Ayah 24:11: سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْہَآ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (یہ ایسی سورة ہے کہ جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کو فرض کیا اور اس کے اندر کھلی آیات نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو) ۔
سُوْرَۃٌ: یہ مبتدأمحذوف ھذہٖ کی خبر ہے۔
اَنْزَلْنٰھَا (ہم نے اس کو اتارا ہے) یہ سورة کی صفت ہے۔
قراءت : طلحہ کی قراءت میں سورة پڑھا گیا ہے اس صورت میں ترکیب زیدا ضربتہُ کے انداز سے ہوگی : ای انزل سورة انزلنھا نمبر 2۔ اتل سورة ۔ فعل محذوف کا مفعول بنے گی۔ السورۃؔ ایسا مجموعہ کلام جو کئی جملوں پر مشتمل ہو جس کی ابتداء بھی ہو اور اختتام بھی۔ یہ سورة المدینہؔ کے محاورہ سے اخذ کی گئی ہے۔ وَفَرَضْنٰھَا (اور اس کو فرض کردیا) یعنی اس کے ان احکامات کو جن پر وہ سورة مشتمل ہے ہم نے فرض کردیا۔ الفرضؔ کا اصل معنی کاتنا ہے اور ہم نے اس سورت کو احکام میں الگ الگ بیان کیا ہوا کردیا۔
قراءت : مکی اور ابوعمرو نے فرّضنٰھا تشدید کے ساتھ پڑھا۔ ایجاب و تاکید میں اس سے اضافہ ہوجاتا ہے نمبر 2۔ کیونکہ اس میں مختلف فرائض ہیں۔ نمبر 3۔ سلف اور ان کے بعد جو لوگ گزرے ہیں کیونکہ ان کی ذمہ داریاں زیادہ تھیں۔
وَاَنْزَلْنَا فِیْہَا ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ (اور ہم نے اس کے اندر کھلی آیات نازل کی ہیں) یعنی واضح دلائل۔ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (تاکہ تم نصیحت قبول کرو) تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
قراءت : حمزہ، علی وخلف و حفص نے تذکرون ذال کی تخفیف سے پڑھا ہے۔ پھر اس کے احکامات کی تفصیل کرتے ہوئے فرمایا :
Ayah 24:2زانی کی سزا :
2: اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ (زانی مرد، زانی عورت) ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہیں اور خبر محذوف ہے۔ یعنی زانیہ اور زانی کے سلسلہ میں تم پر فرض ہے یعنی ان دونوں کو کو ڑے لگانا۔ نمبر 2۔ خبر فاجلدوا ہے الف لام الذی کے معنی میں ہے جس میں شرط کا معنی متضمن ہے اس وجہ سے خبر پر فاء داخل کی گئی ہے تقدیر کلام یہ ہے وہ عورت جو زنا کرے اور وہ مرد جو زنا کا مرتکب ہو پس ان دونوں کو کوڑے لگائو اس کی مثال دوسرے ارشاد میں ہے : والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتوا باربعۃ شہداء فاجلدوھم ] النور : 4[
قراءت : عیسیٰ بن عمر نے نصب سے پڑھا ہے۔ اس فعل کو مضمر مانا ہے۔ جس کی ظاہر تفسیر کر رہا ہے اور یہ سورة انزلناھا سے زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ امر ہے۔
فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَہٍ (تم ان میں سے ہر ایک کو کوڑے مارو) الجلد : بدن پر مارنا۔
فائدہ : اس میں اشارہ ہے کہ کوڑا مارنے میں اتنا مبالغہ نہ کیا جائے گا۔ کہ تکلیف گوشت تک پہنچے اور خطاب حکام کو کیا گیا ہے کیونکہ حد کی اقامت دین میں سے ہے اور اس کی ذمہ داری تمام لوگوں پر ہے اور تمام کا اجتماع ممکن نہیں پس امام ان کے قائم مقام ہوا اور یہ اس آزاد کا حکم ہے جو شادی شدہ نہ ہو کیونکہ شادی شدہ کی سزا تو سنگ ساری ہے۔
شرائط ِاحصان :
رجم کیلئے یہ ہیں۔ نمبر 1۔ آزادی، نمبر 2۔ عقل نمبر 3۔ بلوغ نمبر 4۔ اسلام۔ نمبر 5۔ صحیح نکاح سے شادی نمبر 6۔ قربت۔
فائدہ : یہ دلیل ہے کہ تغریب حد شرعی میں داخل نہیں اس لئے کہ فائؔ شرط کی جزاء پر داخل ہوتی ہے اور جزاء اس چیز کو کہتے ہیں جو کفایت کرنے والی ہو۔ جس روایات میں تغریب کا تذکرہ ہے وہ آیت سے منسوخ ہے جیسا کہ حبس اور ایذاء اس قول میں منسوخ ہے : فا سکوھن فی البیوت۔ النسائ : 15 اور فاذوھما ۔ النسائ : 16۔ اس آیت کے ذریعہ : وَّ لَاتَاْخَذُکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ (اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آنا چاہیے) رأفہ بمعنی رحمت ہے۔
قراءت : مکی کی قراءت میں رافۃ، راء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
ایک قول : ناپسند کو دفع کرنا رأفت کہلاتا ہے پسندیدہ چیز کا پہنچانا رحمت کہلاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو پورا کرنے میں مسلمانوں کو پختگی سے کام لینا چاہیے اور اس کی حدود کے پورا کرنے میں نرمی ہرگز نہ برتنی چاہیے کہ جس سے حدود معطل ہوں یا ضرب میں تخفیف کریں فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے دین میں) اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا اس کے حکم میں : اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (اگر تمہیں اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے) اس میں ابھارا گیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی خاطر غیرت کو برانگیختہ کیا گیا ہے۔
نحو : یہ شرط ہے اور اس کا جواب مضمر ہے۔ فاجلدواو لاتعطّلوا الحسد۔
سزا کے وقت لوگوں کی موجودگی :
وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا (اور ان کی سزا کے وقت میں حاضر ہو) ان کو حدلگنے کے مقام پر موجود ہو۔ عذاب سے حد کو تعبیر کرکے بتلا دیا کہ وہ سزا ہے۔ طائفۃ (ایک گروہ، جماعت) ممکن ہے کہ وہ حلقہ بنالیں تاکہ وہ عبرت پکڑیں اور اس کو ڈانٹ پڑے۔ ان کی کم سے کم تعداد تین یا چار ہے۔ یہ طائفہؔ صفت غالبہ ہے گویا ایسی جماعت ہو جو کسی چیز کے گرد گھیرنے والی ہو۔ قول ابن عباس ؓ : چار سے چالیس آدمی ہوں۔ من المؤمنین (اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرنے والوں میں سے۔ )
Ayah 24:3شفاعت میں اضافہ کے لئے قرین مشرک بنانا :
3: اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْمُشْرِکَۃً وَّ الزَّانِیَۃُ لَایَنْکِحُھَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ (زنا کرنے والا نکاح نہیں کرتا مگر زنا کرنے والی سے یا شرک کرنیوالی سے اور زانیہ سے نکاح نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک) یعنی وہ خبیث شخص جس کا کام زنا والا ہے وہ صالحہ عورتوں سے نکاح کی رغبت نہیں رکھتا وہ تو اپنے جیسی خبیثہ کی طرف ہی رغبت رکھتا ہے۔ یا مشرکہ کی طرف راغب ہے۔
الخبیثۃ یعنی زانیہ وغیرہ اسی طرح اپنے نکاح کیلئے نیک لوگوں کی طرف رغبت نہیں رکھتی وہ نکاح کی رغبت فساق و فجار اور مشرکین سے رکھتی ہے جو اسی طرز و طریق والے ہوتے ہیں۔
حاصل آیت یہ ہے زانیہ عورتوں کے ساتھ نکاح سے زہد اختیار کیا جائے۔ اس لئے کہ زنا قباحت و شناعت میں شرک کا معادل ہے اور ایمان اور پاکدامنی چولی دامن کا ساتھ رکھتے ہیں اس کی نظیر دوسرے ارشاد میں ہے : الخبیثات للخبیثین
] النور : 26[ ایک قول یہ ہے زانیہ عورت سے نکاح ابتدائے اسلام میں حرام تھا۔ پھر اس آیت سے منسوخ ہوا : وانکحوالایامٰی منکم ] النور : 32[ (یہ سعید بن مسیب کا قول ہے گویا اس آیت سے بےشوہر عورتوں سے بلا تخصیص نکاح کی اجازت ہوگئی)
قول دیگر یہ ہے نکاح سے وطی مراد ہے کیونکہ غیر زانی، زانیہ عورت کو گندا سمجھتا ہے اور اس کی خواہش نہیں رکھتا یہ بات تو صحیح ہے مگر یہ اس قول کی طرف پہنچانے والی ہے : الزانی لا یزنی الابزانیۃ والزانیۃ لا یزنی بھا الازانٍ کہ زانی تو زانیہ سے ہی زنا کرتا ہے اور زانیہ زانی کے ساتھ ہی زنا کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے کسی عورت سے زنا کیا ہو۔ پھر اس سے شادی کرلے تو فرمایا اس کی ابتداء تو زنا ہے اور انتہاء نکاح ہے۔ (کنزالعمال) اول جملہ کا مطلب یہ ہے کہ زانی کی حالت یہ ہے کہ وہ پاکدامن عورتوں کی طرف رغبت نہیں رکھتا۔ لیکن زانیہ عورتوں کی طرف راغب ہے۔ دوسرے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ زانیہ عورت کی حالت تو یہ ہے کہ وہ پاکدامن مردوں کی طرف رغبت تو نہیں رکھتی لیکن زانیوں کی طرف رغبت رکھتی ہے۔ یہ دو معانی مختلف ہیں۔
نکتہ : الزانیہ کو الزانی سے پہلے لایا گیا۔ کیونکہ یہ آیت دونوں کی حرکت پر حد کیلئے اتری اور عورت ہی تو مادئہ جنابت ہے کیونکہ اگر وہ مرد کو طمع نہ دلاتی اور نہ بھڑکاتی اور اس کو اپنے اوپر قابو نہ دیتی تو وہ اس کی طمع نہ کرسکتا تھا اور نہ ہی اس پر قابو پاسکتا تھا۔ جب وہ اس میں اصل اور بنیادٹھہری تو تشنیع کیلئے اولاً اس کا تذکرہ کردیا گیا۔ اور دوسری آیت تذکرئہ نکاح کیلئے لائی گئی ہے اور اس میں مرد اصل ہے۔ کیونکہ پیغام نکاح دینے والا وہی ہے۔ اور طلب کی ابتداء اسی کی طرف سے ہوئی۔
قراءت : لا یَنْکحْ نہی قرار دیکر جزم سے پڑھا گیا اور مرفوع پڑھنے میں بھی معنی نہی کا پایا جاتا ہے اور یہ زیادہ بلیغ و مؤکد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ خبر محض بھی ہوسکتی ہے اس کا معنی یہ ہوگا ان کی عادت اسی طریقہ سے چلی آرہی ہے پس مومن کیلئے مناسب نہیں کہ اپنے آپ کو اس عادت کے تحت داخل کرے اور وہ اس سے اپنے کو بچا کر رکھے۔
تحریم کا معنی :
وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (اور حرام کی گئی یہ ایمان والوں پر) یعنی زنا یا زانیہ سے ان کی کمائی کھانے کی غرض سے نکاح کرنا یا اس میں فسّاق سے مشابہت اور مواقع تہمت میں اپنے آپ کو پیش کرنا ہے اور اپنے متعلق بری بات کا سبب پیدا کرنا اور غیبت میں مبتلا کرنا، غلط مجالس کا اختیار کرنا بلکہ ارتکاب گناہ کے کتنے ہی مواقع مہیا کرنا ہے ؟ پھر زانیہ اور قحبہ خانے کی عورتوں سے نکاح تو مرکز گناہ کیونکر نہ ہو ؟
Ayah 24:4تہمت لگانے والوں کا حکم :
4: وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصِنٰتِ (اور وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں)
قراءت : علی نے مُحصِنَات پڑھا ہے۔
مطلب یہ ہے وہ زنا کی تہمت، آزاد، پاکدامن مسلمہ مکلفہ پر لگاتے ہیں۔ القذفؔ تہمت زنا اور دیگر تہمتوں کیلئے بھی آتا ہے یہاں مراد زنا کی تہمت ہے کہ اس طرح کہے یا زانیۃ۔ نمبر 1۔ کیونکہ زانیہ عورتوں کے بعد پاکدامنہ عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ نمبر 2۔ اس لئے بھی کہ چار گواہ اس کے لیے شرط نہیں اس ارشاد کی بناء پر : ثُمَّ لَمْ یَاتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآ ئَ (پھر وہ چار گواہ نہ لائے) وہ چار گواہ نہیں لائے جو زنا کی گواہی دیں کیونکہ قذف بغیر زنا یہ ہے کہ کہے یا فاسق یا آکل الربا۔ اس میں دو گواہ کافی ہیں اور اس پر تعز یر ہوگی۔
شروط احصان القذف :
نمبر 1۔ حریت نمبر 2۔ عقل۔ نمبر 3۔ بلوغ نمبر 4۔ اسلام، نمبر 5۔ زنا سے پاک ہونا۔ محصن اور محصنہ وجوب حد قذف میں برابر ہیں۔ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً (ان کو اسّی کو ڑے مارو) اگر (قاذف) تہمت لگانے والا آزادہو۔
نحو : ثمانین اسی طرح منصوب ہے جیسے مصدر منصوب ہوتے ہیں جیسا کہ مائۃ جلدۃ منصوب ہے اور جلدۃًؔ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔
وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا (اور تم ہرگز ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو) شہادت کا لفظ نکرہ تحت النفی ہے جو کہ ہر شہادت کو عام ہے۔ احناف کے نزدیک حد کی شہادت رد کردی جائے گی اور اس کا تعلق استیفائے حد یا بعض حد سے ہے جیسا کہ معروف ہے۔
عندالشافعی (رح) اس کی شہادت کا مسترد کرنا نفس قذف سے ہے۔ عندنا رمی کی سزا کو ڑے ہیں اور شہادت کا رد کرنا مدت حیات تک ہوگا۔ وَ اُولٰٓىِٕكَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ( اور یہ لوگ فاسق ہیں۔ ) یہ جملہ مستانفہ ہے۔ شرط کی جزاء کی حدود میں داخل نہیں ہے جملہ شرطیہ کے اختتام پر گویا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تہمت لگانے والوں کی حکایت حال ذکر کی گئی اور اس کا فرمانا :
Ayah 24:55: اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ (مگر وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی) تہمت سے وَ اَصْلَحُوْا (اور درستگی کرلی) اپنے حالات کی۔
نحو : یہ الفاسقون سے استثناء ہے اور اس پر یہ ارشاد دلالت کر رہا ہے۔
فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّ حِیْمٌ (پس بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں) وہ گناہوں کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ عندنا مستثنیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ منصوب ہو کیونکہ وہ کلام موجب سے استثناء ہے۔ دوسرا قول جنہوں نے استثناء کو جملہ ثانیہ سے متعلق قرار دیا ان کے ہاں مجرور ہے اور لھمؔ میں ھمؔ سے بدل ہے۔ : پہلے اجنبی عورتوں کے قذف کا ذکر تھا۔ اب ازواج کے قذف کا ذکر فرمایا۔
Ayah 24:6بیوی پر تہمت کا حکم لعان :
6: وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ (اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں) یعنی اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگاتے ہیں۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآ ئُ ( اور ان کے پاس گواہ بھی نہیں) اور ان کے پاس ان کی بات کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں جو گواہی دے۔ اِلَّا اَنْفُسُھُمْ (مگر صرف اپنی ذات) یہ شہداء سے بدل ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ اَرْبَعُ (تو ان میں سے ایک کی شہادت یہی ہے کہ وہ چار بار) ۔
قراءت : ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء نے رفع پڑھا ہے۔ اس بناء پر کہ یہ شہادہ احدھم مبتدأ کی خبر ہے۔ دیگر قراء نے نصب پڑھا ہے کیونکہ یہ اس مصدر کے حکم میں ہے جو مصدر کی طرف مضاف ہو۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی فواجب شہادۃ احدھم اربع۔ چار مرتبہ اس کا شہادت دینا ضروری ہے۔ شَھٰدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قسم کھا کر کہے کہ بلاشبہ میں سچا ہوں) اس زنا کی تہمت میں جو میں نے لگائی ہے۔
Ayah 24:77: وَالْخَامِسَۃُ (اور پانچویں مرتبہ اس طرح کہے) الخامسۃُ کے مرفوع ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : والشہادۃ الخاصۃ۔ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ (کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو)
نحو : یہ مبتدأاور خبر ہے
اِنْ کَانَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ (اگر وہ جھوٹا ہو) اس الزام میں جو اس نے اس عورت پر لگا یا ہے۔
Ayah 24:88: وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ (اور اس سے سزاکو روک دے گا) حبس کو اس سے روک دے گا۔ یدرأ کا فاعل ان تشھد الایۃ ہے۔ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ (وہ عورت گواہی دے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم دیکر کہ) اس کا خاوند : لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ (پرلے درجہ کا جھوٹا ہے) اس الزام میں جو زنا کا اس نے میرے ذمہ لگایا ہے۔
Ayah 24:99: وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَا اِنْ کَانَ (اور پانچویں مرتبہ وہ اس طرح کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو اگر ہو اس کا) خاوند۔ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (سچوں میں سے) اس بات میں جو اس نے زنا کی تہمت مجھ پر لگائی ہے۔
قراءت : الخامسۃ کو حفص نے اربع پر عطف کرتے ہوئے پڑھا اور اس کو منصوب قرار دیا جبکہ دیگر قراء نے ابتداء کی وجہ سے رفع دیا ہے اور اَنَّ غَضَبَ اللّٰہ اس کی خبر ہے اور نافع نے اَنْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ اور اَنْ غَضِبَ اللّٰہ کے اَنْ کو تخفیف کے ساتھ اور غَضِب کی ضادؔ کو کسرہ سے پڑھا اور یہ دونوں اَنْ مثقلہ کے حکم میں ہیں۔ اور اَنْ غَضَبُ اللّٰہ سھل اور یعقوب نے پڑھا ہے۔
وجہ تخصیص :
عورت و الی جانب خاص طور پر غضب اللہ کا لفظ استعمال فرمایا حالانکہ قضیہ تو طرفین کا ایک ہی قسم سے ہے کیونکہ عورتیں اپنی کلام میں لعنت کثرت سے استعمال کرتی ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے بسا اوقات ہوسکتا ہے کہ زبان پر کثرت سے جاری ہونے کی وجہ سے اس موقعہ پر بےپرواہ ہو کر لعنت کا لفظ زبان پر کہہ گزریں اور معاملہ کی اہمیت ان کے سامنے نہ رہے بلکہ گرجائے تو عورتوں کی جانب غضب کا لفظ استعمال کردیا تاکہ وہ قسم سے باز رہیں اور کسی شدید مجبوری پر ہی اٹھائیں۔
الاصل :
اصل بات یہ ہے کہ لعان ہمارے نزدیک گواہیاں ہیں جو قسم کے ساتھ مؤکد ہیں اور لعنت ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور مرد کے حق میں حد قذف کے قائم مقام ہیں اور عورت کے حق میں حدزنا کے قائم مقام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو شہادت کہا ہے۔ جب خاوند نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ دونوں اہل شہادت میں سے ہوں۔ تو لعان ان کے درمیان صحیح ہے اور جب دونوں نے لعان کرلی جیسا کہ ” النہر “ کتاب میں بیان کیا گیا تو اس وقت تک فرقت واقع نہ ہوگی جب تک قاضی ان کے مابین تفریق نہ کرے۔ عند زفر لعان سے ہی فرقت واقع ہوجائے گی۔ یہ فُرقت طلاق بائنہ ہے۔ عند ابی یوسف، زفر، والشافعی (رح) ابدی حرمت ہے۔
: آیت لعان ھلال یا عویمر عجلانی کے متعلق اتری جبکہ اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کے پیٹ پر جس کا نام خولہ ہے شریک بن سحماء کو پایا عورت نے اس کی تکذیب کردی آپ ﷺ نے ان پر لعان کو جاری فرمایا۔ ( ابوداوٗد)
Ayah 24:1010: وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ (اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا) عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ (تم پر اور اس کی رحمت) نعمتیں وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ (اور بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والے حکمت والے ہیں) لو لا کا جواب محذوف ہے ای لفضحکم ضرور تمہیں رسوا کردیتا۔ نمبر 2۔ سزا جلد دیتا۔
Ayah 24:11واقعہ ٔ اُفک :
1 1: اِنَّ الَّذِیْنَ جَآ ئُ وْ بِالْاِفْکِ (بیشک جو لوگ طوفان لائے وہ تمہاری ہی ایک جماعت ہے) افک انتہائی درجہ کا جھوٹ وافتراء۔ افک کی اصل الٹ دینا، موڑ دینا ہے کیونکہ یہ بات اپنی اصل سے پلٹی ہوئی ہے۔ اور یہاں اس سے وہ بہتان مراد ہے جو حضرت عائشہ ؓ پر باندھا گیا حضرت عائشہ ؓ کی زبان سے سنیں۔ میں نے غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر ایک ہار گم پایا۔ پس میں لشکر سے پیچھے رہ گئی اور جسامت کے ہلکا ہونے کی بناء پر ہودج باندھنے، اٹھانے والوں کو معلوم نہ ہوسکا۔ جب وہ کوچ کرچکے تو صفوان بن معطل نے میرے لئے اپنے اونٹ کو بٹھا یا اور لے کر چل دیئے یہاں تک کہ قافلے کے اترنے کے بعد قافلے کے ساتھ ملا دیا۔ پس میرے متعلق ہلاک ہوئے جو ہلاک ہوئے۔ میں تو ایک ماہ بیمار پڑگئی۔ آپ ﷺ پوچھتے تیرا کیا حال ہے ؟ مجھے آپ کی طرف سے شفقت کا وہ انداز نظر نہ آیا جو پہلے تھا۔ یہاں تک کہ میرے والد کی خالہ ام مسطح کا پائوں ایک دن کسی چیز سے اٹک کر لڑکھڑا گیا۔ تو ان کی زبان سے نکلا تعس مسطح میں نے ان کی اس بات کو غلط قرار دیا تو اس نے مجھے بہتان کی اطلاع دی۔ جب میں نے سناتو میری بیماری میں اضافہ ہوگیا اور اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت لے لی۔ میرے آنسو تھمتے نہ تھے۔ آنکھوں میں نیند نہ آتی تھی۔ میرے ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ آنسو میرے جگر کو پھاڑ ڈالیں گے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا ابشری یا حمیراء اے حمیرا خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ نے تمہاری براءت اتاردی۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے نہ کہ آپ کی مہربانی سے۔ ( رواہ احمد، البخاری، مسلم)
عُصْبَۃٌ (ایک جماعت) جس کی تعداد دس سے چالیس تک ہو۔ اعصوصبواؔ کا معنی جمع ہونا آتا ہے وہ عبدا للہ بن ابی ریئس المنافقین اور زید بن رقاعہ حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش اور ان کے معاونین تھے۔ مِّنْکُمْ (تم میں سے) مسلمانوں کی جماعت میں سے ہیں۔ حالانکہ خاندان صدیق ؓ کا خیال یہ تھا کہ افک کفار کی طرف سے پیش آیا ہے ایمان والوں کا اس میں فعل نہیں۔ لَا تَحْسَبُوْہُ (تم نہ گمان کرو) اس افک کو شَرًّا لَّکُمْ (کہ وہ تمہارے لئے برا ہے) اللہ تعالیٰ کے ہاں : بَلْ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ بلکہ وہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں اس پر ثواب ملے گا۔ اور اس بہتان سے براءت کیلئے اٹھارہ آیات اتاریں ہیں۔ اس خطاب میں رسول اقدس ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ اور عائشہ صدیقہ ؓ اور صفوان بن معطل اور وہ ایمان والے جن کو تکلیف پہنچی تھی۔ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنْ الْاِثْمِ (ان میں سے ہر شخص کیلئے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا) یعنی جماعت میں سے ہر شخص کی سزا اتنی ہی ہے جتنا اس نے گناہ میں حصہ لیا ہے۔ بعض صرف سن کر ہنس دیے اور بعض نے خاموشی اختیار کی اور بعض نے اس کے متعلق گفتگو بھی کی۔ وَالَّذِیْنَ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ (اور وہ شخص جس نے اس طوفان میں بڑا حصہ لیا) کبرہ معنی بڑا حصہ۔ مراد عبد اللہ بن ابی ہے۔ مِنْھُمْ (اس گروہ میں سے) لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (اس کے لئے بڑا عذاب ہے) اس سے مراد جہنم ہے حکایت بیان کی جاتی ہے کہ صفوان حضرت عائشہ ؓ کا ہودج لے کرگزرے جبکہ عبدا اللہ بن ابی اپنی قوم کے گروہ میں بیٹھا تھا۔ تو اس نے پوچھا یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا عائشہ ہیں اس نے کہا اللہ کی قسم نہ یہ اس سے بچی اور نہ وہ اس سے بچا۔
Ayah 24:12مقولہ عمر ؓ :
12: پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں حصہ لینے والوں کو تو بیخ کی۔ فرمایا : لَوْلَآ (کیوں نہ ایسا ہوا۔ ) اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ (جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی) یعنی افک و بہتان۔ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِھِمْ (تو مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے متعلق نیک گمان کیوں نہیں کیا) یعنی ان لوگوں کے متعلق جو انہی میں سے تھے پس مسلمان ایک جان کی طرح ہیں اور یہ اس ارشاد الٰہی کی طرح ہے : ولا تلمزوا انفسکم ( الحجرات : 11) خَیْرًا (یعنی پاکدامنی اور بھلائی) اور یہ اسی طرح ہے جو روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول ﷺ سے عرض کیا میں قطعی طور پر اس کو منافقین کا کذب قرار دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مکھی سے آپ کی ظاہر جلد کو جب محفوظ رکھا ہوا ہے کیونکہ مکھی بخارات پر بیٹھ کر اس سے لت پت ہوجاتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس ظاہر گندگی سے آپ کو بچایا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی عورت کی صحبت سے محفوظ نہ رکھیں جو اس قسم کے فحش کام میں لت پت ہو۔
بقول حضرت عثمان ؓ ، اللہ تعالیٰ نے آپکا سایہ زمین پر نہیں ڈالا تاکہ اس پر کوئی انسان قدم رکھے جب آپ کے سایہ پر قدم رکھنا ممکن نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کی عزت کو کوئی پامال کرے۔ حضرت علی ؓ جبرئیل ( علیہ السلام) نے آپ کو اطلاع دی کہ آپ کے نعلین میں گندگی اور جوتا اپنے پائوں سے اتارنے کا حکم دیا۔ اس گندگی کی بناء پر جو اس سے چمٹ گئی تھی پھر وہ اس کو نکالنے کا کیوں حکم نہ دے گا۔ بالفرض والتقدیر اگر اس نے فواحش سے اپنے آپ کو ملوث کیا ہے ؟ ابو ایوب انصاری ؓ نے اپنی بیوی کو کہا کیا تم دیکھ رہی ہو جو کچھ کہا جارہا ہے تو انکی بیوی نے کہا اگر تو صفوان کی جگہ ہوتا تو حرم رسول ﷺ کے متعلق بدگمانی کرسکتا تھا ؟ ابو ایوب نے کہا نہیں۔ اس پر ام ایوب کہنے لگیں اگر میں عائشہ کی جگہ ہوتی تو میں بھی رسول اللہ ﷺ کی خیانت نہ کرتی۔ عائشہ تو مجھ سے بہت بہتر ہے اور صفوان تجھ سے بہتر ہے۔
حسن ادب :
صیغہ خطاب سے غائب کی طرف پھیرا گیا۔ اور ضمیر کی بجائے ظاہر لائے اور اس طرح نہیں کہا ظننتم بانفسکم خیرًا وقلتم تاکہ بطریق التفات تو بیخ میں مبالغہ ہو اور لفظ ایمان کی تصریح دلالت کرے کہ ایمان میں اشتراک اس بات کا متقاضی ہے کہ کوئی مومن ومومنہ دوسرے مومن ومومنہ کے متعلق کسی غائب اور طعنہ زن کی بات کا اعتبار نہ کرے۔ اور یہ بہترین تادیب ہے جس کا بہت کم لوگ لحاظ کرنے والے ور کم لوگ اس کی نگہبانی کرنے والے ہیں کاش تم بھی ایسا شخص پالیتے جو بات سنے اور خاموش رہے اور دوسروں میں اس کو پھیلائے۔ وَّ قَالُوْا ھٰذَآ اِفْکٌ مُّبِیْنٌ (اور وہ اس طرح کہے یہ کھلاہوا افتراء ہے) یہ کھلا جھوٹ ہے اور ان دونوں کے مناسب نہیں۔
Ayah 24:1313: لَوْلا جَآئُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآ ئَ (اور وہ کیوں نہ لائے اس پر چار گواہ) اس تہمت پر اگر وہ سچے تھے۔ فَاِذْلَمْ یَاْتُوْا بِالشُّھَدَآئِ (پس جب وہ گواہ نہیں لائے) چار فَاُولٰٓئِکَ عِنْدَ اللّٰہِ (پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں) اس کی شریعت و حکم میں ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (وہ وہی جھوٹے ہیں) یعنی تہمت لگانے والے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سچے اور جھوٹے الزام میں چار گواہوں کی گواہی کو سچ و جھوٹ کے مابین فیصلہ کرنے والی قراردیا۔ اور اس کے انتفاء کو الزام کی نفی قرار دیا حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے والوں کے پاس اپنی بات کی کوئی دلیل نہ تھی پس وہ جھوٹے تھے۔
Ayah 24:1414: وَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَآ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (اگر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتی تو جس حرکت میں تم پڑگئے تھے اس میں تم پر سخت عذاب واقع ہوتا) لولاؔ یہ شئی کے امتناع کیلئے ہے دوسری چیز کے وجود کے سبب۔ بخلاف اس کے جو پہلے گزرا ہے مطلب یہ ہوا کہ اگر میں نے تم پر دنیا میں قسم قسم کی نعمتوں کو عنایت کرنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ جس میں سے ایک یہ ہے کہ ہم مجرمین کو مہلت دیتے ہیں تاکہ توبہ کی طرف لوٹ آئیں اور آخرت میں ہم عفو و مغفرت کردیں۔ تو جس افک والی بات میں تم مبتلا ہوگئے تھے اس پر جلد عذاب تم پر نازل ہوتا۔ محاورئہ عرب ہے افاض فی الحدیث وفاض واندفع کسی بات میں گھس جانا۔
Ayah 24:1515: اِذ (یہ) مَسَّکمؔ کا ظرف ہے یا افضتم کا ظرف ہے : تَلَقَّوْنَہٗ (نقل درنقل کرنا) ایک دوسرے سے لے کر نقل کرتے تھے کہا جاتا ہے : تلقی القول وتلقنہ وتلقّفہٗ بات کو اچک کر نقل کرنا۔ بِاَلْسِنَتِکُمْ (اپنی زبانوں سے) یعنی تم ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے۔ کیا تمہیں عائشہ کی بات پہنچی ہے ؟ یہاں تک کہ یہ بات پھیل گئی اور منتشر ہوگئی کوئی گھر اور مجلس ایسی نہ رہی جس میں یہ بات نہ اڑی ہو۔
وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ( اور تم اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہہ رہے تھے جس کا تمہیں علم نہ تھا) اس کو افواہؔ سے مقید فرمایا حالانکہ بات تو ہوتی ہی منہ سے ہے کیونکہ معلوم چیز کا علم دل میں ہوتا ہے پھر زبان اس کی ترجمانی کرتی ہے اور یہ افک محض بات ہی ہے جو تمہارے مونہوں میں گھوم رہی ہے دل میں اس کا علم نہیں کہ جس کی ترجمانی زبانیں کر رہی ہوں۔ جیسا کہ دوسرے ارشاد میں فرمایا : یقولون بافواھھم مالیس فی قلوبھم۔ ) آل عمران : 167 (
وَّ تَحْسَبُوْنَہٗ (اور تم اس کو گمان کر رہے تھے) یعنی عائشہ ؓ کے متعلق بات کے نقل کرنے کو تم گمان کر رہے تھے کہ ھَیِّنًا (آسان ہے) چھوٹی بات ہے : وَّ ھُوَ عِنْدَ اللّٰہ عَظِیْمٌ (حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی بات ہے) بڑی ہے بعض لوگوں نے موت کے وقت گھبراہٹ ظاہر کی تو ان کو اس سلسلہ میں کہا گیا مجھے اس گناہ کا خطرہ ہے کہ جس کی مجھے پرواہ نہ تھی مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا ہے۔
Ayah 24:1616: وَلَوْلَآ (اور کیوں نہ ایسا ہوا) اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَکَلَّمَ بِھٰذَا (جب تم نے یہ بہتان سنا تھا تو تم نے کہہ دیا ہوتا کہ ہمارے لئے یہ بات کہنی جائز نہیں)
نحو : لولا اور قلتم کے درمیان ظرف سے فاصلہ ہے کیونکہ ظروف کا معاملہ الگ ہی ہے کہ اشیاء کیلئے ان کی ذات کے قائم مقام آتے ہیں کیوں اشیاء انہی کے اندر پائی جاتی ہیں۔ اور یہ اشیاء سے الگ نہیں ہوتے اس لئے ظروف میں جو وسعت ہے وہ دوسروں میں نہیں۔
فائدہ تقدیم ظرف :
ان پر لازم تھا کہ جو نہی انہوں نے افک کو سنا تھا اس کے متعلق گفتگو نہ کرنے کا فائدہ اٹھاتے۔ جب وقت کو ذکر کردیا تو مزید اہمیت والی بات ہوگئی مطلب یہ ہوا جب تم نے افک کو سناتو اس طرح کیوں نہ کہا کہ ہمارے لئے درست نہیں کہ ہم اس کے متعلق کلام بھی کریں۔ سُبْحٰنَکَ (پاک ہیں آپ) معاملے کی بڑھائی پر تعجب کیلئے لایا گیا ہے۔
تعجب فی التسبیح کا مطلب :
کہ اصل تو یہ ہے کہ کسی عجیب صنعت کو دیکھ کر اس پر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرے۔ پھر اس کا استعمال کثرت سے ہونے لگا یہاں تک کہ ہر عجیب کیلئے استعمال کرنے لگے۔ یا سبحانک اس لئے لایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے نبی کی بیوی فاجرہ ہو۔ البتہ یہ درست ہے کہ نبی کی بیوی کافرہ ہو جیسے نوح ولوط (علیہما السلام) کی بیوی تھی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ فاحشہ ہو کیونکہ پیغمبر کی بعثت ان کو دعوت الی الایمان کیلئے ہے پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایسی بات نہ ہو جو ان کو متنفر کرے۔ اور کفر نفرت دلانے والا نہیں۔ دیوثی و بےغیرتی ضرور متنفر کرنے والی ہے۔
ھٰذَا بُھْتَانٌ (یہ بہتان ہے) یہ ایسا جھوٹ ہے جو سننے والے کو متحیر کردیتا ہے۔ عَظِیْمٌ (بہت بڑا) جیسا کہ پہلے فرمایا : ھذا افک مبین ] النور : 12[ یہ بھی درست ہے کہ ان دونوں کا مسلمانوں کو اس لئے حکم دیا ہو تاکہ براءت عائشہ میں مبالغہ ہو۔
Ayah 24:1717: یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْا (اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ ایسی حرکت دوبارہ پھر کبھی نہ کرنا) یہ فی ان تعودوا کے معنی میں ہے۔ لِمِثْلِہٖٓ اَبَدًا اس جیسی تہمت والی بات یا اس جیسی بات کو سننا جب تک تمہاری زندگی ہو اور تم مکلف رہو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اگر تم مومن ہو) اس نصیحت حاصل کرنے پر برانگیختہ کیا گیا ہے اور یہ یاد دلایا گیا کہ اس کا اعادہ نہ کرنا ضروری ہے۔ اور وہ سچا ایمان ہے جو کہ ہر برائی سے بچانے والا ہے۔
وعظ : خوف دلانے والی باز داشت نمبر 2۔ خیر کو رقت کے ساتھ یاد دلانا۔ (خلیل (رح) )
Ayah 24:1818: وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ (اور اللہ تعالیٰ آیات کو تمہارے لئے کھول کر بیان کرتے ہیں) واضح دلالتیں شرائع کے احکامات اور عمدہ آداب وَاللّٰہُ عَلَیْمٌ حَکِیْمٌ (اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہارے اعمال کو جاننے والے ہیں) یا ان کی پاکیزگی کی صداقت کا علم ہے اور براءت کی حکمت وہ جانتے ہیں۔
Ayah 24:19برائی کی اشاعت کرنے والوں کی سزا :
19: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (بیشک وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں کہ بےحیائی ایمان والوں میں پھیل جائے) فاحشہ انتہائی قبیح کو کہا جاتا ہے۔ (زنا وغیرہ) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ برائی کی اشاعت اور برائی کی محبت کی وجہ سے برائی کو پھیلاتے ہیں۔
لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا (ان کے لئے دنیا میں دردناک عذاب ہے) دنیا میں ان پر حد جاری ہوگی۔ ابن ابی اور حسان اور مسطح کو حد لگائی گئی۔ وَالْاٰخِرَۃِ (آخرت میں) آگ کے ساتھ۔ اس کا وعدہ کیا اگر تو بہ کے بغیر مرگئے۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں) تمہارے معاملات کے اندرون اور تمہارے دلوں کی مخفی باتیں۔ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (اور تم نہیں جانتے) یعنی وہ جانتے ہیں کہ برائی کو پھیلانے کے ساتھ کس قدر ان کی محبت ہے اس کے مطابق وہ ان کو سزا دیں گے۔
Ayah 24:2020: وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ (اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے) تو وہ تمہیں جلد سزا دیتے اس نے جلد عذاب نہ دیکر بار دیگر احسان فرمایا ہے۔ اور جواب کو اس لئے حذف کردیا تاکہ احسان میں مبالغہ ظاہر ہو اور توبیخ کا فائدہ بھی حاصل ہو۔ وَاَنَّ اللّٰہَ رَ ئُ وْفٌ (اور اللہ تعالیٰ بڑا شفیق ہے) کہ جس پر تہمت لگی اس کی براءت واضح فرمائی اور ان کو اجر سے نوازا۔ رَّ حِیْمٌ (رحم کرنیوالے ہیں) تہمت لگانے والا اگر توبہ کرے تو اس کی جنایت و گناہ کو بخشنے والے ہیں۔
Ayah 24:2121: یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْاخُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ (اے ایمان والو شیطان کے قدم بقدم نہ چلو) خطوات سے قدموں کے نشانات اور وساوس شیطانی مراد ہیں ان کی اتباع یہ ہے کہ افک کی طرف کان لگائے اور زبان سے گفتگو کرے۔ وَمَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّہٗ (اور جو شخص شیطان کے قدم بہ قدم چلے گا وہ تو ہمیشہ) ہٗ کا مرجع شیطان ہے یعنی شیطان یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِِ (وہ فحشاء کا حکم دیتا ہے) فحشاء اس کو کہتے ہیں جو انتہائی قبیح ہو۔ والْمُنْکَرِ ( اور منکر کا) جس کو نفوس ناپسند کریں اور اس سے نفرت کریں اور نامعقول قرار دیں۔
وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ مَازَکٰی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا (اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو اس گناہ سے تم میں سے کبھی کوئی پاک نہ ہوتا) اگر خالص تو بہ کا احسان نہ فرمایا ہوتا تو افک کے گناہ سے ابدالا باد تک کیلئے تم میں سے کوئی پاک نہ ہوسکتا۔ وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ (لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے) وہ توبہ کرنے والوں کی تو بہ قبول کرکے ان کو پاک کرتا ہے جبکہ وہ مخلصانہ طور پر توبہ کریں۔ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ (اور اللہ تعالیٰ سننے والے ہیں) ان کی بات کو عَلِیْمٌ (جاننے والے ہیں) ان کے ضمائر وسرائر اور ان کے اخلاص کو۔
Ayah 24:22فضل کے مستحقین پر احسان میں کمی نہ کریں :
22: وَلَایَاْتَلِ (اور نہ قسم کھائیں) نمبر 1۔ ائتلی اذحلفیہ الألیّۃ سے باب افتعال ہے قسم کھانے کے معنی میں آتا ہے۔ نمبر 2۔ الالوٌ سے لیا جائے تو کمی نہ کریں معنی ہوگا۔ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُم (تم میں سے دینی فضیلت والے) وَالسَّعَۃِ (وسعت والے) مال میں : انْ یُّؤْتُوْا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (کہ نہ دیں گے قرابت والوں کو مساکین اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو) مطلب یہ ہے کہ وہ قسم نہ اٹھائیں کہ وہ مستحقین پر احسان نہ کریں گے۔
نمبر 2۔ ان پر احسان کرنے میں وہ کمی نہ کریں خواہ ان کے مابین رنجش ہو کسی ایسے جرم کی وجہ سے جو مساکین نے کیا ہو۔
مسئلہ : معلوم ہوا کہ مسکین بحیثیت مسکین قابل رحم ہے اگرچہ گناہ گار ہو۔
وَلْیَعفُوْا وَلْیَصَفَحُوْا (اور ان کو معاف کردیں اور ان سے درگزر کریں) عفو (پردہ پوشی) صفح (اعراض کرنا) مطلب یہ ہوا کہ جفاء سے تجاوز کریں اور عقوبت سے اعراض کریں : اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ (کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے) پس تم وہی سلوک ان سے کرو اگرچہ ان کی غلطیاں زیادہ ہیں جو سلوک تم اپنے متعلق اپنے رب کی بارگاہ سے چاہتے ہو۔
وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں) اللہ تعالیٰ کے آداب سے ادب حاصل کرو۔ بخشش کرو اور رحم کرو۔
فائدہ : یہ آیت صدیق اکبر ؓ کے متعلق اتری جب انہوں نے قسم اٹھالی کہ وہ مسطح پر کچھ بھی خرچ نہ کریں گے کیونکہ مسطح نے اس طوفان میں براہ راست حصہ لیا تھا۔ یہ مسطح ان کے بھانجے لگتے تھے مسکین تھے مہاجر بھی تھے اور غزوئہ بدر میں شرکت کرچکے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ابوبکر صدیق ؓ کے سامنے پڑھی تو وہ فوراً پکار اٹھے کیوں نہیں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔ اور مسطح کا خرچہ جاری کردیا۔ بلکہ بعض روایت میں دوگنا کردیا۔
Ayah 24:23پاکدامن پر تہمت لگانے والے ملعون ہیں :
23: اِنَّ الَّذیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ (بیشک جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں) محصنات سے پاکدامن مراد ہیں۔ الغٰفِلٰتِ (بےخبر) ۔ صحیح سالم سینہ والیاں۔ پاکیزہ دل ایسی کہ ان میں چالبازی اور فریب کا نام نہیں کیونکہ ان کو کسی بات کا تجربہ نہیں۔ المُؤْمِنٰتِ (مؤمنہ) جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ قول ابن عباس ؓ : اس سے مراد آپ کی ازواج مطہرات ؓ ہیں۔ ایک قول : اس سے مراد تمام مومنہ عورتیں ہیں۔
فائدہ : کیونکہ عموم الفاظ کا اعتبار ہے۔ سبب خاص کا لحاظ نہیں۔
ایک قول اس سے مراد اکیلی عائشہ صدیقہ ؓ ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ صیغہ جمع کا لایا گیا تو اس کا حل یہ ہے کہ جو شخص ازواج مطہرات ؓ میں سے کسی ایک پر بھی تہمت زنی کرتا ہے وہ تمام پر تہمت لگاتا ہے۔ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (ان پر دنیا میں لعنت کی گئی اور آخرت میں بھی اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے) ۔ تہمت لگانے والوں کو ملعون قرار دیا اس دنیا میں اور آخرت دونوں جہانوں میں اور ان کو آخرت کے بہت بڑے عذاب سے ڈرایا اگر ان کی موت اسی حالت پر آگئی۔
Ayah 24:2424: یَّوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْہِمْ (جس روز کہ ان پر گواہی دیں گی) یومؔ کا عامل یعذبون ہے۔
قراءت : حمزہ اور علی نے یاء سے پڑھا ہے۔
اَلْسِنَتُھُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پائوں جو کچھ وہ کرتے رہے) یعنی جو طوفان انہوں نے اٹھایا یا جو بہتان باندھا۔
Ayah 24:2525: یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْھِمُ اللّٰہُ دِیْنَھُمُ الْحَقَّ (اس دن اللہ تعالیٰ ان کو ان کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے گا) یومئذ نصب کی صورت میں دینؔ کی صفت ہے۔ اور دین کا معنی جزاء یعنی عوض ہے اور الحقؔ وہ واجب و لازم جس کے وہ مستحق ہیں۔
قراءت : مجاہد نے رفع کے ساتھ پڑھا اور لفظ اللہ کی صفت قرار دیا۔ جیسا کہ قراءت میں یہ بھی جائز ہے کہ الحق کو اللہ ؔ کی صفت بنائیں اور مدح کی بناء پر منصوب پڑھیں۔ وَیَعْلَمُوْنَ (اور وہ جان لیں گے) اس وقت : اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ (کہ اللہ تعالیٰ ہی بات کو ٹھیک کھول دینے والے اور ٹھیک فیصلہ کرنے والے ہیں) شکوک کے ازالہ اور علم ضروری کے حصول کیلئے۔
معاملہ افک :
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کسی معصیت کے سلسلہ میں اتنی تغلیظ و شدت نہیں فرمائی جتنی حضرت عائشہ ؓ کے سلسلہ میں فرمائی کبھی اختصار، کبھی اشباع، کبھی تفصیل اور کبھی اجمال اور کبھی تاکید اور پھر بار بار بیان کی اور یہ بات اس معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر اختیار کی گئی۔
قول ابن عباس ؓ : جس نے کوئی گناہ کیا پھر تو بہ کی تو اس کی توبہ قبول کرلی گئی مگر وہ کہ جس نے عائشہ ؓ کے معاملہ میں حصہ لیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاملہ افک کی عظمت میں اور مبالغہ کے پیش نظر کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے چار کو چار گواہوں سے بریٔ کیا نمبر 1۔ یوسف (علیہ السلام) کو عورت کے خاندان کے ایک گواہ سے بریٔ الذمہ قرار دیا۔ نمبر 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود کے الزام سے اس پتھر کے ذریعہ بریٔ کیا جو آپ کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہو۔ نمبر 3۔ مریم صدیقہ (علیہ السلام) کو عیسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں گویا کر کے بریٔ الذمہ ٹھہرایا۔
براء تِ عائشہ ؓ قرآن سے :
نمبر 4۔ عائشہ صدیقہ ؓ کو اپنی کتاب معجز نما کی ان آیات کو اتار کر بری الذمہ قرار دیا۔ یہ آیت اپنے مبالغانہ انداز سے رہتی دنیا تک پڑھی جاتی رہیں گی۔ ذرا توجہ تو کرو ! کس قدر واضح کیا اور ان کی براءت کو کس شان سے بیان کیا ؟ اور یہ تمام باتیں اپنے رسول کے مرتبہ عالی کو ظاہر کرنے اور آپ کے اور آپ کے گھرو الوں کے مقام کی نزاکت پر متنبہ کرنے کیلئے ہیں۔
Ayah 24:2626: اَلْخَبِیْثٰتُ (خبیث باتیں) لِلْخَبِیْثِیْنَ (وہ خبیث مردوں اور عورتوں کیلئے ہیں) وَالْخَبِیْثُوْنَ (اور ان میں سے جو گندے ہیں وہ میلان رکھتے ہیں) لِلْخَبِیْثٰتِ (خبیث باتوں کی طرف) اور اسی طرح : وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ للِطَّیِّبٰتِ اُولٰٓئَکَ مُبَرَّئُ وْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ (اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ انسانوں کے لئے اور پاکیزہ انسان پاکیزہ باتوں کیلئے ہیں وہ لوگ بریٔ الذمہ ہیں ان تمام باتوں سے جو وہ کہتے ہیں) ان کے متعلق اُولٰٓىِٕكَ کا مشار الیہ الطیبین ہے۔ اور وہ ان خبیث کلمات سے بریٔ الذمہ ہیں جو یہ خبیث لوگ کہتے ہیں اور یہ کلام بطور تمثیل کے عائشہ ؓ کے لئے بیان فرمائی ہے کہ جو الزام بازی ان کے متعلق کی گئی ہے وہ ان کی نزاہت و پاکیزگی والی حالت کے مناسب نہیں ہے۔
نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اشارہ اہل بیت کی طرف ہو کہ وہ افک والوں کے اقوال سے بریٔ الذمہ ہیں۔ اور الخبیثات اور الطیبات سے وہ عورتیں مراد ہوں کہ خبیث عورتیں خبیث مردوں سے شادی کرتی ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں سے شادی کرتے ہیں۔ اس طرح پاکیزگی والی عورتیں پاکیزہ مردوں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں سے شادی کرتے ہیں۔ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ (ان کے لئے بخشش ہے) نمبر 1۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ نمبر 2۔ یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ (اور شاندار رزق ہے) جنت میں۔
ٍقول ابن عباس ؓ :
عائشہ ؓ کے ہاں مرض الموت میں داخل ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیشی سے ڈر رہیں تھیں۔ تو ابن عباس کہنے لگے مت گھبرائو تم نے تو مغفرت اور رزق پر ہی پہنچنا ہے اور یہ آیت تلاوت کی اس پر خوشی سے یہ تلاوت سن کر بیہوش ہوگئیں۔
عائشہ ؓ کی نو فضیلتیں :
صدیقہ ؓ کا قول : مجھے نو ایسی فضیلتیں میسر آئیں جو کسی زوجہ کو میسر نہ آئیں۔ نمبر 1۔ جبرئیل امین میری تصویر لائے جب آپ کو میرے ساتھ نکاح کا حکم ہوا۔ نمبر 2۔ میرے علاوہ اور کسی کنواری عورت سے آپ نے شادی نہ کی۔ نمبر 3۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت آپ کا سر میری گود میں تھا۔ نمبر 4۔ آپ کا مدفن میر احجرہ بنا۔ نمبر 5۔ آپ ﷺ پر وحی کا نزول اس حالت میں بھی ہوجاتا کہ میں آپ کے ساتھ ایک لحاف میں ہوتی۔ نمبر 6۔ میری پاک دامنی کی صراحت آسمانوں سے نازل ہوگئی۔ نمبر 7۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کی صاحبزادی ہیں اور آپ کے دوست کی صاحبزادی ہیں۔ نمبر 8۔ میں طیّب کے ہاں طیّبہ پیدا ہوئی۔ نمبر 9۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ فرمایا۔
قول حسان ؓ جو ان کے حق میں معذرت ظاہر کر رہا ہے۔
نمبر 1۔ وہ بڑی پاک دامن اور بڑی باوقار ہیں کسی شبہ کی بات سے متہم نہیں کی جاسکتیں ان کا پیٹ بیخبر بھولی عورتوں کے گوشت سے خالی رہتا ہے۔ (یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں) نمبر 2۔ وہ ان کی زوجہ محترمہ ہیں جو لوگوں میں دین و منصب کے اعتبار سے سب سے بہتر ہیں۔ وہ ہدایت و عظمت اور فضیلتوں والے پیغمبر ہیں۔ نمبر 3۔ وہ لوی بن غالب کے قبیلہ کی چنی ہوئی عقل مند عورت ہیں جو سخی خاندان ہے۔ ان کی بزرگی زائل ہونیوالی نہیں۔ نمبر 4۔ وہ تہذیب والی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی طبعیت و عادات کو پاکیزہ بنایا ہے اور ان کو ہر عیب اور بری بات سے پاک رکھا ہے۔
Ayah 24:27گھروں میں داخلے کے احکامات :
27: یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ (اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہو) یعنی ان گھروں میں جن کے تم مالک نہیں ہو۔ اور نہ ان میں تمہاری رہائش ہو۔ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا (یہاں تک کہ تم ان سے اجازت نہ حاصل کرلو) ان سے اجازت طلب کرلو۔ ابن عباس ؓ نے اس کو اسی طرح پڑھا۔ الاستیناسؔ اصل میں اطلاع طلب کرنا، ظہور طلب کرنا۔ یہ آنسؔ سے باب استفعال ہے۔ آنس الشیٔ اس وقت کہتے ہیں جب کسی چیزکو ظاہر اً کھلا ہوا دیکھے یہاں تک کہ تم معلوم کرلو کہ آیا تمہیں داخلہ کی اجازت ہے یا نہیں اور اس کا طریقہ زور سے سبحان اللہ کہنا یا اللہ اکبر کہنا یا الحمدللہ کہنا یا کھنکھارنا۔
وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَھْلِھَا (اور تم گھروالوں کو سلام نہ کرلو) سلام یہ ہے کہ اس طرح کہے السلام علیکم۔ أادخل کیا میں آجائوں تین مرتبہ کہے (جیسا کہ ابوداوٗد، ترمذی کی روایت میں ہے) اگر اجازت مل گئی فبہا ورنہ واپس لوٹ جائے۔ ایک قول یہ ہے اگر دونوں ملیں تو سلام پہلے کیا جائے ورنہ اجازت طلب کی جائے۔ ذٰلِکُمْ (وہ اجازت وسلام تمہارے لئے) خَیْرٌ لَّکُمْ (تمہارے لئے بہت بہتر ہے) جاہلیت کے سلام یا بلا اجازت داخلہ سے۔ زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی کسی کے گھر میں داخل ہوجاتا تو کہتا : حییتم صباحًاا وحییتم مساء پھر داخل ہوجاتا۔ بعض اوقات وہ اس آدمی کو اپنی عورت کے ساتھ ایک لحاف میں پا لیتا۔ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (تاکہ تم نصیحت قبول کرو) یعنی تمہیں اس لئے کہا گیا تاکہ یاد رکھو اور نصیحت حاصل کرو۔ اور استیذان کے سلسلہ میں جو تمہیں حکم ملا ہے اس پر عمل پیر اہو۔
Ayah 24:2828: فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْھَآ (اگر تم ان میں نہ پائو) یعنی گھروں میں اَحَدًا (کسی کو) اجازت دینے والوں میں سے فَلاَ تدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ (تو ان میں داخل نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے) یہاں تک کہ تم اجازت دینے والے کو پالو۔ یا نمبر 2۔ اگر تم وہاں کسی کو نہ پائو اور تمہیں داخل ہونے کی ضرورت ہے تو اس میں داخل نہ ہو۔ جب تک گھر والوں کی طرف سے اجازت نہ مل جائے کیونکہ غیر کی ملک پر تصرف بلا اجازت درست نہیں ہے۔
وَاِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا (اور اگر تمہیں لوٹنے کو کہا جائے) یعنی جب وہاں کچھ لوگ موجود ہوں اور وہ کہیں کہ واپس لوٹ جائو تو تم واپس آجائو۔ اور اذن عام کیلئے اصرار نہ کرو۔ اور پردے کی آسانی کیلئے بہانہ مت تلاش کرو اور دروازوں پر مت کھڑے ہو کیونکہ اس سے ناپسندیدگی جنم لیتی ہے جب اس بات سے منع کردیا جو ناپسندیدگی پیدا کرتی ہو تو ہر ایسی بات سے باز رہنا ضروری ہوگیا جو اس کی طرف لے جانے والی ہو۔ مثلاً زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانہ اور گھر والے کو چیخ کر آواز دینا وغیرہ۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے کسی عالم کا دروازہ آج تک کبھی نہیں کھٹکھٹایا۔ فَارْجِعُوْا ھُوَ اَزْکٰی لَکُمْ (اور تم لوٹ آئو یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے) یعنی لوٹ جانازیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے کیونکہ اس میں سینہ کی صفائی اور اشتباہ سے دوری ہے۔ نمبر 2۔ زیادہ نفع بخش اور بھلائی کو بڑھانے والا ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کا علم ہے) اس میں مخاطبین کیلئے وعید ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال معلوم ہیں وہ ان پر پورا پورا بدلہ دینے والے ہیں۔
Ayah 24:29غیر رہائشی مکانات کا حکم :
29: لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا (تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم داخل ہو) تمہارے داخل ہونے میں بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ (ایسے گھروں میں جہاں کسی کی سکونت نہ ہو) اجازت داخلہ سے ان گھروں کو مستثنیٰ کردیا گیا جن میں رہائش نہ ہو مثلاً ہوٹل، سرائیں، منڈیاں۔ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ (ان میں تمہارے لئے سامان نفع ہو) ۔ اس میں فائدہ ہو مثلاً گرمی، سردی سے بچنے کا سامان، کجاوے اور ہتھیاروں اور ان کی خریدو فروخت کے مقامات۔ ایک قول ویران جنگل جو قضائے حاجت کیلئے استعمال ہوتے ہیں المتاعؔ سے مراد بول وبراز کیلئے جانا۔ یہ قول عطاء ہے۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو) اس میں ان مشکوک لوگوں کیلئے وعید ہے جو ویرانوں اور گھروں میں فساد کی غرض سے داخل ہوتے ہیں۔
Ayah 24:30غض بصر کا حکم :
30: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ (ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں) ۔
نحو : منؔ یہاں تبعضیہ ہے یہاں مراد نامحرم سے نگاہ کا نیچا رکھنا ہے اور اس پر اکتفائے نظر کرنا جن کو دیکھنا حلال ہے۔
وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ (اور وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں) ۔ زنا سے۔
نکتہ : یہاں منؔ نہیں لایا گیا۔ کیونکہ زنا کی کسی طور پر بھی رخصت نہیں۔ البتہ بعض حالات مخصوصہ میں اجنبیہ کے چہرے پر نظر درست ہے اسی طرح اس کے ہاتھوں اور قدمین کا بھی حکم ہے۔ ایک روایت اور محارم کے سر، سینہ، پنڈلیاں اور عضوین پر ضرورت کے وقت نظر درست ہے۔ ذٰلِکَ (یہ) یعنی نگاہ کا نیچا کرنا اور شرمگاہ کی حفاظت۔ اَزْکٰی لَھُمْ (ان کے لئے زیادہ ستھرائی کی بات ہے) یعنی گناہ کی میل سے زیادہ صفائی و پاکیزگی کی بات ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ ان کاموں کی خبر رکھتے ہیں جو وہ کرتے ہیں) اس میں ترغیب و ترہیب دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے احوال و افعال کی اطلاع ہے اور ان کی نگاہوں کی خیانت سے بھی واقف ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور ] غافر : 19[ پس ان کیلئے ضروری ہے کہ جب وہ اس بات کو پہچانتے ہیں ہر حرکت و سکون میں محتاط رہیں اور تقویٰ کو سامنے رکھیں۔