Ayah 24:5252: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ (جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے) اپنے فرائض میں وَرَسُوْلَہٗ (اور اس کے رسول کی) ان کے طرق میں وَیَخْشَ اللّٰہَ (اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے) اپنے گزشتہ گناہوں کے سلسلہ میں وَیَتَّقْہِ (اور وہ تقویٰ اختیار کرے) زمان مستقبل میں۔ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآپزُوْنَ ( وہی کامیاب ہونے والے ہیں)
نکتہ : کسی بادشاہ نے پوچھا کہ قرآن مجید میں کافیہ آیت کو نسی ہے تو جواباً ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ واقع میں یہ آیت کامیابی کے تمام اسباب کو جمع کرنے والی ہے۔
قراءت : وَیَتَّقِہْ ہاء کے سکون سے پڑھنا ابو عمرو، ابوبکر نے بنسبت وقف درست قرار دیا ہے اور حفص نے قافؔ کے سکون، کسرئہ ہاء سے اور قاف اور ہاء کے کسرہ سے دوسروں نے پڑھا ہے۔
Ayah 24:53منافقین کا طرز عمل :
53: وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَاَیْمَانِھِمْ (وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں) منافقین نے اللہ تعالیٰ کے نام کی پکی قسمیں اٹھائیں ان کو جھد اس لئے کہا گیا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش ان میں صرف کردی۔ جھد یمینہ کو جھد نفسہ کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا۔ جبکہ وہ اس میں اپنی پوری وسعت و کوشش صرف کر دے اور یہ اسی وقت ہے جب وہ قسم میں مبالغہ کرے اور اس کی پختگی و تاکید میں انتہاء کردے۔
قول ابن عباس ؓ : جس شخص نے اپنی قسم کے ساتھ باللہ ؔ کہا اس نے اپنی قسم کو انتہائی مضبوط کردیا۔ اور اصل کلام اس طرح ہے : اقسم جہد الیمین ای اقسم یجھد الیمین جھدًا فعل کو حذکر کے مصدر کو مقدم کردیا اور اس کی جگہ رکھ کر مفعول کی طرف مضاف کردیا۔ جیسا اس ارشاد میں ہے : فضرب الرقاب ] محمد : 4 [ اس منصوب کا حکم حال والا ہے گویا اس طرح کہا گیا : جاھدین ایمانہم اس حال میں کہ وہ اپنی قسموں میں کوشش کرنے والے ہیں۔
لَئِنْ اَمَرْتَھُمْ لَیَخْرُجُنَّ (اگر آپ ہمیں حکم دیں گے تو ہم ضرور نکل کھڑے ہونگے) یعنی اگر ہمیں محمد ﷺ غزوہ کی طرف نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرورجائیں گے یا اگر ہمیں ہمارے گھروں سے نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور نکل جائیں گے۔ قُلْ لَّاتُقْسِمُوْا (آپ ان سے کہہ دیں تم قسمیں مت اٹھائو) جھوٹی قسمیں نہ اٹھائو کیونکہ وہ گناہ کبیرہ ہیں۔ طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ (تمہاری فرمانبرداری معلوم ہے) اس جھوٹے ایمان سے کھلی خالص اطاعت زیادہ اولیٰ اور بہتر ہے۔
نحو : یہ مبتدأ ہے اس کی خبر محذوف ہے نمبر 2۔ یہ خبر ہے اور اس کا مبتدأ محذوف ہے یعنی جو تم سے مطلوب ہے وہ معروف طاعت ہے جس میں کوئی اشتباہ نہ ہو اور نہ شک کیا جاسکے جیسا کہ مخلص مسلمانوں کی طاعت ہے وہ ایمان معتبر نہیں جس کی تم اپنے منہ سے قسمیں اٹھاتے ہو۔ حالانکہ تمہارے دل اس کے مخالف ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے) جو تمہارے ضمائر میں ہے اس کو بھی جانتے ہیں۔ اور تمہارے مخفی راز اس کے سامنے ہیں وہ تمہیں رسوا کرے گا۔ اور تمہارے نفاق پر بدلہ دے گا۔
Ayah 24:54انکی طاعت سے اعراض پر آپ کا کچھ نقصان نہ ہوگا :
54: قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( کہہ دیجئے ! تم اللہ اور رسول کی طاعت کرو) التفات کی خاطر خطاب سے غائب کی طرف کلام کو موڑ دیا یہ ان کے روندنے کیلئے بلیغ انداز ہے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَاحُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّاحُمِّلْتُمْ (اگر تم منہ موڑ لو تو رسول پر وہ لازم ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا) مراد یہ ہے کہ اگر تم طاعت سے اعراض کرو گے تو ان کو کچھ نقصان نہ پہنچے گا بلکہ تمہارا اپنا نقصان ہوگا۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہے جتنی اس پر ڈالی گئی اور ادائے رسالت کا ان کو مکلف بنایا گیا۔ جب انہوں نے پیغام کو پہنچا دیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے نکل گیا۔ باقی تم پر ذمہ داری اس کی بات کو قبول کرنے اور یقین کرنے کی رہ گئی اگر تم نے وہ ادا نہ کی اور منہ موڑ لیا تو تم نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے غضب کے حوالے کردیا اور اس کے عذاب پر اپنے آپ کو پیش کردیا۔ وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْا (اگر تم اس کی طاعت کرو گے تو راہ پا جائو گے) یعنی اگر تم نے اطاعت کی ان تمام باتوں کی جن کا وہ تمہیں حکم دیتے اور منع کرتے ہیں تو ہدایت کا حصہ تم نے پالیا۔ نفع و نقصان بہر صورت ہماری طرف لوٹنے والے ہیں۔
آپ کی ذمہ داری پہنچا دینا ہے :
وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (اور رسول کے ذمہ تو فقط ان احکامات کا کھول کر پہنچا دینا ہے) رسول ﷺ کے ذمہ تو ان احکام کا پہنچا دینا ہے تمہارے قبول کرلینے میں ان کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی تمہارے اعراض سے ان کو کوئی نقصان پہنچے گا۔ البلاغؔ کا معنی تبلیغ ہے۔ جیسا کہ الاداءؔ بمعنی التادیۃ آتا ہے۔ المبین ؔ ظاہر۔ یہ اس لئے کہا کیونکہ وہ احکام آیات و معجزات کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔
فائدہ : پھر مخلصین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 24:55آیت تمکین فی الارض :
55: وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے وعدہ فرمایا) اس میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے۔ منکمؔ یہ بیان وضاحت کیلئے ایک قول یہ ہے اس سے مراد مہاجرین ہیں اور منؔ تبعیض کیلئے ہے۔ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ (ضرور بضرو ران کو زمین میں خلافت عنایت فرمائیں گے) ارض سے ارض کفار مراد ہے ایک قول ارض مدینہ مراد ہے۔
صحیح قول : یہ ہے کہ یہ عام ہے اس لئے کہ (علیہ السلام) کا ارشاد ہے : لید خلن ھذا الدین علی مادخل علیہ اللیل۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ وہاں تک داخل کرے گا۔ جہاں تک رات چھائی ہے۔ کَمَااسْتَخْلَفَ جیسے اس نے خلیفہ بنایا۔
قراءت : ابوبکر نے استُخْلف پڑھا ہے۔
الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ (ان لوگوں کو جو ان سے پہلے ہوئے اور ضرور بضرور تمکین عنایت فرمائے گا اس دین کو جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند کیا ہے۔ اور ضرور بضرور بدل دے گا) ۔
قراءت : لیبد لنَّھم کو تخفیف سے مکی اور ابوبکر نے پڑھا ہے۔
مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا (ان کے خوف کو امن سے) اس میں نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو کفر پر غلبہ کا وعدہ فرمایا ہے اور ان کو زمین پر وارث اور خلفاء بنائے گا۔ وعدہ کیا ہے جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ساتھ کیا جبکہ ان کو مصر و شام عنایت فرمائے اور وہاں پر قابض جبابرہ کو ہلاک کردیا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی وعدہ فرمایا کہ پسندیدہ دین کو تمکین عنایت فرمائے گا اور یہ دین اسلام ہی ہے۔ تمکینؔ سے مضبوطی و پختگی مراد ہے۔ نمبر 3۔ ان کا قبیلہ ایمان لے آئے گا۔ اور موجودہ خوف کی حالت زائل ہوجائے گی۔ اور یہ اسی طرح ہوا کہ رسول ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ دس سال تک مکہ میں خوف کی حالت میں اقامت پذیر رہے جب ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تو صبح و شام ہتھیار بندر ہتے یہاں تک کہ ان میں سے ایک کی زبان سے نکلا کیا ہم پر کوئی دن ایسا آئے گا کہ ہم ہتھیار رکھیں گے تو یہ آیت اتری اس پر (علیہ السلام) نے فرمایا تم پر زیادہ زمانہ نہ گزرے گا یہاں تک کہ تم میں ہر آدمی بڑے گروہوں میں اجتباء کے ساتھ بیٹھے گا اور اس وقت اس کے ساتھ ذرا سا ہتھیار بھی نہ ہوگا۔ (ابن جریر فی تفسیرہ) اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا اور صحابہ کرام ؓ کو جزیرہ عرب پر غلبہ دیا اور اور انہوں نے مشرق و مغرب کے دور علاقے بھی فتح کرلیے قیصر و کسری کے ممالک کو چیر کر پارہ پارہ کردیا اور ان کے خزانوں کے مالک بنے اور دنیا میں غالب رہے۔
لیستخلفنہمؔ میں قسم جو لام اور نون سے متصل تھی اس کو حذف کردیا تقدیر کلام اس طرح ہے : وعدھم اللہ واقسم اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا اور قسم اٹھائی : یستخلِفنَّہم۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو وقوع کے لحاظ سے قسم کی جگہ لایا گیا اور لوازمات قسم کو ذکر کردیا گویا کہ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا کر فرمایا : لیستخلفنَّہم۔
یَعْبُدُوْنَنِیْ (وہ میری عبادت کرتے ہونگے) اگر تم اس کو جملہ مستانفہ بنا لو تو پھر اس کا کوئی محل اعراب نہیں گویا کلام اس طرح ہے : مالھم یستخلفون ویؤمنون ؟ پھر فرمایا یعبدوننی اگر اس کو تم وعدہ اللّٰہ سے حال بنائو یعنی وعد ھم اللہ فی حال عبادتہم کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ اس حالت میں فرمایا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہونگے اس صورت میں یہ محل نصب میں ہے۔ لَایُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا (وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہونگے) ۔
نحو : یہ یعبدون کے فاعل سے حال ہے یعنی یعبد وننی موحدین وہ میری عبادت ایسی حالت میں کریں گے کہ توحید پرست ہونگے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ حال پہلے حال سے بدل ہو۔
منکرین نعمت خلافت کو فاسق کہا :
وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ (اور اس کے بعد جو لوگ کفر کریں گے) یعنی اس وعدہ کے بعد۔ یہاں مراد کفر سے کفر انِ نعمت ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا : فکفرت بانعم اللہ (النحل : 112(
فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (پس وہی لوگ فاسق ہیں) یعنی فسق میں کمال کو پہنچنے والے ہیں اس لئے کہ وہ اس عظیم الشان نعمت کے منکر ہیں اور اس نعمت کو حقیر قرار دینے کی جسارت کی۔ علماء کہتے ہیں کہ اس نعمت کی سب سے اول ناشکری کرنے والے قاتلین عثمان ؓ ہیں۔ انہوں نے اس کے بعد کہ وہ آپس میں بھائی بھائی تھے اور امت کے امن کو خوف سے بدلا۔
واضح استدلال :
یہ آیت واضح دلیل ہے کہ خلفائے راشدین ؓ کی خلافت برحق تھی کیونکہ جن ایمان والوں اور اعمال صالحہ والوں کے متعلق قسم اٹھائی گئی ہے وہ وہی ہیں۔
Ayah 24:5656: وَاَقِیْمُوْاالصَّلٰوۃَ (اور تم نماز کو قائم کرو۔ )
نحو : اس کا عطف اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول پر ہے۔ اور فاصلہ خواہ زیادہ ہو اس سے عطف میں فرق نہیں پڑتا۔
وَ ٰاتُوْاالزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( اور تم زکوٰۃ ادا کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو) جس کی طرف وہ بلاتے ہیں اطاعت رسول کو واجب ہونے کی بناء پر دو بارہ لایا گیا تاکہ مزید تاکید ہوجائے۔ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (تاکہ تم پر رحم ہو) تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس لئے کہ یہ اعمال رحمت کو کھینچ کر لانے والے ہیں۔
فائدہ : اب ان کے بالمقابل کفار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 24:5757: لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ( ہرگز کافر لوگ گمان نہ کریں کہ وہ زمین میں ہمیں تھکا دیں گے) وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قابو نہ ہو۔
نحو : اس میں تاءؔ خطاب کیلئے ہے جو نبی اکرم ﷺ کو کیا جارہا ہے اور وہی فاعل ہے اور دو مفعول نمبر 1۔ الذین کفروا اور نمبر 2۔ معجزین ہیں۔
قراءت : شامی اور حمزہ نے یاء سے پڑھا ہے۔ فاعل نبی اکرم ﷺ ہی ہیں کیونکہ پہلے آپ کا تذکرہ ہوا اور الذین کفروا مفعول اول ہے جبکہ معجزین مفعول دوم ہے۔
وَمَاْوٰٹھُمُ النَّارُ (اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے)
نحو : اس کا عطف لا تحسبن الذین کفروا معجزین پر ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے۔ الذین کفروا لا یفوتون اللہ ومأ واھم النار۔ کافرلوگ اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہ سکیں گے اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔ وَلَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ ) المصیر کا معنی مرجع ہے اور وہ آگ ہے۔
Ayah 24:58تین آیات کے درجات :
58: یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (اے ایمان والو ! چاہیے کہ اجازت طلب کریں وہ لوگ جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں) اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ غلام یا غلام اور لونڈیاں اجازت لے کر گھر میں داخل ہوں۔ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الحُلُمَ مِنْکُمْ (اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی جوانی کو نہیں پہنچے) آزاد لڑکوں میں سے جو بچے ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے۔
قراءت : حُلْمَ اس کو سکون لام کے ساتھ تخفیف کے طور پر پڑھا گیا ہے۔
ثَلٰثَ مَرَّاتٍ (تین مرتبہ) دن اور رات میں اور وہ اوقات یہ ہیں : مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ (فجر کی نماز سے قبل) کیونکہ یہ خوابگاہوں سے بیداری کا وقت ہوتا ہے۔ اس میں نیند کے کپڑے اتارے اور بیداری کا لباس پہنا جاتا ہے۔ وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَا بَکُمْ مِّنَ الظَّھِیْرَۃِ (اور جبکہ تم دوپہر کے وقت اپنے کپڑے اتارتے ہو) اور وہ دوپہر کا وقت ہے موسم گرما میں یہ بھی قیلولہ کیلئے زائد کپڑے اتارنے کا وقت ہے۔ اور نیند کے کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں۔
وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآئِ ( عشاء کی نماز کے بعد) کیونکہ یہ وقت بھی بیداری کے کپڑے اتارنے اور خواب کے کپڑے پہننے کا ہوتا ہے۔ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ (یہ تین اوقات تمہارے لئے پردے کے ہیں) یعنی یہ اوقات ثلاثہ پردے کے ہیں۔
: مبتدا اور مضاف کو حذف کردیا ہے تقدیر کلام یہ ہے : ھی ثلاث عورات۔ نصب کی صورت میں کوفی قراء نے پڑھا۔ مگر حفص نے مرفوع ہی پڑھا ہے۔ کوفی قراء نے ثلاث مرات سے بدل قرار دیا ہے ای اوقات ثلاث عورات۔
ان اوقات میں سے ہر وقت کو عورۃ کے لفظ سے تعبیر فرمایا کیونکہ ان اوقات میں آدمی اپنے تستر کو کم کرتا اور اس میں رخنہ اور شگاف ڈالتا ہے۔ اور العورۃ کا معنی شگاف ہے اور اسی سے الاعورؔ ہے جس کی آنکھ میں خلل ہو دوسرے مقام پر فرمایا : ان بیوتنا عورۃ۔
شان نزول : ایک انصاری غلام مدیح بن عمرو دوپہر کے وقت عمر ؓ کے ہاں گیا جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے اور آپ کا کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ اس پر عمر ؓ نے کہا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس وقت میں بلا اذن داخل ہونے سے منع فرما دیں۔ وہ غلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
فائدہ : اگلی آیات میں ان تین اوقات کے علاوہ اوقات میں استیذان کی اجازت موقوف کی گئی۔
لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ0 بَعْدَھُنَّ (ان تین اوقات کے علاوہ اوقات میں بغیر اجازت کے آنے میں تمہیں اور انہیں کوئی گناہ نہیں) یعنی نہ تو تم پر گناہ ہے اور نہ ہی ان مذکورین پر کوئی گناہ ہے کہ ان کے علاوہ اوقات میں اگر وہ بلا استیذان داخل ہوجایاکریں۔
عدم استیذان کی علت :
نحو : اب عدم استیذان کی علت واضح کی۔ طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ (وہ تمہارے ہاں بار بار آنے والے ہیں) وہ گھریلو ضروریات میں بار بار آنے جانے والے ہیں۔ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ (ایک دوسرے پر) یہ مبتدأ خبر ہیں۔ تقدیر عبارت یہ ہے : بعضکم طائف علی بعض۔ طائف کو حذف کردیا کیونکہ طوافونؔ اس پر دلالت کر رہا ہے۔
نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ پورا جملہ ماقبل کا بدل ہو۔ نمبر 3۔ جملہ مبینہ مؤکدہ بھی بن سکتا ہے تقدیر کلام اس طرح ہوگی : ان بکم و بہم حاجۃ الی المخالطۃ والمداخلۃ یطوفون علیکم للخدمۃ وتطوفون علیھم للا ست خدام تمہیں اور انہیں میل جول اور آنے جانے کی بار بار ضرورت ہوگی۔ خدمت کیلئے اور تم ان سے خدمت لینے کیلئے بار بار آئو جائو گے۔ پس اگر استیذان کو ہر وقت لازم کردیا جائے تو اس سے تنگی پیدا ہوگی اور وہ نص کی وجہ سے شرعًا اٹھا لی گئی ہے۔
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ (اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہاری خاطر آیات کو کھول کر بیان فرماتے ہیں) جیسا کہ استیذان کا حکم کھول کر بیان کیا اسی طرح دیگر آیات کو وضاحت سے بیان فرماتے ہیں۔ جن میں تمہیں بیان کی ضرورت ہے : وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں) اپنے بندوں کی مصلحتوں کو حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) اس کی مراد کو بیان کرنے میں۔
Ayah 24:59حکم بلوغت :
59: وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ (اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں) مراد احرار ہیں غلام مراد نہیں۔ الْحُلُمَ (بلوغت)
حلم بمعنی احتلام ہے یعنی بلوغت کو پالینا اور وہ بچے گھر میں داخل ہونا چاہیں۔ فَلْیَسْتَاْ ذِنُوْا (پس چاہیے کہ وہ اجازت طلب کریں) تمام اوقات میں کَمَااسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (جیسے ان لوگوں نے اجازت طلب کی جو ان سے قبل ہوئے) یعنی وہ لوگ جو ان سے قبل بالغ ہوئے اور وہ مرد ہیں نمبر 2۔ وہ لوگ مراد ہیں جن کا تذکرہ ہوا پہلے اس ارشاد میں ہے : یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستأنسوا وتسلمو اعلی اھلھا ] النور : 67[
تین اوقات کے علاوہ بچوں کا بلا اجازت داخلہ :
مطلب یہ ہے کہ بچوں کو بلا اجازت داخلے کی اجازت ہے سوائے ان تین اوقات کے ان میں ان کو بھی اجازت لے کر آنا ہوگا۔ جب وہ اس کے عادی ہوجائیں گے۔ پھر وہ بلوغت کی عمر کو پہنچیں گے یا احتلام کی علامت سے بالغ ہونگے۔ تو پھر ان سے بلا اذن داخل ہونے کی عادت چھوڑنی ہوگی اور ان کو اس بات کا ذمہ دار بنایا جائے گا۔ کہ وہ بھی بڑوں کی طرح اجازت لے کر آیا کریں۔ حالانکہ لوگ اس بات سے غافل ہیں۔
قول ابن عباس : تین آیات ہیں جن کا لوگوں نے زور سے انکار کردیا ہے نمبر 1۔ تمام کا اجازت لینا نمبر 2۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم ] الحجرات : 13[ نمبر 3۔ اذا حضر القسمۃ ] النسائ : 8[ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ لوگ کہتے ہیں یہ منسوخ ہے اللہ کی قسم ! یہ آیت منسوخ نہیں۔
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ ٰایٰتِہٖ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ جانتے ہیں) لوگوں کی مصلحتیں حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) ۔ ( ان احکامات میں جن کو کھول کر بیان کیا)
Ayah 24:6060: وَالْقَوَاعِدُ (اور بڑی بوڑھی عورتیں) یہ قاعد کی جمع ہے۔ یہ عورت کی مخصوص صفات میں سے ہے جیسے طالق اور خالص۔ مراد یہ ہے وہ عورتیں جو اولاد اور حیض سے زیادتی عمر کی وجہ سے بیٹھ جائیں۔ مِنَ النِّسَآئِ (عورتوں میں سے) ۔
نحو : یہ حال ہے۔
الَّتِیْ لَایَرْجُوْنَ نِکَاحًا (وہ عورتیں جو نکاح کی طمع نہ رکھتی ہوں)
نحو : یہ محل رفع میں القواعد مبتدأ کی صفت ہے اور خبر فلیس علیہن جناح ہے۔
فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ (پس ان پر کوئی گناہ نہیں )
نحو : الف لام کی وجہ سے مبتدأ میں شرط کا معنی پایا جاتا تھا اس لئے شرط پر فاءؔ لائی گئی۔
اَنْ یَّضَعْنَکہ وہ (اپنے زائد کپڑے) اتار دیں اس بات میں کہ وہ اپنے زائدکپڑے اتار دیں۔ ثِیَابَھُنَّ (اپنے کپڑے) یعنی ظاہری کپڑے جیسے اوپر اوڑھنے والا کپڑا۔ دوپٹے کے اوپر منہ پر ڈالنے والا جلباب۔ غَیْرَ مُتَبَرِّ جٰتٍ بِزِیْنَۃٍ (وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کرنے والی ہوں) وہ زینت کو (غیر مردوں) کے سامنے ظاہر کرنے والی نہ ہو۔ الزینۃ سے مراد خفیہ چیزیں مثلاً بال، سینہ، پنڈلی، وغیرہ ان کے اتارنے سے تبرج مقصود نہ ہو۔ بلکہ کپڑوں کو ہلکا کرنا ہو۔
تبرج کی حقیقت :
جس کا چھپانا واجب ہو اس کے اظہار میں تکلف سے کام لینا۔ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ (اور اگر وہ اس سے اجتناب کریں) اگر وہ کپڑے اتارنے سے اجتناب کریں اور کپڑے پہنے رکھیں تو بہت بہتر ہے۔
نحو : وہ مبتداء ہے اور اس کی خبر خیرٌ لھن ہے۔
خَیْرٌ لَّھُنَّ وَاللّٰہُ سَمِیعٌ عَلِیْمٌ (تو ان کے لئے بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو سننے والے ہیں) جو وہ ظاہراً کہیں اور علیمؔ یعنی (جاننے والے ہیں) ان کے مقصود کو۔
Ayah 24:611 6: لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ (اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ مریض پر کوئی تنگی ہے) ۔
معذورین کا حکم :
قول سعید بن مسیب (رح) ہے کہ مسلمان جب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوات میں نکلتے تو اپنی چابیاں نابینائوں، مریضوں اور لنگڑوں اور اپنے اقارب کو دے جاتے اور ان کو اپنے گھروں سے کھانے پینے کی اجازت دے جاتے۔ مگر یہ لوگ اس بات میں تنگدلی محسوس کرتے کہ شاید انہوں نے دل سے اجازت نہ دی ہو۔ پس یہ آیت اتری اور ان کی رخصت کا ذکر فرمایا۔
بلا تکلف کھانے کے مقامات :
وَّلَا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ (اور نہ تمہارے اپنے نفسوں پر کوئی حرج ہے) ۔ اَنْ تَاْکُلُوْا مِں ْ بُیُوْتِکُمْ (کہ تم اپنے گھروں سے کھائو) ۔ یعنی اپنے اولاد کے گھروں سے کیونکہ آدمی کی اولاد اس کا بعض حصہ ہوتا ہے اور اس کا حکم اپنی ذات کا حکم رکھتا ہے اسی لئے اولاد کا ذکر آیت میں نہیں کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ( انت ومالک لا بیک) (رواہ ابو داوٗدو ابن ماجہ) یا اپنی ازواج کے گھروں سے کیونکہ زوجین ایک نفس کی طرح ہیں پس عورت کا گھر مرد کا اپناگھر ہے۔
اَوبُیوْتِ ٰابَآئِکُمْ اَوْبُیُوتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْبُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ (یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا مائوں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا بہنوں کے گھروں سے یا چچائوں کے گھروں سے یا پھوپھیوں کے گھروں سے یا مائوں کے گھروں سے یا خالائوں کے گھروں سے۔ ) کیونکہ ان کی طرف سے دلالۃً اجازت ثابت ہوتی ہے۔ اَوْمَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗ (یا جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو۔ ) مفاتح جمع مفتح کی ہے جس سے کسی بند چیز کو کھولا جائے۔ قول ابن عباس ؓ : آدمی کا وکیل اور زمین کانگران، چوپایوں کا نگران مراد ہے وہ اس کی حفاظت اور اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ایک قول : اس سے غلام کا گھر مراد ہے کیونکہ غلام کے پاس جو کچھ ہے وہ تمام آقا کا ہے۔
اَوْ صَدِیْقِکُمْ (یا دوستوں کے گھروں سے) بیوت اصدقائکم (اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ )
صدیق : ایک بھی ہوسکتا ہے اور کئی بھی ہوسکتے ہیں۔ صدیق وہ ہے جو تیری محبت میں سچا ہو اور تو اس کے ساتھ دوستی میں مخلص ہو۔ گزشتہ زمانہ میں لوگ اپنے دوستوں کے گھروں میں داخل ہو کر اس کی غیر موجودگی میں اس کی لونڈی سے روپوں کی تھیلی مانگتے اور اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیتے۔ جب وہ واپس لوٹتا تو خوشی سے لونڈی کو آزاد کردیتا۔ مگر آج کل طبائع میں بخل کا غلبہ ہوچکا اس لئے بغیر اجازت کھانا جائز نہیں ہے۔
لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا (تم پر کوئی گناہ نہیں مل کر کھانے میں) اکٹھا۔ اَوْ اَشْتَاتًا (یامتفرق) ۔ اشتات جمع شتٌ کی ہے۔
شان نزول : یہ بنی لیث بن عمرو کے متعلق نازل ہوئی وہ الگ کھانے کو گناہ قرار دیتے۔ بعض اوقات انتظار میں صبح سے شام ہوجاتی۔ اگر کوئی بھی نہ ملتا تو اتنا کھالیتے جو ضرورت کو پورا کرتا۔ یا بعض انصار کے متعلق اتری۔ کہ جب انکے ہاں کوئی مہمان آتا تو وہ اپنے مہمان کے ساتھ مل کر کھاتے۔ یا کھانے پر اجتماع کو گناہ خیال کرتے تھے کیونکہ لوگوں کے طبائع کھانے میں مختلف ہیں۔ بعض کچھ لوگ زیادہ کھاتے ہیں دوسرے کم فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا (جب تم گھروں میں داخل ہو) یعنی ان مذکورہ گھروں میں کھانے کیلئے داخل ہو۔ فَسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ (تو اپنوں کو سلام کرو) تم گھر والوں کو سلام کرنے میں پہل کرو۔ جو دین و قرابت کے لحاظ سے تمہیں میں سے ہیں۔ بیوتاً سے خالی گھر مراد ہیں یا مساجد۔ تو تم اس طرح کہو : السلام علینا وعلی عباد اللّٰہ الصالحین۔
تَحِیَّۃً (بطور دعا) یہ سلموا کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ یہ تسلیمًا کے معنی میں ہے جیسے : قعدت جلوسًا۔ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) جو کہ اس کے حکم سے ثابت ہے اور اس کی طرف سے مقرر ہوا ہے۔ یا سلام اور دعا طلب سلامتی کا نام ہے اور جس کو سلام کیا گیا اس کے لئے زندگی کا پیغام ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ ہے۔ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً (مبارک پاکیزہ) اس کی تعریف برکت اور طیب کے الفاظ سے کی۔ کیونکہ یہ تو ایک مومن کی دوسرے مومن کے حق میں دعا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے وہ اضافہ کا امیدوار ہے اور پاکیزہ رزق کا خواہش مند ہے۔
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تمہارے لئے احکامات کو بیان کرتے ہیں تاکہ تم سمجھو) تاکہ تم سمجھو اور عقل کرو۔
Ayah 24:6262: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍ جَامِعٍ (مؤمن حقیقت میں صرف وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں ہوتے ہیں) جامع ؔ سے ایسا کام جس کے لئے لوگوں کو مجتمع کیا گیا مثلاً جہاد، لڑائی کی تجاویز و مشورہ، جمعہ و عیدین بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا جانے والا ہر اجتماع۔ لَّمْ یَذْھَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ (وہ اس وقت تک وہاں سے نہیں جاتے جب تک اجازت نہیں لیتے) وہ اپنے لئے اجازت لیتے ہیں۔
عظیم جنایت :
مجلس رسول ﷺ سے بلا اذن چلے جانے کا سخت گناہ ہونا اس طرح بیان فرمایا کہ اولاً ایمان باللہ اور پھر ایمان بالرسول پھر تیسرے نمبر پر بلا اجازت نہ جانے کو ذکر کر کے پہلی دونوں باتوں کو اس کے لئے تشبیب قرار دیا۔ اور ان کے تذکرہ کو پھیلایا۔ اور اس کے ساتھ جملہ کو انما کلمہ حصر کے ساتھ لائے اور المؤمنون کو مبتدأ لائے اور اسم موصول سے اس کی خبر ذکر کی جس کا صلہ ان دونوں قسموں کا احاطہ کرنے والا ہے۔ پھر تاکید و تشدید میں اضافہ کیلئے دوسرے اسلوب سے اسی کا اعادہ فرمایا۔
مجلس کے استیذان کے ساتھ جانا :
اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْکَ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ اور اس کے ضمن میں ایک اور چیز کا اضافہ فرمایا۔ استیذان کو دونوں ایمانوں کیلئے مصداق کے طور پر ذکر کیا۔ اور منافقین کے حال پر تعریض فرمائی اور ان کا مخفی طور پر کھسک جانا ذکر کیا۔ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْنَکَ (جب وہ آپ سے اجازت طلب کریں) واپس لوٹنے کی لبعض شانھم (اپنے کسی کام کی غرض سے) فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْہُمْ (تو تم جس کو چاہو اجازت دوان میں سے) اس میں آنحضرت ﷺ کی عظیم شان کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمُ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہ غَفُوْرٌ رَّ حِیْمٌ (اور ان کیلئے استغفار کر واللہ تعالیٰ سے بیشک اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں) اجازت طلب کرنے والوں کے ساتھ استغفار کا تذکرہ بتلا رہا ہے کہ افضل تو یہی ہے کہ وہ اجازت نہ لیں۔
قولِ علماء یہ ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ اپنے علماء اور دین و علم میں مقدم لوگوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک رکھیں ان کے ساتھ معاونت کریں اور ان کی اجازت کے بغیر وہاں سے نہ جائیں۔ ایک قول یہ ہے یہ آیت خندق کے دن اتری۔ منافقین اپنے گھروں کو بلا اجازت لوٹ آتے تھے۔
Ayah 24:6363: لَاتَجْعَلُوْا دُعَآ ئَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآ ئِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا (رسول اللہ ﷺ کے بلانے کو ایسا قرار نہ دو جیسا تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو) جب رسول اللہ ﷺ کو کسی اجتماعی معاملے کیلئے تمہاری ضرورت ہو اور وہ تمہیں بلائیں تو ان کے بلانے کو ایک دوسرے کے بعض امور کیلئے بلانے پر قیاس نہ کرو۔ اور بلا اذن مجمع سے لوٹنے کو اپنے مجمع کی طرح مت خیال کرو۔
آپ کا نام عظمۃً لو :
یا نمبر 2۔ آپ ﷺ کا نام لے کر حضور ﷺ کو مت بلائو جیسا کہ تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اس کا وہ نام لیتے ہو جو اس کے والدین نے رکھا ہو تم یا محمد (a) کہہ کر مت آواز دو ۔ بلکہ یا نبی اللہ اور یارسول اللہ جیسے تو قیرو عظمت کے الفاظ ہلکی باادب آواز سے استعمال کرو۔ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ (اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتے ہیں جو تھوڑے تھوڑے کر کے کھسک جاتے ہیں) تھوڑے تھوڑے کر کے نکل جاتے ہیں۔ مِنْکُمْ لِوَاذًا (تم میں سے مخفی طور پر)
نحو : یہ حال ہے ای ملاوذین اور اللوا ذو الملاوذۃ وہ اس کی پناہ لے اور یہ اس کی پناہ لے یعنی وہ جماعت سے خفیہ طور پر ایک دوسرے کی اوٹ میں کھسک جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے پیچھے چھپ کر نو دو گیارہ ہوتے ہیں۔
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ (پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس سے ڈرنا چاہیے) یعنی وہ لوگ جو آپ کے حکم سے کتراتے ہیں مؤمنوں کر چھوڑ کو وہ منافق ہیں۔ محاورہ عرب یہ ہے : خالفہ الی الامر، جب اس کی طرف جائے دوسروں سے کترا کر اور ان کو چھوڑ کر۔ اس ارشاد میں یہی معنی ہے : وما ارید ان اخالفکم الی ما انھا کم عنہ۔
(ھود : 88)
خالفہ عن الامر اس وقت بولتے ہیں جبکہ اس سے رک جائے دوسروں سے کترا کر۔
نحو : امرہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ یا رسول (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے اس کی اطاعت سے اور اس کے دین سے۔ اور یحذر کا مفعول ان تصیبہم فتنۃ ہے۔ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَہٌ (کہ ان پر کوئی آفت نہ آن پڑے) فتنہؔ کا معنی دنیا میں عذاب یا قتل یا زلزلہ اور خوف یا ظالم حکمران کا تسلط یا دل کی سختی جو معرفت رب سے رکاوٹ بن جائے یا بطور استدراج وسعت دنیا۔ اَوْیُصِیْبَہُمْ عََذَابٌ اَلِیْمٌ (یا ان کو درد ناک عذاب) (آخرت میں) پہنچے گا۔
دلالت آیت : امر و جوب پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 24:64مالک عالم الغیب وہی ہے اس سے کسی کی جہالت کیسے چھپ سکتی ہے :
64: اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے) الاؔ یہ حرف تنبیہ ہے اس لئے لایا گیا تاکہ وہ اس ذات کے حکم کی مخالفت نہ کریں۔ جو آسمان و زمین کا مالک ہے۔ قَدْیَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ (تم جس حالت پر ہو وہی اس کو جانتا ہے) یہاں قدؔ کو لائے تاکہ تا کید کردی جائے کہ جس منافقت اور دین کی مخالفت پر وہ چل رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں قطعی طور پر ہے۔ جب علم میں ہے تو انہیں پھر اس کی پکڑ سے ڈرنا چاہیے۔
مطلب یہ ہے آسمان و زمین کی ہر چیز تخلیق میں اس کی ذات کے ساتھ خاص ہے اور مالک بھی وہی ہے اور ان کو جانتا بھی وہی ہے پس منافقین کی حالت اس سے چھپی ہوئی کس طرح رہ سکتی ہے خواہ وہ چھپنے کی کتنی کوشش کریں۔ وَیَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْہِ (اور جس روز لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا کر لائے جائیں گے)
قراءت : یَرْجِعُوْن یعقوب نے یاء کے فتحہ اور جیم کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا وہ اس دن کو بھی جانتا ہے جس دن وہ اس کی بارگاہ میں جزاء کیلئے لوٹیں گے وہ قیامت ہی کا دن ہے۔
خطاب و غیبت :
قد یعلم ما انتم علیہ و یوم یرجعون الیہ میں خطاب و غیبت کے صیغے یہ بھی جائز ہے کہ تمام منافقین کیلئے ہوں بطور التفات۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ماانتم علیہ ؔ عام ہو اور یرجعونؔ منافقین کیلئے ہو۔ فَیُنَبِّئُھُمْ (پس وہ ان کو مطلع فرمائیں گے) قیامت کے دن بِمَا عَمِلُوْا (اس پر جو انہوں نے عمل کئے) جو بداعمالیاں انہوں نے چھپائیں وہ ان کو ان پر واقعی سزا دیں گے۔ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے) ۔ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ روایت میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے سورة النور منبر پر حج کے ایام میں پڑھی۔ اور اس کی ایسے انداز سے تفسیر فرمائی کہ اگر اہل روم اس کو سن لیتے تو وہ ضرور مسلمان ہوجاتے۔
الحمد للہ حمدًا کما امر والصلوۃ والسلام علی رسولہ افضل الخلق والبشر اما بعد
سورة النور کی تفسیر کا ترجمہ آج لیلۃ الجمعہ 22 شوال المکرم 1423ھ اختتام پذیرہوا۔ الموافق 27 دسمبر 2002