Ayah 26:81تعبیر کی خوبصورتی :
81: وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ (اور وہ ذات جو مجھے موت دے گی پھر وہ مجھے زندہ کرے گی) یہاں اذامتؔ نہیں فرمایا کیونکہ موت ابتلاء کی قید اور دارالفناء سے نکلنے اور بقاء کے باغ میں وعدہ لقاء کیلئے داخلے کا نام ہے۔
ثم اور فاء کا فرق :
یہاں ثمؔ لایا گیا کیونکہ فناء کے عرصہ پر احیاء ہے گزشتہ آیات میں شفاء اور ہدایت پر فاء ؔ کو داخل کیا کیونکہ مخلوق کو باری باری حاصل ہوتی ہیں دونوں ساتھ ساتھ میسر نہیں ہوتی۔
Ayah 26:8282: وَالَّذِیْ اَطْمَعُ (اور وہ ذات جس سے میں طمع رکھتا ہوں) موالی سے غلاموں کی طمع تو افضال ہی ہوتا ہے سوال سے ان کا استحقاق مقصود نہیں ہوتا۔ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ (کہ وہ میری لغزش کو بخش دیں گے) ایک قول یہ ہے کہ اس خطاء سے اِنِّی سقیم ] الصافات : 89[ بل فعلہ کبیر ھم ] الانبیاء : 63[ ھذ اربی ] الانعامـ : 77[ اور بازغ بادشاہ مصر کو سارہ کے متعلق فرمایا ھی اختی یہ تمام جائز تعریضات ہیں یہ خطایا نہیں کہ جن سے استغفار کی ضرورت ہو باقی انبیاء ( علیہ السلام) کا استغفار تو رب کی بارگاہ میں تواضع و انکساری ہے اور امت کو طلب مغفرت کی تعلیم دینا مقصود ہے۔ یَوْمَ الدِّیْنِ (قیامت کے دن) جو کہ جزاء کا دن ہے۔
Ayah 26:83دعائے ابراہیم۔ :
83: رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا (اے میرے رب مجھے حکم عطاء فرما) حکمؔ سے حکمت مراد ہے یا نمبر 2۔ لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا۔ نمبر 3 نبوت کیونکہ نبی (علیہ السلام) حکمت والے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ (اور تو مجھے نیکوں کے ساتھ ملا دے) صالحین سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبول فرما کر اعلان کردیا : وانہٗ فی الآخرۃ لمن الصالحین ] البقرۃ : 130[
Ayah 26:8484: وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور میرا تذکرہ اخیر آنے والے لوگوں میں کر دے) یعنی اچھی تعریف اور آنے والی امتوں میں اچھا تذکرہ۔ پس یہ دعا قبول کرلی گئی تمام ادیان والے ان سے دوستی رکھتے اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔
نکتہ : یہاں قولؔ کی بجائے لسانؔ کو لایا گیا کیونکہ قول زبان ہی سے ادا ہوتا ہے۔
Ayah 26:8585: وَاجْعَلْنِیْ مِنْ (تو مجھے بنا دے)
نحو : یہ وارثًا محذوف کے متعلق ہے ای وارثامن ورثۃ جنۃ النعیم۔
وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ (نعمتوں والی جنت) یعنی اس میں باقی رہنے والے لوگوں میں سے ہے۔
Ayah 26:8686: وَاغْفِرْ لِاَبِیْ (اور میرے والد کو بخش دے) اس کو اسلام نصیب کر کے اہل جنت میں سے بنا دے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے وقت اس سے جدائی اختیار کی تو اس وقت یہ وعدہ فرمایا ساستغفرلک ربی اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ (بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے) ضالؔ سے مراد کافر ہے۔
Ayah 26:8787: وَلَا تُخْزِنِیْ (اور مجھے رسوا نہ کرنا) الاخزاء یہ یخزی سے لیا گیا ہے جس کا معنی ذلت ہے نمبر 2۔ الخزایۃ سے ہے اور وہ حیاءؔ کو کہتے ہیں۔ یہ استغفار کی طرح ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ (جس دن ان کو اٹھایا جائے گا) یبعثون کی ضمیر عبادؔ کی طرف ہے کیونکہ وہ خود سمجھ آرہے ہیں۔ نمبر 2۔ ضالین کی طرف راجع ہے اور یہ سارا استغفار والد کیلئے قرار دیا جائے مطلب اس طرح ہوگا ولا تخزنی یوم یبعث الضالون وابی فیھم اور تو مجھے رسوا نہ کرنا جس دن گمراہوں کو اٹھایا جائے گا اس حال میں کہ میرا والد ان میں ہوگا۔
Ayah 26:8888: یَوْمَ لَا یَنفَعُ مَالٌ (جس دن مال کام نہ آئے گا)
نحو : یہ یوم اولؔ سے بدل ہے۔
وَ لَا بَنُوْنَ (اور نہ بیٹے) کسی ایک کو بھی۔
Ayah 26:89قلب سلیم :
89: اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ (مگر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ہاں سالم دل کے ساتھ آیا) سلیم سے مراد کفر و نفاق سے بچا ہوا دل۔ کافر و منافق کا دل بیمار ہوتا ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فی قلوبھم مرض ] البقرۃ : 10[ مطلب یہ ہے۔ کہ مال کو جب نیکی کے مقامات پر صرف کیا جائے اور اولاد بھی صالح ہو تو اس کو اس سے فائدہ پہنچے گا اور ان کی وجہ سے وہ سلیم القلب ہوگا۔ نمبر 2۔ مال اور اولاد کو غناء کے معنی میں قرار دیا گویا اس طرح فرمایا یوم لا ینفع غنی الاغنی من اتی اللہ بقلب سلیم اس دن کسی کو غناء کام نہ دے گا مگر اس کا غناء جو صحیح سالم دل لے کر آیا کیونکہ دینی غناء سلامتی قلب سے ہی میسر آتا ہے جیسا کہ غناء ظاہری مال و اولاد سے ملتا ہے۔
آیت میں منؔ کو ینفع کا مفعول قرار دیا گیا ای لا ینفع مال ولا بنون الا رجلا سلم قلبہ مع مالہ حیث انفقہ فی طاعۃ اللہ و مع نبیہ حیث ارشدھم الی الدین وعلمھم الشرائع۔ نہ مال کام آئے گا۔ اور نہ اولاد مگر وہ آدمی جس کا دین بمع مال بچا ہوا ہو۔ وہ اس طرح کہ اس نے مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کیا اور اولاد کو دین کی طرف راہنمائی کی اور ان کو شرائع کا علم سکھایا۔ اس صورت میں یہ بھی جائز ہے الا من اتی اللہ بقلب سلیم من فتنۃ المال مگر جو شخص فتنہ مال واولاد سے بچا ہوا دل لے کر آیا۔ اللہ تعالیٰ جو کہ جلیل القدر ذات ہے اس نے خلیل کے استثناء کی بطور اکرام تثویب فرمائی بلکہ ان کے وصف کے طور پر ذکر فرمایا۔ و اِنَّ من شیعتہٖ لابراھیم اذجاء ربہ بقلب سلیمٍ ] الصافات : 83، 84[۔
حسن ترتیب :
ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے ساتھ کس عمدہ ترتیب سے کلام فرمایا۔ نمبر 1۔ اولا ان سے سوال کیا کہ وہ کس چیز کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ سوال ان سے اقرار کروانے کیلئے فرمایا بطور استفہام نہیں فرمایا۔
نمبر 2۔ پھر ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہو کر ان کی حیثیت کو اس طرح باطل قرار دیا کہ وہ نقصان و نفع نہیں دے سکتے اور نہ ہی فریادوں کو سنتے ہیں۔ نمبر 3۔ پھر ان کی آبائی تقلید کا ابطال کیا یہ دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی پھر مسئلہ کی صورت اپنی ذات کی طرف نسبت کر کے سمجھائی ان کی طرف نسبت نہیں کی یہاں تک کہ اس گفتگو سے یاد الٰہی کی طرف متوجہ ہو کر اس کی عظمت بیان فرمائی اور اس کے انعامات ولادت سے وفات تک ذکر کئے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت کے امید یافتہ انعامات کا تذکرہ کردیا۔ پھر بارگاہ الٰہی میں مخلصانہ دعائیں اور اس کی بارگاہ میں کامل رجوع کرنے والوں کی طرح گڑ گڑاتے پھر اس کو تذکرئہ قیامت اور اللہ تعالیٰ کے ثواب و عقاب کے ساتھ ملایا اور مشرکین کے اس انجام کا ذکر کردیا جس کی طرف ان کو اس دن دھکیلا جائے گا۔ وہاں جس قدر ان کو شرمندگی و ندامت پیش آئے گی جو اس گمراہی کی بناء پر ہوگی جس پر آج وہ قائم ہیں وہ ندامت کی وجہ سے دنیا کی طرف لوٹنے کی تمنا ظاہر کریں گے تاکہ وہ ایمان وطاعت اختیار کریں۔ (مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد)
Ayah 26:90متقین کا انجام :
90: وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (جنت کو متقین کے قریب کردیا جائے گا) اُزلفتؔ کا معنی قریب کیا جانا۔ جملہ کا عطف جملہ پر ڈالا گیا ای تزلف من موقف السعداء فینظرون الیھا۔ موقف سعداء اور جنت میں قرب پیدا کردیا جائے گا پس وہ جنت کی طرف دیکھ لیں گے۔
Ayah 26:91غاوین کا تذکرہ :
91: وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ (اور جہنم کو ظاہر کردیا جائے گا) یعنی وہ اس قدر ظاہر کردی جائے گی یہاں تک کہ یوں محسوس ہوگا کہ اس کی لپٹ ان کو آچھوئے گی۔ الْغٰوِیْنَ (گمراہوں کیلئے) کفار کیلئے۔
Ayahs 26:92–9392: وَقِیْلَ لَھُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ھَلْ یَنْصُرُ وْنَکُمْ اَوْیَنْتَصِرُوْنَ (اور ان سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سواتم جن کی پوجا کرتے تھے۔ وہ کہاں ہیں کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا وہ خود محفوظ ہوسکتے ہیں) ان کو شرک پر تو بیخ کرتے ہوئے کہا جائے گا این الہتکم ؟ تمہارے معبود کہاں ہیں کیا وہ مدد کر کے تمہیں نفع پہنچائیں گے ؟ یا کیا اپنے آپ کو اپنے غلبہ سے فائدہ پہنچا سکیں گے ؟ کیونکہ وہ اور ان کے معبود آگ کا ایندھن بنیں گے۔
Ayah 26:9494: فَکُبْکِبُوْا (پس ان کو اوندھے منہ) اوندھے منہ یا ایک دوسرے پر ان کو پھینکا جائے گا۔ فِیْھَا (جہنم میں) ھُمْ یعنی (معبود) وَالْغَاوٗنَ (اور گمراہ) اور جن کی پوجا ان لوگوں نے کی ان کے لئے جہنم ظاہر کی جائے گی۔ الکبکبۃؔ: بار بار اوندھا کرنا۔ لفظ کب کو دوبارہ لانا یہ معنی میں تکریر کی علامت ہے گویا جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ان کو بار بار اوندھا کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے پیندے میں جار کے گا۔ نعوذ باللہ منھا۔
Ayah 26:9595: وَجُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ (اور شیطان کے تمام لشکروں کو) جنود سے مراد شیاطین ہیں نمبر 2۔ نافرمان جن و انسان جنہوں نے اس کی اتباع کی۔
Ayah 26:9696: قَالُوْا وَھُمْ فِیْھَا یَخْتَصِمُوْنَ (اور کہنے لگے اس حال میں کہ وہ دوزخ کے اندر جھگڑ رہے ہونگے) یہ بھی عقلاً جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ اصنام کو بولنے کی قوت دیں تاکہ باہمی بات چیت اور گالم گلوچ صحیح ثابت ہو۔ اور یہ بھی درست ہے کہ گالم گلوچ شیاطین اور گناہ گار مجرمون کے مابین ہو۔
Ayahs 26:97–98اعترافِ جرم :
97، 98: تَاللّٰہِ اِنْ کُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ اِذْ نُسَوِّیْکُمْ (اللہ تعالیٰ کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے جب کہ ہم تمہیں برابر قرار دیتے تھے) نسویکمؔ کا معنی بتوں کا برابر قرار دینا۔ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (رب العالمین کے ساتھ) عبادت میں۔
Ayah 26:9999: وَمَآ اَضَلَّنَآ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ (اور ہمیں مجرمین نے گمراہ کیا) یعنی ان کے وہ رؤساء جنہوں نے ان کو گمراہ کیا۔ نمبر 2۔ ابلیس اور اس کا لشکر اور جنہوں نے شرک کی بنیاد ڈالی۔
Ayah 26:100100: فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ (پس ہمارے لئے آج کوئی شفاعت کرنے والا نہیں) جیسا کہ مؤمنوں کیلئے انبیاء (علیہم السلام) اور ملائکہ اور اولیاء شفاعت کریں گے۔
Ayah 26:101101: وَلَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ (نہ کوئی گہرا دوست) جیسا کہ ہم دوست آج دیکھ رہے ہیں کیونکہ آخرت میں ایمان والوں کی دوستی ہوگی اہل جہنم میں باہمی عداوت ہوگی جیسا اس ارشاد میں ہے : الْاَخِلَّائُ یومئذ بعضھم لبعض عدوٌ الا المتقین ] الزخرف : 67[
نمبر 2۔ ہمارے لئے کوئی سفارشی نہیں اور نہ گہرا دوست ہے ان شفعاء میں سے جن کو ہم دوست و سفارشی خیال کرتے تھے کیونکہ مشرکین کا اپنے اصنام کے متعلق اعتقادیہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ سفارشی بنیں گے اور ان کی دوستیاں شیاطین الانس سے تھی۔ الحمیمؔ یہ الاحتمام سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی اہتمام ہے حمیم اس شخص کو کہتے ہیں جو اس چیز کو اہمیت دے جس کو تم دیتے ہو۔ نمبر 2۔ الحامۃ سے لیا گیا ہے جس کا معنی خاصہ آتا ہے اور وہ خاص دوست کو کہتے ہیں۔
نکتہ : الشافعینؔ جمع شافع کی ہے اس کو جمع لائے جبکہ صدیق کو واحد لایا گیا ہے کیونکہ عادۃً شفعاء زیادہ ہوتے ہیں باقی سچے دوست جو تمہارے غم وہم کو اہم سمجھے بہت قلیل ہیں۔ اسی لئے واحد لائے۔
حکیم کا قول :
صدیقؔ اسم تو ہے مگر اس کا مقصود مفقود ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ صدیقؔ سے جنس مراد لے کر جمع مراد لے لیں۔
Ayah 26:102102: فَلَوْ اَنَّ لَنَاکَرَّ ۃً (پس کاش ہم کو ایک بار واپسی لوٹنا میسر آجاتا) کرہؔ سے مراد دنیا کی طرف لوٹنا ہے۔ فَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (پس ہم ضرور مؤمنین میں سے ہوجاتے)
نحو : لوؔ کا جواب محذوف ہے اور وہ لفعلنا کیت و کیت ہے۔ نمبر 2۔ لو ایسے مقام پر تمنی کیلئے ہے گویا اس طرح کہا گیا ہے فلیت لنا کرۃً کاش ہمارے لئے لوٹنا ہو کیونکہ لوؔ اور لیتؔ قریب المعنیٰ ہیں۔
Ayah 26:103103: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) جو اطلاعات مذکور ہوئیں۔ لَاٰیَۃً (ضرور نشانی ہے) عبرت حاصل کرنے والے کیلئے عبرت ہے۔ وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک جماعت ایمان لائی۔
Ayah 26:104104: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور بیشک آپ کا رب البتہ زبردست) وہ ابراہیم کی تکذیب کرنے والوں سے بذریعہ جہنم انتقام لے گا۔ الرَّحِیْمُ (نہایت مہربان ہے) ہر سلامتی والے دل رکھنے والے کو جنت کے سپرد کرنے والے ہیں۔
Ayah 26:105تذکرئہ نوح۔ :
105: کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِیْنَ (قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا) القومؔ کا لفظ مؤنث و مذکر آتا ہے۔ ایک قول یہ ہے نوح (علیہ السلام) کی ولادت زمان آدم (علیہ السلام) میں ہوئی۔ المرسلینؔ کو جمع لائے اور مراد نوح (علیہ السلام) لئے۔ اس کی مثال اس طرح ہے فلان یرکب الدواب و یلبس البرود حالانکہ اس کے پاس ایک چوپایہ اور ایک مخلط چادر ہے۔
نمبر 2۔ وہ سرے سے بعثت ِرسل کے قائل ہی نہ تھے۔ اسی لئے جمع لائے نمبر 3۔ جس نے ان میں سے ایک کی تکذیب کی اس نے تمام کی تکذیب کی کیونکہ تمام رسول لوگوں کو تمام رسولوں پر ایمان لانے کی طرف بلاتے ہیں اور اسی طرح اس تمام پر جو اس سورت میں ہے۔
Ayah 26:106106: اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ (جب ان کو ان کے بھائی نے کہا) نسبی بھائی مراد ہے نہ کہ دینی۔ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنََ (نوح (علیہ السلام) نے کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے) جو لوگوں کا خالق ہے تاکہ تم بتوں کی عبادت ترک کردو۔
Ayah 26:107107: اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ (بیشک میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں) نوح (علیہ السلام) ان میں اسی طرح امانت دار معروف تھے جیسے حضرت محمد ﷺ قریش میں۔
Ayah 26:108108: فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ (تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو) جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اور جس حق کی طرف تمہیں دعوت دیتا ہوں۔
Ayah 26:109109: وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ (اور میں اس پر تم سے نہیں مانگتا) اس امر تبلیغ پر مِنْ اَجْرٍ (کوئی مزدوری) اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (میر ثواب تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ )
Ayah 26:110قراءت : اجْرِیَ مدنی، شامی، ابو عمرو ‘ حفص نے نصب سے پڑھا ہے۔ اسی طرح میں اس کو چاہتا ہوں۔
110: فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَطِیعُوْنِ (پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو) اس کو دوبارہ لائے تاکہ ان کے دلوں میں بات بیٹھ جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں سے ہر ایک ایک علت سے متعلق ہے۔
علت ِاوّل :
نوح (علیہ السلام) کا ان کے مابین امانت سے معروف ہونا۔
علت ِدوم :
ان سے طمع کے الزام کو مٹانا۔
گویا اس طرح فرمایا کہ جب تم میری رسالت و امانت کو پہچان چکے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اذا عرفتم رسالتی و امانتی فاتقوا اللّٰہ پھر جب تم بدلے سے میرا بریٔ الذمہ ہونا معلوم کرچکے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اذاعرفتم احترازی من الاجر فاتقواللہ۔
Ayah 26:1111 1 1: قَالُوْآ اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ (کہنے لگے کیا ایسی صورت میں ہم تم پر ایمان لاسکتے ہیں۔ جبکہ تمہاری اتباع کرتے ہیں) ۔
نحو : وائو حالیہ ہے۔ اور اس کے بعد قدؔ مضمر ہے۔ اس کی دلیل قراءت یعقوب میں واتباعُک جمع تابع جیسے شاہد و اشہاد موجود ہے یاتَبَع بطل و ابطال کی طرح ہے۔ اَلْاَرْذَلُوْنَ (رذیل) ۔ کمینے، الرذالۃ : کمینگی، خسات، انہوں نے ان کو رذیل اس لئے کہا کیونکہ نسب اعلی نہ تھے اور دنیا کا مال بھی ان کے پاس قلیل تھا۔
ایک قول یہ ہے :
وہ کم درجہ پیشے والے تھے حالانکہ صناعت میں دیانت ہو تو کوئی عیب نہیں اصل غنی تو غنائے دین ہے اور اصل نسب بھی نسبت تقویٰ ہے۔ مومن کو رذیل کہنا جائز نہیں خواہ وہ لوگوں میں فقیر ترین ہو اور نسب میں انتہائی کم درجہ ہو انبیاء (علیہم السلام) کے متبعین اولاً ایسے ہی لوگ ہوتے رہے ہیں۔
Ayah 26:112112: قَالَ وَمَا عِلْمِیْ (نوح (علیہ السلام) نے کہا مجھے کیا معلوم وہ کس غرض سے میری بات مانتے ہیں) ماؔ بمعنی ای شئی ہے میری کیا غرض ہے ان کے متعلق۔ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (جو کچھ وہ کرتے ہیں) یعنی صناعات سے غرض نہیں۔ میں تو ان سے ایمان کا طالب ہوں۔
Ayah 26:113113: کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی ایمانی رذالت کے باوجود ان ایمان والوں پر طعنہ زنی کی اور کہنے لگے کہ جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں جو ایمان یہ ظاہر کر رہے ہیں وہ ان کے دلوں میں پایا نہیں جاتا۔ اس پر نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میرے ذمہ تو صرف ظاہر پر اعتبار کرنا ہے۔ بواطن و سرائر کی تفتیش میری ذمہ داری نہیں۔ اِنْ حِسَابُھُمْ اِلَّا عَلٰی رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَ ان کی حساب فہمی کے اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہیں اگر تم کو شعور ہوتا) اللہ تعالیٰ ان سے اس چیز کا حساب لیں گے جو ان کے قلوب میں ہے۔
Ayah 26:114مؤمنوں کو نکالنے کا مطالبہ :
114: وَ مَآ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکالنے والا نہیں ہوں) میرے یہ لائق نہیں کہ میں تمہارے ایمان کی طمع میں تمہاری مرضیات پر چلتے ہوئے ان کو اپنے ہاں سے نکال دوں۔
Ayah 26:115115: اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (میں تو کھلا ڈرانے والا ہوں) میرے ذمہ یہی ہے کہ میں صحیح دلیل سے تمہیں ڈرا ئوں۔ ایسی دلیل جس سے حق و باطل کا فرق واضح ہوجائے پھر تم جانو اور تمہارا کام۔
Ayah 26:116116: قَالُوْا لَپنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰنُوْحُ (کہنے لگے اے نوح اگر تو باز نہ آیا) اس بات سے جو تو کہہ رہا ہے۔ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ (تو ضرور بضرور تمہیں سنگسار کردیا جائے گا) مرجوم اس کو کہا جاتا ہے جس کو پتھر مار مار کر قتل کردیں۔
Ayah 26:117117: قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنِ (کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا) یہ اخبار تکذیب نہیں کیونکہ نوح (علیہ السلام) جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہیں۔ وہ ہر چیز کو جانتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ میری قوم نے تیری وحی و رسالت میں میری تکذیب کی ہے۔
Ayah 26:118طلب فیصلہ :
118: فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ فَتْحًا (پس ان کے درمیان اور میرے درمیان فیصلہ فرما دیں) میرے اور ان کے درمیان معاملہ کو طے کردیں۔ الفتاحۃؔ (فیصلہ کرنا) الفتاحؔ (حاکم) کیونکہ وہ بند کو کھولتا ہے جیسا کہ اس کو فیصل بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ فیصلے چکا تا ہے۔ وَّ نَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ( اور مجھے اور میرے ساتھ والے مؤمنوں کو نجات عنایت فرما) ان کے اعمال پر اترنے والے عذاب سے۔
Ayah 26:119قراءت : حفص نے مَعِیَ پڑھا ہے۔
119: فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ (پس ہم نے ان کو اور ان کے ساتھ جو کشتی میں تھے۔ نجات دی) الفلکؔ (کشتی) اس کی جمع فُلْکٌ آتی ہے۔ واحد قُفلٌ ہے اور جمع بروزن اُسْدٌ ہے۔ الْمَشْحُوْنِ (بھری ہوئی) ۔ اس سے شحنۃ البلد جو اس کو پورے طور پر بھر دے۔ کہتے ہیں۔
Ayah 26:120غرقابی قوم نوح۔ :
120: ثُمَّ اَغْرَقْنَابَعْدُ (پھر ہم نے ڈبو دیا اس کے بعد) (نوح ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھ جو ایمان لانے والے تھے ان کو بچا کر باقیوں کو ڈبو دیا) الْبٰقِیْنَ (باقی لوگ) ان کی قوم سے۔