24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈیوں غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں سے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں کہ (چھنکار کی آواز کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے اور (مومنو ! ) سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

غض بصر کا حکم عورتوں کو : 31: وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ (اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں) ۔ عورتوں کو غض بصر کا حکم دیا گیا ہے عورت کو جائز نہیں کہ اجنبی مرد کے ناف سے لے کر گھٹنوں کے نچلے حصہ پر نگاہ ڈالے اور اگر دل کے اندر خواہش پیدا ہو تو سرے سے عورت اپنی نگاہ کو بند کرلے۔ اور عورت اجنبی مرد کے اس جسمانی حصہ پر نگاہ ڈال سکتی ہے۔ جتنے حصہ پر اجنبی مرد دوسرے مرد کے جسم پر ڈال سکتا ہے۔ اجنبیوں سے نگاہ کا نیچا کرلینا ہی اولیٰ ہے۔ تاکہ فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔ آیت میں غضِ ابصار کو حفاظت فروج پر مقدم کیا کیونکہ نگاہ تو زناکا قاصد ہے اور برائی کا مقدمۃ الجیش ہے۔ محبت کا بیج بدنظری ہے۔ اظہار ِزینت کی ممانعت : وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ (اور وہ عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں) الزینۃؔ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو عورت تزین کیلئے استعمال کرتی ہے۔ مثلاً زیورات، یا سرمہ یا خضاب وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ زینت کے مقامات کو عورتیں ظاہر نہ کریں اس لئے کہ بعینہٖ زینت کا اظہار اور وہ زیورات وغیرہ ہیں تو جائز ہے پس مراد اس سے مقامات زینت ہی ہیں۔ نمبر 3۔ ان زیورات کا اظہار جبکہ وہ اپنے مقامات پر سجے ہوں تاکہ وہ مقامات ظاہر ہوں نہ یہ کہ بعینہٖ زیورات ظاہر ہوں۔ مقامات زینت سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کلائیں، پنڈلیاں اور ان کے زیورات تاج، بالی، ہار، باز وبند، جڑائو پیٹ، کنگن، پازیب۔ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْہَا (مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو) مگر وہ حصہ جس کے متعلق عادت و طبیعت ظاہر کرنے کی ہو۔ اور وہ چہرہ، ہتھیلیاں، دونوں قدم۔ ان کو چھپانے میں واضح تنگی ہے۔ عورت کیلئے اس سے کوئی چارہ کار نہیں کہ اپنے ہاتھ سے کام کاج کرتی ہے اور چہرے کو کھولنا خصوصاً فیصلوں اور گواہیوں اور نکاح میں مجبوری ہے اور راستوں پر آنے جانے کیلئے قدموں کا ظاہر ہونا ضروری ہے خاص طور پر وہ عورتیں جو ان میں سے فقیر و محتاج ہیں۔ وَلْیَضْرِبْنَ (اور وہ ڈال لیں) اور وہ رکھ لیں اہل عرب کہتے ہیں ضربت بیدی علی الحائط۔ جبکہ ہاتھ کو دیوار پر رکھا جائے۔ بِخُمُرِھِنّ (اپنی اوڑھنیاں) خمر جمع خمار کی ہے۔ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ (اپنے گریبانوں پر ) ۔ قراءت : مدنی، بصری، عاصم نے خمر جیم سے پڑھا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے رواج میں ان کے گریبان کھلے ہوتے تھے جس سے سینہ اور اس کے اردگرد کا حصہ نظر آتا تھا۔ اور عورتیں اوڑھنیاں پچھلی جانب کو لٹکا دیتی تھیں جس سے سینہ کھلا رہ جاتا اسلام نے آکر ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اگلی جانب لٹکائیں تاکہ سینہ ڈھانپ جائے۔ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ (وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں) ۔ یعنی مقامات زینت جو کہ چھپے ہوئے ہوں۔ مثلاً سینہ پنڈلی، سر وغیرہ۔ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ (مگر اپنے خاندوں کیلئے) بعول جمع بعل کی ہے۔ اَوْاٰبَآ ئِھِنَّ (یا اپنے باپوں کیلئے) اس میں اجداد بھی داخل ہیں۔ اَوْاٰبَآ ئِ بُعُوْلَتِھِں َّ (یا اپنے خاندوں کے باپ) اس لئے کہ وہ محارم بن چکے۔ اَوْاَبْنَآپہِنَّ (یا اپنے بیٹوں کیلئے) اس میں پوتے اور نواسے سب شامل ہیں۔ اَوْ اَبْنَآ ئِ بُعُوْلَتِھِنَّ (یا اپنے خاوندوں کے بیٹے) اس لئے کہ وہ بھی محارم بن چکے۔ اَوْاِخوَا نِھِنَّ اَوْبَنِیْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْ اَخَوٰتِھِنَّ (یا اپنے بھائیوں کیلئے یا اپنے بھتیجوں کیلئے یا اپنے بھانجوں کیلئے) اس میں ان کی اولاد دراولاد اور تمام محارم مثلاً چچا، ماموں وغیرہ دلالت النص سے شامل ہیں۔ اَوْنِسَآپھِنَّ (یا اپنی عورتوں کیلئے) یعنی آزاد عورتیں نساء کا لفظ مطلقًا حرائر پر بولا جاتا ہے۔ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ (یا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہوں) یعنی باندیاں لیکن عورت کے غلام کیلئے جائز نہیں وہ اپنی مالکہ کے ان مواضع پر نظر ڈالے۔ خواہ وہ غلام خصی ہو یا عنین یا فحل۔ قول سعید بن مسیب سورة نور کی آیت سے دھوکا میں نہ پڑجانا وہ لونڈیوں کے متعلق ہے غلاموں کے متعلق نہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے غلام کیلئے اپنی آقا کے ان مقامات پر نظر ڈالنا درست قرار دیا ہے۔ اَوِالتَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُوْلِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ (یا ان مردوں پر جو طفیلی کے طور پر رہتے ہوں اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو) قراءت : شامی اور یزید اور ابوبکر نے استثناء کی وجہ سے نصب پڑھا ہے یا حال کی بناء پر منصوب قرار دیا اور دیگر قراء نے بدل کی وجہ سے جرؔ پڑھا ہے یا وصفیت کی وجہ سے مجرور قرار دیا ہے۔ اولی الاربہؔ سے مراد جن کو عورتوں کی طرف حاجت نہ ہو۔ ایک قول : یہ ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو گھروں میں اس لئے رہتے ہیں تاکہ بچاکھچا کھانا کھائیں اور ان کو عورتوں کی طرف میلان نہیں رہا ہے۔ خواہ کم عقل ہونے کی وجہ سے عورتوں کے کسی معاملے کو نہیں جانتے یا نیک صالح بوڑھے ہیں یا نا مرد یا خصی یا ہجڑے ہیں۔ ایک اثر یہ ہے کہ اس سے مراد مقطوع الذکر ہیں۔ مگر قول اول ہی درست ہے۔ نحو : من الرجال یہ حال ہے۔ اَوِالطِفْلِ الَّذِیْنَ (یا وہ بچے) الطفل جنس ہے بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد جمع لی جائے۔ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ (جوعورتوں کے پردہ کی باتوں سے ناواقف ہوں) ان کو شہوت نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کے بھید کی اطلاع نہ ہو۔ ظھر علی الشئی سے لیا گیا جبکہ وہ مطلع ہو۔ یا ابھی تک وطی پر قدرت کا زمانہ نہ آیا ہو۔ اس صورت میں یہ ظھر علی فلان سے ہوگا جبکہ اس پر قوت حاصل ہوجائے۔ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْ جُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَایُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ (اور اپنے پائوں زمین پر نہ ماریں کہ ان کا چھپا ہوا زیور معلوم ہو جائے) عورت چلتے ہوئے زمین پر پائوں مارتی تاکہ اس کے پازیب کی آواز سنائی دے۔ اور لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ پازیب پہننے والی ہے۔ چناچہ عورتوں کو اس بات سے روک دیا گیا کیونکہ زینت والی چیز کی آواز کا سننا خود اس کے ظاہر کرنے کی طرح ہے۔ اسی لئے زیورات کی آواز کو وسواسؔ کہتے ہیں : وَتُوْبُوْا اِلٰی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ (اے مسلمانو ! تم سب کے سب اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو) قراءت : شامی نے یاءؔ کی اتباع میں ہٗ کو بھی ضمہ سے پڑھا اور الف کو التقائے ساکنین کی وجہ سے گرایا ہے دیگر قراء نے فتحہ پڑھا ہے کیونکہ اس کے بعد اصل کے لحاظ سے الف ہے۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنََ (تاکہ تم کامیاب ہوجائو۔ ) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کی تعمیل میں کوئی بندہ سہو و تقصیر سے پاک نہیں خواہ اس کے لئے وہ کتنی ہی کوشش کرے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو توبہ کا حکم فرمایا اور جب تو بہ کرلیں تو کامیابی کی امید لگائیں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ توبہ کی اس کو ضرورت ہے جس کے وہم میں یہ بات ہے کہ اس کو توبہ کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ : آیت کے ظاہر سے معلوم ہو رہا ہے کہ گناہ ایمان کے منافی نہیں۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے فضل سے خوشحال کر دے گا اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے

رانڈوں کے نکاح کا حکم : 32: وَاَنْکِحُو الْاَیَامٰی مِنْکُمْ (اور تم نکاح کرو اپنے میں سے رانڈوں کا) الایامی جمع ایم کی ہے۔ جس کی بیوی نہ ہو یا جس عورت کا خاوند نہ ہو۔ خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ یہ اصل میں ایائم تھا قلب سے ایامیٰ ہوگیا۔ وَالصّٰلِحِیْنَ (نیک و صالح) پسندیدہ یا مومن مطلب یہ ہے جو آزاد رانڈ ہوجائے یا جو عورت بیوہ ہوجائے اور اس میں بھلائی ہو۔ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآ ئِکُمْ (اپنے غلاموں اور لونڈیوں میں سے) یعنی تمہارے غلاموں میں سے اور تمہاری باندیوں میں سے۔ امرندب و استحباب کیلئے ہے کیونکہ نکاح مستحب ہے۔ اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآ ئَ (اگر وہ تنگدست ہونگے) مالی لحاظ سے : یُعْنِھِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے مستغنی کر دے گا) کفایت و قناعت سے یا دو رزق جمع ہوجانے سے۔ حدیث میں ہے : ( التمسوا الرزق بالنکاح ) ۔ (دیلمی) اسی طرح حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہے : وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں) غنی ہیں، وسعت والے ہیں مخلوق کا غناء اس کو عیب دار نہیں کرسکتا۔ عَلِیْمٌ (علم والے ہیں) یبسط الرزق لمن یشاء یقدر) الرعد : 26( سوال : آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں و رانڈوں کی شادی اولیاء کے ذمہ ہے۔ جیسا کہ غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح موالی کے ذمہ ہے ؟ نکاح کی توفیق نہ ہو تو پاکدامنی کو تھامے رکھیں : جواب : آدمی کو رانڈ پر ولایت اس کے اذن سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اسی طرح عورت پر ولایت بھی اس کے اذن سے ہوگی کیونکہ ایم کا لفظ اس کو بھی شامل ہے۔ بالاتفاق بالغ مردوں کو اپنے نکاح کا اختیار ہے پس استدلال درست نہ رہا۔
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے انکو بھی دو اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بےچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے

33: وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ (چاہیے کہ پاکدامنی اختیار کریں وہ لوگ) پاکدامنی کی خوب کوشش کریں گویا کہ مستعف خود عفاف و پاکدامنی کا طالب ہے۔ لَایَجِدُوْنَ نِکَاحًا (جو نکاح نہیں پاتے) مہر کے ساتھ شادی کی وسعت نہیں رکھتے اور خرچہ کی طاقت نہیں رکھتی : حَتّٰی یُغْنِیَہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے بےنیاز کر دے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو مہر و نفقہ کی قدرت عنایت فرمائیں گے۔حضور ﷺ کا ارشاد ہے : یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء۔ ] بخاری، مسلم، احمد [ اے نوجوانو ! جو تم میں سے وسعت رکھتا ہو وہ شادی کرے کیونکہ نکاح نگاہ و شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو طاقت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھے۔ روزہ اس کے لئے شہوت شکن ہوجائے گا۔ اوامر کی عجیب ترتیب : ان ارشاد ات پر نگاہ ڈالو۔ کس طرح اوامر کو مرتب فرمایا گیا نمبر 1۔ اولاً ایسی چیز کا حکم دیا جو فتنے سے بچائے اور معصیت کے مواقع سے دور رکھے اور وہ نگاہ کا نیچا رکھنا ہے۔ پھر 2۔ پاکدامنی والا نکاح جو دین کیلئے ہو جو حرام سے بےنیاز کرنے والا ہے۔ نمبر 3۔ عزت نفس کے ذریعہ وہ نفس جو برائیوں کی طرف جھک پڑنے والا ہے تاکہ نفس شہوات کی طرف جھکائو نہ اختیار کرے جب تک کہ نکاح سے عاجز ہو یہاں تک کہ اس میں نکاح کی قدرت پیدا ہوجائے : وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمانُکُمْ (تمہارے وہ مملوک اور باندیاں جو مکاتب بنائے جانے کی درخواست کریں) یعنی ایسے غلام جو تم سے مکاتبت کا مطالبہ کریں۔ نحو : الذین ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے یا ایسے فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس فعل کی تفسیر فکاتبو ھم کر رہا ہے۔ فَکَاتِبُوْھُمْ (تم ان کو مکاتب بنا لو) اس میں امر ندب کیلئے ہے۔ اور فائؔ اس لئے لائے کیونکہ امر میں شرط کا معنی متصمن ہے۔ الکتاب المکاتبۃ یہ عتاب اور معاتبہ کی طرح ہیں۔ مکاتبت یہ ہے کہ اپنے غلام کو کہے کاتبتک علی الف درھم اب اگر غلام نے ایک ہزار درہم ادا کردیئے تو وہ آزاد ہے مطلب یہ ہے کہ میں نے تمہارے لیے اپنے نفس پر یہ چیز لکھ لی ہے کہ تمہیں آزاد کردیا جائے اگر تم مال کو ادا کردو اور تم نے اپنے اوپر یہ لکھ لیا ہے کہ تو مال کی ادائیگی میں پورا اترے گا۔ یاؔ میں نے تم پر مال کو دینا لازم کیا اور تم نے مجھ پر آزادی کو لازم کیا۔ مال کی ادائیگی اسی وقت بھی درست ہے اور ایک مدت مقررہ کے بعد بھی اور قسط وار اور یک مشقت مہر کی طرح کیوں کہ امر مطلق ہے۔ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا (اور اگر تم ان کے متعلق کوئی بھلائی جانو) خیرؔ سے یہاں قدرت علی الکسب مراد ہے۔ یا امانت و دیانت اور امر کی ندبیت اس شرط سے متعلق ہے۔ وَّ اٰتُوْھُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْ ٰاتٰکُمْ (اور تم ان کو اس مال سے دو ۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھا ہے) اس میں عامۃ المسلمین کو حکم دیا کہ وہ مکاتبین کی اعانت کریں اور ان کو زکوٰۃ کا حصہ دیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے : وفی الرقاب ] البقرہ : 177[ قول شافعی (رح) : آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بدل کتابت میں سے چوتھائی ختم کردو اور یہ ہمارے نزدیک تو بطور ندب ہے۔ مگر صبیح نے اپنے آقا سے مکاتبت کا مطالبہ کیا تو ان کے آقا حو یطب نے انکار کیا اس پر یہ آیت اتری۔ غلاموں کی اقسام : غلاموں کی چار اقسام ہیں نمبر 1۔ غلام خدمت نمبر 2۔ غلام ماذون فی التجارۃ۔ نمبر 3۔ مکاتب، نمبر 4۔ بھاگنے والے غلام۔ اوّل کی مثال : وہ ولی عزلت نشین ہے جس کو عزلت اس لئے ملی ہے۔ کہ اس نے خلوت کو ترجیح دی اور میل جول کو ترک کردیا۔ دوسرا ولی العشرۃ ہے اس کو حضرت میں سرگوشی میسر ہے لوگوں سے اس کا میل ملاپ امتحان و تجربہ کیلئے ہے لوگوں کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا اور ان کو غیرت کے ساتھ حکم دیتا ہے یہ اللہ کے رسول ﷺ کا خلیفہ ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے حق وصول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات میں دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالی ہوئی بات سمجھتا ہے اور خدا لگتی بات کہتا ہے۔ یہ دنیا تو اس کیلئے تجارت آخرت کا بازار ہے اور عقل اس کا حقیقی سامان ہے۔ غصہ میں دامن عدل کو وہ تھامنے والا ہے اور رضا مندی الٰہی اس کا میزان ہے۔ فقر و غناء میں میانہ روی اس کا طرئہ امتیاز ہے اور علم اس کی پناہ گاہ اور نجات کا مقام ہے۔ اور قرآن مجید اس کے آقا کا خط ہے جو اس کے لئے اجازت نامہ ہے۔ اگرچہ اپنے ظواہر سے لوگوں میں ملا جلا ہے۔ مگر اپنے سرائر کے اعتبار سے ان سے جدا ہے۔ اس نیک لوگوں کو اپنے حقوق اللہ تعالیٰ کے ساتھ باطن میں تعلق کی وجہ سے چھوڑ دیا پھر اللہ تعالیٰ کی خاطر جو لوگوں کے ظاہرا ً حقوق اس کے ذمہ بنتے تھے۔ ان کی ادائیگی کیلئے لوگوں سے میل جول اختیار کیا۔ بقول شاعر اس کا حال یہ ہے ؎ وَمَا ھُوَ مِنْھمْ بِالْعَیْشِ فِیْہِمْ ٭ ولکن معدن الذّہب الرّغام ظاہری زندگی گزرانے میں تو وہ ان میں سے رہ رہا ہے مگر حقیقت میں وہ ان میں سے نہیں۔ بلکہ وہ مٹی میں سونے کی کان کی طرح ہے۔ وہ اگرچہ وہی کھاتا ہے جو وہ کھاتے اور وہی پیتا ہے جو وہ پیتے ہیں اور انہیں کیا معلوم کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے وہ خیال کرتا ہے گویا آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم رہنے والے ہیں گویا اس کے متعلق کہا گیا ہے۔ اگر تو لوگوں کی موافقت کرے اس حال میں کہ تو ان میں ہے۔ تو یہ اسی طرح ہے مشک بھی تو ہرن کے خون کا ایک حصہ ہی ہے۔ ولی عزلت کا حال تو زیادہ صفائی والا اور زیادہ شاندار ہے۔ مگر ولی عشرت کا حال تو زیادہ اعلیٰ و اوفٰی ہے رحمان کی بارگاہ احدیت میں اول کا مرتبہ دوسرے کے مقابلے میں ایسا ہے جیسا کہ بادشاہ کے درباری وزیر کا ہم نشین۔ رہے نبی کریم ﷺ تو وہ دونوں طرفوں کے اعتبار سے معزز ہیں۔ موتیوں اور سونے کے ٹکڑوں کا معدن ہیں۔ دونوں حالتوں کے جامع ہیں۔ دونوں میٹھے چشموں کا منبع ہیں۔ آپ کے احوال کا باطن ولی عزلت کیلئے ہدایت کا مینار ہے اور آپ کے ظاہر اعمال ولی عشرت کیلئے سنگ میل ہیں۔ اور نمبر 3۔ تیسرا مجاہد، محاسبہ کرنے والا، عمل کرنے والا دن اور رات میں پانچ قسطوں سے اپنے مقاصد پورے کرنے والا ہے جیسا کہ مکاتب اپنی اقساط پوری کرتا ہے۔ دو سو میں پانچ کی قسط ( زکاۃ مراد ہے) اور سال میں ایک مہینہ کی قسط (روزے) اور عمر میں ایک ملاقات، یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے رب کے ہاتھ ان اقساط مرتبہ پر بیچ ڈالا ہے۔ وہ اپنی گردن کو آزاد کرانے کی کوشش کرتا ہے غلامی کا پٹہ اس کی گردن سے نکل جائے اور وہ آزادی کے میدان اور وسعت کی طمع رکھتا ہے۔ تاکہ جنت کے باغ میں وہ چر سکے۔ اور اپنی تمنا کو وہ پاس کے اور اپنی مرضی اور خواہش کو پورا کرے۔ نمبر 4۔ بھاگنے والا غلام۔ یہ تو بہت زیادہ ہیں ان میں سے ایک ظالم قاضی اور عالم بےعمل دکھلاوے کی خاطر قراءت کرنے والا۔ اور قول و فعل میں تضادوالا واعظ اور اس کے اکثراقوال فضولیات ہوتے ہیں اور ہر ایسے آدمی پر جن کو تیروں کے پیکان بھی فائدہ نہیں دیتے چہ جائیکہ چور، زانی، غاصب کو اس سے فائدہ ہو۔ انہی کے متعلق نبی اکرم ﷺ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ اس دن کی مدد ایسے لوگوں کے ساتھ بھی فرما دے گا جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ (رواہ احمد، طبرانی، مجمع الزوائد) وقتی سبب بتا کر ڈانٹ پلائی : وَلَا تُکْرِھُوْا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآئِ (اور نہ مجبور کرو اپنی لونڈیوں کو زنا پر) ابن ابی کی چھ لونڈیاں۔ معاذہ، مسیلہ، امیمہ، عمرہ، اروی، قتیلہ بےحیائی کو ناپسند کرتی تھیں اس نے ان پر ٹیکس لگا رکھا تھا دونے رسول ﷺ کی خدمت میں شکایت کی تو یہ آیت اتری۔ الفتی اور الفتاۃ کا لفظ غلام و لونڈی دونوں کے متعلق بولا جاتا ہے البغاء کا لفظ عورتوں کیلئے زنا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہ البغی کا مصدر ہے۔ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا (اگر وہ پاکدامنی کا ارادہ کریں) زنا سے بچنے کا یہ شرط اس لئے لگائی گئی کیونکہ اکراہ ہوتا ہی تب ہے جبکہ انکا اپنا ارادہ پاکدامنی اختیار کرنے کا ہو۔ زنا پر اپنی مرضی سے آمادہ کو مکرہ نہیں کہا جاتا ہے اور نہ ہی اس کو حکم دینا اکراہ کہلاتا ہے۔ نمبر 2۔ یہ آیت ایک سبب کے پیش نظر اتری۔ پس نہی بھی اسی سبب کو پیش نظر رکھ کر وارد ہوئی۔ اس میں حقیقۃً ان آقائوں کو توبیخ کی گئی ہے یعنی وہ ضعیف العقل ہو کرپاکدامنی اختیار کرنا چاہتی ہیں تم تو مکمل عقل والے ہو کر پاک دامنی اختیار کرنے کروانے کے زیادہ حقدار ہو۔ لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہو) یعنی ان کو زنا پر مجبور کر کے تم ان کی کمائی حاصل کرنا چاہتے ہو۔ اور ان سے اولاد بھی چاہتے ہو۔ وَ مَنْ یُّکْرِھْھُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْ 0 بَعْدِ اِکْرَاھِھِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اور جس نے ان کو مجبور کیا پس اللہ تعالیٰ ان کو مجبور کرنے کے بعد بخشنے والے مہربان ہیں۔ ) اکراھھن اے اکراہ لھن اور مصحف ابن مسعود میں اسی طرح ہے۔ حسن (رح) کہا کرتے تھے لھنؔ ہے اللہ کی قسم۔ شاید کہ اکراہ اس کے علاوہ صورت میں ہو جس کو شریعت نے اکراہ کہا ہے اور وہ اکراہ تو وہی ہے جس سے ہلاکت کا خدشہ ہو پس وہ گناہ گار ٹھہری۔ پس ہم ان کو بخشنے والے ہیں جبکہ وہ توبہ کریں۔
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت

34: وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (تحقیق ہم نے تمہاری طرف واضح آیات اتاریں) ۔ قراءت : حجازی اور بصری اور ابوبکر اور حماد نے مبیِّنَاتٍ پڑھا ہے۔ یاء کے فتحہ کے ساتھ۔ آیات سے مرادوہ آیات ہیں جو اس سورة میں واضح کردی گئی۔ احکام و حدود کے معانی میں ان کو کھول دیا گیا۔ نحو : یہ بھی درست ہے کہ مبیَّنًا ہو اور ظرف میں وسعت ہے۔ دیگر قراء نے کسرہ سے پڑھا ہے۔ یعنی احکام و حدود ہی وضاحت شدہ ہیں اور فعل کو اس کا مجاز قرار دیا۔ بین بمعنی تبین ہے۔ مثال مشہور ہے قدبین الصبح لذی عینین، وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ (اور مثال ان لوگوں کی جو تم سے پہلے ہو گزرے) تمہارے ہم مثل۔ یعنی عجیب واقعہ جیسا کہ یوسف و مریم (علیہما السلام) کا واقعہ یعنی قصہ عائشہ ؓ : وَمَوْعِظَۃً (نصیحت) وہ امثال و آیات جن سے نصیحت کی گئی ہے جیسا کہ اس ارشاد میں : ولاتاخذ کم بہما رافۃ فی دین اللہ (النور : 2) لولا اذ سمعتموہ ] النور : 12[ ولولا اذسمعتموہ ] النور : 16[ یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدًا ] النور : 17[ لِّلْمُتَّقِیْنَ (متقین کیلئے) کیونکہ وہی اس سے فائدہ حاصل کرنیوالے ہیں اگرچہ نصیحت تو تمام کیلئے ہے۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

نورِ ایمان یا نور وجود : 35: اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے) اللہ نور الایۃ کی نظیر بمع اس کے ارشاد : مثل نورہٖ ویھدی اللہ لنورہٖ ۔ تمہارا یہ قول ہے زید کرم وجود۔ پھر تم کہو : ینعش الناس بکرمہٖ وجودہٖ زید تو نری سخاوت ہے لوگ اس کی سخاوت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے ذونور السٰمٰوت نمبر 1۔ آسمانوں کے نور والا ہے۔ اور آسمان و زمین کا نور حق ہے جس کو ظہور وبیان میں نور سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : اللہ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمات الی النور ] البقرۃ : 257[ یعنی باطل سے حق کی طرف نکال لاتے ہیں۔ آسمان و زمین کی طرف نور کی اضافت وسعت چمک اور روشنی کے پھیلنے کی وجہ سے ہے۔ یہاں تک کہ اس سے آسمان و زمین روشن ہیں۔ نمبر 2۔ اور یہ جائز ہے کہ اس سے مراد اہل السٰمٰوت والارض مراد لئے جائیں کیونکہ وہ اس روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مَثَلُ نُوْرِہٖ (اور اس کے نور کی مثال) جو اپنی روشنی میں عجیب طرح کا ہے۔ قول ابن عباس ؓ : مثل نورہٖ اس کے نور کی مثال یعنی وہ نور جس سے مسلمان کو ہدایت بخشی ہے۔ قراءت : ابن مسعود ؓ نے : مثل نورہ فی قلب المؤمن کمشکاۃٍ اور ابی ؓ کی قراءت میں مثل نورہ المؤمن ہے۔ کَمِشْکٰوۃٍ (ایک طاقچہ کی طرح ہے) طاقچہ جیسی حالت ہے اور وہ دیوار میں ایسا روشندان جو باہر کو نہ کھلے۔ فِیْھَا مِصْبَاحٌ (اس میں دیا ہو) بہت بڑا دیا چمکدار دِیا۔ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ (دِیا شیشے میں ہو) یعنی فی قندیل من زجاج۔ شیشے کے چراغ دان میں ہو۔ قراءت : شامی نے زاء کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّھَا کَوْکَبٌدُرِّیٌّ (شیشے کا فانوس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک موتی جیسا تارا ہے) دری بمعنی روشن۔ یاء کی تشدید اور دال کی ضم سے پڑھا گیا اور در کی طرف نسبت کی گئی ہے اس کی روشنی کی صفائی اور زیادتی کی وجہ سے۔ قراءت : ابوبکر اور علی نے کسرہ اور ہمزہ سے پڑھا ہے۔ گویا کہ وہ اپنی روشنی سے اندھیرے کو بھگاتا ہے۔ اور ضمہ اور ہمزہ کے ساتھ ابوبکر و حمزہ نے پڑھا۔ انہوں نے آب و تاب میں روشن ستاروں میں سے ایک سے تشبیہ دی ہے مثلاً مشتری، زہرہ، وغیرہ۔ یُّوْقَدُ (روشن ہوتا ہے ) قراءت : تُوْقَدُ تخفیف کے ساتھ حمزہ، علی، ابوبکر نے پڑھا ہے۔ یعنی وہ چراغ (الزجاجۃ) اور یوقدتخفیف کے ساتھ شامی اور نافع، حفص نے پڑھا ہے۔ تَوَقَّدَ مکی اور بصری نے پڑھا ہے یعنی یہ دیا (المصباح) مِنْ شَجَرَۃٍ (درخت سے) یعنی اس کے جلنے کی ابتداء زیتون کے درخت سے ہے یعنی اس کی بتی کو زیتون کے تیل سے سیراب کیا جاتا ہے۔ مُّبٰرَکَۃٍ (مبارک سے) جو بہت زیادہ منفعت بخش یا اس لئے کہ وہ ایسی زمین میں اگتا ہے جس میں جہان والوں کیلئے برکت دی ہے۔ ایک قول یہ ہے اس میں برکت اس طرح دی کہ ستر پیغمبر معبوث فرمائے جن میں ایک ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ زَیْتُوْنَۃٍ (یعنی زیتون کا) یہ شجرۃ سے بدل ہے اس کی صفت : لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ ہے (نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی) اس کے اگنے کا مقام شام ہے۔ یعنی نہ وہ مشرق میں ہے اور نہ مغرب میں بلکہ دونوں کے وسط میں ہے اور ملک شام ہے اور بہترین و عمدہ زیتون شام کا ہے۔ ایک قول یہ ہے وہ ایسے مقام پر زیتون واقع ہے کہ طلوع آفتاب کے وقت ہی اس پر شعاعیں نہیں پڑتی اور نہ ہی غروب کے وقت بلکہ صبح شام کے تمام اوقات میں اس پر شعاعیں پڑتی ہیں پس وہ درخت مشرقی بھی ہے اور مغربی بھی۔ یَّکَادُ زَیْتُھَا یُضِیْ ئُ (قریب ہے کہ اس کا تیل روشن ہوجائے) یعنی اس کا تیل : وَلَوْلَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ (اگرچہ اس کو آگ نہ چھوئے) اس میں تیل کی تعریف صفائی اور سفیدی میں فرمائی کہ وہ اپنی چمک کی وجہ سے بغیر آگ کے روشن ہوا چاہتا ہے۔ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ (وہ نور بالائے نور ہے) یعنی یہ نور جس کے ساتھ حق کو تشبیہ دی ہے یہ کئی گنا بڑھنے والا نور ہے۔ اور اس اضافہ میں طاقچہ، فانوس اور دیا اور زیتون کا تیل ایک دوسرے کے معاون بنے ہیں یہاں تک کہ ذرہ بھر کسر اس نور کے قوی ہونے میں باقی نہیں رہی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دیا جب ایک طاقچہ کی طرح تنگ مقام میں ہو تو اس کی روشنی مجتمع ہوجاتی ہے اور کھلے مقام پر دیا پڑا ہو تو روشنی پھیل کر مدہم پڑجاتی ہے اور روشنی کے اضافہ میں سب سے بڑھ کر معاون چیز فانوس ہے اسی طرح زیتون کا صاف و شفاف تیل بھی روشنی میں معاون ہے۔ ایک محسوس مثال : مثال ایک محسوس، جانی پہچانی، جسم دار چیز کی پیش کی گئی نہ کسی بلند اور مشاہدہ اور معاینہ میں نہ آنے والی چیز کی ابو تمام صاحب الحماسہ نے جب مامون الرشید کی مدح میں کہا۔ عمرو کا اقدام اور حاتم کی سخاوت، احنف کا حلم اور ایاس کی ذکاوت جناب میں جمع ہے۔ اس کو لوگوں نے کہا جن لوگوں سے تو نے خلیفہ کو تشبیہ دی ہے خلیفہ تو ان سے بڑھ کر ہیں تو اس نے فی البدیہ کہا۔ کم مرتبہ لوگوں کے ساتھ خلیفہ کی مثال دینے پر تعجب مت کرو۔ سخاوت اور شجاعت کی منتشر مثالیں جو میں نے دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی مثال ایک اقل چیز طاقچہ اور بتی سے دی ہے۔ یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ (اللہ تعالیٰ اپنے نور کے ذریعہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کردیتا ہے) اس چمکدارنور کی طرف مَنْ یَّشَآئُ (جس کی وہ چاہتا ہے) اپنے بندوں میں سے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو پالینے کیلئے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے الہام فرماتا ہے۔ یا دلیل میں غور کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ (اور اللہ تعالیٰ لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتا ہے) بات کو ان کے فہموں کے قریب تر کرنے کیلئے تاکہ وہ عبرت حاصل کر کے ایمان لائیں۔ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں) وہ ہر چیز کو کھول کر بیان کرتے ہیں جس چیز کا انسانوں کے علم میں آنا ممکن ہو۔ قول ابن عباس ؓ : مثل نوری نور اللہ الذی ھدی بہٖ المؤمن میرے نور کی مثال اللہ تعالیٰ کا وہ نور جس سے مومن کی راہنمائی فرمائی۔ قراءت : ابن مسعود ؓ مثل نورہ فیقلب المؤمن کمشکاۃ۔ وقرأ اُبَیّ مثل نور المؤمن۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

فی بیوت کا تعلق مشکاۃ سے ہے : 36: فِیْ بُیُوْتٍ (ایسے گھروں میں) یہ مشکوٰۃ سے متعلق ہے یعنی جیسا کہ طاقچہ جو کسی مسجد میں ہو۔ گویا اس طرح فرمایا : مثل نورہٖ کماتری فی المسجد نور المشکاۃ التی من صف تھا کیت و کیت اس کے نور کی مثال اس طرح ہے جیسا کہ تم مسجد میں اس طاقچے کی روشنی دیکھتے ہو جو طاقچہ ان ان صفات سے متصف ہے۔ یا نمبر 2۔ تو قد سے متعلق ہے ای توقد فی بیوت وہ دیا گھروں میں جلایا جاتا ہے۔ نمبر 3۔ یسبح سے متعلق ہے ای یسبح لہ رجال فی بیوت اس کی تسبیح کچھ لوگ کرتے ہیں ایسے گھروں میں اور نمبر 1۔ فیھا کا لفظ بار دیگر لایا گیا ہے اس سے تاکید مقصود ہے۔ مثلاً زید فی الدار جالس فیھا۔ نمبر 2۔ محذوف سے متعلق ہے : ای سَبَّحُوْا فی بیوت تم ایسے گھروں میں تسبیح کرو۔ اَذِنَ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ نے حکم دیا) اَنْ تُرْفَعَ (کہ ان کو بنایا جائے۔ ) جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : واذیرفع ابراہیم القواعد ] البقرہ : 127[ نمبر 2۔ تعظیم کرنے کا حکم دیا اس صورت میں یہ الرفعۃ سے لیا جائے گا۔ قول حسن (رح) : اللہ تعالیٰ نے تعمیر میں بلندی کا حکم نہیں دیا بلکہ تعظیم میں بلندی کا حکم دیا۔ وَیُذْکَرَفِیْھَا اسْمُہٗ (ان میں ذکر کیا جائے اس کے نام) اس میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے۔ نمبر 2۔ ہر ذکر کیلئے یہ عام ہے۔ صالحین کی صفات کا تذکرہ : یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّوَالْاٰصَالِ (صبح و شام ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں) یعنی اس کے لئے اس میں صبح کے وقت نماز فجر اور شام کو ظہر، عصر اور مغرب و عشاء پڑھتے ہیں۔ نکتہ : غدوٌ کا لفظ واحد لایا گیا کیونکہ اسوقت میں پڑھی جانے والی نماز ایک ہے اور اٰصال میں کئی نمازیں ہیں اور اصال جمع اُصُل کی ہے اور أُصُل جمع اصیل کی ہے اور پچھلے پہر کو کہا جاتا ہے۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

37: رِجَالٌ (ایسے مرد) یہ یسبح کا فاعل ہے۔ قراءت : شامی، ابوبکر نے یُسَبَّحُ پڑھا ہے، اور اس کا اسناد تینوں ظروف میں سے کسی ایک کی طرف کیا جاتا ہے میری مراد لہؔ، فیھاؔ بالغدو ہے اور رجال مرفوع ہے۔ اس بناء پر جس پر یسبحؔ دلالت کرتا ہے ای یسبح لہ۔ لَّا تُلْھِیْھِمْ (ان کو غافل نہیں کرتی) تِجَارَہٌ (کوئی تجارت) حالت سفر میں۔ وَّ لَا بَیْعٌ (اور خریدو فروخت) گھر موجودگی میں۔ ایک قول التجارۃ اسم جنس ہے مطلقًا خرید نامراد ہے خواہ کسی نوع کا ہو۔ ایک اور قول بیع کو تجارت کے بعد خاص طور پر ذکر کیا حالانکہ تجارت میں یہ شامل ہے کیونکہ بیع شراء کی نسبت غفلت میں زیادہ مبتلا کرنیوالی ہے۔ اس لئے کہ نفع بخش بیع میں نفع یقینی ہے اور شراء تو گمان نفع کا ہے۔ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی یاد سے) خواہ دل کے ساتھ ہو خواہ زبان سے وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ (اور نماز کے قائم کرنے سے) نماز کی اقامت سے۔ اقامۃؔ میں تاءؔ اس الف کے عوض میں ہے جو تعلیل کی وجہ سے ساقط ہوئی ہے یہ اصل میں اقواما تھا۔ جب وائو کو الف سے بدلا تو دو الف جمع ہوئے ایک التقائے ساکنین کی وجہ سے گرا دیا پس اقامًا باقی رہا محذوف کے بدلے تاءؔ کو لائے۔ جب مضاف کیا تو اضافت کو قائم مقام تاء ؔ کے لائے اور تاء کو ساقط کردیا۔ وَاِیْتَآ ئِ الزَّکٰوۃِ (زکوٰۃ کی ادائیگی سے) ای عن ایتاء الزکاۃ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی تجارت نہیں کہ جو ان کو غافل کر دے جیسا اولیائے عزلت۔ نمبر 2۔ خریدو فروخت کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والے ہیں اور جب نماز کا وقت آجائے تو بوجھ محسوس کرنے کے بغیر فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں جیسا کہ اولیائے عشرت ہیں۔ یَخَافُوْنَ یَوْمًا (وہ ایسے دن سے ڈرتے ہیں) یعنی قیامت کا دن۔ نحو : یہ تلھیھم کی ضمیر سے حال ہے یا نمبر 2۔ رجالٌ کی صفت ثانی ہے۔ تَتَقلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ (جس میں بہت سے دل اور آنکھیں پلٹ جائیں گی) اس وجہ سے کہ دل حلق کو پہنچ جائیں گے۔ وَالْاَبْصَارُ (اور آنکھیں) پتھرانے کی وجہ سے یا نیلگوئی کے سبب نمبر 2۔ دل ایمان کی طرف پلٹ آئیں گے حالانکہ وہ پہلے کفر کرتے تھے۔ اور آنکھیں کھلے طور پر معائنہ کریں گی اس کے باوجود کہ وہ پہلے سرکشی کی وجہ سے انکاری ہونگی جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے : فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید۔ (ق : 22)
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

38: لِیَجْزِیَھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَیزَیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا بہترین بدلہ عنایت کرے اور اپنے فضل سے اس سے زائد بھی عنایت فرمائے) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور ڈرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے یعنی تاکہ ان کو دوگنا ثواب سے بدلہ دے۔ ویزیدھم (اور اس میں اضافہ فرمائے) عمل پر مقررہ ثواب پر بطور فضل اضافہ فرمائے۔ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآ ئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بغیر حساب رزق دیتے ہیں) یعنی جس کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ایسا ثواب دیتے ہیں جو دیگر مخلوق کے حساب میں داخل نہیں ہوتا یہ تو اللہ تعالیٰ کے نور سے ہدایت یافتہ کی صفات ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے گمراہی کو وطیرہ بنا لیا انکاتذکرہ اگلی آیت میں فرمایا ہے۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

کفار کے اعمال کی دو مثالیں : 39: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ (اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے اعمال سراب کی طرح ہیں) سراب دوپہر کے وقت چلچلاتی دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت جو پانی کا سیلاب معلوم ہوتا ہے۔ بِقِیْعَۃٍ یہ قاع یا بقاع کی جمع ہے ہموار میدان جیسا کہ جیرۃ وجار۔ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ (گمان کرتا ہے اس کو پیاسا) مَآ ئً حَتّٰٓی اِذَا جَآ ئَ ہٗ (پانی یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے) یعنی وہ اس کی طرف آیا جس کو اس نے پانی خیال کیا۔ لَمْ یَجِدْہٗ شَیْئًا (اس نے کچھ بھی نہ پایا) جیسا اس نے گمان کیا۔ وَّ وَجَدَاللّٰہَ (اور اس نے اللہ تعالیٰ کو پایا) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے بدلے کو پایا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : یجد اللہ غفورًا رحیمًا (النسائ : 11) یعنی وہ اس کی مغفرت اور رحمت کو پائے گا۔ عِنْدَہٗ (اپنے پاس) ہٗ کا مرجع کافر ہے ( کافر کے پاس) فَوَفّٰہُ حِسَابَہٗ (پس اس نے پورا پورا دے دیا اس کا حساب) اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے دیا۔ سوال : والذین کفروا میں جمع لائے اور یہاں ضمائر واحد ذکر کیں ؟ جواب : ہر ہر کافر کا لحاظ کر کے ضمیرواحد لائے۔ وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (اور اللہ جلد حساب لینے والے ہیں) کیونکہ اس کو شمار و حساب کی محتاجی نہیں اور ایک حساب اس کو دوسرے کے حساب سے مشغول نہیں کرسکتا۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا حساب قریب ہے کیونکہ ہر آنے والا قریب ہے۔ حاصلِ آیت : اس آیت میں اس شخص کے اعمال کو جو ایمان نہ رکھتا ہو اور نہ اعمال صالحہ میں طریق حق کی پیروی کرتا ہو مگر ان اعمال صالح پہ خوش گمانی رکھتا ہو کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کام دیں گے اور اس کے عذاب سے نجات کا باعث ہونگے پھر آخرت میں اس کی امید بھر نہ آئے بلکہ اس کے اندازے کے خلاف واقع ہو۔ سراب سے تشبیہ دی جس کو کافر میدان حشر میں دیکھے گا۔ اور قیامت کے دن کی پیاس اس پر چھا چکی ہوگی وہ اس کو پانی سمجھ کر اس کی طرف جائے گا۔ تو وہاں اپنی امید کو بار آور نہ پائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کو وہاں پائے گا۔ جو اسے پکڑ کر جہنم کی طرف کھینچ کرلے جائیں گے۔ اور گرم پانی اور غساق پلائیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا گیا : عاملۃ ناصبۃ) الغاشیۃ : 3(دوسری آیت میں : وھم یحسبون انہم یحسنون صنعا۔ ] الکہف : 104[ ایک قول : یہ آیت عتبہ بن ربیعہ بن امیہ کے متعلق اتری۔ اس نے زمانہ جاہلیت میں دین حق کی تلاش میں رہبانیت اختیار کرلی تھی جب اسلام آیا تو اس نے انکار کردیا۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی )

40: اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ (یا ان کے اعمال اندھیروں کی طرح ہیں جو سمندر میں ہوں) یہاں اوؔ کا لفظ اسی طرح ہے جیسا کہ : اوکصیب ] البقرہ : 19[ میں ہے۔ لُّجِّیٍ (جو گہرا ہو) بہت زیادہ پانی والا گہرا۔ یہ اللُّج سے اسم منسوب ہے۔ لُجِّ پانی کا وہ حصہ جہاں پانی زیادہ ہو۔ یَّغْشٰہُ (ڈھانپے اس کو) یعنی سمندر کو ڈھانپے یا اس شخص کو ڈھانپے اور اس پر غالب آجائے اور اس پر چھا جائے۔ مَوْجٌ (موج) پانی کی اٹھنے والی لہر۔ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ (اس موج کے اوپر موج ہو) مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ (اور اس کے اوپر پانی ہو) اوپر والی موج پر بادل ہو۔ ظُلُمٰتٌ0 (اندھیرے) یعنی یہ اندھیرے ہیں۔ نمبر 1۔ بادل کا اندھیرا نمبر 2۔ موج کا اندھیرا نمبر 3۔ سمندر کا اندھیرا۔ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ (جو ایک دوسرے کے اوپر ہیں) لہر کا اندھیرا سمندر کے اندھیرے پر اور لہر کا اندھیرا دوسری لہر پر اور پھر بادل کا اندھیراموج پر چھایا ہوا ہے۔ اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ (جب وہ اپنا ہاتھ نکالتا ہے) وہ شخص جو سمندر میں گرنے والا ہے۔ لَمْ یَکَدْیَرٰھَا (وہ اپنے ہاتھ کو دیکھنے کے قریب بھی نہیں) یہ نہ دیکھنے میں مبالغہ ظاہر کرنے کیلئے فرمایا مطلب یہ ہے کہ وہ دیکھنا تو درکنار دیکھنے کے قریب بھی نہیں۔ فائدہ : ان کے اعمال کو اولاً نفع کے حاصل نہ ہونے بلکہ نقصان دہ ہونے کو سراب سے تشبیہ دی۔ اس کو وہ شخص قطعاً کام نہ آئے گا جس نے اس کو دور سے دھوکا دیا اور نہ ہی وہ اس کی رسوائی و ناکامی کیلئے کافی ہوگا۔ اگرچہ دوسرے کو جس طرح سراب سے کوئی فائدہ نہ ہوا اس کو بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اس نے زبانیہ کو وہاں پالیا جو اس کو کھینچ کر آگ کی طرف لے جائیں گے۔ دوسری مرتبہ اس کے اعمال کو اندھیرے اور سیاہی میں تشبیہ دی۔ کیونکہ وہ اعمال باطل ہیں۔ اور نور حق سے خالی ہونے کو ظلمات سے تشبیہ دی۔ ایسے اندھیرے جو تہ بہ تہ ہوں جیسے موج بحر کا اندھیرا۔ امواج وسحاب کے اندھیرے۔ وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًافَمَالَہٗ مِنْ نُّوْرٍ (اور جس کو اللہ تعالیٰ نے روشنی عنایت نہ فرمائی ہو اس کو روشنی نہیں مل سکتی) جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیں وہ ہدایت نہیں پاسکتا۔ قولِ زجاج۔ : حدیث میں ہے کہ : خلق اللہ الخلق فی ظلمۃ ثم رش علیھم من نورہ فمن اصابہ من ذلک النور اھتدی ومن اخطاہ ضل۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا۔ پھر اپنا کچھ نور اس پر ڈال دیا پس جس پر اس نور کا کوئی چھینٹا پڑگیا وہ ہدایت یاب ہوگیا۔ اور جس پر نہ پڑا وہ گمراہ ہوگیا۔
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

41: اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نے نہیں دیکھا) کیا تمہیں معلوم نہیں اے محمد ﷺ ایسا علم جو معائنہ کی طرح یقینی ہو۔ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ (کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے بھی اس حال میں کہ وہ اپنے پر پھیلائے ہوتے ہوں) نحو : الطیرُ کا عطف منؔ پر ہے۔ اور صافاتؔ یہ الطیرؔ سے حال ہے یعنی اس حال میں کہ وہ ہوا میں اپنے پر پھیلائے ہوں۔ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَ تَسْبِیْحَہٗ (ان میں سے ہر ایک اپنی دعا اور تسبیح سے واقف ہے) علمؔ میں ضمیر کلؔ کی طرف راجع ہے۔ یا اللہ کی طرف راجع ہے۔ اسی طرح صلاتہ اور تسبیحہ کی ضمیروں کے دونوں مرجع بن سکتے ہیں۔ الصلاۃؔ بمعنی دعا۔ اس میں کوئی بعید بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ پرندوں کو ان کی دعا و تسبیح الہام کرتا ہو جیسا کہ ان کو دیگر دقیق علوم الہام کرتا ہے جن کو عقلاء کی عقل بھی دریافت نہیں کرسکتی۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِمَا یَفْعَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کو جاننے والے ہیں) اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

42: وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے آسمان و زمین) کیونکہ وہ ان کا خالق ہے اور کسی چیز پر تملیک یہ مالکیت ہی کا اثر ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ (اور اللہ تعالیٰ کی طرف تمام نے لوٹنا ہے۔ )
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

43: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو ہنکاتا ہے) وہ چلا کر بھیجتا ہے جہاں وہ ارادہ فرماتا ہے۔ نحو : سحابًا یہ جمع سحابۃ کی ہے اس کی دلیل : ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ (پھر ان کو جوڑتا ہے) ثم یولف بینہٗ میں ہٗ کی ضمیر کو لفظ کا لحاظ کر کے مذکر لایا گیا ہے یعنی ان کو ایک دوسرے سے ملا کر یکجا کرتا ہے۔ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا (پھر اس کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے) تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر فَتَری الْوَدْقَ (پھر تم بارش کو دیکھتے ہو) یَخْرُجُ مِن ْخِلٰلِہٖ (اس کے شگافوں سے نکلتی ہے) اس کے پھٹے ہوئے اور نکلنے کے مقامات سے۔ یہ خلل کی جمع ہے جیسے جبال جمع جبل کی ہے۔ وَیُنَزِّلُ (اور وہ اتار تا ہے) ۔ قراءت : یُنزِلُ مکی و بصری نے پڑھا ہے۔ مِنَ السَّمَآء (آسمان سے ) نحو : منؔ ابتدائے غایت کیلئے ہے۔ کیونکہ اتارنے کی ابتداء آسمان سے ہوتی ہے۔ مِنْ جِبَالٍ (پہاڑوں سے ) ۔ نحو : منؔ تبعیضیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو آسمان کے بعض پہاڑوں سے اتارتے ہیں۔ فِیْھَا مِں ْ بَرَدٍ (ان میں جو اولے ہیں) یہ منؔ بیانیہ ہے۔ نمبر 2۔ اول دونوں منؔ ابتدائیہ اور یہ من تبعیض کیلئے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ بیشک وہ اللہ تعالیٰ اولے اتارتا ہے آسمان سے پہاڑوں سے جو اس آسمان میں سے ہیں۔ اول صورت میں یُنَزِّلُ کا مفعول من جبالؔ ہے۔ یعنی بعض پہاڑ اور معنی یہ ہوگا بعض پہاڑ جن میں اولے ہیں آسمان میں اولوں کے پہاڑ قدرت کیلئے بعید و مشکل نہیں جیسے کہ زمین میں پتھر کے پہاڑ۔ نمبر 3۔ یہاڑوں کے تذکرہ سے کثرت مراد ہے جیسا کہا جاتا ہے فلان یملک جبا لاً من ذھب کہ فلاں کثیر دولت کا مالک ہے۔ یعنی آسمان سے کثرت سے اولے برساتا ہے۔ فَیُصِیْبُ بِہٖ (پس وہ اولے پہنچا دیتا ہے) یعنی وہ اولے۔ مَنْ یَّشَآ ئُ (جس کو وہ چاہتا ہے) جس انسان اور اس کی کھیتی پر گرانا چاہتا ہے۔ وَیَصْرِفُہٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآ ئُ (اور جس سے چاہتا ہے پھیر لیتا ہے) پس وہ اس پر نہیں گراتا۔ نمبر 2 جس کو چاہتا ہے وہ سزا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے اس سے اسکو سزا نہیں دیتا۔ یَکَادُ سَنَابَرْقِہٖ (قریب ہے کہ اسکی بجلی کی چمک) سناؔ روشنی کو کہتے ہیں۔ یَذْھَبُ بِالْاَبْصَارِ (آنکھوں کو جھپٹ لے) اچک لے اسکے ذریعہ۔ قراءت : یزیدنے یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ بہٖ یَذْھب۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

44: یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ (اللہ تعالیٰ دن اور رات کو الٹ پلٹ کرتا ہے) لمبائی اور چھوٹائی کے مختلف ہونے کے ساتھ پھیرتا ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنا : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) بادلوں کے اس ملنے اور بارش اور سردی کے اتارنے، دن اور رات کے آنے جانے میں نشانیاں ہیں۔ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ (البتہ عبرت ہے آنکھوں والوں کے لیے) عقل مندوں کیلئے۔ آیات کا ربط : ربوبیت باری تعالیٰ پر دلائل ذکر فرمائے۔ نمبر 1۔ آسمان و زمین میں ان کی تسبیح کا ذکر کیا۔ نمبر 2۔ جو ان کے مابین اڑنے والے ہیں ان کا تسبیح کرنا اور اس سے دعا کرنا مذکور ہوا۔ نمبر 3۔ بادلوں کو مسخر کرنا الی آخرہٖ یہ وجود باری تعالیٰ پر واضح دلائل ہیں اور غور و تدبیر کرنے والے کیلئے اللہ تعالیٰ کی صفات کو واضح کرنے والے نشانات ہیں۔ پھر ایک اور دلیل اس انداز سے ذکر فرمائی۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

45: وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ (اور اللہ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا) قراءت : حمزہ و علی نے خالق کل پڑھا ہے۔ دابہ کی مراد : دَآبَّۃٍ (ہر حیوان کو جو زمین پر رینگتا ہے) مِّنْ مَّآ ئٍ (پانی سے) نمبر 1۔ ایک خاص نوع کے پانی سے جو اس دابہ کے ساتھ خاص تھا۔ نمبر 2۔ ماء مخصوص یعنی نطفہ ہے۔ پھر نطفہ سے تخلیقات میں بعض کو کیڑے مکوڑے اور بعض کو چوپائے اور بعض کو انسان بنادیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : یسقیٰ بما ئٍ واحدٍ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل ] الرعد : 4[ طریقِ استدلال : یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا کوئی خالق و مدبر ہے ورنہ ایک اصل سے یہ مختلف کیسے بن گئے۔ وجہ فرق : اس آیت میں ماؔ ء کو نکرہ لائے جبکہ دوسری آیت : وجعلنا من الماء کل شییٔ حیٍّ ] الانبیائ : 30[ میں الماء معرفہ لایا گیا ہے ؟ جواب : کیونکہ اس جگہ مقصود یہ تھا کہ حیوانات کی تمام اجناس کو جنس ماء سے پیدا فرمایا گیا ہے اور وہی ان کی اصل ہے اگرچہ ان کے درمیان بہت سے وسائط ہیں۔ قول بعض علماء : نمبر 1۔ اولاً اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا فرمایا پھر اس سے آگ پیدا فرمائی اور ہوا اور مٹی۔ پھر نار سے جنات کو پیدا فرمایا۔ اور ریح سے ملائکہ اور مٹی سے آدم اور دیگر دوائب الارض کو پیدا فرمایا۔ جب دابہ کا لفظ ممیز اور غیر ممیز تمام کو شامل ہے پھر تمیز والوں کو غلبہ دیکر بقیہ پر وہی حکم لگا دیا۔ گویا تمام دواب تمیز والے ہیں اسی لئے فرمایا۔ پیٹ پر چلنے والے جاندار : فَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ (پس ان میں سے بعض وہ ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں) جیسے سانپ، مچھلی، نمبر 1۔ اس میں پیٹ کے بل رینگنے کو استعارۃً مشی سے تعبیر فرمایا جیسا کہ امر مستمر میں کہا جاتا ہے : قدمشی ھذا الامر۔ نمبر 2۔ بطریق مشاکلت فرمایا کیونکہ زاحف کو ماشی کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ (اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو دو ٹانگوں پر چلتے ہیں) مثلاً انسان، پرندے : وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ (اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو چار ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ ) مثلاً بہائم۔ ترتیب ِعجیب : اولاً ان کو لائے جو قدرت میں زیادہ فائق ہیں۔ اور وہ وہی ہیں جو آلہ مشی کے بغیر چلتے ہیں مثلاً ٹانگیں وغیرہ پھر دوسرے نمبر پر دو ٹانگوں پر چلنے والے پھر چارٹانگوں پر چلنے والے۔ یَخْلُقُ اللّٰہُ مَایَشَآ ئُ (اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں) جس طرح چاہتے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے) کوئی چیز اس پر مشکل نہیں۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

46: لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآ ئُ (تحقیق ہم نے واضح آیات نازل کی ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کی چاہتے ہیں راہنمائی فرماتے ہیں) اپنی مہربانی اور مشیت سے اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھے راستہ کی طرف) دین اسلام کی طرف جو کہ جنت کی طرف پہنچانے والا ہے۔ پس یہ آیات تو اس کی حجت و دلیل کو لازم کرنے کیلئے ہیں۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

تین گروہ : 47: جب آیات کے اتارنے کا ذکر ہوچکا اب اس کے بعد لوگوں کے تین گروہوں میں بٹ جانے کا ذکر کیا۔ نمبر 1۔ ایک جماعت نے ظاہراً ان آیات کی تصدیق اور باطناً تکذیب کی یہ منافق کہلائے دوسری جماعت نے ظاہر و باطن سے تصدیق کی یہ مخلصین کی جماعت ہے نمبر 3۔ تیسرا گروہ اس نے ظاہر و باطن میں تکذیب کی یہ کافر ہیں۔ اسی ترتیب سے تذکرہ آرہا ہے ارشاد فرمایا : وَیَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالرَّسُوْلِ (وہ اپنی زبانوں سے آمنا باللہ وبالرسول کہتے ہیں۔ ) وَاَطَعْنَا (اور ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی) ثُمَّ یَتَوَلّٰی (پھر ایک جماعت اللہ تعالیٰ اس کے رسول کے حکم کو ماننے سے گریزاں ہے۔ ) فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مِّنْ بَعْدِذٰلِکَ (اس اقرار کے بعد) امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔ وَمَا اُولٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ (حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں) یعنی مخلص نہیں اس کہنے والوں کے قول امنا اطعنا کی طرف اشارہ ہے فقط اس فریق کی طرف اشارہ نہیں جو معرض ہے اس میں اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ ان تمام کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔ جس کا سبب ان کا غلط اعتقاد اور اعراض ہے۔ اگرچہ اعراض والی حرکت بعض سے سرزدہوتی ہے مگر اعراض پر پورا طبقہ راضی اور خوش ہوتا ہے (اور رضاء بالکفر بھی کفر ہے۔ )
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

48: وَاِذَا دُعُوْا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٰ (اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے) رسول اللہ ﷺ کی طرف۔ یہ اس طرح ہے جیسا کہتے ہیں : اعجبنی زیدٌ وکرمہ مراد اس سے کرم زید ہے مجھے زید کی سخاوت پسند ہے۔ لِیَحْکُمَ (تاکہ وہ فیصلہ کریں۔ ) رسول ﷺ : بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ 0 مُّعْرِضُوْنَ (ان کے مابین تو اسی وقت ان کی ایک جماعت منہ موڑنے والی ہے) اچانک ایک گروہ اعراض کرجاتا ہے۔ شان نزول : یہ بشر منافق اور اس کے مخالف یہودی کے متعلق نازل ہوئی جبکہ دونوں کا ایک قطعہ زمین پر جھگڑا ہوا۔ یہودی اس کو رسول ﷺ کی خدمت میں لے جانے کی کوشش کر رہا تھا اور منافق کعب بن اشرف یہودی کے پاس لے جانا چاہتا تھا۔ اور کہتا محمد (a) ہم پر ظلم کریں گے ( نعوذ باللہ)
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

49: وَاِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ (اور اگر واقعی ان کا حق ہوتا) جب ان کا حق دوسرے پر لازم ہوتا۔ یَاْ تُوْا اِلَیْہِ (تو رسول (a) کی طرف آتے۔ ) مُذعِنِیْنَ (دوڑتے ہوئے) ۔ نحو : یہ حال ہے۔ اور اطاعت میں جلدی کرتے ہوئے تاکہ اپنا حق طلب کریں اس لئے نہیں کہ آپ کے فیصلہ پر راضی ہوں۔ قول زجاج : الاذعان تیزی جس میں طاعت ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ تو خالص حق اور نرا عدل قائم فرمائیں گے۔ اس لئے آپ سے فیصلہ کرانے سے اعراض کرتے ہیں کیونکہ انہیں حق قبول کرنا پڑے گا۔ اور آپ ان کے مخالف کا حق ان سے چھین کر حقدار کے حوالے کریں گے۔ اور جب ان کا اپنا حق بنتا ہو اور مخالف ناحق پر ہو تو جلدی سے آپ کی طرف آتے ہیں۔ اور آپ کے فیصلہ میں سے ان کو اتنی بات پسند ہے کہ ان کا حق آپ ان کے مخالف سے لے کر انہیں دلائیں بس۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

اعراض کی تین وجوہ : 50: اَفِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْا اَمْ یَخَافُوْنَ (کیا ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے یا وہ شک میں پڑگئے ہیں) یا وہ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَرَسُوْلُہٗ (یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی کرے گا) آپ کے فیصلہ سے اعراض کے معاملہ کو تقسیم کیا اور تین وجوہ بیان فرمائے۔ نمبر 1۔ جبکہ فیصلہ ان کے خلاف جاتاہو۔ کہ اولا تو ان کے دل بیمار ہیں۔ ان میں منافقت بھری ہے۔ نمبر 2۔ یا آپ کے معاملہ نبوت میں شک کرنے والے ہیں۔ نمبر 3۔ یا پھر آپ کی طرف سے حق تلفی کا خدشہ ہے۔ پھر اس تیسری صورت کو باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا : بَلْ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (بلکہ یہی لوگ ظالم ہیں) یعنی ان کو یہ خطرہ نہیں کہ ان کی حق تلفی ہوگی کیونکہ وہ آپ کی حالت سے واقف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ظالم ہیں اور صاحب حق کا حق مار کر ظلم کرنا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں یہ کرایا نہیں جاسکتا اسی وجہ سے آپ کے ہاں فیصلہ لے جانے سے کتراتے ہیں۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

51: اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ (مسلمانوں کا قول) قول حسن رحمۃ اللہ : نحو : قولؔ کا لفظ رفع سے پڑھا جائے گا۔ مگر نصب زیادہ قوی ہے کیونکہ دونوں اسموں میں سے پہلا تعریف میں دوسرے کی نسبت زیادہ مشغول ہونا چاہیے یہاں انؔ یقولوا جو کہ دوسرا اسم ہے وہ زیادہ مشغول ہے۔ قول المؤمنین ؔ کی بجائے۔ اِذَا دُعُوْآ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمْ (جبکہ ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کسی فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے) تاکہ نبی اکرم ﷺ فرمائیں۔ قراءت : یزید نے لیحکم پڑھا ہے تاکہ ان کا فیصلہ کیا جائے۔ بَیْنَھُمْ (ان کے مابین) اس فیصلہ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اتارا ہے۔ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا (بس یہ ہوتا ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں) ہم نے آپ کا ارشاد سنا : واَطَعْنَا (اور آپ کا حکم مانا) وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (وہ وہی کامیاب ہیں) ۔ مفلح ؔ کا معنی فائز ؔ ہے۔