Ayahs 30:1–7سورة الروم
آیت نمبر : 7-6-5-4-3-2-1
اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے ‘ اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انہیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آگئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔
(فی بضع سنین) ” چند سالوں میں۔ “ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہوگی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضا و قدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا : (للہ الامر من قبل و من بعد) اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔ “ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد وجود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضا و قدر کا مقرون ہونا ضروری ہے (ویومئذ) ” اور اس روز “ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہوگی اور ان پر غالب آئیں گے (یفرح المومنون۔ بنصر اللہ ط ینصر من یشآء) ” اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ “ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے۔۔۔ اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں۔۔۔ اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ (وھو العزیز) ” اور وہ غالب ہے۔ “ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ “ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے ‘ جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے۔ (الرحیم) اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے ‘ کیونکہ اس نے ان کے لیے بےحد و حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔
(وعداللہ لایخلف اللہ وعدہ) ” یہ اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ “ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو ‘ اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں ‘ جن میں اس وعدے کا ذکر ہے ‘ تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگالی اور کچھ سالوں کی مدت مقرر کرلی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انہوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوگیا۔
اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انہی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی (ولکن اکثر الناس لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنا بریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔
(یعلمون ظاھرا من الحیوٰۃ الدنیا) ” وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔ “ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انہوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جو ان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
(وھم عن الاخرۃ ھم غفلون) ” اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔ “ ان کے دل ‘ ان کی خواہشات اور ان کے ارادے ‘ دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں ‘ اسی کے لیے کوشاں اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انہیں اشتیاق ہو ‘ ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انہیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے ‘ جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہوجاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے ‘ انہوں نے بری ‘ بحری اور فضائی سواریاں ایجاد کیں ‘ وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انہوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن ‘ اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیادہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل ‘ اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہ لوگ نافرمان ہیں۔
اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انہیں دقیق افکار سے نوازا ‘ پھر غور کریں کہ انہوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا ‘ تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے ‘ اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
Ayahs 30:8–10آیت نمبر 8-10
کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا (فی انفسھم) ” اپنے آپ پر ؟ “ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انہیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی ‘ وہ ہستی جس نے انہیں نطفہ ‘ جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا ‘ پھر اس میں روح پھونکی ‘ پھر اسے بچہ بنایا ‘ اس بچے سے اسے جوان بنایا ‘ پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بےکار چھوڑ دے کہ انہیں کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور انہیں نیکی پر ثواب دیا جائے نہ بدی پر سزا دی جائے۔
(ماخلق اللہ السموٰت والارض وما بینھما الا بالحق) ” اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کو حق کے ساتھ پیدا کیا “ تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ (واجل مسمی) ” اور وہ وقت مقرر تک۔ “ یعنی زمین و آسمان کی مدت اس وقت تک ہے جب تک کہ دنیا کی مدت ختم ہو کر قیامت قائم نہیں ہوجاتی ‘ تب یہ زمین و آسمان بدل کر کوئی اور ہی آسمان و زمین بن جائیں گے۔ (وان کثیر امن الناس بالقآئی ربھم لکفرون) ” اور وہ بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔ “ اسی لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کی نہ انہوں نے ان رسولوں کی تصدیق کی جنہوں نے قیامت کے قائم ہونے کی خبر دی تھی۔ ان کے اس کفر پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برعکس قطعی دلائل قیامت اور جزا و سزا کے اثبات پر دلالت کرتے ہیں ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ کی کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں اور ان لوگوں کے انجام پر غور کریں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے حکم کی مخالفت کی۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور ان سے زیادہ شان دار آثار چھوڑ گئے ‘ مثلاً انہوں نے محلات اور کارخانے بنائے ‘ باغات اور کھیتیاں اگائیں اور نہریں کھودیں۔ مگر جب انہوں نے اپنے رسولوں کی ‘ جو حق پر اور اپنی دعوت کی صحت پر واضح دلائل لے کر آئے تھے ‘ تکذیب کی تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ ان آثار نے انہیں کوئی فائدہ دیا۔۔۔ کیونکہ جب وہ ان کے آثار دیکھیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ وہ قومیں ہلاک ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ‘ ان کے مسکن غیر آباد پڑے ہیں اور وہ مسلسل مخلوق کی مذمت کا نشانہ ہیں۔ یہ تو اس دنیا کی سزا ہے جو اخروی عذاب کی تمہید ہے۔ ان ہلاک شدہ قوموں کو ہلاک کرکے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا اور اپنی ہلاکت کے اسباب مہیا کیے۔
(ثم کان عاقبۃ الذین اسآء والسؤآی) ” اور پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔ “ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ (کذبوا بایت اللہ وکانوا بھا یستھزء ون) ” انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔ “ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے ‘ پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔
Ayahs 30:11–16آیت نمبر : 11-16
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے ‘ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا پھر نیکو کاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا : (ویوم تقوم الساعۃ) ” اور جس دن قیامت برپا ہوگی “ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز (یبلس المجرمون) ” گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔ “ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچی آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر ‘ شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔
چونکہ انہوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا ‘ اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہوجائیں گی ‘ ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کرسکے گا۔ بنا بریں فرمایا : (ولم یکن لھم من شرکاءھم) ” اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی “ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے (شفعؤا وکانوا بشرکاءھم کفرین) ” سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کردیں گے۔ “ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بےزاری کا اظہار کریں گے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے : (تبرانآ الیک ما کانوآ ایانا یعبدون) (القصص : 82/36) ”(اے اللہ ! ) ہم تیرے سامنے برأت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ “ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہوجائیں گے۔ اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔
(فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت) یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی (فھم فی روضۃ) ” وہ تو باغ میں “ جس میں ہر قسم کے درخت ‘ پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی (یعبرون) ” وہ خوش ہوں گے۔ “ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا مثلاً نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات ‘ خوبصورت حوریں ‘ خدام ‘ خدمت گار لڑکے ‘ طرب انگیز آوازیں ‘ سرور انگیز نغمے ‘ خوبصورت و خوش کن مناظر ‘ بہترین خوشبوئیں ‘ فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔
(واما الذین کفروا) ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا “ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا ‘ ان کے مقابلے میں کفر کیا (وکذبوا بایتنا) ” اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا “ جنہیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے (فاولئک فی العذاب محضرون) ” تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ “ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی ‘ دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا ‘ ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے ؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے ؟
Ayahs 30:17–19آیت نمبر : 17-19
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام ‘ عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات ‘ پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات ‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے فرائض کی ادائیگی کے طور پر اپنے بندوں کے لیے منتخب کیا ہے ‘ افضل ترین اوقات ہیں ‘ اس لیے ان اوقات میں تسبیح وتحمید اور عبادات ‘ دیگر اوقات کی نسبت زیادہ فضیلت کی حامل ہیں بلکہ ان اوقات میں عبادات ‘ اگرچہ وہ ” سبحان اللہ “ کے ورد پر مشتمل نہ بھی ہوں (وہ تسبیح وتحمید کے زمرے میں آئیں گی) کیونکہ عبادت کے اندر اخلاص عملی طور پر اللہ تعالیٰ کی اس بات سے تنز یہ ہے عبادت میں اس کا کوئی شریک ہو یا جس اخلاص اور انابت کا اللہ تعالیٰ مستحق ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی مستحق ہو۔
(یخرج الحی من المیت) ” وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔ “ جیسے زندہ نباتات مردہ زمین سے ‘ خوشہ بیج کے دانے سے ‘ درخت گٹھلی سے ‘ چوزہ انڈے سے اور مومن کافر سے نکلتا ہے۔ (ویخرج المیت من الحی) ” اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ “ متذکرہ بالا چیزوں کے برعکس (ویحی الارض بعد موتھا) اللہ تعالیٰ زمین پر بارش برساتا ہے جبکہ زمین خشک اور بنجر پڑی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ لہلہا اٹھتی ‘ پھول جاتی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے۔ (وکذلک تخرجون) ” اور اسی طرح تمہیں بھی نکالا جائے گا “ تمہاری قبروں سے۔ یہ قطعی اور بہت بڑی دلیل وبرہان ہے کہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے بنجر ہوجانے کے بعد زندگی عطا کی ‘ وہ مردوں کو زندہ کرے گی۔ عقل کے لحاظ سے دونوں امور کے مابین کوئی فرق نہیں ‘ ایک چیز کے مشاہدے کے بعد دوسرے کے بعید ہونے کا کوئی موجب نہیں۔
Ayahs 30:20–21آیت نمبر : 21-20
یہاں سے وہ متعدد آیات شروع ہوتی ہیں جو الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے ‘ اس کی عظمت کے کمال ‘ اس کی مشیت کے نفوذ ‘ اس کی قوت و اقتدار ‘ اس کی صنعت کے جمال اور اس کی بےپایاں رحمت و احسان پر دلالت کرتی ہیں۔ (ومن ایتہ ان خلقکم من تراب) ” اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “ یہ تھی نسل انسانی کے جد امجد ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق (ثم اذآ انتم بشر تنتشرون) ” پھر اب تم انسان ہو کر جابجا پھیل رہے ہو۔ “ اور اس نے تمہیں زمین کے تمام گوشوں اور کناروں تک پھیلایا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس ہستی نے تمہیں اس اصل سے تخلیق کیا اور پھر تمہیں زمین کے کناروں تک پھیلایا ‘ وہی ہستی رب معبود ‘ قابل ستائش بادشاہ کائنات ‘ نہایت مہربان اور محبت کرنے والا پروردگار ہے جو تمہیں موت کے بعد دوبارہ اٹھائے گا۔
(ومن ایتہ) اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ‘ جو اس کے بندوں پر اس کی رحمت ‘ اس کی عنایت ‘ اس کی عظیم حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتی ہے ‘ یہ ہے (ان خلق لکم من انفسکم ازواجا) ” کہ اس نے تمہاری جنس ہی سے تمہارے جوڑے بنائے “ جو تم سے مشابہت رکھتے ہیں اور تم ان سے مشابہت رکھتے ہو۔ (لتسکنوآ الیھا وجعل بینکم مودۃ و رحمۃ) ” تاکہ ان کی طرف آرام حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی “ نکاح و ازدواج پر مرتب ہونے والے اسباب کے ذریعے سے جو محبت و مودت کے موجب ہیں۔ بیوی سے لذت تمتع ‘ وجود اولاد کی منفعت ‘ اولاد کی تربیت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور مودت ہوتی ہے غالب حالات میں آپ کبھی دو افراد کے درمیان اتنی محبت اور مودت نہیں پائیں گے (ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون) ” بیشک جو لوگ غور و فکر کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں نشانیاں ہیں۔ “ وہ اپنی عقل کو استعمال کرکے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر کرتے ہیں اور وہ استدلال کے ذریعے سے ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچ جاتے ہیں۔
Ayah 30:22آیت نمبر : 22
اہل علم وہ لوگ ہیں جو مقام عبرت کو سمجھتے ہیں اور آیات الٰہی میں تدبر کرتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی آیات وارد ہوئی ہیں۔ اللہ کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اسے پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان اور اس کے کامل اقتدار پر دلالت کرتی ہے جو ان بڑی بڑی مخلوقات کو وجود میں لایا ‘ نیز یہ تخلیق اللہ کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ان مخلوقات کی تخلیق میں کمال درجے کی مہارت اور وسعت علم پائی جاتی ہے کیونکہ خالق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں پورا علم رکھتا ہو۔ (الا یعلم من خلق) (الملک : 76/41) ” بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ بےعلم ہوسکتا ہے ؟ “
نیز یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت اور اس کے فضل و کرم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ان کی تخلیق میں منافع جلیلہ ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارادے کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے خصوصیات کی بنا پر اس کو منتخب کرلیتا ہے۔ وہ اکیلا اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو ایک مانا جائے چونکہ وہ تخلیق میں یکتا ہے اس لیے وہ مستحق ہے کہ وہ عبادت میں بھی یکتا ہو۔ یہ تمام عقلی دلائل ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے عقل انسانی کو ان کی طرف توجہ دلائی ہے اور انہیں ان میں غور و فکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ (و) ” اور “ اسی طرح (اختلاف السنتکم والوانکم) ” تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ “ بھی نشانی ہے جو تمہاری کثرت اور ایک دوسرے سے جدا ہونے کی بنا پر ہے حالانکہ تمہاری اصل ایک اور حروف کے مخارج ایک ہیں۔ بایں ہمہ آپ دو آوازیں بھی ایسی نہیں پائیں گے جو ہر لحاظ سے ایک جیسی ہوں نہ دو رنگ ایسے پائیں گے جو ہر لحاظ سے مشابہت رکھتے ہوں آپ دونوں کے درمیان ضرور فرق پائیں گے جس کے ذریعے سے ان کے مابین امتیاز کیا جاتا ہے۔
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ پر دلالت کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت اور رحمت ہے کہ اس نے ان کے درمیان زبانوں اور رنگوں کا اختلاف پیدا کیا تاکہ ان میں تشابہ واقع نہ ہو جس کی بنا پر اضطراب پیدا ہوجائے اور بہت سے مقاصد و مطالب فوت ہوجائیں۔
Ayah 30:23آیت نمبر : 23
یعنی آیات و معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے تدبر و تفکر کے ساتھ سننے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔ یہ آیت کریمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون) (القصص : 82/37) ” اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات کے وقت سکون حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ “ نیز یہ آیت کریمہ اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگ کسی وقت سکون حاصل کریں تاکہ وہ آرام کرسکیں اور کسی وقت اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے زمین پر پھیل جائیں اور یہ مصالح اس وقت تک پورے نہیں ہوتے جب تک کہ رات اور دن ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہوئے نہ آئیں۔ جس اکیلی ہستی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے لگایا ہے وہی اکیلی ہستی عبادت کی مستحق ہے۔
Ayah 30:24آیت نمبر : 24
یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ وہ تم پر بارش برساتا ہے جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بارش برسانے سے قبل وہ تمہیں اس کے مقدمات کا مشاہدہ کراتا ہے ‘ مثلاً بجلی کی چمک اور بجلی کی کڑک ‘ جس سے امید وابستہ ہوتی ہے اور اس سے خوف بھی آتا ہے۔ (ان فی ذلک لایت) ” بلاشبہ اس میں ضرور نشانیاں ہیں “ جو اس کے بےپایاں احسان ‘ لامحدود علم ‘ کامل مہارت اور عظیم حکمت پر دلالت کرتی ہیں ‘ نیز اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندگی بخشی (لقوم یعقلون) ” ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں “ وہ جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں اس عقل کے ذریعے سے اسے سمجھنے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں پھر اس عقل کے ذریعے سے ان امور پر استدلال کرتے ہیں جن پر ان نشانیوں کو دلیل بنایا ہے۔
Ayahs 30:25–27آیت نمبر : 25-27
اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ‘ ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ (لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس) (المؤمن : 04/75) ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔ “
(ولہ من فی السموٰت والارض) ” اور اسی کے لیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے ‘ وہ اپنی مخلوق میں کسی کی منازعت و معارضت اور کسی کے تعاون کے بغیر تصرف کرتا ہے ‘ تمام مخلوق اس کے جلال کے سامنے فروتن اور اس کے کمال کے سامنے سرافگندہ ہے۔
(وھوالذی یبدؤا الخلق ثم یعیدہ وھو) ” اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے ‘ پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ “ یعنی تمام مخلوق کی موت کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرنا (اھون علیہ) ” اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ “ انہیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے۔ یہ ذہن اور عقل کی نسبت سے ہے کہ جب وہ تخلیق کی ابتدا کرنے پر قادر ہے ‘ جس کا تمہیں خود بھی اقرار ہے ‘ تو تخلیق کے اعادہ پر قدرت آسان تر اور زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد ‘ جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں ‘ اہل ایمان نصیحت پکڑتے ہیں اور ہدایت یافتہ لوگ اس سے بصیرت حاصل کرتے ہیں۔۔۔ بہت عظیم معاملے اور بہت بڑے مقصد کا تذکرہ کیا : (ولہ المثل الاعلیٰ فی السموٰت والارض) ” اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے۔ “ اس سے مراد ہر صفت کمال ہے اور اس کمال سے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے دلوں میں محبت ‘ انابت کامل ‘ ذکر جلیل اور ان کی عبادت میں کمال مراد ہے۔
یہاں (المثل الاعلی) سے مراد اس کے بلند ترین وصف اور اس پر مترتب ہونے والے آثار ہیں۔ اس لیے اہل علم اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں قیاس اولیٰ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ مخلوقات کی ہر صفت کمال سے متصف ہونے کا ‘ ان کو پیدا کرنے والا اللہ زیادہ مستحق ہے ‘ اسی طرح سے کہ کوئی اس کا اس صفت میں شریک نہیں ہوتا۔ ہر وہ نقص ‘ جس سے مخلوق اپنے آپ کو بچاتیی ہے خالق کا اس وصف سے منزہ ہونا اولیٰ و انسب ہے۔ (وھو العزیز الحکیم) وہ غلبۂ کامل اور بےپایاں حکمت کا مالک ہے اس نے اپنے غلبے کی بنا پر مخلوقات کو وجود بخشا اور مامورات کو ظاہر کیا اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنی بنائی چیزوں کو مہارت سے بنایا ‘ ان کے اندر اپنی شرع کو بہترین طریقے سے مشروع کیا۔
Ayahs 30:28–29آیت نمبر : 29-28
اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمہارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم) ” کیا تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کرسکو “ جن کے بارے میں تمہارا خیال ہو کہ وہ تمہارے برابر ہیں (تخافونھم کخیفتکم انفسکم) ” تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ “ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کرلے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام تمہارے اس رزق میں شریک نہیں بن سکتا جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے۔۔۔ حالانکہ تم نے ان کو پیدا کیا ہے نہ تم ان کو رزق دیتے ہو ‘ نیز وہ بھی تمہاری طرح مملوک ہیں۔۔۔ پھر کیونکر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک بنانے پر راضی ہوتے ہو اور اس کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ اور اس کے برابر قرار دیتے ہو ‘ حالانکہ تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار دینے پر راضی نہیں ہو۔ یہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے اس کی سفاہت و حماقت پر سب سے بڑی دلیل ہے ‘ نیز اس نے جس چیز کو معبود بنایا ہے وہ باطل اور کمزور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہوسکتی اور نہ وہ کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔
(کذلک نفصل الایت) ” ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں “ مثالوں کے ذریعے سے (لقوم یعقلون) ” ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔ “ جو حقائق میں غور کرکے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ رہا وہ شخص جو عقل سے کام نہیں لیتا اگر اس کے سامنے آیات کو کھول کھول کر بیان کردیا جائے اور دلائل کو واضح کردیا جائے تو اس کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے بات کی توضیح و تبیین کو سمجھ سکے۔۔۔ عقل مند لوگوں ہی کے سامنے کلام پیش کیا جاتا ہے اور انہیں خطاب کیا جاتا ہے۔
جب اس مثال سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو شخص کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے ‘ پھر اس کی عبادت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس پر بھروسہ کرتا ہے ‘ تو وہ حق پر نہیں تو وہ کون سی چیز ہے جو انہیں ایک امر باطل پر اقدام کے لیے آمادہ کرتی ہے جس کا بطلان اس کے لیے واضح اور اس کی دلیل ظاہر ہوچکی ہے ؟ یقیناً ان کی خواہشات نفس ان کے اس اقدام کی موجب ہیں ‘ اس لیے فرمایا : (بل اتبع الذین ظلموآ اھوآء ھم بغیر علم) ” مگر جو ظالم ہیں وہ بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔ “ ان کے ناقص نفس ‘ جن کا نقص ان امور میں ظاہر ہوچکا ہے جن کا تعلق خواہشات نفس سے ہے ‘ ایسی بات چاہتے ہیں جس کو عقل اور فطرت نے فاسد قرار دے کر رد کردیا ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل وبرہان نہیں جو اس کی طرف ان کی رہنمائی کرتی ہو۔
(فمن یھدی من اضل اللہ) ” پس جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ “ یعنی ان کی عدم ہدایت پر تعجب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں گمراہ کردیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی اس کا مدمقابل ہے نہ کوئی مخالف۔ (ومالھم من نصرین) جب وہ عذاب کے مستحق قرار دے دیئے جائیں گے تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا جو ان کی مدد کرسکے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔
Ayahs 30:30–32آیت نمبر : 30-32
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام احوال میں اخلاص اور اقامت دین کا حکم دیتا ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (فاقم وجھک) اپنے آپ کو دین کی طرف متوجہ رکھیے اور اس سے مراد اسلام ‘ ایمان اور احسان ہے ‘ یعنی اپنے قلب و قصد اور بدن کے ساتھ ظاہری شرائع کو قائم کیجیے ‘ مثلاً نماز ‘ زکوٰۃ ‘ روزہ اور حج وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ باطنی شرائع پر عمل کیجیے ‘ مثلاً : اللہ تعالیٰ سے محبت ‘ اس سے خوف ‘ اس پر امید اور اس کی طرف انابت وغیرہ۔ ظاہری اور باطنی شرائع میں احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ‘ اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہوسکے تو اس طرح اس کی عبادت کرے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ” چہرے کو قائم رکھنے “ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ قلب کی توجہ ‘ چہرے کی توجہ کی پیروی کرتی ہے اور ان دونوں امور پر بدن کی سعی مترتب ہوتی ہے اسی لیے فرمایا : (حنیفا) یعنی ہر طرف سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھتے ہوئے۔ یہ چیز جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے وہ (فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا) ” اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عقول میں فطرت کے محاسن اور غیر فطرت کے قبائح ودیعت کردیے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے تمام ظاہری اور باطنی احکام کی طرف تمام مخلوق کے دلوں میں میلان رکھ دیا ہے تو درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں حق کی محبت اور حق کو ترجیح دینے کو ودیعت کردیا اور یہی فطرت کی حقیقت ہے۔ جو کوئی اس اصول سے باہر ہے تو اس کا سبب کوئی عارضہ ہے جو اس کی فطرت کو لاحق ہے جس نے اسے فاسد کرکے رکھ دیا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : (کل مولود یولد غلی الفطرۃ فابواہ یھود انہ او ینصرانہ او یمجسانہ) ” ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔ “
(لاتبدیل لخلق اللہ) ” اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ “ کوئی ایسی ہستی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کرسکے اور اس کو ایسی وضع پر تبدیل کردے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ وضع سے مختلف ہے (ذلک) ” یہ “ جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے (الدین القیم) ” سیدھا دین ہے “ یعنی سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے جو کوئی ہر طرف سے توجہ ہٹاکر دین میں یکسو ہوتا ہے وہ اپنے تمام شرائع اور تمام طریقوں میں صراط مستقیم پر گامزن ہے۔ (ولکن اکثر الناس لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ اس لیے وہ دین کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اگر انہیں دین کی معرفت حاصل ہو ہی جائے تو اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔
(منیبین الیہ واتقوہ) ” اسی کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ “ یہ جملہ ” دین کی طرف توجہ رکھنے “ کی تفسیر ہے کیونکہ (انابت) ” رجوع کرنا “ سے مراد ‘ قلب کا رجوع کرنا اور اس کے تمام داعیوں کا اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف کھنچنا ہے۔ یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ بدن قلب کے تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہے اور اس یہ چیز ظاہری اور باطنی عبادت کو شامل ہے اور اس کی اس وقت تک تکمیل نہیں ہوتی جب تک ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک نہ کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا : (واتقوہ) ” اس سے ڈرتے رہو۔ “ یہ تمام مامورات کی تعمیل اور تمام منہیات سے اجتناب کو شامل ہے۔ مامورات میں نماز کا خاص طور پر ذکر کیا۔ کیونکہ نماز انابت اور تقویٰ کی طرف بلاتی ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (واقم الصلوٰۃ ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر) (العنکبوت : 92/54) ” نماز قائم کر ‘ بیشک نماز فحش اور برے کامو سے روکتی ہے۔ “ گویا یہ تقویٰ پر اعانت ہے پھر فرمایا : (ولذکر اللہ اکبر) (العنکبوت : 92/54) ” اور اللہ کا ذکر اس سے بڑھ کر ہے۔ “ اور یہ انابت کی ترغیب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے منہیات میں سے ایسی برائی کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے اور جس کے ہوتے ہوئے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور وہ ہے شرک ‘ فرمایا : (ولا تکونوا من المشرکین) ” اور مشرکوں میں نہ ہونا۔ “ کیونکہ شرک، انابت کی ضد ہے اور انابت کی روح ہر لحاظ سے اخلاص ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کی حالت کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا : (من الذین فرقوا دینھم) ” جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا “ حالانکہ دین ایک ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنا اور ان مشرکین نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ان میں سے کچھ پتھروں اور بتوں کی عبادت کرنے لگے ‘ کچھ سورج اور چاند کو پوجنے لگے ‘ ان میں سے کچھ نے اولیاء و صالحین کی عبادت کو وتیرہ بنالیا اور ان میں سے کچھ یہودی اور کچھ نصرانی ہیں اس لیے فرمایا : (وکانوا شیعا) ” اور وہ فرقے فرقے ہوگئے۔ “ یعنی ہر فرقے نے اپنے باطل نظریات کی نصرت و تائید کے لیے تعصب پر مبنی اپنا الگ گروہ بنالیا اور دوسروں سے دشمنی اور محاربت شروع کردی۔
(کل حزب م بما لدیھم) ” سب فرقے اس سے جو ان کے پاس ہے “ انبیاء ومرسلین کے علوم کے مخالفت کرنے والے علوم میں سے وہ (فرحون) ان پر بہت خوش ہیں اور اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ باطل پر ہیں۔
یہ آیت کریمہ تشتت اور تفرقہ بازی کے ضمن میں مسلمانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ ہر فریق جو اپنے حق اور باطل نظریات کے بارے میں تعصب رکھتا ہے وہ تفرقہ بازی میں مشرکین سے مشابہت رکھتا ہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ دین ایک ہے ‘ رسول ایک ہے اور معبود ایک ہے اور اکثر دینی امور کے بارے میں اہل علم اور ائمہ کرام کا اجماع واقع ہوچکا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت مربوط طریقے سے اخوت ایمانی قائم کردی ہے تب کیا بات ہے کہ ان تمام متفقہ اصولوں اور اخوت ایمانی کو باطل قرار دے کر انتہائی خفیف فروعی اور اختلافی مسائل کی بنا پر مسلمانوں کے درمیان افتراق اور دشمنی پیدا کی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ صورتحال شیطان کی طرف سے بڑا فساد اور اس کا سب سے بڑا مقصد نہیں جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کو اپنے فریب میں مبتلا کرتا ہے ؟
کیا مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کرنا ‘ ان کے درمیان ان اختلافات کا خاتمہ کرنا جو باطل اصولوں پر مبنی ہیں ‘ اللہ کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور افضل ترین عمل نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے ؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انابت کا حکم دیا ہے ‘ اور یہ انابت ‘ انابت اختیاری ہے جو عسرت و خوشحالی ‘ فراخی اور تنگی ہرحال میں اختیار کی جاتی ہے پھر انابت اضطراری کا ذکر کیا جو انسان میں صرف اس وقت ہوتی ہے جب وہ تنگی اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ جب تنگی زائل ہوجاتی ہے تو وہ انابت کو بھی پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے ‘ لہٰذا اس قسم کی انابت فائدہ مند نہیں ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
Ayahs 30:33–35آیت نمبر : 33-35
(واذا مس الناس ضر) ” اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ “ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ (دعوا ربھم منیبین الیہ) ” تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔ “ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کردیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کرسکے۔ (ثم اذآ قھم منہ رحمۃ) ” پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔ “ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے (اذا فریق منھم) تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی ‘ ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی ‘ ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا ‘ شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو انسے دور کیا ‘ تب انہوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا ؟
(ام انزلنا علیھم سلطنا) ” کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے “ یعنی کوئی ظاہری دلیل (فھو) ” کہ وہ “ دلیل (یتکلم بما کانوا بہ یشرکون) ” ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔ “ اور انہیں کہتی ہے کہ اپنے شرک پر قائم رہو ‘ اپنے شک پر جمے رہو ‘ تمہارا موقف حق ہے اور جس چیز کی طرف تمہیں انبیاء ومرسلین دعوت دیتے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا کوئی ایسی دلیل تمہارے پاس موجود ہے جو شرک کو سختی کے ساتھ پکڑے رکھنے کی موجب ہے ؟ یا اس کے برعکس تمام عقلی و نقلی دلائل ‘ تمام کتب الٰہیہ ‘ تمام انبیاء ومرسلین اور بڑے بڑے لوگ شرک سے نہایت شدت کے ساتھ روکتے ہیں اور ان تمام راستوں پر چلنے سے باز رکھتے ہیں جن کی منزل شرک ہے اور ایسے شخص کی عقل و دین کے فساد کا حکم لگاتے ہیں جو شرک کا ارتکاب کرتا ہے ؟ پس ان مشرکین کا شرک ‘ جس پر کوئی دلیل اور برہان نہیں ‘ محض خواہشات نفس کی پیروی اور شیطانی وسوسے ہیں۔
Ayahs 30:36–37آیت نمبر : 36-37
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ نرمی اور سخی کے حالات میں اکثر لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت ‘ فراخی اور نصرت وغیرہ کے ذریعے سے انہیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے فرحت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ تکبر کے ساتھ اتراتے ہوئے خوش ہوتے ہیں (وان تصبھم سیءۃ) ” اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچے “ یعنی اگر ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہو (بما قدمت ایدیھم) ” ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے “ یعنی اپنے کرتوتوں کے باعث (اذا ھم یقنطون) ” تو ناامید ہوجاتے ہیں۔ “ یعنی فقر اور بیماری وغیرہ کے دور ہونے کے بارے میں مایوس ہوجاتے ہیں۔ یہ مایوسی ان کی جہالت اور عدم معرفت کے باعث ہے۔
(اولم یروا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشآء و یقدر) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ؟ “ یہ جان لینے کے بعد کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ‘ رزق میں تنگی اور فراخی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے مایوسی کا کوئی مقام نہیں۔ اے عقل مند شخص ! مجرد اسباب پر نظر نہ رکھ بلکہ مسبب الاسباب کی طرف دیکھ ‘ اس لیے فرمایا : (ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون) ” بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں۔ “ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو رزق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ‘ اس کی مشیت کے مطابق ‘ عطا کردہ کشادگی اور تنگی سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت ‘ اس کی رحمت ‘ اس کے جود و کرم اور رزق کی تمام ضروریات میں دل کے اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کی طرف میلان کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
Ayahs 30:38–39آیت نمبر : 39 ۔ 38
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے قرابت دار کو اس کی قرابت اور ضرورت کے مطابق اس کا حق ادا کرو جو شارع نے واجب قرار دیا ہے یا اس کی ترغیب دی ہے مثلاً نفقات واجبہ اور صدقات کی ادائیگی کرنا ‘ ہدیہ دینا ‘ نیک سلوک کرنا ‘ سلام کرنا ‘ عزت و تکریم کرنا ‘ دوسرے کی لغزش کو معاف کرنا اور اس کی بدکلامی پر رواداری سے کام لینا۔ اسی طرح مسکین کو ‘ جسے فقر و فاقہ نے لاچار کردیا ہو ‘ اتنا عطا کرنا جس سے اس کے کھانے پینے اور لباس کی ضرورت پوری ہوجائے۔ (وابن السبیل) وہ غریب الوطن مسافر جس کا زاد راہ ختم ہوگیا ہو ‘ اپنے شہر سے دور ہو جس کے بارے میں گمان ہو کہ وہ انتہائی ضرورت مند ہوگا اس کے پاس مال ہے نہ ہاتھ میں کوئی کسب جس کے ذریعے سے وہ دوران سفر اپنی ضروریات کا انتظام کرسکتا ہو ‘ برعکس اس شخص کے جو اپنے شہر میں رہتا ہے اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غالب حالات میں اس کے بارے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی صنعت و حرفت کا کام کرتا ہوگا جس سے اس کی ضرورت پوری ہوجاتی ہوگی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ میں مسکین اور مسافر کا (الگ الگ) حصہ رکھا ہے۔
(ذلک) ” یہ “ یعنی قرابت داروں ‘ مساکین اور مسافروں کو عطا کرنا (خیر للذین یریدون) ” ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں “ اس عمل کے ذریعے سے (وجہ اللہ) ” اللہ کا چہرہ “ یعنی بیشمار بھلائی اور ثواب کثیر ‘ کیونکہ یہ بہترین اعمال ہیں ‘ ان کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے بشرطیکہ موقع و محل کے مطابق اور اخلاص سے مقرون ہوں۔ اگر اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو تو عطا کرنے والے کے لیے کوئی بھلائی نہیں خواہ اس شخص کو اس سے کتنا ہی فائدہ کیوں نہ پہنچا ہو جسے عطا کیا گیا ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (لا خیر فی کثیر من نجوھم الا من امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس) (النساء : 4/411) ” ان لوگوں کے بہت سے مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ‘ سوائے اس کے کہ صدقہ کا حکم دیا ہو یا نیکی کا یا لوگوں کے درمیان صلح کروائی ہو۔ “
اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کاموں میں بھلائی ہے کیونکہ ان کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے ‘ مگر جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔ فرمایا : (واولئک) یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ اعمال بجا لاتے ہیں (ھم المفلحون) ” وہی فلاح پانے والے ہیں۔ “ جو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے فیض یاب اور اس کے عذاب سے نجات یافتہ ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ ‘ ان اعمال کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے پھر ان اعمال کا ذکر کیا جو دنیاوی مقاصد کے تحت کیے جاتے ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس) ” اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مالوں میں افزائش ہو۔ “ یعنی اپنی ضروریات سے زائد مال ‘ جو تم عطا کرتے ہو اور اس سے تمہارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمہارے مال میں اضافہ ہوجائے۔ تم انہی لوگوں کو مال عطا کرتے ہو جن سے تمہیں عطا کردہ مال سے زیادہ معاوضے کی امید ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عمل کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اخلاص کی شرط معدوم ہے۔ اس قسم کے اعمال کے زمرے میں وہ اعمال آتے ہیں جو لوگوں کے ہاں عزت و جاہ اور ریا کے لیے کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ (وما اتیتم من زکوٰۃ) ” اور جو کچھ تم زکوٰۃ دیتے ہو۔ “ وہ مال تمہیں اخلاق رذیلہ سے پاک کرتا ہے اور زکوٰۃ کے ذریعے سے تمہارے مال کو بخل سے پاک کرتا ہے اور حاجت مند کی حاجت پوری کرنے کی بنا پر اس میں اضافہ کرتا ہے۔ (تریدون) ” تم چاہتے ہو “ زکوٰۃ کی ادائیگی سے (وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون) ” اللہ کا چہرہ ‘ تو وہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کر رہے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا خرچ کیا ہوا مال کئی گنا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مال کو ان کے لیے بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : (ومآ اتیتم من زکوٰۃ) دلالت کرتا ہے وہ صدقہ ‘ جس کا دینے والا اضطرار سے دوچار ہو ‘ یا صدقہ دینے والے کے ذمہ قرض ہو جو اس نے ادا نہیں کیا اور اس کی بجائے صدقے کو مقدم رکھا تو اس زکوٰۃ پر بندے کو اس کا اجر نہیں ملے گا اور اس کا یہ تصرف شرعاً مردود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (الذی یؤتی مالہ یتر کی) (اللیل : 39/81) ” جو پاک ہونے کے لیے اللہ کے راستے میں اپنا مال عطا کرتا ہے۔ “ مجرد مال عطا کرنا بھلائی نہیں جب تک کہ وہ وصف مذکور کے ساتھ نہ ہو یعنی عطا کرنے والے کا مقصد پاک ہونا ہو۔
Ayah 30:40آیت نمبر : 40
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمہاری تخلیق ‘ تمہیں رزق عطا کرنے ‘ تمہیں مارنے اور تمہیں زندہ کرنے میں اللہ تعالیٰ یکتا ہے اور یہ خود ساختہ الٰہ ‘ جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دے رکھا ہے ان افعال میں کوئی بھی شریک نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ‘ جو ان امور میں یکتا ہے ‘ ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ‘ جو کسی طرح بھی ان امور میں تصرف کی قدرت نہیں رکھتیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے شرک سے بالاتر ‘ پاک اور منزہ ہے اور ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور اس کا وبال انہی پر ہے۔