Ayahs 31:1–21، 2: اَلٓمَّ ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ۔ (الم یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں) ۔ الحکیمؔ کا معنی حکمت والی نمبر 2۔ الحکیمؔ صفت باری تعالیٰ ہے اور اس کو یہاں بطور اسناد مجازی کتاب کی صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 31:33: ھُدًی وَّرَحْمَۃً (جو کہ ہدایت و رحمت ہے )
نحو : یہ دونوں حال ہیں اور ان میں تلک اسم اشارہ کا معنی عامل ہے۔
قراءت : حمزہ نے ان کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس کی تقریر یہ ہے کہ تلک مبتدأ اور آیات الکتاب اس کی خبر ہے اور ھدی دوسری خبر ہے۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے ای ھو۔ نمبر 3۔ ھی ھدی ورحمۃ لِّلْمُحْسِنِیْنَ جو اگلے ارشاد میں مذکورہ نیکیوں کے حامل ہیں۔ الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکٰوۃ وھم بالآخرہ ھم یوقنون۔
Ayah 31:4ایمان والوں کی صفات :
4: الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ( جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر وہی یقین کرنے والے ہیں) اس کی نظیر اوس کا قول ہے۔
الا لمعیُّ الذی یظنَّ بک الظنّ ٭ کان قد رای وقد سمعا
اس میں الأ لمعیّ کی صفات بیان کی گئیں ہیں۔ نمبر 2۔ احسان ان لوگوں کیلئے ہے جو ان تمام اعمال کو انجام دینے والے ہیں۔ جو اچھے ہوں پھر ان میں سے خاص طور پر ان تینوں کو بوجہ افضیلت ذکر دیا۔
Ayah 31:55: اُوْلٰٓپکَ عَلٰی ھُدًی (وہ ہدایت پر ہیں۔ ) اولپک مبتدأ اور علی ھدًی خبر ہے۔ مِّنْ رَّبِِّھِمْ (اپنے رب کی ہدایت پر ہیں) یہ ھدًیکی صفت ہے۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (اور وہی کامیاب ہیں۔ ) : اس کا بھی ماقبل پر عطف ہے۔
Ayah 31:6اسلام سے غافل کرنے والی سزا :
6: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ (اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کو غافل کرنے والی باتیں خریدتے ہیں) ۔
فائدہ : یہ نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی وہ فارس کے بادشاہوں کے حالات خرید کرلے جاتا اور لوگوں کو کہتا محمد تمہیں عادو ثمود کے بعض واقعات سناتا ہے میں تمہیں فارسی بادشاہوں کے قصے سنائوں گا۔ کئی لوگ اس کی باتوں میں آکر قرآن مجید سننا چھوڑ دیتے۔ لہوؔ ہر وہ باطل جو لا یعنی ہو اور خیر سے غافل کر دے۔ لہوالحدیث جیسے رات کو بیان کی جانے والی حکایات جن کی کوئی اصل و حقیقت نہیں اور گانا بجانا۔
ابن عباس و ابن مسعودؓ قسم اٹھا کر کہتے کہ اس سے گانا بجانا مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ گانا دل کو بگاڑ دیتا ہے مال کو ختم کرتا ہے اور رب کی ناراضی ہے۔
ارشادِ نبوت ﷺ ہے جو آدمی گانے سے اپنی آواز بلند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دو شیطان مقرر کردیتے ہیں جن میں سے ایک ایک کندھے پر اور دوسرا دوسرے کندھے پر رقص کرتے اور ناچتے ہیں یہاں تک کہ یہ شخص خاموش ہوجائے۔ مجمع الزوائد (8/119) الاشتراءؔ یہ شراء کے معنی میں ہے جیسا کہ نضر بن حارث کے متعلق مذکور ہوا۔ یا نمبر 2۔ اشتروا الکفر بالایمان ] آل عمران : 177[ میں جس طرح استبدال اور اس کے مقابلہ میں اس کو اختیار کرنے کا معنی ہے۔ یہی معنی یہاں ہے یعنی وہ باطل بات کو حق بات کے مقابلہ میں اختیار کرتا ہے۔
فائدئہ اضافت :
الحدیث کی طرف لھوؔ کی اضافت بیانیہ ہے اور مِنْ کے معنی میں ہے کیونکہ لھو باتوں سے بھی ہوتا ہے اور باتوں کے علاوہ دوسری چیزوں سے بھی ہوتا ہے۔ تو الحدیث لا کروضاحت کردی اور یہاں الحدیثؔ سے مرادالحدیث المنکر ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے الحدیث فی المسجد یأکل الحسنات کما یأکل البھیمۃ الحشیش ] کشف الخفاء : 1/453[ نمبر 3۔ مِنؔ تبعیضیہ ہے گویا کلام اس طرح ہے ومن الناس من یشتری بعض الحدیث الذی ھو اللھو منہ بعض لوگ ایسے ہیں جو بعض باتوں کو جو کہ ان میں سے گانا ہے خریدتے ہیں۔ لِیُضِلَّ (تاکہ وہ گمراہ کرے) تاکہ وہ لوگوں کو اسلام میں داخلہ اور قرآن سننے سے ہٹائے اور روکے۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے لَیَضِلَّ پڑھا۔ اب معنی یہ ہے تاکہ وہ اپنی سابقہ گمراہی پر قائم رہے اور اس میں اضافہ کرے۔
عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) یعنی دین اسلام اور قرآن سے بِغَیْرِ عِلْمٍ (بےسمجھے بوجھے) یعنی وہ اس سے بیخبر ہے کہ اس پر کیا بوجھ اور سزا ہوگی۔ وَّیَتَّخِذَ ھَا (اور اس کو بنا لے) ھاؔ کی ضمیر سبیل کی طرف راجع ہے اس راستے کا مذاق اڑاتا ہے قراءت : کوفی قراء نے سوائے ابوبکر کے نصب سے پڑھا ہے اور اس کا عطف لیضل پر مانا ہے اور جنہوں نے یتخذھا رفع سے پڑھا انہوں نے اس کا عطف یشتری پر کیا۔ ھُزُوًا (مذاق )
قراءت ـ: یہ حفص کی قراءت ہے حمزہ نے سکون زایؔ اور ہمزہ سے پڑھا۔ دیگر قراء نے ضم زاء اور ہمزہ سے پڑھا ہے۔
اُولٰٓپکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ (یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ذلت والا عذاب ہے) مھینؔ جو ان کو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ منؔ یہ مبہم ہے اس لئے واحد و جمع دونوں پر اطلاق آسکتا ہے یعنی نضر اور اس جیسے دیگر۔
Ayah 31:7تدبر سے اعراض :
7: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا (اور جب اس کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ غرور سے پشت پھیر لیتا ہے۔ ) تکبر کرتے ہوئے تدبیر سے اعراض کرتا ہے اور قرآن کی طرف کان لگانے سے اپنے کو بلند قرار دیتا ہے۔ کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا (گویا اس نے سنا ہی نہیں) اس کی حالت اس شخص کے مشابہ ہے جس نے بات نہ سنی ہو۔
: یہ مستکبراؔ سے حال ہے یہ اصل میں کانَّہٗ ہے یہ ضمیر شان ہے اس کو حذف کردیا گیا۔
کَاَنَّ فِیْ اُذُنَیْہِ وَقْرًا (گویا اس کے کانوں میں بوجھ ہے) وقرثقل کو کہتے ہیں۔
نحو : یہ لم یسمعھا سے حال ہے۔
قراءت : نافع نے اذنیہٗ ذال کو سکون سے پڑھا ہے۔
فَبَشِّرْہُ بِِعَذَابٍ اَلَیْمٍ (پس تم اس کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو ) ۔
Ayah 31:88: اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ (بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے ان کے لئے نعمتوں والے باغات ہیں) ۔
نحو : اس پر وقف نہیں کیونکہ خالدین فیھا یہ لھم کی ضمیر سے حال ہے۔
Ayah 31:9دلائل قدرت :
9: خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں) وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا (اللہ تعالیٰ نے یہ سچا وعدہ کرلیا)
نحو : یہ دونوں مصدر مؤکد ہیں اول تو اپنے فعل کی تاکید کیلئے ہے اور دوسرا اپنے علاوہ دوسرے کی تاکیدکیلئے۔ اس لئے کہ لھم جنات النعیم، وعدھم اللّٰہ جنات النعیم کے معنی میں ہے۔ پس وعدؔ کے معنی کی تاکید وعدؔ سے کردی اور حقاؔ ثبات کے معنی پر دلالت کرتا ہے پس اس کے ذریعہ وعدؔ کے معنی کی تاکید کی گئی ہے اور ان دونوں کا مؤکدلَہُمْ جنات النعیم ہے۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست ہے) ایسا زبردست کہ اس پر کوئی شی غالب نہیں آسکتی۔ وہ اپنے دشمنوں کو دردناک عذاب سے ذلیل کرے گا۔ الْحَکِیْمُ (وہ حکمت والا ہے) ان افعال میں جو وہ کرتا ہے پس وہ اپنے دوستوں کو باقی رہنے والی نعمتوں سے ثواب عنایت فرماے گا۔
Ayah 31:1010: خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا (اس نے آسمانوں کو بلاستونوں کے پیدا کیا تم دیکھ رہے ہو) عمدٍ جمع عماد ہے۔ ترونہاؔ کی ضمیر آسمانوں کی طرف لوٹتی ہے یہ ان کے بغیر ستون ہونے پر ان کی رویت سے استشہاد پیش کیا ہے۔ جیسا کہتے ہیں انابلا سیف ولا رمح ترانی تو دیکھ تو رہا ہے کہ میں بغیر تلوار اور نیزے کے ہوں۔ نمبر 1۔ اس کا کوئی محل اعراب نہیں کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ نمبر 2۔ یہ محل جر میں عمد ٍ کی صفت ہو ای بغیر عمدمرئیۃٍ مطلب یہ ہوا کہ اس کے ستون نظر نہیں آتے اور وہ ان کو اپنی قدرت سے روکنا ہے۔ وَاَلْقٰی فِی الْاَ رْضِ رَوَاسِیَ (اور اس نے زمین میں پہاڑ ڈال دیے) جمے رہنے والے پہاڑ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ (کہ کہیں وہ تمہیں لے کر ڈانواں ڈول نہ ہوجائے) ۔ تاکہ وہ تمہاری وجہ سے مضطرب نہ ہوجائے۔ وَبَثَّ (اور اس نے پھیلادیے) فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآ ئً فَاَنْبَتْنَا فِیْھََا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ (اس میں ہر قسم کے جانور اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پس اس سے اگا دیئے ہر طرح کے عمدہ اقسام) زوجؔ یہاں صنف وقسم کے معنی میں ہے کریمؔ (خوبصورت ‘ عمدہ ) ۔
Ayah 31:11اصنام کی عبادت کی وجہ ؟
11: ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے) ھذا سے ماقبل مذکورہ مخلوقات کی طرف اشارہ ہے۔ خلق اللہ کا معنی مخلوق ہے۔ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (پس تم مجھے دکھائو جو اس کے سوا ہیں انہوں نے کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں) من دونہٖ سے ان کے آلہہ مراد ہیں۔ ان کو لاجواب کیا گیا کہ یہ تمام بڑی بڑی اشیاء تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ پس تم مجھے دکھلائو کہ انہوں نے کیا چیزپیدا کی ہے جس کی وجہ سے تم پر ان کی عبادت لازم ہوگئی۔ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (بلکہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں) اس میں ان کے لاجواب کرنے سے اعراض کرتے ہوئے ان کے ورطہ گمراہی میں ڈوبنے کا ذکر کیا کہ وہ ایسی گمراہی میں پڑے ہیں جس سے بڑھ کر کوئی گمراہی نہیں ہے۔
Ayah 31:12حضرت لقمان (رح) کے نصائح :
12: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ (اور ہم نے لقمان کو دانشمندی عطاء فرمائی) ۔ یہ لقمان (رح) بن باعوراء ہیں۔ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے نمبر 2۔ یا خالہ زاد ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آزر کی اولاد سے تھے انہوں نے ایک ہزار سال عمر پائی حضرت دائود (علیہ السلام) کا زمانہ پایا۔ اور ان سے علم حاصل کیا یہ بعثت دائود (علیہ السلام) سے قبل فتویٰ دیتے تھے۔ جب وہ مبعوث ہوئے تو فتویٰ چھوڑ دیا۔ ان سے کہا گیا کہ تم نے فتویٰ کیوں چھوڑا اور انہوں نے جواب دیا۔ میں کیوں اکتفاء نہ کروں (وحی پر) جب میری کفایت کردی گئی ] دائود (علیہ السلام) پر وحی بھیج کر [۔
ایک قول یہ ہے یہ درزیوں کا کام کرتے تھے ایک اور قول یہ ہے کہ یہ بڑھئی تھے قول دیگر میں ان کو چرواہا بتلایا گیا۔ ایک قول میں ان کو بنی اسرائیل کا قاضی بتلایا گیا۔ عکرمہ وشعبی رحمہما اللہ کا قول یہ ہے کہ یہ پیغمبر تھے۔ جمہور علماء رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ یہ دانشمند تھے۔ پیغمبر نہ تھے ایک قول یہ ہے ان کو نبوت و حکمت میں اختیار ملا تھا۔ انہوں نے حکمت کو اختیار کیا۔ حکمت بات کی تہہ میں پہنچنا اور صحیح عمل کرنا۔ قول دیگر : انہوں نے ایک ہزار پیغمبروں کی شاگردی کی اور ایک ہزار پیغمبر ان کے ساتھ رہے۔ (قول جمہور) کے علاوہ بقیہ تمام اقوال اسرائیلی معلوم ہوتے ہیں (فافہم) اَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ (کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرو) ان مفسرہ ہے معنی یہ ہے اشکر للہ کیونکہ ایتائے حکمت یہ قولؔ کے معنی میں ہے۔
تنبیہ : اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ اصل حکمت اور حقیقی ان پر عمل پیرا ہونا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا شکر یہی حکمت و علم ہے اس لئے کہ ایتائے حکمت کی تفسیر شکر یہ پر برانگیختہ کر کے فرمائی۔
ایک قول یہ ہے کہ آدمی اس وقت دانشمند ہوتا ہے جب وہ اپنے قول، فعل، معاشرت، دوستی میں عقل مند ہو۔ سری سقطی (رح) کا قول شکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے معاملے میں اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ جنید (رح) : کیا تم اس کی نعمتوں ( کے عنایت کرنے) میں اس کا کوئی شریک دیکھتے ہو۔ ایک قول یہ ہے یہی تو شکریہ سے عاجزی کا اقرار ہے۔
فائدہ : دل کا شکریہ معرفت اور زبان کا شکریہ حمد ‘ ارکان کا شکریہ طاعت اور ان میں ہر ایک میں اپنی عاجزی کو پیش نظر رکھنا تمام کے مقبول ہونے کی دلیل ہے۔
وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ (جو شخص شکر کرے گا۔ وہ اپنے ذاتی فائدہ کیلئے شکر کرے گا) کیونکہ اس کا نفع لوٹ کر اسی کو ملے گا۔ پھر وہ اور کا طالب ہوگا۔ وَمَنْ کَفَرَ ( اور جو شخص ناشکری کرے گا) نعمتوں کی فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ (تو اللہ تعالیٰ بےنیاز) کسی کے شکریہ کے محتاج نہیں۔ حَمِیْدٌ (خوبیوں والے ہیں) وہ حمد کے حقیقی حقدار ہیں اگرچہ ان کی کوئی بھی حمد نہ کرے۔
Ayah 31:1313: وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ (اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا ) ۔
نحو : اذیہ اذکر فعل محذوف کے متعلق ہے۔ ابنہؔ بیٹے کا نام انعم یا اشکم تھا۔
وَھُوَ یَعِظُہٗ یٰـبُنَیَّ (اور وہ اس کو نصیحت فرما رہے تھے اے بیٹے ! )
قراءت : یا بُنَی یہ مکی کی قراءت ہے یَابُنَیَّ یہ حفص کی قراءت ہے۔ تمام قرآن میں یہ لفظ فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے گا۔
شرک سے گریز کرو :
لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرا بیشک شرک کرنا بڑا بھاری گناہ ہے) کیونکہ یہ اس کے درمیان جو ہر نعمت کا حقیقی مالک ہے اور اس کے درمیان جو کسی ایک نعمت کا بھی مالک نہیں برابری کرنا ہے۔
Ayah 31:14ماں ‘ باپ کی خدمت کرو :
14: وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ (اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق تاکید کی ہے) ۔ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ (اس کی ماں نے ضعف پر ضعف برداشت کر کے اس کو اٹھایا) اس کو اٹھایا اس حال میں کہ وہ کمزوری در کمزوری اٹھا رہی تھی یعنی اس کی کمزوری روبترقی تھی اور بڑھ رہی تھی۔ جوں جوں حمل بڑھتا ہے اور بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو بوجھ اور ثقل زیادہ ہوجاتا ہے۔ وَّ فِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ (اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے) دو سالوں کی تکمیل پر اس کا دودھ چھوڑا دیا جاتا ہے۔ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَا لِدَیْکَ (تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکرگزاری کیا کر) یہ وصیناؔ کی تفسیر ہے۔ یعنی ہم نے اسے اپنے اور والدین کے شکریہ کی تاکید فرمائی ہے۔ اور حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین یہ جملہ معترضہ ہے جو مفسر اور تفسیر کے درمیان میں حائل ہے۔ کیونکہ جب والدین کے سلسلہ میں تاکید فرمائی گئی تو ماں جو اولاد کی خاطر تکالیف برداشت کرتی اور اس کے حمل کے دوران جن مشقتوں کا اسے سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس طویل مدت ِرضاعت اور پھر دودھ چھوڑانے میں جو پریشانیاں اس کو پیش آتی تھیں ان کو ذکر کردیا۔ تاکہ انفرادی طور پر اس کے عظیم حق کو یاد رکھا جائے۔
اللہ تعالیٰ کے حق میں والدین کی مداخلت جائز نہیں :
قول ابن عینیہ (رح) : جس نے پانچوں نمازیں پڑھیں اس نے گویا اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور جس نے والدین کے لئے پانچوں نمازوں کے بعد دعا کی اس نے ان کا گویا حق شکریہ ادا کردیا۔ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ (تم نے میرے پاس لوٹ کر آنا ہے) ۔ تمہارا انجام میرے پاس اور تمہارا حساب میرے ذمہ ہے۔
Ayah 31:1515: وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ (اور اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک) بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (بنائے جس کی تیرے پاس دلیل نہ ہو) نفی علم سے نفی شریک مراد ہے یعنی تو میرے ساتھ اس چیز کو مت شریک ٹھہرا جس کی کچھ حقیقت نہیں۔ مراد اس سے اصنام ہیں۔ فَلاَ تُطِعْہُمَا (تو تو ان کا کہنا نہ مان) شرک کے سلسلہ میں وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا (اور ان کے ساتھ رہ دنیا میں خوبی کے ساتھ) معروف یہ مصدر محذوف کی صفت ہے ای صاحبھما صحابا معروفًا۔ اس کے معنی میں خوبی اور خوبصورت اخلاق اور حلم و حوصلہ اور بر ّو صلہ رحمی سب کچھ ہی داخل ہے۔ وَّا تَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ (اور تو چل اس شخص کے راستہ پر جو میری طرف رجوع کرنے والا ہو) ۔ مطلب یہ ہے ایمان والوں کے راستہ کو اختیار کرو اور والدین جو مشرک ہوں ان کے راستہ پر نہ چل اگرچہ تمہیں ان کے ساتھ دنیاوی اعتبار سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ ابن عطاء نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو اس کی دوستی اختیار کر جس پر میری خدمت کے انوار ہوں۔ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ (پھر تم نے میرے پاس لوٹنا ہے) یعنی تمہارا اور ان کا مرجع میری بارگاہ ہی ہے۔ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پھر میں تم کو جتلائو نگا وہ اعمال جو تم کرتے تھے) ۔ پس تمہارے ایمان پر بدلہ دونگا۔ اور ان کے کفر پر ان کو سزا دونگا۔
ان دونوں آیات سے بطور استطراد وصیت لقمان کی تاکید و تائید ہو رہی ہے جو انہوں نے امتناع شرک کے سلسلہ میں فرمائی وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے سلسلہ میں تاکید کی اور یہ بھی حکم دیا کہ شرک کے سلسلہ میں تم ان کی بات نہ ماننا خواہ وہ اس کے لیے کتنی کوشش کریں۔ کیونکہ شرک قبیح ترین چیز ہے۔
Ayah 31:16نصائح لقمان ‘ حقوق اللہ اور حقوق عباد :
16: یٰبُنَیَّ اِنَّھَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے برابر ہو ) ۔
قراءت : مثقالؔ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور حبہ کی طرف اضافت کی وجہ سے مثقال مؤنث ہے اسلئے فعل مؤنث لا یا گیا ہے انھا کی ضمیر قصہ ہے جیسا کہ شاعر کا قول ہے۔ کما شرقت صدر القناۃ من الدم۔ (جس طرح نیزے کا سینہ خون سے چمکتا ہے ) ۔
اور کانؔ تامہ ہوگا۔ باقی تمام قراء نے نصب سے پڑھا ہے اور ضمیر کا مرجع وہ ہیئت ہے خواہ اچھی ہو یا بری مطلب یہ ہے اگرچہ وہ چیز چھوٹائی میں رائی کے دانے کی طرح ہو۔
فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ (پھر کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمانوں کے اندر ہو) وَفِی الْاَرْضِ (یا وہ زمین کے اندر ہو) مطلب یہ ہے کہ اپنی چھوٹائی کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی مخفی مقام پر اور محفوظ ترین جگہ میں واقعہ ہو۔ جیسے پتھر کا جوف و باطن یا عالم علوی میں جس جگہ ہو۔ یا عالم سفلی کے ظلمات میں پڑی ہو۔
اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے اس سے مراد وہ چٹان ہے جس پر زمین قائم ہے اور وہی سجین ہے جس میں کفار کے اعمال لکھے جاتے ہیں۔ اور وہ زمین میں نہیں۔ یَاْتِ بِھَا اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ اسے لے ہی آئے گا) قیامت کے دن اور اس کے کرنے والے سے اس کا محاسبہ کیا جائے گا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین باخبر ہیں) ۔ اس کا علم ہر مخفی سے مخفی تر کو پہنچنے والا ہے اور اس کی حقیقت سے باخبر ہے یا نمبر 2۔ اس کے نکالنے میں باریک بین ہے۔ اور اس کے مستقر و مقام سے باخبر ہے
Ayah 31:1717: یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ (بیٹا ! نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں) بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہٗ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی (کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر) جو مَآ اَصَابَکَ (مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر) ۔ ما اصابکؔ سے مراد جو اللہ تعالیٰ کی طرف معروف کی دعوت دیتے ہوئے اور نہی عن المنکر کرتے ہوئے تکلیف آئے۔ نمبر 2۔ یا جو مشقتیں تجھے پہنچیں کیونکہ وہ بندے کو عطیے کا حقدار بنا دیتی ہیں۔
اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ) جو نصائح میں نے تمہیں کی ہیں۔ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (ہمت کے کاموں میں سے ہے) یعنی ان کاموں میں سے ہیں جن کو اللہ نے قطعی طور پر واجب و لازم کردیا یعنی ان کا قطعی حکم دے دیا۔ عزمؔ بمعنی معزومات ہے گویا مفعول کو مصدر سے تعبیر کردیا۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ قطعیات و فرائض میں سے ہے۔
فائدہ : اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ عبادات و طاعات تمام امم میں مامور بھا تھیں۔
Ayah 31:1818: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ (اور تو لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر) یعنی تکبر کی وجہ سے ان سے اعراض و بےرخی اختیار نہ کر۔
قراءت : ابو عمرو اور نافع، حمزہ، علی نے تُصَاعر پڑھا ہے اور اس کا معنی تصعر ہی کا ہے۔ الصِعرؔ اس بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کو لگتی ہے تو اس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے حاصل یہ ہوا تواضع کے ساتھ اپنے چہرے سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو ان سے اپنے چہرہ کی جانب اور پیشانی کو مت موڑ جیسا کہ متکبرین کیا کرتے ہیں۔
وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا (اور زمین پر اکڑ کر مت چل) ۔ یعنی نمبر 1۔ مت چل زمین پر کہ تو اترا رہا ہو اترانا۔ نمبر 2۔ مرحاً مصدر ہے جو کہ حال واقع ہے نہ چل اس حال میں کہ تو اترارہا ہو۔ نمبر 3۔ لاتمش لاجل المرح۔ اکڑنے کیلئے مت چل۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍِ فَخُوْرٍ ۔ (بیشک اللہ تعالیٰ ہر تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتے) مختالؔ متکبر کو کہتے ہیں فخورؔ جو بڑائی کیلئے اپنے مناقب گنائے۔
Ayah 31:19چال میں میانہ روی :
19: وَاقْصِدْ (اعتدال اختیار کر) القصدؔ بلندی و پستی کے درمیان میانہ روی۔ فِیْ مَشْیِکَ ( اپنی رفتار میں) اعتدال اختیار کرو تاکہ وہ رفتار دونوں کے درمیان ہو۔ نہ تو رینگ کر چلو جیسے بےجان چلتے ہیں اور نہ لپک کرچلو جیسے چھچھورے کرتے ہیں۔ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا رفتار کی تیزی مومن کے وقار کو زائل کردیتی ہے۔ (ابو نعیم فی الحلیۃ 10/290)
قولِ عائشہ ؓ کی تاویل :
حضرت عائشہ ؓ نے عمر فاروق ؓ کے بارے میں جو فرمایا کان اذا مشی اسرع۔ اس کا مطلب ! یہ وہ تیزی ہے جو رینگنے والے کی چال سے بڑھ کر ہو۔
قول ابن مسعود ؓ :
صحابہ ؓ کو یہود کے لپک کر چلنے اور عیسائیوں کی طرح رینگنے سے منع کیا جاتا۔ اور اس کے درمیان چلنے کا حکم دیا جاتا۔ ایک قول یہ ہے تم تواضع کرتے ہوئے اپنے قدموں کی جگہ پر نظر رکھو۔ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ (اور تو اپنی آواز کو پست کر) اپنی آواز کو ہلکا کراِنَّ اَنَکَرَ الْاَصْوَاتِ (بیشک سب سے بری آواز آوازوں میں سے) سب سے زیادہ وحشت ناک لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ (البتہ گدھے کی آواز ہے) کیونکہ اس کی ابتداء زفیر اور انتہاء شہیق ہے جیسا کہ جہنم والوں کی آواز ہوگی۔
قولِ سفیان ثوری m :
ہر جانور کی چیخ تسبیح ہے سوائے گدھے کے۔ وہ شیطان کو دیکھ کر ہینگتا رہتا ہے اسی لئے اس آواز کو منکر فرمایا۔
مسئلہ : آواز بلند کرنے والوں کو گدھے سے تشبیہ دی اور ان کی آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیہ دے کر اشارہ کردیا۔ کہ آواز کا بلند کرنا انتہائی مکروہ ہے اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ آپ ﷺ کو ہلکی و پست آواز والا شخص پسند تھا۔ اور زور دار آواز والے کو ناپسند کرتے تھے۔
مسئلہ : گدھے کی آواز کو واحد ذکر کیا جمع نہیں لائے۔ کیونکہ ہرجنس میں سے ہر ایک آواز کا ذکر کرنا مراد نہیں کہ جمع لانے کی ضرورت ہو بلکہ یہاں مقصود یہ ہے۔ کہ ہر جنس حیوان کی ایک آواز ہے اور ان اجناس میں سے بدترین آواز اس جنس کی ہے اسلئے اس کا واحد لانا ضروری تھا۔
Ayah 31:20دلائل قدرت :
20: اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ (کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام آسمان کی چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے) یعنی سورج، چاند، ستارے ‘ بادل وغیرہ مراد ہیں۔ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اور جو کچھ زمین میں ہے) وہ بھی یعنی سمندر، دریا، کانیں، چوپائے وغیرہ۔ وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ (اور اس نے پوری کر رکھی ہیں تم پر) نِعَمَہُ (اپنی نعمتیں)
قراءت : نِعَمَہٗ ، مدنی، ابوعمرو، سہل، حفص نے عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ نِعْمَہٗ دیگر قراء نے سکون عین سے پڑھا ہے۔
تعریف ِنعمت :
ہر وہ فائدہ جس سے احسان کا ارادہ کیا جائے۔
ظَاھِرَۃً (ظاہر ی) جو مشاہدہ میں آنے والی ہیں۔ وَّ بَاطِنَۃً (اور باطنی) جو دلیل سے معلوم ہوتی ہیں۔ ایک اور قول ہے کہ نمبر 1۔ ظاہری نعمتیں، آنکھ، کان، زبان، تمام اعضاء ظاہرہ، نمبر 2۔ باطنی نعمتیں، دل، عقل، فہم، اور جو اس کے مشابہ ہیں۔
دُعائے موسیٰ d:
میں یہ کلمات ہیں : الھی ! دلَّنی علی اخفیٰ نعمتک علی عبادک اے اللہ مجھے اپنے بندوں پر مخفی ترین نعمت کے بارے میں بتلائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اخفی نعمتی علیہم النفس میری سب مخفی سے نعمت بندوں پر وہ جان ہے۔
قولِ دیگر :
شرائع کی تخفیف ذرائع، وسائل کا بڑھانا، پیدا کرنا، اخلاق وعطایا کا پانا، مصائب کا دور کرنا اور پھیر دینا مخلوق کا مقبول ہونا، رب کی رضامندی۔
قول ابن عباس ؓ :
ظاہری نعمتیں ! تخلیق کو درست بنانا۔ باطنی نعمتیں ! عیوب کو چھپانا۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ (اور بعض آدمی ایسے ہیں جو بغیر واقفیت اور) وَّ لَا ھُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ (بغیر دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہیں) ۔
مسئلہ : یہ نضر بن حارث کے متعلق اتری۔ سورة حج میں ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 31:2121: وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کا اتباع کرو جو) قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآ ئَ نَا (اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے وہ کہتے ہیں بلکہ ہم تو اسی کی اتباع کریں گے) ۔ اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی (جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے۔ کیا اگر شیطان ان کو عذاب) عَذَابِ السَّعِیْرِ (دوزخ کی طرف) بلاتا ہو تب بھی ( یہ ان کی اتباع کریں گے) اگر شیطان ان کو عذاب نار کی طرف دعوت دیتا رہا ہو۔
Ayah 31:22مضبوط کھونٹے والا :
22: وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗ اِلَی اللّٰہِ (جو شخص اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دے) ۔
نحو : یہاں اسلمؔ کو الی کے ذریعے متعدی بنایا گیا ہے جبکہ بل من اسلم وجھہ للہ ] البقرہ : 112[ میں لام سے متعدی بنایا گیا ہے۔ لام کے ساتھ اس کا معنی یہ ہے اس نے اپنی ذات اور نفس اس طرح کردیا کہ وہ سالم یعنی خالص ہے اللہ تعالیٰ کیلئے۔
الی کے ساتھ اس کا معنی یہ ہے اس نے سپرد کردیا اپنے نفس کو اس طرح کہ جیسے سامان کسی شخص کے سپرد کیا جاتا ہے مراد اس سے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی بارگاہ میں سپر دگی ہے۔
وَھُوَ مُحْسِنٌ (اس حال میں کہ مخلص ہو) ان کاموں میں جو کرے فَقَدِ اسْتَمْسَکَ (پس اس نے تھام لیا) اور وہ چمٹ گیا استمساک، یہ تمسک اور تعلق کے معنی میں ہے۔
بِالْعُرْوَۃِ (مضبوطڑے کو) العروۃ : وہ کھونٹا جس سے کسی چیز کو لٹکایا جائے۔ الْوُثْقٰی (مضبوط) یہ اوثق کی مؤنث ہے اس آیت میں متوکل کی حالت کو اس آدمی کی حالت سے مثال دی گئی جو بلند چوٹی سے نیچے لٹکنا چاہتا ہے۔ اس نے احتیاط کرتے ہوئے مضبوط رسی والے کھونٹے کو تھام لیا جو انقطاع سے محفوظ و مامون ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ (اور تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پہنچے گا۔ ) یعنی اس ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں پس وہ ان پر بدلہ دیگا۔
Ayah 31:2323: وَمَنْ کَفَرَ (اور جس نے کفر کیا) اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپر دنہ کیا۔ فَلاَ یَحْزُنْکَ کُفْرُہٗ (اس کا کفر آپ کو غم میں مبتلا نہ کرے) ۔
قراءت : نافع نے یُحْزِنک پڑھا ہے۔ حزن واحزن جو کفر اختیار کرتا ہے اس کا کفر آپ کو غمزدہ نہ کرے۔
اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ فَنُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا (ان سب کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے پس ہم ان کو بتلا دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے) پس ہم ان کو ان کے اعمال پر سزا دیں گے۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں کو جاننے والے ہیں) بلاشبہ اللہ کو اپنے بندوں کے سینوں کی باتوں کا علم ہے پس اس کے مطابق ان سے سلوک کرے گا۔
Ayah 31:2424: نُمَتِّعُھُمْ (ہم ان کو عیش دیے ہوئے ہیں) ایک مدت تک قَلِیْلًا (تھوڑی) دنیا میں ثُمَّ نَضْطَرُّھُمْ (پھر ہم ان کو مجبور کریں گے) کشاں کشاں لے جائیں گے۔ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ (ایک سخت عذاب کی طرف) عذاب کے لازم اور لاحق ہونے کو مضطر و مجبور کے اضطراء سے تشبیہ دی ہے۔ الغلظؔ کا لفظ جو سخت اجسام کیلئے آتا ہے۔ عذاب کی شدت ظاہر کرنے کے لئے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ اصل مقصود یہاں عذاب پانے والے پر بوجھ وشدت ہے۔
Ayah 31:2525: ولَپنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ (اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کس نے آسمان و زمین) وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ (کو پیدا کیا تو وہ ضروریہی جو اب دیں گے اللہ تعالیٰ نے) آپ کہہ دیجئے الحمد للہ یہ الزام بطور اقرار ہے کہ وہ ذات جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا وہی اللہ وحدہ لاشریک ہے اسی ہی کیلئے حمدو شکر واجب ہے۔ اور لازم ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے۔ پھر فرمایا۔
بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (بلکہ ان کی اکثریت جانتی نہیں) کہ یہ بھی ان پر لازم ہے۔ اور جب ان کو خبردار کیا جاتا ہے تو خبردار نہیں ہوتے۔
Ayah 31:2626: لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ) ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (وہی بےنیاز خوبیوں والا ہے) الغنی یعنی تعریف کرنے والوں کی حمد سے بےنیاز۔ الحمیدؔ حمد کا حقدار ہے۔ خواہ وہ اس کی تعریف نہ بھی کریں۔
Ayah 31:2727: مشرکین نے کہا یہ وحی عنقریب ختم ہوجائے گی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر بتلادیا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ختم نہیں ہوسکتا۔ وَلَوْاَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ (اور اگر جتنے درخت زمین میں ہیں قلمیں بن جائیں) ۔ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّ ہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍمَّا نَفِدَتْ (اور یہ سمندر اور اس کے ساتھ سات اور سمندر شامل ہوجائیں) ۔ کَلِمٰتُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں) ۔
قراءت : ابوعمرو اور یعقوب نے البَحَر کو فتحہ سے پڑھا ہے۔ ان کے اسم پر عطف کیا ہے۔ اور وہ ماؔ ہے اور بقیہ قراء جنہوں نے رفع پڑھا ہے نمبر 1۔ انہوں نے ان ؔ کے محل اور معمول پر عطف کیا ہے تقدیر کلام اس طرح ہوئی ولو ثبت کون الاشجارا اقلاما وثبت البحر ممدودًا بسبعۃ ابحر۔ اگر درختوں کی قلمیں بن جائیں اور موجودہ سمندر سات سمندروں کے ساتھ مل جائیں۔ نمبر 2۔ رفع کی دوسری وجہ یہ جملہ ابتدائیہ ہے اور وائو حالیہ ہے اس صورت میں معنی یہ ہوگا ولوان الاشجار قلام فی حال کون البحر ممدودًا اگر درخت اقلام ہوں اس حال میں کہ سمندروں کے ساتھ اور سمندر ملائے ہوئے ہوں۔ یَمُدُّہ کو یُمِدُّہٗ بھی پڑھا گیا ہے۔
نکتہ : کلام کا تقاضا یہ تھا کہ اس طرح کہا جاتا ولو ان الشجر اقلام والبحر مداد۔ لیکن مداد کے ذکر کی ضرورت کو یمدؔ نے پورا کردیا کیونکہ اہل عرب کہتے ہیں مد الدواۃ وامدّہا گویا بحر اعظم کو بمنزلہ دوات قرار دیا۔ اور سات بھرے سمندروں کو سیاہی قرار دیا کہ وہ اپنی سیاہی اس دوات میں پلٹتے رہیں ذرا انقطاع واقع نہ ہو۔
آیت کا معنی یہ ہے اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بن جائیں اور موجودہ سمندر جن کے ساتھ سات اور سمندر مل کر سیاہی بن جائیں اور وہ قلمیں اس سیاہی سے اللہ تعالیٰ کے کلمات کو لکھنا شروع کریں اور لکھتی رہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہونگے قلم اور سیاہی ختم ہوجائے گی جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا قل لوکان البحر مدادًا لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ] الکہف : 19[
اعتراض : والبحر یمدہ۔ رفع کی ایک صورت میں حال واقع ہے۔ لیکن اس میں کوئی ضمیر نہیں پائی جاتی جو ذورالحال کی طرف راجع ہو ؟
جواب : یہ اس محاورہ کی طرح ہے صجئت والجیش مصطف اور اس طرح کے دوسرے حال جو ظروف کی طرح مستعمل ہوتے ہیں۔
ایک نحوی نکتہ :
شجرہ کو واحد ذکر کیا گیا کیونکہ شجر کی تفصیل اور ایک ایک درخت کر کے پڑتال مراد ہے۔ یہانتک کہ کوئی جنس شجر اور کوئی درخت باقی نہ رہ جائے کہ جس کی اقلام نہ بنائی گئی ہوں۔ اسی طرح یہاں کلمات جمع قلت کو کَلِمٌ پر ترجیح دی حالانکہ وہ جمع کثرت ہے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے اس کے کلمات سمندروں کے ساتھ لکھے جانے سے جب ختم ہونے والے نہیں تو کلام سے کیسے ختم ہوسکتے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ (بیشک اللہ تعالیٰ زبردست ہیں) اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔ حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) اس کے علم و حکمت سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ پس اس کے کلمات و حکم ختم نہ ہونگے نہ ہوسکتے ہیں۔
Ayah 31:28اللہ تعالیٰ کو ایک شان ‘ دوسری شان سے غافل نہیں کرتی :
28: مَاخَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّ احِدَۃٍ (تمہارا پیدا کرنا اور اٹھایا جانا ایک جان کی طرح ہے) ای الَّا کَخْلق نفس واحدۃ خلق کا لفظ حذف کردیا گیا کیونکہ وہ معلوم و معروف ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے قلیل و کثیر کا فرق نہیں اس کو ایک شان دوسری شان سے غافل نہیں کرسکتی۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (بیشک اللہ ہر بات کو سننے والے ہیں) جو مشرکین کہہ رہے ہیں کہ بعث بعد الموت نہیں ہے۔ بَصِیْر ( اور ہر چیز کو دیکھنے والے ہیں) جو اعمال وہ کرتے ہیں پس وہ ان کا بدلہ انہیں دیں گے۔
Ayah 31:2929: اَلمْ تَرَانَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِیْ النَّہَارِ (اے مخاطب کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے) رات کی ظلمت کو ضوئِ نہار میں داخل کردیتا ہے جبکہ رات آتی ہے۔ وَ یُوْلِجُ النَّہَارَ فِیْ الَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے شمس و قمر کو کام میں لگا دیا) بندوں کے منافع کیلئے۔ کُلّ (سورج و چاند میں سے ہر ایک) یَّجْرِیْ (اپنے مدار میں چل رہا ہے) اور اس کو طے کر رہا ہے۔ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مدت مقررہ کیلئے) قیامت کے دن تک یا وقت معلوم تک جیسے سورج سال بھر کیلئے اور چاند ہر مہینہ کے آخر تک وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اور بیشک اللہ تعالیٰ جو تم اعمال کرتے ہو ان سے مطلع ہیں) ۔
قراءت : تعلمون کو یاء کے ساتھ عیاش نے پڑھا ہے۔
ایک نکتہ :
دن رات کا آناجانا اور ان میں اضافہ اور کمی اور سوج و چاند کا اپنے اپنے مداروں میں گھومنا ایک اندازے اور حساب کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اور اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ اپنی مخلوق کے تمام اعمال کا احاطہ کرنے والے ہیں اور یہی چیز اس کی عظیم قدرت اور کمال حکمت کا ثبوت اور اعلیٰ دلیل ہے۔
Ayah 31:30اللہ عزوجل ہستی میں کامل ہے :
30: ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ (اور یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے) وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (اور جن چیزوں کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں) ۔
قراءت : یدعون یاء کے ساتھ سوائے ابوبکر کے باقی عراقی قراء نے پڑھا ہے۔
الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ (وہ باطل ہے اور بیشک اللہ وہی عالی شان و بڑا ہے) ۔ یعنی یہ صفت جو اس کی بیان کی گئی ہے یہ اس کی قدرت کے عجائبات اور اس کی ایسی حکمت میں سے ہے جس سے زندہ لوگ جن کو کچھ قدرت و علم بھی حاصل ہے۔ وہ بھی عاجز ہیں تو وہ جماد بت جن کو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں ان کو کیونکر قدرت حاصل ہوسکتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ الوہیت برحق اسی ہی کی ذات کیلئے ثابت ہے اور اس کے علاوہ سب کی الوہیت باطل ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بلندو عالی شان اور بڑی دبدبے والی ہے۔
Ayah 31:3131: اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ (کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کشتیاں سمندر میں) اللہ تعالیٰ کے بِنِعْمَتِ اللّٰہِ (فضل سے چلتی ہے۔ )
قراءت : الفُلْکَ کو الفُلُک بھی پڑھا گیا ہے۔
ایک کلیہ :
اس کے لئے قانون یہ ہے کہ ہر وہ لفظ کہ جو فُعْلٌ کے وزن پر ہو اس کے عین پر ضمہ جائز ہے جیسا کہ فُعُلٌ کو فُعْلٌ پڑھنا جائز ہے۔ نعمت اللہ ؔ کا معنی احسان و رحمت ہے یا ہوا کی نعمت سے تعبیر کیا کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے۔ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ ٰایٰتِہٖ (تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے) سمندر میں اپنی قدرت کے عجائبات دکھائے جب تم سمندر میں سفر کرو۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ (بلاشبہ اس میں ہر ایسے شخص کیلئے جو صابر) اس کی طرف سے آنے والے ابتلاء پر شَکُوْرٍ (شاکر کیلئے نشانیاں ہیں) جو اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والا ہے۔ یہ دونوں مومن کی صفات ہیں، ایمان کے دو حصے ہیں نمبر 1۔ نصف شکر نمبر 2۔ نصف صبر۔ گویا اس طرح فرمایا : ان فی ذلک لا یات لکل مومن کہ اس میں ہر مومن کیلئے عبرت کی نشانیاں ہیں۔
Ayah 31:32مصیبت میں وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں :
32: وَاِذَا غَشِیَہُمْ (اور جب ان کو گھیر لیتی ہیں) یعنی کفار کو مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ (سائبانوں کی طرح امواج) موج بلند ہو کر جب لوٹتی ہے تو سائبان کی طرح بن جاتی ہے۔ الظلل یہ ظلۃ کی جمع ہے۔ ہر وہ چیز جو تمہیں سایہ دے خواہ پہاڑ ہو یا بادل اور شئی دیگر۔ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجّٰہُمْ (وہ اللہ تعالیٰ کو خالص اعتقاد کر کے پکارتے ہیں پھر جب ان کو نجات) اِلَی الْبَرِّ فَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ (دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے پس ان میں سے بعض اعتدال پر رہتے ہیں) مقتصدؔ کا معنی ایمان و اخلاص پر باقی رہنے والے ہیں جو ایمان پہلے ظاہر ہوا تھا اور وہ کفر کی طرف نہیں لوٹتے۔ نمبر 2 کفر و ظلم میں زیادہ نہیں بڑھتے بلکہ درمیانے درجہ میں رہتے ہیں اور کچھ ڈانٹ ڈپٹ قبول کرتے ہیں کفر میں غلو اختیار نہیں کرتے۔ نمبر 3۔ اخلاص میں میانہ رو ہیں وہ اخلاص جو سمندر میں ان سے ظاہر ہوا مطلب یہ ہے اخلاص وقتی ہے جو خوف کے موقعہ پر پیدا ہوا یہ کسی میں بھی باقی نہیں رہتا۔ اور ایسے میانہ رو بھی نادر و نایاب ہیں۔ وَمَا یَجْجَدُ بِاٰیٰتٰنَا (اور ہماری آیات کا انکار فقط وہ لوگ کرتے ہیں) یعنی آیات کی حقیقت کا انکار اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ (جو بد عہد و غدار ہوتے ہیں) ۔ الخترؔ (بدترین غداری) ۔ کَفُوْرٍ (ناشکرے ہیں) اپنے رب تعالیٰ کے۔
Ayah 31:3333: یٰٓـاَ یُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ (اے لوگو اپنے رب سے ڈرو ! ) َاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌعَنْ وَّلَدِہٖ اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطا، لبہ ادا کرسکے گا) اس کی طرف سے کوئی حق ادا نہ کرسکے گا۔ اصل کلام یہ ہے لا یجزی فیہ مگر فیہؔ کو حذف کردیا گیا۔ وَلَا مَوْلُوْدٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَّ الِدِہٖ شَیْئًا (اور نہ بیٹا اپنے باپ کی طرف سے ذرا بھر مطالبہ ادا کرسکے گا) ۔
ایک نکتہ :
یہ جملہ تاکید کے ایسے طریقہ پر وارد ہوا ہے کہ معطوف علیہ اس طرح نہیں کیونکہ جملہ اسمیہ جملہ فعلیہ کی نسبت زیادہ تاکید والا ہے۔ اور اس میں مزید ھوؔ کاملانا اور مولودؔ کا لانا اس کو اور مؤکد بنا رہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں خطاب ایمان والوں کو فرمایا اور ان کے بڑوں کو حالانکہ مسلمانوں کے آباء و اجداد کی اموات کفر میں آئیں ( سوائے اقل قلیل کے) پس اس میں مسلمانوں کی اس طمع کو مٹانا مقصود ہے کہ وہ اپنے اباء کفار کی کچھ سفارش قیامت کے دن کرسکیں گے المولودؔ میں تاکید کا معنی اس طرح ہے کہ ان میں سے ایک بچہ اپنے قریب ترین والد کیلئے جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا اگر سفارش کرے گا تو وہ بھی قبول نہ ہوگی چہ جائے کہ آباء و اجداد مقدمین کیلئے۔
الولد کا اطلاق :
الولدؔ کا اطلاق بیٹے اور پوتے دونوں پر ہوتا ہے بخلاف مولودؔ یہ صرف اس پر بولا جاتا ہے جو تیرا اپنا صلبی بیٹا ہو پوتے پر اطلاق نہیں ہوتا۔ (کذافی الکشاف) اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ) بعث و حساب وجزاء۔ حَقٌّ فَلاَ تَغُرَّ نَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (برحق ہے پس تمہیں دنیا کی زندگی دھوکا میں مبتلا نہ کردے) اپنی زینت کے باعث اس کی نعمتیں قریب مگر لذات فانیہ ہیں۔ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ (اور نہ تمہیں دھوکہ میں ڈال دے اللہ کے متعلق دھوکہ باز) ۔ نمبر 1۔ شیطان نمبر 2 دنیا نمبر 3۔ امید۔
Ayah 31:34مفاتیح الغیب :
34: اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کی خبر ہے) ۔ یعنی قیامت کے وقوع کا وقت وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ (اور وہی بارش برساتا ہے) ۔
قراءت : یُنَزِّل تشدید سے شامی، مدنی، عاصم نے پڑھا ہے۔ اور اس کا عطف اس پر ہے جس کا تقاضا فعل کا ظرف کر رہا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے ان اللہ یثبت عندہ علم الساعۃ و ینزل۔ الغیثؔ (بارش و بادل) اپنے ظہور میں بغیر تقدیم و تاخیر کے وَ یَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ (اور وہ جانتا ہے جو کچھ ارحام میں ہے) آیا مذکر ہے یا مؤنث، کامل یا ناقص وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ (اور کوئی نفس نہیں جانتا) خواہ نیک ہو یا بد ما ذا تتکسب غَدًا (وہ کل کیا کمائے گا) ۔ خیر یا شر۔ بسا اوقات وہ ارادئہ خیر رکھتا ہے مگر برائی کر گزرتا ہے اور بسا اوقات برائی کا ارادہ کرنے والا ہوتا ہے مگر بھلا کام کرلیتا ہے۔ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ (اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا) ۔
یعنی کہاں اس کی موت واقع ہوگی بعض اوقات وہ ایک مقام پر مقیم ہوتا ہے اور اپنے خیمے گاڑے ہوتا ہے زبان سے نعرہ بلند کرتا ہے میں یہاں سے نہ جائونگا۔ تقدیر کے فیصلے اس کو اس مکان پر لاڈالتے ہیں جہاں اس کے متعلق طے ہوتا ہے حالانکہ اس کے کسی گوشہ خیال میں بھی یہ بات نہیں ہوتی۔
روایت ِتفسیر یہ ہے :
کہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس موت کا فرشتہ گزرا۔ وہ آپ کے پاس بیٹھنے والوں میں سے ایک کو غور سے دیکھنے لگا آدمی نے اسی دم کہا یہ کون ہے ؟ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا ملک الموت ہے اس نے کہ اس طرح معلوم ہوتا ہے۔ یہ مجھے چاہ رہا ہے اور سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہوا کو حکم دیں وہ مجھے ہندوستان میں ڈالدے آپ نے اس کی بات مان لی۔ پھر ملک الموت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض پیرا ہوا۔ میں اس کی طرف تعجب سے دیکھ رہا تھا کیونکہ مجھے حکم ملا تھا کہ میں اس کی روح ہندوستان میں قبض کروں مگر وہ آپ کے پاس بیٹھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے علم موت تو اپنے لئے مقرر فرمایا۔ اور درایت بندوں کو عنایت فرمائی کیونکہ درایت میں ہی حیلہ اور چالاکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی نفس موت کو نہیں جانتا اگرچہ وہ حیلہ کام میں لائے جو اس کے لئے مخصوص ہے۔ اور انسان کیلئے اس کی کمائی اور انجام سے بڑھ کر کوئی چیز خاص نہیں۔ پس جب انسان ان دونوں چیزوں کو معلوم نہیں کرسکتا۔ تو ان کے علاوہ چیزیں تو بہت دور ہیں کہ ان کو جان سکے۔
ایک نجومی کا عمل :
نجومی جو بادل وبارش اور موت کے اوقات کی خبریں دیتے ہیں تو محض قیاس ہے اور ستاروں کے ذریعہ ہے وہ دلیل سے ادراک نہیں کرتے۔ ان کا یہ قیاس غیب نہ بن سکے گا۔ کیونکہ وہ محض گمان و تخمینہ ہے علم نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مفاتیح غیب پانچ ہیں۔ اور آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ بخاری : 4697 احمد 2/24، 52، 58] ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جس نے ان پانچ چیزوں میں سے کسی ایک کے علم کا دعوی کیا اس نے جھوٹ بولا۔
منصور عباسی کا خواب :
منصور نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ شکل ہے۔ منصور نے اس سے پوچھا میری عمر کتنی باقی ہے اس فرشتے نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا تعبیر کرنے والوں نے اس کی تعبیر پانچ سال سے کردی۔ بعض نے پانچ ماہ اور بعض نے پانچ ایام سے کردی۔ ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا اس میں پانچ انگلیوں سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ اس لئے کہ پانچ علوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ غیوبات کو جاننے والے ہیں) ۔ خَبِیرٌ (وہ باخبر ہے) ۔ جو کچھ ہوچکا اور جو آئندہ ہوگا۔
قولِ زہری (رح) :
سورة لقمان کی اکثر قراءت کیا کرو کیونکہ اس میں عجائبات ہیں۔