Ayah 26:201قریش انکار پر قائم رہیں گے :
201: لَایُؤْمِنُوْنَ بِہٖ (وہ قرآن پر ایمان نہ لائیں گے) سلکناہ فی قلوب المجرمین کے بعد لا یؤمنون بہٖ کو لا کر گویا وضاحت کردی اور ماقبل کا خلاصہ بیان کردیا کیونکہ یہ آیات آپ کی ثابت قدمی کیلئے اتاری گئیں کیونکہ آپ کی تکذیب کی گئی اور انکار کیا گیا تو آخر میں اسی بات کو پختہ کرنے کیلئے یہ کلام لائے کہ وہ تکذیب کو ترک نہ کریں گے اور انکار کی شدت پر قائم رہیں گے جب تک کہ وعید کو دیکھ نہ لیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ جملہ حال بن جائے تقدیر ہوگی سلکناہ فیھا غیر مومن بہٖ ہم نے اس تکذیب کو ان کے دلوں میں چلا دیا اس حال میں کہ وہ اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ حَتّٰی یَرَوُاالْعَذَابَ الْاَلِیْمَ (یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں) اس سے مراد معاینہ عذاب ہے جو ان کو موت کے وقت پیش آئے گا۔ اس وقت ایمان پاس ہوگا جو نفع بخش نہ ہوگا۔
Ayah 26:202202: فَیَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً (پس وہ عذاب ان پر اچانک آجائے گا) ۔ وَّھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور ان کو اس کی آمد کا شعور بھی نہ ہوگا) ۔
Ayah 26:203203: فَیَقُوْلُوْا ھَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ (اس وقت وہ کہہ اٹھیں گے کاش ہمیں مہلت دے دی جائے) ۔
نحو : فیقولوا اور فیأتیہم دونوں کا عطف یَرَ ْوا پر ہے۔ منظرونؔ کا مطلب یہ ہے کہ پلک جھپک کیلئے مہلت کے طالب ہونگے مگر ان کی بات مانی نہ جائے گی۔
Ayah 26:204204: اَفَبِعَذَ ابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ (کیا وہ ہمارے عذاب کو جلدی مانگتے ہیں) اس میں ان کو توبیخ ہے اور ان کی بات کا انکار کیا گیا ہے جو انہوں نے کہی۔ فَاَمْطِرْ علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔] الانفال : 32[ اور اسی طرح دیگر آیات۔
بڑا غافل ‘ یحییٰ بن معاذ کا قول :
لوگوں میں سب سے بڑا غافل وہ ہے جو اپنی زندگی پر مغرور ہے اور اپنی مالوفات سے اس کو سکون ملتا اور اپنے مراد پالینے سے لذت میسر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
Ayah 26:205205: اَفَرَئَ یْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰھُمْ سِنِیْنَ (بھلا دیکھو تو ! ہم ان کو برسہا برس تک مزے اڑانے دیں) ۔ ایک قول یہ ہے یہ مدت دنیا کے سال ہیں۔
Ayah 26:206206: ثُمَّ جَآئَ ھُمْ مَّاکَانُوْا یُوْعَدُوْنَ (پھر ان کے پاس وہ آچکا جس کا ان سے وعدہ کیا جاچکا) یعنی عذاب۔
Ayah 26:207عذاب آنے پر طویل عمر کا فائدہ نہ ہوگا :
207: مَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ (ان کا یہ نفع اٹھانا ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دے گا) ما کانوا یمتعون بہٖ فی تلک السنین جن چیزوں سے وہ ان سالوں میں تمتع کرتے رہے۔ مطلب یہ ہے وہ جلدی عذاب تو اس وجہ سے مانگتے ہیں کہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ عذاب واقع نہ ہوگا اور نہ ان کو پہنچے گا اور وہ طویل عمریں سلامتی وامن سے گزارتے رہیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ افبعذا بنا یستعجلون (کیا وہ ہمارے عذاب کے جلد پہنچنے کے خواستگار ہیں) استہزاء و تمسخر کے طور پر اور لمبی امیدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے پھر بطور فرض والتسلیم فرمایا اگر مان بھی لیں کہ معاملہ ان کے اعتقاد کے مطابق بھی ہو اور وہ طویل عمر پالیں اور متاع دنیا سے خوب تمتع حاصل بھی کرلیں۔ پھر اگر ان کو وعید آن پہنچے تو پھر ان کی گزری طویل عمریں اور خوشحال زندگی کیا فائدہ پہنچا سکے گی۔
قول میمون بن مہران : ان کی ملاقات حسن سے طواف کے دوران ہوئی اور ان کے دل میں ان کی ملاقات کی تمنا بھی تھی۔ تو میمون نے کہا مجھے نصیحت فرما دیں حسن (رح) نے یہ آیت پڑھی۔ اس پر میمون نے کہا تو نے بڑا بلیغ وعظ کیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز (رح) سے منقول ہے کہ جب فیصلہ کیلئے بیٹھتے تو اس آیت کو تلاوت فرماتے۔
Ayah 26:208208: وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَہٍ اِلَّا لَھَا مُنْذِرُوْنَ (اور جتنی بستیاں ہم نے ہلاک کیں ان میں ڈرانے والے آئے) منذرؔ سے رسل مراد ہیں جو ان کو ڈراتے رہے۔
نحو : یہاں الاؔ کے بعد والے جملہ پر وائو داخل نہیں ہوئی جیسا کہ اس ارشاد میں ہے وما اھلکنا من قریۃ اِلاَّوَلَھَا کتاب معلوم ] الحجر : 4[ کیونکہ اصل وائو کا نہ ہونا ہے اسلئے کہ جملہ قریۃؔ کی صفت ہے جب کبھی وائو لگاتے ہیں تو وہ صفت وموصوف کے اتصال کی تاکید کیلئے لائی جاتی ہے۔
Ayah 26:209209: ذِکْرٰی (نصیحت کیلئے) ۔
چھ تراکیب :
نحو : یہ منصوب ہے اور تذکرہ کے معنی میں ہے کیونکہ انذر اور ذکر قریب قریب ہیں۔ گویا اس طرح فرمایا مذکرون تذکرۃ وہ یاد دلانے والے ہیں یاد دلانا۔
نمبر 2۔ منذرون کی ضمیر سے حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے ینذرونھم ذوی تذکرۃ۔ ان کو نصیحت والے ڈراتے رہے۔
نمبر 3۔ اس کا مفعول لہٗ ہے یعنی ینذرون لاجل التَّذکرۃِ والموعظۃ وہ تذکرہ اور موعظہ کیلئے ڈراتے رہے۔
نمبر 4۔ مرفوع ہے مبتدأ محذوف کی خبر ہے ای ھذہ ذکری اور جملہ معترضہ ہے۔
نمبر 5۔ یہ صفت ہے بمعنی منذرون ذو و ذکری۔ ڈرانے والے نصیحت والے۔
نمبر 6۔ ذکریٰ یہ اھلکنا کے متعلق ہے اس کا مفعول لہ ہے مطلب یہ ہے ( وما اھلکنا من اھل قریۃ ظالمین الا بعد ما الزمنا ھم الحجۃ بارسال المنذرین الیھم لیکون اھلاکھم تذکرۃ وعبرۃ لغیرھم فلا یعصوا مثل عصیانہم) اور ہم نے کسی بستی والوں کو ظلماً ہلاک نہیں کیا مگر اسی وقت جبکہ ان کی طرف ہم نے منذرین کو بھیج کر حجت تمام کردی تاکہ ان کی ہلاکت دوسروں کیلئے نصیحت و عبرت بن جائے اور وہ ان کی طرح نافرمانی نہ کریں۔ وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (اور ہم ظلم کرنے والے نہ تھے) کہ غیر ظالم قوم کو ہلاک کرتے۔
Ayah 26:210210: جب مشرکین نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ شیاطین محمد (ﷺ) پر قرآن لاتے ہیں تو یہ آیت اتری۔ وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ
(اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے) ۔
Ayah 26:211211: وَمَا یَنْچبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (اور شیاطین کو ایسا کرنا جائز بھی نہیں اور وہ اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے) اور ان کو یہ میسر بھی نہیں اور نہ وہ اس کی قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 26:212212: اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ (بیشک ان کو سننے سے) اس کے چرانے سے لَمَعْزُوْلُوْنَ (شہابوں کے ذریعہ روک دیا گیا) ۔
Ayah 26:213213: فَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتَکُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ (پس تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو۔ کہیں تم بھی ان لوگوں میں ہوجائو جن کو عذاب دیا جائے گا۔ ) بطریق تعریض دوسروں کو تہدید کی گئی اور آپ ﷺ کو اور زیادہ اخلاص کی تحریک کی گئی ہے۔
Ayah 26:214اقرب کو خاص کرنے کی وجہ :
214: وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ (اور آپ اپنے قریب ترین کنبہ والوں کو ڈرائیں۔ ) قریبی خاندان کو خاص کیا تاکہ آپ سے اس تہمت کی نفی کردی جائے عموماً انسان اپنے قرابت والوں کے متعلق چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔ نمبر 2۔ تاکہ رشتہ داروں کو معلوم ہو کہ نجات آپ کی اتباع و پیروی میں ہے قرابت میں نہیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے صفا پر چڑھ کر اپنے اقرباء کو آواز دی ! یا بنی عبد المطلب یا بنی ہاشم یا بنی عبد مناف۔ اے پیغمبر کے چچا عباس، اے رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑانے کے کچھ کام نہ آئونگا۔ ( احمد، مسلم، ترمذی، نسانی)
Ayah 26:215تواضع کی مثال :
215: وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ (اور تو جھکا اپنے بازو کو) تواضع اختیار کرو اور نرم گوشہ اختیار کرو۔ اس کی اصل یہ ہے کہ پرندہ اترنا چاہتا ہے تو بازو کو بند کر کے جھکا لیتا ہے اور جب اڑنے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے پروں کو بلند کرتا ہے تو خفض جناح کو اترنے کے وقت تواضع کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا اور نرم پہلو کیلئے لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (ان کے لئے جو تیرے پیروکار مومن ہیں) تمہارے خاندان میں سے ہوں یا غیر۔
Ayah 26:216216: فَاِنْ عَصَوْکَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ (پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو کہہ دیں میں تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہوں) مطلب یہ ہے تم اپنی قوم کو ڈرائو۔ اگر وہ تمہاری اتباع اور اطاعت اختیار کرلیں تو ان کے لئے اپنے بازو کو جھکادو۔ اور اگر وہ نافرمانی کریں اور اتباع نہ کریں تو ان سے بیزاری کا اظہار کریں اور ان کے اعمال شرکیہ سے بھی۔
Ayah 26:217217: وَتَوَکَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ (اور زبردست اور نہایت رحم والی ذات پر بھروسہ کریں) جو اپنی عزت و جلال سے تمہارے دشمنوں کو مقہور اور اپنی رحمت سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تیرے تمام نافرمانوں کے نشر کیلئے بھی وہ کافی ہے۔
توکل :
التوکلؔ آدمی اپنا معاملہ اس کے سپرد کرے جس کو ان کے معاملہ پر اقتدارحاصل ہو۔ اور اس کے نفع و نقصان پر قدرت رکھتا ہو۔ علماء کا قول : متوکل وہ ہے اگر اس کو سخت معاملہ پیش آئے تو وہ اس کو دور کرنے کیلئے اس چیز کو استعمال نہ کرے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والی ہو۔
قول جنید (رح) : تو کل یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوجائو اور اس کے ماسوا سے مکمل اعراض کرلو۔ دونوں جہاں میں تمہاری ضرورت اسی کی بارگاہ سے متعلق ہو۔
قراءت : فتوکل۔ مدنی اور شامی نے پڑھا اور فقلؔ پر اس کا عطف کیا یا فلاتدعؔ پر عطف ہے۔
Ayah 26:218218: الَّذِیْ یَرٰکَ حِیْنَ تَقُوْمُ (جو تمہیں دیکھتا ہے جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں) تہجد ادا کرتے ہوئے۔
Ayah 26:219خصوصی رحمتیں :
219: وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ (اور نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشست و برخاست کو بھی دیکھتا ہے) تقلبک سے قبل یری محذوف ہے) الساجدین سے نمازی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول پر رحمتوں کا اندازہ تو کرو کہ رات کے دوران جو کچھ آپ کرتے ہیں تاکہ ان کے جانے بغیر ان کے احوال آپ کو معلوم ہوں اور ان کی عبادت کا علم ہوسکے اور آخرت کیلئے ان کے اعمال معلوم ہوسکیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اس وقت بھی تمہیں دیکھتے ہیں جب تم لوگوں کو جماعت کرانے کھڑے ہوتے ہو اور تقلب فی الساجدینؔ کا مطلب : اپنے قیام کو رکوع اور سجودو قعود سے امامت کے دوران ان میں تصرف و تبدیلی
قولِ مقاتل۔ :
کہ میں نے ابوحنیفہ سے سوال کیا کہ کیا جماعت کی نماز کا ذکر قرآن مجید میں ہے آپ نے فرمایا مجھے مستحضر نہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔
Ayah 26:220عبادت کی مشقت آسان کردی :
220: اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ (بیشک وہ ہر بات کو سننے والا) جو تم کہتے ہوالْعَلِیْمُ (اور ہر بات کو جاننے والا ہے) جس کی تم نیت کرتے ہو اور جس پر عمل کرتے ہو۔ اس میں عبادات کی مشقتیں آپ پر آسان کردی۔ وہ اس طرح کہ آپ کو خبر دی کہ آپ ہماری نگاہ میں ہیں۔ اب اس پر کیا مشقت ہوگی جو یہ جانتا ہو کہ میرا مولا مجھے دیکھ رہا ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ کہا جائے بعینی مایتحمل لمتحمّلون من اجلی میری خاطر جو برداشت کرنے والے برداشت کرتے ہیں وہ میری نگاہ میں ہے۔
Ayah 26:221221: مشرکین کی بات کے جواب میں اتری کہ شیاطین محمد ﷺ پر القاء کرتے ہیں۔ ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ (کیا میں تمہیں بتلاوں) کیا اے مشرکو ! میں تمہیں بتلائوں۔ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ (کہ شیاطین کس شخص پر اترتے ہیں) پھر خبردار کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 26:222222: تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ (وہ ہر کذاب پر اترتے ہیں) ۔ اَثِیْمٍ (گناہ گا رپر) گناہوں کے مرتکب اور وہ کاہن، متنبی جیسے سطیح مسیلمہ وغیرہ۔ اور حضرت محمد ﷺ تو کذابین کی تردید و مذمت کرتے ہیں پس ان پر شیاطین کے نزول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 26:223223: یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ (وہ ان کی طرف کانوں کو لگاتے ہیں) وہ شیاطین ہیں۔ شیاطین رجم سے قبل ملأ اعلیٰ کی طرف کان لگاتے اور ان کی بعض باتوں کو اچک لیتے ہیں جس سے ان کو غیب کی کسی بات کی ان کو اطلاع ہوجاتی۔ پھر وہ اپنے دوست شیاطین کے کانوں میں ڈال دیتے۔
نحو : یلقون یہ حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے تنزل ملقین السمع نمبر 2۔ کل افاکٍ کی یہ صفت ہے کیونکہ یہ جمع کے معنی میں ہے پس یہ محل جر میں ہوگا۔ نمبر 3۔ جملہ مستانفہ ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں گویا اس طرح فرمایا لم تنزل علی الافاکین ؟ یہ افاکین پر نہیں اترا۔ پھر کہا گیا وہ ایسا ایسا کرتے ہیں۔ وَاَکْثَرُھُم کٰذِبُوْنَ (ان کی اکثریت جھوٹ بولتی ہے) اس میں جو کہ ان کی طرف خفیہ اشارہ کرتے ہیں کیونکہ ان کو وہ بات سناتے ہیں جو انہوں نے سنی نہیں ہوتی ( اس لئے اس کا جو چاہتے ہیں مطلب بنا لیتے ہیں) ۔
ایک قول یہ ہے وہ اپنے اولیاء کے کانوں میں وہ بات ڈالتے ہیں جو کہ انہوں نے ملائکہ سے سنی ہوتی ہے۔ ایک اور قول افتراء پر داز اور جھوٹے شیاطین کی طرف کانوں کو لگاتے ہیں۔ اور ان کے شیطانی اشارے وصول کرتے ہیں۔
قولِ دیگر :
شیاطین سے سنی ہوئی بات لوگوں کے کانوں میں ڈالتے ہیں اور افتراء پرداز جھوٹے ہیں وہ شیاطین کے ذمہ وہ جھوٹی باتیں لگاتے ہیں جو شیاطین نے ان کو نہیں کہی ہوتیں۔
الافاکؔ جو کثرت سے بہتان بازی کرے مگر یہ بات اس پر دلالت نہیں کرتی کہ وہ افک کے علاوہ بات کرتے ہی نہیں۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ یہ افتراء پر داز بہت سچ بولتے ہیں ان باتوں میں جو جنات سے وہ نقل کرتے ہیں اور ان کی اکثریت جنات پر افتراء باندھنے والی ہوتی ہے۔
قول حسن (رح) : تمام متفری ہیں۔
جدا بیان کی حکمت :
لتنزیل رب العالمین اور وما تنزلت بہ الشاطین اور ھل انبئکم علی من تنزل الشاطین ان کو الگ الگ ذکر کیا حالانکہ یہ ایک دوسری سے ملتی جلتی ہیں کیونکہ جب ان کے درمیان ایسی آیات سے فاصلہ کردیا جو ان کے ساتھ مضمون میں نہیں ملتیں پھر بار باران کی طرف رجوع کیا تو اس سے یہ بات خود ثابت ہوئی کہ ان آیات کی طرف خصوصی توجہ ہے اس کی مثال اس طرح ہے کہ جب تم کوئی بات بیان کرو اور تمہارے دل میں کسی چیز کا خصوصی اہتمام ہو تو تم اس کا بار بارتذکرہ کرو گے اور اس بات کی طرف لوٹنا بالکل ترک نہ کرو گے۔
Ayah 26:224شعراء کے پیروکار گمراہ :
224: یہ ان لوگوں کے متعلق اتری جو شعر کہتے اور ادھر اپنی زبان سے یہ بڑ مارتے ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جیسے محمد ﷺ کہتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کے پیروگمراہ قسم کے لوگ تھے جو ان کے اشعار سنتے۔ وَالشُّعَرَآ ئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ (شعراء کی اتباع تو بےراہ لوگ چلتے ہیں) ۔
نحو : الشعراء مبتداء اور یتبعھم الغاون اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شعراء کی اتباع ان کے باطل ان کے کذب پر کلام، اور اعراض کو پھاڑنے، انسانوں کی عیب جوئی کرنے، اور ان کی تعریف کرنے جو تعریف کے مستحق نہیں اور ہجو گوئی میں بےراہ رو لوگ کرتے ہیں سفہاء اور خود پرست اس کو خوب قرار دیتے ہیں۔ نمبر 2۔ شیاطین اس کو پسند کرتے ہیں نمبر 3۔ مشرکین اس کو پسند کرتے ہیں۔
قولِ زجاج : جب کوئی شاعر مدح یا مذمت ناممکن چیز کی کرے اور اس کو لوگ پسند کر کے اس کی اتباع کریں تو وہ غاو ٗن میں شامل ہیں۔
Ayah 26:225قراءت : یَتْبَعُھْم نافع نے پڑھا ہے۔
225: اَلَمْ تَرَاَنّّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ (کیا تجھے معلوم نہیں کہ وہ ہر وادی میں) کلام کی وادی مراد ہے۔ یَّھِیْمُوْنَ (سرگرداں پھرتے ہیں) ۔
نحو : یہ اَنَّ کی خبر ہے وہ کذب کے ہر فن میں فرماتے اور بات بناتے ہیں۔ نمبر 2۔ ہر لغو و باطل میں گھسے پھرتے ہیں۔ الھائم جو بلا مقصد جدھر منہ آئے چل دے۔ یہ درحقیقت تمثیل ہے کہ وہ کلام کی ہر گھاٹی میں جاتے ہیں اور لوگوں میں سے سب سے بڑے بزدل کو عنترہ (جاہلیت کے زمانہ کا مشہور بہادر ہے) سے بڑا بہادر اور ابخل الناس کو حاتم سے بڑا سخی قرار دیتے ہیں۔
Ayah 26:226226: فرزدق کا قول ہے سیلمان بن عبدالملک نے میرا یہ شعر سنا ؎
فَبِتْنَ بجا نبیَّ مُصرَّعاتٍ ٭ وبِتُّ اَفُضُّ اغلاقَ الختامِ
تو سلیمان نے کہا تم پر حد لازم آتی ہے فرزدق کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے حد مجھ سے یہ فرما کر ہٹالی۔ اور آیت پڑھی وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالَا یَفْعَلُوْنَ (اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے کذب اور وعدہ خلافی کو ذکر فرمایا۔
Ayah 26:227227: پھر مومن صالح شعراء کو مستثنیٰ فرمایا۔ اِلَّا الَّذیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ (مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کے) جیسے عبدا للہ بن رواحہ ‘ حسان بن ثابت، کعب بن زہیر ‘ کعب بن مالک ؓ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (اور وہ اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتے ہیں) یعنی ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن ان پر شعر سے زیادہ غالب ہے۔ اور جب کبھی وہ کوئی شعر کہتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ثناء اور حکمت و موعظمت، زہد، ادب اور مدح رسول ﷺ اور مدح صحابہ و صلحائے امت پر کہتے ہیں اور اسی طرح کے اور موضوعات جن پر کلام گناہ نہیں ہے۔
قولِ ابو زید :
ذکر کثیر گنتی اور تعداد کے شمار کرنے سے نہیں جبکہ اس کے ساتھ غفلت ہو بلکہ حضور قلب سے میسر آتا ہے۔
وَّانْتَصَرُوْا (اور انہوں نے انتقام لیا) اور کفار کی ہجو کی مِنْ بَعْدِ مَاظُلِمُوْا (اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا) ان کی ھجو کہی گئی۔ یعنی انہوں نے بجائے رسول ﷺ اور بجائے مسلمین کی تردید و جواب میں ہجو کہی۔ اور ہجو کا وہ آدمی سب سے زیادہ مستحق ہے جو رسول اللہ ﷺ کی تکذیب بھی کرے اور آپ کی ہجو بھی کرے۔
قول کعب بن مالک ؓ کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ان کی ہجو کرو۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ ہجو کفار کیلئے تیر اندازی سے زیادہ گراں ہے ( عبدالرازق و ابن سعد) آپ حسان ؓ کو فرماتے قل و روح القدس معک تم کفار کے متعلق اشعار کہو اور روح القدس تمہارے ساتھ معاون ہیں۔
اختتام سورت :
سورت کا اختتام اس انداز سے فرمایا جو تدبر کرنے والوں کے جگر کو کھائے جارہا ہے اور وہ یہ ارشاد ہے۔ وَسَیَعْلَمُ (اور عنقریب جان لیں گے) اس میں انتہائی بلیغ وعید فرمائی گئی ہے۔ اور یہ ارشاد الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (وہ لوگ جو ظالم ہیں) اور ظلموا کو مطلقاً لائے اور یہ ارشاد ہے۔ اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ (کہ ان کو کیسی جگہ لوٹ کر جانا ہے) یہاں ابہام کے انداز میں عظیم ہولناکی کا اظہار ہے۔ عمل صدیق اکبر ؓ : ابوبکر صدیق ؓ نے فاروق اعظم ؓ کو جب اپنا جانشین بنایا تو یہ آیت لکھی اور سلف صالحین اس کو بطور وعظ ایک دوسرے کو سناتے۔
قول ابن عطاء : عنقریب ہم میں سے اعراض کرنے والا جان لے گا کہ کونسی چیز ہم سے رہ گئی ہے۔
آیہ ینقلبون کا مصدر ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یہ سیعلمؔ کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ اسمائے استفہام ماقبل پر عمل نہیں کرسکتے تقدیر اس طرح ہے ینقلبون ای انقلاب وہ پلٹیں گے کونسا پلٹنا۔ واللہ اعلم
تمت ترجمۃ سورة الشعراء لیلۃ الجمعۃ 12 ذوالقعدہ 1423ھ 17 جنوری 2003ء الحمد للّٰہ اوّلاً و اٰخرًا