Ayah 25:4141: وَاِذَا رَ اَوْکَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ (اور جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کا مذاق بنا لیتے ہیں)
نحو : انؔ نافیہ ہے۔
استہزائے کفار :
اِلَّا ھُزُوًا اتخذ ھزوًاکا معنی استھزأ بہٖ ہے اور اصل اتخذہ موضع ھزؤ یا مھزوءا بہٖ آپ کو استہزاء کی جگہ بنا لیتے ہیں یا مسخرہ بنا لیتے ہیں۔ اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا (کیا یہ وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے) قول کو مضمرقرار دیکر ھذا کو بطور استہزاء تحقیر لائے۔ ای قائلین اھذا۔ وہ یہ کہتے ہیں کیا یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے اور محذوف حال ہے اور الذی کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے۔ ای بعثہٗ ۔
Ayah 25:4242: اِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِھَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا (قریب تھا کہ ہم کو ہمارے معبودوں کی طرف سے بہکا لیتا۔ اگر ہم ان معبودوں پر جمے نہ رہتے ) ۔
نحو : ان مخففۃ من المثقلۃ ہے اور لامؔ اس کی دلیل ہے۔ قریش کو دعوت دینے میں آپ ﷺ کیلئے کس قدر مشکلات تھیں اور ان کے سامنے معجزات کے پیش کرنے میں کتنا بڑا مجاہدہ تھا۔ کہ وہ اپنے خیال کے مطابق اپنا دین چھوڑنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اگر وہ اس پر اصرار نہ کرتے اور اپنے معبودوں کی عبادت کو تھامے نہ رکھتے۔
وَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ (وہ عنقریب جان لیں گے جب کہ وہ عذاب کو ملاحظہ کریں گے) اس میں کفار مکہ کیلئے وعید ہے اور یہ بھی دلالت ہے کہ اس کو ترک کرنے پر تیار نہیں خواہ مدت مہلت کتنی طویل کردی جائے۔ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا (کہ راستہ کے اعتبار سے کون گمراہ ہے۔ ) یہ ان کا دلیضلنا کے جواب کی طرح جملہ لایا گیا ہے کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ کی طرف انہوں نے ضلال کی نسبت کی ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ دوسرے کو گمراہ وہ کرتا ہے جو خود گمراہ ہو۔
Ayah 25:43یہ خواہشات کے پجاری ہیں :
43: اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـھَہٗ ھَوٰہُ (اے پیغمبر (ﷺ) آپ نے اس شخص کی حالت دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے) یعنی جس نے کئی چیز کو چھوڑنے اور کرنے کیلئے خواہش کی اطاعت کی تو وہ اپنی خواہش کا پیرو ہے اور اس کو معبود بنانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو فرما رہے ہیں۔ اس شخص کو اپنی خواہش ہی معبود نظر آتی ہے آپ اس کو ہدایت کی طرف کس طرح دعوت دے سکتے ہیں۔ روایت میں ہے ایک آدمی اہل جاہلیت میں سے پتھر کو پوجتا تھا جب وہ کوئی خوبصورت پتھر دیکھتا تو پہلا چھوڑ کر دوسرا اٹھا لیتا اور اس کی پوجا شروع کردیتا۔
قول حسن (رح) : اس سے مراد ہر خواہش پرست ہے۔
اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلاً (تو کیا آپ اس کے ذمہ دار ہونگے) یعنی ایسے محافظ جو اتباع خواہشات سے اس کو بچا سکیں اور اپنی من پسند کی عبادت سے اس کو روک لیں۔ نمبر 3۔ کیا آپ کو اس بات پر مقرر کردیا گیا کہ خواہشات سے موڑ کر اس کو ہدایت پر لگادیں اس میں آپ ﷺ کو بتلایا کہ آپ کے ذمہ فقط تبلیغ ہے۔
Ayah 25:4444: اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْیَعْقِلُوْنَ اِنْ ھُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا (کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی اکثریت (کلام اللہ) کو سنتے یا سمجھتے ہیں وہ نہیں ہیں مگر چوپایوں کی طرح بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ۔
نحو : یہ امؔ منقطعہ ہے اور اس کا معنی بلؔ ہے بلکہ کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں گویا پہلے جو مذمت گزری یہ اس سے زیادہ سخت ہے یہاں تک کہ اس سے اضراب کر کے اس کی طرف رجوع کرنا پڑا۔
تفصیلِ اعراض :
وہ یہ ہے کہ ان کی عقلیں اور قوت سمع چھن چکی ہے۔ کیونکہ وہ حق کو سننے کی طرف ذرا کان نہیں دھرتے۔ اور نہ اس میں تدبر کیلئے عقل کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ تو ڈھوروں اور ڈنگروں کے مشابہہ ہیں جو غفلت و ضلالت میں مثال ہیں ان پر شیطان ان کو ذلیل کرنے کیلئے سوار ہے جس وجہ سے انہوں نے استدلال کو بالکل ترک کردیا۔ پھر یہ حیوانات سے گمراہی میں بڑھ کر ہیں کیونکہ چوپائے تو اپنے رب کے تسبیح خواں اور سجدہ کناں ہیں اور جو ان کو چارہ ڈالے اس کی بات مانتے ہیں اور محسن و مسئی کی پہچان رکھتے ہیں اور اپنے نفع کے طالب اور دینے والی چیز سے گریزاں ہیں اپنے گھاٹوں اور چراگاہوں کی طرف راستہ پانے والے ہیں۔
یہ اپنے پروردگار کی اطاعت نہیں کرتے۔ نہ اس کے احسانات کو شیطان کی برائیوں سے جدا کر پاتے حالانکہ شیطان تو ان کا دشمن ہے اور یہ ثواب کو جو سب سے بڑا نفع ہے چھوڑنے والے ہیں۔ یہ اس انجام سے لرزاں و ترساں نہیں جو سب سے سخت نقصان اور ہلاکت کی جگہ ہے۔ اور حق کی طرف راہ نہیں پاتے حالانکہ وہ میٹھا اور خوشگوار چشمہ ہے۔
قول علماء :
ملائکہ میں روح و عقل اور بہائم میں نفس و خواہش۔ اور آدمی میں تمام بطور ابتلاء و آزمائش اکٹھی کردیں اگر انسان پر نفس و خواہش نے غلبہ پالیا تو چوپائے اس سے بڑھ گئے اور اس پر روح وعقل کا غلبہ ہوگیا۔ تو یہ معزز ملائکہ سے سبقت لے گیا۔ یہاں الاکثرؔ کا لفظ استعمال فرمایا کیونکہ ان میں بعض وہ تھے جن کو صرف سرداری ہی اسلام کے راستہ سے رکاوٹ تھی اور یہ لا علاج مرض ہے اور اسلئے کہ ان میں وہ بھی تھے جو ایمان لے آئے۔
Ayah 25:45سورج سے سایہ کی پہچان :
45: اَلَمْ تَرَاِلٰی رَبِّکَ (کیا تم نے اپنے رب کی صنعت وقدرت کو نہیں دیکھا) ۔ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَ (کہ کس طرح اس نے سایے کو دراز کیا) اسکو پھیلا کر زمین پر عام کردیا اور یہ طلوع فجر سے طلوع شمس کے وقت تک ہے جمہور کا قول یہی ہے۔ کیونکہ یہ ایسا دراز سایہ ہے جس کے ساتھ سورج کی شعاعیں بالکل نہیں۔ اور نہ ہی اندھیرا ہے اور یہ اس طرح ہے جیسا جنت کے سایہ کے بارے میں فرمایا وظل ممدودٍ اور نہ اندھیرا ہوگا۔ وَلَوْ شَآ ئَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا (اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سایہ کو ٹھہرنے والا بنا دیتا) یعنی دائمی بنا دیتے جو کبھی زائل نہ ہوتا اور نہ اس کو سورج ختم کرسکتا۔ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا (پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کی دلیل بنادیا) دلیل کا مطلب یہ ہے کہ سورج سے سایہ کی پہچان ہوتی ہے اگر سورج نہ ہو تو سایہ کی پہچان نہ ہو اشیاء کی پہچان اضداد سے ہوتی ہے۔
Ayah 25:4646: ثُمَّ قَبَضْنٰہُ (پھر ہم نے اس کو سمیٹ لیا) یعنی اس دراز سایے کو سمیٹ لیا۔ اِلَیْنَا (اپنی طرف سے) مراد جہاں ہم نے چاہا اس طرف قَبْضًا یَّسِیْرًا (تھوڑا تھوڑا کر کے) آسانی کے ساتھ اس میں تکلیف قطعاً نہ تھی۔ نمبر 2۔ آہستہ آہستہ یعنی ایک ایک جزو کر کے اس سورج کے ذریعہ جو اس پر آتی ہے۔
نحو : یہاں ثمؔ امور کے مابین تفاضل کیلئے استعمال ہوا ہے گویا دوسرا پہلے سے بہت بڑا ہے اور تیسرا دوسرے سے بھی اعظم تر ہے فضیلت کے مراتب میں فرق کو وقت میں پیش آئندہ حوادث سے تشبیہ دی۔
Ayah 25:47نیند و بیداری موت وحیات کے مشابہ ہے :
47: وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا (اور وہی رب تو ہے جس نے تمہارے لئے رات کو لباس بنایا) ڈھانپنے والے اندھیرے کو لباس کی مانند قرار دیا۔ وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا (اور نیند کو آرام) تمہارے ابدان کی راحت اور اعمال کو منقطع کرنے والی۔ السبتؔ کا معنی کاٹنا ہے اور سونے والاقطع کیا ہوا ہے۔ کیونکہ اس کا عمل و حرکت منقطع ہوئی۔
ایک قول یہ ہے کہ السبات : موت کو کہتے ہیں اور منقطع کیا ہوا مردہ ہے کیونکہ اس کی زندگی منقطع کردی گئی جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا : وھوالذی یتوفکم باللیل ] الانعام : 60[ اور اس معنی کی تائید اس کے مقابلہ میں نشور کے تذکرہ سے بھی ہوتی ہے۔ وَّجَعَلَ النَّھَارَ نُشُوْرًا ( اور دن کو اٹھنے کا وقت بنایا) النشورؔ نیند سے بیدار جیسا کہ میت کو حشر کے دن اٹھایا جائے گا۔
ایک قول یہ ہے کہ مخلوق دن میں معاش کیلئے اٹھتی ہے۔ آیت میں جہاں قدرت باری تعالیٰ پر دلالت موجود ہے اس میں مخلوق پر اظہار نعمت بھی ہے کیونکہ رات کے پردہ میں چھپ جانے پر دینی و دنیوی فوائد ہیں اور نیند و بیداری یہ موت وحیات کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں اور عبرت والے کیلئے باعث عبرت ہیں حضرت لقمان (رح) نے بیٹے کو فرمایا کما تنام فتوقظ کذلک تموت فتنشرجی سے نیند سے جاگنا اسی طرح موت سے اٹھنا۔
Ayah 25:4848: وَھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ (اور وہ رب وہی تو ہے جو اپنی رحمت سے پہلے ہوائوں کو بھیجتا ہے)
قراءت : مکی نے الریح مفرد پڑھا مراد جنس لی ہے۔
ماء طہور کا ذکر :
بُشْرًا (خوشخبری دینے والیاں) تخفیف کے ساتھ بشر جمع بشور بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ (اس کی رحمت سے پہلے) بارش سے پہلے کیونکہ وہ ریح ہے پھر بادل پھر بارش۔ یہ انتہائی عمدہ استعارہ ہے۔ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا) ماءؔ سے بارش مراد ہے۔ طَھُوْرًا (بالکل پاک) یہ طہارت کا مبالغہ ہے اور صیغہ صفت ہے جیسا کہتے ہیں مائً طہورًا یعنی طاہر اور یہ اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس سے طہارت حاصل کی جاتی ہے ان تمام کو طہور کہتے ہیں مثلاً وضوء اور ایندھن کیونکہ اس سے وضوء کیا جاتا ہے اور ان سے آگ جلائی جاتی ہے اور طہور مصدر بمعنی تطہّر ہے جیسے کہتے ہیں تطہّرت طہورًا حسنا میں نے خوب طہارت حاصل کی اور یہی معنی اس ارشاد نبوی ﷺ کا ہے : لا صلوۃ الابطہورٍ (ترمذی) ای لا تقبل صلاۃ بغیر طہارۃ۔
قول ثعلب (رح) ہے کہ طہور وہ ہے جو بذات خود طاہر ہو اور دوسرے کو پاک کرے امام شافعی رحمۃ اللہ کا یہی مسلک ہے۔ اگر یہ طہارت میں مزید اضافے کو ظاہر کرنے کیلئے ہے تو یہ قول خوب ہے اس کی تائید اس ارشاد باری تعالیٰ میں ملتی ہے و ینزل علیکم من السماء ماء لیطھر کم بہٖ ] الانفال : 11[ ور نہ فعول کا تفعیل سے کوئی سروکار نہیں۔ باقی افعال متعدیہ کے مشتقات جو فعول کے وزن پر آتے ہیں۔ مثلاً قطوع اور منوع پر قیاس درست نہیں ہے کیونکہ فعول پر آنے کا مقصد تو مبالغہ ہے پس اگر فعل متعدی ہو تو مفعول متعدی ہوتا ہے اور اگر لازم ہو تو لازم۔
Ayah 25:4949: لِّنُحِیِْ بِہٖ (تاکہ ہم بارش سے زندہ کریں) بَلْدَۃً مَّیْتًا (مردہ شہر) میت کو مذکر اس لئے لائے بلد کا ارادہ کریں یا مکان مراد لیں۔ وَّ نُسْقِیَہٗ مِمَّا خَلَقْنَآ اَنْعَامًا وَّاَنَاسِیَّ کَثِیْرًا (اور ہم وہ پانی اپنی مخلوق کو پہنچائیں چو پایوں اور بہت سے انسان کو) یعنی ہم انسانوں اور چوپایوں کو پانی پلائیں۔
نحو : مما خلقناؔ یہ انعامًا و اناسی سے حال ہے اور ای انعامًا و اناسی مما خلقنا اور سقیٰ واسقی دونوں لغات ہیں۔
قراءت : مفضل اور بزحمی نے ونسقیہٗ پڑھا ہے : الاناسی جمع إنسیّ علی القیاس جیسے کرسی وکراسی یا انسان کی جمع ہے اور یہ اصل میں اناسینؔ ہے جیسا کہ سرحان اور سراحین نون کو یاءؔ سے بدل دیا اور ادغام کردیا۔
تقدیمِ ارض کی وجہ :
نکتہ : زمین کے احیاء کو انسانوں اور چوپایوں کو پانی پلانے سے مقدم کیا کیونکہ زمین کی زندگی ان کی زندگی کا سبب ہے پس جو ان دونوں کی حیات کا سبب تھا اس کو مقدم کیا اور پانی پلانے کا بعد میں ذکر فرمایا پھر پانی پینے والے حیونات میں چوپایوں کو خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ انسانی منافع عام طور پر چوپایوں سے متعلق ہیں گویا کہ چوپایوں کو پانی پلانے کا انعام ان کے پانی پینے کے سبب حاصل ہونے والے انعام کی طرح ہے اور انعام، اناسی کو نکرہ لا کر پھر کثرت کو ان کی صفت کے طور پر ذکر کیا۔ کیونکہ اکثر لوگ وادیوں اور نہروں کے قریب رہائش پذیر ہیں بارش کی سیرابی سے ایک گونہ مستغنی نہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی کثرت اس پانی پر زندگی گزارتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ بارش سے نازل فرماتے ہیں بلدۃ کا لفظ بھی نکرہ لایا گیا ہے کیونکہ اس سے مراد ان کے وہ بعض علاقے ہیں جو پانی کے مقامات سے دور واقع تھے۔ جب انسانوں کا پانی پینا من جملہ ان چیزوں میں سے تھا۔ جس کے لئے پانی کو اتارا گیا۔ اور انسانوں کے اکرام کیلئے پانی کی صفت طہور ؔ ذکر فرمائی۔
اشارہ : اور طہور کہہ کر یہ واضح کردیا کہ انسانوں پر لازم ہے کہ وہ ظاہری اور باطنی طہارت کو ترجیح دیں کیونکہ طہور یت زندوں کیلئے شرط ہے۔
Ayah 25:50بارش کو پھیرنے کا معنی :
50: وَلَقَدْ صَرَّفْنٰہُ بَیْنَھُمْ لِیَذَّکَّرُوْا (اور ہم نے پانی کو انسانوں میں گھما یا اور پھر ایا تاکہ لوگ غور کریں)
قراءت : لِیَذَّکَّرُوْا حمزہ و علی نے پڑھا ان کی مراد یہ ہے کہ ہم نے یہ بات لوگوں کے درمیان قرآن اور تمام کتب منزلہ علی الرسل میں پھیر پھیر کر بیان کی۔ اور وہ بادل کا بننا اور بارش کا اترنا۔ تاکہ لوگ سوچ و بچار کریں اور عبرت حاصل کریں اور اس پانی میں اللہ تعالیٰ کے انعام کا حق پہچان کر شکریہ ادا کرلیں۔ فَاَبٰی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا (مگر لوگوں کی اکثریت ناشکری کے بغیر نہ رہی) اکثریت نے کفر انِ نعمت کے علاوہ ہر بات سے انکار کردیا۔ اور نعمت کو جھٹلا دیا۔ اور کثرت میں قلت کردی۔
نمبر 2۔ تصریف کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے بارش کو مختلف شہروں میں مختلف اوقات میں بانٹ دیا اور مختلف نوعیت کی بارش کی کہیں موسلادھار اور کہیں ہلکی پھلکی بڑی بوندوں والی، چھوٹی بوندوں والی۔ مسلسل برسنے والی مگر لوگ ناشکری کر کے رہے اور یہ کہنے لگے فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی۔ اللہ تعالیٰ کی صنعت و رحمت کو بالکل یاد نہیں کرتے۔
قول ابن عباس ؓ : کوئی سال دوسرے سال سے کم بارش والا نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس کو جہاں چاہتے ہیں پھیر دیتے ہیں اور پھر یہ آیت پڑھی۔ ایک روایت تفسیریہ یہ ہے کہ فرشتے ہر سال کی مقدار مطر اور عدد مطر جانتے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے مختلف نہیں لیکن علاقے مختلف ہوجاتے ہیں کسی سال کسی علاقہ میں اگلے سال دوسرے علاقہ میں یہاں سے بلدۃؔ کے نکرہ لانے کا جواب اور اسی طرح انعام و اناسی کے نکرہ ذکر نے کا جواب نکلتا ہے۔
مسئلہ : جس شخص نے بارش کی نسبت ستارے کی طرف کی اور بارش اور ستارے کے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایسا ہونے سے انکار کیا وہ کافر ہوا اگر اس کا خیال یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ بارش کا خالق ہے اور ستارے کی طرف نسبت صرف بارش کی علامت اور بارش کی دلالت کے طور پر کی ہے تو پھر کافر نہ قرار دیا جائے گا۔
Ayahs 25:51–52ہر بستی کی بجائے ساری کائنات میں ایک ہی منذر بھیج دیا :
51، 52: وَلَوْشِئْنَا لَبَعْثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا۔ فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ (اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس آپ کافروں کی خوشی کا کام نہ کریں) اگر ہم چاہتے تو تمام بستیوں کو ڈر سنانے کی ذمہ داری آپ سے کم کر کے ہر بستی میں ایک پیغمبر بھیج دیتے۔ لیکن ہم نے چاہا کہ آپ کیلئے تمام رسولوں کے فضائل جمع کریں کافۃ للناس کی طرف آپ کو رسول بنائیں۔ ہم نے آپ کو بھیجنے پر اکتفاء کیا اور آپ کو عظمت سے نوازا۔ پس آپ اکیلے ان تمام کی طرح ہیں اسی وجہ سے خطاب میں صیغہ جمع کا لائے یایھا الرسل ] المؤمنون : 51[ پھر شکر اور پختگی اور ثابت قدمی سے اس کا تقابل کیا آپ کافروں کی بات ہرگز نہ مانیں جس کی طرف وہ آپ کو بلاتے ہیں کہ آپ ان کی موافقت اختیار کریں اور مداہنت اختیار کریں۔ جس طرح میں نے تمام انبیاء ( علیہ السلام) پر ترجیح دی پس میری رضا مندی کو تمام خواہشات پر ترجیح دو اس سے آپ کو اور ایمان والوں کو برانگیختہ کرنا مقصود ہے۔
جامع مجاہدہ اور جامع رسول :
وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ (اور اس سے ان کا زور سے مقابلہ کرو) نمبر 1۔ ہٗ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور مراد اس کی مدد و توفیق کے ساتھ۔ نمبر 2۔ ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی قرآن کے دلائل سے ان کا مقابلہ کرو اور ان کے مقابلہ سے عاجزی پر ان کو جھنجھوڑو ! جِھَادًا کَبِیْرًا (بڑا جہاد) اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بڑا مرتبہ ہے اس لئے کہ اس میں تکالیف شاقہ کا سامنا ہوگا۔ نمبر 3۔ بہٖؔ کی ضمیر کا مرجع وہ ہو جس پر یہ آیت دلالت کرتی ہے ولوشئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا ] الفرقان : 51[ اس لئے کہ آپ تمام شہروں کے نذیر ہیں اگر ہر بستی کی طرف الگ نذیر مبعوث ہوتا تو ہر نذیر کے ذمہ اپنی بستی والوں کے ساتھ مجاہدہ کی ضرورت تھی اب رسول ﷺ پر تمام مجاہدات جمع ہوگئے کیونکہ آپ کا جہاد و مجاہدہ سب سے بڑھ کر اور سب سے عظیم تر ہے۔ اسی لئے فرمایا : جاھدھمؔ ان سے جہاد کرو کیونکہ تم ساری دنیا کے نذیر ہو اور ایسا جہاد کروجو تمام مجاہدات کا جامع ہو۔
Ayah 25:53قدرت کا عجیب نظارہ :
53: وَھُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ (اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملایا) مرج کا معنی ملا ہوا اور پاس پاس چھوڑدیا۔ یہ مرجت الدابۃ سے لیا گیا جبکہ اس کو چر نے کیلئے چھوڑا جائے بحرینؔ کثیر مقدار اور وسیع مقدار میں پانی کو کہتے ہیں۔ ھٰذَا (یہ) ایک ان میں سے عَذْبٌ فَرَاتٌ (میٹھا پیاس بجھانے والا۔ )
نحو : فرات یہ عذب کی صفت ہے۔ بہت ہی میٹھا یہاں تک کہ حلاوت کے قریب پہنچ جائے۔
وَّ ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ (اور یہ نمکین کھاری ہے) اُجاجؔ یہ ملحٌ کی صفت ہے یعنی انتہائی نمکین۔ وَجَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْزَخًا (اور ان کے درمیان پردہ بنادیا) ان کے مابین حائل بنایا جو ان کو جدا کرتا ہے اور ملنے سے مانع ہے وہ ظاہر میں ملے ہیں مگر حقیقت میں جدا ہیں۔ وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا (ایک مضبوط بندش کردی) ایک ایسا پردہ ہے جو آنکھوں سے تو مخفی ہے مگر ان کو ایک دوسرے سے روکے ہوئے ہے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : حجابًا مستورًا۔ ] الاسراء : 45[
Ayah 25:54انسانوں کی دو قسمیں :
54: وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآ ئِ (اور اللہ وہی ہے جس نے پانی سے پیدا کیا) الماءؔ سے یہاں نطفہ مراد ہے۔ بَشَرًا (انسان) فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہْرًا (پس اس کو نسب و دا مادی والا بنایا) مراد یہ ہے کہ انسانوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ نمبر 1۔ نسب والے یعنی مذکر جن کی طرف نسبت کر کے کہا جاتا ہے فلان بن فلان اور فلانہ بنت فلان نمبر 2۔ دامادی والے یعنی مؤنث ان کی وجہ سے مصاہرت کی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا فجعل منہ الزوجین الذکر والانثٰی ] القیامہ : 39[
وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا (اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے۔ ) کہ اس نے ایک ہی نطفہ سے دو قسم کے انسان بنادیے۔ مذکر و مؤنث۔ ایک قول یہ ہے کہ نسبا کا معنی قرابت اور صہر بمعنی دامادی یعنی نکاح کا ذریعہ انساب بنا کر احسان فرمایا کیونکہ مواصلت اسی سے ہوتی ہے اور مصاہرت کا احسان کیا کیونکہ توالد و تناسل اسی سے ہوتا ہے۔
Ayah 25:5555: وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ مَالَا یَنْفَعُہُمْ (وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کو پوجتے ہیں۔ جو ان کو فائدہ نہیں پہنچاتی) خواہ اس کی عبادت کریں۔ وَلَا یَضُرُّھُمْ (اور ان کو نقصان نہیں پہنچاتی ہیں) اگر ان کو چھوڑ دیں وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ (اور کافر اپنے رب کے خلاف) اپنے رب کی معصیت و نافرمانی کر کے ظَھِیْرًا (مددگار ہے) و مظاہرہ کرنے والے اور یہ فعیل بمعنی مفاعل ہے نہ کہ عزیز کی طرح۔ الظہیر اور المظاہر یہ عوین اور معاون کی طرح ہے اور المظاہرۃ معاونت کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کافر بت کی عبادت کر کے شیطان کی اتباع کرتا ہے اور رحمان کی نافرمانی میں اس کا معاون بنتا ہے۔
Ayah 25:5656: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرً ا (اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر مبشر بنا کر) ایمان والوں کیلئے وَّ نَذِیْرًا (اور ڈرانے والا) کفار کیلئے۔
Ayah 25:57تبلیغ پر اجرت نہیں مانگتا :
57: قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ (کہ دین میں تم سے اس پر نہیں مانگتا) تبلیغ رسالت پر مِنْ اَجْرٍ (کوئی اجرت) انعام اس کی مثل اِلَّا مَنْ شَآ ئَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا (مگر جو شخص چاہیے اپنے رب کی طرف پہنچنے کا راستہ بنالے) مطلب یہ ہے مگر اس کا عمل جس نے چاہا۔
اجر کے استثناء کی مثال :
اجرؔ کا استثناء اسی طرح ہے جیسا کہ کوئی تمہارا بڑا محسن ہو اور تمہارے لئے اس نے حصول میں تگ ودوہ بھی کی ہو۔ وہ کہے۔ ما اطلب منک ثوابا علی ماسعیت الا ان تحفظ ھذا المال ولا تضعہٗمیں تم سے اپنی معاونت پر ثواب نہیں چاہتا مگر اتنی بات ضرور چاہتا ہوں کہ تو اس مال کی حفاظت کر اور اس کو ضائع مت کر۔ یہاں تمہارا حفاظت مال کا مطالبہ تمہارے اپنے نفس کیلئے ثواب کی قسم سے نہیں لیکن اس کو ثواب کی شکل میں پیش کیا ہے گویا وہ کہنا چاہتا ہے کہ تیرا اپنے مال کی حفاظت کرنا یہ میرے لئے بمنزلہ ثواب ہے اور میری اس پر رضامندی اس شخص کی طرح ہے جو ثواب پر راضی ہو۔ اور میری عمر کی قسم کہ آنحضرت ﷺ اپنے امت کے ساتھ اس مقام پر تھے۔ اتخاذھم الی اللہ سبیلاؔ کا معنی ایمان وطاعت سے تقرب حاصل کرنا۔ نمبر 2۔ صدقہ و نفقہ سے قرب حاصل کرنا۔ ایک قول یہ ہے کہ مراد یہ ہے لیکن جو یہ چاہے کہ وہ مال خرچ کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کا راستہ اختیار کرے اس کو ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ ایک اور قول یہ ہے کہ تقدیر کلام اس طرح ہے لا اسالکم علی ما ادعو کم الیہ اجرًا الا اتخاذ المدعو سبیلاً الی ربہٖ بطاعتہ۔ فذلک اجری لان اللہ یا جرنی علیہ میں تمہیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہوں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جس کو دعوت دی گئی ہو وہ اطاعت سے اپنے رب کی طرف سے راستہ بنائے پس یہی میرا اجر ہے اسی پر میرا رب مجھے اجر دے گا۔
Ayah 25:5858: وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ (اور اس ذات پر بھروسہ کر وجو زندہ ہے کبھی نہ مرے گا) جس پر موت نہیں اس کو کارساز بنائو۔ وہ ان کے سپرد تمہیں نہیں کرے گا۔ جو ذلت کی موت مرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے اس پر اعتماد کرو اور ان کے شرور سے بچائو کیلئے اپنا معاملہ اس کے سپرد کرے اور ایسے زندہ پر بھروسہ نہ کرے جس پر موت آئے گی۔
نکتہ : بعض صالحین نے جب یہ آیت تلاوت کی تو کہنے لگے عقل مند کو مناسب نہیں کہ اس کے بعد بھی مخلوق پر اعتماد کرے
التوکلؔ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ۔
وَسَبِّحْ (اور اس کی تسبیح بیان کر) اللہ تعالیٰ کو اس بات سے پاک قرار دے کہ اس پر تو کل کرنے والا کسی غیر پر بھروسہ کرے گا۔ بِحَمْدِہٖ (اس کی حمد کے ساتھ) اس کی ایسی توفیق سے جو حمد کو لازم کرتی ہے۔ نمبر 2۔ کہو سبحان اللہ وبحمدہ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کو ہر عیب سے پاک قرار دو ۔ ایسی تعریف سے جو تم اس کی بیان کرو۔ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا (اور وہ بندوں کے گناہوں سے پورے طور پر باخبر ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے گناہوں کی اطلاع ہونا کافی ہے۔ مطلب یہ ہے وہ ان کے حالات سے واقف ہے اور ان کے اعمال کا بدلہ دینے کیلئے کافی ہے۔
Ayah 25:59رحمن کی صفت کا تذکرہ :
59: الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (وہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین جو کچھ ہے چھ دن میں پیدا کردیا) اتنی مدت کی مقدار کے مطابق کیونکہ یہ دن رات تو اس وقت نہ تھے۔
قول مجاہد (رح) : پہلا دن ہفتہ اور آخری یوم جمعہ تھا۔ اور ان کو چھ دن میں بنایا۔ حالانکہ وہ تو ان کو ایک لحظہ میں پیدا کرسکتا ہے صرف مخلوق کو معاملات میں پختگی اور آہستگی کی تعلیم دینے کیلئے ایسا کیا گیا۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ اَلرَّحْمٰنُ (پھر عرش پر جا ٹھہرا) یعنی وہ رحمان ہے۔
نحو : الرحمن یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر سے بدل ہے جو استوی میں پائی جاتی ہے۔ نمبر 3۔ الذی خلق مبتدأ اور الرحمان اس کی خبر۔ فَسْئَلْ (تم پوچھو)
قراءت : بلا ہمزہ مکی وعلی نے پڑھا۔
بِہٖ : یہ اسئل کا صلہ ہے جیسا کہ اس ارشاد میں سأل سائل بعذاب واقع ] المعارج : 1[ جیسا کہ اس کا صلہ عن سے آتا ہے ارشادالٰہی ہے ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم ] التکاثر : 8[ سأل بہٖ اسی طرح ہے جیسا تم کہو اھتم بہٖ واشتغل بہٖ اور سأل منہ اس طرح ہے جیسا کہیں بحث عندہ و فتّش عنہ۔
نمبر 2۔ یہ خبیراً کا صلہ ہے اور خبیراً اِسئل کا مفعول ہے تقدیر کلام یہ ہے اَسأل عنہ رجلاً عارفا یخبرک برحمتِہٖ اس کے متعلق کسی ایسے شخص سے دریافت کرو وہ تمہیں اس کی رحمت کی اطلاع دے گا۔ نمبر 2۔ فا سأل رجلًا خبیرًا بہٖ وبرحمتہٖ ۔ پس تم اس کے بارے میں اور اس کی رحمت کے بارے میں خبر رکھنے والے سے پوچھو۔
نمبر 3۔ الرحمانؔ کا وصف جو صفات باری تعالیٰ میں سے ہے۔ یہ کتب متقدمہ میں مذکور نہ تھا۔ اور وہ اس کو جانتے بھی نہ تھے۔ اس لئے ان کو کہا گیا تم اس اسم کے متعلق اس سے دریافت کرو جو اہل کتاب میں سے ہو اور تمہیں اس کی خبر دے تاکہ ان کو معلوم ہو جو ان کو عجیب خیال کرتے ہیں۔ اسی لئے کفار مکہ کہا کرتے تھے۔ کہ ہم تو رحمان یمامہ (مسیلمہ الکذاب نے اپنا لقب رکھا تھا) کو جانتے ہیں اور کسی رحمان کو نہیں جانتے۔ خَبِیْرًا (خبر رکھنے والا) ۔
Ayah 25:6060: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے) جب محمد ﷺ مشرکین کو کہتے ہیں۔ اسْجُدُوْالِلرَّحْمٰنِ (کہ تم رحمان کو سجدہ کرو) اللہ تعالیٰ کیلئے نماز پڑھو اور خضوع اختیار کرو۔ قَالُوْاوَمَا الرَّحْمٰنُ (وہ کہتے ہیں رحمان کون ہے ؟ ) ہم تو رحمان کو نہیں جانتے کہ اس کو سجدہ کریں یہ سوال مسمیٰ بہٖ کے متعلق ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس نام سے نہ جانتے تھے۔ اسی لئے مجہول کے متعلق سوال ماؔ سے کیا نمبر 2۔ رحمان کا معنی ہم نہیں جانتے کیونکہ ان کے کلام میں یہ مستعمل نہ تھا۔ جیسا کہ الرحیم، الراحم، الرحوم وغیرہ استعمال ہوتے تھے۔ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا (کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کو تو ہمیں حکم دیتا ہے) اس ذات کو جس کو سجدہ کرنے کا ہمیں حکم دیتا ہے۔ نمبر 2۔ اس لئے کہ تو ہمیں اے محمد ﷺ ہمارے علم کے بغیر سجدہ کا حکم دیتا ہے۔
قراءت : علی و حمزہ نے یأ مرناؔ پڑھا ہے۔
گویا کہ بعض نے بعض کو کہا انسجد لمایا مرنا محمد یا ہمیں مسمیٰ رحمان کا حکم دیتے ہیں۔ اور ہم تو پہنچانتے نہیں کہ وہ کیا ہے ؟ وہ عناد پر اتر آئے کیونکہ اس کا مطلب اہل لغت کے ہاں ایسا رحمت والا کہ جس کی رحمت کی کوئی انتہاء نہیں کیونکہ فعلان مبالغہ کے اوزان میں سے ہے تم کہتے ہو رجل عطشان جبکہ وہ انتہائی پیاسا ہو۔
وَ زَادَھُمْ (اور ان کی نفرت بڑھ جاتی ہے) رحمان کو سجدہ کرنے کے حکم سے نُفُوْرًا (ایمان سے دوری) ۔
Ayah 25:61آسمان میں برج بنائے :
61: تَبٰرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآ ئِ بُرُوْجًا (بڑی خیر والا ہے وہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمان میں برج بنائے) برجؔ سے سبعہ سیارات کی منازل مراد ہیں۔ ہر ستارے کے دو ٹھکانے ہیں جن میں اس کی حالت مضبوط ہوتی ہے۔ اور سورج کا ایک گھر اور چاند کا ایک گھر اور حمل و عقرب مریخ کا مکان ہے۔ اور ثور و میزان یہ زہرہ کے گھر ہیں۔ جوزاء اور سنبلہ یہ دونوں عطارد کا گھر ہیں۔ اور سرطان چاند کا گھر ہے۔ اور اسد سورج کا گھر ہیں۔ اور قوس وحوت یہ دونوں مشتری کے گھر ہیں اور جدی اور دلو یہ دونوں زحل کے گھر ہیں۔ ان بروج کی طبع کے لحاظ سے چار قسمیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک تین بروج کو پاتا ہے پس حمل، اسد، قوس تینوں ناری مثلث ہیں اور سرطان و عقرب، حوت مثلث مائیہ ہیں۔
بروج کی وجہ تسمیہ :
برج بلند محل کو کہا جاتا ہے ان کو بروج اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ان ستاروں کے لئے اسی طرح ہیں جیسا کہ ساکنین کیلئے مکان ہوتے ہیں۔ یہ لفظ البرج سے نکلا ہے جس کا معنی ظہور ہے۔ قول حسن، قتادہ و مجاہد (رح) : البروج بڑے ستارے کو اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ زیادہ واضح و ظاہر ہیں۔
وَّ جَعَلَ فِیْھَا (اور بنایا اس میں) یعنی آسمان میں۔ سِرٰجًا (دیا) یعنی سورج۔ اس کو سراج زیادہ روشنی کی وجہ سے کہا۔
قراءت : حمزہ و علی نے سُرُجًا پڑھا یعنی ستارے۔ وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا (روشن چاند) رات کو روشنی دینے والا۔
Ayah 25:62رات دن کا انعام :
( علیہ السلام) 62: وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والابنایا) خلفۃ یہ فِعلۃ کا وزن ہے خلف سے لیا گیا جیسا رکبۃٌ، رکب سے۔ خِلفۃ ؔ اس حالت کو کہا جاتا ہے جس پر دن اور رات ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے جعلھما ذَوَیْ خلفۃ ایک دوسرے کے پیچھے اسکے چلے جانے پر آتا ہے۔ نمبر 2۔
ایک دوسرے کا قائم مقام ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی عمل دن کا فوت ہو رات میں قضاء کرلیا اور رات کا فوت ہو تو دن میں قضاء کرلیا۔
لِّمَنْ اَرَادَاَنْ یَّذَّ کَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا (جو سمجھنا یا شکر کرنا چاہتا ہو) ان کی تسخیر میں سوچے اور ان کے اختلاف میں غور کر کے ان کے مدبر کو پہچانے۔
قراءت : حمزہ، خلف نے یذکر پڑھا اے یذکر اللہ یا بھولنے والا قضاء کرے۔
اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا (یا شکر گزاری کا ارادہ کرے) ان دونوں کے سلسلہ میں جو اس پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا اس پر شکریہ ادا کرے۔
Ayah 25:63رحمن کے بندوں کی صفات :
63: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ (اور رحمان کے خاص بندے)
نحو : یہ مبتدأ ہے اور الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ (وہ جو چلتے ہیں) یہ اس کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ اولپک یجزون اور الذین یمشون اور اس کا مابعد یہ صفت ہے۔ رحمان کی طرف اضافت تخصیص اور تفصیل کو ظاہر کرتی ہے۔ پہلے اپنے اعداء کا حال بیان کیا اور پھر اپنے اولیاء کا عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا (زمین پر آہستگی سے) یہ حال یا مشیؔ کی صفت ہے ای ھیّنین یا ھینًا۔ الھونؔ نرمی و رفق کو کہتے ہیں یعنی سکون ووقار سے چلتے ہیں۔ وہ اپنے جوتے تکبر و بڑھائی کی وجہ سے نہیں چٹخاتے اسی لئے بعض علماء نے بازار میں سواری کو ممنوع قرار دیا ہے اور اس ارشاد کی وجہ سے بھی ویمشون فی الاسواق ] الفرقان : 20[
عدم مشارکت :
وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰھِلُوْنَ (اور جب ان سے جاہل لوگ مخاطب ہوتے ہیں) بیوقوف لوگ جو چیز ان میں ناپسند کرتے ہیں۔ قَالُوْا سَلٰمًا (وہ سلام کہتے ہیں) درست بات کہتے ہیں جس میں ایذاء و گناہ سے محفوظ رہ سکیں۔ نمبر 2۔ ہم تم سے بچتے ہوئے تمہیں چھوڑتے ہیں اور تم سے جہالت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہاں سلامؔ کو تسلیمؔ کی جگہ لایا گیا۔ ایک قول آیت قتال سے یہ منسوخ ہے اور اس کی ضرورت نہیں بیوقوفوں سے چشم پوشی مستحسن اور مشروع ہے اور مروت کے طور پر جائز ہے۔ یہ تو ان کے دن کا حال ہے پھر ان کی رات کا ذکر کیا۔
Ayah 25:6464: وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیْامًا (اور وہ لوگ رات کو اپنے رب کے سامنے سجدہ اور قیام کرتے ہیں) سُجَّدًا جمع ساجد کی ہے اور قیامًا جمع قائم کی ہے۔ البیتوتۃؔ سائے کے خلاف کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رات کو وہ پالے خواہ سوئے یا نہ سوئے۔ قول علماء (رح) : جس نے نماز میں تھوڑا سا قرآن رات کو پڑھاگویا اس نے ساری رات سجدہ و قیام میں گزار دی۔ ایک قول یہ مغرب کے بعد والی دورکعتیں ہیں۔ اور عشاء کے بعد والی دو رکعتیں۔ مگر ظاہر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت احیائے لیل یا اکثر لیل کو بیان فرمایا۔
Ayah 25:6565: وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عََذَابَ جَھَنَّمَ اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا (اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری طرف سے عذاب جہنم (کارخ) پھیر دے بلاشبہ جہنم کا عذاب بڑا سخت ہے) ۔ غرامًا وہ ہلاکت جو لازم ہوجانے والی ہو۔ اسی سے الغریمؔ کا لفظ ہے کیونکہ وہ اس کو لازم پکڑتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی احیائے لیل کی تعریف فرمائی کہ وہ سجدہ و قیام کی حالت میں رات گزاردیتے ہیں پھر ان کی دعا کا ذکر کیا گیا تاکہ وہ باوجود اتنی محنت و کوشش جو عبادت کے سلسلہ میں انجام دیتے ہیں پھر بھی خوف زدہ اور دعا میں خوب گڑگڑانے والے ہیں کہ اے اللہ ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے۔
Ayah 25:66جہنم بدترین قرارگاہ :
66: اِنَّھَا سَآ ئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا (وہ دوزخ بری قرار گاہ اور جائے قیام ہے۔ )
نحو : ساءت کا حکم بئست ہے۔ اس میں ضمیر مبہم ہے جس کی تفسیر مستقراً کررہا ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے ساءت مستقرا و مقاما ہی ہے ( وہ جہنم بہت بری قرار گاہ اور قیام گاہ ہے) اور یہی وہ ضمیر ہے جس نے جملہ کو اِنَّ کے اسم سے جوڑ دیا ہے اور اس کی خبر بنادیا ہے۔ نمبر 2۔ سا ءت بمعنی احزنت ہے اور اس میں ضمیر ہے جو اِنَّ کا اسم ہے اور مستقراً یہ حال ؔ یا تمیز ہے۔
قول آخر : اور یہ بھی صحیح ہے کہ دونوں تعلیلیں ایک دوسری میں داخل یا مترادف ہوں اور یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور ان کے قول کی حکایت ہو۔
Ayah 25:6767: وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا (اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہوئے اسراف سے کام نہیں لیتے) خرچ میں حدود سے تجاوز نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ وہ خوش عیشی کیلئے نہیں کھاتے اور ڈھینگ مارنے کیلئے نہیں پہنتے ہیں۔ قول ابن عباس ؓ : وہ گناہوں پر خرچ نہیں کرتے
اسراف کی تعریف :
اسراف : حکم کے حدود سے تجاوز کو کہتے ہیں اور مقدار کے اندر تجاوز نہیں۔ ایک آدمی نے ایک دوسرے آدمی کو یہ کہتے سنا اسراف میں کوئی خیر نہیں تو اس نے کہا لا اسراف فی الخیر۔ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا جس نے کسی حق والے کا حق روکا اس نے بخل کیا اور جس نے کسی غیر مستحق کو دیا اس نے اسراف کیا۔
وَلَمْ یَقْتُرُوْا (اور وہ کنجوسی نہیں کرتے)
قراءت : کوفی نے ضمہ تاؔ ء کے ساتھ پڑھا یہ مدنی وشامی نے ضمہ یاء اور کسرئہ تاء سے اور مکی و بصری نے فتحہ یاءؔ اور کسرہ تاءؔ سے پڑھا ہے۔ القترؔ الاقتار اور تقتیر یہ تضییق کو کہا جاتا ہے جو کہ اسراف کی نقیض ہے۔ وَکَانَ (اور ہے) ان کا انفاق بَیْنَ ذٰلِکَ (ان کے درمیان) یعنی اسراف و اقتار کے مابین۔ قَوَامًا (اعتدال) ان کے دونوں کے درمیان معتدل۔ القوام۔ چیزوں کا درمیان۔ اور بین ذلکؔ اور قوامًاؔ یہ دونوں خبریں ہیں۔ ان کی تعریف اس میانہ روی سے کی جو غلو و تقصیر کے مابین ہے اسی طرح کا حکم رسول اللہ ﷺ کو فرمایا گیا ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ] الاسراء : 29[
قوام جو عفو قصیر کے مابین ہو :
نکتہ : عبد الملک بن مروان نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے خرچہ پوچھا جبکہ اپنی بیٹی کا اس سے نکاح کیا تو انہوں نے کہا الحسنۃ بین السیئین تو عبد الملک سمجھ گیا جو عمر بن عبدالعزیز کا اس آیت کے اشارے سے مقصود تھا۔ ایک قول یہ ہے وہ اصحاب محمد ﷺ تھے وہ کھانا خوش عیشی کیلئے نہ کھاتے اور نہ ہی لذت اندوزی کیلئے اور اپنے کپڑے خوبصورتی اور زینت کے لئے نہ پہنتے بلکہ بھوک دور کرنے اور ستر عورت کی غرض ہوتی اور گرمی و سردی کا دفاع مقصود ہوتا۔ قول عمر ؓ : یہ اسراف ہے کہ من چاہی چیز ہر وقت کھائے۔
Ayah 25:68حق سے قتل پانچ قسم :
68: وَالَّذِیْنَ لَایَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا ٰاخَرَ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود کو نہیں پکارتے) یعنی شرک نہیں کرتے۔ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ (اور اس جان کو قتل نہیں کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے) اس کے قتل کو حرام کیا ہے۔ اِلَّا بِالْحَقِّ (مگر حق کے ساتھ) قصاص یا رجم یا نمبر 3۔ ارتداد یا نمبر 4۔ شرک یا نمبر 5۔ زمین میں فساد برپا کرنے کے باعث
نحو : یہ قتل محذوف سے متعلق ہے یا لا یقتلون سے وَلَا یَزْنُوْنَ (وہ زنا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے ان کبار کی اپنے صالح بندوں سے نفی کی اس میں قریش پر تعریض ہے جن میں یہ رذائل پائے جاتے تھے۔ گویا اس طرح فرمایا وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں سے پاک کردیا جن میں تم مبتلا ہو۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ (جو یہ مذکورہ کام کرتا ہے) یَلْقَ اَثَامًا (وہ گناہ کو ملے گا) یعنی گناہوں کی سزا پائے گا۔
Ayah 25:6969: یُّضٰعَفْ (دو گنا کیا جائے گا) یہ یلقؔ سے بدل ہے کیونکہ دونوں کا ایک معنی ہے۔ کیونکہ مضاعفۃ العذاب وہی گناہوں کا ملنا ہے۔ جیسا کہ اس شعر میں ہے
متی تأتنا تلمم بنا فی دیارنا ٭ تجد حطبا جزلاً ونارًا تأجّجًا
یہاں تُلْمِمْ مجزوم ہے کیونکہ یہ تاتنا کے معنی میں ہے۔ کیونکہ آنا وہی اتر نا اور تشریف رکھنا ہے۔
قراءت : مکی و یزید، یعقوب نے یُضَعَّفْ پڑھا ہے۔ اور شامی نے یَضَعَّفُ ۔ اور ابوبکر نے یضاعفؔ پڑھا اور جملہ کو مستانفہ قرار دیا یا حال کی وجہ سے اس صورت میں یُضَاعَفُ لَہٗ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ سے مراد ان کو آخرت میں مرور ایام پر عذاب پر عذاب دیا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے جب مشرک شرک کے ساتھ اور معاصی بھی کرتا ہو تو اس کو شرک پر عذاب ہوگا اور معاصی پر بھی اور عذاب کا تضاعف گناہوں کے بڑھنے کی وجہ سے ہے۔ وَیَخْلُدْ فِیْہِ (اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا)
قراءت : جن قراء نے یضاعف کا جزم پڑھا انہی نے اس کا جزم پڑھا اور جنہوں نے رفع پڑھا انہوں نے اس کا بھی رفع پڑھا ہے کیونکہ وہ معطوف علیہ ہے فیہ (ؔ اس عذاب میں ) ، قراءت : مکی حفص نے فیھیؔ اشباع سے پڑھا۔ البتہ حفص نے اشباع کو اسی کلمہ سے خاص کیا تاکہ مبالغہ فی الوعید ہو اہل عرب مبالغہ کے لئے مد کرتے ہیں اس کے باوجود کہ ہاؔ ء کنایہ میں اصل اشباع ہے۔ مُہَانًا (ذلیل کیا ہوا) ۔ نحو : یہ حال ہے۔
Ayah 25:70تائبین کی صفات :
70: اِلَّا مَنْ تَابَ (مگر وہ شخص جس نے توبہ کی) یہاں شرک سے توبہ مراد ہے یہ جنس سے استثناء ہے اور مقام نسب میں واقع ہے۔ وَاٰمَنَ (جو ایمان لایا) محمد ﷺ پر وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا (اور اس نے نیک عمل کیا) اپنے توبہ کرنے کے بعد فَاُولٰٓپکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ (ان لوگوں کی سیئات کو اللہ تعالیٰ صفات سے بدل دیں گے) قبائح کے بعد محاسن کی توفیق دیں گے۔ نمبر 1۔ توبہ سے گناہوں کو مٹا دے گا۔ اور اس کی جگہ نیکیاں لکھ دے گا۔ الحسنات سے ایمان باللہ مراد ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ برائی بعینہٖ حسنہ بن جاتی ہے بلکہ گناہوں کو مٹا کر نیکیاں لکھنا ہے۔
قراءت : یُبدِلُ تخفیف سے برجمی نے پڑھا۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا (اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں) وہ سیئات کو مٹائیں گے۔ رَّحِیْمًا (وہ رحم کرنے والے ہیں۔ ) ان کو حسنات سے بدل دیں گے۔
Ayah 25:7171: وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا (اور جس نے توبہ کی اور نیک عمل کیے پس بیشک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے رجوع کرنا) یعنی جس نے توبہ کی اور پھر توبہ پر مضبوطی سے عمل صالح کے ذریعہ قائم رہا پس وہ اس ثابت قدمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا ہے۔ ایسا رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ غلطیوں کو مٹانے والا اور ثواب کو مہیا کرنے والا ہے۔
Ayah 25:7272: وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ (اور وہ لوگ جو جھوٹ کی مجلسوں میں حاضر نہیں ہوتے) الزورؔ سے جھوٹ مراد ہے کذابوں کی مجالس سے ان کو نفرت ہے اور گناہوں میں ملوث لوگوں کی مجالس سے وہ ایک طرف رہتے ہیں ان کے قریب تک نہیں جاتے تاکہ شر اور شریروں سے بچیں اور باطل کا مشاہدہ بھی شرک کے مترادف ہے اس کا ارتکاب نہ ہو۔
مسئلہ : کسی ایسی چیز کو دیکھنا جس کی شریعت نے اجازت نہ دی ہو گناہ کرنے والوں کے ساتھ شرکت کی طرح ہے۔ کیونکہ وہاں حاضری اور نظارہ یہ رضا مندی کی دلیل ہے۔ اور اس برائی میں اضافہ کا باعث ہے۔ موعظہ عیسیٰ ( علیہ السلام) خطاکاروں کی مجالس سے بچو ! نمبر 2۔ لا یشھدون الزور کا معنی جھوٹی شہادت نہیں دیتے گویا مضاف محذوف ہے۔
قول قتادہ (رح) ہے کہ اس سے مراد باطل مجالس ہیں۔
قول ابن حنفیہ ہے کہ لہو وغناء میں وہ حاضر نہیں ہوتے وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ (اور جب وہ اچانک لغو مجالس کے پاس سے گزریں) لغو سے فحش مراد ہے اور ہر ایسی چیز جو مناسب نہ ہو اور پھینکنے کے لائق ہو۔ مطلب یہ ہے جب ان کا گزر لغو والوں کے پاس سے ہوتا ہے اور لغو میں مشغول ہوتے ہیں تو مَرُّوْا کِرَامًا (تو وہ معززانہ گزر جاتے ہیں) ان سے اعراض کرتے ہیں اور اس میں اپنے نفوس کو ملوث کرنے سے بچاتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : واذا سمعوا اللغو اعرضوا عنہ ] القصص : 55[ قول باقر : (رح) جب وہ فروج کا ذکر کرتے ہیں تو کنایات سے کرتے ہیں۔
Ayah 25:7373: وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ (اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے) یعنی ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے نمبر 2۔ قرآن کے مواعظ بیان کیے جاتے ہیں۔ لَمْ یَخِرُّ وْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا (تو ان احکام پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرپڑتے) اس میں خرورؔ کی نفی نہیں بلکہ اس کا اثبات ہے اور بہرے اور اندھے پن کی نفی ہے گویا نفی فعل مراد نہیں بلکہ مرد کی حالت کی نفی مقصود ہے جیسے کہتے ہیں لا یلقانی زیدٌ مسلما اس میں ملاقات کی نفی نہیں بلکہ سلام کی نفی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب ان کو نصیحت کی جائے تو اندھوں بہروں جیسی ان کی حالت نہیں ہوتی بلکہ وہ سجدہ میں روتے ہوئے گرپڑتے ہیں اور یاد رکھنے والے کانوں سے سنتے اور نگران آنکھوں سے اوامر وانواہی پر نگاہ رکھتے ہیں نہ کہ منافقین اور ان جیسوں کی طرح اور اسکی دلیل اللہ کا قول ہے : وممن ھدینا واجتبینا اذا تتلی علیھم آیات الرحمان خروا سجدا وب کیا ] مریم : 58[
Ayah 25:74آنکھوں کی ٹھنڈک اولاد :
74: وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا (اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں تو ہماری اولاد اور ازواج میں سے) منؔ بیانیہ ہے گو اس طرح فرمایا ہب لناقرۃ اعین۔ پھر (قرۃ) کو واضح کر کے اس کی تفسیر کردی گئی۔ مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا اس کا مطلب یہ ہے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔ قُرَّۃَاَعْیُنٍ (آنکھوں کی ٹھنڈک) یہ اسی طرح ہے جیسے محاورہ عرب میں کہتے ہیں۔ رأیت منک اسدًا یعنی انت اسد تو شیر ہے۔
نمبر 2۔ ابتداء کیلئے ہے اس صورت میں معنی یہ ہے ہم کو ان کی طرف سے اس میں وہ بات عنایت فرما جو ہماری آنکھوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بھلائی کی وجہ سے ٹھنڈا کر دے۔
قراءت : ذُرِیَّتنَا ابو عمرو اور حفص کے علاوہ کو فیوں نے پڑھا ہے۔ اور مراد جنس لی گئی اور دیگر قراء نے ذریا تناقرۃ اعینؔ۔ اعینؔ کو نکرہ اس لئے لائے کیونکہ قرۃ نکرہ ہے کیونکہ مضاف کو نکرہ لانے کی ایک ہی مشکل ہے مضاف الیہ کو نکرہ بنادیا جائے گویا اس طرح فرمایا : ہب لنا منھم سرورًا ہمیں ان سے سرور عنایت فرما۔
یہاں عینؔ جمع قلت کا وزن لائے عیون نہیں لائے کیونکہ اس سے صرف متقین کی اعین مراد ہیں اور یہ آنکھیں دوسروں کی نسبت قلیل ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے۔ و قلیل من عبادی الشکور ] سبا : 13[
نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اعین کو نکرہ لانے میں بھی یہی وجہ بیان کی جاسکتی ہے کہ اس سے مخصوص آنکھیں مراد ہیں۔ اور وہ متقین کی آنکھیں ہیں۔ مطلب یہ ہے انہوں نے بارگاہ الٰہی میں یہ سوال کیا کہ وہ ان کو بیویاں اور ایسے پیروکار جو اللہ تعالیٰ کی خاطر عمل کرنے والے ہوں اور اپنے مرتبے اور تقرب سے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والے ہوں۔
ایک قول یہ ہے مومن کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی چیز آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کرسکتی جبکہ وہ اپنی اولاد و ازواج کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار دیکھتا ہے۔ قول ابن عباس ؓ : اس سے مراد بیٹا ہے جب اس کو دیکھے دین کی سمجھ کی باتیں لکھ رہا ہو۔ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (اور ہمیں متقین کا مقتدا بنا) متقدا بنا کہ دین میں لوگ ہماری پیروی کریں۔ اماماًؔ کا لفظ واحد لائے اور مراد جنس لی گئی کیونکہ مراد میں کوئی خطرہ التباس نہیں۔ نمبر 2۔ تقدیر کلام اس طرح ہے واجعل کل واحدٍ منا امامًا ہم میں سے ہر ایک کو مقتدا بنا۔ ایک قول یہ ہے آیت دلالت کرتی ہے کہ یہ ریاست و عہدہ دینی طلب سے لینا ضروری ہے اور اسکی طرف رغبت رکھنا بھی ضروری ہے۔
Ayah 25:75صلہ آخرت :
75: اُولٰٓپکِ یُجْزَوْنَ الْغُرْ فَۃَ (ان لوگوں کو بدلے میں بالا خانے دیئے جائیں گے) غرفہ سے مراد غرفات ہے جنت کے بلند مقامات۔ واحد لا کر جنس کی طرف اشارہ کردیا اس کی دلیل یہ قول ہے وھم فی الغرفات اٰمنون ] سبا : 37[ بِمَا صَبَرُوْا (صبر کے باعث وسبب) طاعات پر جمے رہنے اور شہوات سے باز رہنے اور کفار کی ایذائوں اور تکلیفوں اور فقر وغیرہ پر صبر کرنے کی وجہ سے۔ وَیُلَقَّوْنَ فِیْھَا (اور ان کو ملے گا اس جنت میں)
قراءت : یَلْقَون حفص کے علاوہ کوفی قراء نے پڑھا۔
تَحِیَّۃً (بقاء کی دعا) آبادی کی دعاوَّسَلٰمًا (اور سلام) سلامتی کی دعا یعنی فرشتے ان کو دعا دیں گے اور تحفہ سلام پیش کریں گے۔ نمبر 2۔ جنتی ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور بقاء کی دعا دیں گے۔
Ayah 25:7676: خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے) یہ حال ہے حَسُنَتْ (وہ بہت خوب ہے) وہ بالا خانہ بہت خوبصورت ہے۔ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا (قرار گاہ اقامت کی جگہ ہے) یہ ساءت مستقرًا ومقامًا کے مقابلہ میں ہے ] القرقان : 66[۔
Ayah 25:77اگر تمہیں اسلام کی طرف دعوت دینا نہ ہوتا :
77: قُلْ مَا یَعْبَؤُابِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُ کُمْ (آپ کہہ دیں میرے رب کو تمہاری ذرہ بھر پرواہ نہیں اگر تم عبادت نہ کرو گے) اس میں استفہام کا معنی خود پایا گیا۔ اور یہ محل نصب میں ہے مطلب یہ ہے : ما یصنع لکم ربی میرے رب نے تمہیں کیا کرنا ہے اگر تمہارا اسلام کی دعوت دینا طے نہ ہوچکا ہوتا۔
نمبر 2۔ اگر تم اس کی عبادت نہ کرتے ہوتے یعنی اس نے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا جیسا کہ فرمایا وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ] الزاریات : 56[ تمہارا اعتبار تمہارے رب کے ہاں تمہاری عبادت ہی کی وجہ سے ہے۔
نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عذاب دیکر کیا کرنا ہے اگر تم اس کے ساتھ دوسروں کو پکارنے والے نہ ہوتے یہ اس ارشاد کی طرح ہے : مایفعل اللہ بعذ ابکم ان شکرتم ] النساء : 147[ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ (پس تم نے اے اہل مکہ میری رسالت کو جھٹلا دیا) ۔ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا (عنقریب لازم پکڑنے والا عذاب ہوگا) ۔ نمبر 2۔ چمٹنے والا۔ ای ذا لزام یا ملازمًا لازم کے مصدر کو اسم فاعل کی جگہ لائے۔
قولِ ضحاک :
اسکو تمہارے بخش دینے کی کیا پرواہ ہے (اسکے خزانوں میں اس سے کچھ کمی نہیں آجاتی) اگر تم اس کے ساتھ دوسروں کو نہ پکارو۔
تمت ترجمۃ سورة الفرقان لیلۃ یوم الا ثنین 4 جنوری 2003 الموافق 30 شوال 1423ھ