Ayah 28:7272: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ (آپ کہہ دیجئے ! بلا دیکھو تو اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن کر دے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کون ایسا معبود ہے۔ جو تم پر رات لے آئے جس میں تم آرام کرسکو) ۔
نکتہ : آیت میں نہار (دن) کے ساتھ یہ نہیں فرمایا بنہار تنصرفون فیہ (ایسا دن لائے جس میں کام کاج کرسکو) جیسا کہ پچھلی آیت میں لیل کے ساتھ فرمایا بلیل تسکنون فیہ۔ بلکہ اس کی بجائے سورج کی روشنی کا ذکر فرما دیا۔ کیونکہ سورج کی روشنی سے بیشمار منافع حیات متعلق ہیں صرف معاش اکیلا نہیں اور اس کے بالمقابل اندھیرا ایسا نہیں کہ جس سے اتنے کثیر منافع متعلق ہوں۔ اس لئے اہم ترین فائدہ کا ذکر فرما دیا اور یہی وجہ ہے کہ ضیاء کے ساتھ لفظ افلا تسمعون ملایا ہے۔ کیونکہ کان جس چیز کا ادراک کرلیتے ہیں جیسے تذکرئہ منافع اور بیان فوائد آنکھ ان کے ادراک کی قوت نہیں رکھتی۔ اور رات کے ساتھ افلا تبصرون کو ملا کر لائے۔ اَفَلا تُبْصِرُوْنَ (کیا تم لوگ نہیں دیکھتے) کیونکہ تیرے علاوہ اندھیرے کا وہ فائدہ دیکھتے ہیں جس کو تو
بھی سکون وغیرہ کی صورت میں دیکھتا ہے۔
Ayah 28:7373: وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فِضْلِہٖ (اور اللہ تعالیٰ کی اپنی رحمت سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے۔ تاکہ تم آرام پائو۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرو) تقدیر کلام اس طرح ہے : لتسکنوا فی اللیل ولتبتغوا من فضل اللّٰہ فی النہار۔ (تاکہ تم رات کو سکون کرو اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو دن میں تلاش کرو) ۔ پس یہ لف و نشر مرتب کی قسم میں سے ہوگا۔ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (اور تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرو) ۔ اللہ تعالیٰ کا شکریہ اس کی نعمتوں پر۔
قولِ زجاج (رح) :
اس کا یہ معنی بھی درست ہے۔ لتسکنوا فیہما و لتبتغوا من فضل اللّٰہ فیہما۔ (تاکہ تم ان دونوں میں آرام کرسکو اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی روزی دونوں میں تلاش کرسکو) ۔
زجاج (رح) کا یہ قول آج کل کے زمانہ کی ترجمانی کر رہا ہے۔ (مترجم) دن رات کمانا جائز ہے۔
آیت کا مطلب یہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دن رات کا زمانہ و وقت بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس کا فضل (رزق) اس وقت میں تلاش کرو۔
Ayah 28:7474: وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ (اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ ان کو نداء دے کر فرمائے گا) ۔ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ (کہاں ہیں میرے وہ شرکاء جن کو تم (سفارشی) خیال کرتے تھے۔ شریک بنانے پر۔ بار دیگر تو بیخ کی گئی تاکہ یہ اعلان کردیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو شرک سے بڑھ کر کوئی چیز دعوت دینے والی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندیوں میں سب سے زیادہ توحید داخل کرنے والی ہے۔
Ayah 28:7575: وَنَزَعْنَا (اور ہم نکال کر لائیں گے) ۔ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا (ہر امت میں سے ایک گواہ) یعنی ان کا پیغمبر کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی امتوں پر گواہ ہیں۔ جو کہ ان کے متعلق ان اعتقادات کی گواہی دیں گے جن پر وہ تھے۔ فَقُلْنَا (پھر ہم امتوں کو کہیں گے) ۔ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ (تم اپنی دلیل پیش کرو) ۔ اس شرک پر جس پر تم قائم تھے اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر۔ فَعَلِمُوْا (پس اس وقت وہ جان لیں گے) ۔ اَنَّ الْحَقَّ (کہ توحید) لِلّٰہِ وَضَلَّ عَنْہُمْ (اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے اور ان سے گم ہوجائیں گی) اور ان سے وہ تمام معبود اس طرح غائب ہوجائیں گے جس طرح کوئی ضائع ہونے والی چیز غائب ہوتی ہے۔ مَاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (وہ باتیں جو وہ گھڑا کرتے تھے) ۔ یعنی غیر اللہ کی الوہیت اور ان کے لئے زبردستی شفاعت۔
Ayah 28:7676: اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی (بیشک قارون قوم موسیٰ میں سے تھا) ۔
نحو : قارون یہ غیر منصرف ہے۔ کیونکہ عجمہ و معرفہ دو سبب موجود ہیں اگر اس کو فاعولا کے وزن پر مانیں تو یہ منصرف ہوگا۔ پھر یہ قرنت الشیٔ سے ماخوذ ہوگا۔
یہ اسرائیلی الاصل تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ابن عم تھا۔ سلسلہ نسب قارون بن یصہر بن قاہث بن لاوی بن یعقوب اور موسیٰ (علیہ السلام) کا سلسلہ موسیٰ بن عمران بن قاہث اس کو خوبصورتی کی وجہ سے المنور کہا جاتا تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا قاری تھا۔ لیکن سامری کی طرح منافق تھا۔ فَبَغٰی عَلَیْہِمْ (پھر یہ قوم پر تکبر کرنے لگا) ۔ یعنی یہ البغی سے نکلا ہے۔ جس کا معنی ظلم ہے۔
ایک قول یہ ہے :
اس کو فرعون نے بنی اسرائیل پر حکمران بنایا یہ ان پر ظلم کرتا۔ نمبر 2۔ یہ البغی بمعنی تکبر سے ہے۔ اس نے بنی اسرائیل پر کثرت مال و اولاد کی وجہ سے تکبر کیا۔ نمبر 3۔ دوسروں سے ایک بالشت کپڑے بڑھائے (اور بطور تکبر ان کو لٹکا کر اور کھینچ کر چلتا تھا) بغوی، وَاٰتَیْنَاہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَا اِنَّ مَفَاتِحَہٗ (اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے جن کی چابیاں) ۔
ما۔ الذی کے معنی میں آیاتنا کی وجہ سے منصوب ہے اور اِنّ اور اس کا اسم و خبر مل کر الذی کا صلہ بنتے ہیں اسی لئے انَّ مکسور ہے۔ اور المفاتح جمع مِفْتَح کی ہے میم کے کسرہ کے ساتھ ہے جس کا معنی چابیاں۔ نمبر 2۔ مَفْتح فتحہ کے ساتھ جس کا معنی خزانہ ہے اور زیادہ درست بات یہ ہے کہ چابیاں مراد ہیں۔
لَتَنُوْئُ بِالْعُصْبَۃِ (بھاری کردیتی تھی ایک جماعت کو) جماعت کو بوجھل کر دیتیں۔ العصبۃ بڑی جماعت وہ اپنے خزانوں کی چابیاں ستر خچروں پر لادتا تھا۔ باء تعدیہ کے لئے ہے جیسے کہتے ہیں ناء بہِ الحمل اس کو بوجھ نے جھکا دیا۔ اس کے ہر خزانہ کی ایک چابی تھی۔ اور ہر چابی ایک انگشت کے برابر چمڑے کی بنی ہوئی تھی۔ اُولِی الْقُوَّۃِ (طاقتور و مضبوط) ۔ اِذْ قَالَ لَہٗٗ قَوْمُہٗ (جب اس کو اس کی قوم نے کہا) ۔ قوم سے یہاں مومن مراد ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
یہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :
نحو : اذ تنوء کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔
لَا تَفْرَحْ (کثرت مال پر تکبر مت کرو) ۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ ولا تفرحوا بما اتاکم ] الحدید۔ 23[
دنیا پر وہ شخص اتراتا ہے۔ جو دنیا پر راضی اور مطمئن ہو۔ باقی وہ شخص جس کا دل آخرت کی طرف لگا ہو اور وہ جانتا ہو کہ عنقریب اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ وہ دنیا پر بالکل نہیں اتراتا۔ اِنَّ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ مال پر تکبر کرنے اور اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتے) ۔
Ayah 28:7777: وَابْتَغِ فِیْمَآ ٰاتٰکَ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ نے جو تجھے دیا ہے اس میں عالم آخرت کو تلاش کر) ۔ یعنی جو غنی اور ثروت تمہیں دی ہے۔ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ (آخرت والے گھر کو) ۔ اس طرح کہ تم فقراء پر خیرت کرو اور صلہ رحمی کرو اور مقامات خیر میں اس کو صرف کرو۔ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا (اور دنیا سے اپنا حصہ (آخرت) ہرگز نہ بھول) ۔ وہ یہ ہے کہ بقدر کفایت اس میں سے لو جو تمہارے لئے بہتری والا ہو۔
ایک قول یہ ہے :
اپنی دنیا کے ذریعہ آخرت کو طلب کرو۔ پس یہی دنیا میں سے آخرت کا حصہ ہے۔
وَاَحْسِنْ (اور احسان کرو) ۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ (جیسا اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا ہے) یہ انعامات دیکروَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرضِ (اور زمین میں فساد مت مچا ظلم وتکبر کے ذریعہ) اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے) ۔
Ayah 28:7878: قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ (اس نے کہا مجھے جو کچھ ملا ہے۔ وہ مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے) ۔ ہٗ سے مراد مال ہے۔ علی علمٍ عندی کہہ کر اس نے اپنے علم کو سبب قرار دیکر استحقاقِ مال کا دعویٰ کیا ہے۔ جو علم تو رات ایسے لوگوں سے زیادہ ملا ہوا تھا۔ نمبر 2۔ تجارت و زراعت سے کمائی کے طرق۔
نحو : عندی یہ علمٍ کی صفت ہے۔
قول سہل (رح) :
کوئی ایسا شخص نہیں کہ جس نے اپنی طرف دیکھا ہو (تکبر کیا ہو) اور پھر وہ کامیاب ہوا ہو۔ خوش نصیب وہ ہے۔ جس نے اپنے افعال و اقوال سے اپنی نگاہ کو پھیرلیا اور اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو اپنے تمام افعال و اقوال دیکھنے کا دروازہ کھول لیا اور بدنصیب وہ ہے جس کے افعال ٗ اقوال ‘ احوال اس کی اپنی نگاہ میں مزین نظر آئیں۔ پھر وہ ان پر فخر کرنے لگا۔ اور ان کے بارے دعویٰ کیا کہ یہ اس کے اپنے ذاتی کمال والے افعال و اقوال ہیں۔ ایک دن اس کی بدبختی اس کو ہلاک کر دے گی۔ جیسا کہ قارون کو دھنسا دیا گیا جب اس نے اپنی ذات کے لئے فضیلتوں کا دعویٰ کیا۔
اَوَلَمْ یَعْلَمْ (کیا قارون کو معلوم نہیں) ۔ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَہْلَکَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً (کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے زمانے والے ہلاک کردیئے جو اس سے طاقت میں بڑھ کر تھے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے علم کو ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قد اہلک من قبلہٖ من القرون ہلاک کردیا ان سے پہلے زمانہ والوں کو جو کہ اس سے زیادہ طاقتور اور زیادہ مالدار تھے۔ کیونکہ وہ تورات میں پڑھ چکا تھا۔ گویا اس کو اس طرح کہا گیا۔ اَوَ لم یعلم فی جملۃ ماعندہ من العلم ہذا حتی لایغتر بکثرۃ مالہٖ وقوتہ۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ جو کچھ اس کے پاس علم ہے یہ اس تمام علم میں سے ہے۔ تاکہ وہ اپنے مال کی کثرت و قوت پر دھوکا میں مبتلا نہ ہوتا۔ نمبر 2۔ یا اس میں اس کے علم کی نفی ہے۔ کیونکہ جب اس نے یہ کہہ دیا۔ اوتیتہ علی علم عندی۔ تو اسے کہا گیا کہ کیا اس کے پاس اس علم کی مثل ہے جس کا اس نے دعویٰ کیا ہے اور جس کی وجہ سے اس نے ہر نعمت کو اپنے لئے لازم سمجھ لیا ہے۔ اس کو اس نفع بخش کا علم نہ ہوا کہ جس سے اپنے آپ کو ہالکین کے نتائج سے بچالے۔
وَّاَکْثَرُ جَمْعًا (اور جماعت وجتھہ کے اعتبار سے بڑھ کر تھے) مال میں۔ نمبر 2۔ جماعت و تعداد میں۔ وَلَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِہِمُ الْمُجْرِمُوْنَ (اور مجرموں سے ان کے گناہوں سے متعلق (تحقیق و معلومات کے لئے) نہ پوچھا جائے گا) ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق جانتے ہیں۔ بلکہ وہ تو بلا حساب دوزخ کا ایندھن ہونگے۔ نمبر 2۔ بغیر سوال ہی مجرم گناہوں کا اعتراف کرلیں گے۔ نمبر 3۔ وہ نشانات سے پہچان لیے جائیں گے اس لئے پوچھنے کی حاجت نہ ہوگی۔ نمبر 4۔ ان سے معلومات کی غرض سے تو پوچھا نہ جائے گا البتہ توبیخ کے لئے سوال ہوگا۔ نمبر 5۔ گزشتہ لوگوں کے گناہوں کے بارے میں ان سے سوال نہ ہوگا۔ اس امت کے مجرمین سے۔
Ayah 28:7979: فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ (وہ اپنی قوم کے سامنے بن سنور کر نکلا) ۔ زرد اور سرخ کپڑے پہن کر۔
ایک قول یہ ہے :
وہ ہفتہ کے دن سفید خچر پر سوار ارغوانی لباس جس پر سنہری سورج بنے ہوئے تھے پہن کر نکلا۔ اس کے ساتھ چار ہزار آدمی اسی کے لباس زیب تن کیے ہوئے نکلے۔
ایک قول :
ان پر اور ان کے گھوڑوں پر سرخ پاکھریں تھیں اور اس کے دائیں جانب تین سو غلام اور بائیں طرف تین سو لونڈیاں جن کی رنگت سفید اور زیورات و ریشم میں سجی ہوئیں۔
فی زینتہٖ یہ فاعل سے حال ہے ای خرج متزینًا۔
قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃ الدُّنْیَا (ان لوگوں نے کہا جو دنیا کی زندگی کو چاہنے والے تھے) ۔
ایک قول :
یہ مسلمان تھے۔ انہوں نے یہ تمنا خوشحالی کی طرف عام انسانوں کی طرح رغبت رکھتے ہوئے کی تھی۔
اور ایک قول :
یہ کافر تھے۔ یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُ (اے کاش آج ہمارے لئے اسی طرح ہوتا جس طرح قارون کو ملا ہے) ۔ یہ بطور رشک کے کہا۔ الغابط۔ جو نعمت والے کی نعمت کو دیکھ کر اسی جیسی نعمت کی اپنے متعلق تمنا کرلے مگر اس کی نعمت کے زوال کی خواہش دل میں پیدا نہ کرے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے۔
الحاسد۔ جو نعمت والے کی نعمت دیکھ کر اس کے زوال کی تمنا کرے۔ اس کی مثال دوسری آیت میں ہے۔ ولا تتمنوا مافضل اللّٰہ بہٖ بعضکم علی بعض ] النساء۔ 32[
فرمانِ نبوت ﷺ :
کیا غبطہ نقصان دیتا ہے ؟ فرمایا نہیں مگر اتنا جتنا کانٹے جھاڑی کو۔ اِنَّہٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (بیشک وہ بڑا نصیب ور ہے) ۔ الحظ۔ نصیب ٗ بخت و دولت کو کہتے ہیں۔
Ayah 28:8080: وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ (اور کہا ان لوگوں نے جن کو علم ملا) ۔ ثواب ٗ عقاب اور فنائے دنیا اور بقائے عقبیٰ کے متعلق انہوں نے قارون پر رشک کرنے والوں سے کہا۔ وَیْلَکُمْ (تم پر افسوس ہے) ۔ اس کلمہ کی اصل ویلک ہے۔ یہ ہلاکت کی بددعا ہے۔ پھر ڈانٹ وردع کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اور ایسی چیز پر آمادہ کرنے کے لئے جو ناپسند ہو۔
نحو : یہ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ ای الزمکم اللّٰہ ویلکم کذا فی التبیان فی اعراب القرآن۔
ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا یُلَقّٰہَآ (اللہ تعالیٰ کا بدلہ بہت بہتر ہے اس شخص کے لئے جو ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے اور یہ انہی کو دیا جائے گا) ۔ لا یلقٰی کا معنی اس کلمہ ثواب اللہ خیر کی تلقین دین پر ثابت قدم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اِلاَّ الصّٰبِرُوْنَ (مگر صبر کرنے والے) مگر وہ لوگ جو طاعات پر جمے رہنے والے اور شہوات سے باز رہنے والے اور اسی طرح دنیا کی زینت سے دور رہنے والے اور جو قلیل ان کی قسمت میں ہے اس پر صبر کرنے والے ہیں۔
Ayah 28:8181: فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ (پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا) ۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر وقت ایذاء پہنچاتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس قرابت نسبی کی وجہ سے مدارات فرماتے۔ یہاں تک کہ زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا۔ پس اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک ہزار دینار پر ایک دینار اور ہر ہزار درہم پر ایک درہم کی ادائیگی کا اقرار کر کے صلح کرلی۔ جب اس سے حساب نکالا تو اس کی مقدار بہت بڑھ گئی۔ اس کا نفس بخل پر آمادہ ہوا۔ اس نے بنی اسرائیل کو جمع کر کے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو تمہارا مال لینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا تم ہمارے بڑے ہو جو حکم دو ۔ ہم وہ تسلیم کریں گے۔
اس نے کہا ہم فلاں فاحشہ عورت کو معاوضہ دیتے ہیں۔ تاکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے ساتھ زنا کی تہمت لگائے۔ بنی اسرائیل نے اس بات میں شرکت سے انکار کردیا۔ مگر اس نے اس عورت کو۔ نمبر 1۔ ایک ہزار دینار پر آمادہ کرلیا۔ نمبر 2۔ سونے کا ایک تھال۔ نمبر 3۔ جس طرح اور جتنا وہ مانگے۔ جب عید کا دن آیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہو کر بنی اسرائیل کو وعظ فرمانے لگے۔ جو چوری کرے ہم اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے۔ جو افتراء باندھے ہم اس کو کوڑے لگائیں گے۔ جو زنا کرے اور وہ غیر شادی شدہ ہو۔ ہم اس کو کوڑے لگائیں گے اور اگر شادی شدہ ہو تو اس کو سنگسار کریں گے۔
قارون نے کھڑے ہو کر کہا۔ اگرچہ آپ ہی کیوں نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا خواہ میں ہی ہوں۔ اس نے کہا۔ بنی اسرائیل کا خیال ہے کہ تم نے فلاں عورت سے (نعوذ باللہ) بےحیائی کی ہے۔ وہ عورت سامنے بلائی گئی۔ آپ نے اس کو اس ذات باری تعالیٰ کی قسم دی جس نے سمندر کو پہاڑ اور تورات کو نازل فرمایا کہ تم سچ سچ کہو۔ وہ عورت بولی۔ قارون نے تم پر تہمت لگانے کے بدلے میرے لئے اتنا انعام مقرر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) روتے ہوئے سجدہ میں گرپڑے۔ اور عرض کیا یارب۔ اگر میں آپ کا رسول ہوں۔ تو آپ اس پر اس انتقام میں غضب نازل فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ تم زمین کو حکم دو وہ تمہاری تعمیل کرے گی۔ آپ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے قارون کی طرف اسی طرح بھیجا ہے جیسا فرعون کی طرف جو اس کا ساتھی ہے وہ اپنی جگہ رک جائے اور جو میرے ساتھ ہے۔ وہ اس سے علیحدگی اختیار کرلے۔ تمام مجمع سوائے دو آدمیوں کے اس سے الگ ہوگیا۔ پھر آپ نے زمین کو حکم دیا۔ ان کو پکڑ لو۔ ان کو زمین سے ایڑیوں تک پکڑ لیا۔ پھر آپ نے فرمایا اس کو پکڑ لو۔ زمین نے کمر تک ان کو دھنسا دیا۔ پھر فرمایا پکڑو۔ زمین نے گردن تک ان کو دھنسا دیا۔ قارون اور اس کے ساتھی موسیٰ (علیہ السلام) سے گڑ گڑا کر کہتے تھے اور ان کو اللہ تعالیٰ اور رحم کا واسطہ دیتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) شدت غضب کی وجہ سے ان کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے۔ پھر کہا۔ ان کو پکڑلے۔ زمین نے ان کو دبوچ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا۔ اس نے تم سے کئی مرتبہ فریاد کی مگر تو نے رحم نہ کیا۔ میری عزت کی قسم ! اگر وہ مجھ سے ایک مرتبہ رحمت طلب کرتا تو میں اس پر رحم کردیتا۔
بعض بنی اسرائیل نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اس لئے ہلاک کیا تاکہ اس کے مال پر قبضہ کرلے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے اس کے گھر اور خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا۔
فَمَا کَانَ لَہٗ مِنْ فِئَۃٍ (پس نہیں تھی کوئی جماعت اس کے لئے) ۔ یَنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (جو اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے) ۔ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ (اور نہ وہ ہوا بدلہ لینے والوں میں سے) جو موسیٰ (علیہ السلام) سے انتقام لیتے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روکنے میں مدد کرتے۔
عرب کہتے ہیں : نصرہ من عدوہٖ فانتصرای منعہ منہ فامتنع اس کو اس سے روکا پس وہ رک گیا۔
Ayah 28:8282: وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَہٗٗ (اور ہوگئے وہ لوگ جو تمنا کرتے تھے اس کے مرتبہ کی) ۔ اصبح یہاں صار کے معنی میں ہے اور مکانہ سے مراد دنیا میں اس کا مقام و مرتبہبِالْاَمْسِ (کل گزشتہ) ۔ یہ تمنوا کا ظرف ہے۔ اس سے مراد کل گزشتہ نہیں بلکہ قریب وقت سے کنایہ ہے۔ یَقُوْلُوْنَ وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ (اور کہنے لگے ارے ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کی روزی فراخ کرنا چاہتا ہے اپنے) وَیَقْدِرُ (بندوں میں سے وہ فراخ کردیتا ہے اور جس کی روزی نپی تلی کرنا چاہتا ہے نپی تلی کردیتا ہے) ۔
نحو : وَیْ علمائے بصرہ کے ہاں کَاَنَّ سے جدا ہے۔
سیبویہ کا قول :
وَیْ یہ کلمہ خطأ پر تنبیہ اور شرمندگی دلانے کے لئے آتا ہے۔ اس کو شرمندہ آدمی اظہار شرمندگی کے لئے لاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قوم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ کہ ہم نے یالیت لنا مثل ما اوتی قارون والی تمنا غلط کی اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے۔ لَوْلَا اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا (اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان نہ فرماتے) ۔ اس تمنا کو پھیر کر جو ہم نے کل گزشتہ کی تھی تولَخَسَفَ بِنَا (تو وہ ہمیں بھی دھنسا دیتا) ۔
قراءت : خَسَفَ ۔ دونوں فتحہ کے ساتھ حفص ‘ یعقوب وسہل نے پڑھا اور لَخُسِف۔ یہ حمزہ ٗ نسائی ٗ ابو عمرو ابن کثیر کی قراءت ہے۔ اس میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ وَیْکَاَنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ (ارے کیا تم نہیں جانتے کہ کافر فلاح نہیں پاتے) ۔ پھر کہنے لگے۔ ایسا لگتا ہے کہ کافر کامیاب نہیں ہوتے۔
Ayah 28:8383: تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ (یہ آخرت والا گھر ہم ان لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں بڑے بننے کے خواہاں نہیں ہوتے) ۔
نحو : تلک یہ دار آخرت کی تعظیم کے لئے اشارہ بعید استعمال فرمایا گیا۔ مطلب یہ ہے۔ تلک التی سمعت بذکرہا و بلغک وصفہا۔ وہ وہی تو ہے جس کا تذکرہ تم نے سنا اور اس کی تعریف معلوم ہوئی۔ یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبر نجعلہا ہے۔ اور الدار یہ مشارالیہ صفت ہے۔
عُلوًا سے مراد بغاوت و سرکشی یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ نمبر 2۔ یا ضحاک (رح) نے ظلم سے تفسیر کی۔
وَلَا فَسَادًا (اور نہ فساد) ۔ فساد سے معاصی پر عمل نمبر 2۔ قتل انفس نمبر 3۔ غیر اللہ کی عبادت کی طرف بلانا۔
نکتہ : آیت میں آخرت والے وعدے کو علو و فساد کے ترک سے معلق نہیں کیا بلکہ ان کے ارادہ کے ترک سے معلق فرمایا اور ان کی طرف میلان کے ترک سے متعلق کیا گیا جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا۔] ہود۔ 113[
پس حاصل یہ ہوا کہ علو کی وعید رکون اور جھکائو سے متعلق ہے۔
فرمانِ علی ؓ :
آدمی کو کبھی پسند آتا ہے کہ اس کے جوتے کا تسمہ دوسرے ساتھی سے عمدہ ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہوجائے گا۔
فرمانِ فضیل۔ :
نے اس آیت کو پڑھا پھر کہنے لگے۔ تمنائیں یہاں دم توڑ گئیں۔
عمر بن عبدالعزیز۔ :
موت کے وقت اس کو اپنی زبان پر دھراتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کی روح قبض ہوگئی۔
بعض علماء کا قول یہ ہے :
اس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور قارون کی پیروی سے نفرت اختیار کی جائے اور اس ارشاد کو تھامے رہے۔ ان فرعون علا فی الارض القصص۔ 4۔ ولا تبغ الفساد فی الارض۔ القصص۔ 77۔ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (اور اچھا انجام متقین کا ہے) ۔
Ayah 28:8484: مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا (جو شخص قیامت کے دن نیکی لائے گا۔ اس کو نیکی کی مقدار سے بہت زیادہ اچھا ملے گا) ۔ یہ آیت سورة النمل 89 میں گزر چکی۔
وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ (اور جو شخص برائی لایا ایسے لوگوں کو جو برے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا) ۔ ولا یجزی کا معنی فلا یجزون ہے۔ پس الذین عملوا السیئات ظاہر نائب فاعل کو ضمیر کی جگہ لائے۔ تاکہ برے اعمال کی اسناد ان کی طرف دوبارہ کر کے ان کی بدحالی اور تذلیل خوب ظاہر ہو اور سننے والوں کے دلوں میں برائی کی نفرت بڑھا دی جائے۔ اِلاَّ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (جتنا وہ کرتے تھے۔ مگر اسی کی مثل جو وہ کرتے رہے) ۔
فضل اللہ العظیم :
اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ملاحظہ فرمائیں کہ برائی و گناہ کی سزا تو اس کی مثل سے دی اور نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا اور اس سے بڑھا کر سات سو گنا کردیا۔ (اللہم متعنا بفضلک العظیم آمین)
Ayah 28:8585: اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْٰانَ (بیشک وہ ذات جس نے تم پر قرآن کو فرض کیا ہے) ۔ اس کی تلاوت کو تم پر لازم کردیا۔ اور اس کی تبلیغ اور عمل کو ضروری کردیا۔ لَرَآدُّکَ (وہ ضرور آپ کو لوٹانے والا ہے) ۔ موت کے بعدالٰی مَعَادٍ (لوٹنے کی جگہ کی طرف) ۔ کیا خوب وہ لوٹنے کی جگہ ہے جو اور کسی فرد بشر کو آپ کے علاوہ حاصل نہیں۔ اسی تفخیم کو ظاہر کرنے کے لئے نکرہ لائے۔ نمبر 2۔ مکہ مراد ہے۔ آپ کا فتح کے دن لوٹنا کیونکہ اس دن لوٹنا ایک خاص شان و عظمت کے ساتھ ہوگا مکہ والے مغلوب و مقہور ہوجائیں گے اور اسلام اور اہل اسلام کی عزت ظاہر ہوگی۔ شرک اور اہل شرک ذلیل ہوجائیں گے۔
یہ سورت اگرچہ مکیہ ہے۔ مگر یہ آیت جحفہ کے مقام پر اتری جو مکہ و مدینہ کے درمیان میں واقع ہے۔ اس وقت آپ کے قلب اطہر میں مکہ مکرمہ کا شوق موجزن تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے معاد (مکہ) کا وعدہ فرما لیا تو فرمایا۔
قُلْ رَّبِّیْ اَعْلَمُ مَنْ جَآئَ بِالْہُدٰی (آپ کہہ دیں میرا رب اس کو خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے) ۔ یعنی من سے مراد آپ کی ذات گرامی ہے ﷺ اور ان کو معاد میں کتنا بڑا ثواب ہے۔ وَمَنْ ہُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے) ۔ مراد اس سے مشرکین مکہ ہیں۔ اور جو ان کو شرک کے نتیجہ میں آخرت میں سزا ملے گی۔
نحو : مَنْ محل نصب میں ہے اس کا فعل یعلم مضمر ہے۔
Ayah 28:8686: وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْا اَنْ یُّلْقٰی (اور آپ کو تو کوئی امید بھی نہ تھی کہ آپ کو دی جائے گی) ۔ یلقی کا معنی وحی کرنا۔ اِلَیْکَ الْکِتٰبُ (کتاب یعنی قرآن مجید) اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ (مگر یہ تو محض آپ کے رب کی رحمت کی وجہ سے ہوا) ۔ یہ اس معنی پر محمول ہے کہ آپ کی طرف قرآن کی وحی آپ کے رب کی رحمت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ نمبر 2۔ الا کو لکن کے معنی میں لیا جائے۔ جو کہ استدراک کے لئے آتا ہے۔ یعنی لیکن تیرے رب کی رحمت کی وجہ سے آپ پر وحی کی گئی۔ لیکن تیرے رب کی رحمت کے لئے آپ پر وحی قرآن کی گئی ہے۔
فَلَا تَکُوْنَنَّ ظَہِیْرًا لِّلْکٰفِرِیْنَ (پس تم ہرگز کافروں کے مددگار و پشت پناہ مت بننا) ان کے دین میں ان کے مددگار ہرگز
نہ بنیں۔
Ayah 28:8787 : وَلَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ ٰایٰتِ اللّٰہِ ( اور وہ ہرگز نہ روکیں آپ کو اللہ کی آیات (پڑھنے یا عمل کرنے) سے) مراد اس سے جمع ہے یعنی یہ لوگ ہرگز آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل سے نہ روکیں۔ آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔
بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ (بعد اس کے کہ وہ آپ کی طرف اتاری جا چکی ہیں) یعنی قرآن کے نزول کے بعد اور اذ کی طرف اسمائے زمان کی اضافت کی جاتی ہے مثلاً حینئذ ‘ یومئذ۔
وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ (اور اپنے رب کی طرف بلاتے رہئے) یعنی اس کی توحید اور عبادت کی دعوت دیتے رہئے۔
وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (اور مشرکین میں سے نہ ہوجائیے)
Ayah 28:8888 : وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ (اور اللہ کے ساتھ کسی معبود کو مت پکارئیے) ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ خطاب بظاہر حضور ﷺ کو ہے اور مراد اس سے ہر وہ شخص ہے جس نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو اختیار کرلیا ہے نیز گناہوں سے معصوم ہونا اس کا متقاضی نہیں کہ گناہوں سے روکا نہ جائے اور لفظ اخر پر وقف ضروری ہے کیونکہ ملا کر پڑھنے کی صورت میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَکا جملہ انما ٰخر کی صفت بن جائے گا جس کا فاسد ہونا ظاہر ہے۔
کُلُّ شَیْئٍ ہَالِکٌ اِلاَّ وَجْہَہٗ (اور اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاکت پذیر ہے) ۔ وجہ سے اس کی ذات مراد ہے۔ وجہ سے تعبیر کی گئی ہے۔
قولِ مجاہد۔ :
الاوجہہ سے مراد علماء کا علم ہے۔ جب اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو۔ لَہُ الْحُکْمُ (اسی کے لئے حکم دینا خاص ہے) ۔ یعنی اس کا حکم مخلوق میں جاری ہے۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور تم اسی ہی کی طرف لوٹائے جائو گے) ۔
قراءت : یعقوب نے تَرْجِعُوْنَ پڑھا ہے۔
سورة القصص کی تفسیر کا ترجمہ آج بروز جمعرات
26 ذیقعد 1423ھ نماز عصر کی اذان کے وقت
اختتام پذیر ہوا والحمدللہ حمدًا لا منتہا لحمدہ