Ayah 28:3232: اُسْلُکْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ (تم اپنا ہاتھ داخل کرو اپنے قمیص کے گریبان میں وہ سفید ہو کر نکلے گا کہ سورج کی طرح اس کی شعاعیں ہوں گی) ۔ مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ (بغیر کسی بیماری کے) ۔ سوء سے مراد برص۔ وَاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہْبِ (اور خوف دور کرنے کے لئے تم اپنا بازو اپنی طرف ملا لینا) ۔ قراءت : الرہب۔ حجازی وبصری قراء نے دونوں فتحوں کے ساتھ پڑھا اور حفص نے الرَّہب پڑھا۔ دیگر قراء نے الرُّہب پڑھا ہے۔ تمام کا معنی خوف ہے۔ مطلب یہ ہوا۔ تم اپنا ہاتھ اپنے سینے کے ساتھ لگائو اس سے تمہارا خوف جاتا رہے گا۔ جو خوف سانپ کی وجہ سے ہوا۔
قول ابن عباس ؓ :
ہر ڈر والا جب اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لے تو اس کا خوف زائل ہوجاتا ہے۔
ایک قول :
ضمِ جناح کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لاٹھی کو سانپ بنادیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گھبرائے اور اس کو ہاتھ سے دور کیا۔ جیسا کہ کسی چیز سے خوف زدہ اس کو ہٹاتا ہے۔ انہیں کہا گیا۔ تمہارا ہاتھ سے اس کو دور کرنے میں دشمنوں کے ہاں کمزوری خیال کی جائے گی۔ پس تم جب لاٹھی کو ڈال چکو اور یہ سانپ بن جائے۔ تو اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے دبائو بجائے اس کے کہ سانپ کو اس سے ہٹائو۔ پھر اس کو نکالو تو سفید ہو کر نکلے گا تاکہ تجھے اس سے بیک وقت دو چیزیں حاصل ہوں۔ نمبر 1۔ جو چیز تمہاری کمزوری شمار ہوسکتی ہے اس سے بچت رہے گی اور یدبیضاء والا دوسرا معجزہ بھی ظاہر ہوجائے گا۔ الجَنَاحَ سے مراد ید ہے۔ کیونکہ انسانی ہاتھ پرندے کے دو پروں کی طرح ہیں۔ جب دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں بازو کے نیچے داخل کردیا تو گویا اس نے اپنا بازو اس سے ملا دیا۔
نمبر 2۔ ضم جناحہ الیہ سے مراد مضبوطی اور عصا کے سانپ بننے کے وقت ضبط نفس ہے۔ تاکہ آپ مضطرب نہ ہوں اور نہ ڈریں۔ استعارۃً پرندے کے فعل سے تعبیر کیا۔ کیونکہ جب اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اپنے پروں کو پھیلاتا اور ڈھیلا کرتا ہے ورنہ اس کے پَر تو ہر وقت اس کے ساتھ ملے ہوتے ہیں اور وہ پابرکاب ہوتا ہے۔
مِنَ الرَّہْبِ کا مطلب خوف کی وجہ سے۔ یعنی جب تمہیں سانپ دیکھ کر خوف پہنچے تو اپنے بازو کو اپنے ساتھ ملا لو۔ ضمِ جناح کا جو حکم ان کو دیا گیا تھا اس کے لئے سبب و علت رہب کو قرار دیا گیا۔ اب وَاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَکا معنی اور اسلک یدک فی جیبک کا معنی ایک ہوجائے گا۔ لیکن دو عبارتوں سے تعبیر اغراض کے مختلف ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ کیونکہ ایک کی غرض ہاتھ کا سفید ہو کر نکلنا ہے۔ اور دوسرے میں غرض خوف کو ختم کرنا اور ہلکا کرنا ہے۔ اور اضمم یدک الی جناح کا معنی سورة طٓہ میں یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ بائیں کے نیچے داخل کرلو۔
قراءت : فَذٰنِکَ یہ ذاک کا تثنیہ ہے تخفیف سے پڑھا گیا۔ مکی ٗ ابوعمرو نے تشدید سے پڑھا۔ اس صورت میں ذلک کا تثنیہ ہے۔ ایک نون دونوں میں سے لام محذوفہ کے بدلہ میں ہے۔ اور اس سے مراد ید بیضاء اور عصا ہے۔ بُرْہَانٰنِ (یہ دو دلیلیں ہیں) یہ دو روشن دلیلیں ہیں حجت کو برہان روشن ہونے کی بناء پر کہا۔ جیسے کہتے ہیں۔ سفید عورت کو بَرَہْرَہَۃٌ۔ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلاَپہٖ (تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا) ۔ یہ دو نشانات دیکر اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (بلاشبہ وہ فاسق قوم تھے) ۔ فاسق سے کافر مراد ہے۔
Ayah 28:3333: قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ (کہا اے میرے رب ! بیشک میں نے ان میں سے ایک جان کو قتل کیا۔ ) اَنْ یَّقْتُلُوْنِ (پس مجھے خطرہ ہے کہ وہ اس کی وجہ سے مجھے قتل کردیں گے) ۔ قراءت : یعقوب نے یاء سے پڑھا ہے۔
Ayah 28:3434: وَاَخِیْ ہٰرُوْنُ ہُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْئً ا (اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح ہے اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دیجئے) ۔ قراءت : حفص نے مَعِیَ پڑھا ہے۔ رِدْئً ا مددگار ٗ معاون ٗ کہا جاتا ہے ردأتہٗ ای اعنتہٗ : میں نے اس کی مدد کی۔ قراءت : بلا ہمزہ مدنی نے پڑھا ہے۔ یُصَدِّقُنِیْ (جو میری تصدیق کرے گا) ۔ قراءت : عاصم و حمزہ نے یصدقنی ردائً کی صفت قرار دیا۔ ای مصدقالی۔ ضمہ سے پڑھا۔ اور دیگر قراء نے جزم یُصدِقْنی پڑھا اور اَرْسِلْہٗ کا جواب قرار دیا۔
تصدیق کا مفہوم :
جھگڑے اور مناظرے کے مقامات میں ثبوت دعوی میں مزید وضاحت کی اگر ضرورت پیش آئے تو وضاحت کر کے دعویٰ کو مبرہن کر دے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر پر کہے صدقت۔ اس کی دلیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشاد ہو افصح منی لسانا فارسلہ معی سے ہو رہی ہے۔ فصاحت کا زائد ہونا بیان پختگی اور وضاحت کے لئے کام دے گا۔ صدقت کہنے کے لئے نہیں۔ کیونکہ صدقت کہنے میں تو سحبان وائل خطیب عرب اور باقل جیسا عاجز الکلام دونوں برابر ہیں۔ اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ (مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے) ۔ قراءت : یعقوب نے دونوں حالتوں میں یکذبون پڑھا ہے۔
Ayah 28:3535: قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ (فرمایا : ہم عنقریب تیرا بازو تیرے بھائی کے ساتھ مضبوط کردیں گے) ۔ اس کے ذریعہ تمہیں قوت دیں گے کیونکہ ہاتھ بازو کی مضبوطی سے مضبوط ہوتا ہے۔ کیونکہ ہاتھ کی طاقت وہی ہے اور تمام میں قوت ہاتھ کی مضبوطی کے باوجود معاملات کے تجربہ سے آتی ہے۔ وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطٰنًا (اور ہم تمہارے لئے غلبہ مقرر کردیں گے) سلطان غلبہ تسلط اور دشمنوں کے دلوں میں رعب کو کہا جاتا ہے۔ فَلاَ یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا بِاٰیٰتِنَآ (پس وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے) ۔ بایتنا یہ یصلون کے متعلق ہے۔ ای لا یصلون الیکما بسبب آیاتنا۔ نمبر 1۔ وہ ہماری آیات و معجزات کے سبب تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ بات پوری ہوئی۔ نمبر 2۔ تجعل کے متعلق کریں ای نسلّطکما بایاتنا ہم اپنی آیات سے تمہیں مسلط کریں گے۔
نمبر 3۔ محذوف کے متعلق ہے۔ ای اذہبا بآیاتنا تم دونوں ہماری آیات کے ساتھ جائو۔
نمبر 4۔ اس کو الغالبون کا بیان بنایا جائے نہ کہ صلہ۔
نمبر 5۔ باء کو قسم کے لئے قرار دیں لا یصلون جواب قسم مقدم ہے۔ ہمیں اپنی آیات کی قسم ہے یہ تم تک نہ پہنچ سکیں گے۔
اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَکُمَا الْغٰلِبُوْنَ (تم دونوں اور جو تمہارے پیروکار ہیں غلبہ پانے والے ہونگے) ۔
Ayah 28:3636: فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا (جب موسیٰ ان کے پاس ہماری واضح آیات لے کر آئے تو وہ کہنے لگے) یہ تو۔ مَا ہٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مُّفَْتَرًی (من گھڑت جادو ہے) ۔ بینات کا معنی واضح۔ سحر مفتری کا مطلب یہ کہ وہ سحر پہلے تو خود کرتا ہے۔ پھر اس کو جھوٹ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ ایسا جادو ہے جو تمام انواع سحر کی طرح افتراء کے ساتھ موصوف ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا معجزہ نہیں ہے۔ وَّمَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِیْ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ (اور ہم نے یہ اپنے پہلے آباء و اجداد میں سنا تک نہیں) ۔
نحو : فی آبائنایہ حال ہے اور ہذا کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای کائنا فی زمانہم۔ مطلب یہ ہے ہمیں تو نہیں بتلایا گیا کہ یہ ان کے زمانہ میں پایا جاتا ہو۔
Ayah 28:3737: وَقَالَ مُوْسٰی رَبِّیْ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآئَ بِالْہُدٰی مِنْ عِنْدِہٖ وَمَنْ تَکُوْنُ لَہٗٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ (اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ میرا رب ان کو خوب جانتا ہے۔ جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا اور کس کے لئے آخرت کا انجام ہے بیشک وہ کافروں کو کامیابی نہیں دیتا) ۔ مطلب یہ ہے کہ میرا رب تم سے بڑھ کر واقف ہے۔ کہ کس کو اس نے عظیم فلاح کا اہل بنا کر نبوت سے سرفراز فرمانا اور ہدایت سے نواز نا ہے اور اس نے حسن عاقبت کا وعدہ کرلیا۔ یعنی میں موسیٰ اگر بقول تمہارے میں ساحر و مفتری ہوتا تو وہ مجھے نبوت کے اہل قرار نہ دیتے کیونکہ وہ بےنیاز اور حکمت والے ہیں جھوٹوں کو نبوت نہیں دیتے اور نہ ہی ساحرین نبوت کے لائق ہیں۔ بلکہ یہ تو ظالم ہیں اور ظالم اس کے ہاں کامیابی کا اہل ہی نہیں۔
عاقبۃ الدار کا مطلب حسن انجام ہے جیسا اس ارشاد میں فرمایا۔ اولئک لہم عقبی الدار جنات عدن۔ ] الرعد۔ 22۔ 23۔[
دار سے مراد دنیا ہے اور اس کے انجام کا مطلب یہ ہے کہ خاتمہ رحمت و رضوان سے ہو اور فرشتے مغفرت و بشارت سے ملیں۔ قال موسٰی۔ مکی نے بغیر وائو پڑھا۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔ نمبر 1۔ کیونکہ موقعہ سوال و بحث ہے۔ جب ان لوگوں نے بڑی آیات کو سحر قرار دے کر ٹھکرا دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جوابًا یہ فرمایا۔ اس لئے وائو کی حاجت نہیں۔
نمبر 2۔ ان لوگوں نے یہ بات کہی کہ سحر مفتریٰ ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ دیکھنے والا دونوں باتوں میں فرق کرسکتا ہے اور ایک کی خرابی جانچ لے گا اور دوسرے کی درستی۔
قراءت : رَبِّیَ اعلم حجازی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے اور حمزہ و علی نے ومن یکون پڑھا ہے۔
Ayah 28:3838: وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓـاَ یُّہَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ (فرعون نے کہا اے سردارو ! مجھے اپنے سوا تمہارا کوئی معبود معلوم نہیں) ۔ نمبر 1۔ فرعون کا مقصد اپنے علاوہ کسی اور معبود کے متعلق علم کی نفی سے اس کے وجود کی نفی تھی۔ نمبر 2۔ یہ اپنے ظاہر پر ہے۔ کہ میرے علم میں اپنے سوا معبود نامعلوم ہے۔ فَاَوْ قِدْلِیْ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ (اے ہامان تم میرے لئے مٹی پر آگ جلائو) پکی اینٹیں تیار کرائو۔ اس نے یہ اس بناء نہیں کہا کہ پہلے اس سے کسی نے اینٹ بنائی نہ تھی۔ در حقیقت وہ اس کو اس تعبیر سے صنعت سکھا رہا تھا اور یہ جباروں کی گفتگو کے مناسب ومشابہ ہے۔ کیونکہ ہامان کو دوران مجلس نام لے کر یا ہامان کہہ کر آواز دینا اور اینٹیں پکانے کا کہنا یہ تکبر و بڑھائی کی علامت ہے۔ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا (تم میرے لئے ایک محل بنائو) ۔ صرح بلند محل کو کہتے ہیں۔ لَعَلِّیْ اَطَّلِعُ (تاکہ میں جھانکوں) ۔ اطلع یہ چڑھنے کے معنی میں ہے الطلوع والاطلاع۔ دونوں کا معنی چڑھنا ہے۔ اِلٰٓی اِلٰہِ مُوْسٰی (موسیٰ کے معبود کو) ۔ اس نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ کسی مکان میں ہے جیسا کہ وہ مکان میں ہے۔ وَاِنِّیْ لَاَظُنُّہٗٗ (اور بیشک میں اس کو گمان کرتا ہوں) ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو۔ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ (جھوٹوں میں سے) ۔ اپنے دعویٰ میں کہ اس کا ایک معبود ہے اور اسی نے اسے رسول بنا کر بھیجا۔ اس ذلیل نے ایک دوسری کے الٹ بات کہی۔ ایک طرف کہا : ماعلمت لکم من اٖلہٍ غیری۔ دوسری طرف ہامان کے سامنے اپنی حاجت پیش کی اور موسیٰ کے لئے ایک الہ کو ثابت کیا اور پھر کہا کہ اس کو اس کے جھوٹ پر یقین نہیں۔ گویا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا سے حفاظت کے لئے اس نے یہ تلبیس کا جال پھیلایا۔ اور کہا۔
لعلّی اطلع الی الہ موٰسی روایت میں ہے کہ ہامان نے پچاس ہزار معمار جمع کیے۔ اور ایک محل تعمیر کیا۔ اس کی بلندی کسی ایک مخلوق تک بھی نہیں پہنچ سکی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے محل پر پَر مارا اور اس کے تین ٹکڑے کردیے۔ ایک ٹکڑا فرعونی لشکر پر جا گرا جس سے ایک لاکھ فرعونی مرگئے اور ایک ٹکڑا سمندر میں جا گرا اور ایک ٹکڑا مغرب میں جا گرا جس سے اس کا سارا عملہ ہلاک ہوگیا۔
Ayah 28:3939: وَاسْتَکْبَرَ ہُوَ وَجُنُوْدُہٗ (اس نے اور اس کے لشکر نے تکبر کیا) ۔ اپنے آپ کو بڑا جانا۔ فِی الْاَرْضِ (سرزمین مصر میں) بِغَیْرِ الْحَقِّ (ناحق) اس لئے کہ سچی بڑھائی اللہ تعالیٰ کے لائق ہے۔ حقیقی متکبر وہی ہے۔ یعنی شان کبریائی میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں وارد ہے : ( الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری فمن نازعنی واحدًا منہما القیتہ فی النار) (احمد ٗ مسلم ٗ ابودائود) یعنی عظمت وکبریائی میرا ہی لباس ہے جو شخص بھی اس لباس کو کھینچ کر پہننا چاہے گا میں اس کو آگ میں پھینک دونگا۔ تمام متکبر برابر ہیں ان کا استکبار ناحق ہی ہے۔
وَظَنُّوْا اَنَّہُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ (اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہماری طرف لوٹائے نہ جائیں گے) ۔
قراءت : یرجِعُوْنَ ۔ نافع حمزہ ٗ علی ٗ خلف ٗ یعقوب نے پڑھا ہے۔
Ayah 28:4040: فَاَخَذْنٰہُ وَ جُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ (ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا) ۔ یہ جلال والی کلام ہے۔ جو اس کی عظمت شان کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کی تعداد کو قلیل تعداد سے تشبیہ دی اگرچہ وہ جم غفیر تھا ان کنکریوں سے جن کو ایک ہی مٹھی میں پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا جائے۔ فَانْظُرْ (پس دیکھیں) اے محمد ﷺ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ (ظالموں کا انجام کیسے ہوا) ۔ اور آپ اپنی قوم کو ڈرائیں بلاشبہ آپ کو ان کے مقابلہ میں غلبہ دیا جائے گا۔
Ayah 28:4141: وَجَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ (اور ہم نے ان کو گمراہوں کا پیشوا بنایا جو آگ کی طرف دعوت دینے والے تھے) ۔ الی النار سے اہل دوزخ والے کام۔
قول ابن عطاء :
ان کے دل سے توفیق اور انوار تحقیق چھین لئے۔ وہ اپنے نفوس کے اندھیروں میں پڑے سیدھے راستے کی طرف راہ پانے والے نہیں ہیں۔ اس میں دلالت ہے کہ افعال عباد کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔
وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ (اور قیامت کے دن ان کی امداد نہ کی جائے گی) ۔ عذاب سے بچنے کیلئے۔
Ayah 28:4242: وَاَتْبَعْنٰہُمْ فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً (اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی) رحمت سے دوری اور بعد میں ہم نے لازم کردیا۔
ایک قول یہ ہے :
ان کے بعد جو لوگوں کی لعنت ان کو پہنچتی ہے۔ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ہُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ (قیامت کے دن وہ بدحال لوگوں میں سے ہونگے) ۔ رحمت سے دور ہانکے ہوئے۔ نمبر 2۔ یا ہلاک کیے ہوئے۔ نمبر 3۔ چہروں کی سیاہی اور آنکھوں کی نیل گونی سے بدصورت۔ : نحو یوم یہ مقبوحین کا ظرف ہے۔
Ayah 28:4343: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَا اَہْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی (اور ہم نے موسیٰ کو تورات دی اس کے بعد کہ ہم نے پہلے زمانہ والوں کو ہلاک کیا) ۔ پہلے زمانہ والوں سے قوم نوح ٗ ہود ٗ صالح ٗ لوط (علیہم السلام) مراد ہیں۔
بَصَاپرَ لِلنَّاسِ (لوگوں کے لئے بصیرتیں بنا کر) ۔ یہ کتاب سے حال ہے۔ بصیرۃ۔ دل کا وہ نور جس سے ہدایت وسعادت نظر آتی ہے۔ جیسا کہ بصر آنکھ کی اس روشنی کو کہتے ہیں جس سے نظر آتا ہے۔
مراد یہ ہے کہ ہم نے دلوں کو روشن کرنے کے لئے تورات دی۔ کیونکہ وہ قوم اندھی تھی بصیرت نہیں رکھتی تھی اور نہ ہی حق و باطل کو پہچانتی تھی۔ وَہُدًی (اور رہنمائی) ۔ کیونکہ وہ گمراہی میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والے تھے۔ وَّرَحْمَۃً (اور رحمت) ۔ ان کے لئے جو اس کی اتباع کرے۔ کیونکہ جب وہ اس پر عمل کریں گے تو رحمت پانے کے حق دار ہوجائیں گے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں) ۔
Ayah 28:4444: وَمَا کُنْتَ (اور نہیں تھے آپ) اے محمد ﷺ ۔ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ (پہاڑ کی مغربی جانب) ۔ اس سے مراد وہ جگہ ہے جو مغربی جانب واقع تھی اور وہ وہی جگہ ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ وقت مقرر کیا گیا۔ اِذْ قَضَیْنَا اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ (جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے) یعنی اس سے کلام کی جیسا کہ دوسری آیت میں ہے وقربناہ نجیّا۔ ] سورة مریم آیت نمبر 52[
وَمَا کُنْتَ مِنَ الشّٰہِدِیْنَ (اور نہ آپ ان لوگوں میں تھے جو موجود تھے) وحی کے لئے تاکہ آپ بطور مشاہدہ کے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس معاملے کو جو اس موقعہ پر پیش آیا۔ مشاہدہ کرنے والوں میں سے ہوتے۔
Ayah 28:4545: وَلٰکِنَّا اَنْشَاْنَا (لیکن ہم نے پیدا کیا) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد۔ قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ (بہت ساری نسلیں پھر ان پر زمانہ دراز گزرا) یعنی ان کی عمریں لمبی ہوئیں اور نبوت کا انقطاع رہا اور خبریں قریب تھا کہ بالکل چھپ جائیں علوم مٹ گئے اور ان میں بہت ساری تحریفات ہوئیں ہم نے ان خبروں کی تجدید کے لئے انبیاء بھیجے اور جو تحریفات واقع ہوچکی تھیں ان کی وضاحت کی۔ انبیاء کے حالات کا علم ہم نے دیا۔ اور قصہ موسیٰ (علیہ السلام) گویا کہ اس طرح فرمایا گیا۔ نہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کا مشاہدہ کرنے والے تھے اور نہ ہی ان واقعات کا جو ان پر گزرے۔ لیکن ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور یہ سارے واقعات بتلائے اس آیت میں وحی کا سبب انقطاع کے زمانے کی طوالت قرار دیا گیا۔ اور اس سے سبب پر اختصار کے ساتھ خود روشنی پڑگئی۔ بس یہ لکناکا استدراک بعد والے دونوں استدراکوں کی طرح ہے۔ وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْ اَہْلِ مَدْیَنَ (اور آپ اہل مدین میں مقیم نہیں تھے) ۔ اہل مدین سے شعیب (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے مراد ہیں۔ تَتْلُوْا عَلَیْہِمْ ٰایٰتِنَا (کہ ہماری آیات ان کو پڑھ پڑھ کے سنا رہے ہوں) ۔ یعنی آپ وہاں کے حالات جان کر ان آیات کو پڑھ رہے ہوں۔ ان آیات سے مراد وہ ہیں جن میں شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ مذکور ہے۔
نحو : تتلوا یہ موضع نصب میں کنت کی خبرثانی ہے یا ثاویًا کی ضمیر سے حال ہے۔ وَلٰکِنَّا مُرْسِلِیْنَ (بلکہ ہم ہی بھیجنے والے ہیں) ۔ لیکن ہم نے آپ کو بھیجا اور آپ کو ان واقعات کی اطلاع دی اور آپ کو ان کا علم دیا۔
Ayah 28:4646: وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا (اور آپ طور کی جانب موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا) ۔ کہ اس کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ وَلٰکِنْ (لیکن) ۔ ہم نے آپ کو علم دیا اور آپ کو رسول بنایا۔ رَحْمَۃً (رحمت کی وجہ سے) ۔ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰہُمْ مِنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ (تیرے رب کی طرف سے تاکہ تم اس قوم کو ڈرائو۔ جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا) ۔ اس فترت کے زمانہ میں جو آپ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان گذرا۔ اور اس کی مقدار پانچ سو پچاس سال ہے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (تاکہ وہ نصیحت کو قبول کریں) ۔
Ayah 28:4747: وَلَوْلَآ اَنْ تُصِیْبَہُمْ مُّصِیْبَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ (اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر کوئی عذاب آپڑے گا) ۔ یہاں مصیبت سے عذاب اور سزا مراد ہے اور بما قدمت ایدیہم سے کفر و ظلم۔
نکتہ : اکثر اعمال میں ہاتھ چلتے ہیں۔ اس لئے اعمال کی نسبت ایدی کی طرف کردی اگرچہ کچھ اعمال کا تعلق دل سے بھی ہے گویا اکثر کو اقل پر غلبہ دیکر ایدی کا ذکر کردیا۔ فَیَقُوْلُوْا (پس وہ کہیں گے) ۔ عذاب کے وقت۔ رَبَّنَا لَوْلَآٓ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اے ربّ ہمارے تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیات کی اتباع کرتے اور مؤمنوں میں سے ہوجائے) ۔ نحو : پہلا لولا امتناعیہ ہے اور اس کا جواب محذوف ہے اور دوسرا لولا تحضیض کے لئے ہے اور پہلی فاء عاطفہ ہے اور دوسری لولا کے جواب میں آئی ہے۔ کیونکہ وہ امر کے حکم میں ہے۔ کیونکہ امر کی حقیقت فعل پر آمادہ کرنا ہے اور تحضیض بھی یہی ہے اور فاء جواب امر ہی میں آتی ہے اب مطلب یہ ہوگا اگر وہ یہ کہنے والے نہ ہوتے جبکہ ان کو عذاب دیا جاتا ان کی بداعمالیوں یعنی شرک و معاصی کی وجہ سے ہلا ارسلت الینا رسولا۔ آپ نے کیوں نہ ہماری طرف رسول بھیجا تاکہ وہ اس بات سے ہمارے خلاف حجت پیش کرتے۔ اسی لئے ہم نے ان کی طرف رسول بھیجا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ رسول کا موقعہ نہ رہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا لئلا یکون للناس علی اللّٰہ حجۃ بعد الرسل ] النساء آیت : 165[
سوال : یہ معنی کس طرح درست ہے جبکہ ارسال رسل کے لئے سبب عذاب کو قرار دیا گیا ہے نہ کہ قول کو کیونکہ لولا امتناعیہ اسی پر داخل ہے قول پر نہیں ؟
جواب : قول ہی تو اصل میں مقصود ہے کہ وہ ارسال رسل کا سبب بن سکے۔ لیکن سزا جب قول کی وجہ سے ہوئی تو گویا قول کا وجود خود سزا کے وجود سے ثابت ہوگیا۔ اسی لئے سزا کو گویا سبب ارسال کے طور پر ذکر کر کے اس پر لولا کو داخل کردیا گیا۔ اور قول کو اس پر عطف کر کے فاء سببیہ اس پر داخل کردیا۔ قول کے ساتھ اس کا معنی اس طرح بنے گا۔ ولولا قولہم ہذا اذا اصابتہم مصیبۃ لما ارسلنا۔ (یعنی مصیبت پہنچنے کے وقت اگر ان کا یہ کہنا نہ ہوتا تو ہم رسول نہ بھیجتے) ۔
Ayah 28:4848: فَلَمَّا جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا (جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر آگیا) ۔ حق سے مراد قرآن یا رسول جس کی تصدیق کتاب معجز سے کی گئی ہے۔ قَالُوْا (وہ کہنے لگے) ۔ یعنی کفار کہلَوْلَآ اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی (ان کو کیوں نہ دی گئی اسی کی مانند جو موسیٰ ( علیہ السلام) و دی گئی) ۔ یعنی ایک ہی دفعہ اترنے والی کتاب۔ اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا (کیا انہوں نے انکار نہیں کیا) ۔ یعنی انکے ابنائے جنس جن کے مذہب سے انکا مذہب ہے اور جن کے عناد سے ان کا عناد ہے اور مراد وہ کافر ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھے۔ بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ (جو موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے پہلے دیا گیا تھا) ۔ یعنی اس قرآن سے پہلے۔ قَالُوْا (انہوں نے کہا) موسیٰ اور ہارون کے بارے میں۔ سِحْرٰنِ تَظٰہَرَا (یہ دو جادوگر ہیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں) ۔
قراءت : سِحْرانِ ۔ یہ کوفی قراء کی قراءت ہے یعنی جادو والے۔ یا ان دونوں کو جادو کے ساتھ مبالغۃً موصوف قرار دیا گیا۔ ابن عامر ‘ ابن کثیر اور نافع نے ساحران پڑھا ہے۔
وَقَالُوْا اِنَّا بِکُلٍّ کٰفِرُوْنَ (اور وہ کہنے لگے ہم تو ان میں سے ہر ایک کے منکر ہیں) ۔
ایک قول یہ ہے :
اہل مکہ نے جس طرح قرآن اور محمد ﷺ کا انکار کیا۔ انہوں نے موسیٰ اور تورات کا بھی انکار کیا ہے کہتے ہیں موسیٰ اور محمد یہ دو جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ نمبر 2۔ تورات و قرآن یہ دو جادو ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کر رہے ہیں۔ یہ اس موقعہ کی بات ہے۔ جب کفار مکہ نے ایک وفد یہود کے ہاں روانہ کیا۔ تاکہ ان سے محمد ﷺ کے متعلق دریافت کریں۔ یہود نے ان کو اطلاع دی کہ یہ بات ان کی کتاب میں موجود ہے۔ وہ وفد قریش کے پاس یہود کی بات لے کر واپس ہوا تو قریش مکہ نے اس پر یہ گلفشانی کی کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ومعاون ہیں۔
Ayah 28:4949: قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ہُوَ اَہْدٰی مِنْہُمَآ (کہہ دیں اے محمد ﷺ تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی کتاب پیش کردو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو) ۔ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری اور جو مجھ پر نازل ہوئی۔ اَتَّبِعْہُ (تاکہ میں اس پر چلوں) ۔ نحو : یہ فأتوا کا جواب ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ وہ دونوں جادو ہیں۔
Ayah 28:5050: فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَہْوَآئَ ہُمْ (پھر اگر وہ آپ کی بات کو پورا کرسکیں تو سمجھ لیں کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشات کے پیرو ہیں) ۔ پھر اگر وہ زیادہ ہدایت والی کتاب لانے کے مطالبے کو پورا نہ کرسکیں تو تم سمجھ لو کہ ان پر الزام پورا ہوگیا اور ان کے پاس کوئی دلیل سوائے اتباع خواہشات کے باقی نہیں۔ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰہُ بِغَیْرِہُدًی مِّنَ اللّٰہِ (اور ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اپنی نفسانی خواہشات پر چلنے والا ہو بغیر اس کے کہ کوئی دلیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس ہو) ۔ یعنی اس سے بڑا کوئی گمراہ نہیں جس نے دین کے سلسلہ میں اپنی خواہشات کی اتباع کی۔ : بغیر ہدًی۔ یہ حال ہے۔ یعنی وہ مطیع ہو نہ کہ خواہشات کا پیرو۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ ظالم قوم کی راہنمائی کرنے والے نہیں) ۔
Ayah 28:51آیت 51: وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (تحقیق ہم نے کلام کو مسلسل ان پر اتارا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) ۔ التّوصیل۔ (بہت زیادہ ملنا اور بار بار ملنا) ۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید پے در پے اور مسلسل اترا ہے۔ اس میں وعدہ ٗ وعید ٗ قصص وعبر اور مواعظ موجود ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کر کے کامیاب ہوں۔
Ayah 28:5252: اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ (وہ لوگ جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی) ۔ ہٗ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف راجع ہے۔ ہُمْ بِہٖ (وہ اس قرآن پر) ۔ یُؤْمِنُوْنَ (ایمان لانے والے ہیں) ۔ نحو : ہم بہٖ ۔ یہ الذین کی خبر ہے۔ یہ آیت اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے ان کے متعلق اتری۔
Ayah 28:5353: وَاِذَا یُتْلٰی عَلَیْہِمْ (اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے) ۔ قَالُوْا اٰمَنَّا بِہٖٓ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ (وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی فرمانبرداری کرنے والے ہیں) ۔ قبلہ۔ یعنی قرآن مجید کے نزول سے پہلے۔ مسلمین کا مطلب دین اسلام پر تھے۔ حضرت محمد ﷺ پر یقین رکھتے تھے۔ انہ۔ یہ ایمان کی علت ہے۔ کیونکہ اس کا حق ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور قرآن اس لائق ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ انا کنا۔ یہ امنا کا بیان ہے۔ کیونکہ قریبی زمانے یا دور زمانے کا ایمان ہر دو کا احتمال ہے۔ پس انہوں نے خبر دی کہ ان کا ایمان قدیم اور پرانا ہے۔
Ayah 28:5454: اُولٰٓپکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا (ان لوگوں کو ان کا اجر دو مرتبہ دیا جائے گا اس سبب سے کہ انہوں نے صبر کیا) ۔ اس سبب کہ وہ ایمان بالتورات اور ایمان بالقرآن پر جمے رہے۔ نمبر 2۔ قرآن کے نزول سے پہلے وہ قرآن پر جو ایمان لائے تھے اس کے نزول کے بعد وہ اس پر جمے رہے۔ نمبر 3۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے مشرکین و یہود کی ایذائوں پر صبر کیا۔ وَیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ (اور وہ بھلائی سے برائی کو دفع کرتے ہیں) ۔ طاعت کے ذریعہ معصیت کو دور کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ حلم و حوصلے کے ذریعہ ایذاء برداشت کرتے ہیں۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ (اور جو روزی ہم نے دی اس میں سے خرچ کرتے ہیں) ۔ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
Ayah 28:5555: وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ (اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں) ۔ لغو : باطل ٗ مشرکین کی طرف سے گالم گلوچ۔ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا (تو وہ اس سے اعراض کرتے اور کہتے ہیں) ۔ ان لوگوں کو جو لغو گو ہیں۔ لَنَا اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ (ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے تم کو سلام ہو) ۔ ہماری طرف سے تم مطمئن رہو کہ ہم تمہاری لغویات کا مقابلہ اسی طرح کی لغویات سے نہیں کرسکتے۔ لَا نَبْتَغِی الْجٰہِلِیْنَ (اور نہ ہم جاہلوں کو چاہتے ہیں) یعنی جاہلوں سے میل جول اور ان کی صحبت نہیں چاہیے۔
Ayah 28:5656 : اِنَّکَ لاَ تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ (بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے) جس کو آپ پسند کریں۔ آپ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ جس کو اپنی قوم اور دیگر لوگوں میں چاہیں اسلام میں داخل کردیں۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے) ۔ جس میں چاہے ہدایت دینے کا فعل پیدا کر دے۔ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ (وہ ہدایت والوں کو خوب جانتے ہیں) ۔ جو ہدایت کو پسند کرے اور اس کو قبول کرے اور دلائل و آیات سے نصیحت حاصل کرے۔
زجاج (رح) :
نے فرمایا کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ کہ یہ ابوطالب کے متعلق اتریں اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اس نے اپنی موت کے وقت کہا۔ یا معشر بنی ہاشم۔ صدقوا محمدًا تفلحوا۔ اے ہاشمیوں تم محمد کی تصدیق کرو تو کامیاب ہوجائو گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ یا عمّ ! تأمرہم بالنصیحۃ لانفسہم وتدعہا لنفسک ! اے چچا ٗتم ان کو نصیحت کرتے ہو اور اپنے آپ کو چھوڑتے ہو ! تو خواجہ ابوطالب نے کہا۔ اے بھتیجے تو کیا چاہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ میں چاہتا ہوں کہ تو لا الہ الا اللہ کہہ دے۔ تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تیرے متعلق گواہی دے سکوں۔ اس نے کہا اے بھتیجے۔ میں جانتا ہوں کہ تو سچا ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے۔ کہ موت کے وقت اس نے بزدلی اختیار کی۔
ردِ معتزلہ :
یہ آیت معتزلہ کے اس قول کی تردید کرتی ہے کہ ہدایت صرف بیان کو کہتے ہیں۔ حالانکہ آپ نے بہت سے لوگوں کی راہنمائی فرمائی مگر وہ اپنے غلط انتخاب کی وجہ سے ایمان نہ لائے۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بیان کے بعد وہ چیز ہے جس کو ہدایت کہتے ہیں اور وہ ہدایت کا پیدا کرنا اور اس کے لئے توفیق وقدرت کا عطاء کرنا ہے اور آیت میں اسی کی نفی ہے۔
Ayah 28:5757: وَقَالُوْا اِنْ تَّتَّبِعِ الْہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّہُمْ حَرَمًا ٰامِنًا (اور انہوں نے کہا اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت پر چلیں گے تو ہم زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی) قریش نے کہا ہم جانتے ہیں کہ تو حق پر ہے۔ لیکن ہمیں خطرہ یہ ہے کہ لوگ تمہاری اتباع کریں اور عرب کی مخالفت مول لیں تو وہ ہمیں اس زمین سے نکال باہر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دلیل کا جواب پتھر سے دیا کہ ہم نے اس حرم میں ان کو ٹھکانہ دیا جس کا امن بیت اللہ پر موقوف ہے اور وہاں کے باسیوں کا امن بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے ہے۔ ہر طرف سے پھل وہاں کھینچے چلے آتے ہیں جبکہ وہ حالت کفر میں ہیں۔
پھر یہ کیسے درست ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں کے اچکنے کے لئے چھوڑ دے اور ان کے امن کو بھی چھین لے جب وہ حرمت بیت اللہ کے ساتھ حرمت اسلام کو جمع کرلیں۔ امن کی نسبت اہل حرم کی طرف حقیقی ہے اور حرم کی طرف مجازی۔
یُجْبٰٓی اِلَیْہِ (کھینچے چلے آتے ہیں) ۔ قراءت : مدنی ٗ یعقوب وسہل نے تُجبٰیپڑھا ہے۔ جمع کیے اور لائے جاتے ہیں۔ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْئٍ (ہر قسم کے پھل) ۔ کل سے مراد کثرت ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں واوتیت من کل شئی۔ ] النمل۔ 23[
رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا (ہماری طرف سے بطور رزق) ۔ رزقًا یہ مصدر ہے۔ کیونکہ یجبٰی الیہ کا معنی یرزق ہے۔ نمبر 2۔ یہ مفعول لہ ہے۔ نمبر 3۔ حال ہے ثمرات سے جبکہ اس کو بمعنی نرزق کے لیا جائے۔ تاکہ اس کو اضافت سے خاص کیا جائے۔ جیسا کہ نکرہ متخصصہ بالصفۃ کو منصوب کیا جاتا ہے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن ان کی اکثریت نہیں جانتی) ۔ یہ من لدنا کے متعلق ہے۔ یعنی ان میں سے بہت کم تعداد ایسی ہے جو کہ اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے رزق ہے۔ ان کی اکثریت جاہلوں کی ہے۔ جو اس کو جانتے ہی نہیں۔ اگر ان کو علم ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو خوف و امن کو بھی اسی کی طرف سے سمجھتے اور ایمان لانے پر اچک لیے جانے کا خطرہ ظاہر نہ کرتے۔
Ayah 28:5858: وَکَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ 0 بَطِرَتْ مَعِیْشَتَہَا (بہت سی ایسی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جو اپنے اسباب معیشت پر اتراتے تھے) ۔ اس میں اہل مکہ کے لئے تخویف ہے۔ کہ اس قوم کے برے انجام سے بچو جن کی حالت اللہ تعالیٰ کے انعامات کے سلسلہ میں انہی جیسی تھی۔ پھر انہوں نے نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کیا بلکہ نعمتوں کا مقابلہ تکبر سے کیا جس کے نتیجے میں ان کو ہلاک کردیا گیا۔ اہلکنا کی وجہ سے کم منصوب ہے۔ معیشتہا منصوب ہے اس لئے کہ حرف جر حذف کردیا گیا ہے ای فی معیشتہا۔ البطر۔ مالداری میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی حفاظت نہ کرنا۔
فَتِلْکَ مَسٰکِنُہُمْ (پس یہ ان کے مکانات ہیں) ۔ ان کے مکانات کے بقیہ آثار جن کو سفروں میں آتے جاتے وہ دیکھتے ہیں۔ جیسا قوم ثمود ‘ قوم شعیب ٗ وغیر ہم کے علاقے۔ لَمْ تُسکَنْ مِّنْ 0 بَعْدِہِمْ اِلاَّ قَلِیْلًا (ان کے بعد ان کے گھروں میں آبادی نہیں ہوئی مگر بہت قلیل) ۔ رہائش یعنی وہاں مسافر ٗ راستے سے گزرنے والا ایک دن یا ایک گھڑی ٹھہر جاتا ہے۔
نحو : لم تسکن یہ حال ہے۔ اور اس میں عامل اسم اشارہ ہے۔
وَکُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ (اور ہم ہی وارث ہوئے) ۔ ان مکانات کے جو ان کی رہائش کے تھے۔ یعنی ان میں ہمارے سوا کوئی تصرف نہیں کرسکتا۔
Ayah 28:5959: وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی (اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں) ۔ ہر زمانہ میں حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْ اُمِّہَا رَسُوْلاً (جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دے) ۔
قراءت : اُمِّہَا۔ میں ہمزہ کو کسرہ دیکر حمزہ ٗ علی نے پڑھا ہے۔ یعنی اس بستی میں جو اس کی جڑ و بنیاد ہے۔ یعنی اس کے اصل اور اعلی حصہ میں ایک رسول بھیج دیا تاکہ حجت لازم ہوجائے اور معذرت منقطع ہو۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور سابقہ قضاء میں یہ بات نہ تھی کہ زمین میں وہ کسی بستی کو ہلاک کرے یہاں تک کہ ام القریٰ یعنی مکہ میں رسول بھیجے کیونکہ زمین کو وہیں سے پھیلایا گیا۔ رسول سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ ٰایٰتِنَا (جو ان پر ہماری آیات پڑھے) ۔ آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔ وَمَا کُنَّا مُہْلِکِی الْقُرٰٓی اِلاَّ وَ اَہْلُہَا ظٰلِمُوْنَ (اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر اس وقت جبکہ وہاں کے رہنے والے ظلم کرنے والے ہوں) ۔ یعنی ہم نے ان کو انتقاماً ہلاک نہیں کیا۔ جب تک کہ وہاں کے رہنے والے اپنے ظلم کی وجہ سے عذاب کے مستحق نہیں بن گئے۔ ظلم سے مراد عناد اور کفر پر اصرار اور عذر نہ ہونے کے باوجود مکابرہ ہے۔
Ayah 28:6060: وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا سامان) اور اس کی وَزِیْنَتُہَا (زینت ہے) ۔ یعنی تمہارے پاس جتنے اسباب دنیا پائے جاتے ہیں۔ یہ صرف چند دن نفع اٹھانے اور زینت کرنے کے لئے ہے۔ اور وہ چند ایام اس فناء ہونے والی زندگی کی مدت ہے۔ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ (اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے) ۔ وہ اس کا ثواب ہے۔ خَیْرٌ (وہ بہت بہتر ہے) ۔ وہ ذاتی لحاظ سے اس سے بہت بہتر ہے۔ وَاَبْقٰی (اور وہ باقی رہنے والا ہے) ۔ کیونکہ وہ دائمی ہے۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ (کیا تم عقل نہیں رکھتے ہو) کہ باقی فانی سے بہتر ہے۔
قراءت : ابوعمرو نے یاء اور تاء دونوں میں اختیار دیا ہے۔ اور باقی قراء نے تاء ہی کو پڑھا ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا اور اس کے رہنے والوں کی تین اقسام کردیں۔ نمبر 1۔ مؤمن۔ نمبر 2۔ منافق۔ نمبر 3۔ کافر۔ پس مومن تو آخرت کا زاد راہ لیتا ہے اور کافر خوب عیش اڑاتا ہے اور منافق زیب وزینت کرتا ہے۔ پھر اس آیت کو دوبارہ لائے۔
Ayah 28:6161: اَفَمَنْ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَنًا (کیا وہ شخص جس سے ہم نے پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے) ۔ یعنی جنت۔ کیونکہ اس سے زیادہ خوبصورت کوئی شئی نہیں اس لئے کہ وہ دائمی ہے۔ اسی لئے جنت کو الحسنٰی فرمایا گیا۔ فَہُوَ لَا قِیْہِ (پس وہ اس کو پانے والا ہے) ۔ دیکھے گا ٗ پالے گا ٗ اس تک پہنچ جائے گا۔ کَمَنْ مَّتَّعْنٰہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ ہُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو دنیوی فوائد سے نوازا ہو۔ پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں سے ہو جن کو پکڑ کر حاضر کیا جائے گا) ان لوگوں میں سے جن کو آگ پر حاضر کیا جائے گا اور دوسرے موقع پر فرمایا۔ فکذبوہ فانہم لمحضرون۔ ] الصافات۔ 127[
نحو : نمبر 1۔ یہ رسول اللہ ﷺ اور ابوجہل لعین کے متعلق اتری۔
نمبر 2۔ علی و حمزہ اور ابوجہل کے سلسلہ میں۔
نمبر 3۔ ہر مومن و کافر کے متعلق۔
فائے اوّل کا معنی یہ ہے۔ جب دنیا کی زندگی اور عقبیٰ کی نعمتوں کا فرق ذکر کیا تو اس کے بعد افمن وعدناہ لائے۔ مطلب یہ ہوا کہ اتنے بڑے واضح فرق کے بعد جو دنیا کے پرستاروں اور حق پرستوں میں پایا جاتا ہے۔ پھر کوئی شخص دونوں کو برابر قرار دے سکتا ہے۔
فائے دوم سببیہ ہے۔ کیونکہ موعود کا ملنا یہ وعدے کا مسبب ہے۔ ثم تراخی کے لئے لائے کیونکہ احضار کی حالت تمتیع کی حالت نفع اندوزی سے متاخر ہے۔
قراءت : علی نے ثم ہو پڑھا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے عَضُدٌ عَضْدٌ ضمیر منفصل کو متصل کے مشابہ قرار دیا۔
Ayah 28:6262: وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ (اور اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ ان کو پکار کر فرمائے گا) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پکارنا کفار کو ندائے توبیخ ہوگی۔
نحو : نمبر 1۔ اس کا عطف یوم القیامۃ پر ہے۔ نمبر 2۔ اذکر محذوف سے منصوب ہے۔
فَیَقُوْلُْ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ (پس فرمائیں گے میرے وہ شریک کہاں ہیں) ۔ جن کو تم اپنے گمان کے مطابق میرا شریک قرار دیتے تھے۔ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْن (جن کو تم خیال کرتے تھے) ۔
نحو : تزعمون کے دونوں مفعول محذوف ہیں۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ کنتم تزعمونہم شرکائی۔ اور ظننت کے باب میں دونوں مفعولوں کا حذف تو جائز ہے۔ مگر ایک پر اکتفاء جائز نہیں۔
Ayah 28:6363: قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ (اور وہ لوگ کہیں گے جن پر اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوچکی ہوگی) ۔ نمبر 1۔ شیاطین نمبر 2۔ کافروں کے لیڈر۔ حق علیہم القول کا مطلب یہ ہے کہ قول کا مقتضی ان پر لازم ہوجائے گا اور وہ اس ارشاد میں ہے۔ لأملان جہنم من الجنۃ والناس اجمعین ] السجدہ۔ 13[
رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا (اے ہمارے رب یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکا دیا تھا) ۔ یعنی ان کو شرک کی طرف بلایا۔ اور گمراہی کو ان کے لئے مزین کیا۔
نحو : الذین اغوینا۔ یہ مبتدأ ہے۔ موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے اور اس کی خبراغْوَیْنٰہُمْ ہے۔ کَمَا غَوَیْنَا کاف مصدر محذوف کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ اغویناہم فغو واغیًّا مثل ماغوینا۔ ان کا مقصد یہ ہوگا کہ ہم نے بھی اپنے اختیار سے ان کو گمراہ کیا اور یہ اپنے اختیار سے گمراہ ہوئے کیونکہ ہمارا اغواء تو وسوسہ اندازی اور تسویل کی حد تک تھا پس ان کی اور ہماری گمراہی میں کوئی تفاوت نہیں ہے اور اگر ہماری تزیین و تسویل دعوت کی صورت میں تھی تو دوسری طرف اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی تو ایمان کی دعوت موجود تھی جس میں عقلی دلائل اور نقلی دلائل اور کتب منزلہ سب کچھ موجود تھیں اور یہ بالکل شیطان لعین کے اس اقرار کی طرح ہے۔ جو سورة ابراہیم آیت 22 میں گزرا۔
وقال الشیطان لما قضی الامران اللّٰہ وعدکم وعدالحق الی قولہ ولوموا انفسکم۔
تَبَرَّاْنَآ اِلَیْکَ (ہم ان سے تیری بارگاہ میں بیزاری کا اظہار کرتے ہیں) ۔ اس سے اور اس کفر سے جس کو انہوں نے اختیار کیا۔ مَا کَانُوْا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ (وہ ہماری عبادت نہ کرتے تھے) بلکہ اپنی خواہشات کے پیرو اور اپنی شہوات کے اطاعت گزار تھے۔
نحو : یہ دونوں جملے حرف عطف سے خالی ہیں کیونکہ یہ جملہ اولیٰ کے معنی کو پختہ کرنے کے لئے لائے گئے ہیں۔
Ayah 28:6464: وَقِیْلَ (مشرکین کو کہا جائے گا) ۔ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ (تم اپنے شرکاء کو پکارو ! ) اپنے اصنام کو پکارو تاکہ وہ تمہیں عذاب سے چھوڑائیں۔ فَدَعَوْہُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہُمْ (پس وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ جواب نہ دیں گے) ۔ لم یستجیبوا بمعنی لم یجیبوا ہے۔ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّہُمْ کَانُوْا یَہْتَدُوْنَ (اور وہ عذاب کو دیکھیں گے اگر وہ ہدایت یاب ہوچکے ہوتے) ۔ لو کا جواب محذوف ہے۔ ای لما راوا العذاب۔ (اگر وہ ہدایت یافتہ ہوتے تو آج عذاب کو سامنے نہ دیکھتے) ۔
Ayah 28:6565: وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَٓا اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ (اور اس دن کو یاد کرو جس دن ان کافروں سے پکار کر پوچھا جائے گا۔ کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا) ۔ وہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے۔ اولا اللہ تعالیٰ نے شرکاء بنانے پر توبیخ کی پھر شیاطین کا مقولہ نقل کیا۔ یا کفر کے مقتدر سرداروں کا مقولہ ان کی توبیخ کے وقت نقل کیا۔ کیونکہ جب ان کو معبودانِ باطلہ کی عبادت پر توبیخ کی جائے گی تو یہ معذرت پیش کریں گے کہ شیاطین نے ان کو اغواء کیا ہے۔ پھر ان کو معبودان باطلہ کے اغواء کرنے پر شماتت کے انداز میں بات فرمائی۔ اور ان کی نصرت سے عاجزی کا تذکرہ کیا۔ پھر ارسال رسل اور وضاحت علل و اسباب کا احتجاج ان کے خلاف پیش کیا جائے گا۔ جس سے وہ لاجواب ہوجائیں۔
Ayah 28:6666: فَعَمِیَتْ عَلَیْہِمُ الْاَنْچبَآئُ یَوْمَپذٍ (ان پر خبریں اس دن گم ہوجائیں گی) ۔ الانباء سے دلائل۔ نمبر 2۔ اطلاعات مراد ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
ان پر جواب مخفی ہوجائے گا۔ وہ نہ جانیں گے کہ کیا جواب دیں اس لئے کہ ان کے پاس جواب ہوگا ہی نہیں۔
فَہُمْ لَا یَتَسَآئَ لُوْنَ (پس وہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ نہ سکیں گے) نہ دلیل اور نہ عذر کوئی چیز بھی پوچھ نہ سکیں گے۔ اس امید سے کہ اس کے پاس شاید عذر ٗ حجت مل جائے۔ کیونکہ وہ تمام جواب کے سلسلہ میں عاجزی میں برابر ہونگے۔
Ayah 28:6767: فَاَمَّا مَنْ تَابَ (پھر وہ شخص جس نے توبہ کرلی) ۔ شرک سے۔ وَ ٰامَنَ (اور وہ ایمان لے آیا) ۔ اپنے رب پر اور جو کچھ اس کی طرف سے آیا۔ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰٓٓی اَنْ یَّکُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ (اور نیک عمل کیے تو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والے لوگوں میں سے ہوگا) ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب ہوگا۔
نحو : عسٰی کا لفظ معززین کی طرف سے ثبوت و وقوع کے لئے ہوتا ہے۔ اس میں ایمان والوں کے اسلام لانے پر عظیم
بشارت دی گئی ہے اور کافروں کو ایمان کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
Ayah 28:6868: یہ لولا نزل ہذا القرآن علی رجلٍ من القریتین عظیم (الزخرف : 31) جو ولید بن مغیرہ نے کہا تھا۔ رجل سے اپنی ذات یا ابو مسعود ثقفی مراد لے رہا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔
وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ (اور آپ کا رب جس چیز کو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے) ۔
نحو : اس میں دلالت ہے کہ افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔
قراءت : ویختارُ پر وقف ہے۔ یعنی اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور آپ کا رب جو چاہتا ہے چنتا ہے۔ تقدیر کلام : وربک یخلق مایشاء وربک یختار مایشائُ ۔
مَاکَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ (ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے) ۔ یعنی ان کو کچھ بھی اختیار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کو اختیار کریں۔ اور اس کو ہی ان پر اختیار حاصل ہے۔
عاطف ماکان لہم الخِیَرَۃ میں داخل نہیں کیونکہ وہ ویختار کا بیان ہے۔ کیونکہ آیت کا معنی یہ ہے۔
ان الخیرۃ للّٰہ۔ (کہ اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے) ۔ وہ اپنے افعال میں حکمت کی جوانب سے خوب واقف ہے۔ فلیس لاحدٍ من خلقہٖ ان یختار علیہ۔ اس کی مخلوق میں سے کسی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کسی چیز کو اختیار کرے۔
اہم تنبیہ :
جنہوں نے ویختار میں وصل کیا ہے اور یہ معنی لیا۔ ویختار الذی لہم فیہ الخیرۃ۔ اور وہ اس کو چنتا ہے جس میں ان کو اختیار ہے۔ اس نے حق سے بعید بات کہی۔ بلکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ ما تو مخلوق کے اختیار کی نفی کے لئے لایا گیا ہے۔
ایک اور غلطی کی تردید :
جنہوں نے اس کا معنی یہ کیا ویختار للعبادماہو خیرلہم واصلح۔ اور وہ بندوں کے لئے وہ چنتا ہے جو کہ ان کے لئے بہت بہتر اور اصلح ہوتا ہے۔ یہ معتزلہ کے قول کی ترجمانی ہے الخیرۃ کا لفظ یہ التخییر سے لیا گیا ہے۔ یہ مصدر کے معنی میں مستعمل ہے۔ اور المتخیر کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جیسا کہ اہل عرب کا قول ہے۔ محمد خیرۃ اللّٰہ من خلقہ۔ یہاں مفعول ہی کا معنی ہے۔ سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (اللہ تعالیٰ پاک اور بلندو برتر ہیں ان تمام شرکاء سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے بری ہے۔ وہ اس سے منزہ اور پاک ہے کہ کسی کو اس کے خلاف چنائوکا اختیار حاصل ہو۔
Ayah 28:6969: وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ (اور آپ کا رب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں) ۔ تکن کا معنی چھپانا ہے۔ اور سینوں میں وہ چھپانے والی بات عداوت اور حسد ِرسول اللہ ﷺ تھا۔
وَمَا یُعْلِنُوْنَ (اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں) ۔ ان کے متعلق طعنہ زنیاں کہ ان کے علاوہ نبوت کے لئے اور کسی کو منتخب کیوں نہ کیا۔
Ayah 28:7070: وَہُوَ اللّٰہُ (اور وہی اللہ تعالیٰ ) الوہیت میں خاص اور سب پر قابل ترجیح ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ (اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) ۔ یہ ماقبل کی تقریر ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ الکعبۃ القبلۃ لا قبلۃ الاہی۔ یہ پچھلا جملہ تاکید و تقریر ہے۔ لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاَرضِ (اور اسی ہی کیلئے تعریف ہے دنیا میں) وَالْاٰخِرَۃِ (اور آخرت میں) اور وہ دوسرے مقام پر اس طرح مذکور ہے۔ الحمدللّٰہ الذی اذہب عنا الحزن۔] فاطر۔ 34[
ایک اور مقام پر فرمایا۔ الحمدللّٰہ الذی صدقنا وعدہ۔ ] الزمر۔ 74[
ایک مقام پر ارشاد ہوا۔ وقیل الحمدللّٰہ رب العالمین۔ ] الزمر۔ 75[
مسئلہ : جنت میں حمد وثناء بطور لذت کے ہوگی بطور امر تکلیفی کے نہ ہوگی۔ (جیسا کہ دنیا میں امر تکلیفی ہے) ۔
وَلہُ الْحُکْمُ (اور فیصلہ اسی ہی کے لئے ہے) ۔ بندوں کے مابین فیصلہ کرنا۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور اسی ہی کی طرف تم لوٹائے جائو گے) ۔ دوبارہ اٹھا کر کے۔
Ayah 28:71قراءت : یعقوب نے تَرْجِعُون پڑھا ہے۔
71: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (کہہ دیں ذرا دیکھو تو سہی) ۔
قراءت : علی نے حذف ِہمزہ سے پڑھا ہے۔ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (اگر اللہ قیامت کے دن تک مسلسل رات ہی رات بنا دے) ۔ تو اللہ تعالیٰ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآئٍ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ (کے سوا کوئی معبود ہے۔ جو تمہارے لئے روشنی لے آئے گا کیا تم نہیں سنتے) ۔
نحو : سرمَدًا یہ جعل کا مفعول ثانی ہے۔ معنی دائمًا۔ ہمیشہ ہے یہ لفظ اسرد سے ماخوذ ہے۔ اور اس کا معنی مسلسل ہے۔ عرب کہتے ہیں۔ الا شہر الحرم ثلاثۃ سرد و واحد فرد۔ یہ صیغہ مبالغہ ہے اور میم زائد ہے۔ اس کا وزن فَعْمَلْ ہے۔ من الہ الایۃ کا مطلب یہ ہے کہ مجھے بتلائو ذرا کون اس کی قدرت رکھتا ہے۔