30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsسراج البیان

Ayahs 30:1–2

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی لوگ مغلوب ہوگئے ہیں (ف 2)

ف 2: بات یہ تھی کہ مشرکین مکہ کو حضور ﷺ سے سخت عناد تھا ۔ اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے ۔ کہ آپ کو اور آپ کی جماعت کو کسی طرح کی کامیابی حاصل ہو ۔ بلکہ وہ اس درجہ متعصف تھے کہ صریحات پرستی اور حمیمیت کی تائید کرتے کیونکہ یہ چیزیں اسلام کی روح کے بالکل متضاد واقع ہوئی ہیں اور ہر اس واقعہ سے خوش ہوئے ۔ جس کا تعلق مسلمانوں کی دل گرفتگی اور آزردگی سے ہوتا ہے ۔ چناچہ جب ابرائیوں اور رومیوں میں جنگ چھڑی اور محبوسیت کو عیسائیت پر فتح ہوئی ۔ تو ان لوگوں نے مسرت واجتہاج کے شادیانے بجائے ۔ اس لئے نہیں ۔ کہ ایرانیوں سے فی القواعہ انہیں کوئی وابستگی تھی ۔ بلکہ محض اس لئے کہ اسلام سے دشمنی تھی ۔ اور ایرانی بالطیع مسلمانوں سے بہ نسبت اہل کتاب کے زیادہ دور تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ جس طرح یہ لوگ اہل کتاب پر غالب آگئے ہیں اسی طرح ہم بھی مسلمانوں پر تسلط جمالیں گے سورة روم کی ان آیات میں مشرکین کو متنبہ کیا ہے کہ تمہیں اس عارضی فتح پر مغرور نہیں ہونا چاہیے ۔ عنقریب یہ فتح و کامرانی شکست اور ناکامی میں تبدیل ہونے والی ہے ۔ پھر تمہاری پوزیشن کیا ہوگی ۔ اللہ کے ہاں یہ بات مددات میں سے ہے ۔ کہ ایرانیوں کا جاہ وحشم ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا محض تمہاری ہمدردیاں ان کو عذاب الٰہی سے نہیں بچا سکتیں ۔ اگر تم اس واقعہ پر ضرور خوش ہونا چاہیے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب مسلمان خوش ہونگے اور ایوان عجم پر رومی پرچم لہرارہا ہوگا ۔ چانچہ نو برس بعد ایک طرف تو مسلمانوں نے مقام جد پر چھٹاوید قریش کی جڑ کاٹ دی اور دوسری طرف روسیوں کو ایرانی شان وش کہ پر نمایاں غلبہ حاصل ہوا ۔ اور مکہ والوں کے گھر صف ماتم بچھ گئی غور طلب بات یہ ہے کہ کہ کیا اس طرح کی پیش گوئی بغیر تائید الٰہی کے ممکن ہے حالات یہ ہیں کہ مسلمان ایرانی اور رومی طاقت اور قوت سے تو واسطہ ہی نہیں رکھتے ۔ ملک میں اخارات نہیں ہیں ۔ کوئی ذریعہ نشرواشاعت کا ایسا نہیں ہے جس سے اندازہ ہوسکے کہ آئندہ کیا ارادے ہیں ۔ مکہ کی طرف واقعہ ہے اور ایران وروم کے مرکزوں سے بہت دور ہے ایسی صورت میں ایک صحیح پیشگوئی کرنا بجز الہام اور تائید خداوندی کے بالکل محال ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ الہامی کتاب خدا کا کلام ہے اس پیشگوئی سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ نفیس پیشگوئی کے لئے یہ ضروری ہے ۔ کہ بالکل مخالف یا نامعلوم حالات میں کی جائے ۔ ورنہ ہر مستند شخص کے اختیار میں ہے ۔ کہ وہ واقعات کی روشنی میں آئندہ کے لئے کچھ کہہ سکے ۔
Ayahs 30:3–4

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

قریب تر زمین میں اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب آجائیں گے

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند برسوں میں اس سے پہلے اور اس کے پیچھے حکم اللہ ہی کا ہے نہ اور اس دن ایماندار خوش ہوں گے

حل لغات :۔ بضع ۔ تین سے نو تک ہر عدد کو بضع کہتے ہیں ،
Ayahs 30:5–7

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اور اللہ کی مدد سے جس کو وہ چاہے مدد دے اور وہی غالب مہربان ہے

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنا وعدہ خلاف نہ کریگا ۔ لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

وہ حیات دنیا کا ظاہر حال جو مانتے ہیں اور وہ آخرت سے غافل ہیں

ظاھرا ۔ اس جگہ لفظ ظاہر کو آخرت کے مقابلہ میں رکھا ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ زندگی اصل میں نا مختتم اور مسلسل ہے ۔ مگر کوتاہ بینوں کو اس کا صرف وہ حصہ نظر آتا ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے ۔ اور جو ظاہر ہے موت کے بعد کے واقعات جن کا مستقبل سے تعلق ہے ۔ ان تک ان کی رسائی نہیں ہے
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے اس کو ٹھیک سادت کر اور مدت مقرر (ف 1) کے لئے پیدا کیا ہے ! اور بہت لوگ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں

بالحق ۔ حق کا لفظ قرآن حکیم میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ کائنات کو یونہی بلا فائدہ نہیں پیدا کیا گیا اس کے پیدا کرنے میں ایک غرض پنہاں ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان رب العزت کے حضور پیش ہونے کے لئے دنیوی نعمتوں سے استفادہ کرے ۔
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا وہ ملک میں پھرے ہیں کہ دیکھیں کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے ؟ وہ ان میں قوت سے زیادہ تھے اور انہوں (ف 1) نے اس کو آباد کیا تھا اور ان کے پاس ان کے رسول معجزے لے کر آئے تھے ۔ سو اللہ ایسا نہ تھا ۔ کہ ان پر ظلم نہ کرتا ۔ لیکن وہ اپنی جانوں پر آپ ظلم کرتے تھے

تعلیمات اسلامی عقل پر مبنی ہیں 1: قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے ۔ کہ وہ اپنی تعلیمات کی بنیاد فکروغور پر رکھتا ہے ۔ اور ہر شخص سے مطالبہ کرتا ہے ۔ کہ وہ سوچے سمجھے اور حقیقت کو خوب اچھی طرح پرکھے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ لوگ محض مرعوب ہوکر اس کو تسلیم کرلیں ۔ اور ان کے دل مطمئن نہ ہوں ۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ طالق حق ہر طرح کے شکوک سے دماغ کو پاک کرلے اور پوری طرح حلاوت ایمان سے بہرہ ور ہو ۔ قرآن حکیم کو اپنے عقائد پر اس درجہ یقین ہے ۔ کہ وہ عقل وخرد کی جانچ کے سوال کو خود پیدا کرتا ہے اور نبرو آزمائی کی دعوت دیتا ہے اس کی رائے میں جہاں تک سچائی اور صداقت کا تعلق ہے ۔ اسکو فطرت اور عقل سے کوئی خطرہ نہیں ہے ! ورنہ صرف خطرہ ، بلکہ عقل وفکر کا ارتقاء اس کے حقائق کو اور زیادہ روشنی میں لے آتا ہے ۔ کیونکہ اسلام بجاء خود نام ہے ۔ صداقت کا ۔ سچائی کا ۔ فطرت کا ۔ اور تجربات عقل وفکر کے پیش رس نتائج کا اس آیت میں یہی کہا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اور اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ کہ ایک دن اللہ کے حضور میں پیش ہونا ہے اور اپنے اعمال کے متعلق آخری فیصلہ سننا ہے ان کو چاہیے کہ عقل وہوش سے کام لیں اور سوچیں کہ اگر مکافات عمل کا اصول غلط اور بےمعنی ہے ۔ تو پھر اس نظام کائنات کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اگر انسان اپنے اعمال میں بالکل آرا ہے اور مرنے کے بعد زندگی ختم ہوجاتی ہے اور اس کے بعد کوئی پرسش نہیں ہونے والی ہے ۔ تو پھر زندگی کے اس بکھیڑے سے کیا مطلب ہے ۔ یہ زمین و آسمان کی وسعتیں اور بلندیاں کیوں ہیں ۔ اور ایسا کیوں ہے کہ روزانہ آفات ہماری خدمت کے لئے چمکتا ہے اور چاند متحرک ہے اور ستارے مصروف گردش ہیں ۔ آخر حقیر انسان کی یہ خاطر داریاں کیا محض بےمقصد ہیں ؟ یا یہ درست ہے کہ ان ساری نعمتوں کے مقابلہ میں انسان سے پوچھا جائے گا ۔ کہ اس نے آخرت کے لئے کیا زاد مہیا کیا ہے ۔ اور کیسا توشہ جمع کیا ہے ؟ حل لغات :۔ اثاروا ۔ اثارۃ سے ہے ۔ یعنی کاشتکاری کے لئے زمین کو الٹ پلٹ کرنا ۔ جوتنا 1: ان دو آیتوں میں بتایا ہے کہ دنیا ہی میں دیکھ لیجئے ۔ برے اعمال کا انجام کتنا عبرت ناک ہوتا ہے ۔ اس سطح معمورہ پر کئی قومیں آئیں ۔ رہیں سہیں ۔ اور مٹ گئیں ۔ کیونکہ انہوں نے خدا کے قوانین سے روگردانی اختیار کی مکہ والوں سے تخاطب ہے ۔ کہ انہیں دولت وقوت پر گھمنڈ کیوں ہے ؟ ان سے پہلے کی قومیں ان سے کہیں طاقت ور اور مضبوط تھیں تمدن وتہذیب کے لحاظ سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں ۔ مگر تکذیب کی وجہ سے جب اللہ کا عذاب آگیا تو کیا ان کی قوت اور مادی ترقی ان کو بچا سکی ۔ بتلاؤ۔ کہ آج وہ قومیں کہا ہیں ؟
Ayahs 30:10–12

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر آخر ان لوگوں کا جو برا کرتے تھے پھر آخر ان لوگوں کا برا کرتے تھے برا ہوا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان پر ٹھٹھا کرتے تھے

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دہرائیگا ۔ پھر تم اس کی طرف پھیرے جاؤ گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی ۔ مجرم ناامید رہ جائیں گے

حل لغات : یبلس ۔ ابلاس سے ہے ۔ بمعنی مایوسی ۔ ابلیس کے معنے میں ۔ اللہ کی رحمتوں سے قطعی مایوس ہوجانے والا ۔
Ayahs 30:13–16

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا شفیع نہ ہوگا اور وہ اپنے اپنے شریکوں کے منکر ہوں گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت (ف 1) قائم ہوگی اس دن لوگ متفرق ہوجائینگے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

سو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی باغ میں آؤ بھگت کی جائے گی

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور انہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں پکڑے آئیں گے

بہترین زاویہ نگاہ 1: قیامت کے دن تمام لوگوں میں ایک قسم کا امتیاز پیدا کردیا جائے گا ۔ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کی نعمت کو قبول کیا تھا ۔ اور ہمیشہ اعمال صالحہ کے لئے کوشاں رہے تھے جنات نعم میں شالواں فرحاں پھر ینگے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ۔ اور خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا ۔ آخرت کا خوف دل سے نکال دیا ۔ اور بالکل سرکش ہوگئے ۔ یہ جہنم کے عذاب میں پڑے دکھ اٹھائیں گے ۔ بات یہ ہے کہ اس دنیا میں تو ممکن ہے ۔ کہ جرائم پیشہ لوگ قانون اور عدالت کی نگاہوں سے پوشیدہ رہیں ۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ عوام کی نگاہوں میں نیک اور پارسا ہوں ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ وہ اللہ کو دھوکہ دے سکیں اور مکافات عمل کے ہمہ گیر قانون سے بچ جائیں ۔ وہاں تو یہ عالم ہوگا ۔ کہ جن لوگوں کو آپ یہاں بڑے احترام و اعزاز کا مالک سمجھتے ہیں ۔ اکثر وہاں ذلیل اور رسوا ہونگے ۔ اور جو لوگ بظاہر حقیر اور ناکارہ معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ دولت ایمان کی وجہ سے اپنی خوش قسمتی اور خوش بختی پر نازاں ومفتخر ہوں گے قرآن حکیم نے جہاں ایمان کا ذکر فرمایا ہے ، وہاں عموماً اعمال صالحہ کا بھی تذکر کیا ہے ۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ صرف اقرار بالسان کبات وسعادت کو پانے کے لئے کافی نہیں ۔ بلکہ عمل اور جدوجہد کی بھی ضرورت ہے ۔ وہ ایمان جو عزم صالح اور مضبوط متقین کے مقرون نہ ہو ۔ بیکار ہے ۔ خدا مضبوط ایمان چاہتا ہے جو عمل کی سرحد سے بالکل ملا ہوا ہو ۔ جو یکدم تمام اعضاوجوارح کو حرکت میں لاسکے جو بےچین اور تڑپ کا سبب ہوں ۔ جو بجلی کی طرح ہم میں اثر کی جائے اور دل و دماغ میں آگ سی لگادے ۔ اس طرح ایمان وعمل کو باہم ذکر کرنے سے ۔ یہ بھی مقصود ہے ۔ کہ اعمال صالحہ کے لئے ایمان الصحیح کی ازیس ضرورت ہے ۔ بجز صورت فکر کے عمل اور جدوجہد کی صحت کا یقین کرلینا غلط ہے ۔ ایمان کی حدود سے باہر نیکی اور صلاعیت کا قطعاً پتہ نہیں مل سکتا ۔ یعنی جہاں تک زاویہ نگاہ کا تعلق ہے ۔ اسلام انسانیت کا آخری اور بہترین زاویہ نگاہ ہے ۔ اور جو اس سے محروم ہے گمراہ ہے ۔ اور غلط کار ہے ۔ حل لغات :۔ یحبرون حیر ۔ کے معنے اصل میں حسن و جمال کے نشان کے ہیں ۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ۔ یخرجو من النار رجل قد ذھب حیرہ وسیرہ ۔ یعنی آدمی جب جہنم میں سے نکلے گا تو اس کا سارا اجمال اور خوب صورتی ضائع ہوچکی ہوگی اور رعنائی و زیبائی کے نشانات مٹ چکے ہونگے یہاں یہ مقصد ہے کہ یہ پاکباز لوگ اس درجہ مسرت میں ہونگے کہ ان کے چہروں سے عیاں ہوگا
Ayah 30:17

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پس پاکی ہے اللہ کو جب تم صبح کرو (ف 2) اور جب تم شام کرو

ف 2: یہ آیات مطلقاً اس بات پر دال نہیں ۔ کہ لیل ونہار کے ان مختلف اوقات میں تم لوگ اس کے مظاہر جلال وقدرت کو ملاحظہ کرو ۔ اور پھر اس کی تسبیح بیان کرو ۔ کہ اللہ تعالیٰ کس طرح رات کی تاریکی کو صبح کی روشنی میں بدل دیتا ہے ۔ اور کیونکر عشا اور ظہر میں حرارت اور روشنی کا تغاوت پیدا کردیتا ہے ۔ نمازوں کی تعین ان آیتوں میں نہیں ہے ۔
Ayahs 30:18–19

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی لئے تعریف ہے اور پچھلے پہر (یعنی عصر) اور جب تم دوپہر (یعنی ظہر) کرتے ہو

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ مردہ میں سے زندہ (ف 1) اور زندہ میں سے مردہ نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کرتا ہے ۔ اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے

ف 1: خدا کی صفت یہ ہے کہ وہ جن چیزوں کو ہم انسداد کہتے ہیں ۔ ان کو اس طرح ترکیب دیتا ہے ۔ کہ ان میں تضاد بالکل دور ہوجاتا ہے ۔ اور بظاہر ناممکن چیزیں اس کی قدرت کاملہ سے واقعات کی صورت اختیار کرلیتی ہیں موت اور زندگی باہم بالضد ہیں ۔ مگر وہ مردوں کو جلاتا اور زندوں کو موت کی آغوش میں دے دیتا ہے ۔ اسی طرح مٹی ایک بےجان چیز ہے ، مگر وہ اسی بےجان شئے سے انگوریاں پیدا کرتا ہے ۔ جو انسانی زندگی کا ایک عنصر ثابت ہوتی ہے ۔ حل لغات :۔ یحی الاراض ۔ فجا ہے عرض یہ ہے کہ زمین جب خشک ہوجاتی ہے تو اللہ باران رحمت سے اس کو تازہ بنا دیتا ہے السنتکم بصنہ ۔ تبع السباق کسی زبان ۔ الولیقکف ۔ ملوعان لین کی جمع ہے بمعنی رنگ
Ayahs 30:20–21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر ناگہاں تم انسان ہوگئے ۔ جو پھیل پڑے ہو

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس آرام حاصل کرو اور تمہارے درمیان پیار (ف 2) اور محبت پیدا کی بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے جو دھیان کرتے ہیں نشانیاں ہیں

فلسفہ ازدواج 2: قرآن حکیم میں یہ عجیب خصوصیت ہے ۔ کہ وہ نہایت اختصار کے ساتھ بعض دفعہ اشاروں اشاروں میں وہ وہ نکات سمجھا دیتا ہے ۔ کہ عقل و فراست کے کئی دفتر بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ غور فرمائیے ۔ معاشرتی صورت حال میں یہ کتنا اہم مسئلہ ہے ۔ کہ عورت کا درجہ ازدواجی نقطہ نگاہ سے کیا ہے ؟ اور کیونکر زندگی کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے ؟ قرآن کہتا ہے ۔ کہ ان تعلقات سے مقصود جنسی اور معاشرتی تسکین ہے ۔ قلب وروح کی ضمانیت ہے ۔ لتسکنوا الیھا اور اس کو صحیح معنوں میں خوشگوار بنانے کا طریق یہ ہے کہ دونوں فریقین برابر کی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ مرد اپنی قوت و توانائی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں ۔ او عورت کے حق میں ہمیشہ رحمت و شفقت سے کام لیں ۔ اور عورت اپنے حسن و جمال پر مغرور نہ ہو ۔ بلکہ خاوند کے لئے اپنے دل میں محبت و مودت کے جذبات کی تربیت کرے ۔ وجعل بینکم موزۃ ورحمۃ ۔ اس ایک آیت میں قرآن نے معجزانہ طریق سے فلسفہ معاشرت کا ایک سمندر بند کردیا ہے ۔ مقام اور منصب کا تعین فرمایا ہے ۔ کہ عورت سکون و طمانیت آفریت شخصیت ہے اور یہ بھی بتایا ہے ۔ کہ اس سکون کو کیونکر عمل زندگی میں پیدا کیا جاتا ہے ۔ اسی لئے ارشاد ہے کہ ان باتوں میں سوچنے اور غور کرنے والوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں ۔ لا یت لقوم تنظرون
Ayahs 30:22–24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری بولیوں اور رنگت کا اختلاف ہے ۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کا سونا اور تمہارا اس کے فضل (روزی) کو تلاش کرنا ہے بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور لالچ دلانے کے لئے بجلی دکھلاتا ہے اور آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کرتا ہے بیشک اس میں (ف 1) ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں ہیں

ف 1: ان تمام آیات میں فکروعلم کی دعوت ہے ۔ وجہ کہا گیا ہے ۔ کہ کائنات کے رموز و اسرار پر غور کرو ۔ اور یہ دیکھو ۔ کہ یہ کارگریاں کس درجہ کامل وجامع قوانین پر قائم ہے ۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرو ۔ زبانوں ، اور رنگتوں کے امتیازفات کو گہری نظر سے دیکھو ۔ فطرت کا ہر مظہر تمہارے آرام اور تمہاری آسائش وآسودگی کے لئے ہے ۔ رات کو دن کے تھکے ہارے سو جاتے ہیں ۔ دن کی روشنی میں اپنا کام کاج کرلیتے ہوں ۔ یہ تقسیم کتنی ضروری ہے ؟ آسمان پر بادل گھرکر آتے ہیں بجلی کوندتی ہے ۔ تم ڈرتے بھی ہو اور امید بھی رکھتے ہو ۔ کہ اگر بارش ہوجائے تو مردہ اور خشک زمین زندہ ہوجائے گی ۔ کھیت لہلہا اٹھیں گے ۔ اسی طرح ہواؤں اور بادلوں کا علم تمہاری زراعت کے لئے ازبس ضروری ہے ۔ ان فی ذالک لایت تقوم یعقلون پھر یہ دیکھو کہ ستارے کیونکر اپنے مدار اور محور پر قائم ہیں ۔ اور زمین کس طرح اس کے حکم سے اپنی جگہ پر استوار ہے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ آفتاب اپنی طرف کھینچ لے جائے ۔ اور ساری کائنات وقت مقررہ سے پہلے درہم وبرہم ہوجائے ۔ جب وہ متعین وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ تمام قانون معطل ہوجائیں گے ۔ اور ان کی جگہ دوسرے قوانین لے لیں گے ۔ پھر ایک دفعہ تم سب زمین میں سے نکلو گے اور اس حضور میں پیش کئے جاؤ گے ۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے تابع ہے اور کسی شئے میں انکار وکشی کی تاب تواں نہیں ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ مردمسلم کی نگاہیں آفاق گیر ہونی چاہئیں ۔ اس کو کائنات کی ہر چیز پر غور کرنا چاہئے ۔ اس کے لئے طبیعات کا دفتر بےپایاں پڑھناوہ کائنات کے اسرار رموز پر فلسفیانہ غور کی بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔ جتنا کہ فقہ ومسائل کا جاننا ۔ احکام و شریعت سے آگاہی حاصل کرنا حل لغات :۔ فضلیہ ۔ عنایت ووبخشیش دولت سے تعبیر ہے معلوم ہوا حلال ذرائع سے حاصل شدہ دولت اللہ کا فضل ہے جس سے محرومی پر کہ قسمت لاشرح تابع اور اطاعت شعار ۔ قنوت سے مراد ہے کہ ہر چیز طبعی طور پر اللہ کے ہمہ گیر قوانین کی تابع ہے ۔ اور انحراف کی طاقت نہیں رکھتی
Ayahs 30:25–27

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں ۔ پھر جب وہ تمہیں زمین سے ایک بار پکارے گا تو تم فوراً ہی نکل آؤ گے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے سب اس کے حکم کے تابع ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دوہرائیگا ، اور وہ اس پر آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی مثال سب سے (ف 1) بلند ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے

المثل الا علےٰ 1: اس آیت میں دراصل مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ جو حشر ونشر کے منکر تھے اور یہ نہیں مانتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی حاصل کرینگے ارشاد ہے کہ یہ بتاؤ جب تم اس حد تک تسلیم کرتے ہو کہ ابتداً تمام کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے ۔ اور یہ بھی مانتے ہو کہ جب یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں ۔ اس وقت کوئی دوسری ذات اس کے شریک وسہیم میں نہ تھی تو پھر ان لینے میں کوئی تامل ہے ۔ کہ وہ دوبارہ بھی ایسا کرسکتا ہے ۔ کیا ایک ہی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا نسبتاً زیادہ آسان نہیں ہے ولہ المثل الاعلےٰ کہنے سے غرض یہ ہے کہ یہ تمہیں سمجھانے کے لئے ہم کہتے ہیں ۔ کہ کائنات انسانی کو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے نسبتاً زیادہ سہل ہے ۔ ورنہ یہاں بات ہی نہیں ۔ صرف ارادہ کی ضرورت ہے ۔ جب جس چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ ہوا ۔ وہ فی الفور عدم سے وجود میں آئی ۔ مقصد یہ ہے ۔ کہ کسی چیز کو منصہ شہود پر لانے کے لئے منطقی طور پر جن وسائل اور ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے خدا ان کا محتاج نہیں ہے وہ براہ راست ہر چیز کو بمجزہ ارادہ کے پیدا کرسکتا ہے ۔ اور یہ ارادہ بھی کوئی جدید اور الگ چیز نہیں ۔ اس کے علم کا ایک عملی پہلو ہے ۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) اللہ نے تمہارے ہی اندر سے تمہارے لئے ایک مثال بیان کی ہے کہ جو ہم نے تجھے رزق دیا (ف 2) ہے کیا اس میں تمہاری باندی غلاموں میں سے جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں کوئی تمہارے شریک ہیں ایسے کہ تم اس رزق میں برابر ہو کہ ان میں بھی ایسا ہی ڈرو جیسا اپنوں سے ڈرتے ہو ۔ یوں ہم ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں پتے کھولتے ہیں

انتہائی ذلت 2: کس قدر تکلیف دہ تخیل ہے کہ انسان انسان کے سامنے جھکے اور اس درجہ اس کو عزت و تکریم کا مستحق سمجھے کہ اس کی پوجا کرے اور اس سے ڈرے اور دل میں اس کا خوف رکھے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا مالک اور مملوک کا درجہ برابر ہے ۔ کیا غلام آقا کی برابری کرسکتا ہے ۔ پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ خدا کے بندوں کو اس مالک الملک اور آقا کے مقابلہ میں لاکھڑا کرتے ہو ۔ کیا یہ بےعلمی اور جہالت کی بات نہیں ۔ کیا یہ سراسر انسانیت کے درجہ سے گری ہوئی بات نہیں ؟ کتنا بڑا ظلم ہے کہ حقیر اور ذلیل انسان کو الوہیت کی مسند پر بٹھا دیا جائے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ گمراہی اور ضلالت کا وہ مقام ہے جہاں رشدوہدایت کی توفیق چھن جاتی ہے اور انسان شرک بت پرستی کی بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔ حل لغات :۔ اضل اللہ ۔ یہ انداز بیان ہے قرآن حکیم کا ۔ اس کے معنے یہ نہیں ہیں کہ خدا نے براہ راست ان لوگوں کو گمراہ کیا ہے یا وہ گمراہ کرنا چاہتا ہے یا اس کو انکا گمراہ رہنا گوارا ہے بلکہ اصل میں یہ اختصار ہے مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ زندگی کی ایسی منزل تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کے لئے اللہ نے گمراہی لازم قرار دی ہے ، اس اتنے بڑے مفوم کو اضل اللہ کے مختصر الفاظ میں عموماً بیان کردیا جاتا ہے تاکہ مسلمان کسی وقت بھی اللہ کے تخیل سے ڈرے اور ہر حالت میں بلاواسطہ اس کے جمال قدرت اور جلال فطرت کا مشاہدہ کرتا رہے ۔
Ayahs 30:29–30

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ ظالم بغیر علم اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے ہیں ۔ سو جس نے گمراہ کیا ۔ اسے کون راہ بتائے ۔ اور ان کا کوئی مددگار نہیں

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس تو (اے محمد ﷺ ! ) ایک طرف کا ہوکر اپنا منہ دین کے لئے سیدھا رکھ ۔ اللہ کی فطر جس سر اس نے آدمیوں کو پیدا کیا ہے (لازم پکڑ) اللہ کی پیدائش میں تبدیلی نہیں یہ (ف 3) سیدھا دین ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے

مذہب کا جدید ترین معیار 3: آج مذہب کے لئے جدید ترین معیار صداقت یہ ہے کہ وہ فطرت کے آئین کے مطابق ہو ۔ آج یہ سمجھا جاتا ہے ۔ کہ ان قوانین میں جو مہروماہ میں اور جبل وکاہ میں کافر ما ہیں ۔ اور ان اخلاقی قوانین کے متبع و سرچشمہ میں کوئی فرق نہیں ۔ جن کو ہم شریعت یا مذہب کہتے ہیں ۔ وہ قلیم مادیت کے ضابطے ہیں ۔ اور یہ دنیائے روحانیت کے قواین ۔ دونوں کا سرچشمہ فطرت اور اس کا غیر مبدل حسن ہے ۔ قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال قبل اس حقیقت کو اتنا جامع اور واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے ۔ مذہب کا اتنا تخیل اور اتنا واضح انداز بیان ! یہ اس بات کی دلیل ہے ۔ کہ قرآن اس ذات کا کلام ہے جس کی نظر زمان ومکان کی بعید ترین ومعقول سے بھی کہیں آگے ہے ۔ ارشاد ہے ۔ کہ اطاعت وفرمانبرداری کا جذبہ فطری ہے ۔ اور غیر مبدل اور یہی این قلیم ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے آگاہ نہیں ۔ اور وہ مذہب کو اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتے ۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

سب اس کی طرف رجوع ہوکر (رہو) اور تم سب اس سے ڈرو اور (ف 1) نماز پڑھو اور مشرکوں میں نہ ہو

نماز نہ پڑھنا شرک ہے 1: ان آیتوں میں تین چیزوں پر روشنی ڈالی ہے ۔ ایک تو یہ بتایا ہے کہ نماز نہ پڑھنااعلانیہ شرک کا ارتکاب کرنا ہے ۔ دوسرے یہ فرمایا ہے کہ تفرق وتشت پیدا کرنا مشرکین کی صفت ہے ! اور تیسرے یہ ارشاد ہے کہ اختلاف اور گروہ بندی کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ۔ یوں تو ہر گروہ اپنے پاس کچھ ایسے دلائل رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ شاداں وفرماں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کسی عنوان گروہ بندی اور فرقہ سازی پسند نہیں غور فرمائیے ۔ نماز مسلمانوں کے لئے کتنی ضروری ہے اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ ہم مسلمان ہیں ۔ کیا محض حسن ظن نہیں ہے ! قرآن تو کہتا ہے کہ نماز نہیں پڑھتا ۔ وہ مشرکین کی سی عادات کا حامل ہوجاتا ہے ۔ اور آپ نمازیں نہ پڑھ کر بھی پکے مسلمان ہیں ! یہ کیسا اسلام ہے ؟ نماز نہ پڑھنا شرک اس لئے ہے کہ یہ اللہ کے سب احکام سے زیادہ موکدہ حکم ہے ۔ پھر اگر ایک شخص اس مان کر بھی عملاً منکر ہے ۔ تو ظاہر ہے کہ کوئی چیز اس سے بھی زیادہ اس کے نزدیک اہم ہوگی ۔ جس کو وہ نہیں چھوڑ سکتا ۔ اور جس کے لئے نماز کو چھوڑ دیتا ہے ۔ یاد رہے کہ یہی شرک ہے کہ خدا کے احکام کے برابر کسی دوسری چیز کو اہمیت دی جائے ۔ اور یہ سمجھا جائے ۔ کہ یہ چیزیں اتنی ہی ضروری ہیں جتنی کہ خدا کی باتیں ضروری ہیں ۔ اور لائق اعتناء ہیں ۔ اسلام دین اخوت ہے ۔ دین وحدت ہے ۔ اس کا منشا ہے کہ تمام انسانوں کو مضبوط لڑی میں منسلک کردے ۔ پھر ان کا اگر آپس میں اختلاف ہو ۔ تو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ اسلام نظامعمل کی برکات سے حقیقتاً محروم ہیں ۔ قرآن حکیم کے نزدیک اس سے بڑا گناہ اور کوئی نہیں ہوسکتا ہے ۔ کہ مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کی رطح مختلف جماعتوں اور عصبیتوں میں بٹ جائیں ۔ اور اسلامی روح سے بےبہرہ ہوجائیں ۔ اسی لئے طبعاً وہ ہر اس دلیل کو پسند نہیں کرتا ۔ جس کو اختلاف کے جواز کے سلسلے میں پیش کیا جائے ۔ وہ تمام دنیائے اسلام کو ایک نوع اور ایک جنس قرار دیتا ہے ۔ وہ ایک تہذیب اور کلچر دیکھنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہے کہ صرف اسلامی عصبیت اور اسلامی نظریات ہی مقبول ہو ! اور انسانوں میں بلحاظ عقائد کے صرف مسلم اور غیر مسلم تقسیم ہو ۔ کوئی تیسرا گروہ نہ ہو ۔ جو اسلامی عصبیت کو دوسرے درجہ پر سمجھے ماورا اپنے فرقہ کو نفس اسلام سے زیادہ اہم قرار دے ۔ حل لغات :۔ ضر ۔ تکلیف ۔ دکھ ۔ مصیبت فضتعوا ۔ فتح سے ہے یعنی بہرہ مند نہ ہونا سلطانا ۔ دلیل قاہر ۔ مسکت استدلال یتکلم ۔ یعنی کیا وہ منطقی طور پر اثبات دعویٰ کے لئے کفایت کرتی ہے اور تم کو مجبور کررہی ہے ۔ کہ شرک کا ارتکاب کرو ۔
Ayahs 30:32–36

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ ہوگئے ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

o اور جب آدمیوں پر سختی آتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر پکارتے ہیں پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں رحمت چکھاتا ہے تب ہی ایک فریق ان میں سے اپنے رب کا شریک ٹھہراتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے انہیں دیا ہے اس کی ناشکری کریں ۔ سو فائدہ اٹھالو آگے معلوم کرلو گے

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان (اہل مکہ) پر کوئی سند نازل کی ہے کہ جو یہ شرک کرتے ہیں اس کو وہ بتلارہی ہے

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم آدمیوں کے کچھ رحمت چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر ان کاموں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں ان پر کوئی مصیبت آتی ہے (ف 1) تو فوراً ہی ناامید ہوجاتے ہیں

ف 1: ان آیات میں انسانی نفسیات بیان فرمائی ہیں ۔ کہ کیونکر وہ حالات کے عدم توازن سے اپنے دماغی توازن کو کھوبیٹھتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب انقلابات اللہ کی طرف سے ہیں ۔ اور ناگریز ہیں جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو پھر خلوص قلب کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے ! اور رو رو کر دعائیں مانگتا ہے اور اللہ کی رحمت و شفقت سے دوچار ہوتا ہے ۔ تو پھر اللہ کے ساتھ اپنی کوششوں اور نتائج کو شریک وسہیم ٹھہرا لیتا ہے ۔ حالانکہ یہ کفر ہے ۔ اور اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ۔ پھر زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسرت میں یہ انسان بہت خوش ہوتا ہے ۔ اور تکلیف میں جو سراسر ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ مایوس ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ نہ مسرت میں آپے سے باہر ہونے کی ضرورت ہے اور نہ تکلیف میں مایوس ہونے کی حاجت ، رزق کی کشائش اور آسودگی یکسر اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ جس شخص کو جب چاہتا ہے ۔ دولت سے نواز دیتا ہے ۔ اور جب چاہتا ہے ۔ بڑوں بڑوں کو افلاس اور حسرت کی زندگی پر مجبور کردیتا ہے ۔ اس لئے مرد مومن کا فرض یہ ہے کہ وہ حالات کی مساعدت اور نامور فقت سے بالکل بےنیاز ہوجائے اور ہر حالت میں اللہ کا شاکر رہے ۔ ع ۔ (پورے ہیں وہی مروجوہرحال میں خوش ہیں) حل لغات :۔ یقنطون ۔ قنوط سے ہے ۔ مایوسی ، بددل ' زکوٰۃ یہاں عام صدقات کے معنوں میں ہے ۔
Ayahs 30:37–39

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ جس کے لئے چاہے روزی فراخ اور تنگ کرتا ہے ۔ بیشک اس میں ایمان دار لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

سو تو رشتہ دار کو اس کا حق دے اور محتاج اور مسافر کو بھی یہ ان کے لئے جو اللہ کی رضامندی چاہتے ہیں بہتر ہے اور وہی چھٹکارا پانے والے ہیں

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو کچھ کہ تم سود دیتے ہو تاکہ ان لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو تم (ف 2) خدا کی رضامندی کی طلب میں زکوٰۃ (یعنی پاک دل سے) دیتے ہو ۔ سو ایسے ہی لوگ ہیں جن کو دونے ہوئے

سود خواروں کی دولت 2: سود خوار لوگ قوم کے لئے اس لئے باعث لعنت ہوتے ہیں ۔ کہ ان کی دولت اور ثروت ملی ضروریات میں صرف نہیں ہوتی ، وہ دن رات مال جمع کرنے کی فکر میں غلطان وییچان رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ رقم جو ہم خیرات اور صدقات کے نام سے دینگے بالکل ضائع جائیگی ۔ کیوں نہ یہ رقم سود میں لگادی جائے تاکہ مزید نفع ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ بدبختو ! تم اس حقیقت کو سمجھتے ۔ کہ چاندی اور سونے کے ان ڈھیروں سے کیا فائدہ ، جو سفر آخرت میں تمہارے کام نہ آسکیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمہاری دولت جس طرح دنیا کے کاموں کو سنوارتی ہے اسی طرح عقبے کے کام بھی سنوارے ۔ اور تمہارے لئے مرجب خیروبرکت ہو ۔ اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ تم اپنے مال و دولت کے ذخیروں سے قوم کے غریبوں اور مسکینوں کو فائدہ پہنچاؤ۔ درحقیقت دولت کا یہی حصہ جو تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو محفوظ رہتا ہے اور بڑھتا ہے ۔ یہی تمہارے لئے ثواب واجر کا باعث ہے ۔ اور وہ جو بنکوں میں جمع ہے ۔ اور جس سے تمہیں بہت آمدنی ہوتی ہے محض ضائع جاتا ہے ۔ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں اس سارے ذخیرہ سیم وزر میں سے ذرہ برابر نفع نہیں پہنچے گا ۔ بلکہ اور موجب عذاب ہوگا ۔ حل لغات :۔ وجہ اللہ ۔ اللہ کی رضا ۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جلائے گا ۔ تمہارے شریکوں میں کوئی ہے کہ ان کاموں سے کچھ (ف 1) کرسکے ؟ وہ پاک ہے اور جو وہ شرک کرتے ہیں اس سے بالاتر ہے

ف 2: شرک کی تردید فرمائی ہے ۔ اور مشرکین سے پوچھا ہے کہ بتاؤ تمہاری اس ساری زندگی میں تمہارے معبودوں کو کس درجہ دخل حاصل ہے ۔ کیا اللہ ہی نے تمہیں پیدا نہیں کیا ؟ پھر کیا عمر بھر وہی تمہاری ضروریات کا کفیل نہیں رہا ؟ موت کس کے قبضہ میں ہے اور وہ کون ہے جو پھر تمہیں زندہ کرے گا اگر ان سب باتوں کا جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ تو پھر تمہارے معبودوں کے اختیارات کیا رہے ؟ ارشاد ہے ۔ کہ وہ تمہارے ان مشر کا نہ خیالات سے پاک اور اعلیٰ ہے اور وہ شرک کی بات کو کسی طرح پسند نہیں کرتا ۔