Ayah 26:41جادوگر کے مقابلے میں :
41: فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَپنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ (پس جب جادوگر آگئے تو انہوں نے فرعون سے کہا اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہم کو کچھ اس کا بدلہ یقینی طور پر ملے گا)
Ayah 26:4242: قَالَ نَعَمْ (فرعون نے کہا ہاں ! )
قراءت : علی نے نِعَمْ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغات ہیں۔
وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّ بِیْنَ (اور بلاشبہ تم اس وقت شاہی مقرب بن جائو گے) یعنی فرعون نے کہا ہاں ! تمہارے لئے میرے ہاں اجر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ تم شاہی مقربین میں شامل ہوجائو گے میرے ہاں تمہارا مرتبہ و مقام ہوگا تم میرے درمیان میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں اور سب سے آخر میں نکلنے والوں میں سے ہوگے۔ جب کہ وہ جادوگروں کا
قول : ائن لنا لاجرًا جزاء شرط کے معنی میں ہوا جیسا کہ اس پر دلالت موجود ہے تو فرعون کا قول وانکم اذالمن المقربین اسی پر معطوف ہے اور اذاؔ کو جواب جزاء کے تقاضے کے مطابق اس کے قائم مقام لایا گیا ہے۔
Ayah 26:4343: قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا تم ڈالو جو تم نے ڈالنا ہے) جادو میں سے پس عنقریب تمہیں اس کا انجام نظر آجائے گا۔
Ayah 26:44سحر کے اثرات :
44: فَاَلْقَوْا حِبَالَھُمْ (پس انہوں نے اپنی رسیاں ڈالیں) جو کہ ستّرہزار تھیں۔ وَعِصِیَّھُمْ (اور اپنی لاٹھیاں) جو کہ ستّرہزار تھیں۔ دوسرا قول ہر دو بہتر ہزار تھیں۔ وَقَالُوْا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ (اور کہنے لگے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہم ہی غالب رہیں گے) انہوں نے فرعون کی عزت و قوت کی قسم کھائی۔ اور جاہلیت کا ایمان یہی تھا۔ باء قسمیہؔ ہے یا بطور تبرک فرعون کی عزت کا ذکر کیا۔
Ayah 26:45اژدھا سب کچھ نگل گیا :
45: فَاَلْقٰی مُوْسٰٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ (پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ اسی وقت نگلنے والی تھی) تلقفؔ کا معنی نگلنا ہے۔ مَایَاْ فِکُوْنَ (جو چیزیں انہوں نے شعبدہ گری سے بنائیں) یعنی جن چیزوں کو وہ اپنے سحر کے بل بوتے پر انکی حقیقت و ظاہر سے پھیرتے تھے اور جھوٹی شعبدہ بازی کرتے تھے وہ اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کے متعلق تخیل پیدا کرتے کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔
Ayah 26:4646: فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ (جادوگر سجدہ میں ڈال دیے گئے) یہاں گرنے کو ڈالنے سے بطور مشاکلت تعبیر کیا گیا کیونکہ یہاں اس کو القاء ات کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ سجدہ میں تیزی کی وجہ سے اس طرح ہوگئے گویا کہ ان کو سجدہ میں ڈال دیا گیا ہو۔
Ayah 26:4747: قَالُوْا ٰامَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (وہ کہنے لگے ہم رب العالمین پر ایمان لائے) قول عکرمہ ؓ : صبح سویرے جادوگر تھے شام پڑنے سے پہلے ایمان والے شہداء بن گئے۔
Ayah 26:4848: رَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ (جو موسیٰ و ہارون کا رب ہے) یہ رب العالمین کا عطف بیان ہے کیونکہ فرعون اپنے متعلق ربوبیت کا دعویدار تھا پس انہوں نے اس کو اس سے ایک طرف کردیا۔
ایک قول یہ ہے فرعون نے جب ان سے سنا۔ امنا برب العالمین تو کہنے لگا تم نے مجھے ہی مراد لیا ہے ؟ انہوں نے جواباً کہا : رب موسٰی وہارون۔
Ayah 26:49فرعون کی دھمکی اور ساحروں کا مؤمنانہ جواب :
49: قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ ٰاذَنَ لَکُمْ (فرعون نے کہا میری اجازت کے بغیر تم ایمان لے آئے ہو) اس پر اِنَّہٗ لَکَبِیْرُ کُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ (حقیقت میں وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا) تم نے ایک سازش پر موافقت کرلی ہے۔ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (تم عنقریب جان لو گے) اس فعل کی سزا جو تم نے کیا ہے پھر اس نے تصریح کرتے ہوئے کہا۔ لَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ (میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوا دونگا) اس مخالفت کی وجہ سے جو تم سے ظاہرہوئی ہے۔ وَّ لَاُ صَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ ( اور تم تمام کو میں سولی پر لٹکا دونگا) اس سے اس کا مقصود عام لوگوں کو ڈرانا تھا تاکہ ایمان لانے میں وہ ان کی اتباع نہ کرنے لگیں۔
Ayah 26:5050: قَالُوْا لَاضَیْرَ (انہوں نے کہا کوئی ضرر نہیں) اس میں ضیرؔ ضرر کے معنی میں ہے۔ اور لاؔ کی خبر محذوف ہے ای فی ذلک نمبر 2۔ ہم پر کوئی ضرر نہیں۔ اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ (بیشک ہم تو اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں) ۔
Ayah 26:5151: اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَاخَطٰیٰنَآ اَنْ کُنَّا (ہم کو تو یہی خواہش ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائوں کو معاف کر دے اس وجہ سے کہ ہم) اس لئے کہ ہم اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ (سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں) اہل شہادت میں سے ( جو اس میلہ میں موجود ہیں) نمبر 2۔ فرعون کی رعایا سے۔ نمبر 3: اہل مصر قبطیوں میں سے۔ ان کا مقصد یہ تھا۔ اس سلسلہ میں ہم پر کوئی نقصان نہیں بلکہ ہمیں تو بہت بڑا فائدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اس دین پر جمے رہنے کی بناء پر ہمیں ملے گا۔ نمبر 2۔ ہمیں اس کا کچھ نقصان نہیں جس سے تو ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے۔ کیونکہ لازمًا ہم نے اپنے رب کی بارگاہ میں اسباب موت میں سے کسی نہ کسی سبب کے ساتھ پلٹ کر جانا ہے اور قتل تو اس کے اسباب میں آسان اور قابل ترجیح ہے۔ نمبر 3۔ تیرا ہمیں قتل کردینے سے ہمیں کوئی نقصان نہیں اگر تو قتل کر دے گا تو ہم اپنے رب کی بارگاہ میں اس شخص کی طرح پلٹ کر جائیں گے جو اس کے ہاں بخشش کی طمع رکھتا ہو اور اس کی رحمت کا امیدوار ہو اس لئے کہ ہمیں سبقت ایمان میسر آگئی۔
Ayah 26:52بنی اسرائیل کو رات نکلنے کا حکم :
52: وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنْ اَسْرِ (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو رات کو نکال کرلے جا)
قراءت : حجازی نے ہمزہ وصل سے پڑھا۔ ای اَنِ اَسْرِ ۔
ِبِعِبَادِیْ (میرے بندوں کو) مراد بنی اسرائیل۔ ان کو اپنے بندے ہونے کی نسبت سے نوازا اس لئے کہ وہ خدا کے رسول پر ایمان لائے تھے۔ اسرؔ کا معنی ان کو رات کو لے کر جائو۔ یہ حکم جادوگروں کے ایمان لانے کے عرصہ بعد ہوا۔ اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ (تمہارا پیچھا کیا جائے گا) فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھا کریں گے رات کو چلنے کے حکم کی علت فرعون اور اس کے لشکر کے تعاقب کو قرار دیا مطلب یہ ہے کہ میں نے تمہارے اور ان کے معاملے کی تدبیر اس طرح بنائی ہے کہ تم آگے چلو گے اور یہ تمہارے تعاقب میں پیچھے آئیں گے اور سمندر کی جس راہ میں تم داخل ہوگے اسی میں وہ داخل ہونگے تو میں ان کو ہلاک کر دونگا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس رات ان کے ہر گھر میں ایک ایک بیٹا مرگیا وہ ان اموات کے معاملہ میں مشغول ہوگئے ادھر موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل گئے۔ روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہر چار گھروں کو ایک گھر میں جمع کرو پھر بکرے ذبح کر کے ان کے خون اپنے دروازوں پر لگا دو ۔ میں فرشتوں کو حکم دونگا کہ اس دروازے میں داخل نہ ہوں جس پر خون کا نشان لگا ہو اور انہی فرشتوں سے قبطوں کے پلوٹھے بچے قتل کرو ادونگا اور اپنے لئے جلدی سے تازی روٹی تیار کرکے ان کو راتوں رات لے چلو یہاں تک کہ سمندر تک پہنچو پھر اس کے متعلق میرا حکم اسی وقت اترے گا۔
Ayah 26:53فرعون کا شدید غم و غصہ :
53: فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ (فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دیے) تاکہ وہ لوگوں کو زبردستی اکٹھا کردیں جب لوگ جمع ہوگئے تو فرعون کہنے لگا۔
Ayah 26:5454: اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ لَشِرْذِمَۃٌ قَلِیْلُوْنَ (بیشک یہ تھوڑے سے آدمی ہیں) لشرذمہؔ چھوٹی جماعت۔ ان کو اسی نام سے ذکر کیا جو قلت کو ظاہر کرتا ہے پھر اس کی صفت قلیلونؔ لائے اور اس کو جمع قلت لائے گویا اس کے ہر گروہ کو بہت کم تعداد میں ظاہر کرنا مقصود ہے۔ نمبر 2۔ قلت سے مراد ذلت ہے تعداد کی قلت مراد نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ذلیل ہیں اس لئے ان کے غلبہ کی کوئی توقع ہی نہیں ہے اس نے قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو قلیل قرار دیا حالانکہ ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی کیونکہ فرعونیوں کی تعداد ان کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھی ان کی تعداد بقول ضحاک سات کروڑ تھی۔
Ayah 26:5555: وَاِنَّھُمْ لَنَا لَغَآپظُوْن (بلاشبہ وہ ہم کو غصہ دلا رہے ہیں) یعنی وہ ایسے افعال کر رہے ہیں جو غصہ دلانے والے ہیں اور ان کی وجہ سے ہمارے سینوں میں تنگی پیدا ہوئی ہے وہ ان کا ہمارے مصر سے خروج اور ہمارے زیورات کو اٹھا کرلے جانا اور ہمارے پلوٹھے بیٹوں کا قتل ہے۔
Ayah 26:5656: وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ (اور بیشک ہم سب ایک مسلم جماعت ہیں) ۔
قراءت : شامی و کوفی نے اسی طرح پڑھا اور دوسروں نے حذرون پڑھا ہے۔
الحذرؔ، محتاط، الحاذرؔ، احتیاط میں تجدید کرنے والا۔
ایک قول یہ ہے ہتھیار میں مسلح، وہ اپنی ذاتی حفاظت کیلئے بطور احتیاط ایسا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم بیدار مغز اور محتاط لوگ ہیں یہ چیز ہماری عادت ثانیہ ہے کہ ہم معاملات کو دیکھ بھال سے کرتے ہیں جب کوئی ہمارے خلاف خروج کرتا ہے تو جلدی سے ہم اس کا فساد مٹا دیتے ہیں یہ اعذار ہیں جو فرعون نے شہر والوں کو پیش کیا تاکہ وہ عاجزی اور کمزوری کا گمان نہ کریں۔
Ayah 26:5757: فَاَخْرَجْنٰھُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ (اور ہم نے ان کو باغات سے نکال دیا) وَّ عُیُوْنٍ ( اور چشموں سے) جاری نہروں سے۔
Ayah 26:5858: وَّ کُنُوْزٍ (اور خزانوں سے) اموال ظاہرہ جو سونے اور چاندی کی جنس سے تھے ان کو کنوزؔ کہا کیونکہ ان کو وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف نہ کرتے تھے۔ وَّ مَقَامٍ (اور مکان) کَرِیْمٍ (پر رونق عمدہ) ۔ قول ابن عباس ؓ : مقام سے منابر مراد ہیں۔
Ayah 26:5959: کَذٰلِکَ ( اور واقعہ یونہی ہوا) اس میں نصب کا احتمال ہے جب کہ اخرجنا کے ما تحت ہو ای خرجنا ھم مثل ذلک الاخراج الذی وصفنا۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہو تو مرفوع ہے ای الامرکذلک وَاَوْرَثْنٰھَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا) قول حسن (رح) : جب سمندر پار گزر گئے تو واپس لوٹے اور انہوں نے اپنے مکانات و اموال واپس لے لئے ( مگر یہ محل نظر ہے بنی اسرائیل و شام و فلسطین کی حکومت ملنے کے بعد بطور اقتدار لوٹنا ممکن ہے ثابت ہو فافہم)
Ayah 26:60فرعون کا تعاقب :
60: فَاَتْبَعُوْھُمْ (پس انہوں نے ان کو آلیا) ۔ قراءت : فاتَّبَعُوْھم یزید نے پڑھا ہے۔ مُّشْرِقِیْنَ (طلوع شمس کے وقت ) ۔
نحو : یہ حال ہے یعنی اس حال میں کہ وہ طلوع شمس میں داخل ہو رہے تھے۔ یعنی قوم فرعون اور فرعون نے طلوع شمس کے وقت ان کو آلیا۔
Ayah 26:6161: فَلَمَّا تَرَآ ئَ الْجَمْعٰنِ (جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا) آمنا سامنا ہوا۔ اس طرح کہ ہر فریق دوسرے کو دیکھ سکتا تھا۔ اسرائیلی اور قبطی مراد ہیں۔ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ (تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا بیشک وہ تو ہم کو پکڑ لیں گے) قریب ہے کہ ہمارا دشمن ہمیں آملے اور ادھر ہمارے سامنے سمندر ہو۔
Ayah 26:6262: قَالَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا) کیونکہ ان کو اپنے رب کے وعدہ پر پختہ یقین تھا۔ کَلَّا (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی سے باز آئو۔ وہ تمہیں ہرگز پکڑ نہ سکیں گے۔ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ (بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ عنقریب راہنمائی فرمائے گا) ۔
قراءت : حفص نے مَعِیَ پڑھا۔ یعقوب نے سیھدین بینی پڑھا ہے سیھدینؔ کا مطلب سیھد ینی طریق النجاۃ من ادراکھم واضرارھم وہ عنقریب ان کے پکڑنے اور تکلیف پہنچانے کے متعلق میری راہنمائی فرمائے گا۔
Ayah 26:63بنی اسرائیل کا لشکر سمندر کے درمیان :
63: فَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ (پس ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تم اپنی لاٹھی سمندر پر مارو) البحر سے بحر قلزم مراد ہے یہی وہ سمندر ہے جس میں لوگ یمن سے مصر کی طرف جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ دریائے نیل۔ فَانْفَلَقَ (پس وہ پھٹ گیا) یعنی انہوں نے مارا تو وہ پھٹ گیا۔ اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور قبائل بنی اسرائیل کی تعداد بھی اس قدر تھی۔ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ (ہر حصہ) ایک حصہ دوسرے سے جدا ہو کر کھڑا ہوگیا۔ کَالطَّوْدِ (گویا کہ وہ ایک بڑا پہاڑ ہے) آسمان میں بلندہونے والا پہاڑ الْعَظِیْمِ (بڑا) ۔
Ayah 26:6464: وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ (اور ہم نے قریب کردیا) اس جگہ کے (فرعونیوں کو) جہاں سے سمندر پھٹا۔ الْاٰخِرِیْنَ (پچھلوں کو) قوم فرعون یعنی ہم نے ان کو بنی اسرائیل کے قریب کردیا۔ نمبر 2۔ سمندر کے قریب کردیا۔
Ayah 26:6565: وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ اَجْمَعِیْنَ (اور ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں تمام کو نجات دی) یعنی ڈوبنے سے نجات دی۔
Ayah 26:66ہلاکت فرعون :
66: ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخِرِیْنَ (پھر دوسروں کو ہم نے ڈبو دیا) فرعون اور قوم فرعون کو۔
فائدہ عظیمہ :
زندگیوں میں ستاروں کی تاثیر کے نظریہ کو یہ آیت باطل کر رہی ہے ان سب کے طوالع مختلف تھے مگر ہلاک میں سب اکٹھے ہوگئے۔ روایت تفسیریہ میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) بنی اسرائیل اور آل فرعون کے درمیان آگئے وہ بنی اسرائیل کو تلقین فرما رہے تھے کہ اگلے کو جا ملو۔ اور قبطیوں کے سامنے روک کر فرماتے تم ٹھہرو تاکہ تمہارے پیچھے والے ساتھ مل جائیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) سمندر کے کنارہ پر پہنچ گئے۔ تو یوشع (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا آپ کو کہاں کا حکم ملا ہے ؟ یہ سمندر تمہارے سامنے ہے۔ اور آل فرعون پیچھے دبائے چلے آرہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہاں کا حکم ہوا یوشع پانی میں گھس گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر اپنی لاٹھی ماری پھر وہ داخل ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت فرمایا : یا من کان قبل کل شیٔ والمکوّن لکل شئی۔ والکائن بعد کل شئی اے وہ ذات جو ہر چیز سے پہلے ہے اور ہر چیز کو بنانے والی ہے اور ہر چیز کے بعد ہمیشہ رہے گی۔
Ayah 26:6767: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بےشک اس میں) جو ہم نے موسیٰ اور فرعون کے ساتھ کیا لَاٰیَۃً (ضرور نشانی ہے) عجیب عبرت ہے جس کا بیان نہیں کیا جاسکتا۔ وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ (اور ان کی اکثریت نہ تھی ڈوبنے والوں کی) مُّؤْمِنِیْنَ (ایمان لانیوالی) علماء کا بیان ہے کہ قبطیوں میں سے صرف آسیہ، حزقیل مومن آل فرعون اور مریم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر یوسفی کی نشان دہی کی یہ ایمان لائے۔
Ayah 26:6868: اِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ زبردست ہے) اپنے دشمنوں سے انتقام و بدلہ لینے میں الرَّحِیْمُ (مہربان ہے) اپنی فرمانبرداری پر انعامات کرنے میں۔
Ayah 26:69ابراہیم ( علیہ السلام) کا واقعہ :
69: وَاتْلُ عَلَیْہِِمْ (آپ ان پر پڑھیں) یعنی قریش مکہ پر نَبَآ اِبْرٰھِیْمَ ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات۔
Ayah 26:70قوم اور والد کے ساتھ پیش آنے والے حالات :
70: اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ (جبکہ انہوں نے اپنے والد اور قوم کو فرمایا) قوم ابراہیم یا قوم والد مَاتَعْبُدُوْنَ (تم کس چیز کی پوجا کرتے ہو) لیکن یہ سوال ان سے اس بناء پر کیا کہ ان کو بتلایا جائے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ مستحق عبادت نہیں ہیں۔
Ayah 26:7171: قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا (وہ کہنے لگے ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں) ماتعبدونؔ کا جواب اصنامًا ہے جیسا کہ اس آیت میں العفو جواب ہے ماذا یننقون کا۔ آیت یسئلونک ماذا ینفقون قل العفو ] البقرہ : 219[ اسی طرح دوسری آیت میں ماذا قال کے جواب میں الحق ہے ماذا قال ربکم قالوا الحق ] سبا : 23[
کیونکہ یہ سوال معبود کے متعلق تھا عبادت کے متعلق نہ تھا۔ انہوں نے جواب میں فخر کے طور پر نعبدؔ کا اضافہ کردیا اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کی عبادت پر مباھات کے طور پر نعبدؔ لائے اور اس پر بطور عطف۔ فَنَظَلُّ لَھَا عٰکِفِیْنَ (پس ہم ان کی عبادت پر دن گزراتے ہیں) ہم ان کی عبادت سارا دن کرتے ہیں۔ انہوں نے فنظلؔ کہا کیونکہ وہ ان کی عبادت دن کے وقت کرتے تھے نہ کہ رات کو نمبر 2۔ اس کا معنی دوام و ہمیشگی ہے۔
Ayah 26:7272: قَالَ (ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا) ھَلْ یَسْمَعُوْنَکُمْ (کیا وہ سنتے ہیں) کیا وہ تمہاری دعائیں سنتے ہیں مضاف محذوف ہے کیونکہ اِذْ تَدْعُوْنَ اس پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 26:7373: اَوْ یَنْفَعُوْنَکُمْ (یا وہ تمہیں فائدہ دیتے ہیں) اگر تم ان کی عبادت کرتے ہو اَوْ یَضُرُّوْنَ (یا وہ تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں) اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو ۔
Ayah 26:7474: قَالُوْا بَلْ (انہوں نے کہا بلکہ) بل اضراب کیلئے ہے کہ وہ نہ سنتے ہیں اور نہ نفع پہنچاتے اور نہ نقصان دیتے ہیں اور نہ ہم ان میں سے کسی غرض کی بناء پر ان کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن وَجَدْ نَآ اٰبَآ ئَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ (ہم نے اپنے آباء کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا) پس ہم ان کی تقلید کرتے ہیں۔
Ayahs 26:75–7675، 76: قَالَ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ اَنْتُمْ وَاٰبَآ ؤُکُمُ الْاَقْدَمُوْنَ (ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ تم خود اور تمہارے اگلے باپ دادا کس چیز کو پوجتے ہیں) اقدمونؔ کا معنی پہلے ہے۔
Ayah 26:7777: فَاِنَّھُمْ (پس بیشک وہ) یعنی اصنام عَدُوٌّ لِّیْ (میرے دشمن ہیں) عد و اور صدیق ؔ یہ دونوں لفظ واحد و جمع کیلئے مستعمل ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر تم پوجا کرو تو قیامت کے دن وہ میرے دشمن ہونگے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا سیکفرون بعبادتہم ویکونون علیھم ضدًا ] مریم : 82[
قول فراء : یہ کلام مقلوب کی قسم ہے مطلب اس طرح ہے : فانی عدولھم ( کہ میں ان کا دشمن ہوں) حالانکہ آپ کے قول میں عدوٌلی ہے عدولکم نہیں۔ ان کی زیادہ خیر خواہی کرتے ہوئے قبولیت حق کی دعوت دی ہے اگر آپ فانہم عدولکم فرماتے تو کلام سے یہ مقصد پورا نہ ہوتا۔
اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (مگر رب العالمین ) ۔
نحو : یہ استثناء منقطع ہے کیونکہ وہ اعداء کے تحت داخل ہی نہیں کہ الا سے خارج کیا جائے گویا اس طرح فرمایا لٰکن رب العالمین لیکن رب العالمین میرا دوست ہے۔
Ayah 26:7878: اَلَّذِیْ خَلَقَنِیْ (وہ جس نے مجھے پیدا کیا) ٹھہرنے کی مقررہ جگہ میں رکھ کر فَھُوَیَھْدِیْنِ (پس وہی میری راہنمائی کرنے والے ہیں) دنیاوی راستوں اور مصالح دین کی جانب یھدینی کو صیغہ مستقبل سے لایا گیا ہے حالانکہ عنایت تو پہلے گزر چکی کیونکہ یھدینیؔ اہم و افضل اور کامل واکمل کا احتمال رکھتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ ذات جس نے مجھے پیدا کیا اپنی خدمت کے اسباب کیلئے پس وہی میری راہنمائی آداب خلّت کی طرف فرمائیں گے۔
Ayah 26:7979: وَالَّذِیْ ھُوَیُطْعِمُنِیْ (اور وہ ذات جو مجھے کھلاتی ہے) یہاں اطعام کی نسبت انعامات کے والی کی طرف کی گئی ہے۔ کیونکہ
اسباب کی طرف جھک پڑنا یہ چوپایوں کی عادت ہے۔ وَیَسْقِیْنِ (اور وہ مجھے شفاء بخشنے والے ہیں) قول ابن عطاء (رح) : وہ ذات جو کھانا کھلا کر زندہ رکھتی ہے اور مشروبات پلا کر سیرابی بخشتی ہے۔
Ayah 26:8080: وَاِذَامَرِضْتُ (اور جب میں بیمار ہوتا ہوں) ابرہیم (علیہ السلام) نے یہاں اس طرح نہیں فرمایا : امرضنیؔ۔ کیونکہ زبانی تذکرہ سے یہاں شکر مقصود ہے اسی لئے اس کی طرف اس چیز کی نسبت نہیں کی جو ضیر و نقصان کی متقاضی تھی (یہ کمال ادب ہے) ۔ قول ابن عطاء (رح) : جب میں مخلوق کو دیکھ کر بیمارہوتا ہوں تو مشاہدہ حق سے مجھے وہ شفاء دیتا ہے۔ فَھُوَ یَشْفِیْنِ (وہ شفاء بخشتا ہے ! )
قول جعفر صادق (رح) : جب میں رؤیت افعال سے بیمار پڑجاتا ہوں تو وہ افضال کے احسان سے اس کا ازالہ فرما دیتا ہے۔