Ayahs 26:1–21، 2: طَسٓمٓ قراءت : طس، یس، حم امالہ سے پڑھیں گے کو فیوں کے ہاں مگر اعشیٰ ، حفص، برجمی امالہ نہیں کرتے میم کے وقت نون کو ظاہر کرتے ہیں یزید، حمزہ، اور ان کے علاوہ ادغام کرتے ہیں۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ (یہ واضح کتاب کی آیات ہیں) جس کا اعجاز ظاہر ہے اور اس کا من عند اللہ ہونا صحیح ہے کتاب ؔ سے مراد سورة ہے۔ یا نمبر 2۔ قرآن مجید۔ مطلب یہ ہے کہ اس مجموعہ کی آیات کتاب مبین کی آیات کے حروف مبسوطہ میں سے ہیں۔
Ayah 26:3ان کے ایمان لانے پر اپنے کو نہ کو سیں :
3: لَعَلَّکَ بَاخِعٌ (شاید آپ اپنی جان کھو دیں گے) بخع کا معنی ہلاک کرنا ہے اور لعلؔ شفقت کیلئے لایا گیا۔ نَّفْسَکَ (اپنی جان غم کی وجہ سے) یعنی آپ اپنے اوپر رحم کریں اس سے کہ اپنے کو اپنی قوم کے اسلام نہ لانے کی وجہ سے غم و حسرت میں ڈال کر ہلاک کریں۔ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (اس بناء پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے) نمبر 2۔ ان کے ایمان سے باز رہنے کی وجہ سے۔ نمبر 3۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔
Ayah 26:44: اِنْ نَّشَاْ (اگر ہم ان کا ایمان چاہیں) نُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآ ئِ ٰایَۃً (ہم ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں) واضح دلالت فَظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ (پھر ان کی گردنیں ہوجائیں گی) ۔
نحو : یہاں ظلت ماضی، بمعنی مضارع تظل ہے کیونکہ شرط جزاء میں اگر ماضی آبھی جائے وہ بھی مستقبل کے معنی میں ہے۔ جیسے کہتے ہیں ان زرتنی اکرمتک ای اکرمک کذا قالہ الزجاج۔
اعناقہم ؔ سے ان کے رئو ساء اور پیش پیش لوگ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ ان کی جماعتیں جیسا کہ کہتے ہیں جاء عنق من الناس یعنی ان میں سے ایک جماعت آئی۔ لھَا خَاضِعِیْنَ (جھکنے والی) مطیع۔
قول ابن عباس۔ : یہ ہمارے اور بنو امیہ کے متعلق اتری۔ عنقریب ہم کو ان پر برتری حاصل ہوگی۔ اور ان کی گردنیں کچھ صعوبت کے بعد ذلیل ہوجائیں گی اور ان کو عزت کے بعد ذلت میسر ہوگی۔
Ayah 26:5ان کا اعراض بڑھ گیا عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا :
5: وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا کَانُوْا عَنْہُ مُعْرِضِیْنَ (اللہ تعالیٰ ان کی طرف جو وحی وعظ و تذکیر کیلئے اتارتے ہیں اس سے ان کا اعراض و کفر بھی نیا ہوجاتا ہے) ۔
Ayah 26:66: فَقَدْ کَذَّبُوْا (پس یقینا انہوں نے تکذیب کی) محمد ﷺ کی ان باتوں میں جو آپ ان کے پاس لے کر آئے۔ فَسَیَاْ تِیْہِمْ (پس عنقریب ان کے پاس آجائیں گی) عنقریب وہ جان لیں گے۔ اَنْچبٰٓـؤُا (خبریں) مَاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ (اس کی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے) ماؔ سے مراد قرآن ہے۔ اس میں ان کے لئے وعید اور انداز ہے۔ عنقریب ان کو علم ہوگا جب ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب چھوئے گا۔ بدر کے دن اور قیامت کے دن کہ وہ کس چیز کا انکار کرتے تھے اور عنقریب ان کے سامنے وہ خبریں اور حالات آجائیں گے جو ان پر مخفی تھے۔
Ayah 26:7کمالِ قدرت :
7: اَوَلَمْ یَرَوْاِلَی الْاَرْضِ کَمْ اَنْبَتْنَا (کیا انہوں نے زمین کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا کہ ہم نے کس قدر اگایا)
نحو : کم یہ انبتنا کی وجہ سے منصوب ہے۔
فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ (اس میں ہر طرح کا سبزہ) زوج کا معنی اقسام نباتکَرِیْمٍ (شاندار) ، کثیر الفوائد جس سے انسان و حیوان ہر دو مستفید ہوتے ہیں جیسا کہ کریم شخص کا نفع ہر ایک کیلئے عام ہوتا ہے۔
نحو : کثرت و احاطہ کے دونوں کلمات کو جمع کردیا۔ کلؔ کا کلمہ نبات کے افراد پر تفصیل سے بطور احاطہ دلالت کرتا ہے اور کمؔ کثرتِ اصناف کو محیط ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت پر متنبہ کیا ہے۔
Ayahs 26:8–98، 9: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے) یعنی ان اوصاف کے ثابت کرنے میں قدرت الہی کی نشانی ہے کہ ان کا اگانے والا مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ ان میں سے اکثریت کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ ان سے ایمان کی کوئی امید نہیں ہے۔۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کا رب غالب ہے۔ ) کفار سے اپنے انتقام میں الرَّحِیْمُ (مہربان ہے) ان کے لئے جو ان میں سے ایمان لائیں۔ ایۃؔ کا لفظ واحدلایا گیا حالانکہ ان کی کثرت کی خبر دی۔ کیونکہ ذلک سے انبتناؔ مصدر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ جنس پر دلالت کرتا ہے۔ نمبر 2۔ ان میں سے ہر نبات کے جوڑے میں کیا خوب نشانی ہے۔
Ayahs 26:10–1110، 11: وَاِذْ نَادٰی (اور اس وقت کو یاد کرو جب پکارا)
نحو : اذؔ یہ اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے ای واذکر اذ نادیؔ (پکارنا ‘ بتلانا) ۔ رَبُّکَ مُوْسٰٓی اَنِ ائْتِ (تیرے رب نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہ تم جائو) ۔
نحو : یہاں انؔ ای کے معنی میں ہے۔ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (ظالم قوم کے پاس) اپنے نفوس پر کفر کے سبب ظلم کرنے والے اور بنی اسرائیل پر غلام بنانے کی وجہ سے ظلم کرنے والے اور اسی طرح ان کے بچوں کو ظلم کے طور پر قتل کر کے ان پر ظلم کی دستاویز لکھ دی۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ القوم الظالمین کا عطف بیان ہے گویا قوم ظالمین کا معنی اور ترجمہ ہی قوم فرعون ہے اور گویا دو عبارتیں یکے بعد دیگرے ایک ہی بات کو ادا کر رہی ہیں۔ اَلَا یَتَّقُوْنَ (کیا وہ ہمارے غضب سے نہیں ڈرتے) یعنی ان کے ہاں زاجر بن کر جائیں۔ ان کے ڈرنے کا وقت قریب آچکا۔
حو : الاؔ کا کلمہ یہ برانگیختہ کرنے کیلئے آتا ہے نمبر 2۔ یہ الظالمین کی ضمیر سے حال ہو یعنی وہ ظلم کرتے ہیں مگر اس میں اللہ تعالیٰ اور اس کی سزا سے ذرا نہیں ڈرتے ہمزہ انکار کو حال پر داخل کردیا گیا۔
Ayahs 26:12–13خطرئہ تکذیب :
12، 13: قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَخَافُ (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب مجھے اندیشہ ہے) خوف ؔ مستقبل میں پیش آنے والے معاملے پر غم۔ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ (کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے) وَیَضِیْقُ صَدْرِی (اور میرا سینہ تنگ ہوگا) ان کے مجھے جھٹلانے کی وجہ سے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے نمبر 2۔ یا اخاف پر عطف ہے۔ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ (اور میری زبان نہیں چلے گی) اس پر کہ ان کے غلط کام دیکھ کر غیرت مجھ پر غالب آئے گی۔ اور میں ان کا جھگڑا سنوں گا تو میری زبان نہ چلے گی۔ نمبر 2۔ ان دونوں کو یعقوب نے نصب سے پڑھا اور اس کا عطف یکذبون پر ڈالا اس صورت میں خوف ان تینوں سے متعلق ہے۔ نمبر 3۔ اور اگر رفع مانیں تو اس صورت میں خوف تکذیب سے متعلق ہے۔ فَاَرْسِلْ اِلٰی ھٰرُوْنَ (پس ہارون کے پاس (وحی) بھیج دے) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیج کر ان کو پیغمبربنا۔ تاکہ پیغام رسالت میں وہ میری اعانت کریں۔ حضرت ہارون اس وقت مصر میں تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو شام میں نبوت عنایت کی گئی۔ یہ التماس موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے تعمیل حکم میں ٹال مٹول نہ تھی۔ بلکہ اپنے ساتھ ملانے اور تبلیغ رسالت میں معاونت کی غرض سے التماس کی۔ معاملے کو چلانے کیلئے معین کا مطالبہ عذر سے شروع کیا اور معاون کی طلب قبولیت کی تو کھلی دلیل نہ کہ ٹال مٹول کی۔
Ayah 26:14دعویٰ گناہ کو گناہ کہا :
14: وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْچبٌ (اور ان کا میرے اوپرارتکابِ گناہ کا دعویٰ ہے) قبطی کے مکہ سے قتل ہوجانے کا۔ یہاں مضاف حذف کردیا گیا۔ ای تبعۃ ذنبٍ ۔ نمبر 2۔ دعوی گناہ کو ذنب کہا جیسا کہ جزاء سیئہ کو سیئہ کہتے ہیں۔ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ (پس مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں) کہ وہ مجھے قصاصاً قتل کردیں۔ یہ بھی بہانہ بازی نہیں بلکہ ایک متوقع مصیبت کو دفع کا مطالبہ ہے جس میں ابتلاء کا قوی اندیشہ ہے اور تبلیغ رسالت کے فریضہ کی ادائیگی سے قبل ہی قتل کردیں یہ اس اندیشے کا اظہار ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کلاؔ جو کلمہ ردع ہے اس کے ذریعہ جواب دیکر دو قبولیتیں ایک جگہ جمع فرمادیں۔ فرمایا
Ayah 26:15تسلی باری تعالیٰ :
15: قَالَ کَلَّا فَاذْھَبَا (فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں جائو) کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے پہنچنے والی مصیبت کا دفاع طلب کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب اس طرح دیا کہ خوف کو ان سے ہٹا دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی کیلئے رسالت طلب کی تو جواب ملا اذھبا یعنی میں نے اس کو تیرے ساتھ ہی رسول بنادیا پس تم دونوں ادائیگی فریضہ کیلئے جائو۔ فاذھباؔ کا عطف اس فعل پر ہے جس پر کلاؔ دلالت کرتا ہے گویا اس طرح فرمایا اے موسیٰ تو اس قسم کے گمان سے باز رہو اور تم اور ہارون مل کر جائو۔ بِاٰیٰتِنَآ (ہماری آیات کے ساتھ) اور وہ ید بیضاء اور عصا وغیرہ ہیں۔ اِنَّا مَعَکُمْ (ہم معاونت و مدد سے تمہارے ساتھ ہیں) ۔ اور جن کی طرف تم بھیجے گئے ہو علم وقدرت سے وہاں بھی موجود ہیں۔ مُّسْتَمِعُوْنَ : یہ اِنَّ کی خبر ہے اور معکم ؔ لغو ہے۔ ( ہم تمہاری باتیں سننے والے ہیں) نمبر 2۔ یہ دونوں انَّ کی خبریں ہیں۔ یعنی سننے والے ہیں۔
استعمالِ استماع :
اس مقام کے علاوہ دوسری جگہ استماع تو صرف کان لگانے کیلئے آتا ہے کہا جاتا ہے استمع الی حدیثہٖ ای اصغیٰ الیہ۔ مگر یہاں اس پر محمول کرنا درست نہیں۔ پس یہاں اس کا معنی سماع، سننا کیا جائے گا۔
Ayah 26:16گویا دونوں ایک رسول تھے :
16: فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (پس تم دونوں فرعون کے پاس جا کر کہو ہم رب العالمین کے قاصد ہیں)
نکتہ : اس مقام پر رسولؔ کا لفظ تثنیہ نہیں لائے جیسا کہ دوسرے مقام پر انا رسولا ربک ہے۔ کیونکہ الرسول بمعنی المرسل ہوتا ہے اور الرسالۃ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس آیت میں تثنیہ لانے کے بغیرچارہ کار نہ تھا کیونکہ الرسول بمعنی المرسل تھا۔ اور موجودہ آیت میں بمعنی الرسالۃ ہے پس اس کی صفت واحد، تثنیہ ‘ جمع تینوں طرح درست ہے۔ نمبر 2۔ کیونکہ یہ دونوں ایک شرعیت پر متحد و متفق تھے گویا دونوں ایک رسول تھے۔ نمبر 3۔ مراد یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہماری طرف سے ہے۔
Ayah 26:1717: اَنْ اَرْسِلْ (کہ بھیج دو ) یہ معنی ارسل ہے۔ کیونکہ رسول کے لفظ میں ارسال کا معنی پہلے پایا جاتا ہے اور اس میں قول کا معنی ہے۔ مَعَنَا بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو) مراد یہ ہے کہ ان کو فلسطین جانے کیلئے آزاد چھوڑ دو ۔ اور یہ فلسطین ان کا مسکن تھا۔ پس دونوں اس کے دروازہ پر گئے مگر ایک سال تک ان کو اندر آنے کی اجازت نہ ملی یہاں تک کہ ایک دربان نے کہا یہاں ایک انسان ایسا ہے کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کا رسول ہے اس پر فرعون نے اندر آنے کی اجازت دی اور کہنے لگا اس کو اندر آنے دو ۔ شاید اس سے ہنسی مذاق کرلیں۔ دونوں نے داخل ہو کر پیغام رسالت پہنچایا۔ اس وقت فرعون نے موسیٰ کو پہچان کر کہا۔
Ayah 26:18تربیت کا احسان :
18۔ قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا (کہنے لگا کیا ہم نے اس وقت اپنے گھروں میں تجھے نہیں پالا تھا کہ تو بچہ تھا) بطور اختصار یہاں یہ محذوف ہے فأتیا فرعون فقالا لہ ذلک۔ الولیدؔ بچہ کیونکہ اس کا زمانہ ولادت قریب ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تو چھوٹا نہ تھا پس ہم نے تیری تربیت کی۔ وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ (اور تو ہم میں اپنی عمر کے کئی سال ٹھہرا رہا) ایک قول یہ ہے تیس سال۔
Ayah 26:1919: وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ (اور تو نے اپنا وہ کام دکھا یا جو تو نے دکھایا) یعنی قبطی کو قتل کردیا اس نے تعریض کے طور پر بات اس لئے کی کہ وہ بادشاہ تھا۔ وَ اَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ (اور تو کافروں میں سے ہے) یعنی میری نعمتوں کا منکر ہے کہ تو نے میرے ہی نان بائی کو قتل کردیا۔ نمبر 2۔ تو ہمارے اس دین پر تھا جس کو تو اب کفر کا نام دے رہا ہے اور یہ بہتان ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر اس نے باندھا۔ کیونکہ وہ معصوم پیغمبر ہیں آپ ان میں نبوت سے قبل خاموشی سے بچ بچا کر زندگی گزارتے رہے۔
Ayah 26:20جواب موسیٰ d:
20: قَالَ فَعَلْتُھَآ اِذًا (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے وہ کام اس وقت کیا) ای اذ ذاک۔ وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ (جبکہ میں ناواقفوں میں سے تھا) ۔ الضالین یعنی الجاہلین بانھا تبلغ القتل اس کے قتل تک پہنچنے سے بیخبر تھا۔ الضال عن الشئی۔ پہچان کا ختم ہونا نمبر 2۔ بھولنے والے۔ اس صورت میں اس آیت کے معنی میں ہوگا۔ ان تضل احداھما فتذکر احدٰھما الاخری ] البقرہ : 282[ آپ نے اپنی ذات سے انت من الکافرین کے فرعونی الزام کو دفع کیا اور الکفرین کی جگہ الضالین کا لفظ لائے۔ اور اذا جواب بھی ہے اور جزاء بھی اور یہ کلام فرعون کا جواب اور اس کی جزاء بھی ہے کیونکہ فرعون کا قول وفعلت فعلتک ہے جس کا معنی یہ ہے تم نے میرے احسان کا بدلہ اپنے اس قتل قبطی والے فعل سے دیا ہے اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو فرمایا۔ نعم فعلتھا مجازیًا لک ہاں میں نے تجھے بدلہ اور جزاء دیتے ہوئے یہ کیا اور یہ بات آپ نے برسبیل تسلیم فرمائی کیونکہ اس کا احسان تھا ہی اس انداز کا جس کا بدلہ اسی قسم کا دیا جاتا ہے۔
Ayah 26:21تمام وزرائے فرعون مشورئہ قتل میں شریک تھے :
21: فَفَرَرْتُ مِنْکُمْ (پس میں تم سے بھاگ گیا) مدین کی طرف لَمَّا خِفْتُکُمْ (جب مجھے تمہارے طرف سے ڈر لگا) کہ تم مجھے قتل کر دوگے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو آل فرعون کے مومن نے کہا ان الملأ یأتمرون بک لیقتلوک فاخرج۔ ] القصص : 20[ فَوَھَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا (میرے رب نے مجھے حکم عطاء فرمایا) حکم سے نبوت اور علوم نبوت مراد ہے اور مجھ سے بھول اور ناواقفیت کو دور فرمایا۔ وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور اس نے مجھے پیغمبروں سے بنایا) منجملہ رسولوں میں سے۔
Ayah 26:2222: وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْ اِسْرَآ ئِ یْلَ (یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھ رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے) تربیت کا احسان جتلانے کی خبر کو دوبارہ اور اس کو جڑ سے کاٹ دیا اور اس کا نام نعمت ماننے سے انکار کردیا۔ پھر اس کا نعمت ہونا ظاہر کیا کہ تیرے انعام کی حقیقت بنی اسرائیل کی غلامی ہے کیونکہ اس کی غلامی اور ان کے بیٹوں کا ذبح کرنا ہی وہ سبب تھا جس سے موسیٰ (علیہ السلام) اس کے ہاں پہنچے اور ان کی پرورش کی اگر وہ ایسی حرکت نہ کرتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے والدین ان کی تربیت کرتے گویا فرعون نے موسیٰ پر احسان ان کی قوم کو غلام بنانے ماں کی گود سے نکالنے کے بدلہ میں کیا جبکہ یہ احسان ثابت ہوجائے۔
تعبیدھم ؔ کا مطلب تذلیل کرنا اور ان کو غلام بنانا ہے۔
نحو : ضمیر تمنھاؔ اور عبدت میں واحد لائی گئی۔ منکمؔ اور خفتکمؔ میں جمع ہے کیونکہ خوف و فرار دونوں فقط فرعون ہی سے نہ تھا بلکہ اس کے ہم مذہب وزراء جو قتل موسیٰ کا مشورہ دینے والے تھے وہ بھی اس میں شریک تھے اس کی دلیل یہ ارشاد ہے ان الملأ یأتمرون بک لیقتلوک ] القصص : 20[ باقی احسان پرورش تو صرف اسی کی طرف سے تھا اور تعبیدؔ بنی اسرائیل بھی اس کا شاہی آرڈر تھا۔ تلکؔ کا مشار الیہ اس کی مبہم و مخفی بدترین خصلت جو کہ بلا وضاحت معلوم نہ ہوسکتی تھی۔ ان عبدتؔ یہ مرفوع ہے اور تلک کا عطف بیان ہے ای تعبیدک بنی اسرائیل نعمۃ تمنھا علی تیرا بنی اسرائیل کو غلام بنانا نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھتا ہے۔
Ayah 26:23فرعون کا سوال :
23: قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (فرعون کہنے لگا رب العالمین کیا چیز ہے) یعنی تو اس بات کا دعوے دار ہے کہ تو رب العالمین کا رسول ہے تو اس کی تعریف کیا ہے ؟ کیونکہ جب زید کی صفات کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں۔ مازید ؟ اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ لمبا یاچھوٹا فقیہ یا طبیب صاحب کشاف نے یہ لکھا ہے۔
Ayah 26:24جواب موسیٰ d:
24: قَالَ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو سوال کے موافق جواب دیتے ہوئے فرمایا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَ رْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا (وہ آسمانوں اور زمین میں ان کے مابین سب کا رب ہے) یعنی دونوں جنسوں کے جو کچھ درمیان میں ہے اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ (اگر تم یقین کرنے والے ہو) یعنی اگر تم دلائل سے اشیاء کو پہچانتے تو ان اشیاء کی تخلیق بطور دلیل کافی ہے۔ نمبر 2۔ اگر تم سے اس یقین کی امید ہے جس تک صحیح سوچ و فکر پہنچاتی ہے تو یہ جواب تمہارے حق میں نفع بخش ہوگا۔ ورنہ فائدہ نہ ہوگا۔ الایقانؔ سے مراد استدلال سے حاصل ہونے والا علم اسی وجہ سے محاورہ میں یہ کہنا درست نہیں۔ اللّٰہ مُّوْقِن۔
Ayah 26:2525: قَالَ (فرعون نے کہا) لِمَنْ حَوْلَہٗ (ان کو جو اس کے اردگرد تھے) یعنی اس کی قوم کے سردار جن کی تعداد پانچ سو تھی جو کنگن پہنے ہوئے تھے یہ بادشاہوں کیلئے خاص تھی اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ( کیا تم سن رہے ہو ! ) اپنی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب پر تعجب میں ڈالنا چاہ رہا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ آسمان و زمین کے قدیم ہونے کے قائل تھے اور ان کے متعلق کسی رب کے قائل نہ تھے اسی لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو ضرورت پڑی کہ ان کے سامنے ایسا استدلال پیش کریں جس سے آسمان و زمین کا حدوث وفناء ان کو مشاہداتی طور پر معلوم ہوجائے پس استدلال کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔
Ayah 26:2626: قَالَ رَبُّکُمْ وَرَبُّ اٰبَآپکُمُ الْاَوَّلِیْنَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے) یعنی وہ تمہارا بھی خالق اور تمہارے آباء کا بھی خالق ہے اگر تم دوسروں سے دلیل اخذ نہیں کرتے تو اپنے اپنے نفوس سے استدلال پکڑو۔
فائدہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے رب ابائکم فرمایا کیونکہ فرعون اپنے اہل عصر پر ربوبیت کا دعوے دار تھا پہلوں کے متعلق ربوبیت کا مدعی نہ تھا۔
Ayah 26:27فرعون کا سٹپٹانا :
27: قَالَ (فرعون نے کہا) اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ (تمہاری طرف جو رسول بھیجا گیا ہے وہ بلاشبہ مجنون ہے) اس لئے کہ اس کا خیال یہ ہے میرے سوا اور بھی کوئی معبود موجود ہے۔ فرعون اپنے علاوہ کسی دوسرے کی الوہیت کا منکر تھا۔
Ayah 26:28موسیٰ ( علیہ السلام) کی ایک اور دلیل :
28: قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَھُمَا اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ (موسیٰ نے کہا وہی مشرق ومغرب کا رب ہے اور ان کے درمیان جو کائنات ہے اس کا رب ہے اگر تم عقل رکھتے ہو) تو تم میرے قول سے استدلال کر کے اپنے رب کو پہچان لوگے۔ اور یہ اصل مقصودی ارشاد ہے۔ نمبر 2۔ پھر اس عام سے ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے نفوس کو وضاحت کیلئے خاص کیا کیونکہ دیکھنے کو اپنا نفس سب سے قریب تر ہوتا ہے۔ اور وہ بھی جس سے وہ پید ہوا۔ اور وہ مشاہدات بھی قریب تر ہوتے جو ولادت سے وفات تک دیکھتا ہے۔ نمبر 3۔ پھر آپ نے مشرق و مغرب کی تخصیص فرمائی کیونکہ طلوع شمس ایک جانب اور غروب آسمان کے دوسری جانب ہوتا ہے اور سال کے مواسم میں ایک ٹھیک اندازے سے اور صحیح حساب سے ہوتا ہے اس لئے یہ ظاہر ترین استدلال ہے اسی ظہور عمومی کی بناء پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے احیاء واماتت سے نمرود بن کنعان کے سامنے اسی دلیل کی طرف رجوع فرمایا۔
ایک قول یہ ہے کہ فرعون نے اپنے سوال کی حقیقت سمجھے بغیر ماؔ سے سوال کردیا مگر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا حقیقی جواب دیا تو اس کے دماغ میں یہ بات پیدا ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو جواب سے رکنے والے ہیں اس لئے کہ میں نے سوال ماہیت کا کیا اور وہ جواب ربوبیت اور آثار صنعت سے دے رہے ہیں۔ اسی لئے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب سے ان کو تعجب میں ڈالنے کیلئے کہا۔ الا تستمعون ؟ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے قول جیسا قول کیا۔ اس پر فرعون نے ان کو مجنون قرار دیا یہ سمجھ کر کہ موسیٰ اس کے جواب سے رخ موڑنے والے ہیں۔
پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے تیسری بار پہلی کلام جیسا کلام دھرا کر واضح کردیا کہ فرد حقیقی کی معرفت و پہچان صفات سے ہی ہوتی ہے اور ماہیت کا سوال ناممکن ہے اور اس ارشاد میں اسی طرح اشارہ ہے ان کنتم تعقلون یعنی اگر تم میں عقل ہوگی تو تم جان لو گے کہ اس کی معرفت کا راستہ یہی ہے جب فرعون حیرت زدہ ہوا تو اسے آثار صنعت باری تعالیٰ کے آثار کو رد کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
Ayah 26:29فرعون کی دھمکی :
29: قَالَ لَپنَ اتَّخَذْتَ اِلٰھًا غَیْرِیْ (اگر تو نے میرے سوا اور کسی کو الٰہ مانا) لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ (تو میں تجھے قید کردونگا) یعنی میں تمہیں بھی ان لوگوں میں سے ایک بنا دونگا جن کا حال تم میری جیلوں میں جانتے ہو اس کی عادت یہ تھی کہ جس کے متعلق چاہتا پکڑ کر جیل ڈلوا دیتا۔ وہ جیلیں زمین میں دور تک لمبی لمبی سرنگیں تھیں جو خوب گہری ہوتی تھیں۔ ان میں جانے والا نہ کچھ دیکھ سکتا اور نہ سن سکتا تھا اور یہ صورت حال قتل سے کہیں بدتر تھی۔ اور اگر سبحننک لا سجنک ہوتا تو یہ معانی ادا نہ ہوسکتے جو لا جعلنک من المسجونین سے ادا ہورہے ہیں۔ اگرچہ وہ مختصر ہے۔
Ayah 26:3030: قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُکَ (موسیٰ نے کہا کیا تو مجھے ( ایسی حالت میں بھی قید کرسکے گا) اگر میں تیرے پاس لے آئوں) ۔
نحو : اس میں وائو حالیہ ہے اور اس پر ہمزہ استفہام انکاری کا داخل کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کیا تو مجھے قید خانے میں اس حال میں بھی ڈال دیگا۔ اگرچہ میں تیرے پاس لے آئوں۔ بِشَیْئٍ مُّبِیْنٍ (کوئی ایسی واضح چیز) یعنی معجزہ لے آئوں۔
Ayah 26:3131: قَالَ فَاْتِ بِہٖٓ (اس نے کہا تو اس کو پیش کر) جو تیری سچائی کو واضح کر دے اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تو سچا ہے) تیرے پاس دلیل ہے۔ : جواب شرط مقدر ہے۔ جو کہ (فاحضرہ) ہے یعنی تو اس کو حاضر کر دے۔
Ayah 26:32ظہورِ معجزہ :
32: فَالَقْٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ (پس موسیٰ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ یکدم کھلم کھلا اژدھا بن گئی) جس کا اژدھا ہونا ظاہر تھا۔ وہ ایسی چیز نہ تھی جو اژدھا کے مشابہ ہو جیسا کہ سحروشعبدہ بازی سے اشیاء ہوا کرتی ہیں۔ تفسیری روایت میں ہے کہ اس کی بلندی آسمان میں ایک میل تھی پھر وہ نیچے اترا فرعون کی طرف متوجہ ہوا فرعون کہنے لگا اے موسیٰ تم جو چاہو مجھے حکم دو ۔ اے موسیٰ میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں کہ اس کو پکڑو ! موسیٰ (علیہ السلام) نے پکڑا تو وہ عصا بن گیا۔
Ayah 26:3333: وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآ ئُ لِلنّٰظِرِیْنَ (اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں ضیاء پاش تھا دیکھنے والوں کیلئے) اس میں دلیل ہے کہ اس کی سفیدی ایسی تھی کہ اس کی طرف نگاہیں دیکھنے سے جم جاتیں کیونکہ وہ خلاف عادت تھا اور اس کی سفیدی نورانیت کی وجہ سے تھی۔
روایت تفسیر یہ میں ہے کہ جب فرعون نے پہلی نشانی دیکھی تو کہنے لگا کیا اور کوئی نشانی بھی ہے ؟ اس پر آپ نے اپنا دست اقدس نکالا اور فرعون کو کہا یہ کیا ہے اس نے کہا یہ تمہارا ہاتھ ہے پھر آپ نے اس کو اپنی بغل کے نیچے دبا کر نکالا تو اس میں اتنی شعاعیں نکل رہی تھیں جس سے آنکھیں چند ھیانے لگیں اور افق کو روشنی نے بھر دیا۔
Ayah 26:34فرعون کی سیاسی چال :
34: قَالَ (فرعون کہنے لگا) لِلْمَلَاِ حَوْلَہٗ (اپنے اردگرد کے سرداروں کو )
نحو : اس پر دو نصب ہیں لفظوں میں منصوب ہے اور اس کا عامل ظرف میں مقدر فعل ہے اور محلاً منصوب ہے کیونکہ یہ الماء سے حال ہے۔ ای کائنین حو لہ اور اس کا عامل قال ؔ ہے۔
اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ (بیشک یہ پڑھا لکھا جادو گر ہے) یہ جادو کو جاننے والا ہے پھر اپنی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف برانگیختہ کیا۔ یہ کہتے ہوئے۔
Ayah 26:3535: یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہٖ فَمَاذَا (وہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے نکال باہر کرے) یہ منصوب ہے کیونکہ یہ مفعول بہٖ ہے یہ اس قول کی طرح ہے امرتک الخیر۔ تَاْمُرُوْنَ (تم مجھے حکم دیتے ہو) اس کے متعلق کیا مشورہ دیتے ہو قید کر دوں یا نمبر 2۔ قتل تامرونؔ یہ المؤامرۃ سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی مشورہ ہے یا نمبر 2۔ ایسا حکم جو نہی کی ضد ہو۔ جب فرعون دونوں نشانیاں دیکھ کر حیران ہوگیا۔ اور اپنی الوہیت کا تذکرہ بھی بھول گیا اور اپنے کندھوں سے ربوبیت کی چادر گرا دی اور اس کے کندھے پر کپکپی طاری تھی اور ساتھیوں سے مشورے کرنے لگا گویا ان کو حاکم مان لیا حالانکہ اس کے خیال باطل میں وہ اس کے بندے اور غلام تھے اب یکایک ان کو مامور مان کر ان کا حکم مان لیا۔
Ayah 26:36سرداروں کا فتویٰ :
36: قَالُوْا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ (انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دے دو ) ان کے ہر معاملے کو ملتوی کردو۔ اور فتنہ کے خطرہ کی وجہ سے ان کے قتل پر برانگیختہ مت کرو۔ وَابْعَثْ فِی الْمَدَآپنِ حٰشِرِیْنَ (اور شہروں میں جمع کرنے والے مقرر کرو) پولیس کے اہل کار جو جادوگروں کو جمع کر لائیں انہوں نے فرعون کے قول ان ھذا لساحرٌ علیم کا اس قول سے معارضہ کیا۔
Ayah 26:3737: یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سَحَّارِ عَلِیْمٍ (وہ تیرے پاس بڑے بڑے پڑھے لکھے جادوگروں کو لے آئیں گے) کلؔ کا لفظ اور سحار مبالغہ کا صیغہ استعمال کیا تاکہ فرعون کے اضطراب میں کچھ کمی واقع ہو۔
Ayah 26:3838: فَجُمِعَ السَّحَرَۃُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ (چنانچہ جادوگروں کو مقررہ تاریخ کو معین وقت پر جمع کیا گیا) یوم معلوم یعنی یوم زینت اور میقات سے چاشت کا وقت کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہی وقت ان سے مقرر فرمایا تھا جیسا کہ اس ارشاد میں ہے موعدکم یوم الزینۃ وان یحشر الناس ضحی ] طہ : 59[ میقاتؔ جس کو مقرر کردی اور جس زمانہ کو حد بندی کردی جائے یا جو جگہ طے کی جائے اور اسی سے مواقیت الاحرام ہیں۔
Ayah 26:3939: وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ ھَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ (اور لوگوں کو کہا گیا کہ تم بھی جمع ہوجائو گے) یعنی تم جمع ہوجائو ان کے اجتماع کے سلسلہ میں ان سے سستی کا گمان ہے اور مراد اس سے ان کا جلد جمع کرنا ہے۔
Ayah 26:4040: لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ (تاکہ ہم جادوگروں کی راہ پر چلیں) ان کے دین کے سلسلہ میں اِنْ کَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ (اگر وہ غلبہ پانے والے ہوں) موسیٰ کو اس کے دین کے سلسلہ میں مغلوب کردیں اس سے ان کی غرض ساحروں کی اتباع نہیں بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ وہ موسیٰ کی اتباع نہ کریں انہوں نے کنایہ کے انداز میں بات کی کہ جب وہ جادوگروں کے پیرو ہونگے تو کم ازکم موسیٰ کی پیروی تو نہ کریں گے۔