25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے

تبارک اور فرقان کا معنی : 1: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ (بڑی خیر والا ہے وہ جس نے قرآن کو اپنے بندے پر تھوڑا تھوڑا) عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (اتار اتا کہ وہ سارے جہانوں کیلئے ڈرانے والا ہو) ۔ تبارکیہ البرکۃ سے تفاعل کے وزن پر ہے۔ اور البرکتؔ خیر کثیر اور اس کے اضافہ کو کہتے ہیں۔ تبارک اللہ ؔ کا معنی اس کی بھلائی بڑھنے والی ہے اور کثیر ہونے والی ہے۔ نمبر 2۔ ہر چیز سے بڑھنے والی ہے اور ہر چیز سے اپنی صفات و افعال میں بلند ہے۔ یہ تعظیمی کلمہ ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مجرد حَسِبَ باب سے آتی ہے ( البتہ مزید کی گردان نہیں آتی کیونکہ یہ صفت باری کیلئے خاص ہے) الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ (وہ جس نے قرآن مجید کو اتارا) الفرقان مصدر ہے جو دو چیزوں کے مابین جدائی کیلئے آتا ہے قرآن کو فرقان کہنے کی وجہ یہ ہے کیونکہ قرآن حق و باطل میں جدائی ڈالتا ہے حلال و حرام کو الگ کرتا ہے نمبر 2۔ اسلئے کہ اکٹھا نازل نہیں ہوا۔ بلکہ اترنے میں جداجدا اور تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔ جیسا اس آیت میں مذکور ہے : وقرء انًافرقنا ہُ لتقرأ علی الناس علی مکث ونزلنٰہ تنزیلا ] الاسراء : 106[ عَلٰی عَبْدِہٖ (اپنے بندے پر) یعنی محمد ﷺ پر لِیَکُوْنَ (تاکہ ہو وہ) بندہ یا فرقان۔ لِلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کیلئے) جنات و انس کیلئے۔ رسالت کا عام ہونا آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔ نَذِیْرًا (ڈرانے والا) نذیر منذر کے معنی میں ہے یا نذیر بمعنی انذار ہے جیسا نکیر بمعنی انکار ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں یہی معنی ہے : فکیف کان عذابی و نذرٍ ] القمر : 16[
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

2: الَّذِیْ (وہ اللہ تعالیٰ ) نحو : نمبر 1۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ نمبر 2۔ یہ الذی نزل کا بدل ہے۔ اور بدل مبدل منہ میں لیکون کا فاصلہ جائز ہے کیونکہ مبدل منہ کا صلہ نزل ہے اور لیکون اس کی علت ہے گویا مبدل منہ اسی سے مکمل ہوا۔ نمبر 3۔ یہ منصوب علی المدح ہے۔ ہر چیز کا ایک موجد : لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اسی کا اقتدار آسمانوں اور زمین میں ہے) خالص۔ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا (اور اس نے بیٹا نہیں بنایا) جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے عزیر اور مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں خیال کیا۔ وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ (اور نہ ہی حکومت میں اس کا کوئی حصہ دار ہے) جس طرح کہ ثنویّہ اور مجوسیوں کا خیال ہے۔ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ (اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا) یعنی ہر چیز کو اس اکیلے نے ہی ایجاد کیا اس طرح نہیں جیسا کہ مجوسی اور ثنویہ کہتے ہیں کہ نور سے یزداں کو اور ظلمت سے اہرن کو پیدا کیا۔ اس آدمی کے لیے اس شبہ میں کوئی گنجائش نہیں جو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شئی ہے اور نہ اس آدمی کیلئے جو یہ کہتا ہے قرآن مخلوق ہے کیونکہ فاعل اپنی تمام صفات کے ساتھ مفعول نہیں بن سکتا البتہ لفظ شئی کا بیان اس چیز کے لیے خاص ہے کہ جس کے لئے مخلوق ہونا صحیح ہے اور اس معنی کے لیے قرینہ خود آیت میں موجود ہے۔ وخلق ؔ یہ ہماری واضح دلیل ہے جس کو ہم معتزلہ کی تردید کے لیے پیش کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کا خالق ہے۔ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا (پھر اس نے ہر چیز کا الگ الگ اندازہ رکھا) اس کو ایسی چیزیں مہیا فرمائیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے اس کے لیے مناسب اور درست تھیں۔ جس طرح کہ اس نے انسان کو اس شکل میں بنایا جس کو اس کے لیے اتارا۔ پھر اس کے لیے دین و دنیا کی وہ مصلحتیں اور ذمہ داریاں ایک اندازہ کے مطابق مقرر فرمائیں۔ نمبر 2۔ ایک مقررہ قلیل مدت کے لئے اس کے باقی رہنے کا اندازہ کیا۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا

عاجز بندوں کو اس کی ذات پر ترجیح دی : 3: وَاتَّخَذُوْا (اور انہوں نے بنا لئے ہیں) اس میں ضمیر کفار کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ عالمین کے تحت وہ بھی شامل ہیں۔ نمبر 2۔ دلالت کی وجہ سے کیونکہ نذیر کا لفظ فرمایا گیا۔ پس منذر وہی ہیں یعنی ڈرائے ہوئے اس سے معلوم ہوا کہ ضمیر کفار کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مِنْ دُوْنِہٖٓ ٰالِھَۃً (اس کے سوا اور معبود) یعنی اصنام لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں) یعنی ان لوگوں نے اس ذات کی عبادت پر جو اپنی الوہیت، بادشاہی اور تخلیق میں منفرد ہے اور تقدیر میں اس کا کوئی ساجھی نہیں ایسے عاجز بندوں کو ترجیح دی جو کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت تو کیا رکھتے وہ خود مخلوق ہیں۔ وَ لَایَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِھِمْ ضَرًّا وَّ لَانَفْعًا (وہ خود نہ اپنے ضرر پر قابو رکھتے ہیں اور نہ نفع پر) یعنی اپنے نفسوں سے ضر رکو دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ اپنے نفسوں کو نفع پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وَّ لَا یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا (وہ موت پر قابو نہیں رکھتے) یعنی کسی پر موت مسلط کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وَّ لَا حَیٰوۃً (اور نہ زندگی پر) یعنی نہ ابتداء ًزندگی دینے پر وَّ لَا نُشُوْرًا (اور نہ اٹھانے پر) یعنی موت کے بعد اٹھانے پر اور یہاں بتوں کو عقلاء شمار کیا گیا کیونکہ ان کی عبادت کرنے والے ان کے متعلق یہی خیال کرتے تھے۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہیں جو اس (مدعی رسالت) نے بنا لی ہیں اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں

کفار نے قرآن کو مفتری کہا : 4: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ ھٰذَا (اور کافروں نے کہا نہیں ہے یہ) یعنی قرآن اِلَّا اِفْکٌ ( مگر جھوٹ) افْتَرٰہُ (جو اس نے گھڑ لیا ہے) یعنی اس کو محمد ﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا اور تراش لیا ہے۔ وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ (اور اس کام میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے یعنی ہود نے یا عداس نے یا یسارنے یا ابو فکیہ رومی نے یہ بات نضر بن حارث نے کہی : فَقَدْ جَآ ئُ وْا ظُلْمًا وَّزُوْرًا (پس بلاشبہ انہوں نے بےجابات کی اور جھوٹ کہا) یہ کفار کی تردید کے لئے اللہ کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے۔ جاء ُ وا کی ضمیر کا مرجع کفار ہے اور جاء فعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اسی صیغے سے متعدی ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ جار کو خذف کیا اور فعل کو ملا دیا یعنی جاء بظلم و جورٍ ان کا ظلم یہ تھا کہ ایک عربی کے متعلق یہ کہنے لگے کہ وہ ایک عجمی رومی سے عربی کلام حاصل کرتا ہے جس کلام کی فصاحت نے تمام فصحائے عرب کو عاجز کردیا اور زور سے اس لحاظ سے کہا کہ یہ محض آپ پر بہتان تھا حالانکہ آپ تو اس سے بالکل بریٔ الذمہ تھے۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

بےسند باتیں قرار دیا : 5: وَ قَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّ لِیْنَ (اور وہ کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی بےسند باتیں ہیں) یعنی پہلے لوگوں کی منقول شدہ باتیں یا مکتوب شدہ باتیں ہیں۔ جیسے رستم اسفند یار وغیرہ ( اساطیر) جمع اسطار یا اسطور جیسے احدوثۃ۔ اکْتَتَبَھَا (جن کو اس نے اپنے لیے لکھ لیا ہے) فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا (اور وہ اس پر اس لکھی ہوئی کتاب میں سے صبح و شام پڑھی جاتی ہے۔ ) بکرۃؔ دن کے پہلے حصہ کو کہتے ہیں اور اصیلؔ دن کے آخری حصہ کو۔ یہ محمد ﷺ ان پڑھے جانے والے واقعات کو یاد کرکے ہمیں سنا دیتے ہیں۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس نے اس کو اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

اس کو کائنات کے رازدان نے اتارا : 6: قُلْ (کہہ دیں محمد ﷺ اَنْزَلَہٗ (اس کو اتارا ہے) یعنی قرآن کو الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اس ذات نے جو آسمان و زمین کی پوشیدہ باتیں جانتے ہیں) یعنی ہر وہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز جو آسمان و زمین میں پائی جاتی ہے یعنی قرآن مجید جب ایسی غیب کی اطلاعات پر مشتمل ہے جن کا عادۃً جان لینا بغیر تعلیم کے محمد ﷺ کے لیے محال ہے تو یہ اس بات کی خود دلیل بن گئی کہ قرآن علام الغیوب کی طرف سے ہے : اِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّ حِیْمًا (بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے) اسی لیے ان کو مہلت دے رہا ہے اور جلدی سز انہیں دیتا۔ حالانکہ وہ انکار حق کی وجہ سے عذاب کے حقدار ہوچکے ہیں۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس پر کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ کہ اسکے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا ؟

رسالت پر اعتراض : 7، 8: وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ (اور انہوں نے کہا یہ کیسا رسول ہے) قرآن مجید میں ہاء کو لام سے الگ لکھا گیا ہے۔ قرآن مجید کا یہ رسم الخط سنت ہے اس کو تبدیل نہ کیا جائے گا کفار نے الرسول کا لفظ آپ ﷺ کے لئے بطور مذاق کے استعمال کیا گویا ان کی بات کا مطلب یہ تھا کہ اس اپنے آپ کو رسول کہنے والے کو کیا ہوا۔ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ (وہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا ہے) نحو : یہ حال ہے اور اس کا عامل ھذا ہے۔ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا (کیوں نہیں اس کے ساتھ فرشتہ بھیجا گیا کہ جو اس کے ساتھ رہ کر ڈراتا) اَوْ یُلْقٰی اِلَیْہِ کَنْزٌ اَوْتَکُوْنُ لَہٗ جَنَّۃٌ یَّاْکُلُ مِنْھَا (یا اس کی طرف کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا یا اس کا باغ ہوتا جس پر اپنا گزر اوقات کرتا) یعنی اگر اس کا رسول اللہ ہونا درست ہے تو پھر یہ ہماری طرح کھانا کیوں کھاتا ہے اور طلب معاش میں ہماری طرح بازاروں میں کیونکر آتا جاتا ہے۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ پیغمبر فرشتہ ہونا چاہیے جو کھانے پینے اور معاش سے بےنیاز ہو۔ پھر انہوں نے اپنے اس موقف سے نیچے اتر کر کہا کہ چلو ہم نے مان لیا کہ وہ انسان ہو۔ مگر اس کے دعوائے نبوت کو ماننے کی شکل یہ ہے کہ ایک فرشتہ اس کی معیت میں ہو جو تخویف و انداز میں اس کا دست وبازو بنے۔ پھر اس سے نیچے اتر کر کہنے لگے چلو یہ نہیں تو کم ازکم آسمان سے اس پر خزانہ اتارا جاتا جس کے ذریعہ اپنی پشت کو مضبوط کرکے کسب و معاش سے تو مستغنی ہوجاتا ہے اگر یہ بھی نہیں تو پھر کم سے کم ایک باغ کا مالک ہوتا جس سے خوشحال لوگوں کی طرح اپنا گزراوقات کرلیتا یا ہم اس سے کھاتے اور فائدہ اٹھاتے۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

قراءت : حمزہ و علی نے تاکل پڑھا ہے۔ نحو : مضارع یلقی اور تکون کا انزل پر عطف بہت خوب ہے اگرچہ وہ ماضی ہے اور درمیان میں فیکونؔ مضارع ہے اور اس پر فائ اس لئے کہ وہ لولا کے جواب میں آئی ہے اور یہ قراءۃ مشہورہ کے مطابق منصوب ہے لولاؔ ھلا کے معنی میں ہے اور حکم استفہام والا ہے۔ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ (اور ظالموں نے کہا) ظالموں سے مراد خاص معینہ لوگ ہیں البتہ ضمیر کی جگہ ظاہر اسم لائے تاکہ ان کی بات کا ظالمانہ ہونا تحریر سے ثابت ہوجائے یہ لوگ کفار قریش ہی تھے۔ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (تم نہیں اتباع کرتے مگر ایک سحر کئے ہوئے آدمی کی) اس کو سحر کیا گیا جس سے جنون ہوگیا۔ نمبر 2۔ یہ سحر والا ہے اور وہ جنات کے اثر کو کہا جاتا ہے ان کی مراد یہ تھی کہ یہ انسان ہیں فرشتے نہیں۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے

اجمالِ جواب : 9: اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا (غور تو کرو کس طرح یہ بیان کرتے ہیں) ضرب کا معنی یہاں بیان کرنا ہے۔ لَکَ الْاَمْثَالَ (تمہارے متعلق مثالیں) یعنی تمہارے متعلق یہ باتیں کہتے ہیں اور یہ بات تیرے بارے میں تجویز کی ہے یہ مفتری مسحور اور دوسروں سے لکھوالیتا ہے۔ فَضَلُّوْا (پس وہ گمراہ ہوئے) حق کے راستہ سے فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا (پس وہ راستے کی طاقت نہیں رکھتے) پس وہ حق کی راہ ہی نہیں پاتے۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں نیز تمہارے لئے محل بنا دے

مال والے اعتراض کا جواب : 10: تَبٰرَکَ الَّذِیْ اِنْ شَآ ئَ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْہٰرُ وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا (بڑی برکت والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کہ اگر چاہے تو آپ کیلئے اس سے بہتر دنیا ہی میں نعمتیں عنایت فرما دے ایسے باغ جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں اور آپ کیلئے محلات تیار کردے) مال کی وہ کثرت جس کو اللہ تعالیٰ اگر دنیا میں آپ کو دینا چاہے تو اس سے کہیں بہتر دے سکتا ہے جو انہوں نے کہیں اور وہ یہ ہے کہ آپ کو عنایت فرمائے اسی طرح کے باغات و محلات جن کا وعدہ اس نے آپ سے فرمایا ہے۔ نحو : جناتٍ یہ خبراً سے بدل ہے۔ قراءت : یجعلُ رفع کے ساتھ مکی، شامی اور ابوبکر نے پڑھا ہے کیونکہ شرط جب ماضی ہو تو جزاء میں مضارع پر جزم و رفع دونوں جائز ہیں۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت کو ہی جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

اصل قیامت کو جھٹلا دیا ہے : 11: بَلْ کَذَّبُوْا بِالسَّاعَۃِ (بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا) ان سے جو کچھ بیان کیا گیا یہ اس پر عطف ہے فرماتے ہیں بلکہ انہوں نے ان سب سے عجیب تر بات کہی ہے اور وہ قیامت کو جھٹلانے والی بات ہے۔ نمبر 2۔ یہ قریب سے متصل و منسلک ہو۔ گویا انہوں نے اس طرح کہا بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا اس لئے وہ اس جواب کی طرف کیسے توجہ دے سکتے ہیں ؟ اور کس طرح وہ ان چیزوں کا جلد ملنا مان سکتے ہیں جن جیسی چیزوں کا وعدہ آخرت میں آپ سے کیا گیا جبکہ ان کو آخرت پر ایمان ہی نہیں۔ وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّا عَۃِ سَعِیْرًا (اور ہم نے اس شخص کیلئے جس نے قیامت کو جھٹلایا بڑھکتی آگ کا وعدہ کررکھا ہے) ہم نے قیامت کے منکروں کیلئے دہکتی آگ تیار کررکھی ہے۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اسکے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

مناظر قیامت : 12: اِذَا رَاَتْھُمْ (جب وہ آگ ان کو دیکھے گی) یعنی ان کے سامنے ہوگی : مِّنْ مَّکَ انٍ بَعِیْدٍ (دور مقام سے) یعنی جب آگ ان سے اتنی دور رہ جائے گی جتنی دیکھنے والوں کو آنکھوں سے نظر آسکتی ہے۔ سَمِعُوْا لَھَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًا (تو وہ اس آگ کے غضبناک ہونے کی آواز اور غرغراہٹ سنیں گے) وہ اس کے جوش مارنے کو سنیں گے اور اس کو غضبناک اور غرانے والے کی آواز سے تشبیہ دی گئی ہے۔ نمبر 2۔ جب آگ کے نگران ان کو دیکھیں گے غضبناک ہونگے اور کفار پر غصہ سے غرائیں گے۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

13: وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْہَا (اور جب ان کو ڈالا جائے گا) آگ میں مَکَانًا ضَیِّقًا (تنگ مقام میں) قراءت : مکی نے ضیقًا پڑھا ہے۔ الضیق : دکھ، تنگی سمیت جیسا کہ الروح آرام بمعہ وسعت کو کہتے ہیں۔ نکتہ : اسی وجہ سے جنت کی تعریف اس طرح فرمائی کہ اس کی وسعت آسمان و زمین کے برابر ہے۔ قول ابن عباس ؓ : ان پر اس طرح تنگی ہوگی جیسے پوری نیزے میں مُّقَرَّ نِیْنَ (گردن سے ہاتھ باندھ کر) وہ اس تنگی کے ساتھ ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہونگے۔ اور ان کے ہاتھوں کو زنجیروں کے ذریعہ ان کی گردنوں سے باندھ دیا جائے گا۔ نمبر 2۔ ہر کافر کے ساتھ اس کے شیطان کو ملا کر باندھ دیا جائے گا۔ اور ان کی ٹانگوں میں بیڑیاں ہونگی۔ دَعَوْا ھُنَالِکَ (اس وقت ہلاکت کو پکاریں گے) ثُبُوْرًا ہلاکت یعنی اس طرح کہیں گے ہائے ! ہلاکت اے ہلاکت آجا یہ تیرے آنے کی گھڑی ہے۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

4 1: لَاتَدْعُوْا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُورًا کَثِیْرًا (تم ایک ہلاکت کو مت پکارو بلکہ یہ تو مجموعہ ہلاکت ہے۔ )
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے ؟ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

15: قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ (کہہ دیں کہ کیا یہ بہت بہتر ہے) یعنی آگ کی صفت جو مذکور ہوئی یہ بہتر ہے۔ اَمْ جَنَّۃُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّقُوْنَ (یا ہمیشہ کی وہ جنت جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا۔ ) نحو : یہاں موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے ای وعدھا۔ اندازِ توبیخ : أذلک خیرکہا گیا حالانکہ آگ میں خیریت کا ہے کی۔ درحقیقت یہ کفار کو توبیخ ہے۔ کَانَتْ لَہُمْ جَزَآئً (یہ ان کے لئے جزاء) ثواب وَّ مَصِیْرًا اور لوٹنے کی جگہ ہوگی۔ نکتہ : یہاں کانتؔ کہا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے اسی طرح ہیں گویا ہوچکے اس لئے کان ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا نمبر 2۔ ان کی پیدائش سے پہلے یہ لوح محفوظ میں لکھا گیا تھا۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

16: لَھُمْ فِیْھَا مَایَشَآ ئُ وْنَ (جو کچھ وہ چاہیں گے ان کو وہ ملے گا) یعنی ما یشاء وونہ مراد ہے جس چیز کی ان کو خواہش ہوگی خٰلِدِیْنَ (وہ ہمیشہ رہنے والے ہونگے) ۔ نحو : یہ یشاؤون کی ضمیر سے حال ہے۔ اور کَانَ ضمیر میں مایشاؤون کی طرف لوٹ رہی ہے۔ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا (اور یہ ایک وعدہ ہے جو اے پیغمبر آپ کے رب کے ذمہ ہے اور قابل درخواست ہے) وعداًؔ یہ موعود کے معنی میں اور مسئولاًؔ کا معنی مطلوب نمبر 2۔ یا اس بات کا اہل و مستحق ہے کہ اسکی درخواست کی جائے۔ نمبر 3۔ یا اس وعدے کا سوال مسلمانوں اور ملائکہ نے اپنی دعائوں میں کیا ہے۔ جیسا اس آیت میں : ربنا و آتنا ماوعدتنا علی رسلک ] آل عمران : 194[ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ ] البقرہ : 201[ ربنا وادخلہم جَنّات عدن التی وعدتھم ] غافر : 8[
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن (خدا) ان کو اور ان کو جن ہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے ؟

17: وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ (اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا) دوبارہ حشر کیلئے۔ قراءت : یاء کے ساتھ مکی، یزید، یعقوب، حفص نے پڑھا۔ نَحْشُرُھُمْ یہ قراءت جمہور قراء کی ہے ابن عامر، حمزہ، کسائی، نافع، عاصم، طلحہ، الحسن، شعبہ، خلف وغیرہم۔ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور ان کو جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے) اس سے وہ معبود مراد ہیں جو کہ ملائکہ، مسیح، عزیر کی قسم سے ہونگے۔ بقول کلبی، بت مراد ہیں ان کو اللہ تعالیٰ قوت گویائی دیں گے۔ ایک اور قول : یہ عام ہے ماؔ عقلاء اور غیر عقلاء تمام کو شامل ہے کیونکہ اس سے وصف مراد ہے گویا اس طرح فرمایا : وَمَا یَعْبُدُوْنَ اے معبودیہم ان کے معبود۔ فَیَقُوْلُ (پس اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) یہ سوال تذلیل کیلئے ہوگا : قراءت : شامی نے نقول پڑھا ہے : ئَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤُلَآئِ (کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا) نحو : ھولاء یہؔ عبادی سے بدل ہے مراد اس سے مشرکین ہیں۔ اَمْ ھُمْ ضَلُّوْ السَّبِیْلَ (یا وہ خود راستہ بھول گئے) ۔ نحو : قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا ضل عن السبیل مگر یہاں جارکو اسی طرح چھوڑ دیا گیا۔ جس طرح اس محاورہ میں، ھداہ الطریق حالانکہ اس کی اصل ھداہ الی الطریق ہے یا ھداہ للطریق۔ ضلؔ یہ اضل ؔ کا مطاوع بن کر آتا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ تم نے ان کو گمراہی میں ڈالا۔ حق راستہ سے شبہات ڈال کر دور کردیا۔ یا وہ خود گمراہ ہوگئے۔ یہاں أضللتم عبادی ھولائِ ام ضلوا السبیل نہیں فرمایا بلکہ اس کی بجائے انتمؔ اور ھمؔ دو ضمائر کا اضافہ فرمایا کیونکہ اصل سوال فعل اور وجود فعل کا نہیں کیونکہ فعل نہ ہوا ہوتا تو عتاب ہی متوجہ نہ ہوتا بلاشبہ یہ سوال تو اس سے ہورہا ہے۔ جو اس سے منہ موڑ رہا ہے پس ضروری ہوگیا کہ اس کا تذکرہ ہو اور ساتھ ہی حرف استفہام لائے تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اسی سے دریافت کیا جارہا ہے رہا یہ کہ اس سوال کا کیا فائدہ ہے جبکہ مسؤول عنہ کو بخوبی اللہ تعالیٰ جانتے ہیں تاکہ وہی جواب دیں جو جواب انہوں نے دیا اس سے ان کی پوجا کرنے والوں کی تذلیل ہو اور ان کی حسرت میں اضافہ ہو۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کی نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے

18: قَالُوْا سُبْحٰنَکَ (وہ کہیں گے تو پاک ہے) ان کی طرف سے اس بات پر اظہار تعجب ہے کہ جو کچھ ان کے متعلق کہا گیا۔ نمبر 2۔ اس سے مقصود ان کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے منزہ اور پاک قرار دیں اور اس سے کہ کوئی پیغمبر یافرشتہ اور کوئی مخلوق اس کی شریک بنے۔ پھر وہ کہنے لگے : مَاکَانَ یَنْچبَغِیْ لَنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَآ ئَ (ہمارے لئے مناسب نہ تھا کہ ہم تیرے سواء دوسروں کا کارساز بنائیں) یعنی ہمارے لئے درست نہ تھا اور نہ ٹھیک بیٹھنا تھا کہ ہم تیرے سوا اور کو کارساز بنائیں پھر یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ ہم دوسروں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ ہمیں تیرے سوا کا رساز ماننے لگ جائیں ؟ نُتَّخَذَ یزید نے پڑھا۔ اتخذ ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ مثلاً اتخذ ولیّا اور دونوں مفعول کی طرف جیسے اتخذ فلانا ولیًا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام اتخذوا الھۃ من الارض ] الانبیائ : 21[ دوسرے مقام پر فرمایا : اتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً ] النسائ : 125[ پس پہلی قراءت میں یہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے اور وہ من اولیاء ہے اصل یہ ہے : ان نتخذ اولیاء منکا اضافہ نفی کے معنی کی تاکید کیلئے ہے۔ اور قراءت ِ ثانیہ متعدی الی المفعولین کے لئے ہے۔ پہلا مفعول تو وہی ہے۔ جس کے لئے فعل بنایا گیا۔ اور مفعول ثانی من اولیاء ہے اور منؔ تبعیضیہ ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے ای لا نتخذ بعض اولیاء کیونکہ منؔ مفعول ثانی میں نہیں آسکتا بلکہ اول میں آتا ہے جیسا کہ تم کہو گے ما اتخذت من احد ولیًّا مگر اس طرح نہیں کہہ سکتے ما اتخذت احداً من ولیٍّ ۔ وَلٰکِنْ مَّتَّعْتَھُمْ وَاٰبَآ ئَ ھُمْ (لیکن تو نے ان کو اور ان کے بڑوں کو خوشحالی دی) اموال و اولاد اور طوالت عمر اور عذاب سے حفاظت کے ذریعہ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ (یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھلا بیٹھے) یعنی ! اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس پر ایمان اور قرآن و شرائع۔ وَکَا نُوْا اور وہ تھے) اللہ تعالیٰ کے ہاں۔ قَوْمًا بُوْرًا (وہ لوگ خود ہی برباد ہوئے) یہ جمع بائر کی ہے۔ جیسا کہ عائد کی جمع عُوْدٌ ہے۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات سے جھٹلا دیا پس (اب) تم (عذاب) نہ پھیر سکتے ہو (کسی سے) مدد لے سکتے ہو اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم کو اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

غیبت سے تخاطب : 19: پھر کفار سے مخاطب کر کے اور غیبت سے اعراض کرتے ہوئے کہا جائے گا : فَقَدْ کَذَّبُوْکُمْ (انہوں نے تمہاری بات کو جھٹلادیا) یہ مفاجاتی انداز کلام احتجاج والزام کیلئے بہت مناسب ہے اور خاصکر جبکہ التفات کو اس کے ساتھ ملا دیا اور قول کو حذف کردیا اس کی نظیر اس آیت میں موجود ہے : یا اھل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل الی قولہ ٖ فقد جاء کم بشیر و نذیر ] المائدہ : 19[ اور شاعر کا یہ قول ؎ قالو اخرسان اقصیٰ ما یراد بنا ٭ ثم القفول فقد جئنا خراسانا ” انہوں نے کہا ہمارا انتہائی مقصود تو خراسان ہے وہ دور ہے پھر واپس لوٹنا ہے۔ لیجئے، خراسان تو آگیا “۔ بِمَا تَقُوْلُوْنَ (جو کچھ تم کہتے تھے) تمہاری بات جو ان کے متعلق تم کرتے تھے کہ وہ معبود ہیں۔ اس صورت میں باء اسی طرح ہے جیسا اس ارشاد میں : بل کذبوا بالحق ] ق : 5[ اور جار، مجرور، ضمیر کا بدل ہیں گویا کہ اس طرح فرمایا گیا ہے : فقد کذبوا بما تقولون یعنی تمہاری یہ بات جو تم کہتے تھے کہ یہ ہمارے معبود ہیں یا ہمیں گمراہ کرنے والے ہیں۔ خود انہوں نے تکذیب کردی۔ قراءت : قنبل نے یاء سے پڑھا اور اس کا معنی انہوں نے تمہاری تکذیب خود اپنے قول سے کردی جو کہ : سبحانک ماکان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیاء ] الفرقان : 18۔ اور باءؔ اس صورت میں استعانت کیلئے جیسے کتبت بالقلم میں ہو۔ فَمَا تَسْتَطِیعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا (تم نہ عذاب لوٹانے کی طاقت رکھتے ہو نہ مدد کی) تمہارے معبود طاقت نہیں رکھتے کہ وہ تم سے عذاب کو پھیر دیں اور ہٹا دیں۔ نمبر 2۔ تمہاری مدد کریں۔ قراءت : حفص نے تاءؔ سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے اے کفار تم اپنے سے عذاب کو پھیرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہی تم اپنی مدد کرسکتے ہو۔ پھر علی العموم مکلفین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّنْکُمْ (جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا) یظلم، یشرک کے معنی میں ہے۔ کیونکہ ظلمؔ وضع الشئی فی غیر موضعہٖ کو کہتے ہیں اور جس نے مخلوق کو اس کے خالق کا شریک بناڈالا تو اس نے یقینا ظلم کیا۔ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : ان الشرک لظلم عظیم ] لقمان : 13[ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیْرًا (ہم اس کو بڑا عذاب چکھائیں گے) اس کی تفسیر خلود فی النار سے کی گئی جو مشرک کے لائق ہے فاسق کے نہیں البتہ معتزلہ اور خوراج فاسق کے خلود فی النار کے قائل ہیں۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

رسالت پر اعتراض کا جواب : 20: وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا اِنَّہُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ (اور ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر نہیں بھیجے مگر ایسے ہی کہ جو کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے) : ان ؔ اخیر میں لام کی وجہ سے اِنَّ مکسور ہے اور الَّاؔ کے بعد والا جملہ موصوف محذوف کی صفت ہے مطلب یہ ہے وما ارسلنا قبلک احدًا من المرسلین آکلین و ماشین اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کسی کو رسولوں میں سے مگر کہ وہ کھانا کھانے والے پیدل چلنے والے تھے۔ اس کو حذف جار مجرور پر اکتفاء کی وجہ سے کیا ہے ؟ یعنی من المرسلینؔ اس کی مثال دوسرے مقام پر اس طرح ہے : ومامنا الا لہ مقام معلوم ] الصافات : 164[ یعنی وما منا احدٌ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر کہ اس کا ایک مقام معلوم ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان لوگوں کے خلاف احتجاج ہے کہ جو کہتے ہیں : ماھذا الرسول یا کل الطعام و یمشی فی الاسواق اور اس میں پیغمبر ﷺ کیلئے تسلی کا پہلو بھی ہے۔ دلاسہ رسول : وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً (اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کیلئے آزمائش بنایا) ابتلاء، آزمائش بنایا ہے۔ اس میں حضور ﷺ کو دلاسہ دیا اس لئے کہ کفار آپ کو فقر کا طعنہ دیتے اور بازار میں چلنے کی طعنہ زنی کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مالداروں کو فقراء کیلئے آزمائش بنایا ہے جس کو وہ چاہتا ہے غنی بناتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے فقر دیتا ہے۔ اَتَصْبِرُوْنَ (کیا تم صبر کرو گے) اس آزمائش پر تاکہ اجر پائو۔ یا پھر صبر نہ کروگے تو غم میں اضافہ ہوگا۔ حکایت : بعض صالحین اپنے تنگی گزران سے پریشان ہو کر اکتائے اور باہر نکلے۔ انہوں نے ایک غلام کو سواریوں اور پالکیوں میں دیکھا تو ان کے دل میں ایک خیال گزرا۔ اسی وقت انہوں نے کسی کو یہ آیت پڑھتے سنا تو کہنے لگے بلی نصبر ربنا۔ اے رب ہم ضرور صبر کریں گے۔ نمبر 2۔ ہم نے آپ کو ان کیلئے آزمائش بنایا ہے کیونکہ اگر آپ مالدار، باغات والے، خزانوں کے مالک ہوتے تو لوگ آپ کی اطاعت دنیا کی خاطر کرتے یا کم از کم دنیا سے ملاوٹ شدہ کرتے۔ ہم نے آپ کو تنگدست بھیجا تاکہ آپ کی اطاعت خالص ہماری رضا مندیوں کیلئے ہو۔ وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا (اور آپ کا رب سب کو خوب دیکھتا ہے) اس چیز کا صواب وہی جانتا ہے جس میں کسی کا ابتلاء ہے۔ نمبر 2۔ اس کا صواب جانتے ہیں جو صبر کرنے والا اور گھبراہٹ کا اظہار کرنے والا ہے۔ ترجمہ محل نظر ہے۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کیے گئے یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں

ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے : 21: وَقَالَ الَّذِیْنَ لَایَرْجُوْنَ لِقَآ ئَ ناَ (اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے) لا یرجون کا معنی امید نہ رکھنا۔ لقاء نا ؔ ہماری ملاقات خیر کے ساتھ کیونکہ وہ کافر ہیں بعث پر ان کا ایمان نہیں ہے۔ نمبر 2۔ وہ ہمارے عذاب سے نہیں ڈرتے خواہ اس وجہ سے کہ جو شخص امیدوار ہو وہ اپنی امید کے متعلق خوف زدہ کی طرح مضطرب ہوتا ہے۔ نمبر 3۔ رجاء اہل تہامہ کی لغت میں خوف کے معنی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ لَوْلا یہ ھَلَّا کے معنی میں ہے۔ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓپکَۃُ (کیوں نہیں اتارے جاتے ہم پر فرشتے) بطور رسول انسانوں کی بجائے نمبر 2۔ نبوت کی صداقت پر گواہ اور دعوی رسالت پر شاہد بنا کر اَوْنَرٰی رَبَّنَا (یا کیوں نہیں ہم دیکھتے اپنے رب کو) سامنے تاکہ وہ ہمیں خود ان کی رسالت کی اطلاع دے اور اس کی اتباع کا حکم دے لَقَدِاسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ (یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں) حق کے متعلق ان کے ضمائر میں تکبر بھرا ہوا ہے اور وہ کفر وعناد ہے جو ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔ وَعَتَوْا (وہ حد سے آگے نکل گئے) ظلم میں وہ حد سے تجاوز کر گزرے۔ عُتُوًّا کَبِیْرًا (بہت بڑا آگے نکلنا) العتو کی صفت کبیرؔ کے لفظ سے فرما کر افراط میں ان کے مبالغہ کو ثابت کیا مطلب یہ ہے انہوں نے صرف اس بڑی بات پر جسارت ہی نہیں کی بلکہ وہ تو تکبر کی انتہاء اور سرکشی کی آخری حد کو پھاند چکے۔ لام قسم محذوف کے جواب میں آئی ہے۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لیے (اور) بند کردیے جاؤ

جب فرشتے سامنے آئیں گے تو وہ ان کے غم کا دن ہوگا : 22: یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓپکَۃَ (جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے) یعنی موت کے دن یا بعث کے دن۔ نحو : یوم اس فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس پر لَابُشْریٰ دلالت کرتا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے یوم یرون الملائکۃ یمنعون البشرٰی۔ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ بشارت سے روک دیئے جائیں گے۔ لاَ بُشْرٰی یَوْمَپذٍ (اس دن کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی۔ ) نحو : یہ یوم یرون کی تاکید ہے نمبر 2۔ اذکر مضمر ہے ای اذکر یوم یرون الملائکۃ پھر خبر دی لابشرٰی بالجنہ یومئذ (اس دن ان کو جنت کی خوشخبری نہ ہوگی) یہ یرون کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ مضاف الیہ مضاف میں عمل نہیں کرتا اور نہ یہ بشریٰ کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ وہ مصدر ہے۔ اور مصدر اپنے ماقبل پر عامل نہیں ہوتا اور دوسری وجہ یہ بھی ہے لاؔ سے جس کی نفی آتی ہے وہ لاؔ کے ماقبل میں عمل نہیں کرتا۔ لِلْمُجْرِمِیْنَ (مجرمین کیلئے) ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو لائے نمبر 2۔ یہ عام ہے اپنے عموم کو شامل ہے۔ اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو گناہوں کو کمانے والے ہیں مراد اس سے کافر ہیں کیونکہ مطلق اسماء سے مکمل افراد مراد ہوتے ہیں۔ ویَقُوْلُوْنَ (اور وہ کہتے ہیں) یعنی ملائکہ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا (پناہ ہے پناہ ہے) تم پر خوشخبری مکمل حرام ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے حق میں حرام کردیا بلاشبہ بشارت ایمان والوں کیلئے ہوگی۔ نحو : الحِجر یہ مصدر ہے اس میں کسرہ و فتحہ دونوں لغات ہیں۔ یہ حجرہٗ سے لیا گیا ہے جس کا معنی منع کرنا ہے۔ یہ ان مصادر میں سے ہے جو ایسے افعال کی وجہ سے منصوب ہیں جن افعال کا اظہار متروک ہے۔ محجوراًؔ یہ حجر کے معنی کی تاکید کیلئے مصدر منصوب لایا گیا ہے۔ جیسا کہتے ہیں موتٌ مائتٌ۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو انکو اڑتی خاک کردیں گے

بادشاہ کی مخالفت کی تمثیل : 23: وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَآ ئً مَنْشُوْرًا (اور ہم ان کے ان اعمال کی طرف جو وہ پہلے کرچکے تھے۔ متوجہ ہونگے پس ان کو بکھرا ہوا غبار بنادیں گے) یہ آیت ھباءؔ کی صفت ہے۔ یہاں قدوم کا کوئی مطلب نہیں لیکن ان لوگوں کے احوال اور اعمال کو جو وہ کفر کی حالت میں بھی انجام دیتے رہے مثلاً صلہ رحمی، مظلوم کی اعانت، میزبانی وغیرہ کو اس آدمی کی حالت کے ساتھ بطور تمثیل و تشبیہ بیان کیا جس نے اپنے بادشاہ کی مخالفت کی اور اس کا نافرمان ہوگیا۔ پس بادشاہ نے اس کے حمایتوں اور اس کے ہاتھوں میں جتنا کچھ تھا سب کا قصد کر کے سب کچھ کو تہس نہس کردیا اور ان میں سے کسی چیز کا نشان تک باقی نہ چھوڑا ہو۔ الھباءؔ۔ سورج کی روشنی کے ساتھ روشندان میں اڑتے ذرات جو نظر آتے ہیں بکھرے غبار سے تشبیہ یہ استعارہ ہے کہ ان کے اعمال اس طرح ہوگئے کہ نہ وہ اجتماع کو قبول کرتے ہیں اور نہ انتفاع کو اگلی آیت میں اہل جنت کو اہل نار پر حاصل ہونے والی فضیلت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا

24: اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَپذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا (جنتی اس دن قرار گاہ کے اعتبار سے بہت بہتر ہونگے) مستقراً یہ تمیز ہے المستقر سے مراد وہ مکان ہے جس میں وہ اکثر اوقات بیٹھیں اور باتیں کریں گے۔ وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا (ٹھکانہ کے اعتبار سے بہت اچھے ہونگے) ۔ مقیلاًؔ سے وہ ٹھکانہ جس کی طرف آرام لینے اور بیویوں سے تمتع کرنے کیلئے رجوع کرتا ہو۔ جنت میں نیند نہیں ہے۔ لیکن حوروں کے ساتھ آرام کے مقام کو بطور تشبیہ مقیل فرمایا روایات میں ہے کہ حساب سے آدھے دن میں فراغت پالیں گے اور اہل جنت جنت میں جاکر قیلولہ کریں گے اور اہل نار نار میں۔ احسنؔ کا لفظ لاکر تہکم مقصود ہے۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

قیامت کا ایک منظر : ( علیہ السلام) 25: وَیَوم اس سے پہلے اذکر فعل محذوف ہی تَشَقَّقُ السمائُ (جس دن آسمان پھٹ جائے گا) تشقق اصل میں تتشقق ہے ایک تاء کو حذف کردیا۔ کوفی اور ابو عمرو اور دیگر قراء نے اس کو شین میں ادغام کیا ہے۔ بِالْغَمَامِ (بادلوں کے ساتھ) جب آسمان کا پھٹنا بادلوں کے ظاہر ہونے کے ساتھ ہوگا تو بادلوں کو اس طرح قرار دیا گیا گویا کہ اس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ جب تم کہو شق السنام بالشفرۃ وانشق بھا۔ اس نے کوہان کو تلوار سے چیر دیا وہ تلوار سے پھٹ گئی۔ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓپکَۃُ تَنْزِیْلًا (اور فرشتے اتارے جائیں گے اتارنا) ۔ قراءت : ننزل مکی نے پڑھا ہے۔ اس صورت میں تنزیلاً مصدر غیر لفظ فعل مانا جائے گا۔ مطلب یہ ہوگا کہ آسمان سے سفید بادل ظاہر ہوگا۔ جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ اور بادلوں میں سے فرشتے اتریں گے جن کے ہاتھوں میں انسانوں کے صحائف اعمال ہونگے۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

26: اَلْمُلْکُ یَوْمَپذِ اڑلْحَقُّ (بادشاہی اس دن رحمان ہی کی ہوگی) المُلک مبتدأ اور یومپذ اس کا ظرف اور الحق اس کی صفت ہے۔ الحق ثابت کو کہتے ہیں۔ کیونکہ تمام عارضی بادشاہتیں اس دن باقی نہ رہیں گی۔ فقط اس کی بادشاہی ہوگی۔ لِلرَّحْمٰنِ (رحمان کی) یہ اس کی خبر ہے وَکَانَ (ہوگا) وہ دن یَوْمًا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا (کافروں پر دشوار) عسیر کا معنی شدید ہے جیسے کہتے ہیں عَسُر علیہ فھو عسیر وعَسِر (اس پر دشوار ہوا) اسی سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ مؤمنوں کیلئے آسان ہوگا۔ حدیث میں فرمایا قیامت کا دن مومن کیلئے فرضی نماز سے بھی زیادہ خفیف اور ہلکا ہوگا۔ (رواہ، احمد و ابو یعلیٰ )
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

کفار کی حسرت و غیظ : 27: وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّا لِمُ عَلٰی یَدَیْہِ (اور جس روز ظالم اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹے گا) عض الیدین یہ حسرت و غیظ سے کنایہ ہے کیونکہ ہاتھ کا ٹنا اس کا ردیف ہے پس بعد میں آنے والے کا ذکر کر کے اصل پر دلالت کردی۔ اس سے کلام کا مرتبہ فصاحت بھی انتہائی بلندہوگیا اس کو سن کر سامع پر ایسا رعب طاری ہوتا ہے جو اصل کو سن کر نہیں ہوتا۔ الظالمؔ نمبر 1۔ میں الف لام عہد خارجی کا ہے اس سے ظاہر مراد عقبہ بن ابی معیط ہے۔ نمبر 2۔ الف لام جنس کا ہے اس صورت میں عقبہ اور اس جیسے دیگر کفار کو بھی شامل ہوگا۔ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ (کہے گا کاش میں پکڑ لیتا) دنیا میں مَعَ الرَّسُوْلِ (رسول کے ساتھ) حضرت محمد ﷺ الرسول سے مراد ہیں۔ سَبِیْلًا (راستہ) نجات کی راہ اور جنت کی راہ اور وہ ایمان ہے۔
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

28: یٰوَیْلَتٰی (ہائے افسوس ) ۔ ظالم کا افسوس : قراءت : یہ یاویلتی یاء کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اور وہ اصل ہے کیونکہ آدمی اپنی ہلاکت کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے اے میری ہلاکت آجا یہ تیرا زمانہ ہے البتہ یاءؔ کو الف سے اسی طرح بدلا جیسا صحاریٰ اور مداریٰ میں۔ لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا (کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا) فلانؔ کا لفظ علم سے کنایہ ہے اگر ظالم ؔ سے عقبہ بن ابی معیط مراد ہو جیسا کہ روایت میں آیا ہے کہ اس نے ایک دن ضیافت کا انتظام کیا اور رسول ﷺ کو بھی اس میں دعوت دی آپ نے اس کا کھانا کھانے سے انکار کردیا۔ اور فرمایا جب تک شہادتین کا اقرار نہ کرے گا میں تیرا کھانا نہ کھائوں گا اس نے اسی طرح کردیا اس کے دوست ابی بن خلف نے کہا میں تیرا چہرہ نہ دیکھوں گا۔ اور تو میرا چہرہ نہ دیکھ پائیگا۔ صرف ایک صورت ہے کہ کفر کی طرف لوٹ آ اور اسلام سے ارتداد اختیار کرلے۔ اب مطلب یہ ہوا کہ وہ قیامت کو کہے گا کاش میں ابی بن خلف کو دوست نہ بناتا اس کے نام سے فلاں کہہ کر کنایہ کیا گیا اگرچہ مراد جنس ہے ہر وہ آدمی جو گمراہوں میں سے کسی کو دوست بنائے تو وہ اپنے خلیل کیلئے بہر صورت اسم علم ہوگا۔ پس اس سے کنایہ بن جائے گا۔ ایک قول : یہ شیطان سے کنایہ ہے۔
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

شیطان کی گمراہی : 29: لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ (اس نے مجھے اللہ تعالیٰ کی یاد سے گمراہ کیا) الذکر سے ذکر اللہ مراد ہے۔ نمبر 2۔ قرآن مراد ہے۔ نمبر 3۔ ایمان مراد ہے۔ بَعْدَ اِذْ جَآ ئَ نِیْ (اس کے بعد کہ وہ میرے ہاں آچکا) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وَکَانَ الشَّیْطٰنُ (اور شیطان ہے) اس کا خلیل۔ اس کو شیطان اس لئے کہا کیونکہ اس نے اس کو اسی طرح گمراہ کیا جیسا شیطان گمراہ کرتا ہے۔ نمبر 2۔ ابلیس لعین مراد ہے کیونکہ اسی نے گمراہ کی دوستی پر اسے برانگیختہ کیا اور رسول (علیہ السلام) کی مخالفت پر ابھارا۔ لِلْاِنْسَانِ (انسان کیلئے) جو اس کا مطیع بن جاتا ہے۔ خَذُوْلًا (یہ رسوا کرنے والا) یہ خذلان سے مبالغہ ہے۔ اس کی عادت یہ ہے کہ جو اس سے دوستی اختیار کرتا بالآخر گمراہ کر کے اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ نمبر 1۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی حکایت ہے۔ نمبر 2۔ ظالم کے کلام کی حکایت ہے۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

شکایت رسول : 30: وَقَالَ الرَّسُوْلُ (اور کہیں گے رسول ) ﷺ یعنی محمد ﷺ دنیا میں یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی (اے میرے رب میری قوم) قریش نے اتَّخَذُوْا ھٰذَاالْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا (اس قرآن کو متروک کر رکھا تھا) مہجور کا معنی متروک ہے اس کو چھوڑ دیا اور اس پر ایمان نہ لائے یہ ہجران سے لیا گیا ہے یہ اتخذوا کا دوسرا مفعول ہے اس میں شکایت کو بہت بڑا کر کے ظاہر کیا گیا اور قریش کو ڈرایا گیا کیونکہ انبیاء ( علیہ السلام) جب اقوام کا بارگاہ میں شکوہ کرتے ہیں تو ان کی مہلت تمام ہو کر عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

31: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنْ الْمُجْرِمِیْنَ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا (اسی طرح ہم نے مشرکوں میں ہر پیغمبر کے دشمن بنا دیئے تھے۔ اور آپ کا رب آپ کو راستہ بتانے والا اور آپ کی مدد کرنے والا کافی ہے) یعنی اس طرح ہر پیغمبر کو اپنی قوم کو عدوات سے سابقہ پڑا اور آپ کے لئے آپ کا رب کافی ہے جو مغلوبیت کے راستہ کی طرف ان کو لے جارہا ہے اور ان سے بدلہ لے گا اور آپ کی ان کے خلاف مدد فرمائے گا۔ نحو : عدو کا لفظ واحدو جمع دونوں ہوسکتا ہے۔ باءؔ زائدہ ہے اے کفی ربک ھا دیا۔ ھادیًا یہ تمیز ہے۔ ھَادِیًا وَّ نَصِیْرًا۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس طرح آہستہ آہستہ اس لئے اتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اسکو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں

قرآن اکٹھا کیوں نہ اترا : 32: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اور کافروں نے کہا) کافر سے یہاں قریش مکہ یا نمبر 2۔ یہود مراد ہیں۔ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً (کیوں اس پر قرآن مجید اکٹھا ایک مرتبہ نہیں اتا را گیا) جملۃ واحدۃ بمعنی اکٹھا اور یہ حال ہے مطلب یہ ہے اس پر قرآن ایک مرتبہ ایک ہی وقت میں کیوں نہیں اتارا گیا جیسا کہ تورات، انجیل و زبور اتاری گئی اس کو متفرق کیوں اتارا جارہا ہے۔ یہ فضول سوال ہے اور بےجا شک ہے کیونکہ اعجاز قرآنی اور دلائل قرآنی ایک مرتبہ اتارے جانے یا تھوڑا تھوڑا اتارے جانے سے اعجاز نمائی اور حجیت میں چنداں مختلف نہیں ہیں۔ نزلؔ یہاں انزل کے معنی میں ہے ورنہ یہ جملہ واحدہ کے خلاف پڑے گا۔ کفار کا یہ اعتراض بالکل بےحقیقت تھا کیونکہ ان کو ایک سورت لانے کا چیلنج دیا گیا تھا خواہ وہ قرآن کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورت ہو انہوں نے اس سے اپنے عجز کا اظہار کیا اور مخالفت اور لڑائی پر اتر آئے اور جوش کو صرف کیا حجت و دلیل کی طرف نہیں آئے۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس میں ان کو جواب دیا گیا یعنی قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا کر کے بیس سال میں اتارا۔ یا تیئس سال اور کذلک میں لولا انزل علیہ القرآن جملۃ کے مدلول کی طرف اشارہ کیا گیا کیونکہ اس کا معنی یہ ہے تم پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں اتارا گیا ؟ تو جواب دیا اسی طرح پس اس کے فوائد کو تم بھی جان لو نمبر 1۔ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ (تاکہ اس سے تیرے دل کو مضبوط کردیں۔ اس کے متفرق اتارنے سے آپ کے دل کو مضبوط کردیں۔ نمبر 1۔ یہاں تک کہ تو اس کو یاد کرے اور محفوط کرے کیونکہ جس کو تلقین کی جائے اس کا دل علم کی کسی چیز کو یاد کرنے کیلئے آہستہ آہستہ قوی و مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک جزو کے بعد دوسرا جزو اپنانے کیلئے۔ اگر ایک مرتبہ ہی اس پر ڈالا جاتا ہے تو وہ اس کے یاد کرلینے سے عاجز آجاتا ہے۔ نمبر 2۔ آپ کے دل کو اکتاہٹ سے بچانے کیلئے متواتر قرآن کو پہنچایا اور جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا کیونکہ محب کا دل محبوب کے خطوط وپیغامات مسلسل آنے سے پُر سکون ہوتا ہے۔ وَ رَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا (اور ہم نے اس کو پڑھا الگ الگ) اس کا عطف اس فعل پر ہے جس کے متعلق کذلکؔ ہے گویا اس طرح فرمایا کذلک فرقناہ ورتلناہ یعنی ہم نے ایک آیت کے بعد دوسری آیت سے اندازہ کیا۔ وقفہ کے بعد وقفہ سے۔ نمبر 2۔ ہم نے اس کی قراءت میں ترتیل کا حکم دیا اور اس معنی کو دوسری آیت میں اس طرح بیان فرمایا ورتل القرآن ترتیلا۔ ] المزمل : 4[ (یعنی اس کو ترتیل سے پڑھ اور ٹھہرٹھہر کر) نمبر 3۔ ہم نے اس کو خوب کھول کر بیان کیا اور الترتیل الگ الگ، صاف صاف ٹھہر کر پڑھنا۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اسکا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

33: وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ (وہ نہیں لاتے آپ کے پاس کوئی عجیب سوال) مثل سے یہاں عجیب سوال مراد جو وہ باطل سوالات کرتے رہتے تھے۔ گویا باطل ہونے میں ایک مثال ہے۔ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ (مگر ہم آپ کو اس کا صحیح جواب عطاء کردیتے ہیں) مگر ہم آپ کے پاس صحیح تردید جس سے بھاگنے کا راستہ نہ ہو لے آتے ہیں۔ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا (اور بہترین تشریح کے ساتھ) اور اس چیز کے ساتھ جو معنی میں زیادہ خوب ہو اور اس کے سوال کا جواب بھی ہو۔ یہاں مثلہمؔ کا لفظ حذف کردیا گیا کیونکہ خودکلام میں اس حذف کی دلیل ہے جیسا کہ تم کہو : رأیت زیدًا وعمروا وکان عمرو احسن وجھًا اس میں دلیل ہے کہ تمہارا مقصود احسن و جھًا من زید ہے۔ جب تفسیر خود کلام کی دلالت کو کھولنے والی ہے تو اس کو اس کے معنی کی جگہ رکھ دیا گیا۔ چناچہ کہتے ہیں تفسیر ہذا الکلام کیت و کیت۔ جیسا کہا گیا ہے اس کا معنی کذا وکذا اولا یا تونک بحال وصفۃ عجیبۃ کیا وہ نہیں لاتے کسی حالت میں کوئی عجیب بات یہ کہتے ہوئے کیونکر قرآن اس پر اکٹھا نہیں اتارا گیا مگر ہم آپ کو ایسے حالات لاتے ہیں جن احوال کے آپ ہماری حکمت کے مطابق مستحق ہیں اور وہ حالات زیادہ واضح کرنے والے ہیں اس چیز کو جو آپ دیکر بھیجے گئے ہیں اور نبوت کی درستگی پر دلالت کرنے والے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن کا تھوڑا اترنا اور ان کو یہ چیلنج دینا کہ بعض حصہ قرآن کا مقابلہ میں قرآن بنا کر لائیں مگر ایسا کرنے سے وہ عاجز ہیں تو پورے قرآن کے مقابلہ سے خود عاجز ہوگئے کیونکہ قرآن سارا معجزہ ہے۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ راستے بھی بہکے ہوئے ہیں

34: اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اِلٰی جَھَنَّمَ اُولٰٓپکَ شَرٌّ (وہ لوگ جن کو منہ کے بل جہنم کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا وہ بدتر ہوں گے) نحو : الذین مبتدأ اور اولپک مبتدأ ثانی اور شرٌ خبر ہے اور اولئک بمع شرٌ الذین کی خبر ہے۔ مَّکَانًا (مقام کے اعتبار سے) مقام و مرتبہ یا رہائش و ٹھکانہ وَّاَضَلُّ سَبِیْلًا (اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہوں گے) یعنی راستہ کے لحاظ سے خطاء کرنے والے ہونگے یہ اسناد مجازی ہے مطلب یہ ہے کہ تمہیں ان سوالات پر یہ چیز آمادہ کرتی ہے کہ تم اسکے راستہ کو گمراہی قرار دیتے ہو اور اسکے مقام و مرتبہ کو حقیر قرار دیتے ہو۔ اگر تم انصاف کی آنکھ سے دیکھتے اس حال میں کہ تمہیں جہنم پر منہ کے بل گھسیٹا جارہا ہو۔ تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ تمہارا مقام انکے مقام سے بہت برا اور تمہارا راستہ گمراہی میں بہت بڑھا ہوا ہے۔ قرآن مجید میں اسی کا ذکر فرمایا۔ قل ھل انبئکم بشرٍ من ذلک مثوبۃ عند اللہ من لعنہ اللہ وغضب علیہ۔] المائدہ : 60[ حشر کی تین قسمیں : حضرت نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے قیامت کے دن لوگوں کا حشر تین قسم پر ہوگا۔ نمبر 1۔ جانوروں پر سوار۔ نمبر 2۔ پیدل 3۔ چہروں کے بل، عرض کیا گیا یارسول اللہ ! وہ چہروں کے بل کیسے چلیں گے تو ارشاد فرمایا جس نے ان کو پائوں سے چلایا وہی ان کو چہروں کے بل چلائے گا۔ ] احمد، ترمذی[
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا

موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) کی فرعون کی طرف بعثت : 35: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ (تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی) تورات جیسا کہ آپ کو قرآن دیا۔ وَ جَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ھٰرُوْنَ وَزِیْرًا (اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنادیا) ۔ نحو : ہارون یہ اخاہ کا بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ وَزِیْرًا مددگار۔ لغت میں اس کو کہتے ہیں جس کی رائے کی طرف رجوع کیا جاتا ہو اور جس کی رائے باعث تحصین ہو یہ الوزرؔ سے لیا گیا ہے جس کا معنی پناہ گاہ ہے اور وزارت نبوت کے منافی نہیں۔ ایک زمانہ میں انبیاء ( علیہ السلام) کو بھیجا جاتا اور ان کو ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیا جاتا۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا

36: فَقُلْنَا اذْھَبَآ اِلَی الَْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا (اور ہم نے کہہ دیا کہ تم دونوں اس قوم کے پاس جائو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلادیا ہے) مراد فرعون اور اس کی قوم ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ فذھبا الیھم وانذر افکذ بوھما۔ وہ ان کے پاس دونوں گئے اور ان کو ڈرایا مگر انہوں نے جھٹلا دیا۔ تکذیب کی وجہ سے فرعونیوں کو ہلاک کردیا : فَدَ مَّرْ نٰھُمْ تَدْمِیْرًا (پس ہم نے ان کو ملیا میٹ کردیا) التدمیرؔ کسی عجیب انداز سے ہلاک کرنا۔ قصہ کو مختصر فرمایا اس کا اول و آخر ذکر کردیا۔ کیونکہ مقصود قصہ یہی ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ بعث رسل کے ذریعہ حجت تمام کردی جائے اور تکذیب کی وجہ سے استحقاق عذاب ظاہر کردیا جائے۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنادیا اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

قوم نوح اور دیگر ہلاک شدہ اقوام کی طرف اشارہ : 37: وَقَوْمَ نُوْحٍ (اور قوم نوح کو) یعنی ہم نے قوم نوح کو ہلاک کردیا۔ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ (جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا) یعنی نوح (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) کو یا ایک کی تکذیب تمام کی تکذیب ہے۔ اَغْرَقْنٰہُمْ (ہم نے ان کو ڈبو دیا) طوفان کے ذریعہ وَجَعَلْنٰھُمْ ( اور ہم نے بنادیا ان کو) یعنی ان کے غرق یا واقعہ کو لِلنَّاسِ ٰایَۃً (لوگوں کیلئے نشانی) عبرت جس سے وہ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ وَاَعْتَدْنَا (ہم نے تیار کر رکھا ہے) لِلظّٰلِمِیْنَ (ظالموں کیلئے) قوم نوح کیلئے اور اصل عبارت اس طرح ہے واعتدنا لھم مگر ان کا ظلم بیان کرنے کیلئے ظالمینؔ کی بجائے ضمیر لائے۔ نمبر 2۔ یہ ہر اس آدمی کیلئے عام ہے جو شرک والا ظلم ڈھانے والا ہو اور اپنے عموم کی وجہ سے ان کو بھی شامل ہوگی۔ عَذَابًا اَلِیْمًا (دردناک عذاب) مراد آگ۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)

38: وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَا (اور عاد وثمود کو ہم نے ہلاک کردیا۔ ) قراءت : حمزہ، حفص نے قبیلہ کی تاویل سے بلا تنوین پڑھا۔ اور دیگر قراء نے ثمود تنوین سے پڑھا خاندان کی تاویل نمبر 3۔ یہ بڑے باپ کا نام ہے۔ وَاَصْحٰبُ الرَّسِّ (کنوئیں والے) یہ قوم شعیب (علیہ السلام) ہے۔ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ انہوں نے شعیب کو جھٹلایا ایک دن وہ کنوئیں کے گرد تھے۔ کنوئیں کی دیواریں گریں اور ان کو زمین میں گھروں سمیت دھنسا دیا۔ ایک قول یہ ہے کہ الرسؔ ایک بستی کا نام ہے انہوں نے اپنے پیغمبر کو قتل کردیا جس کے نتیجہ میں سب کو ہلاک کردیا گیا۔ اور ایک قول یہ ہے یہی اصحاب اخدود ہیں۔ الرسؔ خند قوں کو کہا جاتا ہے۔ وَقُرُوْنًا (اور زمانہ والوں کو ہم نے ہلاک کیا) ۔ بَیْنَ ذٰلِکَ (ان کے مابین) کَثِیْرًا (بہت) جن کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے رسولوں کو بھیجا۔ انہوں نے جھٹلایا تو ان کو ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

39: وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَ (تمام کیلئے ہم نے مثالیں بیان کیں) یعنی پہلے لوگوں کے عجیب عجیب واقعات بیان کیے۔ وَکُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا (ہم نے تمام کو برباد کردیا) ان کو بالکل ہلاک کردیا۔ نحو : پہلا کلاً انذرنا کی وجہ سے محذوف یا حذرنا کی وجہ سے اور دوسرا کلاً تبرنا کی وجہ سے محذوف ہے وہ اس کے لئے فارغ ہے۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح مینہ برسایا گیا تھا کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہونگے ؟ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اٹھنے کی امید ہی نہیں تھی

40: وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ (اور تحقیق ان کا گزر اس بستی کی طرف سے ہوتا ہے۔ ) نحو : اتواؔ کا فاعل اہل مکہ ہیں۔ القریہؔ سے مراد سدوم وغیرہ ہیں۔ یہ قوم لوط کا سب سے بڑا مرکزی شہر تھا۔ کل پانچ شہر تھے چار کو اللہ تعالیٰ نے اہل سمیت ہلاک کردیا۔ اور ایک ان میں سے باقی رہ گیا۔ الَّتِیْ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْ ئِ (جن پر بری بارش کی گئی) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھر برسائے۔ قریش مکہ کا اکثر قافلوں میں گزر ان بسیتوں کے پاس سے ہوتا تھا یہ شام کی شارع پر واقع ہوتے تھے۔ ان بسیتوں کو پتھروں کی آسمانی بارش سے ہلاک کردیا گیا۔ نحو : مطر السوءؔ یہ مفعول ثانی ہے۔ اور اصل عبارت اس طرح ہے امطرت القریۃ مطرًا نمبر 2۔ مصدر محذوف الزوائد ہے یعنی امطار السوء۔ اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَھَا (کیا یہ اس بستی کو دیکھا نہیں کرتے) کیا انہوں نے شام کی طرف سفر میں آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ پھر ان کو سوچ کر ایمان لانا چاہیے تھا۔ بَلْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا (بلکہ وہ دوبارہ اٹھنے کی امید نہیں رکھتے) بلکہ یہ لوگ تو بعث کے انکاری ہیں۔ یہ بعث سے نہ ڈرتے اور نہ ہی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ نمبر 2۔ ان کو اٹھنے کی امید نہیں جیسا کہ مومن امید کرتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کو اپنے اعمال کے ثواب کی طمع ہے۔