Ayah 29:4141: مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَ (اور حالت ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا رکھا ہے) یعنی معبود۔ مثال اس کی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو ضعف اور سوء اختیار میں شریک ٹھہراتے ہیں۔ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا (مکڑی جیسی مثال ہے۔ جس نے گھر بنایا) ۔ یعنی اس میں جو وہ اپنے لئے گھر بناتی ہے۔ یہ گھر گرمی و سردی کو دور نہیں کرسکتا اور نہ اس سے ان چیزوں سے بچا جاسکتا ہے۔ جن چیزوں سے دوسرے گھروں کے ذریعہ بچا جاتا ہے۔ پس اسی طرح بت ان کو دنیا و آخرت میں فائدہ نہیں دے سکتے۔
نحو : حاتم نے اتخذت کو حال قرار دیا ہے۔
وَاِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ (اور بیشک گھروں میں سب سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہے) ۔ کوئی گھر اس کے گھر سے زیادہ کمزور نہیں۔ قول علی ؓ : حضرت علی ؓ فرماتے ہیں۔ اپنے گھروں کو مکڑی کے جالے سے پاک رکھو اس کا چھوڑنا فقر لاتا ہے۔ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (کاش کہ وہ جانتے ہوتے) ۔ یہ ان کی مثال ہے۔ ان کے دین کا معاملہ کمزوری کی اس انتہاء کو پہنچنے والا ہے۔
ایک قول یہ ہے :
کہ آیت کا مطلب اس طرح ہے اس مشرک کی مثال جو بت کی پوجا کرتا ہے۔ اس مومن کے مقابلہ میں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔ مکڑی جیسی ہے جو اپنا گھر بناتی ہے۔ اس آدمی کے بالمقابل جو اپنا گھر اینٹ اور چونے سے بناتا ہے۔ نمبر 2۔ پتھروں سے کھود کر بناتا ہے۔ جیسا کہ تم ایک ایک گھر کا گھروں میں استقراء کرو تو سب سے کمزور گھرمکڑی کا ہے۔ اسی طرح اگر تم سوچ و بچار کرو اور ایک ایک دین کا تقابلی مطالعہ کرو تو بتوں کی عبادت سب سے کمزور ترین نکلے گی۔
لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (کاش کہ وہ جان لیتے) ۔
قولِ زجاج (رح) :
ایک جماعت کے ساتھ ہے۔ کہ تقدیر آیت یہ ہے : مثل الذین اتخذوا من دون اللّٰہ اولیاء لوکانو یعلمون کمثل العنکبوت۔ (مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کارساز بنا لئے کاش کہ وہ جان لیں مکڑی جیسی مثال ہے) ۔
Ayah 29:42آیت 42: اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ جن کو وہ پکارتے ہیں) ۔ قراءت : بصری و عاصم نے سوائے اعشیٰ و برجمی کے یاء سے پڑھا ہے۔
نحو : ما الذی کے معنی میں ہے۔ اور یہ یعلم کا مفعول ہے۔ اور یدعون کا مفعول مضمر ہے۔ ای یدعونہ یعنی وہ اس کی عبادت کرتے ہیں۔ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ (اس کے سوا یعنی کوئی چیز بھی ہے) ۔
نحو : مِن یہ بیانیہ ہے۔
وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (وہ زبردست حکمتوں والے ہیں) ۔ وہ ایسا غالب ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ایسی حکمتوں والا ہے کہ جلد سزا نہیں دیتا۔
اس میں ان کی جہالت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس طرح کہ انہوں نے جماد کی عبادت کی جس کو کچھ علم نہیں اور نہ ہی قدرت ہے۔ اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والے زبردست کی عبادت کو چھوڑ دیا۔ الحکیم اس کو کہتے ہیں جو بلا حکمت و تدبیر کوئی کام نہ کرے۔
Ayah 29:4343: وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ (یہ مثالیں) ۔ نَضْرِبُہَا (ہم ان کو بیان کرتے ہیں) ۔ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کرتے ہیں۔
نحو : تلک الامثال مبتدأ اور نضربہا اس کی خبر ہے۔
لِلنَّاسِ (لوگوں کے لئے) ۔ قریش کے سفہاء و جہلاء کہتے کہ محمد ﷺ کا رب تو مکھی اور مچھر کی مثال بیان کرتا ہے۔ وہ ان مثالوں سے ہنستے۔ اسی لئے فرمایا۔ وَمَا یَعْقِلُہَآ اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ (اور ان کو وہ سمجھتے ہیں جو سمجھ والے ہیں) ۔ ان مثالوں اور اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کو سمجھ والے سمجھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ ان کی صحت و خوبی کو جانتے اور اس کے فوائد سے سمجھ بوجھ والے واقف ہیں۔ کیونکہ امثال اور تشبیہات وہ تو مخفی معانی کی طرف جانے والے راستے ہیں۔ تاکہ وہ ظاہر ہوجائیں اور ان کا تصور فہموں میں آجائے جس طرح یہ مثال مشرک و موحد کی حالت کو جدا کر رہی ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ کہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا : عالم وہ ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ پائی ہو اور اس کی اطاعت پر چلا اور اس کی ناراضگی سے پرہیز کیا۔ ذکرہ الجوزی فی الموضوعات۔
فائدہ : یہ آیت بتلا رہی ہے کہ علم عقل سے افضل ہے۔
Ayah 29:44آیت 44: خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا) ۔ حق کے لئے یعنی ان کو باطل نہیں بنایا بلکہ اس میں حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ زمین اس کے بندوں کا مسکن بنے اور عبرت والوں کے لئے عبرت ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی دلیل ہو۔ کیا تم اس ارشاد کو نہیں دیکھتے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک اس میں البتہ ایمان والوں کے لئے نشانی ہے) ۔ ایمان والوں کو خاص اس لئے کیا گیا کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔
Ayah 29:4545: اُتْل مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ (پڑھیے اس کو جو آپ کی طرف کتاب وحی کے ذریعہ بھیجی گئی ہے) ۔ تاکہ اس کے کلام کی تلاوت سے اس کا قرب حاصل ہو۔ اور تاکہ اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی سے تمہیں واقفیت حاصل ہو۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ (اور تم نماز قائم کرو) ۔ اقامت ِصلاۃ پر مداومت اختیار کرو۔
نماز برائی سے روک :
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ (بلاشبہ نماز بےحیائی سے روکتی ہے) ۔ الفحشاء۔ (زنا جیسے برے کام) ۔ وَالْمُنْکَرِ (اور بری باتیں) ۔ جن کو عقل و شرع برا قرار دے۔
ایک قول :
جو نماز کی نگہبانی کرنے والا ہو ایک نہ ایک دن وہ اسے اپنی طرف کھینچ لے گی۔
رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے۔ کہ ایک دن آپ ﷺ سے عرض کیا گیا۔ کہ فلاں شخص دن کو نماز پڑھتا ہے اور رات کو چوری کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا اس کی نماز اس سے اس کو روک دے گی۔ (رواہ احمد ٗا بن حبان) ۔ روایت میں ہے کہ ایک انصاری آپ کے ساتھ نمازیں پڑھتا اور ہر برا کام بھی کر گزرتا۔ آپ کو اس کی حالت ذکر کی گئی۔ تو آپ نے فرمایا۔ ان صلاتہ سیمنعہا۔ زیادہ عرصہ نہ گزرنے پایا تھا کہ اس نے توبہ کرلی۔
قول ابن عوف :
ان الصلاۃ تنہٰی کا مطلب یہ ہے۔ کہ جب تم نماز میں مشغول ہو تو تم نیکی وطاعت میں ہوتے ہو۔ اس وقت نماز نے تمہیں بےحیائی اور برائی سے روک دیا ہے۔
قول حسن (رح) :
جس کی نماز اس کو بےحیائی اور منکرات سے خبردار نہیں کرتی اس کی نماز نماز ہی نہیں۔ وہ اس پر وبال ہے۔
وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ (اور البتہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑا ہے) ۔ یعنی نماز دیگر طاعات سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہاں ولذکر اللّٰہ فرمایا۔ تاکہ بیان علت سے وہ مستقل ہوجائے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ الصلاۃ اکبر لانہا ذکر اللّٰہ۔ (نماز بہت بڑی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کا ذکر ہے) ۔
قول ابن عباس
ولذکر اللّٰہ ایاکم برحمتہ اکبر (البتہ اللہ تعالیٰ کا تمہیں اپنی رحمت کے ساتھ یاد کرنا بہت بڑا ہے) اس سے کہ تم اپنی اطاعت و عبادت سے اس کو یاد کرو۔
قول ابن عطاء
اللہ تعالیٰ کا تمہیں ذکر کرنا تمہارے اس کا ذکر کرنے سے بہت بڑا ہے۔ نمبر 1۔ کیونکہ ان کا یاد کرنا بلاسبب ہے اور تمہارا ذکر اسباب و تمنائوں سے ملا ہوا ہے۔ نمبر 2۔ اور اس سے بھی کہ اس کا ذکر فناء نہ ہونے والا اور تمہارا ذکر باقی نہ رہنے والا ہے۔
قول سلمان
اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر چیز سے بڑا اور افضل ہے۔
قول کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر اعمال کی خبر نہ دے دوں۔ اور وہ نہ بتلا دوں جو تمہارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ اور درجات کے اعتبار سے بلند تر ہے۔ اور سونا چاندی صرف کرنے سے بہتر اور دشمن کا مقابلہ کر کے ان کی گردنیں مارنے اور اپنی گردنیں کٹانے سے اعلیٰ ہے۔ صحابہ ؓ نے سوال کیا وہ کیا ہے یارسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ (رواہ ابن الشاہین۔ کنز العمال)
نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر اس سے بڑھ کر ہے کہ جس کو تمہارے فہم اور عقلیں سما سکیں۔ نمبر 3۔ ذکر اللہ اس سے بڑھ کر ہے کہ دوسرے کو فحشاء ومنکر سے روکو۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو) ۔ یعنی خیر وطاعت پس وہ اس پر بہترین ثواب عنایت فرمانے والے ہیں۔
Ayah 29:4646: وَلَا تُجَادِلُوْا اَہْلَ الْکِتٰبِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ (اور اہل کتاب سے مباحثہ نہ کرو۔ مگر اس طریقہ سے جو بہت خوب ہو) ۔ مگر اس انداز سے جو خوب تر ہو۔ اور وہ یہ ہے کہ درشتی کا مقابلہ نرمی اور غضب کا غصہ پی جانے سے کیا جائے جیسا کہ فرمایا دوسرے مقام پر ادفع بالتی ہی احسن ] المؤمنون۔ 96[
ظلموا کی مراد :
اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ (مگر وہ لوگ جو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں) ۔ انہوں نے عناد اور زیادتی میں حد کردی اور خیر خواہانہ بات کو قبول نہ کیا۔ اور نرمی ان میں اثر کرتی نظر نہیں آتی۔ ان کے ساتھ سختی کرو۔
ایک قول یہ ہے :
مگر وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایذائیں دی ہیں۔
نمبر 2۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹا اور شریک تجویز کیا اور یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سخاوت سے بندھے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے ذمی ہو کر یہ حرکت کی ہے اور شرط ذمہ کو نہیں نبھایا۔ اور جزیہ کو روک لیا۔ ان لوگوں سے جدال بالسیف ہے۔
مسئلہ : آیت دلالت کر رہی ہے کہ کفار کے ساتھ دین میں مناظرہ جائز ہے اور علم کلام کا حصول بھی جائز ہے جس سے مناظرہ کیا جاسکتا ہے۔
وَقُوْلُوْا ٰامَنَّا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰہُنَا وَاِلٰہُکُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ (اور کہہ دو ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی۔ اور تمہاری طرف اتاری گئی اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہے اور ہم اسی ہی کی فرمانبرداری اختیار کرنے والے ہیں) ۔ اور اس جنس سے ہیں جو احسن طریقہ سے مجادلہ کرنے والے ہیں۔
قول (علیہ السلام) :
اہل کتاب جو تمہیں بیان کریں اس کی تصدیق و تکذیب نہ کرو بلکہ اس طرح کہو ہم تو اللہ تعالیٰ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے ہیں۔ اس طرح اگر ان کی بات باطل ہوگی تو تم نے اس میں ان کی تصدیق نہ کی اور اگر سچی ہوئی تو تم نے ان کی تکذیب نہ کی۔ ( رواہ احمد 4/136، ابودائود 3644)
Ayah 29:47قرآن تمام کتب کا مصدق ہے :
47: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) ۔ یعنی اس اتارنے کی طرح۔ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ (ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری) ۔ یعنی ہم نے اس کو تمام کتب سماویہ کی مصدق بنا کر بھیجا۔ نمبر 2۔ جیسا ہم نے کتاب ان انبیاء (علیہم السلام) پر اتاری جو آپ سے پہلے ہوئے اسی طرح تمہاری طرف ہم نے قرآن مجید کو اتارا۔ فَالَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ (پس وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس پر ایمان لانے والے ہیں) ۔
وہ عبداللہ بن سلام اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے۔ وَمِنْ ہٰٓؤُلَآئِ (اور ان میں سے) ۔ اہل مکہ میں سے۔ مَنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ (ایسے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں) ۔ یا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو زمانہ رسول اللہ ﷺ سے قبل کتاب ملی اور من ہؤلاء سے رسول ﷺ کے زمانہ میں جو اہل کتاب تھے وہ مراد ہیں۔
وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ (اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے) ان آیات کے ظاہر ہونے اور ان سے شبہ کے زائل ہونے کے باوجود اِلاَّ الْکٰفِرُوْنَ (مگر کافر) جو کفر میں اصرار و ضد کرنے والے ہیں جیسا کعب بن اشرف اور اسی طرح کے لوگ۔
Ayah 29:48آپ نے کوئی کتاب نہیں پڑھی :
48: وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ (اور آپ اس سے پہلے پڑھتے نہ تھے کوئی کتاب) ۔ یعنی اس قرآن مجید سے پہلے۔ مِنْ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ (اور نہ آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کتاب کو لکھتے تھے) ۔ آیت میں یمین کو خاص کر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے عموماً دائیں ہاتھ سے ہی لکھا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہوا۔ آپ نے کوئی سی کتاب بھی نہیں پڑھی اور نہ آپ لکھتے تھے۔ اِذًا (اس وقت) اگر اس میں سے کوئی چیز ہوئی۔ کتاب کا پڑھنا اور لکھنا۔ لاَّرْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (ضرور باطل پرست شک میں پڑجاتے) ۔ یہاں باطل پرستوں سے اہل کتاب مراد ہیں کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ ہم آپ کی تعریف امی یعنی جو نہ لکھے اور نہ پڑھے اور نہ اس میں یہ دونوں پائی جاتی ہوں اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔
نمبر 2۔ اس وقت ضرور مشرکین مکہ شک کرتے۔ اور کہتے۔ شاید کہ اس نے علم سیکھ لیا ہو یا اپنے ہاتھ سے کہیں سے لکھ لیا ہو۔ آیت میں کفار کو مبطلون کہا کیونکہ وہ آپ کی نبوت کا انکار کرتے تھے۔
قول مجاہد وشعبی رحمۃ اللہ علیہما :
نبی اکرم ﷺ نے وفات نہیں پائی۔ یہاں تک کہ آپ نے لکھا اور پڑھا ہے۔ ( ممکن ہے بطور معجزہ ہو۔ مگر یہ قول ظاہر نصوص کے خلاف ہے۔ مترجم)
Ayah 29:4949: بَلْ ہُوَ (بلکہ وہ) یعنی قرآن۔ ٰایٰتٌ0 بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ (واضح آیات ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں ہیں جن کو علم دیا گیا) ۔ حفاظ و علماء کے سینوں میں ہیں اور یہ دونوں قرآن کی خصوصیات ہیں۔ نمبر 1۔ آیات کا اعجاز واضح ہے۔ نمبر 2۔ سینوں میں محفوظ ہیں۔ بخلاف دیگر کتب کے کہ وہ معجزات نہ تھیں اور مصاحف سے ہی پڑھی جاتی تھیں۔ وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ (اور ہماری واضح آیات کا انکار نہیں کرتے) ۔ اِلاَّ الظّٰلِمُوْنَ (مگر ظالم) ۔ جو ظلم میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔
Ayah 29:5050: وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (اور انہوں نے کہا کیوں نہیں اس پر اتاری گئی اس کے رب کی طرف سے آیات) ۔ قراءت : مکی اور حفص کے علاوہ کوفی قراء نے ایۃ پڑھا۔ انہوں نے مطلب یہ لیا کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی جیسا کہ اونٹنی ٗ عصا ٗ مائدئہ عیسوی وغیرہ۔
قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ (کہہ دیں بیشک آیات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں) ۔ ان میں سے جو چاہتا ہے۔ اتار دیتا ہے۔ میں ان میں سے کسی کا ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتا۔ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (بلاشبہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں) ۔ آپ کو انذار اور جو آیات دی گئیں ان کا مکلف و ذمہ دار بنایا گیا۔ مجھے کہنے کا اختیار نہیں۔ کہ اے اللہ تو مجھ پر فلاں نشانی کی بجائے فلاں نشانی اتار دے۔ باوجودیکہ میں جانتا ہوں کہ آیات سے اصل مقصد تو راہنمائی ہے۔ اور تمام آیات ایک آیت ہی کا حکم رکھتی ہیں۔
Ayah 29:51ایک کافی نشانی :
51: اَوَلَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ (کیا ان کے لئے کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب کو اتار دیا جو ان پر) یُتْلٰی عَلَیْہِمْ (پڑھی جاتی ہے) ۔ مطلب یہ ہے کیا ان کے لئے یہ ایک نشانی کافی نہیں جو تمام آیات سے ان کو بےنیاز کرنے والی ہے۔ اگر وہ صحیح طور پر حق کے طالب ہیں اور ضد بازی کرنے والے نہیں ہیں تو یہ قرآن جس کی تلاوت ہر زمانہ اور ہر جگہ میں قائم ہے۔ یہ ان کے ساتھ ہر وقت ثابت رہنے والی نشانی ہے اور اس کو زوال نہیں جیسا کہ تمام نشانیاں اپنے زمانہ کے بعد زائل ہوگئیں۔
نمبر 2۔ اس آیت کا ہر جگہ میں ہونا بجائے کسی خاص جگہ کے اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) ۔ اس جیسی نشانی کی موجودگی میں جو کہ ہر مکان و زمان میں ابد الاباد تک موجود ہے۔ لَرَحْمَۃً (البتہ رحمت ہے) یعنی عظیم الشان نعمت ہے۔ وَذِکْرٰی (اور تذکرہ ہے) ۔ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والے لوگوں کے لئے) ۔ ضدی لوگوں کے لئے نہیں۔
Ayah 29:5252: قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ شَہِیْدًا (کہہ دیجئے۔ کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لئے اللہ کافی ہے) ۔ میرے دعوی رسالت کی سچائی کی گواہی اور مجھ پر قرآن مجید کے اتارنے اور تمہارے جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس سب کو جانتا ہے) ۔ اس کو میرے اور تمہارے معاملے کی اطلاع ہے۔ وہ میری حقانیت اور تمہاری باطل پرستی کو جاننے والا ہے۔
باطل پر ایمان لانے والے :
وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِالْبَاطِلِ (اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان لانے والے ہیں) ۔ باطل سے مراد یہودیت۔ نمبر 2۔ شرک۔ نمبر 3۔
ابلیس لعین۔ وَکَفَرُوْا بِاللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے ہیں) یعنی اس کی آیات کا انکار کرنے والے ہیں۔ اُولٰٰٓپکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ (وہی نقصان اٹھانے والے ہیں) ۔ وہ اپنے اس سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان بیچ کر کفر خریدا ہے۔ مگر یہاں کلام کو انصاف کے انداز سے لائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ واِنا او ایاکم لعلیٰ ہُدی او فی ضلال مبین۔ ] سبا۔ 24[
روایت میں ہے :
کہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی کہنے لگے۔ اے محمد ﷺ تیری نبوت کی گواہی دینے والا کون ہے ؟ تو اس پر یہ آیت اتری۔
Ayah 29:5353: وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ (کہ تم سے جلد عذاب مانگتے ہیں) ۔ اس طرح کہتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ فامطر علینا حجارۃ من السماء۔ ] الانفال۔ 32[
اجل مقررہ کیا ہے ؟
وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّی (اور اگر وقت مقررہ نہ ہوتا) ۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ نمبر 2۔ یوم بدر۔ نمبر 3۔ موت کے اوقات۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ وقت مقررہ نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیا ہے۔ اور ان کے عذاب دینے کے لئے لوح محفوظ میں مقرر کردیا ہے۔ اور حکمت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اس کو ایک مقررہ مدت تک مؤخر کردیا جائے۔ لَجَآئَ ہُمُ الْعَذَابُ (تو ان پر جلد آجاتا) ۔ وَلَیَاْتِیَنَّہُمْ (اور ضرور ان پر عذاب اترے گا) ۔ اس مقررہ وقت میں بَغْتَۃً (اچانک) وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور ان کو اس کے آنے کے وقت کا علم بھی نہ ہوگا) ۔
Ayah 29:5454: یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَاِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌ بِالْکٰفِرِیْنَ (وہ آپ سے جلد عذاب مانگتے ہیں اور بلا شبہ جہنم کافروں کا احاطہ کرنے والی ہے) ۔ یعنی عنقریب ان تمام کو گھیرے میں لے لے گی۔
Ayah 29:5555: یَوْمَ یَغْشٰہُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ (جس دن ان کو عذاب اوپر سے اور ان کے قدموں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا) ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے من فوقہم ظلل من النار ومن تحتہم ظلل۔] الزمر۔ 16[
(ان کے اوپر آگ کے سائبان اور ان کے نیچے بھی سائبان ہوں گے) ۔
قراءت : الکافرین پر وقف نہیں ہے۔ کیونکہ یوم احاطۃ النار کا ظرف ہے۔ اور یقول یاء کے ساتھ ہے۔ کوفی اور نافع نے اس طرح پڑھا ہے۔ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تم چکھو جو کچھ تم عمل کرتے تھے) یعنی اپنے اعمال کی جزاء۔
Ayah 29:5656: یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ (اے میرے بندو ! جو کہ ایمان لاتے ہو۔ بیشک میری زمین وسیع ہے) ۔
قراءت : بصری اور عاصم کے علاوہ کوفی علماء نے یعبادی کو سکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اَرْضِیَ کو یاء کے فتحہ کے ساتھ شامی نے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے۔
مسئلہ : جب کبھی کسی مسلمان کو کسی شہر میں رہتے ہوئے عبادت ممکن نہ ہو۔ اور وہاں وہ اپنے دین پر نہ چل سکتا ہو۔ اس کو وہاں سے ایسے شہر میں چلے جانا چاہیے جہاں وہ صحت و سلامتی قلب کے ساتھ عبادت کرسکے۔ اور دین پر قائم رہ سکے اور زیادہ عبادت انجام دے سکے۔ اس میں مختلف علاقوں کا مختلف حکم ہے۔
علماء کا قول :
ہم نے نفس کو دبانے میں سب سے زیادہ مددگار ٗ دل جمعی کا باعث ٗ قناعت پر آمادہ کرنے والا ‘ شیطان کو بھگانے والا۔ اور فتنوں سے حفاظت کرنے والا اور دینی معاملے کو جوڑنے والا مقام مکہ سے زیادہ کوئی نہیں پایا اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
قولِ سہل (رح) :
جب کسی سرزمین میں سرعام گنا ہوں اور بدعات کی کثرت ہو۔ وہاں سے اطاعت والی زمین میں چلے جائو۔
فرمانِ رسول ﷺ ہے :
جو اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ گیا، اگرچہ وہ دوسری زمین سے ایک بالشت کے فاصلہ پر ہو۔ اس نے اپنے لئے جنت کو واجب کرلیا۔ (ثعلبی مرسلا عن حسن)
فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ (پس تم میری ہی عبادت کرو) ۔ قراءت : یعقوب نے یاء سے پڑھا۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی۔ فایای فاعبدوا فاعبدونِیْ ۔ فاعبدون فاء کے ساتھ آیا ہے۔ کیونکہ یہ شرط محذوف کا جواب ہے۔ کیونکہ معنی یہ ہے۔ ان ارضی واسعۃ فان لم تخلصوا العبادۃ لی فی ارض فاخلصوہا فی غیرہا۔ پھر شرط کو حذف کردیا۔ اور اس کے حذف کے عوض مفعول کو مقدم کردیا۔ تقدیم مفعول میں مزید فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اختصاص و اخلاص کا معنی بھی پیدا ہوگیا۔ پھر اگلی آیت میں مہاجرین کو آمادہ کیا گیا۔
Ayah 29:5757: کُلُّ نَفْسٍ ذَآپقَۃُ الْمَوْتِ (ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے) ۔ یعنی موت کی کڑواہٹ اور اس کی تکلیف پائے گا جیسا کہ کوئی چکھنے والا اس چیز کا ذائقہ پاتا ہے۔ کیونکہ جب مہاجر کو موت کا یقین ہے تو وطن سے علیحدگی اس پر آسان ہوگی۔ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ (پھر تم ہماری بارگاہ میں لوٹائے جائو گے) ۔ موت کے بعد تاکہ ثواب و عقاب پا سکو۔
Ayah 29:58قراءت : یحییٰ نے یرجعون اور یعقوب نے ترجعون پڑھا ہے۔
58: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّہُمْ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے ہم ضرور) مِنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا (ان کو جنت کے بالاخانوں میں ٹھکانہ دیں گے) ۔ ہم ان کو جنت میں لے جااُتاریں گے۔
قراءت : علالی نے لنثوینہم۔ کوفی قراء نے عاصم کے علاوہ پڑھا ہے یہ الثواء سے ہے۔ اور معنی : اقامت کے لئے کسی جگہ اترنا۔ ثویٰ کا لفظ غیر متعدی ہے جب اس کو ہمزہ سے متعدی بناتے ہیں تو ایک مفعول سے تجاوز نہیں کرتا اور ضمیر مؤمنین اور غرف کی طرف تعدیہ کرنے کی وجہ یہ ہے۔ کہ اس کو لننزلنہم کی جگہ اس کو لائیں یا لنؤوینّہم یا جار حذف کیا اور ایصال فعل کے لئے غیر ظرف مؤقت کو ظرف مبہم کے مشابہ بنانے کے لئے۔
تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہفرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ (ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے کام کرنے والوں کا اجر بہت خوب ہے) ۔ العالمین پر وقف کیا جائے گا۔ کیونکہ الذین صبروا یہ مبتدأمحذوف کی خبر ہے۔
Ayah 29:5959: الَّذِیْنَ صَبَرُوْا : (وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا) ۔ یہ مبتدأ محذوف ہم کی خبر ہے۔ یعنی وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے وطن کو چھوڑنے پر صبر کیا اور مشرکین کی طرف سے ملنے والی ایذائوں اور تکالیف پر جمے رہے اور طاعات پر ثابت قدم اور معاصی سے بےتعلق رہے۔
قراءت : وصل زیادہ عمدہ ہے۔ تاکہ الذین یہ عالمین کی صفت بن جائے۔
وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرنے والے ہیں) ۔ ان تمام حالات میں انہوں نے صرف اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔
Ayah 29:60شانِ نزول آیت نمبر : 60:
جب رسول اللہ ﷺ نے ان بعض مسلمانوں کو جو مکہ میں اسلام لائے ہجرت کا حکم دیا تو انہوں نے فقر و ضیاع کا عذر پیش کیا۔ پس یہ آیت اتری : (وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ ) کتنے ہی جانور ایسے ہیں جو اپنی روزی اپنے ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے۔ یعنی بہت سے چوپائے ہیں۔ قراءت : مکی نے کاین کو مد اور ہمزہ سے پڑھا ہے۔ الدابۃ۔ ہر وہ جاندار جو زمین پر چلے خواہ اس میں عقل ہو نہ ہو۔
ہر جاندار اپنا رزق ساتھ لئے پھرتا ہے :
لَا تَحْمِلُ رِزْقَہَا (جو کہ اپنا رزق ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے) ۔ یعنی وہ اٹھانے میں کمزوری کی وجہ سے اپنا رزق ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے۔ اَللّٰہُ یَرْزُقُہَا وَاِیَّاکُمْ (اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی) ۔ یعنی ان کمزور جانوروں کو اللہ تعالیٰ ہی رزق دیتے ہیں اور اے طاقت والو ! تمہیں بھی وہی رزق دیتا ہے اور اگرچہ تم اپنے ارزاق کو اٹھانے اور کمانے کی طاقت رکھتے ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ تمہارے مقدر میں نہ کرے اور تمہارے لئے اسباب رزق مہیا نہ فرمائے تو تم جانوروں سے بھی عاجز تر ہو۔
قولِ حسن (رح) :
لا تحمل رزقہا کا معنی یہ ہے۔ وہ اپنے پاس اس کا ذخیرہ نہیں کرسکتا۔ وہ صبح اٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو رزق عنایت فرماتے ہیں۔
تین ذخیرہ کرنے والے (ایک قول یہ ہے):
کوئی حیوان سوائے ابن آدم اور چوہے اور چیونٹی کے خوراک کا ذخیرہ نہیں کرتا۔ وَہُوَ السَّمِیْعُ (وہی تمہاری ہر بات کو سننے والے ہیں) کہ ہمیں تو فقر ٗ ضیاعکا خدشہ ہے۔ الْعَلِیْمُ (وہ جاننے والا ہے) اس چیز کو جو تمہارے دلوں میں ہے۔
Ayah 29:61دلائل قدرت :
61: وَلَپنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور اگر تم ان سے سوال کرو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا) ۔ یعنی اگر آپ ان مشرکین سے آسمانوں اور زمین کے خالق کے بارے میں دریافت کریں۔ کہ باوجود یہ دونوں اپنی وسعت و بڑائی کے کس نے بنائے ہیں۔ اور وہ کون ہے جس نے سورج و چاند کو کام میں لگا دیا ؟ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ (وہ ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ پھر وہ کہاں پھرے جا رہے ہیں) ۔ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی توحید سے کس طرح پھر رہے ہیں۔
Ayah 29:62وہ بندوں کے صلاح و فساد کے اسباب سے واقف ہے :
62: اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَہٗ (اللہ تعالیٰ رزق کو کھولتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے۔ جس کے لئے وہ چاہتا ہے) ۔ من یشاء کی بجائے ضمیر کو لاتے۔ کیونکہ من یشاء مبہم وغیر معین ہے۔ اور ضمیر بھی اس کی طرح مبہم ہے۔ قدر الرزق وقترہٗ بمعنی ازا ضیقہٗ یعنی رزق کا اس نے اندازہ کیا اور اس کو تنگ کردیا۔ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں) ۔ وہ بندوں کے لئے جو اصلاح و فساد کا باعث ہے اس کو جاننے والے ہیں۔ حدیث پاک میں فرمایا : ان من عبادی الحدیث دیلمی فی مسند الفردوس کہ میرے بعض بندے ایسے ہیں۔ ان کا ایمان مالداری سے درست رہ سکتا ہے۔ اگر میں ان کو فقیر کر دوں تو ان کا دین بگڑ جائے۔ اور میرے بعض بندے ایسے ہیں۔ جن کا ایمان فقر سے ہی درست رہ سکتا ہے اگر میں ان کو غنی بنادوں تو ان کا ایمان بگڑ جائے۔
Ayah 29:63اعتراضِ دلیل :
63: وَلَپنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (اور اگر آپ ان سے سوال کریں کس نے آسمان سے پانی اتارا پس اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کردیا وہ ضرور کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ) یعنی وہ اس کا اقرار کرنے والے ہیں۔
اقرارِ توحید نفی شرک میں ہے :
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ (کہہ دیں تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں) ۔ کہ اس نے زمین کو زندہ کرنے کے لئے پانی اتارا۔ یا نمبر 2۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔ اس طرح کہ میں بھی ان میں سے ہوں جو انہی باتوں کا اقرار اسی طرح کرنے والے ہیں جس طرح وہ ہیں۔ پھر اس کا فائدہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنے میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے شریکوں کی نفی میں ہے۔ میرا یہ اقرار مشرکین کے اقرار کی طرح معطل و بےکار اقرار نہیں۔ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ (بلکہ ان کی اکثریت سمجھتی ہی نہیں) ۔ وہ اپنی عقول سے ان آیات میں غور ہی نہیں کرتے جو ہم ان کو دکھاتے ہیں اور جو دلالتیں ہم ان کے لئے قائم کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ وہ اس بات کو سمجھتے ہی نہیں کہ تم اپنے الحمد للہ کے قول سے کیا ارادہ کرتے ہو۔
Ayah 29:64حقارتِ دُنیا :
64: وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَہْوٌ وَّلَعِبٌ (اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے) ۔ یعنی دنیا اہل دنیا کے لئے اپنے سرعت زوال اور انسانوں کے دنیا میں مرجانے سے اسی طرح ہے جیسے کہ بچے تھوڑی دیر کھیلتے ہیں اور پھر منتشر ہوجاتے ہیں اس میں دنیا کی تحقیر اور ان کے معاملے کا معمولی ہونا ظاہر کیا گیا ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ اس کی تحقیر بیان نہ فرمائیں جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر وزن نہیں رکھتی۔ لہو ! جس سے انسان تھوڑی دیر تلذد حاصل کرے اور وہ چیز اس کو کچھ دیر غافل کر دے پھر وہ ختم ہوجائے۔ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ (اور بیشک آخرت والا گھر البتہ وہی حقیقی زندگی ہے) ۔ یعنی ایسی زندگی جس میں موت نہیں بلکہ دوام ہے۔ گویا کہ وہ ذاتی اعتبار سے زندگی ہے۔ الحیوان۔ یہ حَیَّ کا مصدر ہے۔ قیاس کا تقاضا یہ تھا حییان۔ پھر یائے ثانیہ کو وائو سے بدل دیا۔ اور اس طرح نہیں کہا۔ لہی الحیاۃ۔
نکتہ : کیونکہ فَعَلان کے وزن میں حرکت و اضطراب کا معنی پایا جاتا ہے اور حیات حرکت اور موت سکون کا نام ہے پس اس کو ایسے وزن پر لایا گیا جو حرکت کے معنی پر دلالت کرتا تھا تاکہ حیات کے معنی میں مبالغہ ظاہر کیا جاسکے۔ الحیوان پر وقف کریں گے۔ کیونکہ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ لوکانوا یعلمون حقیقۃ الدارین لما اختاروا اللھو الفانی اختار والفانی علی الحیوان الباقی۔ اگر یہ لوگ جانتے ہوتے کہ دونوں جہاں کی حقیقت کیا ہے تو یہ فانی جہاں کو باقی رہنے والی زندگی پر ترجیح کبھی نہ دیتے۔ اگر وصل کریں تو اس صورت میں یہ الحیوان کا وصف بن جائے گا۔ جو ان کے علم کی شرط سے معلق ہوگا حالانکہ اس طرح نہیں۔ فافہم و تدبر۔
Ayah 29:6565: فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ (اور جب وہ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں) ۔ یہ اس محذوف سے متصل ہے۔ جس پر ان کے بیان کردہ حالات اور معاملات دلالت کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ ان کے متعلق جیسا کہ بتلایا گیا کہ وہ مشرک اور معاند ہیں۔ پھر جب وہ کشتیوں پر سفر کرتے ہیں۔ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (وہ اللہ تعالیٰ کو خالص مخلص ہو کر پکارتے ہیں) ۔ ان کی حالت اس مومن شخص جیسی ہوجاتی ہے۔ جو خالص اللہ تعالیٰ کو پکارنے والا ہو اس طرح کہ وہ غیر اللہ کا مطلقاً تذکرہ بھی نہیں کرتے اور نہ اس کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارتے ہیں۔ فَلَمَّا نَجّٰہُمْ اِلَی الْبَرِّ (پس جب اللہ تعالیٰ ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے) ۔ اور وہ امن میں ہوجاتے ہیں۔ اِذَا ہُمْ یُشْرِکُوْنَ (اسی وقت وہ شرک کرنے لگتے ہیں) یعنی وہ حالت شرک کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔
Ayah 29:6666: لِیَکْفُرُوْا بِمَآ ٰاتَیْنٰہُمْ (ہم نے جو نعمت ان کو دی ہے وہ اس کا انکار کرتے رہیں) ۔ جو نعمت بھی ہم نے ان کو دی ہے۔
ایک قول یہ ہے :
یہ لام کَیْ ہے اور اسی طرح لیتمتَّعُوْا میں بھی لام کَیْ مانا گیا ہے۔ جنہوں نے کسرہ سے پڑھا ہے۔ ای لکی یکفروا تاکہ وہ ناشکری کریں۔ وکَیْ یتمتعوا (تاکہ وہ نفع اٹھائیں) ۔ مطلب یہ ہوگا۔ وہ اپنے شرک کی طرف لوٹنے والے ہیں تاکہ شرک کی طرف لوٹ کر وہ نعمت نجات کی ناشکری کردیں اور اس سے ان کا مقصد دنیا سے نفع اٹھانا۔ اور تلذد حاصل کرنا ہے اور کوئی غرض نہیں۔ اس کے بالمقابل حقیقی مخلص مومن اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جب ان کو کنارے پر نجات میسر آتی ہے۔ وہ نعمت نجات کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اضافہ کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اس صورت میں یشرکون پر وقف نہ ہوگا۔
دوسرا قول :
جنہوں نے اس کو لام امر قرار دیا ہے۔ قراءت ابن کثیر ٗ حمزہ وعلی میں یہی ہے۔ وَلْیتَمَتَّعُوْا میں لام ساکن ہے۔ اور یہ امر تہدیدی ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فَلْیکفر۔ ] الکہف 29[
اس کی تحقیقات اصول فقہ میں ملاحظہ ہوں۔
فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (عنقریب ان کو علم ہوجائے گا) ۔ جبکہ ان کی بری تدبیر ان کی تباہی کا باعث بنے گی۔
Ayah 29:6767: اَوَلَمْ یَرَوْا (کیا ان اہل مکہ نے نہیں دیکھا) ۔ اَنَّا جَعَلْنَا (ہم نے ان کے شہر کو بنایا) ۔ حَرَمًا (محفوظ و ممنوع) ٰامَنًا (امن والا) کہ اس میں داخل ہونے والے محفوظ ومامون ہیں۔ وَیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ (اور لوگ ان کے اطراف سے اچک لیے جاتے ہیں) ۔ وہ قتل و قید سے مال چھین لیتے ہیں۔ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ (کیا وہ باطل پر یقین رکھتے ہیں) یعنی شیطان و اصنام پر۔ وَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ (اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں) ۔ نعمت سے مراد اسلام اور حضرت محمد ﷺ ہیں۔
Ayah 29:68مفتری کی سزا جہنم :
68: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ (اور وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے) ۔ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے۔ اَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ (یا اس نے حق کو جھٹلایا) ۔ یعنی نبوت محمد ﷺ کا انکار کردیا۔ اور قرآن مجید کو جھٹلایا۔ لَمَّا جَآئَ ہٗ (جبکہ وہ اس کے پاس آچکا) ۔ جب سنا تو بلا سوچے سمجھے تکذیب کردی۔ اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ (کیا جہنم کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے) ۔
فائدہ : یہ استفہام تقریری ہے کہ وہ جہنم میں ٹھکانہ پائیں گے۔ کیونکہ ہمزہ انکاری جب نفی پر داخل کردیا جائے۔ تو ایجاب بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہوگا۔ خبردار وہ جہنم میں ٹھہریں گے۔ وہ اس جیسی تکذیب اللہ تعالیٰ کے سلسلہ میں کرچکے ہیں اور اس جیسی تکذیب انہوں نے حق کے سلسلہ میں بھی کی ہے۔ نمبر 2۔ کیا یہ بات ان کے ہاں درست نہیں ہے۔ کہ بلاشبہ جہنم منکرین کا ٹھکانہ ہے۔ جبکہ انہوں نے اس جیسی جرأت کی ہے۔
قراءت : یہاں المثویٰ کا ذکر لنبوئنہم کی بجائے قراءت ثاء کی تائید کر رہا ہے۔
Ayah 29:69علم کی کوشش والوں کو عمل کی راہ بتلائیں گے :
69: وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا (اور وہ لوگ جنہوں نے کوشش کی) ۔ یہاں المجاہدۃ کو مطلقاً ذکر کیا گیا ہے۔ اس کو مفعول سے مقید نہیں کیا گیا۔ تاکہ ہر قسم کا مجاہدہ اس میں داخل ہوجائے خواہ وہ مجاہدہ نفس سے ہو یا شیطان یا اعدائے دین سے ہو۔ فِیْنَا (ہم میں) ۔ ہمارے بارے میں۔ ہماری خاطر اور خالص ہماری رضا مندی کے لئے۔ لَنَہْدِیَنَّہُمْ (ہم ضرور ان کی راہنمائی کریں گے) ۔
اقوالِ بزرگان۔
قولِ ابو عمرو :
سبیل خیر کی طرف ان کی راہنمائی میں ہم اضافہ کردیں گے۔ اور توفیق شامل حال کردیں گے۔
قولِ دارانی :
والذین جاہدوا۔ (جو انہوں نے جان لیا) ہم اس میں اس کی طرف ان کی راہنمائی کردیں گے جس کو وہ نہیں جانتے۔
ایک قول یہ ہے :
جس سے علم پر عمل کیا۔ وہ جو نہیں جانتا اس کی بھی راہنمائی کردی جائے گی۔
ایک اور قول :
جو ہم اپنی جہالت پاتے ہیں۔ ان چیزوں سے متعلق جو ہم نہیں جانتے وہ علم میں ہماری اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہے۔
قولِ فضیل۔ :
وہ لوگ جو طلب علم میں مجاہدہ کرنے والے ہیں۔
لَنَہْدِیَنَّہُمْ (یعنی ہم ضرور ان کی راہنمائی کریں گے) ۔ یعنی عمل کی راہ بتلا دیں گے۔
قولِ عطاء m :
انہوں نے ہماری رضا مندیوں کی کوشش کی۔ تو ہم ضرور ان کی راہنمائی محل رضاء تک پہنچنے میں کریں گے۔
قولِ ابن عباس۔ :
تم ہماری اطاعت میں کوشش کرو۔ ہم ضرور تمہیں ثواب کے راستوں پر چلا دیں گے۔
قولِ جنید۔ :
توبہ میں کوشش کرو ہم ضرور اخلاص کے راستوں کی راہنمائی کردیں گے یا تم ہماری خدمت میں مجاہدہ کرو ہم ضرور اپنی مناجات کے راستے ان پر کھول دیتے ہیں اور ہم اپنے سے انس کی راہ کی طرف ان کی راہنمائی کردیتے ہیں۔
تم ہماری طلب میں ہماری رضا تلاش کرنے کی کوشش کرو۔ تو ہم اپنے تک پہنچنے کے راستوں کی طرف راہنمائی کردیں گے۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہیں) ۔ نصرت و معونت کے ساتھ دنیا میں اور ثواب و مغفرت کے ساتھ آخرت میں۔