23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 23:81

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے جو اگلے (کافر) کہتے تھے، اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔

پرانی اڑ پر قائم : 81: بَلْ قَالُوْا ( بلکہ انہوں نے کہا یعنی اہل مکہ نے) مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ (اس کی مثل کہتے ہیں جو اگلے کافروں نے کہی) الاولون سے مراد وہ کفار ہیں جو ان سے پہلے ہوئے۔ پھر وضاحت کی جو انہوں نے کہا فرمایا :
Ayah 23:82

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

82: قَالُوْا ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّ عِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (وہ کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا زندہ کر کے ہم اٹھائے جائیں گے)
Ayah 23:83

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہی تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

قراءت : مِتْنَا نافع، حمزہ، علی، حفص نے پڑھا ہے۔ 83: لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآ ؤُنَا ھٰذَا (اس کا ہم سے اور ہمارے آباء و اجداد سے وعدہ ہوا) ھٰذا کا مشار الیہ البعث ہے : مِنْ قَبْلُ (اس سے قبل) محمد ﷺ کی آمد سے قبل : اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں) ۔ نحو : اساطیر جمع اسطار، اسطار جمع سطر، وہ کہانی جس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ اور اسطورۃ کی جمع قرار دینا زیادہ مناسب ہے پھر اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا کہ مشرکین پر اتمام ِحجت کریں چناچہ فرمایا۔
Ayahs 23:84–85

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کس کا مال ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا کہو پھر سوچتے کیوں نہیں

اعتراض و دلائل : 84، 85: قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (آپ ان سے کہہ دیں کہ زمین اور جو بھی زمین میں ہے یہ کس کے ہیں۔ اگر تم جانتے ہو) یہ لوگ عنقریب کہیں گے۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ (عنقریب یہ کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے) کیونکہ ان کو اس بات کا توا قرار ہے کہ وہ خالق ہے۔ جب وہ اعتراف خالقیت کرلیں تو آپ فرمائیں۔ قُلْ اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ (کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں غور نہیں کرتے) پھر تمہیں یہ جان لینا ہوگا کہ جس نے زمین کو پیدا کیا اور اس میں تمام اشیاء بنائیں وہ مخلوق کو دوبارہ لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ اس بات کے لائق ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور اس کی مخلوق کو اس کی ربوبیت میں شریک نہ کیا جائے۔ قراءت : افلاتذکرون تخفیف کے ساتھ حمزہ، علی اور حفص نے پڑھا جبکہ دیگر قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayahs 23:86–87

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا مالک کون ہے ؟ اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

بےساختہ کہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

86، 87: قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ : سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ قُلْ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ ۔ (آپ ان سے یہ کہیں کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے۔ وہ عنقریب کہیں گے اللہ تعالیٰ آپ فرما دیں پھر تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے) پھر تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کیونکر دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ یا تم اس کی قدرت دوبارہ اٹھائے جانے کے سلسلہ میں کیوں نہیں مانتے حالانکہ تم ان تمام اشیاء کی تخلیق کے قائل ہو۔
Ayah 23:88

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

88: قُلْ مَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ (کہہ دیں کہ کس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے) ملکوت، الملک ایک معنی میں ہیں۔ وائو ؔ اور تاء ؔ مبالغہ کیلئے ہیں جو اس کی بادشاہت کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اور وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں دی جاسکتی۔ اگر تم جانتے ہو تو بتائو) عرب کا محاورہ ہے : اجرت فلا نًا علی فلان۔ جب اس سے بچانے کیلئے تم اس کی فریاد رسی کرو اور اس کا دفاع کرو۔ مطلب یہ ہے وہ جس کی چاہتا ہے فریاد رسی کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حفاظت کرتا ہے اور کوئی اس کے ضرر سے بچانے کیلئے اس کے خلاف پناہ نہیں دے سکتا۔
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے

89: سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ (وہ عنقریب کہیں گے اللہ ہی کی ہے کہہ دیں پھر تم کو کیسا خبط ہو رہا ہے) تُسحرون کا معنی تخدعون ہے۔ نمبر 1۔ تخدعون عن الحق کا مطلب یہ ہے کہ کس فریب میں پڑ کر حق و ہدایت سے روگرداں ہو رہے ہو۔ نمبر 2۔ تم پھر حق کو باطل کس طرح خیال کرتے ہو۔ نمبر 3۔ تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے متعلق کیوں دھوکہ میں مبتلا ہو۔ دھوکہ باز شیطان اور خواہشات ہیں۔ من اولؔ کا جواب تو للہ سے درست ہے کیونکہ منؔ کے ساتھ بھی لام آیا ہے۔ اسی طرح دوسرے اور تیسرے من کا جواب اہل بصرہ کے علاوہ دیگر علماء کے ہاں درست ہے کیونکہ اس کا معنی جب تم کہو : من رب ھذا ؟ تو مطلب یہ ہے لمن ھذا ؟ تو جواب میں لفلان کہا جائے گا۔ جیسا شاعر کا قول اذا قیل من رب المزالف بالقریٰ ورب الجیاد الجرد ؟ قیل : لخالد۔ مطلب یہ ہے کہ مزالف کس کے ہیں ؟ تو جواب ملا خالد کے ہیں۔ دوسراقول : جنہوں نے حذف سے پڑھا تو انہوں نے ظاہر پر رکھا۔ کیونکہ جب اس طرح کہیں گے من رب ھذا ؟ تو اس کے جواب میں کہتے ہیں فلان۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں

90: بَلْ اَتَیْنٰھُمْ بِالْحَقِّ (بلکہ ہم نے ان کو سچی بات پہنچائی ہے) کیونکہ اس کی طرف بیٹے کی نسبت ناممکن ہے اور شرک باطل ہے : وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (اور بیشک وہ جھوٹے ہیں) اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا اور شریک تجویز کرلئے پھر ان کا جھوٹ اور کھول دیا فرمایا۔
Ayah 23:91

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

اللہ اولاد سے پاک ہے : 91: مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ (اللہ تعالیٰ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا) کیونکہ وہ نوع و جنسیت سے پاک ہے اور آدمی کا بیٹا اس کی جنس سے ہوا کرتا ہے۔ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ (اور اس کے ساتھ کوئی شریک بھی نہیں) جو الوہیت میں اس کا ساجھی ہو۔ اِذًا لَّذَھَبَ کُلُّ اِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ (ہر الہ اپنی مخلوق کو جدا کرلیتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا) ہر معبود اپنی مخلوق لے کر منفرد ہوجاتا اور اپنی مخلوق میں تصرف کرنے سے دوسرے کو روک کر خود مختار ہوجاتا ہے۔ تاکہ ہر ایک کی بادشاہی دوسرے سے ممتاز ہو۔ وَ لَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ (اور وہ ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتے) اور بعض دوسروں پر غالب آجاتے۔ جیسا کہ تم دنیا کے حکمرانوں کو دیکھ رہے ہو کہ ہر ایک ملک دوسرے سے ممتاز اور الگ ہے اور وہ ایک دوسرے پر غلبہ کیلئے کوشاں ہیں۔ جب یہاں کوئی معمولی سا اثر بھی ممالک کے باہمی امتیاز اور ایک دوسرے پر غلبہ کیلئے دوڑ دھوپ کا آج تک پایا نہیں گیا تو یقین کرلو کہ وہ ایک ہی معبود ہے جس کے قبضہ میں ہر چیز کی ملکیت ہے۔ اور یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ اذاؔ تو اس کلام میں داخل ہوتا ہے جس میں جزاء اور جواب پایا جائے حالانکہ یہاں لذھبؔ جزاء اور جواب ہے مگر اس سے قبل شرط موجود نہیں اور نہ ہی کسی سائل کا سوال موجود ہے۔ کیونکہ شرط محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ : ولو کان معہ الھۃ اس پر ما کان معہ من الہٍ دلالت کر رہا ہے۔ اور یہ درحقیقت حجت باز مشرکین کا جواب ہے : سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (اللہ تعالیٰ پاک ہے ان سب باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں) مثلاً شریک اور اولاد وغیرہ۔
Ayah 23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔

92: عٰلِمٍ (وہ جاننے والا ہے ) نحو : مجرور ہو تو یہ اللہ کی صفت ہے اور رفع کی صورت میں یہ ھو مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ قراءت : جر حفص کی قراءت ہے اور مدنی اور کوفی قراء علاوہ حفص کے رفع پڑھتے ہیں۔ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ (پوشیدہ اور ظاہر کا) مخفی اور اعلانیہ کا۔ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (وہ بلندو برتر ہے ان تمام سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں) بت وغیرہ۔
Ayah 23:93

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

الموں کو عذاب دیتے وقت اپنے میں رکھنا : 93: قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَ (کہہ دیں اے میرے رب اگر وہ عذاب تو مجھے دکھا دے جس کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ ) ماؔ اور نونؔ دونوں تاکید کیلئے ہیں۔ یعنی اگر ضروری ہے کہ تو ان سے وعدہ کیا جانے والا عذاب دنیا میں مجھے دکھائے یا آخرت میں۔
Ayah 23:94

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

94: رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنََ (تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کرنا) یعنی مجھے ان کا ہمرا ہی نہ بنانا اور ان کو دیئے جانے والا عذاب مجھے نہ دینا۔ قول حسن : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی ہے کہ آپ کی امت پر ناراضی کی سزا واقع ہوگی مگر یہ اطلاع نہیں دی کہ کب وہ عذاب اترے گا۔ پس اپنے پیغمبر ﷺ کو یہ دعا کرنے کا حکم فرمایا۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ نبی معصوم ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا جس کے متعلق آپ کو معلوم ہوا کہ عنقریب وہ کرنے والے ہیں اور اس سے پناہ طلب کر رہے ہوں جس کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے یہ بطور اظہار عبودیت کے ہو۔ اور بطور تواضع ہو چناچہ آپ ﷺ کا استغفار ایک ایک مجلس میں ستر ستر مرتبہ وہ اسی بناء پر تھا۔ نحو : فاءؔ یہ جوابِ شرط میں لائی گئی ہے۔ اور ربّ والا جملہ معترضہ ہے جو جزاء و شرط کے درمیان آیا ہے۔
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

95: وَاِنَّا عَلٰٓی اَنْ نُّرِیَکَ مَا نَعِدُ ھُمْ لَقٰدِرُوْنَ (اور بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس عذاب کا ان سے ہم وعدہ کررہے ہیں وہ آپ کو دکھا دیں) کفار مکہ عذاب کا انکار کرتے اور اس کا مضحکہ اڑاتے تھے اس پر انہیں کہا گیا اللہ تعالیٰ اس وعدے کو پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اگر تم غور کرو۔ اس انکار کی کوئی وجہ نہیں ؟ (کیونکہ دلائل قدرت تو شاہد ہیں)
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

درگزر و احسان سے کام لیں : 96: اِدْفعْ بِالَّتِیْ (آپ ان کی برائی کا دفعیہ ایسی خصلت سے کردیا کریں) ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ (جو کہ بہت ہی خوب ہو) یہ انداز بالحسنۃ السیئۃ کہنے کی بنسبت زیادہ بلیغ اور اوقع فی القلب ہے اس لئے کہ اس میں اسم تفصیل ہے۔ گویا اس طرح فرمایا ادفع بالحسنی السیئۃ مگر اس انسانی عبارت کی اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی زیادیتوں کے مقابلہ میں درگزر اور احسان سے حتی الا مکان کام لیا جائے۔ قول ابن عباس ؓ کہ احسنؔ لا الٰہ الا اللہ ہے اور السیئہؔ شرک ہے یا سلام میں فحش انداز یا موعظہ کو غلط انداز سے کرنا۔ نمبر 2۔ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔ نمبر 3۔ محکم آیت ہے۔ مدارات کا تو اس وقت تک حکم ہے جب تک اس سے دین میں نقصان نہ ہوتا ہو۔ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ (ہم بخوبی ان باتوں سے واقف ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں) شرکیات وغیرہ یا آپ کے متعلق طعن وتشنیع پس ہم ان کو خود سزا دیں گے۔
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

97: وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ (اور کہہ دیں اے میرے رب میں شیاطین کے وساوس سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں) یعنی ان کے وساوس اور طعنہ زنیوں سے۔ الھمز چبھونا، الہمزات یہ جمع ہے جو مرۃ اور ایک بار کا معنی دیتی ہے اور اس سے مھماز الرائض۔ سدھارنے والے کا کیلا۔ مطلب یہ ہے شیاطین لوگوں کو گناہ پر ابھارتے ہیں جس طرح سدھار نے والے جانوروں کو چال پر چلانے کیلئے ابھارتے ہیں۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

98: وَاَعُوْذُبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ (اور اے میرے رب میں شیطان کے اپنے پاس حاضر ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں) نمبر 1۔ شیاطین کے چوکوں سے دعائیہ انداز میں پناہ مانگنے کا حکم دیا پہلے تو وساوس سے پناہ مانگی اور دوسری مرتبہ بالکل ان کے پاس بھٹکنے سے پناہ کا حکم دیا۔ (کیونکہ جب وہ پاس آئیں گے تو ضرور وسوسہ ڈالیں گے) ۔ نمبر 2۔ یہ فقط تلاوت قرآن کے وقت حکم دیا گیا ہے جیسا دوسری آیات : اذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ) نمبر 3۔ فزع کے وقت۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

قیامت کے وقت حسرت و ندامت کا کلمہ : 99: حَتّٰی اِذَا جَآ ئَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ (یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سر پر موت آکھڑی ہوتی ہے) نمبر 1۔ یہ یصفون سے متعلق ہے۔ ای لا یزالون یشرکون الی وقت مجئی الموت کہ وہ شرک پر جمے رہیں یہاں تک کہ ان پر موت آئے۔ نمبر 2۔ وہ اس میں برے تذکرہ پر اس وقت تک قائم رہیں گے درمیان میں جملہ معترضہ ہے اور ان سے چشم پوشی کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ سے شیطان کے خلاف مدد مانگتا رہے تاکہ وہ کہیں ان کو خوابوں میں نہ اتار دے اور ان سے بدلہ لینے پر نہ ابھارے۔ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ (کہتا ہے اے میرے رب تو مجھے دنیا میں واپس کر دے) یعنی واپس لوٹادو مجھے دنیا کی طرف۔ ارجعواؔ جمع کا صیغہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے بطور تعظیم لایا گیا ہے جیسا کہ بادشاہوں سے تعظیمی الفاظ سے خطاب ہوتا ہے۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے )

100: لَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ (شاید کہ میں اعمال صالحہ کروں اس دنیا میں جس کو میں چھوڑ آیا ہوں) اس جگہ میں جس کو میں چھوڑ آیا ہوں اور وہ دنیا ہے کیونکہ اس نے دنیا کو چھوڑا اور آخرت میں پہنچ گیا۔ قولِ قتادہ (رح) : اس نے اہل و عیال اور خاندان کی طرف لوٹنے کی تمنا نہیں کی بلکہ یہ تمنا کی جو دنیا میں برے کام ہوئے ان کا تدارک کرنے کیلئے اسے لوٹادیا جائے۔ لَعلِّی (شاید کہ میں) قراءت : لَعَلِّیْ یائے ساکنہ کے ساتھ کوفی، سھل، یعقوب نے پڑھا ہے۔ یاء کے فتحہ کے ساتھ نافع ابن کثیر، ابو عمرو نے پڑھا ہے یعنی لَعَلِّیَ ۔ کَلَّا ( ہرگز نہیں) رجوع کے مطالبہ کو مسترد کیا اور اس سے انکار کیا اور اس سے استبعاد کا اظہار کیا ہے کہ ایسا ہونا بہت بعید تر ہے۔ نحو : یہ کلمہ وعید ہے کبھی بمعنی حقا بھی آجاتا ہے۔ اِنَّھَا کَلِمَۃٌ (اس کی یہ بات ہی بات ہے) کلمہ سے مراد کلام کا ایک ایسا مجموعہ جو ایک دوسرے سے مربوط ہو اور وہ اس کا مقولہ ہے : ( رب ارجعون لعلی اعمل صالحًا فیما ترکت) ھُوَ قَآ ئِلُہَا (جو وہ کہے جارہا ہے) اور کہتا جائے گا اس کو نہ چھوڑے گا اور نہ اس سے خاموشی اختیار کرے گا۔ کیونکہ حسرت و ندامت کا اس پر غلبہ ہوگا۔ وَمِنْ وَّرَائِھِمْ (اور ان کے آگے) ھمؔ کی ضمیر جماعت کی طرف ہے۔ بَرْزَخٌ (پر دہ ہے) جو ان کے اور دنیا کی طرف واپس لوٹنے کے درمیان حائل کردیا گیا ہے۔ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (اس دن تک جب کہ ان کو اٹھایا جائے گا) یہ مراد نہیں کہ وہ بعث سے واپس لوٹیں گے بلکہ یہ کلی طور پرنا امید ہے اس لئے کہ یہ بات پختہ طور پر ثابت ہے کہ بعث کے بعد تو آخرت ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

نفخ صور اور قیامت کا منظر : 101: فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ (جب صور میں پھونک ماردی جائے گی) ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد نفخہ ثانیہ یعنی نفخ بعث ہے یہی صحیح ہے : فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ (پس ان کے درمیان باہمی رشتہ داریاں اس دن نہ رہیں گی) قراءت : یومَئِذ یہ ادغام کے ساتھ ابوبکر نے پڑھا ہے۔ کیونکہ اجتماع مثلین ہے۔ اگرچہ یہ دو کلمے ہیں۔ مطلب یہ ہے ان کے درمیان انقطاع اسی وقت ہی واقع ہوجائے گا جبکہ ان کی دو جماعتیں نمبر 1۔ ثواب والے نمبر 2۔ سزا والے ہوجائیں گی اور ان کے درمیان صرف نسبی تعلق سے ملاپ کی صورت رہ جائے گی جبکہ وہ : یوم یفر المرئُ من اخیہ وامہٖ وابیہ وصاحبتہٖ وبنیہِ ] عبس : 36، 34[ وہ صرف اعمال کی بنیادی پر رہ جائے گی۔ وَّلَا یَتَسَآ ئَ لُوْنَ (وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال نہ کریں گے) یعنی رشتہ داری اور خاندان کا سوال نہ کریں گے جیسا کہ وہ دنیا میں سوال کرتے تھے کیونکہ ہر ایک اپنی حالت میں اس قدر مگن ہوگا کہ ساتھی کے متعلق پوچھنے سے بےنیاز ہوگا۔ ایک حل : اس آیت میں لا یتساء لون آرہا ہے۔ اور دوسری آیت : واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون ] الصافات : 27[ میں سوال کا تذکرہ موجود ہے۔ حقیقت میں ان کے مابین کوئی تناقض نہیں کیونکہ قیامت کے طویل دن میں بہت سے مواقع پیش آئیں گے۔ بعض مقامات پر خوف شدید ہونے کی وجہ سے باہمی سوال نہ کرسکیں گے۔ اور بعض مواقع میں افاقہ پاکر ایک دوسرے سے پوچھ لیں گے۔
Ayah 23:102

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

102: وَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ (پس جس کے میزان بھاری ہونگے) موازین جمع موزون کی ہے۔ اور یہ تو لے جانے والے اعمال صالحہ ہونگے جن کی قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے ہاں پائی جاتی ہے اور کافروں کے متعلق تو فرمایا : فلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا ] الکہف : 105[ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (پس وہی کامیاب ہونے والے ہیں)
Ayah 23:103

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

خسارے والوں کا ذکر اور انکار اعتراف : 103: فَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ (اور جن کے میزان ہلکے ہونگے) گناہوں کی وجہ سے۔ اس سے مراد کفار ہیں۔ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ (پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کو نقصان میں ڈالا) گھاٹے میں مبتلا کیا۔ فِیْ جَھَنَّمَ خٰلِدُوْنَ (وہ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہونگے۔ ) نحو : یہ خسروا ا نفسہم سے بدل ہے اور بدل اور مبدل منہ کا کوئی محلِ اعراب نہیں ہے کیونکہ صلہ کا کوئی محل نہیں ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ دوسری خبر ہے اولئک کیلئے۔ نمبر 3۔ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔
Ayah 23:104

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

104: تَلْفَحُ (جھلسا دے گی) جلا دے گی۔ وَجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَا کَالِحُوْنَ (ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس آگ میں بدشکل ہونگے) ترش رو ہونگے۔ پس انہیں کہا جائے گا۔
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

105: اَلَمْ تَکُنْ ٰایٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ (کیا تم کو میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی گئیں یعنی قرآن) دنیا میں : فَکُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ (پھر تم ان کو جھوٹا قرار دیتے تھے) اور یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

106: قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا (وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر غالب آگئی) ہمیں گھیر لیا : شِقْوَتُنَا (ہماری بدبختی نے) قراءت : حمزہ و علی نے شقا و تنا پڑھا ہے اور یہ دونوں مصدر ہیں۔ مطلب یہ ہے ہم اپنے برے اعمال سے بدبخت ہوگئے جو ہم نے کیے۔ اہلِ تاویل کا قول : ہم پر غالب آگئی وہ بدبختی جو ہمارے لیے لکھی تھی۔ یہ درست نہیں ہے کیونکہ وہ لکھا جاتا ہے جو کہ بندہ کرتا اور جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ اسی کا چنائو کرے گا اور نہیں لکھا جاتا اس کے علاوہ کہ جس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ اس کے اختیار کرے گا۔ پس بندہ مغلوب و مضطر فعل میں نہ ہوا۔ اہل جہنم یہ بات بطور معذرت کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہونگے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں بڑی کوتاہی کی ہے پس اس موقعہ پر یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے قصور کے سلسلے میں اپنے نفوس کیلئے معافی طلب کریں اور اسی لئے بطور اعتراف کہیں گے۔ وَکُنَّا قَوْمًا ضَآ لِّیْنَ (اور ہم راستہ کو گم کرنے والے لوگ تھے) حق و صواب سے گم گشتہ تھے۔
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

107: رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْہَا (اے ہمارے رب ! تو ہمیں اس سے نکال دے) ھاؔ کی ضمیر آگ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ فَاِنْ عُدْنَا (پس اگر ہم دوبارہ ایساکریں) یعنی کفر کی طرف لوٹیں اور تکذیب اختیار کریں۔ فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ (پس بیشک ہم ظالم و قصور وار ہونگے) ہم اپنے نفوس پر ظلم کرنے والے ہونگے۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

آخری کلام : 108: قَالَ اخْسَئُوْ ا فِیْہَا (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس میں راندے ہوئے پڑے رہو) ذلت و رسوائی کے ساتھ بالکل خاموشی اختیار کرو۔ وَلَا تُکَلِّمُوْنِ (اور مجھ سے بات نہ کرو) اپنے سے عذاب کو دور کرنے کے سلسلہ میں اس لئے کہ عذاب نہ ہٹایا جائے گا اور نہ اس میں تخفیف ہوگی۔ ایک قول یہ ہے یہ آخری کلام ہوگی جو جہنمی کر پائیں گے پھر کلام نہ ہوگا ہینگتے کی زور دار اور ہلکی آوازیں فقط نکلیں گی۔ (لھم فیھا زفیر و شھیق) قراءت : ان یحضرونی اور ارجعونی ولا تکلمونی وصل ووقف دونوں حالتوں میں یاءؔ سے پڑھے گئے ہیں۔ البتہ یعقوب وغیرہ نے بغیریاء کے پڑھا ہے۔
Ayahs 23:109–110

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

نیکوں سے تمسخر کا نتیجہ : 109، 110: اِنَّہٗ (بیشک معاملہ اور شان یہ ہے) یہ ضمیر شان ہے : کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحمِیْنَ فَاتَّخَذْ تُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا (کہ میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو کہا کرتے تھے اے ہمارے رب ہم ایمان لائے پس تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے پس تم نے انکامذاق اڑایا) نحو : سِخْرِیًّا یہ مفعول ثانی ہے ( باتوں میں مذاق اڑانا، استہزاء کرنا جب سین کے کسرہ سے ہو کذا قال الفراء) قراءت : سِخْرِیًّا مدنی، حمزہ، علی نے پڑھا ( کسی کو غلام بنانا اور تحقیر کرنا) دراصل یہ دونوں مصدر ہیں السخر اور السخر۔ البتہ یا ؔ ئے نسبت لگ جانے سے معنی میں مبالغہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ صحابہ ؓ ہیں۔ دوسرا قول خصوصاً اصحاب صفہ مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے تم نے ان کا مذاق اڑایا اور ان کے ساتھ تمسخر نے تمہیں ہر چیز سے بیخبر کردیا۔ حَتّٰی اَنْسَوْکُمْ (یہاں تک کہ اس بات نے تمہیں میری یاد بھلا دی) ایمان والوں کو ہنسی کے مشغلہ نے ذِکْرِیْ (میری یاد کو تم نے چھوڑ دیا۔ ) مطلب یہ ہے کہ ان میں مشغولیت میری یاد کے بھلانے کا سبب بنی۔ وَکُنْتُمْ مِّنْھُمْ تَضْحَکُوْنَ (تم ان سے ہنسی کیا کرتے تھے)
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

111: اِنِّیْ جَزَیْتُھُمْ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْا (میں نے آج ان کو ان کے صبر کے باعث بدلہ دیا) ان کے صبر کے سبب۔ اَنَّھُمْ اس لئے کہ وہ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ (وہی ہیں کامیاب ) نحو : جائز ہے کہ یہ مفعول ثانی ہو۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی جزیتھم الیوم فوزھم میں نے ان کو کامیابی کا بدلہ دیا۔ کیونکہ جزاء کا لفظ دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : وجزٰٹھم بما صبرواجنۃ ] الانسان : 12[ قراءت : انہم کسرہ کے ساتھ حمزہ، علی نے پڑھا اور جملہ مستانفہ قرار دیا ہے : ای انہم ھم الفائزون الا انتم بیشک وہ وہی کامیاب ہیں نہ کہ تم۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

112: قٰلَ (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) یا جو فرشتہ ان کے سوال و جواب پر مقرر کیا گیا ہوگا۔ قراءت : قلؔ مکی، حمزہ، علی نے پڑھا ہے مالک فرشتہ کو حکم ہوگا کہ ان سے سوال کرے۔ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ (تم زمین یعنی دنیا میں کتنا عرصہ ٹھہرے) عَدَدَ سِنِیْنَ (گنتی کے سال) یعنی تمہارے ٹھہرنے کے سالوں کی گنتی کتنی ہے۔ نحو : کمؔ یہ لبثتم کی وجہ سے منصوب ہے اور عدد یہ تمیز ہے۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

دُنیا کی قلیل مدت : 113: قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ (انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن کا بعض حصہ ٹھہرے ہیں) انہوں نے دنیا کی اس مدت کو خلود کے مقابلہ میں قلیل قرار دیا اور اس لئے بھی کہ وہ عذاب میں مبتلا ہیں اور عذاب میں پڑا ہوا تکلیف کے دنوں کو طویل قرار دیتا ہے اور خوش بختی کے ایام کو قلیل قرار دیتا ہے۔ فَسْئَلِ الْعَادِّیْنَ (تم گنتی کرنے والوں سے دریافت کرو) عادین حساب کرنے والے یا وہ ملائکہ جو انسانوں کی عمروں اور اعمال کی گنتی پر مقرر ہیں۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

قراءت : مکی و علی نے فَسَلْ بلا ہمزہ پڑھا ہے۔ 114: قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا (ارشاد ہوگا تم دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر تھوڑا تھوڑا۔ لَّوَاَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (لیکن کیا خوب ہوتا ہے کہ تم سمجھتے ہوتے) دنیا میں ٹھہرنے کی مدت کے قلیل ہونے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق فرمائی اور ان کی غفلت پر ان کو متنبہ کیا۔ قراءت : حمزہ و علی نے قُلْ اِنْ پڑھا ہے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

اپنے کو بیکار سمجھنا : 115: اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا (پس کیا تم نے یہ خیال کرلیا تھا کہ ہم نے تم کو محض بیکار پیدا کیا ہے) نحو : عبثا یہ حال ہے اس حال میں کہ تم بیکار قرار دینے والے تھے۔ نمبر 2۔ مفعول لہ یعنی للبعث ہم نے تم کو بیکاری کیلئے پیدا کیا ہے۔ وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَاتُرْجَعْوْنَ (اور تم ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لائے جائو گے) قرات : حمز ہ وعلی و یعقوب نے تائؔ کے فتحہ اور جیم کے کسرہ سے پڑھا ہے اور اس صورت میں اس کا عطف انما خلقنا کم پر ہے یا عبثًا پر ہے۔ یعنی بیکاری کیلئے اور اس لئے تاکہ ہم تمہیں بغیر لوٹائے چھوڑ دیں گے ؟ بلکہ ہم نے تمہیں مکلف بنایا تاکہ پھر تکلیف کے مقام سے دارا الجزاء کی طرف لوٹا کر محسن کو ثواب اور گناہ گار کو سزا دیں۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

وہ جس کی مملکت کو زوال نہیں : 116: فَتَعٰلَی اللّٰہُ (پس بہت عالی شان ہے) اس سے کہ بےکار پیدا کرے۔ الْمَلِکُ الْحَقُّ (سچا بادشاہ) وہ ذات جس کو بادشاہی لائق ہے کیونکہ ہر چیز اسی نے بنائی اور اسی کی طرف لوٹ کر جائے گی۔ نمبر 3۔ وہ قائم رہنے والی ذات ہے کہ جس پر زوال نہیں اور نہ اس کی مملکت کو زوال ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ (اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی بزرگی والے عرش کا مالک ہے) عرش کی صفت کرم سے فرمائی گئی ہے کیونکہ رحمت الٰہی اسی سے زمین پر اترتی ہے۔ نمبر 2۔ کیونکہ اس عرش کی نسبت اس ذات کی طرف ہے جو اکرم الاکرمین ہے۔ قراءت : شاذہ میں الکریم کو ضمہ سے پڑھا گیا ہے اور ربؔ کی صفت بنائی ہے۔
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

باطل کی سرے سے دلیل ہی نہیں : 117: وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہَ اِلٰھًا اٰخَرَ لَا بُرْھَانَ لَہٗ بِہٖ ۔ (واللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت کرتا ہے کہ جس کے معبود ہونے پر کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہیں) برھان کا معنی حجت ہے لَہٗ بِہٖ یہ جملہ معترضہ ہے جو شرط و جزاء کے درمیان واقع ہے جیسا کہتے ہیں : من احسن الی زید۔ لاأحق بالا حسان منہ فان اللہ مثیبہ۔ جو زید پر احسان کرے پس اللہ تعالیٰ اس کو بدلہ دینے والے ہیں کیونکہ زید سے بڑھ کر احسان کا کوئی حقدار نہیں۔ نمبر 2۔ یہ صفت لازمہ ہے جس کو تاکید کیلئے لایا گیا ہے مثلاً فرمایا گیا : یطیر بجنا حیہ ] الانعام : 38[ پر ندے نے تو اڑ نا ہی پروں سے ہے جناحین کا ذکر تاکید کیلئے فرمایا گیا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اٰلھہ میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے کوئی دلیلِ الوہیت ہوسکتی ہے ( بلکہ دوسروں کی عبادت جب باطل ہے تو باطل کی سرے سے دلیل ہوتی ہی نہیں) فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ (پس بیشک اس کا حساب) یعنی اس کی جزاء اور یہ شرط کی جزاء ہے۔ عِنْدَ رَبِّہٖ (اپنے رب کے ہاں) یعنی پس وہ اس کو بہر صورت سزا دے گا۔ اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ (بیشک کافروں کو کبھی کامیابی نہ ہوگی) ۔ آغاز و انتہائے سورت : سورت کے آغاز کو ایمان والوں کی فلاح سے شروع کیا : قد افلح المؤمنون اور اس کا اختتام ایمان کی ضد کفر کو اختیار کرنے والوں کے انجام پر فرمایا۔ ابتداء و انتہاء میں کتنا فاصلہ ہے کہ ناکام ایمان نہ لانے والے ہیں پھر ہمیں مغفرت و رحمت کا سوال آخر میں سکھایا تاکہ انجام کفر سے بچیں اور بچا سکیں۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

انجام بد سے بچانے کے لئے رحمت و مغفرت کا سوال : 118: وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ (کہہ دیں اے میرے رب تو بخشش فرما اور رحم فرما اور تو ہی سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے) بخشش و رحمت طلب کرنے کے بعد پھر فرمایا آپ تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں کیونکہ اس کی رحمت جب بندے کو پالے تو کسی دوسرے کی رحمت کی ضرورت نہیں رہتی اور دوسروں کی رحمت و مہربانی اس کی رحمت سے مستغنی نہیں کرسکتی۔ اللھم اغننی برحمتک یا أرحم الرحمین۔ الحمد للہ حمدًا لاغناء عن رحمتہ سورة المؤمنون کا تفسیری ترجمہ آج نماز عشاء کے بعد بروز منگل 1423؁ھ 13 شوال مکمل ہوا۔