Ayah 23:11: قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (تحقیق ایمان والے کامیاب ہوگئے)
Ayah 23:22: الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خَاشِعُوْنَ (تحقیق فلاح پائی ان مؤمنون نے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں)
ایمان والوں کی متوقع بشارت :
قَدْاَفْلَحَ میں قد لمَّا کی نقیض ہے۔ یہ متوقع کو ثابت کرتا ہے جبکہ لمَّا اس کی نفی کرتا ہے مومن اس قسم کی بشارات کی توقع رکھتے تھے۔ اس میں ان کے لئے کامیابی کے ثابت ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اس لئے جس بات کی وہ توقع رکھتے تھے اسی کے ثبوت پر دلالت کے انداز سے خطاب کیا گیا۔ الفلاحؔ مطلوب کو پالینا اور خطرات سے بچ جانا۔ یعنی انہوں نے اپنے مطالبے کو پالیا اور جن چیزوں سے وہ خائف تھے ان سے نجات پالی۔ الایمانؔ لغت میں تصدیق کو کہتے ہیں اور المؤمن تصدیق کرنے والا۔
شرع میں ایمان :
ہر وہ شخص جو شہادتین کا زبان سے اس حالت میں اقرار کرلے کہ اس کا دل اس کی زبان سے موافقت کرنے والا ہو۔ وہ مومن کہلاتا ہے۔
قول رسول اللہ ﷺ : اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کر کے فرمایا بات کرو تو جنت نے کہا : قد افلح المؤمنون، تین مرتبہ کہا مجھے ہر بخیل دکھلاوے والے پر حرام کردیا گیا ہے ] ابونعیم : 17[ کیونکہ اس نے عبادات بدنیہ کو ریاکاری سے باطل کردیا اور عبادت مالیہ تو پہلے ہی اس کی موجود نہیں ہے۔
2: الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خَاشِعُوْنَ ، خاشعون کا معنی دل سے ڈرنے والے ہیں اور ان کے جو ارح پر سکون ہیں۔ دوسرا قول خشوع فی الصلاۃ اور وہ یہ ہے کہ اپنی توجہ کو اس کے لئے جمع کرنا اور اس کے ماسوا سے اعراض کرنا اور نگاہ کا جائے نماز سے آگے نہ بڑھنا دائیں بائیں متوجہ نہ ہونا۔ نہ کپڑوں سے کھیلنا نہ کپڑا لٹکانا۔ نہ انگلیاں مٹکانا۔ اور نہ کنکریوں کو الٹنا پلٹنا وغیر ذلک۔ قول ابو الدرد اء ؓ : زبان کے اخلاص، مقام کی تعظیم اور کامل یقین اور مکمل یکسوئی کو خشوع کہا جاتا ہے۔ خشوع نگاہ و آواز میں تواضع اور خضوع اعضائے بدن میں سکون۔
اضافت ِصلاۃ :
نماز کی اضافت نمازیوں کی طرف کی گئی مصلی لہ کی طرف نہیں کی گئی۔ کیونکہ نمازی کو صرف اس سے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ اس کا ذخیرہ اور زاد سفر ہے باقی ذات باری تعالیٰ جس کے لیے نماز پڑھی جار ہی ہے۔ وہ اس سے غنی و بےنیاز ہے۔
Ayah 23:33: وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِمُعْرِضُوْنَ (اور وہ لوگ جو لغو سے اعراض کرنے والے ہیں) ۔
اللَّغْوِ ، ہر گری ہوئی بات جو بےکار ہونے کی مستحق ہو مثلاً جھوٹ، گالی، بکواس، مطلب یہ ہے ان کو ایسا وقار حاصل ہے جو ہزل سے ان کو مصروف کرنے والا ہے۔ پچھلی آیت میں ان کی صفت خشوع فی الصلاۃ کی ذکر کی تو اس آیت میں ان کی دوسری صفت لغویات سے اعراض کی ذکر کردی۔ تاکہ نفوس پر گراں گزرنے والی دو باتیں ان میں جمع ہوجائیں۔ نمبر 1۔ فعل خشوع اور ترک لغو اور یہی دونوں چیزیں تکلیف کی عمارت کے بنیادی پتھر ہیں۔
Ayah 23:44: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ (اور وہ لوگ جو زکوٰۃ کو ادا کرنیوالے ہیں) فاعلون کا معنی ادا کرنے والے ہیں۔ فاعلون ؔ کے استعمال سے ان کی مداومت کو ثابت کیا۔ مؤدون کا لفظ یہ مداومت نہیں رکھتا۔
ایک قول الزکوٰۃ کا لفظ مشترک ہے اس کا اطلاق اعیان پر ہوتا ہے تو اس سے وہ مالی مقدار مراد لی جائے گی جسے زکوٰۃدینے والا نصاب میں سے فقیر کے سپرد کرتا ہے اور اگر اسکا اطلاق معنی پر ہو تو پھر مراد اس سے تزکیہ کا فعل جو پاکیزگی والا انجام دیتا ہے۔
مفسر کی رائے :
یہاں یہی مراد ہے تزکیہ کرنے والوں کو فاعلین کہا کیونکہ فعل کا لفظ تمام افعال کو عام ہے جیسے الضرب، القتل وغیرہ۔ تم کہو گے فعل : الضرب والقتل والتزکیۃ۔
البتہ یہ بھی جائز ہے یہاں زکوٰۃ سے زکوٰۃ مال مراد لی جائے۔ اس صورت میں مضاف کو مقدر مانا جائے گا۔ اور وہ اداء کا لفظ ہوگا۔
نحو : لامؔ کو مفعول کے مقدم ہونے کی وجہ سے اور اسم فاعل کے عمل کے ضعیف ہونے کی بناء پر لایا گیا ہے جیسے تم کہو گے : ھذا ضارب لزیدٍ مگر اس طرح نہیں کہتے۔ ضَرَبَ لزید۔
Ayah 23:55: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ (اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں)
الفرجؔ یہ مرد و عورت دونوں کے مستورہ اعضاء کو شامل ہے۔
Ayah 23:66: اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ (مگر اپنی بیویوں پر )
نحو : یہ موضع حال میں ہے : ای الا والین علی ازواجھم اس حال میں کہ وہ ولایت رکھنے والے ہیں اپنی ازواج پر نمبر 2۔ ان پر نگہبان ہیں ( قوامین کے معنی میں ہے) اس صورت میں یہ اس قول سے ماخوذ ہوگا۔ کانہ زیادعمل البصرۃ۔ ای والیا علیھا اس پر والی تھا۔
مطلب یہ ہے کہ وہ تمام احوال میں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر تزوج کی حالت اس سے مستثنیٰ ہے یا باندی بنانے کی صورت۔ نمبر 3۔ علی کا تعلق محذوف سے ہے۔ جس پر غیر ملومین دلالت کر رہا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا : یلامون الا علی ازواجہم یعنی یلامون علی کل مباشرۃ الا ما اطلق لھم فانہم غیر ملومین علیہ۔ وہ ہر مباشرہ پر ملامت کے قابل ہیں۔ مگر وہ جس میں ان کو آزاد چھوڑا گیا وہ قابل ملامت نہیں۔
فرَّاء کا قول علیؔ مِنْ کے معنی میں ہے یعنی وہ حفاظت کرنیوالے ہیں اپنی شرمگاہوں کی مگر اپنی بیویوں سے یا اپنی باندیوں سے۔ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ (یا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں) یعنی باندیاں۔ یہاں منؔ کی بجائے ماؔ استعمال کیا گیا۔ حالانکہ وہ غیر ذوالعقول کیلئے ہے۔ کیونکہ مملوک غیرعاقل کے قائم مقام ہے۔ اسی لئے ان کو بہائم کی طرح فروخت کیا جاتا ہے۔ نیز عورتوں کو کم عقلی کی وجہ سے ماؔ کے عموم میں داخل کیا گیا۔
فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ (وہ ان کے متعلق قابل ملامت نہیں ہونگے) یعنی اگر وہ اپنی شرمگاہوں کو اپنی بیویوں اور باندیوں سے محفوظ کر کے نہ رکھیں تو وہ قابل ملامت نہ ہونگے۔
Ayah 23:77: فَمَنِ ابْتَغٰی وَرآئَ ذٰلِکَ (پھر جس نے تلاش کیا اس کے علاوہ اور راستہ) قضائے شہوت کیلئے ان دو کے علاوہ اور راستہ ڈھونڈا۔ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ (پس وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں) عادونؔ۔ سرکشی میں کامل۔
نحو : اس میں متعہ اور استمناء بالکف کی حرمت ثابت ہو رہی ہے کیونکہ یہ دونوں بارادئہ قضائے شہوت کیلئے کئے جاتے ہیں۔
Ayah 23:88: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَھْدِھِمْ (اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور وعدوں کا)
قراءت : مکی اور سہل نے لا مانتھم پڑھا ہے۔
آیت میں مؤتمن علیہ شی ٔ اور معاھد علیہ کو امانت سے تعبیر کیا جیسا دوسرے ارشاد میں فرمایا : ان اللہ یامر کم ان تو وا الامانات الی اھلھا ] النسائ : 58[ ادائیگی توعیون کی ہوتی ہے معانی کی نہیں ہوتی۔ پس مراد اس سے وہ تمام امانتیں اور وعدے ہیں جو اللہ تعالیٰ یا مخلوق کی طرف سے کیے جائیں۔ رَاعُوْنَ (وہ حفاظت کرنے والے ہیں۔ ) الراعیؔ وہ شخص جو کسی چیز کی حفاظت واصلاح کا ذمہ دار ہو۔ جیسا کہ چرواہا بکریوں کیلئے ہوتا ہے۔
Ayah 23:99: وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰتِھِمْ (اور وہ لوگ جو اپنی نماز کی محافظت کرنے والے ہیں) صَلَا تِھِمْ ابوبکر کے علاوہ کو فیین نے واحد پڑھا ہے۔ یُحَافِظُوْنَ (ان کے اوقات میں مداومت کرنے والے ہیں۔ )
وجہ اعادۃِ صلاۃ :
اہمیت کی وجہ سے نماز کو دوبارہ لایا گیا اور اول آیت میں خشوع صلاۃ کا ذکر تھا اور اس میں محافظت کا تذکرہ فرمایا۔ پہلی آیت میں صلاۃ کو واحد لائے تاکہ جنس صلاۃ میں خشوع کا لازم ہونا ظاہر ہو اور پچھلی آیت میں صلواتؔ جمع لائے تاکہ انواع صلاۃ فرائض واجبات، سنن ونوافل تمام کی محافظت ثابت ہونے کا فائدہ حاصل ہو۔
Ayah 23:1010: اُولٰٓىِٕكَ (وہ جو ان صفات کے جامع ہیں۔ ) ھُمُ الْوَارِثُوْنَ (وہی وارث ہیں) اس بات کے حقدار ہیں کہ ان کو وارث کہا جائے اور کوئی اس کا حقدار نہیں۔ پھر وارثین کی اس ارشاد سے ترجمانی فرمائی۔
Ayah 23:1111: اَلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ (وہ لوگ جو کہ وارث ہونگے) کفار کی متروکات سے۔ حدیث میں ہے تم میں سے ہر ایک کے دو مکان ہیں ایک آگ میں مکان اور ایک جنت میں مکان۔ اگر مر کر جنت میں گیا تو اہل نار کو اس کا دوزخی مکان مل جائے گا۔ اور اگر مر کر دوزخ میں گیا تو اہل جنت اس کے مکان کے وارث ہونگے ] رواہ ابن ماجہ، ابن مردو یہ، بیہقی فی البعث[ الْفِرْدَوْسَ (فردوس کے) وہ وسیع باغ ہے جس میں پھلوں کی تمام اقسام ہیں۔
قطرب کا قول یہ ہے :
یہ جنتوں میں سے اعلیٰ جنت ہے : ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) الفردوسؔ کے لفظ کی طرف ھاؔ کی ضمیر تاویل جنت کی بناء پر لوٹائی گئی ہے۔
Ayah 23:12تخلیق آدم۔ :
12: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ (تحقیق ہم نے جنس انسان کو پیدا کیا) یعنی آدم (علیہ السلام) کو۔ مِنْ سُلٰلَۃٍ (خلاصہ سے)
نحو : منؔ ابتدائیہ ہے۔ السلالۃؔ۔ خلاصہ نچوڑ، کیونکہ اس کو گدلے پن میں سے نکالا جاتا ہے۔ ایک قول جس مٹی سے آدم (علیہ السلام) کو بنایا اسی کو سلالہ فرمایا کیونکہ وہ ہر مٹی کا جوہر تھا۔ مِّنْ طِیْنٍ (مٹی سے) من بیانیہ ہے۔ جیسا اس آیت میں : من الاوثان۔ ] الحج : 30[
Ayah 23:13نسل کے مراحل تخلیق :
13: ثُمَّ جَعَلْنٰہُ (پھر اس کو بنایا) یعنی اس کی نسل کو۔
نحو : مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام بنادیا کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو نطفہ سے نہیں بنایا گیا۔ وہ اسی طرح ہے جیسے فرمایا : وبدأ خلق الانسان من طین ثم جعل نسلہ من سلالۃ من مائِ مھین ] السجدہ : 7: 8[
ایک قول الانسان سے بنو آدم مراد ہیں اور السلالہ سے نطفہ اہل عرب نطفہ کو سلالۃ کہتے ہیں : ای ولقد خلقنا الانسان میں من سلالۃ یعنی ایسے نطفہ سے جو مٹی سے نکالا اور بنا ہوا ہے اور وہ آدم (علیہ السلام) ہیں۔
نُطْفَۃً (معمولی پانی) فِیْ قَرَارٍ (ایک قرار گاہ میں) یعنی رحم مَّکِیْنٍ (مضبوط۔ )
Ayah 23:1414: ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ (پھر ہم نے نطفہ کو بنایا۔ )
نحو : یہاں خلق کو صیّر کے معنی میں لیا کیونکہ وہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ اور اصل میں خلق ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ عَلَقَۃً (خون کا لوتھڑا) ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے سفید نطفہ کو سرخ لوتھڑا بنایا۔
فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً (پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں) فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا (پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی)
فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا (پھر ہم نے ہڈیوں کو گوشت پہنایا) ہڈیوں پر گوشت اگا دیا۔ وہ ہڈیوں کا لباس سا بن گیا۔
قراءت : شامی اور ابوبکر نے العظم پڑھا ہے۔ زید نے یعقوب سے العظام اور ابو زید سے العظم واحد کو جمع کی جگہ لائے کیونکہ التباس کا خدشہ نہیں اور انسان بہت سی ہڈیوں والا ہے۔
ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ (پھر اس کو بنایا) اس میں ضمیر انسان کی طرف لوٹتی ہے۔ نمبر 2۔ المذکور کی طرف لوٹتی ہے۔ خَلْقًا اٰخَرَ (دوسری مخلوق) یعنی ایسی تخلیق جو پہلی کے خلاف تھی۔ اولاً جماد تھا پھر حیوان بنادیا۔ اور حیوان نا طق سمیع وبصیر بنایا۔ حالانکہ پہلے وہ اس کے برعکس تھا۔
قولِ احناف :
اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں اگر کسی نے ایک انڈا غصب کیا وہ بارآور تھا اس سے چوزا نکل آیا۔ اس پر انڈے کی ضمان لازم ہے۔ چوزا واپس نہ کرے گا۔ کیونکہ وہ (خلق آخر) دوسری تخلیق ہے جو انڈے سے مختلف اور الگ ہے۔
فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ (پس اللہ تعالیٰ بڑی شان والے ہیں) علم وقدرت میں اس کی شان بلند ہے۔
اَحْسَنُ ۔ نحو : یہ خبر مبتدأ محذوف کی ہے۔ یا بدل ہے مگر صفت نہیں کیونکہ یہ نکرہ ہے خواہ مضاف ہے کیونکہ یہاں مضاف الیہ منؔ کے عوض آیا ہے۔ الْخَالِقِیْنَ (سب سے بہتر پیدا کرنے والے ہیں) خالقین۔ مقدرین کے معنی میں ہے یعنی وہ اندازہ کرنے والوں میں سب سے بہتر انداز کرنے والے ہیں۔ تو ممیز کا ذکر الخالقین کی دلالت کی وجہ سے چھوڑ دیا۔
ایک قول :
عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح نبی اکرم ﷺ کا کاتب تھا۔ اس نے یہ جملہ آپ کے لکھوانے سے پہلے بولا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ اس پر عبد اللہ کہنے لگا۔ اگر محمد نبی ہیں تو میں بھی نبی ہوں اور مجھ پر بھی وحی آتی ہے پھر وہ مرتد ہو کر مکہ چلا گیا پھر فتح مکہ کے روز مسلمان ہوا۔
دوسرا قول :
یہ حکایت جس کو سبیل الرشاد اور ثعلبی نے کلبی عن ابن عباس ؓ کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ صحیح نہیں کیونکہ ارتداد کا واقعہ مدینہ کا ہے اور یہ سورة مکمل مکی ہے دوسرا کلبی مشہور دروغ گو راوی ہے۔ (فلیحذر) اور قول یہ ہے کہ یہ جملہ فاروق اعظم کی زبان سے نکلا ( موافقات وحی میں سے ہے) یا معاذ ؓ کی زبان سے نکلا ہے۔
Ayah 23:1515: ثُمَّ اِنَّکُمْ بَعْدَذٰلِکَ (پھر تم اس کے بعد) اس کے بعد جو ہم نے تمہارا معاملہ ذکر کیا۔ لَمَیِّتُوْنَ (البتہ مرنے والے ہو) اپنی مدت عمر ختم ہونے پر۔
Ayah 23:1616: ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَہَِ تُبْعَثُوْنَ (پھر بیشک تم قیامت کے دن اٹھائے جائو گے) جزاء کیلئے زندہ کئے جائو گے۔
Ayah 23:17آسمانی مہد کے تخلیقی نمونے :
17: وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ (یقینا ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنا دیئے) طرائق جمع طریقۃ کی ہے اور مراد اس سے آسمان ہیں کیونکہ وہ ملائکہ کے راستے ہیں اور ان کے آنے جانے کی جگہیں ہیں۔ وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ (اور ہم مخلوق سے بیخبر نہ تھے) خلق سے السٰمٰوت مراد ہیں۔ گویا اس طرح فرمایا : خلقنا ھا فوقھم۔ ہم نے ان کو اوپر بنایا اور ہم ان سے بیخبر اور ان کی حفاظت سے غافل نہیں۔
نمبر 2۔ الخلق سے لوگ مراد ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان آسمانوں کو انسانوں کے اوپر اس لئے بنایا ہے تاکہ ان پر ارزاق و برکات کھول دیے جائیں اور اللہ تعالیٰ نہ ان سے بیخبر ہیں اور نہ ان کی مصالح سے غافل ہیں۔
Ayah 23:1818: وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا) یعنی بارش بِقَدَرٍ (ایک مقدار سے) ایک اندازے سے تاکہ اس کے ساتھ مضرت سے محفوظ رہیں۔ اور منفعت کو پالیں یا اتنی مقدار سے جتنی ان کی ضروریات کے مطابق ہم نے جانی۔ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِ (پس اس کو ہم نے زمین میں ٹھہرا دیا) جیسا دوسرے ارشاد میں فرمایا : فسل کہ ینابیع فی الارض ] الزمر : 21[ ایک اور قول یہ ہے ہم نے اس کو زمین میں قائم رکھا زمین کا تمام پانی بارش ہی کا ہے۔ پھر ان سے شکریہ کا اس انداز سے مطالبہ کیا۔ وَاِنَّا عَلٰی ذَھَابٍ بِہٖ لَقٰدِرُوْنَ (اور بیشک ہم اس کو معدوم کرنے پر قدرت رکھتے ہیں) یعنی جس طرح ہم اتارنے پر قادر ہیں اسی طرح لے جانے پر بھی قدرت رکھتے ہیں پس اس نعمت کو شکریے سے محفوظ کرو۔
Ayah 23:1919: فَاَنْشَاْنَا لَکُمْ بِہٖ (پس ہم نے تمہارے لئے اس سے پیدا کردیا) یعنی پانی سی۔ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ لَکُمْ فِیْھَا (کھجور اور انگور کے باغات تمہارے فائدہ کے لئے ان میں) یعنی باغات میں۔ فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ (بہت سے میوہ جات) کھجور انگور کے علاوہ بھی ہیں۔ وَّ مِنْھَا تَاْکُلُوْنَ (اور انہی میں سے تم کھاتے ہو) ان باغات یعنی ان کے پھلوں سے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ اس قول سے ماخوذ ہو۔ فلان یا کل من حرفۃ یحترفھا ومن صنعۃ یغتلّھا یعنی اس کا وہ رزق ہے اور وہ ذریعہ ہے جس سے رزق کماتا ہے گویا اس طرح فرمایا کہ یہ باغات تمہارے ارزاق و معیشت کے اسباب و ذرائع ہیں انہی سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور انہی سے تم گزراوقات کرتے ہو۔
Ayah 23:2020: وَشَجَرۃً (اور ہم نے ایک درخت پیدا کیا) اس کا عطف جناتٍ پر ہے اور وہ زیتون کا درخت ہے۔ تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآ ءَ (جو طور سیناء میں پیدا ہوتا ہے)
نحو : طور سیناء اور طور سینین میں یا تو طور کی اضافت بقعہ کی طرف ہو جس کا نام سیناء اور سینون ہو یا نمبر 2۔ پہاڑکا نام جو مضاف، مضاف الیہ سے مرکب ہو جیسے امرءٔ القیس۔ یہ فلسطین کا ایک پہاڑ ہے۔ اور سینائؔ ہرحال میں غیر منصرف ہے اس کا سین مکسور ہے۔ جیسا حجازی اور ابو عمرو نے سیناء پڑھا ہے اور دو وجہ تعریف اور عجمہ پائی جاتی ہیں۔ یا یہ سَیْنَاء جیسا دیگر قراء کی قراءت ہے کیونکہ الف تانیث ہے جیسے صَحْراء یہ دو سبب کے قائم مقام ہے۔
تَنچْبُتُ بِالدُّھْنِ (جو اگتا ہے تیل لیے ہوئے) زجاج کا قول : باء حال کیلئے لائے۔ ای تنبت و معھا الدھن گویا بائؔ مع کے معنی میں ہے۔ وہ اس حال میں اگتا ہے کہ اس کے ساتھ تیل ہوتا ہے۔
قراءت : تُنْبتُ مکی اور ابو عمرونے پڑھا خواہ اس وجہ سے کہ اَنْبَتَ بمعنی نَبَتَ آیا ہے۔ جیسا کہتے ہیں حتی اذا انبت البقل ای نبت البقل : سبزہ اُگا۔ یا اس کا مفعول محذوف ہے ای تنبت زیتونھا و فیہ الدھن۔ وہ اپنے زیتون کو اگاتا ہے جس میں تیل ہوتا ہے۔
وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ (اور کھانے والوں کیلئے سالن) یعنی وہ اس میں روٹی ڈبو کر یا چرب کر کے کھاتے ہیں۔
قول مقاتل :
اللہ تعالیٰ نے اس میں سالن اور تیل رکھ دیا۔ الادامؔ الزیتون کا اچار الدُّھن تیل۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ زمین پر پہلا درخت تھا جو طوفان کے بعد اُگا۔
وجہ تخصیص :
ان تین اقسام کو خاص اس لئے کیا کیونکہ یہ معزز اور افضل اور کثیر المنافع درخت ہے۔
Ayah 23:21چوپائوں کا تذکرہ :
21: وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ (اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں) انعام جمع نعم کی ہے اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ (البتہ عبرت ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں۔ )
قراءت : شامی، نافع، ابوبکر نے نَسْقِیکم پڑھا ہے۔ اور یہ سقی واسقی کی طرح دو لغات ہیں۔
مِّمِّا فِیْ بُطُونِھَا (اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے) یعنی ہم ان کے پیٹوں سے تمہارے لئے خالص مزیدار دودھ نکالتے ہیں۔ وَلَکُمْ فیْھَا مَنَافِعُ کَثِیْرَۃٌ (اور تمہارے لئے ان میں اور بہت فوائد ہیں) جو دودھ کے علاوہ ہیں۔ مثلاً اون، بال پشم، جن سے مختلف انسانی لباس بنتے ہیں۔ وَّ مِنْھَا تَاْکُلُوْنَ (اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو) یعنی ان کا گوشت۔
Ayah 23:2222: وَعَلَیْھَا (اور ان پر) چوپایوں پر خشکی میں۔ وَعَلَی الْفُلْکِ (اور کشتیوں پر) سمندروں میں تُحْمَلُوْنَ (لدے پھرتے ہو اپنے سفروں میں) اور اس میں اشارہ ہے کہ انعام سے مراد اونٹ ہے کیونکہ عادۃً انہی پر بوجھ لادا جاتا ہے اسی وجہ سے فلکؔ کے ساتھ ملا کر ذکر کیا۔ کیونکہ اونٹوں کو بھی سفائن البّر یعنی خشکی کے جہاز نام دیا جاتا ہے جیسا ذوالرمہ شاعر کا قول ہے۔ سفینۃ برٍّ تحت خَدّی زمامُھا۔ خشکی کی کشتی کہ جس کی نکیل میری رخسار کے نیچے ہے۔ سفینہ سے یہاں اپنی اونٹنی مراد لے رہا ہے۔
Ayah 23:23حضرت نوح ( علیہ السلام) کا واقعہ :
23: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ (اور تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) یعنی اس کو وحدہٗ لا شریک مانو۔ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ (تمہارے لئے اور کوئی معبود) الہؔ معبود کے معنی میں ہے۔ غَیْرُہٗ اس کے سوا۔
نحو : یہ محلاً مرفوع ہے اور لفظوں کے لحاظ سے مجرور ہے۔ اور جملہ مستانفہ ہے امر عبارت کی تعلیل کے طور پر لایا گیا ہے۔ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ (پس کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو) یعنی کیا تمہیں اس کے عذاب کا ڈر نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ جو کہ تمہارا رب ہے اور تمہارا خالق ہے جبکہ تم دوسروں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کا ذرا بھر استحقاق نہیں رکھتا۔
Ayah 23:24قوم کے بڑے :
24: فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ (پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا) یعنی شرفاء و سرداروں نے عوام الناس کو کہا : مَاھٰذَآاِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ (یہ تم جیسا انسان ہے) جو کھاتا پیتا ہے۔ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیکُمْ (تم پر برتری چاہتا ہے) یعنی تم پر بزرگی اور سرداری کرنا چاہتا ہے۔ وَلَوْشَآ ئَ اللّٰہُ (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے) کہ وہ اپنا رسول بھیجیں۔ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَہً ( تو وہ ضرور فرشتے اتارتا) مَّا سِمَعْنَا بِھٰذَا (ہم نے یہ بات نہیں سنی) بشر کو رسول بنا کر بھیجنے والی بات یا وہ بات جس کا یہ ہمیں حکم دیتا ہے جیسے توحید، سبّ معبودان باطلہ وغیرہ۔
نکتہ : مزاج انسانی ملاحظہ ہو۔ پتھر کو اٹھا کرالو ہیت کا مرتبہ دے دیا۔ مگر بشر کے لئے نبوت کے قائل نہ ہوئے۔ فِیْٓ اٰبَآ ئِنَا الْاَوَّلِیْنَ (اپنے پہلے آباء و اجداد میں۔ )
Ayah 23:2525: اِنْ ھُوَاِلَّا رَجُلٌ بِہٖ جِنَّۃٌ (یہ صرف ایک ایسا آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے) جِنّۃٌ کا معنی جنون ہے : فَترَبَّصُوْا بِہٖ حَتّٰی حِیْنٍ (پس اس کو برداشت کرو اور ایک وقت کا انتظار کرو) پس تم انتظار کرو اس کے متعلق ایک زمانہ تک صبر کرو یہاں تک کہ اس کا معاملہ کھل کر سامنے آجائے۔ پھر اگر تو جنون سے افاقہ ہوا فبہا ورنہ اس کو قتل کردینا۔
Ayah 23:2626: قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ (کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب چونکہ انہوں نے میری تکذیب کی ہے اس لئے تو ان سے میرا بدلہ لے) جب نوح (علیہ السلام) ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے انتقام کی دعا کی۔ مطلب یہ ہے میری تکذیب کرنے کی وجہ سے ان کو ہلاک کر دے۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) کی نصرت ان کے ہلاک کرنے سے ہی ہوسکتی تھی۔ یا نمبر 2۔ اُنصرنی یہ ماکذبون کا بدل ہے جیسے تم کہو۔ ھذا بذاک ای بدل ذاک۔ اس طرح معنی یہ ہوگا اے میرے رب ان کی تکذیب کے غم کو ان پر غلبہ کی تسلی سے بدل دے۔
Ayah 23:27کشتی سامنے بنانے کا مطلب :
27: فَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ (پس ہم نے ان کی طرف وحی کی) یعنی ان کی دعا کو قبولیت بخشی اور ان کی طرف یہ وحی بھیجی۔ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا (تم ہمارے سامنے کشتی تیار کرو) تم اس کو اس حالت میں بنائو کہ تمہیں اپنے متعلق اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا یقین ہو اور یہ بھی یقین ہو کہ تم اس کی نگاہ میں ہو یا ہماری حفاظت و نگرانی کا یقین اسقدر ہو گویا کہ تمہارے ساتھ ہمارے حفاظت کرنے والے ہیں جو اپنی آنکھوں سے تمہاری نگہبانی کررہے ہیں تاکہ کوئی تمہارے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے اور نہ کوئی مفسد تمہارے کام کو برباد کرسکے اہل عرب کا محاورہ ہے : علیہ من اللہ عین کا لئۃ اس پر اللہ تعالیٰ کی نگرانی ہے۔ وَوَحْیِنَا (اور ہماری وحی سے) ہمارے حکم اور ہماری اس تعلیم سے جو اس کے بنانے کے سلسلے میں ہم نے دی ہے۔ روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ کشتی پرندے کے سینے کی مثال سامنے رکھ کر بنائیں۔
فَاِذَا جَآ ئَ اَمْرُنَا (پس جب ہمارا حکم آجائے) عذاب والا حکم وَفَارَ التَّنُّوْرُ (اور تنور نے جوش مارا) یعنی پانی روٹی کے تنور سے جوش مارنے لگے۔
کرشمہ قدرت :
دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کا چشمہ آگ جلنے کے مقام سے نکال دیا۔ تاکہ عبرت و انذار کے لیے زیادہ فائدہ دے۔
تفسیری روایت میں ہے نوح (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ جب تم تنور میں سے پانی نکلتا دیکھو تو ایمان والوں کو لے کر کشتی میں سوار ہوجائو۔ جب تنور سے پانی ابلا تو ان کی بیوی نے ہی آکر اطلاع دی یہ تنور آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے چلا آرہا تھا۔ یہ پتھروں کا بنا ہوا تھا۔ البتہ اس کے متعلق یہ اختلاف ہے کہ وہ کہاں واقع تھا ایک قول یہ ہے کہ مسجد کوفہ والی جگہ پر واقع تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ شام میں تیسرا قول یہ ہے کہ ہند میں۔
فَاسْلُکْ فِیْھَا (پس اس میں داخل کرلینا) یعنی کشتی میں مِنْ کُلٍّ زوْجَیْنِ (ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا) یعنی ایک نر ایک مادہ، مثلاً ایک اونٹ، ایک نافۃ، ایک گھوڑا ایک گھوڑی، اثْنَیْنِ (دو واحد مل کر) ایک اونٹ، اونٹنی، گھوڑی، گھوڑا۔ تفسیری روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ بچہ جننے اور انڈے دینے والے جانور لئے۔
قراءت : من کلِّ کسرہ کے ساتھ ابن عامر، حمزہ، نافع وغیرہ کی قراءت ہے۔ جبکہ حفص نے من کلَّ پڑھا ہے۔ یعنی ہر جماعت سے زوجین اثنین ایک جوڑا۔ اثنینؔ یہ تاکید اور زیادہ وضاحت کے لئے لایا گیا ہے۔ وَاَھْلَکَ (اور اپنے اہل کو) عورتوں اور بچوں کو۔
اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ : (مگر وہ جن کے متعلق پہلے ہی حکم نافذ ہوچکا ہے) اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی ہلاکت کے متعلق اور وہ ان کا بیٹا اور ایک بیوی تھی۔
یہاں علیٰؔ کا لفظ لایا گیا اس کے باوجود کہ نقصان دہ چیز کا پہلے ذکر ہوچکا۔ جیسا کہ لام کو لایا گیا باوجودیکہ نافع کا تذکرہ ہوچکا اس ارشاد میں : ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین ] الصافات : 171[ اور اسی طرح : لھا ماکسبت و علیھا ما اکتسبت ] البقرہ : 286[ وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ (اور ظالموں کے متعلق ہم سے کلام نہ کرنا۔ بلاشبہ وہ غرق کئے جائیں گے) کافروں کے بچانے کا مجھ سے سوال نہ کرنا اس لئے کہ میں نے ان کو ڈبو نا ہے۔
Ayah 23:2828: فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ عَلَی الْفُلْکِ (جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ چکیں) جب تم اچھی طرح مطمئن ہو کر سوار ہوجائو۔ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (تو اس طرح کہو تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے ظالم قوم سے ہمیں نجات دی) اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت اور ان سے نجات پر حمد وثناء کا حکم دیا۔ یہاں قولوا نہیں کہا گیا اگرچہ : فاذا استویت انت ومن معک معنی کے لحاظ سے اذا ستویتم کے معنی جمع دے رہا ہے کیونکہ وہ ان کے پیغمبر و مقتدی ہیں۔ اور آپ کا قول انہی کا قول ہے اور مقتدی کا کہنا مقتدیوں کا کہنا ہے۔
نحو : اس میں نبوت کی فضیلت کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔
Ayah 23:29کشتی :
29: وَقُلْ (اور کہو) جب تم کشتی پر سوار ہو یا جب اس سے نکلو۔ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا (اے میرے رب تو مجھے اتارنا برکت کے ساتھ) مُنزَلًا مصدر مانیں تو انزالًا کے معنی میں۔ نمبر 2۔ اترنے کی جگہ۔
وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ (اور آپ سب سے بہتر اتارنے والے ہیں) کشتی کی برکت کا مطلب اس میں بیٹھ کر طوفان سے نجات پانا۔ نکلنے میں برکت کا مطلب نسل کا بڑھنا اور پے در پے مال و دولت کا حاصل ہونا ہے۔
Ayah 23:3030: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بےشک اس میں) جو نوح (علیہ السلام) اور قوم نوح کے ساتھ کیا گیا۔ لَاٰیٰتٍ (البتہ نشانیاں ہیں) البتہ عبرتیں اور نصائح ہیں۔ وَّ اِنْ (اور بیشک) یہ مخففہ من المثقلہ ہے اور لام اس کو اور نافیہ کو جدا کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے : اِنّ الشان والقصۃ شان اور قصہ یہ ہے۔ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ (ہم ضرور آزمانے والے تھے) قوم نوح کو سخت سزا اور بڑا عذاب دینے والے ہیں یا ان آیات سے اپنے بندوں کو آزمانے والے ہیں تاکہ ہم دیکھیں کہ کون عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا : ولقد ترکنھا ایۃً فھل من مدّکرٍ ] القمر : 15[
Ayah 23:31قوم عاد کو دعوت کا تذکرہ :
31: ثُمَّ اَنْشَاْنَا (پھر ہم نے پیدا کئے) مِنْ بَعْدِھِمْ (ان کے بعد) قوم نوح کے بعد : قَرْنًا اٰخَرِیْنَ (ایک اور قوم کو) وہ عاد ہے جو کہ ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی جس کے لئے ہود (علیہ السلام) کا قول گواہی دیتا ہے : واذکر وا اذجعلکم خلفاء من بعد قوم نوح ] الاعراف : 69[ اور قصہ نوح کے بعد اعراف میں ہود کا قصہ لایا گیا اور اسی طرح سورت ہود اور شعراء میں۔
Ayah 23:3232: فَاَرْسَلْنَا فِیْھِمْ (پس انہیں بھیجے) ارسال کا لفظ الیٰؔ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے فیؔ کے ساتھ متعدی نہیں ہوتا۔ مگر یہاں اور اس قول میں : کذلک ارسلناک فی امۃ ] الرعد : 30[ اور وما ارسلنا فی قریۃ ] الاعراف : 94[ فی کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے لیکن امۃ اور قریہ کو ارسال کی جگہ اور ظرف قرار دیا جیسا رؤبہ کا قول ہے۔
ارسلت فیھا مصعبًا ذا اء قحام
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کلام عرب میں اس کا استعمال پہلے پایا جاتا ہے۔ باقی قرآن مجید کو دیکھ کر تمام نحو وصرف ایجاد ہوئی ہے۔ رَسُوْلًا (ایک رسول) ہود (علیہ السلام) ۔ مِّنْھُمْ (انہی میں سے) ان کی قوم میں سے : اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرہُ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ (کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اسکے سوا کوئی قابل عبادت نہیں۔ پس کیا تم اسکے عذاب سے نہیں ڈرتے) اَنْ یہ ارسلنا کی تفسیر کر رہا ہے : ای قلنا لھم علی لسان الرسول اعبدوا اللہ ہم نے ان کو پیغمبر کی زبان سے کہا تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔
Ayah 23:3333: وَقَالَ الْمَلَا ُٔ مِنْ قَوْمِہٖ (ان کی قوم کے سرداروں نے کہا)
وائو کو مقدم کرنے کی وجہ :
اعراف و ہود میں قوم ہود کی بات بغیر وائو ذکر کیا۔ کیونکہ وہ وہاں سائل کے سوال کو مقدر مان کر جواب میں لایا گیا : قال فما قال قومہ ؟ ان کی قوم نے کیا جواب دیا تو جواب دیا گیا انہوں نے یہ یہ کہا۔ اور یہاں وائو کے ساتھ لائے کیونکہ اس کا عطف اس پر ہے جو انہوں نے اس وقت کہا جب ان کو رسول نے کہا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اس حق اور باطل کے حصول میں جمع ہوگئے۔ اور نبی ﷺ کا جواب ان کے کلام سے متصل نہیں اور فاءؔ سے بھی نہیں لائے۔ البتہ فاءؔ کے ساتھ قصہ نوح (علیہ السلام) میں لائے۔ کیونکہ یہ ان کے اس قول کا جواب ہے جو اس کے متصل آرہا ہے۔
الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (وہ لوگ جو کافر ہوئے) یہ الملأ کی صفت ہے یا لقومہٖ کی صفت ہے۔ وَ کَذَّبُوْا بِلِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ (اور انہوں نے آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا) یعنی اس میں پیش آنے والے حساب اور ثواب اور عقاب وغیرہ کا انکار کیا۔
نبی بھی تمہاری مثل بشر ہیں :
وَاَتْرَفْنٰھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور ہم نے ان کو نعمتیں دیں دنیا کی زندگی میں) کثرت اموال واولاد۔ مَاھٰذَا ( نہیں ہے یہ) نبی اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یَاْکُلُ مِمَّا تَاکُلُوْنَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ (مگر یہ تم جیسا انسان ہے وہ کھاتا ہے وہی جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو) ای تشربون منہ۔ منہؔ کو ماقبل کی دلالت سے حذف کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کہاں سے نبوت کا دعویدار بن بیٹھا جبکہ وہ تم جیسا ہے ؟
Ayah 23:3434: وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًامِّثْلَکُمْ (اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اطاعت کی) ان باتوں میں جن کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے اور جن سے تمہیں روکتا ہے۔ اِنَّکُمْ اِذًا (بیشک تم اس وقت) ان یہ جزاء شرط کے موقعہ میں ہے اور انکاجواب جنہوں نے قوم میں سے یہ بات کہی تھی : لخاسرون ہے۔ لَّخٰسِرُوْنَ (ضرور نقصان میں پڑنے والے ہو) ۔ اس لئے کہ تم نے اپنے جیسے انسان کی اطاعت اختیار کرلی۔
Ayah 23:35کفار کی حمایت :
اپنے جیسے انسان کی اتباع کا انکار کیا اور اپنے سے عاجز تر چیزوں کی عبادت کرنے لگے۔
35: اَ یَعِدُکُمْ اَنَّکُمْ اِذَا مِتُّمْ (کیا وہ تمہیں وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جائو گے)
قراءت : نافع، حمزہ، علی، حفص نے میم کے کسرہ سے اور دیگر قراء نے مُتّم ضمہ میم سے پڑھا ہے۔ وَکُنْتُمْ تُرَابًا وَّعِظَا مًا اَنَّکُمْ مُّخْرَجُوْنَ ( اور تم خاک اور ہڈیاں ہوجائو گے تو دوبارہ زندہ کر کے زمین سے نکالے جائو گے) سوال کیلئے اٹھائے جائو گے اور حساب، کتاب اور ثواب و عذاب ہوگا۔
نحو : انکم کو دو مرتبہ تاکید کیلئے لائے اور ظرف کے ساتھ دونوں کا فاصلہ بہت خوب ہے اور مخرجون اول کی خبر ہے۔ اور تقدیر کلام اس طرح ہے۔ ایعدکم انکم مخرجون اذامتم و کنتم ترابا و عظامًا۔ أیعد کا استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں چاہیے یا سوال تقریری ہے یہ ضرور ایسا کہہ رہا ہے۔ یا مقولہ سابقہ کی علت ہے تم گھاٹہ اسلئے پائو گے کہ یہ قیامت کا قائل ہے
دنیا کے عیش میں خلل ڈالنا چاہتا ہے۔
Ayah 23:36کفار کا استبعادِ قیامت :
36: ھَیْہَاتَ ھَیْہَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ (بہت ہی بعید ہے اور بہت بعید جو بات تم سے کہی جارہی ہے)
قراءت : یزید نے ھیھات تاؔ ء کے کسرہ اور تنوین سے پڑھا ہے اور کسائی نے ہائؔ پر وقف کیا جبکہ دیگر نے تائؔ پر وقف کیا۔
نحو : ھیھاتیہ اسم فعل ہے بعد کا معنی دیتا ہے اس کی فاعل مضمر ہے۔ ای بَعُدالتصدیق یابَعُد الوقوع۔ قیامت کی تصدیق بہت بعید ہے یا وقوع بہت بعید ہے۔ ماتوعدونؔ سے عذاب مراد ہے۔ یا اس کا فاعل ماتوعدون ہے اور لماؔ کی لامؔ زائدہ ہے ای بعد ماتوعدون من البعث بہت دور ہے وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی بعث۔
Ayah 23:3737: اِنْ ھِیَ (نہیں ہے وہ )
نحو : ھیؔ یہ ایک ایسی ضمیر ہے جس کا مقصد اس کے بعد آنے والی وضاحت کے بغیر معلوم نہیں ہوتا۔ اصل اس طرح کلام ہے ان الحیاۃ الاحیاتنا الدنیا۔ نہیں زندگی مگر فقط ہماری دنیا ہی زندگی۔ پھر ھیؔ ضمیر کو الحیاۃ کی جگہ لائے کیونکہ خبر اس پر دلالت کر رہی ہے اور اس کی وضاحت کر رہی ہے۔ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا (مگر ہماری دنیا ہی کی زندگی) اب معنی اس طرح ہے : لا حیاۃ الاھذہ الحیاۃ التی نحن فیھا ودنت منّا کوئی زندگی نہیں مگر یہی زندگی جس کو ہم گزار رہے ہیں اور جو ہمارے قریب ہے۔
وجہ عجیبہ :
اس کی یہ ہے اِنؔ نافیہ کو ھیؔ پر داخل کیا اور وہ ھیؔ الحیاۃ کے معنی میں ہے جو کہ جنس پر دلالت کر رہی ہے پس اس کی نفی کی اور لاؔ کے وزن میں بن گیا جو نفی جنس کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
نَمُوْتُ وَنَحْیَا (ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں) یعنی بعض پر موت آتی ہے اور بعض پیدا ہوتے ہیں ایک زمانہ والے سمٹ جاتے ہیں تو دوسرے اہل زمانہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یا اس میں تقدیم و تاخیر ہے : ای نحیا ون موت اور یہ ابی ؓ کی قراءت ہے اور ابن مسعود ؓ کی وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ (اور اٹھائے نہ جائیں گے) موت کے بعد۔
Ayah 23:38پیغمبر پر دروغ گوئی کا الزام :
38: اِنْ ھُوَ اِلَّا رَجُلُ نِافْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (وہ ایک جھوٹا شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر دروغ بندی کی ہے) یہ اپنے بارے میں نبوت کا جو دعویٰ کرتا ہے اس میں یہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والا ہے اور جو ہم سے بعث کا وعدہ کرتا ہے اس میں بھی جھوٹا ہے۔ وَّ مَانَحْنُ لَہٗ بِمُؤْمِنِیْنَ (اور ہم تو اس کی بات کا یقین کرنے والے نہیں) مؤمنین بمعنی مصدقین ہے تصدیق کرنے والے۔
Ayah 23:3939: قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ (پیغمبر نے کہا اے میرے رب کافروں نے میری تکذیب کی ہے تو میری مدد فرما) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کیا اور فرمایا۔
Ayah 23:4040: قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کچھ ہی وقت کے بعد) ۔
نحو : ما زائدہ ہے یا ماؔ شئی کے معنی میں ہے یا مازمنٌ کے معنی میں ہے اور قلیلیہ ماؔ کا بدل ہے اور قسم کا جواب محذوف ہے۔ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَ (یہ لوگ ضرور پشیمان ہوں گے) جب یہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے جو عذاب ان پر اترے گا۔