26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 26:121–122

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

121، 122: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ : وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ (بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی۔ اور بیشک آپ کا رب البتہ زبردست نہایت مہربان ہے) العزیزؔ (جو آدمی انکار کرے اور کفر پر اصرار کرے ان سے سخت انتقام لینے والا) ۔ الرحیمؔ (ایمان کا اقرار کرنے والے موحدین کی مدد کر کے ان پر انعامات کرنے والے ہیں) ۔
Ayah 26:123

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

قوم عاد کا تذکرہ : 123: کَذَّبَتْ عَادُ الْمُرْسَلِیْنَ (قوم عاد نے رسولوں کو جھٹلا دیا) عادؔ قبیلہ کا نام ہے اصل میں قبیلہ کے بڑے آدمی کا نام ہے۔ ہود نے کہا تم کو ڈر نہیں ہے بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
Ayahs 26:124–126

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب ان سے انکے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

حضرت ہود ( علیہ السلام) کی تقریر : ( علیہ السلام) 124، 125، 126: اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ (جب ان کو ان کے نسبی بھائی نے کہا) ھُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ فَاتَّقُوا اللّٰہَ (رسول امین کی تکذیب کے سلسلہ میں) وَاَطِیْعُوْنِ (اور تم میری بات مانو ! )
Ayahs 26:127–128

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

بھلا تم جو ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

127، 128: وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعَلَمِیْنَ اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ (اور میں اس پر تم سے مزدوری نہیں مانگتا۔ میری مزدوری اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کیا تم ہر بلند مقام پر عمارت کھڑی کردیتے ہو) ریعٍؔ بلند مقام۔ ٰایَۃً منارہ، حمام، نمبر 2۔ ایسی عمارت جو بلندی میں بطور نشانی کے استعمال ہو۔ وہ ہرگز رنے والے کا مذاق اڑاتے۔ تَعْبَثُوْنَ (کھیل و تفریح کے طور پر ) ۔
Ayah 26:129

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

129: وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ (اور تم کارخانے بناتے ہو) پانی لینے کے مقامات نمبر 2۔ بلند محلات نمبر 3۔ مضبوط قلعے لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ (شاید کہ تم نے ہمیشہ رہنا ہے) تم دنیا میں ہمیشہ رہنے کی امید رکھتے ہو۔
Ayah 26:130

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

130: وَاِذَا بَطَشْتُمْ (جب تم کسی پر دار و گیر کرتے ہو) سزا کیلئے ان کو پکڑتے ہو۔ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْن (تو جابر بن کر دار وگیر کرتے ہو) تلوار سے قتل یا کوڑوں سے پٹوانا۔ الجبارؔ (جو قتل کروائے اور غصہ کی حالت میں ضرب لگائے) ۔
Ayah 26:131

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

131: فَاتَّقُوا اللّٰہَ (پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو) پکڑکے موقعہ میں وَاَطَیْعُوْنٍ (اور میری بات مانو) جس کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں۔
Ayah 26:132

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں میں مدد دی جن کو تم جانتے ہو ڈرو

132: وَاتَّقُوْا الَّذِیْ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے تم کو وہ نعمتیں بطور امداد عطاء فرمائیں) ۔ پھر انعامات ان پر گنائے گئے۔ اور کہا۔
Ayah 26:133

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

133: اَمَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَ (اس نے امداد کے طور پر چوپائے اور اولاد عنایت کی) بنین وانعام کو ایک صف میں رکھا کیونکہ وہ اپنے بچوں کو جانوروں کی حفاظت اور دیکھ بھال کیلئے مقرر کرتے ہیں۔
Ayahs 26:134–135

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اس نے تمہیں چار پایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

134، 135: وَجَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ ۔ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ( اور باغات اور چشمے مجھے تمہارے متعلق بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے) اگر تم نے میری نافرمانی کی۔
Ayah 26:136

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

قوم کا جواب : 136: قَالُوْا سَوَآئٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَکُنْ مِّنَ الْوَاعِظِیْنَ (کہنے لگے ہمارے حق میں برابر ہے۔ کہ آیا تم وعظ کرو یا نہ وعظ کہو ! ) ہم تیرے کلام کو قبول نہیں کرتے اور تیری دعوت نہیں مانتے خواہ وعظ کر یا خاموش رہو یہاں ام لم تعظ نہیں کہا تاکہ آیات کے اواخر ایک جیسے ہوجائیں۔
Ayahs 26:137–138

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

تعمیر و تخریب تو پہلے سے چلتی رہی ہے : 137، 138: اِنْ ھٰذَا اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ (یہ تو پہلے لوگوں کی عادت ہی ہے) یعنی ہم جس زندگی میں رہ رہے ہیں۔ اس میں موت وحیات و تعمیر و تخریب یہ آباء اولین کی عادت چلی آرہی ہے۔ نمبر 2۔ جس پر ہم ہیں یہ دین اباء اولین ہے۔ اِلَّا خَلُقُ الْاَوَّلِیْنَ یہ مکی بصری، یزید و علی نے پڑھا یہ جو کچھ تو لایا ہے یہ پہلے لوگوں کی گھڑنت ہے۔ اور دعوی نبوت کرنے والوں کا کذب ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے اساطیر الاولین ] الانعام : 25[ نمبر 2۔ ہماری پیدائش پہلے لوگوں کی پیدائش کی طرح ہے ہم مرتے اور زندہ رہتے ہیں۔ وَمَانَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ (اور ہمیں عذاب نہ دیا جائے گا۔ ) دنیا میں اور بعث و حساب کا تو وجود ہی نہیں ہے۔
Ayah 26:139

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

تکذیب اور اس کا نتیجہ : 139: فَکَذَّبُوْہُ (پس انہوں نے ہود کو جھٹلا دیا) فَاَھْلَکْنٰھُمْ (پس ہم نے ان کو ہلاک کردیا) تیز و تند ہوا کے ذریعہ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَہً وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ـ(بیشک اس میں البتہ نشان قدرت ہے اور ان میں سے اکثریت ایمان نہ لانے والی تھی)
Ayahs 26:140–146

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

اور قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا جو چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟

قوم ثمود کا تذکرہ : 140 تا 146: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَا الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ صالح ( علیہ السلام) کی تقریر : اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَتُتْرَکُوْنَ (اور بیشک آپ کا رب زبردست نہایت مہربان ہے قوم ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو اور میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر بس رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تمہیں چھوڑا جائے گا) ۔ یہ استفہام انکاری ہے کہ ان کو ان نعمتوں میں ہمیشہ چھوڑا نہ جائے گا کہ ان میں رہیں۔ فِیْ مَا ھٰھُنَآ (یعنی اس مقام پر نعمتیں موجود ہیں) ۔ ٰامِنِیْنَ (عذاب سے مامون) اور زوال و موت سے محفوظ۔ پھر اس کی وضاحت فرمائی۔
Ayah 26:147

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

(یعنی) باغ اور چشمے

147: فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ (باغات اور چشموں میں) یہ بھی اجمال ہے پھر تفصیل ہے۔
Ayah 26:148

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف و نازک ہوتے ہیں

148: وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ (اور کھیتیاں اور کھجوریں) نخلؔ کا عطف جنات پر ہے حالانکہ باغات میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں تاکہ کھجور کی تمام درختوں پر برتری ثابت ہوجائے۔ طَلْعُھَا (ان کے گابھے، گچھے) یہ کھجور سے تلوار کے پھل کی طرح نکلنے والا حصہ ھَضِیْمٌ (گوندھے ہوئے ہیں) نرم پکے ہوئے گویا اس طرح فرمایا کھجوریں کہ جن کا پھل پک چکا۔
Ayah 26:149

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو

149: وَتَنْحِتُوْنَ (اور تم تراشتے ہو) سوراخ کر کے بناتے ہومِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِھِیْنَ (پہاڑوں سے اتراتے ہوئے مکانات بناتے ہو) ۔ قراءت : شامی، کوفی نے فارھین پڑھا اور مہارت معنی کیا اور اس کو حال قرار دیا۔ دیگر قراء نے فَرِھِیْن پڑھا۔ اتراتے ہوئے الَفْراھۃ (چالاکی ‘ سمجھ داری) ۔
Ayahs 26:150–151

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو خدا سے ڈرو اور میرے کہے پر چلو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

150، 151: فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَطَیْعُوْنِ (تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو) ۔ وَلَا تُطِیْعُوْٓا اَمْرَالْمُسْرِفِیْنَ (اور حدود سے نکل جانے والوں کا کہنا مت مانو) المسرفینؔ سے کفار مراد ہیں۔ یا نمبر 2۔ وہ نو آدمی مراد ہیں۔ جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں تھی۔ امر کو مجاز حکمی کے طور پر مطاع قرار دیا۔ اور مراد اس سے امر ہے یہ انبت الربیع البقل کی طرح ہے۔
Ayah 26:152

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

152: الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ (وہ لوگ جو زمین میں فساد کیا کرتے ہیں) ظلم و کفر اختیار کرکے وَلَا یُصْلِحُوْنَ (وہ اصلاح نہیں کرتے) ایمان و عدل کے ذریعہ مطلب یہ ہے ان کا فساد قطعی ہے اس کے ساتھ صلاح کا نشان تک نہیں جیسا کہ مفسرین کا حال کچھ صلاح کے ساتھ ملا جلا ہوتا۔
Ayah 26:153

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

قوم کا جواب : 153: قَالُوْا اِنَّمَا اَنْتَ منَ الْمُسَحَّرِیْنَ (کہنے لگے بیشک تمہیں تو جادو کردیا گیا) المسحرؔ (جو سحر کی وجہ سے مغلوب العقل ہوجائے) ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ السَّحر سے ہے یعنی بہلایا ہوا ہے اور کھاتا پیتا انسان ہے فرشتہ نہیں (قول ابن عباس ؓ ۔
Ayah 26:154

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تم اور کچھ نہیں ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

154: مَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَاْتِ بِاٰیَۃٍ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (توُ تو ہم جیسا انسان ہے پس تو ایک نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے) اپنے دعویٰ رسالت و نبوت میں۔
Ayah 26:155

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

(صالح نے) کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

155: قَالَ ھٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّھَا شِرْبٌ (اس نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے اس کے لئے پانی کا حصہ مقرر ہے) شرب سے مراد پانی کا حصہ ہے کہ وہ اس کے پانی پینے میں مزاحم نہ بنیں۔ وَّ لَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ (اور تمہارے لئے مقررہ دن کا پینا ہے) وہ مزاحمت نہ کرے گی۔ روایت میں ہے انہوں نے کہا ہم تو دس ماہ کی گابھن اونٹنی چاہتے ہیں جو اس چٹان سے نکلے اور ایک نر بچہ جنے صالح (علیہ السلام) سوچ و بچار کرنے لگے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا دو رکعت نماز ادا کرو اور اپنے رب سے اونٹنی کے متعلق سوال کرو انہوں نے اسی طرح کیا اونٹنی نکلی اور اپنے جیسا قوی ہیکل بچہ جنا۔ جس پہاڑ سے اونٹنی نکلی تھی نکلنے کا مقام ستّر ہاتھ تھا۔ جب اونٹنی کے پانی پینے کا دن ہوتا تو یہ تمام پانی پی جاتی جب ان کے جانوروں کی باری ہوتی بالکل پانی نہ پیتی۔ اونٹنی کو حکومت دو : نحو : اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باری مقرر کرنا جائز ہے۔ کیونکہ لھا شرب ولکم شرب یوم معلوم یہ باری ہی کو ظاہر کرتا ہے۔
Ayah 26:156

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آپکڑے گا

156: وَلَا تَمَسُّوْھَا بِسُوْئٍ ( اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا) مار پٹائی یا کونچیں کاٹنا یا اور اسی قسم کی ایذاء فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (ورنہ تم کو یوم عظیم کا عذاب آپکڑے گا) عظیمؔ اس لئے کہا کیونکہ اس میں عذاب اترا۔ عذاب کی صفت لانے کی بجائے زیادہ بلیغ یہ ہے کہ یوم کی صفت لائی جائے اس لئے کہ جب وقت اس کی وجہ سے سخت و مشکل ہوجائے گا تو اس کا واقع ہونا عذاب کے بڑے ہونے سے بڑھ کر ہوگا۔
Ayah 26:157

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

حکم کی خلاف ورزی : 157: فَعَقَرُوْھَا (پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں) قدار کو نچیں کاٹنے والا تھا لیکن وہ تمام اس پر راضی تھے اس لئے ان کی طرف نسبت کردی گئی۔ روایت میں ہے کہ اس کی کونچیں کاٹنے والے نے کہا میں اس کی کونچیں اس وقت کاٹوں کا جب تم اس پر راضی ہوگے چناچہ وہ پردہ نشین عورتوں کے پاس جا کر پوچھتے کیا تم اس پر راضی ہو ؟ وہ کہتی جی ہاں اسی طرح بچوں سے بھی رضا مندی لی گئی۔ فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ (وہ پشیمان ہوئے) اس کی کونچیں کاٹنے پر۔ کیونکہ ان کو نزول عذاب کا خطرہ محسوس ہوا یہ شرمندگی توبہ کی بناء پر نہ تھی۔ نمبر 2۔ یہ اس وقت شرمندہ ہوئے جب شرمندگی کوئی کام نہ دے سکتی تھی اور یہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھنے کا وقت ہے۔ نمبر 3۔ وہ شرمندہ ہوئے کہ انہوں نے اس کے بچے کو کیوں چھوڑ دیا۔
Ayah 26:158

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو ان کو عذاب نے آپکڑا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

سزا کا تسلط : 158: فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابُ (پس ان کو عذاب نے آپکڑا) جس کا پہلے تذکرہ ہوچکا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَ مَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی)
Ayah 26:159

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

159: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ (بیشک آپ کا رب ہی غالب اور بڑا مہربان ہے) ۔
Ayah 26:160

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

قوم لوط کا تذکرہ : 160: کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ (قوم لوط نے رسولوں کو جھٹلایا) ۔