Ayah 30:41فساد سے مراد :
41: ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (خشکی اور سمندر میں فساد پھیل رہا ہے) الفساد سے نمبر 1۔ قحط نمبر 2۔ بارشوں کی قلت نمبر 3۔ کھیتوں پر ہوائوں کا چلنا۔ نمبر 4۔ تجارتوں میں نقصان نمبر 5۔ انسانوں اور چوپایوں میں کثرت اموات نمبر 6۔ کثرت غرق نمبر 7۔ ہر چیز سے برکت کا مٹ جانا مراد ہے۔ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب) وہ بداعمالیاں شرک اور دیگر کبائر ہیں جیسا کہ فرمایا وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ] الشوری : 30[ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض اعمال کا بدلہ چکھائے) مطلب یہ ہے تاکہ ان کو دنیا میں ان کے بعض اعمال کا وبال چکھادیا جائے اس سے قبل کہ آخرت میں ان کو تمام اعمال بد کی سزا ملے۔
قراءت : لنذیقھم نون کے ساتھ قنبل نے پڑھا ہے۔
لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ (شاید کہ وہ توبہ کرلیں) ان معاصی سے جن میں وہ مبتلا ہیں۔ پھر گناہوں کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور سزا کا سبب حقیقی ہونے کی تاکید کیلئے اگلی آیت میں فرمایا۔
Ayah 30:4242: قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ (آپ کہہ دیجئے ! زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ تم سے پہلے لوگوں) عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّشْرِکِیْنَ (کا انجام کیا ہوا ان میں سے اکثر مشرک تھے) اس آیت میں زمین میں گھوم پھر کر ہلاک ہونے والی امم کے حالات دیکھنے کا حکم فرمایا تاکہ گناہوں کے باعث ان کا جو برا انجام ہوا اس کو وہ دیکھیں اور اسپر غور و فکر کریں) ۔
Ayah 30:4343: فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ (پس آپ اپنا چہرہ دین قیم کی طرف کرلیں) القیمؔ ایسی کامل استقامت جس میں کوئی ٹیڑھ نہ ہو۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ (اس سے قبل کہ ایسا دن آئے جس کو لوٹانا ممکن نہیں) مردؔ یہ مصدر بمعنی الردّ (لوٹانا) کے آیا ہے۔ مِنَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) ۔
مسئلہ : یہ یأتی کے متعلق ہے مطلب یہ ہے اس سے قبل کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا دن آئے جس کو کوئی لوٹا نہ سکے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا فلا یستطیعون ردھا ] الانبیاء : 40[ نمبر 2۔ مردٌ کے متعلق ہے اس کا معنی یہ ہے وہ اس کو لانے کے بعد واپس نہ فرمائے گا اور خود وہ لوٹے گا نہیں۔ یَوْمَپذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ (اس دن سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے) ۔
Ayah 30:4444: : پھر اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کی طرف اشارہ کیا۔
اللہ کی بےنیازی کافر کو کفر کی سزا اور نیک عمل کا بدلہ جنت ہوگا :
مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ (جو کفر کر رہا ہے اسی پر اس کا کفر پڑے گا) یعنی کفر کا وبال واقع ہوگا۔ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ (اور جو نیک عمل کر رہے ہیں وہ اپنے ہی لئے سامان کر رہے ہیں) یعنی وہ اپنے نفوسوں کیلئے اسے درست کر رہے ہیں اپنے نفس کیلئے وہ آدمی درست کرتا ہے جو بستر بچھاتا ہے تاکہ نیند کو خراب کرنے والی کوئی چیز ابھاروغیرہ اس کی خوابگاہ میں باقی نہ رہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے جنت ان کے لئے تیار فرما رہے ہیں۔
نکتہ : اس میں جنت درست کرنے کی نسبت ایمان والوں کی طرف فرمائی اور دونوں مقام پر جار مجرور فعلیہ کفرہ اور فلانفسہمؔ کو مقدم کیا تاکہ یہ ظاہر کردیا جائے کہ کفر کا نقصان خود اس کافر پر ہی پلٹ کر پڑنے والا ہے۔ اور ایمان و اعمال صالحہ کا فائدہ بھی اسی مومن کو ملے گا اس سے ہر گزتجاوز نہ کرے گا۔
Ayah 30:45دلیل قدرت :
45: لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو جزاء عنایت فرمائے گا) ۔
نحو : لیجزی یہ یمھدون کے متعلق ہے اور اس کی تعلیل و تکریر ہے یہاں ضمیر کی بجائے امنوا وعملوا صریح لائے تاکہ اس بات کو پختہ طور پر ثابت کردیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب فقط اور فقط مومن ہے۔ مِنْ فَضْلِہٖ (اپنے فضل سے) یعنی اپنی خاص عطاء سے اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ (اور بیشک وہ کافروں کو پسند نہیں فرماتے) ۔ اس میں سابقہ مضمون کو مزید پختہ کیا گیا ہے پہلی تقریر مثبت انداز میں تھی اور یہ منفی اور عکس کے انداز میں ہے۔
Ayah 30:4646: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ (اور اس کی قدرت کی آیات میں سے) یہ ہے اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ (ہوائوں کا بھیجنا) الریاح سے جنوبی، شمالی اور صبا کی ہوائیں مراد ہیں یہ رحمت کی ہوائیں ہیں۔ باقی دبور (مغربی ہوا) یہ عذاب کی ہوا ہے آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی میں اسی کا تذکرہ ہے اللھم اجعلھا ریاحا ولا تجعلھا ریحًا۔ (ریح سے یہاں دبور مراد ہے) ] ابو یعلی 2456، الطبرانی[ ہوائوں کے فوائد شمار کرتے ہوئے فرمایا۔ مُبَشِّرٰتٍ (خوشخبریاں دیتی ہوئی) ان کو بھیجا بارش کی خوشخبری سنانے کیلئے وَّ لِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ (اور اس لئے کہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے) رحمت کا چکھانا یہ ہے : بارش کے اترنے، سبزہ کے حاصل ہونے اور ہوائوں کے چلنے سے راحت میسر آنا، زمین کا پاک و صاف ہونا وغیرہ۔
نحو : ولیذیقکم کا عطف مبشرات پر اسی معنی میں ہے گویا فرمایا لیبشرکم ولیذیقکم تاکہ وہ تمہیں خوشخبری دے اور تمہیں چکھائے۔
وَلِتَجْرِیَ الْفُلْکُ (اور تاکہ کشتیاں چلیں) جب کہ وہ سمندر میں چلیں۔ بِاَمْرِہٖ (اس کے حکم سے) یعنی اس کی تدبیر یا تکوین سے جیسا کہ فرمایا : انما امرہ اذا اراد شیئا الایۃ ] یٰسین : 82[ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ (اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو) ابتغائے فضل سے مراد سمندر کے راستہ سے کی جانے والی تجارت ہے۔ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (اور تاکہ تم شکر گزار ہو) تاکہ تم اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔
Ayah 30:47تسلی رسول اللہ ﷺ :
( علیہ السلام) 47: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰی (اور تحقیق آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر انکی اقوام کی طرف) قَوْمِھِمْ فَجَآ ئُ وْ ھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (بھیج چکے اور وہ پیغمبر ان کے پاس واضح نشانیاں لائے) پس بعض لوگ ان پیغمبروں پر ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا اس پر آیت اضمار دلالت کر رہا ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا (پس ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا) اجرموا کا معنی کفروا ہے انتقام سے مراد دنیا میں ہلاکت کا شکار ہونا ہے۔ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور مؤمنوں کی مدد ہم پر لازم ہے) یعنی مؤمنوں کی مدد ہم پر لازم تھی ان کو ہم نے رسل کے ساتھ ہی نجات دی۔
قراءت : کبھی حقاً پر وقف کیا جاتا ہے اب معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انتقام برحق ہے اس طرح علینا نصر المؤمنین یہ جملہ ابتدائیہ بنے گا۔ مگر عدم وقف زیادہ صحیح اور تکلف سے بری ہے۔
Ayah 30:48دلیل قدرت ‘ بادل سے بارش نکالنا :
48: اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ (اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے ) ۔
قراءت :ـ مکی نے الریح پڑھا ہے۔
فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُہٗ (پس وہ بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں۔ پھر وہ بادلوں کو پھیلاتی ہیں) ہٗ کی ضمیر سحاب کی طرف ہے۔ فِی السَّمَآئِ (آسمان میں) آسمان کی جانب و طرف جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ وفرعھا فی السماء (یعنی آسمان کی جانب) ] ابراہیم : 24[ کَیْفَ یَشَآ ئُ (جس طرح وہ چاہتا ہے) شمال کی جانب یا جنوب یا پچھم یا پورب کی طرف۔ وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا (اور وہ اس کے ٹکڑے کردیتا ہے) کِسَف جمع کسفۃ کی ہے۔ معنی ہیں ٹکڑا۔ مطلب یہ ہے کہ اولاً بادلوں کو پھیلاتا ہے اور کبھی وہ آسمان کی سطح کو اختیار کرلیتے ہیں اور کبھی ان کو متفرق ٹکڑوں کی صورت میں بغیر پھیلائے چھوڑ دیتے ہیں۔
قراءت : کِسْفًا سین کے سکون سے یزید اور ابن ذکو ان نے پڑھا ہے۔
فَتَرَی الْوَدْقَ (پس بارش کو دیکھتے ہو) الودق : بارش یَخْرُجُ (نکلتی ہے) دونوں ہی صورتوں میں مِنْ خِلٰلِہٖ (اس کے درمیان سے) فَاِذَآ اَصَابَ بِہٖ (پھر وہ اس بارش کو پہنچاتا ہے) ۔ ہٗ کی ضمیر الودق کی طرف لوٹتی ہے۔ مَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ (جن کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے) جن کی زمینوں اور علاقے کو سیراب کرنا چاہتا ہے۔ اِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ (اسی وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں) یستبشرون یفرحونؔ کے معنی میں ہے۔
Ayah 30:4949: وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْھِمْ (اور یقینا وہ بارش کے اتارے جانے سے پہلے) مِّنْ قَبْلِہٖ (بارش سے پہلے)
مسئلہ : تاکید کیلئے دوبارہ لائے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے فکان عاقبتہما انہما فی النار خالدین فیھا ] الحشر : 17[ (ھما ؔ ثانی اول ھماؔ کی تاکید ہے)
نکتہ : اس آیت میں تاکید کا معنی یہ ہے کہ ان پر بارش اترے ہوئے زمانہ بیت گیا۔ جس سے ان کی ناامیدی پختہ ہوگئی پس ان کی خوشی بھی ان کے غم کی طرح بہت زیادہ حد سے نکلی ہوئی تھی۔ لَمُبْلِسِیْنَ (البتہ مایوس ہونے والے تھے) ۔
Ayah 30:50اعادہ مقدورات میں ابتداء کی طرح ہے :
50: فَانْظُرْ اِلٰٓی ٰاثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ (تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ملاحظہ کرو۔ کس طرح وہ) یُحْیِ الْاَرْضَ (زمین کو زندہ کرتا ہے) ۔
قراءت : ٰاثِرَ امی، کوفی قراء نے پڑھا سوائے ابوبکر کوفی کے اور دیگر قراء نے اَثَرْ پڑھا ہے۔ رحمت سے یہاں بارش مراد ہے۔ احیائے ارض سے نبات اور انواع و اقسام کے اثمار سے زمین کا آباد ہونا ہے۔
بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ ذٰلِکَ (اس کے مرجانے کے بعد بیشک وہی) یعنی اللہ تعالیٰ ذلک کا مشار الیہ ذات باری تعالیٰ ہے۔ لَمُحْیِی الْمُوْتٰی (ضرور مردوں کو زندہ فرمائے گا) ۔ یعنی بیشک وہ قادر مطلق جس نے زمین کو مردہ و بنجر ہونے کے بعد آباد کردیا وہی تو لوگوں کو ان کی موت کے بعد زندہ فرمائے گا۔
نکتہ : یہاں بنجر زمین کی آبادی کو مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے کیلئے بطور استدلال کے ذکر فرمایا ہے۔
وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) وہ اپنی مقدورات کی ہر چیز پر قادر مطلق ہیں اور مردوں کو زندہ کرنا یہ منجملہ مقدورات میں سے ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کا ابتداء ً پیدا کرنا جب مقدورات (ـممکنات) میں سے ہے تو اعادہ خود مقدورات و ممکنات میں شامل ہوا۔
Ayah 30:5151: وَلَپنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا (اور اگر ہم ان پر پچھم کی ہوا بھیج دیں) ۔ فَرَاَ وْہُ (پس وہ اس کو دیکھیں) ہٗ سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اثر ہے۔ کیونکہ رحمت سے بارش اور اس کے اثر سے نبات مراد ہے۔
قراءت : بعض قراء نے اس کو جمع سے پڑھا انہوں نے ضمیر کو اس کے معنی کی طرف لوٹایا ہے کیونکہ آثار رحمت کا معنی نباتات ہے اور نباتات کا لفظ قلیل و کثیر ہر دو کیلئے مستعمل ہے کیونکہ یہ مصدر ہے جس کو اگنے والی چیز کیلئے بطور نام استعمال کرلیا ہے۔ مُصْفَرًّا (زرد) ۔ اس کے سبز ہونے کے بعد۔
ایک قول :
یہ منصوب ہے کیونکہ یہ زردی حادث اور نئی پیدا ہونے والی ہے۔ قول دیگر : پس وہ بادلوں کو زرد دیکھیں۔ زرد بادل سے بارش نہیں برستی۔
مایوس و ناشکرے بھی بن گئے :
نحو : ولئنؔ میں لام سم کی تمہید کیلئے ہے جس کو حرف شرط پر داخل کیا اور قسم و شرط دونوں کے جواب کے قائم مقام ہے۔ لَّظَلُّوْا (تو وہ ہوجائیں گے) اس کا معنی لیظلُّنَّ (ضرور وہ ہوجائیں گے) مِنْ 0 بَعْدِہٖ یَکْفُرُوْنَ (اس کے بعدانکار کرنے والے) یعنی اس کے زرد ہوجانے کے بعد نمبر 2۔ خوش ہوجانے کے بعد۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حالت کی مذمت فرمائی ہے کہ جب بارش روک لی جاتی ہے تو مایوسی کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور اپنی ٹھوڑیاں اپنے سینوں پر ناامیدی سے مارتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کو سیراب کرتے اور بارش عنایت کردیتے ہیں تو وہ بڑے خوش ہوتے ہیں۔ جب عذاب کی ہوا ان کے کھیتوں پر بھیج کر ان کو زرد کردیتے ہیں تو وہ چیختے اور شور مچاتے اور اس کی نعمتوں کا انکار کردیتے ہیں۔ وہ ان تمام احوال میں قابل مذمت حالت میں ہیں۔ ان پر لازم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے اور اس کے فضل پر اعتقاد و اعتماد جماتے مگر وہ مایوس ہوگئے اور انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی حمد وثناء کرتے مگر وہ اترانے لگے اور تکبر اختیار کیا۔ ان پر حق بنتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبت پر صبر کرتے مگر انہوں نے کفر اختیار کرلیا۔
Ayah 30:52ان پر ایمان کی طمع ترک کردیں :
( علیہ السلام) 52: فَاِنَّکَ لَاتُسْمِعُ الْمَوْتٰی (پس بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) ۔ المو تیٰ یعنی مردہ دل نمبر 2۔ یہ مردوں کے حکم میں ہیں پس آپ ان سے طمع مت کریں کہ یہ آپ کی بات قبول کرلیں گے۔ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآ ئَ (اور نہ آپ بہروں کو پکار سنا سکتے ہیں) ۔
قراءت : مکی نے ولا یَسمَع الصمُّ پڑھا ہے۔
اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ـ(جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر جار ہے ہوں)
سوال : بہرہ تو اقبال و ادبار دونوں حالتوں میں نہیں سنتا پھر ولوا مدبرین کی تخصیص کا کیا معنی ہے ؟
جواب : بہرہ چہرے کی طرف سے متوجہ ہو تو رمزو اشارہ سے سمجھ جائے گا۔ مگر جب وہ پیٹھ پھیر کر جارہا ہو تو نہ سنے گا اور نہ ہی اشارہ کو سمجھے گا۔
Ayah 30:5353: وَمَآ اَنْتَ بِھٰدِ الْعُمْیِ (اور نہ آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں) ۔ العمیؔ سے دلوں کے اندھے مراد ہیں۔
قراءت : حمزہ نے وما انت تہدی العُمْیَ پڑھا ہے۔
عَنْ ضَلٰلَتِھِمْ (ان کی گمراہی سے) آپ کے لئے ممکن نہیں کہ آپ اندھے کی راہنمائی اپنے اشارہ سے اس راستہ کی طرف کردیں جس کو وہ بھول چکا ہے۔ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمْ مُّسْلِمُوْنَ (نہیں سنا سکتے مگر اسی ہی کو جو ہماری آیات پر ایمان لانے والے ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں) اِنَّ یہاں ماؔ کے معنی میں ہے۔ مسلمون کا معنی وہ اطاعت اختیار کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بتلانے کی وجہ سے۔
Ayah 30:54ناتوانی سے جوانی دی :
54: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں بنایا) ضعف سے مراد نطفہ سے بنانا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا من مائٍ مھین ] المرسلات : 20[ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ 0 بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّ ۃً (پھر اس نے ناتوانی کے بعد توانائی عطاء فرمائی) قوت سے حالت جوانی اور کامل بلوغ مراد ہے۔ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِقُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً (پھر اس نے توانائی کے بعد ضعف اور بڑھا پا بنادیا) ۔ شیبۃؔ سے انتہائی بڑھاپا مراد ہے اور یَخْلُقُ مَا یَشَآء (وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے) ضعف وناتوانی (بچپن) توانائی، شباب و جوانی اور بڑھاپا۔ وَھُوَ الْعَلِیْمُ (وہی ان کے احوال کو جاننے والے) الْقَدِیْرُ (بڑی قدرت والا ہے) اور ان کی تبدیلی پر کامل قدرت والے ہیں۔
فائدہ : احوال کا یہ عظیم رد وبدل علیم وقدیر صانع کی عظیم الشان قدرت کی دلیل ہے۔
قراءت : ضعف ؔ ہر تینوں مقامات پر ضؔ کا فتحہ عاصم اور حمزہ نے پڑھا اور ضادؔ کا ضمہ دیگر تمام قراء نے پڑھا جبکہ حفص فتحہ و ضمہ دونوں کو پڑھتے ہیں۔ درحقیقت یہ دونوں لغات ہیں۔ ضمہ و الی قراءت قوی تر ہے اس لئے کہ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے مِنْ ضَعْفٍ پڑھا تو آپ نے مجھے من ضُعْفٍ پڑھایا۔
Ayah 30:55قیامت کو ساعت کہنے کی وجہ :
55: وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ (اور جس دن قیا مت قائم ہوگی) ۔ الساعہؔ سے قیامت مرد ہے اس کے نام کی وجہ یہ ہے کیونکہ ساعات دنیا کے آخری ساعت میں پیش آئے گی۔ نمبر 2۔ کیونکہ وہ اچانک واقع ہوگی جیسا کہتے ہیں۔ فی ساعۃ اس کے جواب میں بولتے ہیں جو جلد بازی کا طالب ہو اور یہ قیامت کا نام بن گیا جیسا کہ الثریا کو نجم کہتے ہیں۔ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ( اور مجرمین قسمیں اٹھائیں گے) المجرمونؔ سے کافر مراد ہیں کہ کافر قسمیں اٹھائیں گے یہاں وقف نہ کریں گے۔
قلت وقت :
کیونکہ مَا لَبِثُوْا (وہ نہیں ٹھہرے) قبور میں یا دنیا میں غَیْرَ سَاعَۃٍ (سوائے ایک گھڑی کے) یہ جواب قسم ہے۔
نمبر 1: وہ قبور میں رہنے کی مدت کو قلیل ترین قرار دیں گے۔
نمبر 2: دنیا میں قیام کی مدت کو تھوڑا کہیں گے اس کا سبب قیامت کا ڈر اور قیامت کی سختیوں میں لمبی دیر تک انتظار کرنا۔
نمبر 3: وہ بھول کر تھوڑی مدت بیان کریں گے۔
نمبر 4ـ جھوٹ بولیں گے۔
کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ (اسی طرح وہ الٹا چلا کرتے تھے) اس پھرجانے کی طرح وہ دنیا میں سچائی سے جھوٹ کی طرف پھرجانے والے تھے اور یہ کہا کرتے تھے ماھی الاحیاتنا الدنیا وما نحن بمبعوثین کہ ہماری یہی دنیا ہی کی زندگی ہے۔ اور ہمیں اٹھایا نہ جائے گا۔
Ayah 30:56علم کی مراد :
56: وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ وَالْاِ یْمَانَ (اور وہ لوگ جن کو علم اور ایمان دیا گیا) ۔ اوتوا العلمؔ سے مراد نمبر 1۔ ملائکہ نمبر 2۔
انبیاء (علیہم السلام) اور مومن لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ (تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں رہے) کتاب سے مراد نمبر 1۔ وہ علم الٰہی جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور تقدیر اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ (قیامت کے دن تک) انہوں نے اس بات کی تردید کی جو کفار قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے اور ان کو حقیقت سے مطلع کیا پھر قیامت کے انکار پر کفار کو جو وہ خبردار کررہے تھے اس کے ساتھ ملاکر اس کو پیش کیا۔ فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (پس یہ قیامت کا دن ہے مگر تم جانتے نہ تھے) دنیا میں کہ وہ برحق ہے کیونکہ تلاش حق میں تم کوتاہی کرنے والے تھے اور اس کی اتباع سے گریزاں تھے۔
نحو : فاؔ ء یہ جواب شرط میں لائی گئی ہے سیاق کلام اس پر دلالت کر رہا ہے تقدیر کلام یہ ہے ان کنتم منکرین البعث فھذا یوم البعث الذی انکر تموہٗ اگر تم بعث کے انکاری ہو پس یہی تو بعث کا دن ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 30:5757: فَیَوْمَپذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس اس دن ظالموں کو فائدہ نہ دے گی) ۔
قراءت : کوفی قراء نے لا ینفع یاء ؔ سے پڑھا ہے۔ ظلموا کا معنی کفروا ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ مَعْذِرَتُھُمْ (ان کی
معذرت) یعنی عذر وَلَا ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (اور نہ ان کو تدارک کا موقعہ دیا جائے گا) یعنی ان کو یہ نہ کہا جائے گا لو توبہ کر کے اپنے رب کو راضی کرلو۔ جیسے کہتے ہیں۔ استعتبنی فلان فاعتبتہٗ ای استرضانی فار ضیتہٗ اس نے مجھے منایا پس میں مان گیا۔
Ayah 30:58ضد میں لوگوں کا حال :
58: وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ (اور ہم نے لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر طرح کے عمدہ مضمون بیان کئے ہیں) ۔ وَلَپنْ جِئْتَھُمْ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا (اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشانی لے کر آئیں تو کافر لوگ ضرور کہیں گے) مُبْطِلُوْنَ (تم محض غلط کہتے ہو) ۔ یعنی ہم نے ہر حالت بیان کردی جو کہ گویا اپنی غرابت میں ایک مثال ہے۔ اور ہم نے ہر عجیب شان والا واقعہ ان کے سامنے بیان کردیا جیسا کہ قیامت کے دن اٹھائے جانے والوں کی حالت اور ان کا قصہ اور جو کچھ وہ کہیں گے اور جو کچھ ان سے کہا جائے گا اور قعات ہونگے جو وہ کہیں اور ان کو جو کہا جائے گا اور یہ قابل سماعت ہوگا۔ لیکن دلوں کی سختی کے باعث جب بھی آپ ان کے سامنے قرآن مجید کی کوئی آیت پیش کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں تو ہمارے پاس جھوٹ و باطل لایا ہے۔
Ayah 30:5959: کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الَّذِیْنَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں) ۔ لَا یَعْلَمُوْنَ (جو نہیں جانتے) یعنی اس مہر کرنے کی طرح (الطبعؔ : مہر) اللہ تعالیٰ جہلاء کے دلوں پر مہر کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ وہ گمراہی کو پسند کریں گے یہاں تک کہ انہوں نے حق پرستوں کو باطل والا قرار دیا حالانکہ وہ بذات خود اس گمراہی کی صفت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
Ayah 30:60تسلی رسول ﷺ :
60: فَاصْبِرْ (سو آپ صبر کیجئے) پس آپ ان کی ایذاء پر صبر کریں یا ان کی عداوت و دشمنی پر صبر کریں۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ (بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ) جو اس نے تیرے دشمنوں کے خلاف تیری مدد کے متعلق کر رکھا ہے اور اسلام کو ہر دین پر غلبہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے یقینا سچا ہیحَقٌّ (برحق ہے) اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ اور پورا کرنا لازمی ہے۔ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ (اور ہرگز آپ کو وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے خفت پر آمادہ نہ کردیں) یعنی نمبر 1۔ یہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے آپ کو ہلکے پن اور بددعا میں عجلت پر آمادہ نہ کردیں۔
نمبر 1۔ اپنے اقوال و افعال سے گھبراہٹ میں ڈال کر آپ کو خفت اور قلق و اضطراب پر آمادہ نہ کردیں۔ اس لئے کہ یہ گمراہ اور شک کرنے والے ہیں۔ ان کی طرف سے یہ حرکت نئی نہیں۔
قراءت : لا یَسْتَخِفَّنَّکَ نون کے سکون سے یعقوب نے پڑھا ہے۔
واللہ الموفق للصواب