۔ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ (کیا تم مردوں سے شہوت پوری کرتے ہو) ۔ شہوۃ ای لشہوۃ۔ شہوت پوری کرنے کے لئے۔ مِنْ دُوْنِ النِّسائِ (عورتوں کو چھوڑ کر) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عورت کو مرد کے لئے بنایا ہے۔ مرد کو مرد کے لئے نہیں بنایا۔ اور نہ مؤنث کو مؤنث کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ٹکراتی ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ (بلکہ تم جاہل لوگ ہو) ۔ نمبر 1۔ جاہلوں جیسے کام کرتے ہو اس لئے کہ اس کا بےحیائی ہونا تمہیں بخوبی معلوم ہے۔ نمبر 2۔ جہل سے مراد حماقت اور وہ مخول جس پر وہ قائم تھے۔ اس جملہ میں خطاب و غائب دونوں جمع ہوگئے اور دوسری آیت : بل انتم قوم تُفْتَنون۔ [ النمل : 47] میں دونوں مخاطب ہیں۔ اس آیت میں خطاب کو غائب پر غلبہ دے دیا کیونکہ وہ قوت میں بڑھ کر ہے۔ اس لئے کہ اصل کلام تو دو موجود آدمیوں میں ہوتی ہے۔
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اسکے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو شہر سے نکال دو یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

56: فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلاَّ اَنْ قَالُوْا اَخْرِجُوْا ٰالَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ (پس قوم کا جواب یہی تھا کہ کہنے لگے۔ آل لوط کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو بیشک یہ لوگ پاک بنتے ہیں) ۔ آل لوط سے یہاں لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار مراد ہیں۔ نحو : کان کی خبر جواب ہے اور ان قالوا اس کا اسم ہے۔ یتطہرون۔ وہ گندگیوں سے بڑے بچتے ہیں۔ وہ اس گندے عمل کو اوپر اقرار دیتے ہیں اور ہمیں ان کے انکار و تنقید سے بغض اور چڑ ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ استہزائی کلام ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ انک لانت الحلیم الرشید۔ ] ہود۔ 87[
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے انکو انکے گھر والوں کو نجات دی

57: فَاَنْجَیْنٰہُ (ہم نے ان کو نجات دی) ۔ قوم پر واقع ہونے والے عذاب سے بچا لیا۔ وَاَہْلَہٗ اِلاَّ امْرَاَتَۃٗ قَدَّرْنٰہَا مِنَ الْغٰبِریْنَ (اور اس کے اہل کو مگر ان کی بیوی ہم نے تجویز کر رکھا تھا اس کے لئے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے) ۔ قراءت : حماد و ابوبکر کے علاوہ باقی نے قدرنا تشدید سے پڑھا ہے۔ ای قدرنا کونھا۔ ہم نے مقدر کیا اس کا ہونا۔ الغابرین۔ عذاب میں باقی رہنے والے۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

مگر ان کی بیوی کہ اسکی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی) اور ہم نے ان پر مینہ برسایا سو (جو) مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا برا تھا

58: وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًا (اور ہم نے ان پر بارش کی بارش کرنا) ۔ پتھروں کی بارش جن پر اس کا نام لکھا تھا فَسَآئَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ (ڈرائے ہوئوں کی بارش بہت بری تھی) ۔ منذرین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے انذار کو قبول نہ کیا۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے اور اسکے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اسکا شریک ٹھہراتے ہیں

59: قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (آپ کہہ دیں الحمد للہ اور اس کے ان بندوں پر سلام ہو جو چنے ہوئے ہیں) ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنی حمد و ستائش کا اولاً حکم فرمایا۔ پھر چنے ہوئے بندوں پر سلام کا حکم دیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی توحید و وحدانیت پر بعد میں آنے والی دلالت کے لئے بطور تمہید حکم فرمایا۔ اس میں ہر اچھا عمل کرتے ہوئے ان دونوں سے تبرک حاصل کرنا چاہیے۔ اور دونوں کے وجود مرتبہ سے خوب پختگی حاصل کرے۔ نمبر 2۔ یہ لوط (علیہ السلام) کو خطاب فرمایا کہ وہ اپنی قوم کی ہلاکت پر یہ دعا کیا کریں۔ کہ اے اللہ کفار کی ہلاکت اور پسندیدہ بندوں کے محفوظ رہنے پر تیرا شکر ہے اور اس ہلاکت سے ہمیں بچایا اور گناہوں سے معصوم بنایا۔ اللّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ (کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں) ۔ قراءت : بصری ٗ عاصم نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ جن کو انہوں نے شریک ٹھہرایا ہے ان میں اس وقت کوئی خیر نہیں یہاں تک کہ ان کے اور اس ذات کے درمیان موازنہ نہ کیا جائے جو کہ ہر چیز کا خالق ہے۔ یہ در حقیقت ان کو الزام دیا جا رہا ہے اور ان کی حماقت و سبک سری کا اظہار ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بتوں کی عبادت کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ترجیح دی ہے۔ اور کوئی عقل مند کسی چیز کو دوسری پر ترجیح دیتا ہے۔ تو اس کے لئے کوئی نہ کوئی داعیہ ضرور ہوتا ہے مثلاً اس میں خیر و بھلائی کی کثرت ہے اور منافع زیادہ ہیں۔ اس میں ان کو کہا جا رہا ہے۔ تم جانتے ہو کہ جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے بالمقابل ترجیح دی ہے ان میں خیر کا شائبہ بھی نہیں۔ اور انہوں نے ترجیح بھی زیادتی خیر کی وجہ سے نہیں دی ہے۔ بلکہ ہوائے نفسانی اور لغو محض ہے۔ کفار کو خطا ٔ مفرط پر متنبہ کرنا ٗ حیران کن جہالت پر خبردار کرنا ہے۔ تاکہ وہ معلوم کرلیں کہ ترجیح کے لئے خیر کا زائد ہونا ضروری ہے۔ اور وہ ان کے معبودوں میں مفقود ہے۔ عمل نبوت : آپ ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو آخر میں فرماتے : بل اللّٰہ خیر وابقٰی واجل واکرم۔ (اخرجہ الثعلبی)
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ؟ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ لوگ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

60: اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے وہ خیرات و منافع ذکر فرمائے جو کہ اس کی رحمت و فضل کے آثار ہیں۔ چناچہ فرمایا : امن خلق السموت والارض۔ (کیا وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا) ۔ فرق : امّا یشرکون کے ام اور امن خلق السموت کے ام میں یہ ہے۔ اما یشرکون کا ام متصلہ ہے۔ اس لئے معنی یہ ہے۔ ان میں کون زیادہ بہتر ہے۔ اور یہ ام منقطعہ ہے جو کہ بل کے معنی میں ہے۔ اور ہمزہ سابقہ استفہام سے اعراض کے لئے ہے۔ کیونکہ یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر خیر کا مبدأ ہے۔ دوسرے معبودوں میں خیر کا نشان بھی نہیں۔ پھر استفہام کی صورت میں دونوں میں برابری کرنا اور سوال میں موازنہ کرنا کسی طرح زیبا نہیں اسی لئے سابق استفہام سے اعراض کیا اس صورت میں یہ استفہام تقریری برائے تاکید ہے۔ کہ جس نے آسمان بنائے وہی بہتر ہے۔ وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَآئً (اور اس نے اتارا تمہارے لئے آسمان سے پانی) ۔ مآء سے مراد بارش ہے۔ فَاَنْبَتْنَا (پس ہم نے اُگائے) ۔ کلام کا رخ غیبت سے متکلم کی طرف کردیا۔ نمبر 1۔ تاکہ اس بات کی تاکید کردی جائے کہ یہ فعل اس کی ذات سے مختص ہے۔ نمبر 2۔ اور مختلف قسم کے باغات ٗ جن کے رنگ ٗ ذائقے ٗ پرکشش شکلیں ایک ہی پانی سے پیدا کرنے پر صرف ایک وحدہ لاشریک ذات کو قدرت حاصل ہے۔ بِہٖ (اس پانی کے ذریعہ) حَدَآپقَ (باغات ٗ باغیچے) الحدیقۃ (دیوار سے گھرا ہوا باغ) ۔ یہ احداق سے بنا ہے وہ احاطہ کو کہا جاتا ہے۔ ذَاتَ یہاں ذوات کی بجائے ذات لایا گیا۔ کیونکہ معنی بہت سے حدائق ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ النساء ذہبت۔ بَہْجَۃٍ (پر رونق) ۔ حسین۔ کیونکہ دیکھنے والا ان سے سرور حاصل کرتا ہے۔ پھر خصوصیت کی طرف اس ارشاد سے اشارہ کیا۔ مَاکَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْچبِتُوْا شَجَرَہَا (تمہارے لئے ان کے درختوں کا اگانا ممکن نہیں تھا) ۔ کینونت کا معنی یہاں انبغاء ہے۔ مراد یہ ہے کہ ایسا کرنا غیروں کے لئے محال ہے۔ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ (کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود ہے) ۔ کیا اس کے ساتھ اور کوئی ملایا جائے اور اس کا شریک بنایا جائے۔ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ (بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو اس کے برابر قرار دیتے ہیں) ۔ یا اللہ تعالیٰ کے حق توحید سے اعراض کرتے ہیں۔ بل ہم کے الفاظ خطاب کے بعد ان کی رائے کی غلطی کے اظہار کے لئے بہت بلیغ ہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اسکے بیچ میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی ؟ (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

61: اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ (یا وہ ذات جس نے زمین کو بنایا) ۔ اس کا ما بعد ام من خلق سے بدل ہے۔ اور اس کا حکم وہی ہے کہ ام منقطعہ اور استفہام تقریری ہے۔ قَرَارًا (قرار گاہ) ۔ زمین کو بچھایا اور اس کو قرار کے لئے درست کردیا۔ وَجَعَلَ خِلٰلَہَا (اور اس کے درمیان بنائے) ۔ خلالہاظرف ہے۔ یعنی اس کے وسط میں۔ اَنْہٰرًا (نہریں) ۔ نحو : یہ اول مفعول ہے اور دوسرا خلالہا ہے۔ اور بین البحرین بھی اسی کی مثل ہے۔ وَجَعَلَ لَہَا (اور اس کے لئے بنائے) ۔ ہا کا مرجع الارض ہے۔ رَوَاسِیَ (پہاڑ) جو کہ حرکت سے اس کو روکنے والے تھے۔ وَجَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ (اور بنائے دو سمندروں کے درمیان) ۔ بحرین سے میٹھا اور نمکین مراد ہے۔ حَاجِزًا (مل جانے سے روک) ۔ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود ہے بلکہ ان کی اکثریت بےعلم ہے) ۔ وہ توحید کو جانتے ہیں پس نہیں مانیں گے۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) مگر تم غور بہت کم کرتے ہو

62: اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ (یا کون ہے ایسا کہ جب کوئی بےقرار اس کو پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا کو قبول کرتا ہے) ۔ اضطرار۔ یہ ضرورت سے افتعال کا باب ہے۔ اضطرار ایسی حالت کو کہتے ہیں جو پناہ کی طرف مجبور کر دے۔ کہا جاتا ہے۔ اضطرہ الی کذا۔ فاعل و مفعول دونوں صیغے مضطر ہیں۔ مضطر۔ اس شخص کو کہتے ہیں جس کو مرض یا فقر یا حوادث زمانہ نے پناہ کی طرف اور گڑ گڑانے پر مجبور کردیا ہو۔ یا گناہ گار جب استغفار کرے یا مظلوم جب پکارے یا وہ آدمی جو اپنے ہاتھ اٹھائے اور اپنے پاس سوائے توحید کے کوئی نیکی نہ پائے اور اس کو اس مصیبت سے خطرہ ہو۔ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ (اور وہ مصیبت کو دور کرتا ہے) ۔ السوء سے تکلیف جسمانی یا ظلم مراد ہے۔ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآئَ الْاَرْضِ (اور تمہیں زمین کا وارث بنایا) ۔ یعنی زمین میں وارث بنایا۔ اس توارث سے اس میں رہائش اور صدیوں سے اس میں تصرف کرنا یا خلافت سے تسلط بادشاہی مراد ہے۔ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ (کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ مگر تم لوگ بہت کم یاد رکھتے ہو) ۔ قراءت : ابوعمرو نے یذ کرون پڑھا اور حمزہ ‘ علی و حفص نے تخفیف سے پڑھا۔ ما زائدہ ہے۔ ای تذکرون تذکرًا قلیلاً ۔ (تم یاد کرتے ہو بہت کم یاد کرنا) ۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہر گز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے

63: اَمَّنْ یَّہْدِیْکُمْ (یا وہ ذات جو تمہاری راہنمائی کرتا ہے) ۔ ستاروں کے ساتھ راہنمائی۔ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (سمندر اور خشکی کے اندھیروں میں) ۔ رات کو اور دن کے وقت زمین میں علامات کے ذریعہ۔ وَمَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ (اور جو ہوائیں بھیجتا ہے) ۔ قراءت : مکی ‘ علی ٗ حمزہ نے الریح پڑھا ہے۔ بُشْرًا (خوشخبری کے طور پر) ۔ یہ بشارت سے ہے۔ یہ سورة اعراف 57 آیت میں گزرا ہے۔ بَیْنَ یَدَی رَحْمَتِہٖ (بارش سے پہلے) ۔ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے) اللہ تعالیٰ ان شریکوں سے بلند تو ہیں جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو

64: اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ (یا وہ (بہتر ہے) جس نے مخلوق کی ابتداء کی) ۔ وہ مخلوق کو نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہے۔ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (پھر وہی اعادہ کرے گا) ۔ یہاں ثم یعیدہ کہا گیا حالانکہ وہ تو اعادہ کے سرے سے انکاری تھے۔ جواب یہ ہے کہ اعادئہ خلق ناممکن نہیں نقلی دلائل سے اعادہ کا واجب ہونا ثابت ہے۔ نقلی دلائل کے واجب الیقین ہونے پر معجزات کی تائید کافی ہے۔ پس عذر کے لئے گنجائش ذرہ بھر بھی نہیں۔ وَمَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ (آسمان سے کون تمہیں روزی دیتا ہے) رزق آسمان سے بارش مراد ہے۔ وَالْاَرْضِ (اور زمین سے) ۔ ای من الارض یعنی زمین سے نباتات۔ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہُ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ (کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ کہہ دیں تم اپنی دلیل پیش کرو) ۔ اپنے شرک کی دلیل۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) ۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریکوں کے دعویٰ میں سچے ہو۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے

65: قُلْ لاَّ یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلاَّ اللّٰہُ (آپ کہہ دیں آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے کوئی غیب کو سوائے اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتا) ۔ نحو : مَنْ یَعْلم کا فاعل ہے۔ الغیب مفعول ہے۔ اللّٰہ یہ مَن سے بدل ہے۔ الغیب۔ ہو مالم یقسم علیہ دلیل اطلع علیہ مخلوق۔ وہ جس کے ثبوت پر کوئی دلیل قائم نہ ہو اور نہ اس کی اطلاع مخلوق کو ہو۔ مطلب یہ ہے۔ لا یعلم احدٌ الغیب الا اللّٰہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند وبالا ہے۔ کہ وہ ان میں سے ہو جو آسمان و زمین میں ہیں۔ لیکن بنی تمیم کی لغت کے مطابق آیا ہے۔ کہ مستثنیٰ منقطع کو متصل کی جگہ لاتے ہیں اور مستثنیٰ منقطع میں نصب و بدل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ متصل میں ہوتا ہے اور وہ بولتے ہیں۔ مافی الدار احدٌ الاحمار۔ فرمان عائشہ صدیقہ ؓ : جس کا یہ گمان ہو کہ وہ کل کی بات جانتا ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا : قل لا یعلم من فی السمٰوٰت والارض الغیب الا اللّٰہ۔ ایک قول یہ ہے : یہ آیت ان مشرکین کے متعلق اتری جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کا وقت دریافت کیا۔ وَمَا یَشْعُرُوْنَ (اور وہ نہیں جانتے) ۔ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ کہ ( ان کو کب اٹھایا جائے گا) ۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

66: بَلِ ادّٰرَکَ (بلکہ پورا ہوگیا) ۔ قراءت : أدرک مکی ٗ بصری ٗ یزید و مفضل نے پڑھا ہے۔ اس کا معنی پورا ہوا اور مکمل ہوا لیا ہے اس صورت میں ادرکت الفاکہۃ سے لیا گیا ہے یعنی پک کر تیار ہوگیا۔ اعشیٰ نے بل ادرک بروزن افتعل پڑھا ہے۔ دیگر قراء نے بل ادارک پڑھا جس کا معنی استحکم اور اس کی اصل تدارک ہے۔ تاء کو دال میں ادغام کیا گیا اور الف وصل کو بڑھا دیا تاکہ پڑھ سکیں۔ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ (ان کا علم آخرت کے متعلق) ۔ آخرت اور اس کے متعلقہ چیزوں کے متعلق۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے وقوع پر مستحکم و مضبوط دلائل قائم ہوچکے اور ان کے سامنے آچکے اور ان کی پہچان بھی ان کو میسر آچکی ہے مگر ان کا حال یہ ہے کہ یہ اس سے جہالت کا اظہار کرتے اور اس میں شک کرنے والے ہیں اور اس کا تذکرہ اس ارشاد میں فرمایا۔ بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَا بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ (بلکہ وہ اس کے متعلق شک میں مبتلا ہیں بلکہ وہ اس کے متعلق اندھے ہوچکے ہیں) تین مرتبہ بل لا کر اضراب و اعراض ان کے احوال کے مطابق علی سبیل الترقی اور ان کے جہل کو اور زیادہ پختہ کرنے کے لئے ہے اولاً فرمایا۔ نمبر 1۔ کہ ان کو بعث کے وقت کا شعور نہیں۔ نمبر 2۔ پھر فرمایا وہ نہیں جانتے کہ قیامت قائم ہونے والی ہے۔ نمبر 3۔ پھر فرمایا وہ شک وریب میں ٹامک ٹویاں مارنے والے ہیں۔ مگر اس کو زائل نہیں کرتے حالانکہ ازالہ ان کی طاقت میں ہے۔ پھر جو اس سے بدتر حالت (عمیٰ ) اندھا پن اس کو ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت کو ان کے اندھے پن کا مبدأو منشأ قرار دیا۔ اسی لئے تو عن کی بجائے من سے متعدی بنایا۔ کیونکہ تدبر و تفکر سے باز رہنے کا اصل سبب جزاء و انجام کا انکار ہے۔ اس آیت کے مضمون میں کفار کو ملامت کی گئی جس کی وجہ ماقبل کا مضمون ہے۔ کفار کو منکرین بعث قرار دیا گیا باوجودیکہ علم کے اسباب مضبوط اور دلائل سے اس کی پہچان پختہ ہوچکی۔ اور وہ مضمون اللہ تعالیٰ کا علم غیب کے ساتھ مختص ہونا ہے۔ اور بندوں کو کچھ علم نہ ہونا۔ جب یہ بیان کردیا کہ بندے غیب کو نہیں جانتے تو ان کی عاجزی کا اظہار ہے اور ان کے قصور علم کا بیان ہے۔ تو اس کے ساتھ ملا کر یہ بات کہہ دی گئی کہ ان کا عجز تو اس سے بہت ہی بڑھ کر ہے۔ وہ اس طرح کہ وہ قطعی طور پر ہونے والی چیز کو جس کا واقع ہونا یقینی ہے اور وہی ان کے اعمال کی جزاء کا وقت ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ آئے گی نہیں۔ حالانکہ اس کے واقعہ ہونے کی پہچان کے پختہ اسباب ان کے ہاں موجود ہیں۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی جائز ہے۔ ان کے علم کا استحکام ٗ تکامل بطور استہزاء کے ہو جیسا کہ سب سے بڑے جاہل کو کہیں مَا اعلمک۔ تو کتنا بڑا علامہ ہے اور اس تہکم کی وجہ ان کا قیامت کے متعلق شک اور اس کے اثبات سے اندھا پن اختیار کرنا ہے۔ جس کے لئے عمل کی شارع موجود ہے۔ اس کی بجائے وہ اس کا وقت معلوم کرنا چاہتے ہیں جس کو جان لینے کا کوئی راستہ نہیں۔ نمبر 3۔ اور أدرک انتہاء اور فناء کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یہ ادرکت الثمرۃ سے ہو۔ پھل فناء ہوا۔ کیونکہ اس کی وہ غایت ہے جس پر وہ معدوم کردی جائے گی۔ حسن بصری (رح) کا قول : ادّارک علمہم۔ اے اضمحل علمہم فی الاخرۃ آخرت کے متعلق ان کا علم مضمحل ہوچکا اور تدارک یہ تدارک بنو فلان سے ماخوذ ہے جبکہ وہ پے درپے ہلاک ہوں۔
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر قبروں سے نکالے جائیں گے ؟

67: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَا اَپنَّا لَمُخْرَجُوْنَ (اور کافروں نے کہا۔ جب ہم خاک ہوگئے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہم برآمد کیے جائیں گے) ۔ اپنی قبور سے زندہ کر کے ؟ قراءت : عاصم ٗ حمزہ و خلف کی قراءت میں اذا اور ان میں حرف دوبارہ تکریر سے آیا ہے۔ یہ در حقیقت انکار کے بعد انکار ہے۔ شدید انکار کے بعد شدید انکار۔ اور یہ ان کے کفر کے مؤکد اور شدید ہونے کی دلیل ہے۔ نحو : اذا کا عامل وہ ہے جس پر لمخرجون دلالت کرتا ہے اے نخرج۔ کیونکہ اسم فاعل اور مفعول ہمزئہ استفہام کے بعد ہیں۔ نمبر 2۔ اسم فاعل و مفعول اِنّ کے بعد ہیں۔ نمبر 3۔ لام ابتداء کے بعد ہے۔ ان تینوں صورتوں میں جب الگ ہونے کی حالت میں اسم فاعل و مفعول ماقبل میں عمل نہیں کرتے۔ تو پھر کیسے جب جمع ہوگئے تو عمل کریں گے۔ اس لئے نخرج نکالنا پڑا۔ اِنّا کی ضمیر کفار اور ان کے آباء کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ مٹی ہونے میں وہ اور ان کے آباء سب شامل ہیں لیکن حکایت کو غائب پر غلبہ دیا اور آباؤنا کا عطف کُنّا کی ضمیر پر ہے۔ کیونکہ مفعول تاکید کے قائم مقام آیا ہے۔
Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت ؟ ) یہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہے

68: لَقَدْ وُعِدْنَا ہٰذَا (بلاشبہ ہم سے اس کا وعدہ کیا گیا) ۔ یعنی بعث بعدالموت کا۔ نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ (اور ہمارے آباء و اجداد سے اس سے پہلے) یعنی محمد ﷺ سے قبل۔ نکتہ : اس آیت میں نحن و آباؤنا پر ہذا کو مقدم کیا گیا۔ جبکہ سورة المؤمنون میں نحن و اباؤنا کو ہذا پر مقدم کیا گیا۔ جواب یہ ہے کہ یہاں مقصود بعث بعدالموت کا تذکرہ ہے اس لئے ہذا اشارہ قریب کو مقدم لائے اور اس جگہ مبعوث کا تذکرہ مقصود ہے اس لئے نحن و اباؤنا کو مقدم کیا۔ اِنْ ہٰذَا اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (یہ تو گزرے لوگوں کی جھوٹی داستانیں ہیں) ۔ اور جھوٹے قصے اور بناوٹی باتیں ہیں۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو دیکھو کہ گنہگاروں کا کیا انجام ہوا ہے ؟

69: قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (آپ کہہ دیں کہ ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا ؟ ) عاقبۃ آخری معاملہ۔ لطیف نکتہ : اس آیت میں مجرمین کا لفظ لا کر جرم کو ذکر کر کے مسلمانوں کو لطیف اشارہ کردیا کہ جرائم کو چھوڑ دو ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : فدمدم علیہم ربہم بذنبہم فسوّہا۔ ] الشمس۔ 14[۔ ممّا خطیئَاتہم اغرقوا وادخلوا نارا ] نوح۔ 25[
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ ان چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں دل تنگ ہونا

70: وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ (آپ ان پر غم مت کریں) ۔ اس بناء پر کہ وہ آپ کی اتباع نہیں کر رہے اور نہ ہی بچنے اور سلامت رہنے کے لئے مسلمان ہو رہے ہیں۔ وَلَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ (اور نہ تنگدل ہوں) ۔ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ (ان کے مکر اور اپنے خلاف سازشوں سے) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ آپ کی لوگوں سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ عرب کہتے ہیں۔ ضَاق الشی ضیقا۔ یہ دیگر قراء کی قراءت ہے جبکہ ابن کثیر کی قراءت کسرہ کے ساتھ ہے (ضِیْقٍ )
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

71: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ (اور وہ یہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہوگا) ۔ الوعد سے وعدہ عذاب مراد ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ عذاب جھٹلانے والے کو پہنچے گا۔
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

آیت 72: قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ (آپ کہہ دیں کہ جس عذاب کے جلد پہنچنے کے تم خواستگار ہو) ۔ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو) ۔ کفار نے عذاب موعود کو جلد طلب کیا تو انہیں یہ جواب دیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے ہو اور وہ بدر کے دن کا عذاب مراد ہے۔ یہاں لام تاکید کے لئے اسی طرح لائی گئی ہے جیسا کہ باء اس آیت میں تاکید کے لئے لائی گئی ہے۔ ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ۔ ] البقرہ۔ 195[ نمبر 2۔ فعل متعدی کے معنی کو متضمن ہے۔ جیسے کہتے ہیں دنالکم وازف لکم۔ پہلا فعل مجرد ہونے کے باوجود دوسرے متعلق فعل کے معنی کو متضمن ہے۔ اب ردف لکم کا معنی تبعکم ولحقکم۔ (تمہارے پیچھے اور تمہیں ملنے والا ہے) ۔ قاعدہ : عسیٰ ٗ لعل اور سوف شاہی وعدوں اور وعیدوں میں اس معاملے کی سچائی اور حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس مقام پر اسی قسم میں سے ہے۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

73: وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ فَضْلٍ (اور بیشک آپ کا رب افضال والا ہے) ۔ عَلَی النَّاسِ (لوگوں پر) کہ جلد عذاب نہیں بھیجتا۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَشْکُرُوْنَ (لیکن ان کی اکثریت شکر گزار نہیں ہے) ۔ یعنی ان کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی نعمت کا حق نہیں پہچانتی اور نہ ہی شکر ادا کرنے والی ہے۔ بلکہ جہالت سے عذاب میں جلد بازی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

آیت 74: وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ (اور بیشک آپ کا رب اس چیز کو جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں) ۔ وَمَا یُعْلِنُوْنَ (اور جو ظاہر کرتے ہیں) ۔ تکن۔ کا معنی چھپانا ہے۔ یعلنون سے مراد زبان سے جس کا وہ اظہار کرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ان سے عذاب کی تاخیر کچھ اس بناء پر نہیں ہے۔ کہ ہم پر ان کا کوئی حال مخفی ہے۔ لیکن اس کا ایک وقت مقرر ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو کفار عداوت ِرسول چھپاتے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں یعنی عداوت رسول اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو استحقاق کے مطابق سزا دے گا۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

قراءت : تکن پڑھا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کننت الشیٔ وأکننتہٗ جبکہ تم اس کو چھپائو اور مخفی رکھو۔ 75: وَمَا مِنْ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ فِیْ (اور آسمان و زمین میں کوئی مخفی چیز ایسی نہیں کہ جو لوح) ۔ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (محفوظ میں موجود نہ ہو) ۔ غائبۃ۔ اس چیز کو کہا جو غائب ہوتی اور چھپتی ہے اور خافیۃ بھی اسی کو کہتے ہیں۔ ان دونوں کے آخر میں عاقبت اور عافیت کی طرح تاء آئے گی۔ اس کے نظائر الرمیۃ والذبیحۃ والنطیحۃ ہیں۔ یہ اسماء ہیں صفات نہیں ہیں۔ نمبر 2۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ دونوں صفت ہوں۔ اور ان کی تاء مبالغہ کے لئے ہے۔ جیسے کہ الراویۃ میں ہے گویا اس طرح فرمایا۔ وما من شیٔ شدید الغیبوبۃ الا وقد علمہ اللّٰہ واحاطہ بہٖ واتبعہٗ فی اللوح المحفوظ کہ جو چیز بہت زیادہ چھپنے والی ہو اور اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں اور اس کا احاطہ کرنے والے ہیں۔ اور لوح محفوظ میں اس کا اندراج کرنے والے ہیں۔ المبین (ظاہر ہے) ۔ اس کے لئے جو اس کو دیکھتے ہیں یعنی فرشتے۔