Ayah 23:41چیخ کے ہلاکت :
41: فَاخََذَ تْھُمُ الصَّیْحَۃُ (ان کو چیخ نے آپکڑا) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری جس نے تمام کو تہس نہس کردیا۔ بِالْحِقِّ (حق کے موافق) اللہ تعالیٰ کے عدل کے مطابق۔ محاورہ میں کہتے ہیں : فلان یقضی بالحق ای بالعدل فلاں عدل سے فیصلے کرتا ہے۔ فَجَعَلْنٰھُمْ غُثَآئً (پس ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا) ان کی ہلاکت و تباہی کو غثاء سے تعبیر فرمایا۔ الغثائ اس کوڑا کر کٹ کو کہا جاتا ہے جو سیلاب کی روبہا کر لاتی ہے اور وہ پرانے پتے اور بوسیدہ ٹہنیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ فَبُعْدًا (پس دوری ہے) ہلاکت ہے محاورہ میں کہا۔ : بَعِدَ وَبَعَدَ و بُعدًا ای ھلک یہ ایسے مصادر ہیں جو اپنے افعال سے منصوب ہوتے ہیں جن افعال کو ظاہر کرنا درست نہیں۔ لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (ظالم قوم کیلئے) یہ ان لوگوں کا بیان ہے جن کے متعلق بد دعا کی گئی۔ جیسا اس آیت میں : ھبت لک۔ ] یوسف : 23[
نحو : بُعدًا مصدر قائم مقام اور للقوم الظالمین یہ قائم مقام فاعل ہے اور لام زائد ہے یا تاکید مصدر ہے۔
Ayah 23:42دیگر اقوام اور رسولوں کی آمد :
42: ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قُرُوْنًا ٰاخَرِیْنَ (پھر ہم نے اٹھایا ان کے بعد دوسرے زمانہ والوں کو) قوم صالح، قوم لوط، قوم شعیب وغیرہم۔
Ayah 23:4343: مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ (نہیں سبقت کرتی کوئی امت)
نحو : من صلہ ہے ای ماتسبق امۃٌ۔
اَجَلَھَا (اپنے وقت مقررہ سے) وہ وقت جو اس کی ہلاکت کا مقرر ہے اور لکھا جاچکا ہے۔ وَمَا یَسْتَاْخِرُوْنَ (ـاور نہ مقررہ میعاد سے پیچھے رہ سکتی ہے) اس سے وہ موخر نہیں ہوسکتی۔
Ayah 23:4444: ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (پھر ہم نے اپنے رسولوں کو مسلسل بھیجا) تَتْرَا یہ فعلیٰ کا وزن ہے۔ الف تانیث کی ہے جیسے سَکْرَیٰ کیونکہ رسل جماعت ہے اس لئے اس پر تنوین نہیں ہے کیونکہ غیر منصرف ہے۔
قرات : مکی اور ابو عمرو اور یزید نے تترًی تنوین سے پڑھا ہے۔ اس بناء پر کہ الف الحاقی ہے جیسے ارطیٰ میں ہے۔
نحو : دونوں قراءتوں میں نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے۔ ای متتابعًا واحدًا بعد واحدٍ اس میں کہ وہ پے در پے یکے بعد دیگرے آنے والے تھے۔ اس میں (تترا) تاء وائو کے بدلہ میں آئی ہے یہ اصل میں وتری ہے جو وتر سے لیا گیا ہے جو فرد کو کہتے ہیں شفع کا بالمقابل ہے وائو کو تاء سے بدل دیا جیسا کہ تراث میں ورث ہے۔ کُلَّمَا جَآ ئَ اُمَّۃً رَّسُوْلُھَا کَذَّبُوْہُ (جب بھی کسی امت کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا) -
وجہ اضافت :
رسول کا تعلق اور ملابست مرسل اور مرسل الیہ دونوں کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے دونوں کی طرف اضافت کی جاسکتی ہے اور یہ اضافت ملابست کی وجہ سے ہے۔
قاعدہ : رسول کے ساتھ ارسال کا ذکر ہو تو بھیجنے والے کی طرف نسبت ہوتی ہے۔ مثلا ارسلنا رسلنا۔ اللہ کا رسول اور اگر رسول کے ساتھ آنے اور پہنچنے کا ذکر ہو جن کی طرف رسول بھیجا تو لوگوں کی طرف نسبت ہوگئی جیسے : جاء امۃ رسولُھَا قوم ثمود کا رسول۔
ہلاکت میں نمبر لگا دیا :
فَاَتْبَعْنَا (پس ہم نے بھی ہلاکت میں نمبر لگا دیا) احمقوں اور اہل زمانہ کا۔ بَعْضَھُمْ بَعْضًا (ایک کے بعد ایک کا) ہلاکت میں۔ وَّ جَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ (اور ہم نے ان کو کہا نیاں بنادیا) رات کو لوگ ان کے قصے سناتے ہیں اور ان سے تعجب کرتے ہیں۔
نحو : الا حادیث یہ حدیث کا اسم جمع ہے۔ اور اسی سے یہ استعمال ہے احادیث النبی ﷺ ، احادیث الرسول ﷺ اور یہ احدوثۃ کی جمع بھی آتی ہے اور احدوثہ اس بات کو کہتے ہیں جس کو لوگ بطور دل بہلانے کے بیان کریں اور تعجبًا ذکر کریں۔ اور یہاں یہی مراد ہے۔ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ (پس ایمان نہ لانے والی قوم پر خدا کی مار ) ۔
نحو : یہ جملہ انشائیہ ہے یا خبر یہ ہے لام زائدہ ہے۔
Ayah 23:45بعثت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) :
45: ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ھٰرُوْنَ (پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا) ۔
نحو : ہارونؔ یہ اخاہ سے بدل ہے۔
بِاٰیٰتِنَا (اپنی آیات دے کر) نو آیات معجز ات مراد ہیں۔ وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (اور وہ دلائل) غالب آنے والے دلائل یا عصا۔
Ayah 23:4646: اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَائِہٖ فَاسْتَکْبِرُوْا (فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف پس انہوں نے تکبر کیا) بڑائی کی وجہ سے ایمان کو قبول کرنے سے باز رہے۔ وَکَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَ (اور وہ لوگ تھے ہی متکبر و مغرور ) ۔
Ayah 23:4747: فَقَالُوْا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلَنَا (یہ کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے انسانوں پر ایمان لائیں) ۔
نحو : البشر ؔ کا لفظ واحد اور جمع دونوں آتا ہے۔ اور مثلؔ اور غیرؔ کا لفظ تثنیہ اور جمع اور مذکر و مؤنث دونوں کی صفت بن سکتے ہیں۔ وَقَوْمُھُمَا ( اور ان کی قوم) مراد بنی اسرائیل۔ لَنَا عٰبِدُوْنَ (ہمارے خدمت گار ہیں) مطیع اور حکم بردار ہیں۔
اطلاقِ عرب : اہل عرب کے ہاں ہر وہ شخص جو کسی بادشاہ کا خدمت گزارو مطیع ہو اس کو عابد کہتے ہیں۔
Ayah 23:4848: فَکَذَّبُوْھُمَا فَکَانُوْا مِنَ الْمُھْلَکِیْنَ (پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا نتیجتاً وہ ہلاک ہونے والے لوگوں میں سے ہوگئے) غرق سے ان کو ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 23:4949: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی (تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دی) یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو الْکِتٰبَ (کتاب) تورات لَعَلَّہُمْ یَھْتَدُوْنَ (تاکہ وہ ہدایت پائیں) اس کے احکام پر عمل پیرا ہوں اور اس کے مواعظ سے نصیحت پکڑیں۔
Ayah 23:50مریم اور ابن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ اور ان کا ٹھکانہ :
50: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ ٰایَۃً (اور ہم نے ابن مریم اور ان کی ماں کو نشانی بنایا) جو ہماری قدرت تامہ پر دلالت کرنے والی ہے کہ ہم جو چاہتے ہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ بلانطفہ پیدا کئے گئے۔ اٰیۃٌ کا لفظ واحد لایا گیا کیونکہ اعجوبہ دونوں میں ایک ہی ہے۔ یا مراد یہ ہے : وجعلنا ابن مریم ایۃً ومہٗ ایۃً اول کو حذف کردیا کیونکہ ثانیہ کی دلالت اس پر موجود ہے۔ وَّ ٰاوَیْنٰھُمَآ (اور ہم نے ان کو پناہ دی) ان کو ٹھکانہ دیا۔ اِلٰی رَبْوَۃٍ (ایک بلند زمین پر) ۔
قراءت : شامی و عاصم نے رَبوۃٍ پڑھا ہے۔ اور دیگرقراء نے رُبوۃٍ پڑھا۔
ربوۃ بلند زمین، نمبر 1۔ وہ بیت المقدس ہے نمبر 2 دمشق نمبر 3۔ رملہ یا نمبر 4۔ مصر۔
ذَاتِ قَرَارٍ (قرار والی) ہموار زمین جس پر بسنے والے ٹھہر سکیں۔ نمبر 2۔ پانی اور پھلوں والی یعنی پھلوں کی وجہ سے لوگ وہاں ٹھہرتے ہیں۔ وَّ مَعِیْنٍ (اور جاری چشمے) ایسا پانی جو سطح زمین پر چلنے والا ہو۔
صرف : یہ مفعول کا صیغہ ہے۔ یعنی جس کے جاری ہونے کا آنکھ ادراک کرے ظاہر ہونے کی وجہ سے۔ یہ عانہ سے لیا گیا جبکہ آنکھ سے اس کا معائنہ کرے۔ نمبر 2۔ یہ فعیل کا وزن ہے کیونکہ یہ اپنے چلنے کی وجہ اور ظاہر ہونے کی بناء پر فائدہ پہنچانے والا ہے۔ اس لئے یہ الماعونؔ سے ماخوذ ہوگا اور وہ منفعت کو کہتے ہیں۔ یا مَعَنَ سے ہے جس کا معنی جاری ہونا ہے اس صورت میں میم اصلیہ ہے اور یہ صحیح ہے۔
Ayah 23:51ہر رسول کو خطاب :
51: یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ (اے رسولو حلال چیزیں کھائو) یہ نداء اور خطاب دونوں اپنے ظاہر پر نہیں ہیں کیونکہ انبیاء (علیہ السلام) کے زمانہائے نبوت مختلف ہیں۔ معنی اس کا یہ ہے کہ ہر رسول کو اس کے زمانہ میں یہ بات کہی گئی اور اس کی اس نے وصیت و نصیحت فرمائی تاکہ سامع معتقد ہو کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی تمام انبیاء کو اطلاع دی گئی اور انہوں نے اس کی وصیت کی پس ایسی بات قبولیت کے خاص طور پر لائق و مناسب ہے اور اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
نمبر 2۔ یا یہ حضرت محمد ﷺ کو خطاب ہے کیونکہ آپ اپنے زمانہ میں تمام کے قائم مقام ہیں اور قیامت تک نبوت آپ کی ہی ہے۔ اور آپ ہی غنائم کو استعمال میں لانے والے ہیں۔ جو پاکیزہ ترین مال ہے۔ یا نمبر 3۔ یا متصل آیت میں عیٰسی (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ وہی مراد ہیں اور وہ والدہ کے سوت کا تنے کی کمائی پر گزارہ کرتے اور کسب یدیہ پاکیزہ روزی ہے۔ اور طیبات سے مراد ہے جو حلال ہو۔ اور امر تکلیف کیلئے ہے یعنی مکلف ہونے کو ثابت کرتا ہے کہ حلال جو میسر ہو کھاؤ۔ نمبر 4۔ عمدہ اور لذیذ چیزوں کو طیبات سے مراد لیا جائے تو امر اباحت اور سہولت کیلئے ہے کہ رہبا نیت میں مزید چیزیں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ بقدرہمت مگر انہی میں مشغولی نہ ہو۔
وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (اور تم نیک اعمال کرو) جو شریعت کے موافق ہوں۔ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ (بیشک میں تمہارے اعمال کو جانتا ہوں) پس تمہارے اعمال پر بدلہ دونگا۔
Ayah 23:5252: وَاِنَّ ھٰذِہٖٓ (بیشک یہ ) ۔
قراءت ـ: کوفی قراء نے استیناف کی بناء پر اِنَّ پڑھا اور حجازی نے أنّ اور بصری ان کو بمعنی ولِاَنَّ کے تسلیم کیا۔
یعنی فاتقون لان ھذہٖ یا ماقبل پر معطوف ہے ای بما تعملون علیمٌ و بأنَّ ھٰذہ یا تقدیر اس طرح مانیں : واعلموا ان ھذہٖ اُمَّتُکُمْ (تمہارا طریقہ) یعنی تمہاری ملت و شریعت جس پر تم قائم ہو۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃ ً (ایک طریقہ ہے) وہ شریعت اسلام ہے۔ امۃً منصوب حال ہونے کی وجہ سے ہے مطلب یہ ہے کہ دین ایک ہے اور وہ اسلام ہے اور اس کی مثل دوسری آیت ہے : ان الدین عند اللہ الاسلام ] آل عمران : 19 ] وَّ اَنَارَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ (اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ سے ڈرو) مجھ اکیلے سے۔ میرے حکم کی مخالفت میں میرے عذاب سے ڈرو۔
Ayah 23:53لوگوں کا کتابوں سے سلوک :
53: فَتَقَطَّعُوْآ اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ (پس لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا) تقطع بمعنی قطع ہے اپنے دین کے معاملے کو قطع کیا۔ زُبُرًا (ٹکڑے ٹکڑے) یہ زبور کی جمع ہے۔ مختلف کتابیں یعنی انہوں نے اپنے دین کو کئی دین بنادیا۔ ایک قول وہ اپنے دین میں کئی فرقوں میں بٹ گئے ہر فرقہ ایک کتاب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ قول حسن (رح) : اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مختلف ٹکڑوں میں کاٹ دیا اور اس کی تحریف کر ڈالی۔
قراءت : زُبُرا جمع زُبْرۃ پڑھا جاتا ہے ٹکڑا۔ کُلُّ حِزْبٍ (ہر گروہ) دین کو کاٹ کر جدا کرنے والوں میں سے ہر گروہ۔ بِمَالَدَیْھِمْ (جو کچھ ان کے پاس ہے) یعنی کتاب اور دین یا خواہش و رائے۔ فَرِحُوْنَ (وہ اس پر خوش ہے) وہ خوش ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔
Ayah 23:5454: فَذَرْھُمْ فِیْ غَمْرَتِھِمْ (ان کو آپ اسی جہالت میں چھوڑ دیں) غمرۃ جہالت و غفلت کو کہتے ہیں حَتّٰی حِیْنٍ (ایک وقت تک) یہاں تک کہ وہ قتل کئے جائیں یا موت ان کو دبوچ لے۔
Ayahs 23:55–5655، 56: اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَ ( کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم ان کو جو مال واولاد دیتے جاتے ہیں) ماؔ الذیؔ کے معنی میں ہے اَنَّ کی خبر نسارع لھم فی الخیرات ہے۔ اور خبر سے اسم کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے : ای نسای عُ لھم بہٖ نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ مطلب یہ ہے کہ یہ امداد باوجود معاصی کے صرف استدراج ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ ان کو جلد ازجلد امداد مل رہی ہے اور ان کی عمدہ کا ر کردگی پر ہم ان کو ثواب کا پیشگی بدلہ دے رہے ہیں۔
استدلالِ آیت :
معتزلہ کے عقیدہ کی تردید ہے کہ اصلح فی الدین اللہ پر لازم ہے اس آیت میں خبر دی کہ یہ بات ان کے لئے دینی اعتبار سے خیر نہیں اور نہ ہی اصلح۔ بلکہ اضرر ہے۔ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ (بلکہ ان کو شعور نہیں) بلؔ یہ ایحسبون سے استدراک کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حیوانات کی طرح ہیں ان میں شعور نہیں جب تک کہ اس بات پر غور نہ کریں کہ یہ استدراج ہے یا بھلائی میں مسارعت ہے۔
Ayah 23:57اولیاء کی صفات کا دوبارہ تذکرہ :
57: پھر اپنے اولیاء کا وضاحت سے تذکرہ فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ (بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کے ڈر سے ہیبت زدہ ہیں) خائف ہیں۔
Ayah 23:5858: وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ (اور وہ لوگ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں پر۔ وہ ان کتابوں میں ایمان کے لحاظ سے تفریق کرنے والے نہیں ان لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور وہ اہل کتاب یہودو نصاریٰ ہیں۔
Ayah 23:5959: وَالَّذِیْنَ ھُمْ بَرِبِّہِمْ لَایُشْرِکُوْنَ (اور وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے نہیں) جیسا کہ مشرکین عرب کرتے تھے۔
Ayah 23:6060: وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ ٰاتَوْا (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ دیتے ہیں جو دیتے ہیں) یعنی جو دینے والی چیزیں زکوٰۃ و صدقات وغیرہ دیتے ہیں۔
قراءت : یأتون ما اتوا قصر کے ساتھ پڑھا گیا اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔ یفعلون مافعلوا وہ جو کرنا ہوتا ہے کرتے ہیں : وَّ قُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ (اس حال میں کہ ان کے دل خوف زدہ ہوتے ہیں) اس بات سے خائف ہوتے ہیں کہ ان کی کوتاہیوں کی وجہ سے کہیں یہ نامقبول نہ ہو۔ اَنَّھُمْ لَھَا اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَ (بیشک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں) جمہور کے نزدیک اس کی تقدیر عبارت یہ ہے : لا نہم الی ربہم راجعون اور ان الذین کی خبر : اولئک یسارعون فی الخیرات ہے۔
Ayah 23:6161: اُولٰٓئِکَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ (وہی لوگ بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنیوالے ہیں) وہ طاعات کی رغبت رکھتے ہیں
اور ان کو جلد انجام دیتے ہیں۔ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ (اور وہ ان کی طرف تیزی سے جانے والے ہیں) یعنی نیک کاموں کی وجہ سے جنتوں کی طرف تیزی سے رواں دواں ہیں۔ یا ان بھلائیوں کی وجہ سے وہ لوگ نیکی میں آگے بڑھ گئے۔
Ayah 23:6262: وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا (اور کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کام کا حکم نہیں دیتے) وسعت کا معنی طاقت، مقدور، صالحین کی جو صفات مذکور ہوئیں یہ طاقت سے زائد نہیں۔ اسی طرح ہر وہ کام جس کا بندے کو مکلف بنایا گیا وہ بھی بندوں کی طاقت کے دائرے میں ہیں۔ اس میں تردید اس گروہ کی ہے جو انسانی تکالیف کو تکلیف مالا یطاق قرار دیتے ہیں۔ وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ (ہمارے پاس ایک کتاب ہے) کتاب سے لوح محفوط مراد ہے یا اعمال نامہ مراد ہے۔
یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (جو ٹھیک ٹھیک بتادے گا اور کسی پر ذرا بھر ظلم نہ ہوگا) اس سے وہی پڑھیں گے جو صدق وعدل ہوگا۔ اس میں نہ کمی اور نہ اضافہ اور نہ ہی کسی کو زیادہ سز ادیکر ظلم کیا جائے گا۔ یا ثواب کا نقصان نہ ہوگا۔ یا ایسی تکلیف جس کی اس میں طاقت نہ ہو۔
Ayah 23:63کفار شکار غفلت :
63: بَلْ قُلُوْبُہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ مِّنْ ھٰذَا (بلکہ ان کے دل اس دین کے متعلق شک میں پڑے ہیں) بلکہ کفار کے قلوب ایسی غفلت کا شکار ہیں جو ان کو اس چیز سے ڈھانپنے والی ہے جس پر یہ ایمان والے قائم ہیں۔ وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ (اور ان کے اس کے علاوہ بھی اعمال ہیں) ان کے مخفی اعمال تو اس بات سے تجاوز کرنے والے ہیں جس سے مومن موصوف ہیں۔ ھُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ (اور وہ ان کو کئے جارہے ہیں) اور اس پر قائم رہنے والے ہیں اور ان کو اسوقت تک چھوڑنے کیلئے تیار نہیں یہاں تک کہ ان کو عذاب آپکڑے۔
Ayah 23:6464: حَتّٰی اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْہِمْ (یہاں تک کہ جب ہم ان کے مالداروں کو پکڑیں گے) خوشحال لوگوں کو بِالْعَذَابِ (دنیا کے عذاب میں) اور وہ سات سال کا قحط ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی بددعا سے مسلط فرمایا یا بدر کے دن قتل ہونا۔ حتی ابتدائیہ اور جمل شرطیہ ہے : اِذَا ھُمْ یَجْئَرُوْنَ (اسی وقت چیخنے لگیں گے) فریاد کرتے ہوئے چیخیں گے۔ الجؤار مدد کیلئے پکارنا۔ اس کے جواب میں ان کو کہا جائے گا۔
Ayah 23:6565: لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ (مت چیخو) چیخنا تمہارے لئے فائدہ مند نہیں۔ اِنَّکُمْ مِّنَّا لَاتُنْصَرُوْنَ (بیشک ہماری طرف سے تمہاری مدد نہ کی جائیگی) ہماری جانب سے تمہیں کوئی نصرت یا اعانت نہ ملے گی۔
Ayah 23:6666: قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ (میری آیات تم پر پڑھی جاتی تھیں) یعنی قرآن : فَکُنْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ تَنْکِصُوْنَ (تم اپنی ایڑیوں کے بل مڑتے تھے) تم الٹے قدموں لوٹتے النکو ص : الٹے پائوں مڑنا۔ یہ سب سے بدترین چال ہے کیونکہ وہ اپنے پیچھے دیکھتا نہیں۔
Ayah 23:6767: مُسْتَکْبِرِیْنَ (تکبر کرتے ہوئے) مسلمان پر بڑھائی ظاہر کرتے ہوئے۔
نحو : یہ تنکصون سے حال ہے۔
بِہٖ (بیت اللہ پر یا حرم پر۔ ) کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں۔ اس لئے ہم پر کوئی غالب نہ آئے گا۔ یہ مفہوم اس قول کے مطابق ہے۔ جنہوں نے ضمیر کا مرجع بیت کو قرار دیکر استکبار بالبیت مراد لیا۔ نمبر 2۔ ہٖ کا مرجع آیات قرار دیا۔ انہوں نے آیات کو کتاب کے معنی میں لیا اور استکبار بالقرآن کا مطلب تکذیب ہے۔
نحو : مستکبرین میں ضمناً مکذبینؔ کا معنی پایا جاتا ہے اسی لئے اس کے متعدی بنانے کیلئے کذب فعل والاحرف تعدیہ استعمال کرلیا گیا ہے۔
نمبر 3۔ یاؔ سامرًا سے متعلق ہے : ای تسمرون بذکر القرآن و بالطعن فیہ سٰمِرًا تَہْجُرُوْنَ (مشغلہ بناتے ہوئے) وہ بیت اللہ کے گرد رات قصہ گوئی کرتے اور ان کی عمومی قصہ گوئی قرآن کے متعلق ہوتی وہ کبھی قصہ کہانی کہتے اور کبھی سحر و شعر کا نام دیتے۔ سامرؔ کا لفظ حاضر کی طرح واحد و جمع پر اطلاق کیا جاتا ہے۔
قراءت : اس کو سمّاراً بھی پڑھا گیا ہے۔
نمبر 4۔ یاتھجرون سے متعلق ہے اور یہ الھجر سے مشتق ہے جس کا معنی ہذیانؔ آتا ہے۔ (ہجر کا معنی کٹ جانا، کتراجانا، بیہودہ بکواس کرنا آتا ہے)
قراءت : نافع نے تھجِرون پڑھا ہے اس صورت میں یہ اھجر فی منطقہ ای افحش اس نے اپنی گفتگو میں فحش طریق اختیار کیا۔
Ayah 23:68کفار کا انکار چہ معنی دارد وہ ذاتی غیرت کی وجہ سے نہیں مانتے :
68: اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ (کیا انہوں نے کلام الٰہی میں غور نہیں کیا) کیا انہوں نے قرآن مجید میں غور نہیں کیا تاکہ ان کو علم ہوتا کہ وہ کھلا ہوا حق ہے پس وہ اس کی تصدیق کرتے اور اس کو سچا جانتے جو وہ لے کر آئے ہیں۔ اَمْ جَآ ئَ ھُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآ ئَ ھُمُ الْاَوَّلِیْنَ (یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو ان کے بڑوں کے پاس نہیں آئی) امؔ بل کے معنی میں ہے اور استفہام انکاری ہے مطلب اس طرح ہے بلکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو ان کے اولین آباء کے پاس نہ آئی ہوئی ہو بلکہ وہی چیز آئی ہے پھر ان کا انکار اور اور اس کو اوپر اقراردینا چہ معنی دارد۔
Ayah 23:6969: اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَہُمْ (یہ لوگ اپنے رسول کو نہیں پہچانتے) محمد الصادق الامین کو اور یہ ان کے وفور عقل اور صحت نسب اور حسن اخلاق سے واقف نہیں۔ یعنی وہ ان صفات سے ان کو پہچانتے ہیں۔ فَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ (پھر انہی کے منکر ہیں) کیا وجہ ہے سوائے ضد اور حسد کے اور تو کچھ نہیں۔
Ayah 23:7070: اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ (یا یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول کو جنون ہے) جِنَّۃ کا معنی جنون ہے حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ اس میں عقلی اعتبار سے سب سے بڑھ کر پختہ اور ذہنی لحاظ سے سب سے روشن ذہن والے ہیں۔ بَلْ جَآ ئَ ھُمْ بِالْحَقِّ (بلکہ یہ رسول ان کے پاس حق بات لے کر آئے ہیں) واضح حق، صراط مستقیم اور وہ چیز جو ان کی شہوات، خواہشات کے خلاف ہے اور وہ توحید اور اسلام ہے اب انہوں نے اس کا کوئی جواب اور دفاع موجود نہ پاکر اس کو مجنون کہنا شروع کردیا۔
واَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ (اور ان کی اکثریت حق سے نفرت کرنے والی ہے)
فائدہ : اس میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ان میں سے قلیل تعداد حق کو ناپسند نہیں کرتی تھی بلکہ ایمان کو ذاتی غیرت اور اپنی قوم کی ناپسندیگی اور حقارت کی خاطر چھوڑنے والی تھی کہ قوم کے لوگ ان کو صابی کہہ کر طعن زنی کریں گے اور آباء و اجداد کے دین کو چھوڑنے کے طعنے ماریں گے جیسے خواجہ ابو طالب وغیرہ کہ ان کو دین سے عناد نہ تھا۔
Ayah 23:7171: وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ (اور اگر بالفرض دین ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا) ابن جریج وغیرہ نے الحقؔ سے یہاں اللہ تعالیٰ کی ذات مراد لی ہے۔ اَھْوَآ ئَ ھُمْ سے مراد کئی اٰلہہ کا اعتقاد رکھنا ہے۔ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ (تو آسمان و زمین تباہ ہوجاتے) جیسا کہ فرمایا : لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا ] الانبیائ : 22[ وَمَنْ فِیْھِنَّ (اور جو کچھ ان میں ہے) عقلاء کو منؔ کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ غیر عقلاء ان کے تابع ہیں۔
بَلْ اَتَیْنٰھُمْ بِذِکْرِ ھِمْ (بلکہ ہم نے تو ان کے پاس ان کی نصیحت کی بات بھیجی) یعنی اس کتاب کو بھیجا ہے جو ان کے لئے نصیحت یا ان کے لئے باعث شرف ہے کیونکہ رسول ﷺ انہی میں سے ہیں اور قرآن انہی کی لغت میں سے ہے۔ یا وہی ذکر ہے جس کی یہ تمنا کرتے تھے اور کہا کرتا تھے : لو اَنَّ عندنا ذکرًا من الاولین ] الصافات : 168[
فَھُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُّعْرِضُوْنَ (پس وہ لوگ اپنی نصیحت کی بات سے روگردانی کرنے والے ہیں) اپنے برے اختیار اور چنائو کی وجہ سے۔
Ayah 23:7272: اَمْ تَسْئَلُھُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌ (یا تم ان سے کسی آمدنی کے خواستگار ہو تو آپ کے رب کی عطاء کردہ سب سے بہتر ہے) ۔
قراءت : حجازی، بصری، عاصم نے فَخراجُ پڑھا ہے۔ شامی نے خرجًا .... فَخَرْجُ پڑھا۔ علی، حمزہ نے خَراجا۔۔۔۔۔۔ فَخَراج پڑھا۔
خراجؔ زمین کی زکوٰۃ جو امام کو دی جاتی ہے اور ہر عامل کو اس کی جو اجرت اور انعام دیا جاتا ہے الخرج کا لفظ الخراج سے خاص ہے۔ جیسا کہتے ہیں : خراج القریۃ۔ خرجَ الکُردۃِ لفظ کا اضافہ معنی میں اضافہ کو ظاہر کرتا ہے اسی لئے پہلی قراءت سب سے اولیٰ ہے۔ یعنی : ام تسأ لھم علی ھدایتک لھم قلیلًامن عطاء الخلق فالکثیر من الخالق خیرٌ۔ کیا آپ ان سے ہدایت پر مخلوق سے قلیل عطیہ مانگتے ہیں۔ خالق کی طرف سے ملنے والاکثیر اجر سب سے بہتر ہے۔ ( یہ استفہام بھی انکاری ہے کہ آپ ان سے کسی چیز کے خواستگار نہیں) وَّ ھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ (اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔ )
Ayah 23:7373: وَ اِنَّکَ لَتَدْعُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (اور بیشک آپ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف دعوت دینے والے ہیں) اور وہ دین اسلام ہے پس زیادہ مناسب ہے کہ وہ آپ کی بات کو مان لیں۔
Ayah 23:7474: وَاِنَّ الَّذِیْن لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنَاکِبُوْنَ (اور بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ راستہ سے ہٹنے والے ہیں) وہ اس مذکورہ راستہ سے عدول کرنے والے ہیں۔ اور حالانکہ وہ صراط مستقیم ہے۔
Ayah 23:75کفار کی ضد کا حال :
75: وَلَوْ رَحِمْنٰھُمْ وَکَشَفْنَامَا بِہِمْ مِّنْ ضُرٍّ (اگر ہم ان پر مہربانی کردیتے اور ان کی تکلیف کو دور کردیتے) جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو قحط کے ساتھ پکڑا تو خون اور اون سے تیار شدہ کھانا ان کو کھانا پڑا ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم اور رحم کا واسطہ دیتا ہوں۔ کیا تمہارا خیال نہیں کہ تم جہان والوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہو آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا۔ تم نے آباء کو تلوار سے قتل کیا اور اولاد کو بھوک سے ؟ پس یہ آیت اتری : ( ذکرہ الواحدی فی اسباب النزول) مطلب یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ یہ تکلیف ان سے دور کر دے الضر سے وہ قحط مراد ہے جس نے ان کو آلیا تھا اور وہ آپ کی رحمت سے ان کو پہنچا تھا اور وہ خوشحالی پالیں۔ لَّلَجُّوْا (تو ضرور جمے رہیں) فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ (اپنی سرکشی میں سرگرداں پھرتے رہیں گے) متردد رہیں گے۔ یعنی تو دوبارہ یہ تکبر، عداوت رسول ﷺ و عداوت مؤمنین کرنے لگیں گے اور یہ چاپلوسی وقتی ختم ہوجائے گی۔
Ayah 23:7676: وَلَقَدْ اَخَذْ نٰھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ (اور ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا تب بھی انہوں نے اپنے رب کے سامنے نہ عاجزی اختیار کی نہ گڑگڑائے) اس سے اس بات پہ استشہاد پیش کیا کہ ہم نے اولاً ان کو تلواروں سے پکڑا۔ اور بدر کے دن جو ان کے صنادید کے ساتھ قتل و قید کی صورت میں پیش آیا۔ مگر اس سب کے باوجود ان کی طرف سے رجوع اور توبہ نہیں پائی گئی۔ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ ( اور نہ وہ گڑ گڑائے) یہ ان کی دو امی حالت کی تعبیر ہے کہ وہ تو ابھی تک سابقہ روش پر ہیں۔ اسی لیے ماتضرعوا نہیں کہا بلکہ مضارع استعمال فرمایا گیا۔ استکان یہ استفعل کے وزن پر کون مصدر سے بنایا گیا ہے۔ ای انتقل من
کون الی کون۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوا جیسا کہ کہا جاتا ہے استحال اذا نتقل من حال الی حال وہ ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوا۔
Ayah 23:7777: حَتّٰی اِذَا فتَحْنَا (یہاں تک کہ جب ہم نے سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا) ۔
قراءت : یزید نے فَتَّحْنَا پڑھا ہے۔
قحط سے پکڑ :
عَلَیْھِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ : عذاب شدید سے بھوک مراد ہے جو کہ قید و قتل سے سخت تر ہے۔ اِذَاھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ (تو اسی وقت وہ حیران مایوس ہوگئے) متحیر اور ہر خیر سے مایوس ہونے لگے اور ان میں سے سب سے سرکش اور متمرد شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر طالب دعا ہوا اور رحم کی اپیل کی یا ہم نے ان کا امتحان ہر قسم کے امتحان قتل و بھوک سے لیا مگر ان میں نرمی اور زاری پیدا نہیں ہوئی اور وہ اس طرح رہیں گے یہاں تک کہ جب جہنم کی آگ سے ان کو عذاب دیا جائے گا تو تب مایوس ہونگے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : یوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون ] الروم : 12[
Ayah 23:78انعامات سے یاددہانی :
78: وَھُوَالَّذِیْ اَنْشَأَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ (اور اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل پیدا کئے) تین حواس کا خصوصاً اس لئے ذکر کیا کہ عموماً انہی سے دینی اور دنیوی فوائد زیادہ تر متعلق ہیں دیگر حواس سے اتنے نہیں۔ قَلِیْلًا مَّاتَشْکُرُوْنَ (تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو) تم تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ ما تاکید کیلئے زائد کیا گیا ہے اور حقاً کے معنی میں ہے مطلب اس طرح ہوا تم نے ان انعامات کی عظمت نہیں پہچانی اور تم نے ان کو بےمحل استعمال کیا۔ تم نے آنکھوں اور کانوں سے اللہ تعالیٰ کی آیات اور افعال کے سلسلہ میں کام نہیں لیا۔ اور نہ اپنے دلوں سے استدلال کیا۔ کہ تم منعم کو پہچان کر کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے۔
Ayah 23:7979: وَھُوَ الَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ (اور وہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا) اور تناسل و توالد کے ذریعہ زمین میں پھیلا دیا۔ وَاِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (اور اسی کی بارگاہ میں تمہیں جمع کیا جائے گا) تم قیامت کے دن پراگندہ ہونے کے بعد تم اکھٹے کئے جائو گے۔
Ayah 23:8080: وَھُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ (اور وہی ذات ہے جو زندگی اور موت دیتی ہے) وہ اجسام کو پیدا کر کے زندہ کرتا اور فناء کر کے موت دیتا ہے۔ وَلَہُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ (اور اسی کیلئے رات اور دن کا مختلف ہونا ہے) کہ ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا ہے۔ اور روشنی اور اندھیرے کے لحاظ سے ان کا مختلف ہونا۔ یا بڑھنے اور کم ہونے کے لحاظ سے ان کا مختلف ہونا اور یہ خاص اسی کے قبضہ واختیار میں ہے ان میں تصرف کا کسی اور کو اختیار نہیں اور نہ قدرت ہے۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ (کیا تم عقل نہیں رکھتے ہو) کہ تم اٹھائے جانے پر ہماری قدرت کو پہچانو۔ یا صنعت سے صانع پر استدلال کرسکو اور پھر ایمان لے آئو۔