Ayah 26:161161: اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ (جب ان کو ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے ہو) ۔
Ayah 26:162162: اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ (بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں) ۔
Ayah 26:163163: فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ (پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو) ۔
Ayah 26:164164: وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (اور میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو فقط رب العالمین کے ذمہ ہے) ۔
Ayah 26:165165: اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ (کیا تم تمام جہاں والوں میں سے مردوں سے بدفعلی کرتے ہو) ۔ العالمینؔ سے یہاں مراد لوگ ہیں یعنی کیا تم مردوں سے فعل بد کرتے ہو حالانکہ عورتیں کثرت سے موجود ہیں۔ نمبر 2۔ کیا تم ہی صرف لوگوں میں سے ایسے ہو جو مردوں سے بدفعلی کرتے ہو۔ یہ بےحیائی تمہاری خصوصیت ہے۔ اس صورت میں العالمینؔ سے مراد ہر وہ حیوان جو نکاح کرتا ہے وہ مر اد ہے۔
Ayah 26:166166: وَتَذَرُوْنَ مَاخَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ (اور ان کو چھوڑتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے بیویاں بنائی ہیں) ۔
نحو : منؔ ماخلقؔ کی وضاحت کر رہا ہے۔
نمبر 2۔ مِنْ تبعیضیہ ہے مراد عورتوں کا عضو مباح ہے اور اپنی عورتوں سے بھی لواطت کرتے تھے۔
نحو : اس میں دلیل ہے کہ لواطت بیوی سے بھی حرام ہے۔ اور اسی طرح مملوکہ لونڈیوں سے بھی۔ جنہوں نے اس سلسلہ میں اجازت دی ہے انہوں نے بہت بڑے گناہ وغلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ (بلکہ تم تو حد سے نکل جانے والے لوگ ہو) ۔ العادیؔ جو اپنے ظلم میں تعدی کرنے والے ہو اور اس میں حد سے تجاوز کرنیوالاہو یعنی بلکہ تم لوگ تو اس بات کے مستحق ہو کہ تمہاری صفت عدوانؔ سے کی جائے۔ اس لئے کہ تم اس قسم کی بدترین حرکت کر رہے ہو۔
Ayah 26:167قوم کا جواب :
167: قَالُوْا لَپنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ (کہنے لگے اگر تو اے لوط بازنہ آیا) ہمارے اوپر تنقید کرنے اور ہمارے فعل کی مذمت کرنے سے۔ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ (تو تمہیں نکال باہر کیا جائے گا) تمہیں ان لوگوں میں سے کردیں گے جن کو ہم نے جلا وطن کردیا اور اپنے درمیان سے نکال دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس کو نکالتے تو وہ انتہائی بدحالی کی حالت میں نکالتے تھے۔
Ayah 26:168ان کی حرکت پر شدید نفرت :
168: قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ (اس نے کہا بیشک میں تمہارے عمل کا سخت دشمن ہوں) ۔ القالینؔ کہناقالٍ کہنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ جیسا کہتے ہیں فلان من العلماء یہ فلانٌ عالم ٌ سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اس میں تم گواہی دے رہے ہو کہ وہ تمام علم میں حصہ دار ہیں۔ القِلی شدید بغض کو کہا جاتا ہے۔ جو دل و جگر بھون ڈالے۔
فائدہ : اس میں لواطت کا عظیم گناہ ہوناثابت ہوا۔ کیونکہ آپ کا بغض دین ہی کی وجہ سے تھا۔
Ayah 26:169169: رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَھْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ (اے میرے رب مجھے اور میرے اہل کو ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں۔ نجات عنایت فرما) ۔ ان کے اعمال کی سزا سے۔
Ayah 26:170170: فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَہٗ اَجْمَعِیْنَ (پس ہم نے اس کو اور ان کے تمام اہل کو نجات دی) اھل سے مراد یہاں ان کی اولاد بیٹیاں اور ان کے پیرو کار مومن مراد ہیں۔
Ayah 26:171171: اِلَّا عَجُوْزًا (مگر ایک بڑھیا) وہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی تھی۔ وہ اس فعل پر راضی تھی اور معصیت پر رضا مندی اختیار کرنے والا گناہ گار کے حکم میں ہے۔
ازالہ : پس اہل میں سے کافرہ کا استثناء جبکہ باقی تمام مومن تھے اس بناء پر درست ہے کیونکہ اہلؔ کے لفظ میں وہ شریک تھی اگرچہ ایمان میں شریک حال نہ تھی۔ فِی الْغٰبِرِیْنَ (پیچھے رہنے والوں میں سے) یہ عجوزًا کی صفت ہے یعنی وہ عذاب سے نہ بچ سکی۔ الغارؔ لغت میں باقی کو کہا جاتا ہے۔
گویا کہ کہا گیا الاعجوزا غابرہ مگر ایک بڑھیا پیچھے رہنے والی تھی ای مقدرًا غبورھا۔ اس کا پیچھے رہنا طے ہوچکا تھا۔ اس لئے کہ باقی رہنا ان کی نجات کے وقت اس کی صفت و حالت نہ تھی۔ (بلکہ وہ ہلاک ہوچکی تھی)
Ayah 26:172قوم کی ہلاکت :
172: ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ (پھر ہم نے پچھلوں کو تہس نہس کردیا ) ۔ یہاں تدمیرؔ سے مراد ان کا پلٹ دیا جانا ہے۔
Ayah 26:173173: وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا (اور ہم نے ان پر بارش کی بارش کرنا) ۔
قولِ قتادہ m : قوم کے منتشر لوگوں پر آسمانوں سے پتھر برسائے اور ان کو ہلاک کردیا گیا۔ ایک قول یہ ہے اللہ تعالیٰ فقط پلٹ دینے پر راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش کی۔ فَسَآ ئَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ (کیا بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسی جن کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا) ۔
نحو : ساء کا فاعل مطر المنذرین ہے۔ اور مخصوص بالذم محذوف ہے اور وہ مطرھم ہے المنذرین سے معینہ لوگ مراد نہیں بلکہ جنس کفار مراد ہیں۔
Ayah 26:174174: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی) ۔
Ayah 26:175175: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیْمُ (اور بیشک آپ کا رب البتہ زبردست نہایت مہربان ہے) ۔
Ayah 26:176قوم شعیب۔ :
176: کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (اصحاب ِایکہ نے جھٹلایا) الایکۃ ؔ یہ ہمزہ اور جر کے ساتھ درختوں کی گھنی جھاڑی۔
قول خلیل۔ :
لَئیْکَۃ وحجازی و شامی قراء نے اسی طرح پڑھا ہے اور سورة صٓ میں اسی طرح ہے اس صورت میں یہ ایک شہر کا نام ہے ایک قول یہ ہے اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین ایک ہیں۔ جب وادیاں ان پر تنگ ہوگئیں تو گھنے جنگل میں انہوں نے ڈیرے ڈال لیے۔
قولِ فیصل :
مگر صحیح قول یہ ہے کہ یہ اصحاب مدین سے الگ لوگ ہیں۔ باہر جنگل میں ایک نامی درختوں کے جھنڈ میں مقیم تھے اور ان کے اکثر درخت گوگل کے تھے۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ یہاں اخوھم شعیب نہیں کہا کیونکہ ان سے آپ کانسبی رشتہ نہ تھا۔ آپ نسباً اہل مدین میں سے تھے حدیث میں فرمایا گیا شعیب اہل مدین کے بھائی ان کی طرف مبعوث ہوئے اور اصحاب ایکہ کیلئے المرسلینؔ کا لفظ ذکر فرمایا۔
Ayah 26:177177: اِذْقَالَ لَھُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ (جبکہ ان کو شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیا تم (اللہ کے عذاب سے) نہیں ڈرتے ) ۔
Ayah 26:178وعظ شعیب۔ :
178: اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ (بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں) ۔
Ayah 26:179179: فَاتَّقُوْااللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ (پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو) ۔
Ayah 26:180180: وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میر امعاوضہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے) ۔
Ayah 26:181خیانت کا مرض :
181: اَوْفُوا الْکَیْلَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ (تم ماپ پورا دو اور کمی نہ کرو) ۔ اوفواؔ یہاں تمام کے معنی میں ہے المخسرینؔ کا مطلب یہ ہے لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کرو۔ ماپ پورا کر کے دینے کا حکم ہے کمی ممنوع ہے اور ان کو دینے کے متعلق خاموشی اختیار فرمائی گئی۔
مسئلہ : زائد سے خاموشی یہ اس کے مستحسن ہونے کی دلیل ہے اگر نہ کرے تو گناہ نہ ہوگا۔
Ayah 26:182182: وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ (تم صحیح ترازو سے تول کردیا کرو) ۔
قراءت : قسطاس قاؔکے کسرہ سے کوفی قراء سوائے ابوبکر کے پڑھتے ہیں اس کا معنی میزانؔ ہے۔ نمبر 2۔ اور اگر یہ القسط سے لیا جائے تو وہ عدل کو کہتے ہیں۔ عین کلمہ دوبارہ لایا گیا پس اس کا وزن فعلاسؔ بنے گا۔ ورنہ یہ رباعی ہے۔ نمبر 3۔ وزن ‘ کنڈا۔
Ayah 26:183183: وَلَا تَبْخَسُوْا النَّاسَ (اور لوگوں کو ان کی چیز کم نہ کیا کرو) ۔ کہا جاتا ہے بخستہ حقہ جب وہ اس کا حق کم کر دے۔
اَشْیَآ ئَ ھُمْ (ان کی اشیاء) دراہم دنانیر کی اطراف کاٹ لینا۔ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو) ان اشیاء کے بگاڑ میں مبالغہ مت کرو اور اس کی مثال ڈاکہ زنی، لوٹ مار، کھیتوں کو نقصان پہنچانے، ان کا یہ معمول تھا۔ اسی لئے ان کو اس سے روکا گیا کہا جاتا ہے عثا فی الارضؔ جب کہ وہ اس میں بگاڑ پید اکرے عَثِیَ میں ایک لغت یہ بھی ہے۔
Ayah 26:184184: وَاتَّقُوا الَّذِیْ خََلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ (اور اس ذات سے ڈرو۔ جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلی مخلوق کو) الجبلہؔ کا عطف کم ؔ پر ہے۔ ای اتقوا الذی خلقکم وخلق الجبلۃ تم اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلی مخلوق کو پیدا کیا۔ الْاَوَّ لِیْنَ پہلی یعنی گزشتہ۔
Ayah 26:185185: قَالُوْآ اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ (کہنے لگے تمہیں تو جادو کردیا گیا ہے) ۔
Ayah 26:186186: وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا (اور توُ تو ہم جیسا انسان ہے)
نکتہ : یہاں وائو کو داخل اس لئے کیا تاکہ دو معنے دے اور وہ دونوں ان کے ہاں رسالت کے منافی تھے۔ نمبر 1۔ التسحیر۔ نمبر 2۔
البشریت۔ قصہ ثمود (علیہ السلام) میں ایک کو چھوڑنا اس وجہ سے ہے تاکہ ایک معنی کا فائدہ دے اور وہ ان کا جادو زدہ ہونا ہے پھر ان جیسا انسان ہونے کا اقرار کیا۔ وَاِنْ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ (اور ہم بلاشبہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں) یہ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور انؔ نافیہ اور اس کے مابین فرق کیلئے لامؔ کو یہاں داخل کیا گیا ہے۔ اور یہ دونوں فعل ظن پر بھی الگ الگ داخل ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے دونوں میں سے دوسرے مفعول پر بھی کیونکہ دونوں میں اصل یہ ہے کہ وہ مبتدأ وخبر سے جدا ہوجائیں جیسے کہتے ہیں۔ ان زیدًا لمنطلق جب کان اور ظننت دونوں مبتدأ اور خبر کی جنس سے تھے۔ اس لئے دونوں موقعوں پر ان لایا جاتا ہے ان کان زیدٌ لمنطلقا اور ان ظننتہٗ لمنطلقا۔
Ayah 26:187187: فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا کِسَفًا (پس تو ہم پر ایک بادل کا ٹکڑا گرا دے)
قراءت : کسْفًا یہ حمزہ، کسائی، ابن کثیر، دیگر تمام قراء کی قرات ہے جبکہ حفص نے کِسَفًا پڑھا ہے اور یہ دونوں کِسْفَۃٍ کی جمعیں ہیں اور وہ ٹکڑے کو کہتے ہیں کَسَفَہٗ کا معنی قَطَعہٗ ہے۔ مِّنَ السَّمَآ ئِ (آسمان سے) یعنی بادل نمبر 2۔ سائبان اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تو سچوں میں سے ہے) اگر تو نبوت کا دعویٰ کرنے میں سچا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے یعنی آسمان کا ٹکڑا بطور سزا و عذاب گرا دے۔
Ayah 26:188188: قَالَ رَبِّیْ (اس نے کہا اے میرے رب)
قراءت : حجازی نے رَبِّی پڑھا ہے اور دیگر قراء اور ابو عمرو نے رَبِیْ سکون سے پڑھا ہے۔
اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کا علم ہے اور جس سے تم عذاب کے مستحق بنتے ہو۔ اگر آسمان کا ٹکڑا گرا کر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے اور اگر وہ اور کوئی سزا دینا چاہے تو وہ اس کی مرضی اور اس کے حکم پر موقوف ہے۔
Ayah 26:189یوم ظلہ کا عذاب :
189: فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ (پس انہوں نے جھٹلا دیا اس لئے یوم ظلہ کے عذاب نے ان کو آپکڑا) ظُلۃؔ وہ ایک
بادل تھا جس نے ہوا کی بندش کے بعد ان پر سایہ کرلیا ان کو سات روز تک گرمی کی حرارت سے عذاب دیا گیا چناچہ وہ گرمی سے پناہ لینے کیلئے اس بادل کے نیچے پناہ گزیں ہوئے۔ اس پر آگ برسنے لگی جس سے تمام جل گئے اِنَّہٗ کَانَ عذاب یوم عظیم (بلاشبہ وہ بڑے دن کا عذاب تھا) ۔
Ayah 26:190190: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بلاشبہ اس میں البتہ نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی)
Ayah 26:191سورت ایک بلیغ وعظ :
191: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ (اور بیشک آپ کا رب البتہ زبردست نہایت مہربان ہے) ۔ اس سورت کے ہر واقعہ کے اول اور آخر میں کچھ مضامین بار بار دہرائے گے ہیں تاکہ ان کا مقصد دلوں میں خوب بیٹھ جائے۔ تاکہ یہ سورت ایک بلیغ وعظ اور زجر کا کام دے۔ کیونکہ ہر واقعہ اس طرح ہے جیسا کہ نئے سرے سے نازل ہوا ہو اور اس میں اسی طرح عبرتیں ہیں جیسے دوسرے واقعات میں۔ اسی لئے مناسب تھا کہ ہر واقعہ کا اختتام وابتداء ایک انداز سے ہونا چاہیے۔
Ayah 26:192192: وَاِنَّہٗ (اور بیشک وہ) یعنی قرآن لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (وہ البتہ اتارا ہوا ہے رب العالمین کی طرف سے) اس کی طرف سے اتار گیا ہے۔
Ayah 26:193193: نَزَلَ بِہِ (اس کو لے کر اترا) الرُّوْحُ الْاَمِیْنٍ (روح الامین) یعنی جبرئیل علیہ السلام۔
نحو : فعل نزل ہے اس کا فاعل الروح الامین ہے۔ الامینؔ اس لئے کہ وہ وحی کا امین ہے جس میں زندگی ہے۔
قراءت : حجازی، ابو عمرو، زید، حفص وغیرہ نے تخفیف سے پڑھا اور دیگر قراء نے تشدید سے اور الروحؔ کا نصب پڑھا اور فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی جعل اللہ الروح نازلابہٖ ۔ اللہ تعالیٰ نے روح کو مقرر کیا اس حال میں کہ وہ اس کو لے کر اترنے والا ہے باء دونوں قراءتوں میں تعدیہ کیلئے ہے۔
Ayah 26:194194: عَلٰی قَلْبِکَ (آپ کے دل پر) یعنی آپ کے حافظہ اور فہم پر اور اس کو آپ کے دل میں اس طرح پختہ کردیا جو بالکل نہ بولنے پائے جیسا کہ ارشاد فرمایا سنقرئک فلا تنسٰی ] الاعلی : 6[ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ (تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں) ۔
Ayah 26:195عربی زبان میں اتارنے کا بیان :
195: بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ (عربی زبان میں) لغت قریش وجرھم میں مُّبِیْنٍ (واضح) اس میں ایسی وضاحت ہے کہ عام لوگوں کی زبان میں جو نقائص ہیں ‘ یہ ان سے پاک ہے۔
نحو : باء نمبر 1۔ یہ منذرین سے متعلق ہے تقدیر کلام یہ ہے لتکون من الذین انذر وابھذا اللسان اور وہ ہود، صالح، شعیب و اسماعیل (علیہم السلام) ہیں۔ نمبر 2۔ نزل سے متعلق ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے نزل بلسان عربی لتنذربہٖ لانہ لونزلہ بلسان اعجمی لتجافوا عنہ اصلاً ولقاموا مانصنع بما لا نفھمہ فیتعذر الانذار بہٖ اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ آپ اسکے ذریعہ ڈرائیں کیونکہ اگر اس کو عجمی زبان میں اتارتے تو یہ اس سے بالکل دوری اختیار کرتے اور ضرور کہتے ہم اس کو کیا کریں جس کو ہم سمجھتے ہی نہیں پس انذار ناممکن ہوجاتا۔
نکتہ : وجہ ثانی کہ اس کا اتارا جانا عربی زبان میں ہے جو آپ کی قوم اور آپ کی مادری زبان ہے اس کو آپ کے دل پر اتارا گیا ہے کیونکہ تم اس کو سمجھتے ہو اور اپنی قوم کو سمجھا سکتے ہو۔ اگر عجمی زبان میں ہوتا تو آپ کے کانوں پر اتارا جاتا نہ کہ دل پر اس حالت میں آپ حروف کی گھنٹیاں تو سنتے مگر ان کے معانی نہ سمجھتے۔ اور نہ محفوظ کرتے بسا اوقات آدمی کئی لغات کو جانتا ہے جب اس سے مادری زبان میں گفتگو کی جائے اس وقت اس کا دل فوراً معانی کلام کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اگر اور زبان میں بات کی جائے تو اس کی نگاہ اولاً الفاظ کی طرف منتقل ہوتی ہے اور پھر معانی کی طرف خواہ اس کی کتنی مہارت رکھتا ہو۔ یہی معنی ہے کہ قرآن آپ کے دل پر اترا ہے کیونکہ وہ عربی زبان میں ہے۔
Ayah 26:196196: وَاِنَّہٗ (اور بیشک وہ) قرآن لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ (البتہ پہلے صحیفوں میں ہے) یعنی اس کا تذکرہ تمام آسانی صحائف میں ہے۔ ایک قول یہ ہے اس کے معانی ان صحائف میں پائے جاتے ہیں
استدلالِ مفسر :
اس میں دلیل ہے کہ قرآن کا غیر عربی میں ترجمہ کیا ہوا بھی قرآن ہے اس کو غیر عربی زبان (فارسی وغیرہ) میں جوازِ قراءت کا ثبوت قرار دیا ہے (مگر یہ قول مرجوح ہے انظر شروح الہدایہ)
Ayah 26:197197: اَوَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ ٰایَۃً (کیا ان کے لئے دلیل کافی نہیں)
نحو وقراءت :
شامی نے تکن پڑھا ہے۔ آیت کان کا اسم اور ان یعلمہ کان کی خبر ہے۔ ای القرآن موجود ذکرہ فی التوراۃ اس قرآن کو وہ جانتے ہیں کیونکہ اس کا تذکرہ تورات میں موجود ہے۔ نمبر 2۔ ایک قول تکن میں ضمیر قصہ ہے اور آیۃ خبر مقدم ان یعلمہ مبتدأ اور یہ جملہ کان کی خبر ہے۔
نمبر 3۔ قول آخر کان تامہ ہے اور ایۃؔ فاعل ہے اور ان یعلمہٗ ایۃً سے بدل ہے یا مبتدأ محذوف ہے یعنی : اَوَ لم تحصل لھم آیۃ کیا تم کو ان کی کوئی نشانی نہیں ملی اور دیگر قراء کے نزدیک یکنؔ مذکر ہے اور ایۃً منصوب ہے اس طرح کہ یہ اس کی خبر ہے اور اَنْ یَّعْلَمَہٗ اس کا اسم ہے تقدیر کلام یہ ہے : او لم یکن لھم علم علماء بنی اسرائیل ایۃً کیا نہیں ہے ان کے لئے علمائے بنی اسرائیل کا علم ایک نشانی۔
عُلَمٰٓؤُا بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ علمائے بنی اسرائیل جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا۔ واذا یتلی علیھم قالوا امنَّا بہٖ اِنَّہٗ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین ] القصص : 53[
رسم خط : مصحف میں علمؤا وائو ما قبل الف سے لکھا گیا ہے۔
Ayah 26:198عجمی و اعجمی کا فرق :
198: وَلَوْ نَزَّلْنٰہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ (اور اگر ہم اس کو اتارتے بعض عجمیوں پر) اعجمین یہ اعجم کی جمع ہے اور وہ غیر فصیح کو کہا جاتا ہے اسی طرح عجمی بھی البتہ اضافت یاءؔ کی وجہ سے تاکید زائد ہے۔ جب کوئی اہل عرب سے ان کی زبان کے علاوہ دیگر زبان میں بات کرتا تو وہ اس کی بات نہ سمجھتے اور اس کو کہتے اعجم و اعجمی اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دیتے جو نہ فصیح ہو اور نہ کھول کروضاحت کرسکتا ہو۔ والعجمیؔ جو غیر عربی ہو خواہ وہ فصیح ہو یا غیر فصیح۔
قراءت حسن (رح) : الاعجمیین ایک قول یہ بھی ہے الاعجمین تخفیف کے ساتھ الاعجمیین تشدید کے ساتھ اسی طرح ہے جیسا کہ الا شعرون والاشعریُّوْن یائے نسبت کو حذف کردیا اور اسی طرح نہ مانیں تو یہ جمع سالم نہیں بن سکتا کیونکہ اس کی مؤنث عجماء ہے۔
Ayah 26:199عجمی پر اتارنے میں نہ مانتے :
199: فَقَرَاَہٗ عَلَیْھِمْ مَّاکَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ (پس وہ ان پر پڑھتا تو وہ اس پر ایمان لانے والے نہ تھے) مطلب یہ ہے ہم نے قرآن مجید ایک فصیح عربی زبان والے پر فصیح زبان میں اتارا انہوں نے اس کو سمجھ تو لیا اور اس کی فصاحت کو بھی پہچان لیا اور اس کا معجز ہونا بھی ظاہر کیا گیا اور اس کے ساتھ علمائے اہل کتاب کا متفقہ بیان کہ اس کے اتارے جانے کی بشارت تو رات میں موجود ہے بھی ملا دیا۔ اور قرآن ان کے مقاصد اور قصص کو شامل ہے۔
اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے قریش کے خیالات کے مطابق اسیاطیر الاولین نہیں۔ مگر قریش ایمان نہ لائے اور اس کا نام کبھی شعر رکھا اور کبھی اس کو سحرقرار دیا اور کہنے لگے یہ محمد ﷺ خود گھڑ کر لاتے ہیں۔ اور اگر ہم اس کو کسی عجمی پر اتار دیتے جو عربی خوب طرح نہ جانتا چہ جائیکہ اس جیسا کلام بنا سکے۔ اور وہ بھی ان کے سامنے معجزانہ طور پر اس کو پڑھتا تو پھر بھی یہ اس کا انکار کردیتے جیسا کہ اب کر رہے ہیں۔ یہ اپنے انکار کیلئے کوئی عذرلنگ تلاش کرلیتے اور اس کو سحر قرار دیتے۔
Ayah 26:200200: کَذٰلِکَ سَلَکْنٰہُ (اسی طرح ہم نے اس کو داخل کردیا) یعنی تکذیب کو داخل کردیا یا کفر کو یہ ماکانوا بہٖ مؤمنین کا مدلول ہے۔ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ (مجرمین کے قلوب میں) المجرمین سے مراد وہ کفار ہیں جن کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ وہ کفر ہی اختیار کریں گے اور ان کی طرف سے اصرار کفر ہی ظاہر ہوگا۔۔ مطلب یہ ہے مثل ھذا السلک سلکناہ فی قلوبھم وقررنا فیھا فکیف ما فعل بھم و علی ای وجہ دبرامرھم فلا سبیل الی ان یتغیروا عمّا ھم علیہ من الکفربہٖ والتکذیب لہ اس داخل کرنے کی طرح ہم نے تکذیب کو ان کے دلوں میں داخل کردیا۔ اور دلوں میں پختہ کردیا ان کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے اور جو تدبیر ان کو سمجھانے کی اختیار کی جائے۔ وہ اپنی بات سے بدلنے والے نہیں وہ کفرو تکذیب پر برقرار رہیں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ ولونزلنا علیک کتابًا فی قرطاس فلمسوہ بایدیہم لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبین ] الانعام : 7[
فائدہ : یہ آیت معتزلہ کے خلاف ہماری دلیل ہے کہ افعال خیرو شر کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔