30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 30:1–3

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

مغلوب ہوگئے رومی

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب ہی غالب آکر رہیں گے

1 رومیوں اور ان کی مغلوبیت کا ذکر : رومی تاریخ کی ایک قدیم اور عظیم الشان قوم ہے اور ان کا تعلق روم بن عیض بن اسحاق بن ابراہیم سے ہے۔ اور قریب کی سرزمین سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو کہ عربوں کے سب سے قریب تھی اور جس پر اس دور میں رومیوں کا غلبہ اور ان ہی کی حکومت تھی۔ اور اس دور میں روم اور فارس دو بڑے بلاک تھے جن میں سے رومی بلاک کا تعلق اہل کتاب سے تھا۔ جبکہ فارس والے مشرک تھے۔ اور ان دونوں بلاکوں کے درمیان باہمی چپقلش اور جنگ و جدل کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہی رہتا تھا۔ مسلمانوں کی ہمدردیاں جیسا کہ اگلے حاشیے میں آ رہا ہے قدرتی طور پر اہل کتاب سے تھیں اور مشرکین کی اہل فارس سے۔ سو اسی بارے میں یہاں پر رومیوں کی مغلوبیت اور پھر ان کے غلبے کا ذکر فرمایا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم کی ایک عظیم الشان پیشینگوئی ہے جس کی مزید تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ اور ابتلاء و آزمائش کی جس سنت اور دستور خداوندی کا ذکر پچھلی سورت میں اصل مقصود تھا اسی کے پیش نظر اس سورة کریمہ کے شروع میں اس قصے کا ذکر اور بیان فرمایا گیا ہے کیونکہ رومیوں کی عارضی شکست کو مشرکین دلیل بنا کر حق اور اہل حق کا مذاق اڑاتے اور خوشیاں منا رہے تھے۔ اور ان کی اس مسرت و شادمانی سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو بہت دکھ اور صدمہ ہو رہا تھا۔ سو اسی واقعے کو اس سورة کریمہ کی تمہید بنا کر ان تمام مختلف پہلوؤں کی وضاحت فرما دی گئی ہے جن کی بنا پر کفار و مشرکین مغالطے میں مبتلا ہو رہے تھے اور جن کے اچھی طرح ذہن نشین نہ ہونے کے سبب سے مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھی خلجان لاحق ہوا تھا۔ سو اس طرح اس سورة کریمہ میں ان تمام شبہات کا ازالہ فرما دیا گیا جو سنت ابتلاء و آزمائش سے متعلق پیدا ہوگئے تھے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ اور اس طرح قرآن حکیم نے دنیا کو ایک عظیم الشان پیشین گوئی سے سرفراز فرمایا۔ جو عام حالات کے بالکل خلاف تھی۔ 2 قرآن حکیم کی ایک عظیم الشان پیشینگوئی کا ذکر وبیان : کہ " رومی مغلوب ہونے کے بعد عنقریب ہی غالب آجائیں گے "۔ اور رومیوں کی مغلوبیت کے بعد ان کے غلبے سے متعلق قرآن حکیم کی یہ ایک عظیم الشان پیشینگوئی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔ سو رومیوں سے انکے اہل کتاب ہونے کے رشتے کے باعث مسلمانوں کی دلی ہمدردیاں قدرتی طور پر ان کے ساتھ تھیں جبکہ شرک کے ناطے سے مشرکین عرب کا قارورہ اہل فارس سے ملتا تھا۔ یوں تو ان دونوں متحارب بلاکوں کی چپقلش و آویزش شروع سے ہی چلی آرہی تھی مگر اس کا ایک تازہ اور سخت قسم کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ سے کوئی آٹھ سال قبل 603 ء میں اس وقت شروع ہوا جب کہ فوک اس (Phocas) نامی ایک شخص نے قیصر روم ماریس (Mauric) کے خلاف بغاوت کر کے تخت پر قبضہ کرلیا۔ تو اس واقعے کو بہانہ بنا کر اور ظلم کا بدلہ لینے کا اعلان کر کے شاہ ایران خسرو پرویز نے فوک اس کے خلاف جنگ شروع کردی۔ کیونکہ پرویز کو ایران کا تخت ماریس کی مدد سے نصیب ہوا تھا اور وہ اس کو اپنا محسن سمجھتا تھا۔ چناچہ وہ فوک اس کو پے درپے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف شام میں حلب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ اور دوسری طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا (موجودہ اور فا) تک اس نے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ اس صورت حال کے پیش نظر روم کے اعیان سلطنت نے افریقہ کے گورنر سے مدد طلب کی جس پر اس نے اپنے بیٹے ہرقل (HERACLUS) کو ایک طاقتور بیڑا دے کر قسطنطنیہ روانہ کردیا جس نے وہاں پہنچتے ہی فوک اس کو معزول کر کے اس کے ساتھ وہی حشر کیا جو اس نے اپنے پیش رو ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ یہ قصہ 610 ء کو پیش آیا۔ اور یہی وہ سال تھا جس میں آنحضرت ﷺ کو منصب نبوت سے سرفراز فرمایا گیا تھا۔ رومی حکومت کے اس انقلاب سے وہ عذر اگرچہ ختم ہوگیا تھا جس کو خسرو پرویز نے اپنی جنگ کے لئے بہانہ بنایا تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنے حملوں اور تباہ کاریوں میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس نے دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد 614 ء میں بیت المقدس پر بھی قبضہ کرلیا۔ جس کے بعد ایرانیوں نے مسیحی دنیا پر قیامت ڈھا دی۔ 90 ہزار عیسائیوں کو اس شہر میں تہ تیغ کیا گیا۔ ان کے سب سے بڑے مقدس کلیسا کو تباہ کردیا گیا۔ ان کی اس اصلی صلیب کو جس کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح کو اسی پر سولی دی گئی مجوسیوں نے چھین کر مدائن پہنچا دیا۔ لاٹ پادری زکریا کو وہ پکڑ کرلے گئے اور شہر کے تمام بڑے بڑے گرجوں کو انہوں نے زمین بوس کردیا۔ خسرو پرویز پر فتح کا نشہ جس بری طرح سے سوار تھا اس کا اندازہ اس کے اس خط سے لگایا جاسکتا ہے جو اس نے یروشلم ۔ بیت المقدس ۔ سے قیصر روم ہرقل کو لکھا تھا۔ جس میں وہ کہتا ہے " سب خداؤں سے بڑے خدا اور تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینے اور بےشعور بندے ہرقل کے نام۔ تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ تو کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھوں سے بچا لیا ؟ "۔ سو اس سے ابنائے دنیا کی تنگ ظرفی اور ان کے کبر و نخوت کی ذہنیت ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو ان کو ڈھیل دیتا ہے اس سے ان کے دماغ کس طرح اور کس درجہ خراب ہوجاتے ہیں۔ بہرکیف اس کے بعد ایرانی فوجیں آگے بڑھتی چلی گئیں یہاں تک کہ ایک سال کے اندر اندر وہ اردن، شام، فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا پر قبضہ کرنے کے بعد حدود مصر تک پہنچ گئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب کہ مسلمان مکہ مکرمہ میں کفار قریش کی طرف سے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے تھے۔ یہاں تک کہ 615 ء میں ان کی ایک بڑی تعداد ہجرت کر کے حبشہ کی عیسائی سلطنت کے یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوگئی۔ اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا۔ کفار قریش اور مشرکین مکہ بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ جس طرح ایران کے آتش پرست رومی اہل کتاب پر غالب آگئے اسی طرح ہم بھی تم پر غلبہ پا کر تمہارے دین کو مٹا کر رہیں گے۔ اس ہولناک پس منظر اور ان مہیب حالات میں قرآن حکیم نے یہ عظیم الشان پیشینگوئی فرمائی کہ " رومی اپنی اس مغلوبیت کے بعد پھر غالب آ کر رہیں گے۔ اور اس دن مسلمان اللہ کی دی ہوئی فتح پر خوشیاں منا رہے ہوں گے "۔ سو اس طرح اس میں ایک کی بجائے دو پیشینگوئیاں فرما دی گئیں۔ ایک رومیوں کے غلبے کی اور دوسری مسلمانوں کے فتح پانے کی۔ حالانکہ دور دور تک بھی ان کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے بلکہ بظاہر حالات اس کے بالکل برعکس تھے۔ ایرانی فوجیں رومیوں کو تاخت و تاراج کرتی ہوئی ایک طرف 619 ء تک پورے مصر پر قابض ہوگئیں اور دوسری طرف وہ رومی فوجوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے پہنچ گئیں یہاں تک کہ قیصر روم نے شاہ ایران خسرو پرویز کے پاس اپنا ایلچی بھیج کر نہایت عاجزانہ طور پر یہ درخواست پیش کی کہ " میں ہر قیمت پر صلح کرنے کے لئے تیار ہوں " مگر اس کے جواب میں شاہ ایران نے جو کہ فتح کے نشے میں چور تھا اس نے کہا کہ " اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دوں گا جب تک کہ وہ پا بزنجیر ہو کر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی اختیار نہ کرلے "۔ آخرِکار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہوگیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ ۔ موجود تیونس ۔ منتقل ہوجانے کا ارادہ کرلیا۔ جبکہ مسلمان ادھر مکہ مکرمہ میں بالکل نہتے اور بےدست و پا تھے۔ ہر طرف سے مارے کھدیڑے اور دبائے ستائے جا رہے تھے۔ اس لئے مغربی مورخین تک بھی قرآن حکیم کی اس پیشینگوئی کو حالات کے یکسر خلاف قرار دیتے ہیں۔ چناچہ مشہور انگریز مورخ گبن کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کی اس پیشینگوئی کے سات آٹھ برس بعد تک بھی کوئی آدمی یہ تصور نہ کرسکتا تھا کہ رومی سلطنت ایران پر دوبارہ غالب آسکتی ہے۔ غالب آنا تو درکنار کسی کو یہ بھی امید نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ بھی رہ سکے گی۔ (رومن ایمپائر) اسی لئے قران حکیم کی یہ آیات کریمہ جب نازل ہوئیں تو ابی بن خلف اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے درمیان یہ شرط طے پائی کہ اگر دس سال کے اندر اندر رومی غالب آگئے تو وہ حضرت صدیق ؓ کو ایک سو اونٹ دے گا۔ ورنہ حضرت صدیق ؓ کو ایک سو اونٹ اسے دینا ہوں گے۔ یہاں تک کہ 622 ء میں جب ادھر آنحضرت ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور ادھر ہرقل نے 623 ء میں آرمینیا سے اپنا حملہ شروع کردیا۔ اور دوسرے سال 624 ء میں اس نے آزربائجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش " ارمیاہ " کو تباہ کردیا اور ان کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ادھر ٹھیک اسی سال مسلمانوں کو بدر میں کفار کے مقابلے میں وہ عظیم الشان فتح نصیب ہوئی جس کو قرآن پاک نے " فرقان " قرار دیا ہے۔ یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردینے والی فتح۔ اور اس طرح دس سال سے بھی کم عرصے میں قران حکیم کی یہ دونوں عظیم الشان پیشینگوئیاں حرف بحرف پوری ہوگئیں۔ اور ایک دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب کر رہ گئی کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ حضرت صدیق اکبر ؓ وہ شرط جیت گئے جو آپ ؓ سے مشرکین عرب کے سردار ابی بن خلف نے لگائی تھی مگر وہ اس دوران مرگیا تھا تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے شرط کے وہ سو اونٹ اس کے وارثوں سے وصول کئے۔ واضح رہے کہ اس وقت تک اس طرح کی دو طرفہ شرط ممنوع نہیں قرار دی گئی تھی۔ اس لئے حضرت صدیق اکبر ؓ کو حضور نے اس سے روکا اور منع نہیں فرمایا لیکن جب قمار ۔ جوئے ۔ کی حرمت نازل ہوئی تو اس طرح کی دو طرفہ شرط کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا مگر حرمت نازل نہ ہونے کے باوجود آنحضرت ﷺ نے اس کو پسند نہ فرمایا اور صدیق اکبر ؓ کو ان اونٹوں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں صدقہ کردو۔ چناچہ آپ ؓ نے وہ سب کے سب اونٹ صدقہ کر دئے۔ پھر اس کے بعد رومی فوجیں ایرانی فوجوں کو کچلتی دباتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ 627 ء میں نینوا کی فیصلہ کن لڑائی میں انہوں نے ایرانی سلطنت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ 628 ء میں شاہ ایران خسرو پرویز کے خلاف اس کے گھر میں بغاوت ہوگئی۔ اس کے اٹھارہ بیٹوں کو اس کے سامنے قتل کردیا گیا اور اس کے کچھ ہی روز بعد وہ خود بھی جیل کی سختیوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے دم توڑ گیا۔ عین اسی سال حدیبیہ کی صلح ہوئی جسے قرآن " فتح مبین " سے تعبیر کرتا ہے۔ اور اسی سال خسرو پرویز کے بیٹے قباد ثانی نے تمام رومی مقبوضہ جات واپس کر کے رومیوں سے صلح کرلی اور اصلی صلیب بھی ان کے حوالے کردی جسے نصب کرنے کے لئے قیصر روم 629 ء میں خود یروشلم ۔ بیت المقدس ۔ گیا۔ اور اسی سال آنحضرت ﷺ ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ عمرۃ القضاء کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ داخل ہوئے۔ سو اس طرح قرآن حکیم کی یہ عظیم الشان پیشینگوئی اور خوشخبری اس قدر جلد پوری ہوگئی ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayahs 30:4–5

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

یعنی چند ہی سالوں میں (کہ غلبہ و مغلوبیت سمیت) ہر معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے پہلے بھی اور بعد بھی اور اس روز خوش ہو رہے ہوں گے ایمان والے1

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی مدد سے اللہ مدد فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی ہے (سب پر) غالب انتہائی مہربان

4 اور اللہ ہی ہے سب پر غالب انتہائی مہربان : پس مسلمان کا اصل تکیہ و بھروسہ اسی خدائے عزیز و رحیم پر ہونا چاہیئے نہ کہ محض ظاہری اسباب و وسائل پر کہ اصل معاملہ بہرحال اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ ایسا عزیز اور زبردست ہے کہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اس کے ارادہ و مشیت میں کوئی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا لیکن وہ چونکہ انتہائی مہربان اور رحیم بھی ہے اس لیے اس کا ہر فیصلہ اور ہر حکم و ارشاد نہایت رحمت و عنایت اور عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہاں پر { بنصر اللہ } کا تعلق { سیغلبون } سے بھی ہوسکتا ہے۔ سو اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو جو غلبہ حاصل ہوگا وہ اللہ ہی کی مدد سے حاصل ہوگا کہ اللہ ہی ہے جو مدد فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے۔ اس کے سوا کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ نیز اس ارشاد کا تعلق { یفرح المومنون } سے بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی " اس روز ایمان والے اللہ کی مدد سے خوش ہو رہے ہوں گے "۔ جو ظاہر ہے کہ ان کے لیے بڑی خوشی و مسرت کا موقعہ ہوگا۔ بہرکیف یہاں پر " عزیز " اور " رحیم " کی دو صفتوں کا ذکر فرما کر اس کی مشیت کی نوعیت کا اظہار فرما دیا گیا ہے۔ سو چونکہ وہ " عزیز " ہے اس لیے کوئی اس کی مشیت میں مزاحم نہیں ہوسکتا۔ لیکن چونکہ وہ " رحیم " بھی ہے اس لیے اس کا ہر ارادہ رحمت و عنایت اور عدل و حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 30:6

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ کا وعدہ ہوچکا اور اللہ کبھی خلاف ورزی نہیں فرماتا اپنے وعدے کی لیکن لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں (حق اور حقیقت کو)

5 لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں : اس لیے یہ جہالت و لاعلمی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں پڑے بھٹک رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ صرف ظاہر کو دیکھتے اور اسی کو جانتے اور مانتے ہیں اور وہ بھی اس حد تک کہ اس سے وہ کیا کیا ظاہری اور مادی فوائد حاصل کرسکتے ہیں اور کیا منافع کما سکتے ہیں اور بس۔ یعنی ان کی نگاہ صرف مادی پہلو تک ہی محصور ہوتی ہے اور بس۔ اور وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ بنایا کس نے ؟ اور نعمتوں اور حکمتوں بھری اس کائنات کو چلاتا کون ہے۔ اور اس کا ہم پر حق کیا ہے ؟ ان کی نگاہیں صرف ظاہری اسباب و وسائل تک محدود رہتی ہیں۔ اور وہ اس مخفی ہاتھ کو نہیں دیکھ سکتے جو اصل میں ان ظواہر کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔ اور اس بنا پر ان کو اصل حقیقت کا ادراک اور اس تک رسائی نصیب نہیں ہوسکتی۔ سو علم کی روشنی عظیم الشان روشنی ہے لیکن واضح رہے کہ اس سے مراد وہ علم نہیں جس کو اہل دنیا علم سمجھتے ہیں کہ اس کا تعلق تو مادہ اور معدہ کے تقاضوں ہی سے ہے۔ وہ مادیت کی حدود سے نکل ہی نہیں سکتا بلکہ اس علم سے مراد حق و حقیقت سے آگہی بخشنے والا وہ علم ہے جس کا تعلق مصدر وحی سے ہو کہ وہی علم انسان کو اصل حقائق سے آگاہی بخشتا ہے۔ ورنہ دنیا والوں کا علم برق و بخارات کی حدود سے آگے نہیں بڑھ سکتا بقول اقبال مرحوم ۔ وہ علم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم ۔ حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات -
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ لوگ تو دنیاوی زندگی کا ایک ہی ظاہری (اور مادی) پہلو جانتے ہیں (اور بس) اور آخرت سے بالکل غافل (و بیخبر ) ہیں2

6 آخرت سے غفلت محرومیوں کی محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ آخرت سے بالکل غافل و بیخبر ہوتے ہیں۔ ان کا اوڑھنا، بچھونا اور مقصود و منتہا دنیا ہی دنیا ہے اور بس۔ سو آخرت سے تو یہ ہر اعتبار سے غافل و بیخبر ہیں ہی مگر اس دنیا کو بھی یہ ہر پہلو اور ہر اعتبار سے نہیں جانتے بلکہ اس کے بھی کسی صرف ظاہری اور مادی پہلو پر ہی ان کی نظر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہاں پر " ظَاہر الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا " نہیں فرمایا گیا بلکہ { ظَاہرًا مِّنَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } فرمایا گیا ہے۔ اور اہل علم پر ان دونوں تعبیروں کے درمیان پایا جانے والا فرق مخفی نہیں۔ سو ان کی نظر صرف اس کے مادی پہلو پر ہوتی ہے۔ اور مادی پہلو کے بھی سب زاویے کسی کے سامنے نہیں ہوتے بلکہ اس کا بھی کسی کے سامنے کوئی گوشہ ہوتا اور کسی کے سامنے کوئی اور گوشہ۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان دنیا داروں میں سے کوئی صرف تجارت و اقتصاد میں مہارت رکھتا ہے، کوئی زراعت وغیرہ میں، کوئی سیاست و اجتماع میں، کوئی طب و صحت میں، کوئی فصاحت و بلاغت میں اور کوئی تعمیر و بناء میں وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ کوئی صرف کان کا سپیشلسٹ ہے، کوئی صرف ناک کا، کوئی صرف جلد کا، کوئی صرف پیٹ کا، کوئی صرف آلات تناسل و بول کا اور کوئی صرف نفسیات کا وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ سب کچھ بھی ان کی ظاہری حد تک اور مادی پہلو سے متعلق اور بس۔ اس سے آگے نہ یہ لوگ سوچتے ہیں نہ غور کرتے ہیں۔ حالانکہ اصل حقائق وہی ہیں جو ان مادیات کے پردوں کے پیچھے کار فرما ہیں۔ سو اہل دنیا کی اکثریت کا حال ہمیشہ یہی رہا کہ وہ دنیا کی ہر چیز کے مادی پہلو ہی پر نظر رکھتے ہیں اور اس کو یہ لوگ بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اور اس علم کے گھمنڈ میں ایسے لوگ حضرات انبیاء و رسل کے ذریعے ملنے والے اس علم وحی سے منہ موڑ لیتے ہیں اور اس کی تحقیر تک کرتے ہیں جو اصل حقائق سے آگہی اور ان تک رسائی بخشنے والی واحد روشنی ہے جس کے نتیجے میں یہ اور بھی گھمبیر اور گھٹاٹوپ اندھیروں میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ اور اس طرح ان کا یہ مادی علم ان کی اور بھی دوری اور محرومی کا باعث بن جاتا ہے اور اس طرح ایسے لوگ ہاویہ ہلاکت کی طرف لڑھکتے چلے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے کبھی غور و فکر سے کام نہیں لیا اپنے دلوں میں کہ اللہ نے نہیں پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی کائنات کو مگر حق کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت تک کے لئے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات (اور اس کے حضور پیشی) کے پکے منکر ہیں3

7 اپنے باطن میں اتر کر غور و فکر کی دعوت و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی اپنے میں اتر کر غور نہیں کیا "۔ یعنی اگر یہ لوگ اپنے دلوں میں اتر کر سوچتے اور غور و فکر سے کام لیتے تو ان کے سامنے اصل حقائق واضح ہوجاتے۔ اور یہ بات ان کے سامنے کھل کر آجاتی کہ آسمان و زمین کا یہ سارا کارخانہ ہست و بود بےکار اور بےمقصد نہیں ہوسکتا۔ دوسرا مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے خود اپنے بارے میں سوچا اور اپنے نفسوں کے بارے میں غور نہیں کیا جو کہ ان کے سب سے زیادہ قریب ہیں اور جن میں عبرت و بصیرت کے بڑے بڑے درس موجود ہیں۔ حضرات مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کے یہ دونوں مطلب بیان کئے ہیں اور دونوں ہی صحیح اور اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ اور دونوں میں غور و فکر اور تفکر و تدبر کی دعوت ہے۔ (الاساس فی التفسیر، فتح القدیر، ابن کثیر، المراغی اور المعارف وغیرہ وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد ربانی میں لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ یہ اپنے باطن میں اتر کر غور و فکر سے کام لیں تاکہ اس طرح یہ ادراکِ حق و حقیقت کے اس گوہر مقصود سے بہرہ ور ہوسکیں جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا بےمثال گوہر ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اگر یہ لوگ اس بارے سوچتے اور صحیح معنوں میں غور و فکر سے کام لیتے تو ان کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان میں جو بھی کچھ ہے اس میں سے کسی بھی چیز کو بےمقصد اور بیکار نہیں پیدا کیا گیا۔ بلکہ ان میں سے ایک ایک چیز ایک خاص حکمت وغایت اور ایک مقصد و نہایت سے بندھی ہوئی ہے اور اس میں بڑے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت مخفی و مستور ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صحیح معنوں میں غور و فکر سے کام لے۔ 8 عقیدئہ آخرت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ -: سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز بامقصد اور باغایت ہے۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس سب کا مخدوم ومطاع یہ انسان بیکار و بےمقصد ہو ؟ اور اس سے اس کے کیے کرائے کے بارے میں کوئی پرسش نہ ہو۔ اور اس کو اس کا کوئی صلہ و بدلہ نہ ملے ؟ سو اسی لیے قیامت کا قیام ضروری ہے لیکن بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات اور اس کے حضور پیشی کے منکر ہیں۔ اور یہی ہے اصل بیماری اور خرابیوں کی جڑ بنیاد کہ عقیدئہ آخرت کے انکار کے بعد آدمی ایک لایعنی اور غیر ذمہ دار شخص بن کر رہ جاتا ہے۔ اور وہ اپنی متاع زندگی کو دنیائے دوں کے متاع غرور کے پیچھے صرف کر کے دارین کے خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقیدئہ آخرت سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں (اللہ کی) اس زمین میں تاکہ یہ دیکھ لیتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں وہ لوگ قوت میں ان سے کہیں بڑھ کر سخت تھے انہوں نے (اپنے اغراض و مقاصد کے لئے) ادھیڑ ڈالا تھا زمین کو اور اس کو انہوں نے اس سے کہیں زیادہ آباد کیا تھا جتنا کہ (آج کے) ان لوگوں نے آباد کیا ہے اور ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر روشن نشانیاں لے کر آئے تو (انہوں نے اپنی مادی قوت و ترقی کے گھمنڈ میں ان کی تکذیب کی جس پر بالآخر وہ سب پکڑے گئے تو) کہیں اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر کوئی ظلم کرتا مگر وہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے

9 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ماضی کی ان قوموں کے جرم تکذیب و انکار اور ان کے آخری انجام کے ذکر وبیان سے تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ لیکن تکذیب و انکارِ حق خود اپنی جانوں پر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر کسی طرح کا کوئی ظلم کرتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے "۔ مگر وہ لوگ تکذیب وانکارِ حق سے خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ سو دین حق سے منہ موڑنے والا خود اپنی ہی محرومی کا سامان کرتا اور اپنی جان ہی پر ظلم ڈھاتا ہے مگر وہ سمجھتا نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کلمہ حق و ہدایت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی دارین کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان آیات کریمات سے تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی ہے کہ ماضی کی ان قوموں نے جن کو اپنی قوت و طاقت پر بڑا گھمنڈ اور ناز تھا اور انہوں نے مادی اعتبار سے بہت بڑی ترقی کی بھی تھی لیکن جب ان کے پاس ان کے رسول روشن آیات، واضح نشانات اور کھلے دلائل لے کر آئے تو انہوں نے اپنے اسی کبر و غرور اور زعم و گھمنڈ میں پیغمبر کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی آیتوں کو جھٹلا دیا جس کے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 30:10

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

آخرکار بڑا ہی برا انجام ہوا ان لوگوں کا جو برائیاں کرتے رہے تھے اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے1

10 برائیوں کے ارتکاب کا نتیجہ برا ۔ والعیاذ باللہ : { السُّوْئٰ ی } " اَسْوَاْ " سے مونث کا صیغہ ہے۔ یعنی " بہت ہی برا ا " ور " بڑا ہی ہولناک انجام " اور ان لوگوں کا یہ انجام ان کے اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں ہی ہوا۔ اور اس طرح یہ لوگ مٹ مٹا کر ہمیشہ ہمیش کے خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ماضی کی ان قوموں کے حالات اور ان کے انجام میں غور و فکر سے کام لینے میں بڑا درس عبرت ہے۔ اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی دعوت کو جھٹلانے اور دین حق سے منہ موڑنے اور اس کا انکار کرنے والی قوموں کا انجام بہت ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا جو تاریخ کے ان صفحات سے درس لے ؟۔ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرْ ؟۔ سو حق کی تکذیب و انکار کے مجرموں کو ڈھیل جتنی بھی ملے ان کا انجام بہرحال برا اور بہت برا ہے۔ اور انہوں نے آخر کار بہرحال ہلاکت و تباہی سے دوچار ہو کر رہنا ہے۔ ماضی کی ان منکر و مکذب قوموں کا حال اور انکا انجام اس حقیقت پر شاہد عدل و حق ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 11 اللہ کی آیتوں کی تکذیب اور انکے استہزاء کا انجام نہایت برا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار بڑے ہی برے انجام سے دوچار ہوئے وہ لوگ جو برائیاں کرتے رہے تھے۔ اس بنا پر کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے کلام پر عمل نہ کرنا اور چیز ہے اور ان کا مذاق اڑانا اور چیز۔ اول گناہ ہے جب کہ ثانی کفر۔ اور اس کا انجام بہت ہی برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے یہ حقیقت اپنی جگہ پر ایک اٹل اور قطعی حقیقت ہے کہ اللہ پاک کی آیتوں کو جھٹلانے اور انکے مذاق اڑانے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کا انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہے کہ ایسے لوگوں کیلئے دنیا میں ہلاکت و تباہی ہے اور آخرت میں ان کیلئے دوزخ کا وہ ہولناک عذاب ہے جس کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ اور جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت بھی ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ایسے مہالک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 30:11–12

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی پہلی مرتبہ پیدا فرماتا ہے اپنی مخلوق کو پھر وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا اس کو (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) پھر تم سب لوگوں کو بہرحال اسی کی طرف جانا ہے لوٹ کر

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی (اس دن مارے دہشت و حیرت کے) ہک دھک رہ جائیں گے مجرم لوگ

12 قیامت کی ہولناکی کی تذکیر و یاددہانی : سو غافل دنیا کو اس ہولناک دن کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرم لوگ ہک دھک رہ جائیں گے "۔ کہ جس قیامت کو وہ مانتے ہی نہ تھے اور جس کے وقوع کو وہ ناممکن سمجھتے تھے اور اس کو زندگی بھر جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے تھے وہ آج اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہے۔ اب نہ اس سے بھاگنے کی کوئی صورت اور نہ بچنے کا کوئی راستہ اور نہ اس کے لئے کمائی کرنے کا کوئی امکان۔ اس لئے اس سے وہ ہک دھک اور دم بخود رہ جائیں گے۔ " ابلاس " دراصل اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص حجت و دلیل سے عاجز آ کر بالکل ساکت و صامت رہ جائے اور ہکا بکا، گم سم اور دم بخود ہوجائے۔ یعنی " ابلاس " مایوسی کی انتہا کو کہا جاتا ہے ۔ " ای یسکتون وتنقطع ححبتہم ۔ " (المراغی : ج 21 ص 32) ۔ قال قتادۃ یفتح المجرمون " ۔ (صفوہ : ج 2 ص 473) " اَبْلَسَ الرَّجُلُ اِذَا سکت وانقطت ححبتہ ۔ " (القرطبی : ج 14 ص 10) ۔ سو اس روز ان کی یہ سب حجت بازیاں ختم ہو کر رہ جائیں گی جن سے یہ لوگ آج کام لیتے ہیں اور ان کی سب بولتیاں بند ہوجائیں گی۔ اور یہ لوگ اپنی مایوسی اور نا امیدی میں اپنی انتہاء کو پہنچ جائیں گے۔ اور اس طور پر کہ اس سے بچنے کی یا نکل بھاگنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 30:13

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے (من گھڑت) شریکوں میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہیں بن سکے گا اور خود ہی اپنے ان شریکوں کے منکر ہوجائیں گے

13 قیامت کے روز مشرکوں کے حال بد کا ذکر : سو اس سے قیامت کے دن مشرکوں کی مایوسی اور انکے اپنے شرکاء کے انکار کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انکے من گھڑت شریکوں میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہیں ہوگا "۔ اور ان کے ان من گھڑت سفارشیوں میں سے کوئی بھی ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا۔ جن کی مدد و امداد اور حاجت روائی و مشکل کشائی کی یہ لوگ دنیا میں آس لگائے بیٹھے تھے کہ یہ ہمیں کافی ہیں۔ ہم جو چاہیں کریں۔ یہ ہمیں چھڑوا اور بخشوا دیں گے۔ ہم بس انہی کا لڑ پکڑے رہیں گے۔ انہی کو نذریں نیازیں دیتے رہیں گے اور بس۔ سو آج یہ لوگ اپنے جن خودساختہ اور من گھڑت سفارشیوں پر تکیہ کیے ہوئے ہیں اور ان کی حمایت میں یہ فوراً آستین چڑھا لیتے ہیں اور مرنے مارنے کو تیار ہوجاتے ہیں وہ اس روز انکے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ان کے منکر ہوجائیں گے۔ قیامت اور آخرت کے اس جہاں میں مشرکین اپنے خود ساختہ اور من گھڑت شرکاء کے بارے میں وہاں کے مختلف مراحل میں مختلف رویے اختیار کریں گے۔ کبھی تو وہ ان کو اپنی مدد کی لیے پکاریں گے اور کبھی وہ ان کا صاف صاف انکار کردیں گے۔ سو حیرانی و پریشانی کے اس انتہائی ہولناک جہاں میں ان کو جہاں پر جو بات بنتی نظر آئے گی وہی کریں گے لیکن قیامت بات بنانے کی جگہ نہیں ہوگی بلکہ حقائق سے دوچار ہونے کی جگہ ہوگی۔ یہاں پر زبان وبیان اور بلاغت کلام کا یہ اسلوب بھی ملاحظہ ہو کہ یہاں پر قیامت اور مستقبل کے ان احوال کو ماضی کے صیغوں کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی { ولم یکن لہم } اور { کانوا بشرکاء ہم } سو یہ بلاغت کلام کا ایک معروف اسلوب ہے کہ جس چیز کو یہ لوگ اپنے کفر و انکار کی بنا پر مستبعد بلکہ ناممکن سمجھتے ہیں وہ اس قدر قطعی اور یقینی ہے کہ گویا کہ وہ واقع ہوچکی ہے اور احوال و اَہوال قیامت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں قرآن حکیم میں اکثر و بیشتر اسی اسلوب بلاغت وبیان کو اختیار فرمایا گیا ہے ۔ اللہ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 30:14

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز لوگ (اپنے اپنے عقیدہ و ایمان کی بناء پر) بٹ جائیں گے

14 قیامت کا دن فرق وتمیز کا دن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب لوگ بٹ جائیں گے۔ دنیا کے سب رشتے اس روز ٹوٹ جائیں گے اور اس کے بعد وہاں پر ایک نئی گروپ بندی ہوگی جو کہ کفر و ایمان، توحید و شرک اور تقویٰ و پرہیزگاری کی بنیاد پر قائم ہوگی۔ اور وہ آخری اور قطعی تقسیم ہوگی۔ اور ایسی قطعی اور دائمی کہ اس کے کے بعد وہ کبھی باہم ملنے نہ پائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ } (یسین : 59) ۔ نیز فرمایا گیا { اَلْاَخِلَّائُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } (الزخرف : 67) نیز فرمایا گیا { فَرِیْقٌ فی الجنَّۃِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ } (الشوریٰ : 7) ۔ سو دنیا کے دارالامتحان میں تو یہ لوگ سب اکھٹے رہتے تھے کہ ابتلاء و آزمائش کا تقاضا یہی ہے مگر فصل وتمیز اور عدل و انصاف کے اس یوم عظیم میں یہ سب بٹ کر الگ ہوجائیں گے۔ نور ایمان و یقین والے ایک طرف ہوجائیں گے اور یہی اصحاب یمین ہوں گے اور کفر و باطل والے دوسری طرف اور یہی " اصحاب شمال " ہوں گے۔ پھر " اصحاب یمین " جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ اور " اصحاب شمال " کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ وہ تفریق ہوگی کہ اس کے بعد وہ کبھی باہم نہیں مل سکیں گے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو آج جو لوگ اپنی قوم قبیلے وغیرہ کی عددی اکثریت کی بنا پر حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس زعم و گھمنڈ کی بنا پر وہ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس دنیا کا نظام انعام و فضل کے قانون کی تحت نہیں بلکہ ابتلاء و آزمائش کے قانون کے تحت چل رہا ہے جس کے باعث یہاں پر نیک و بد مومن و فاسق اور موحد و مشرک وغیرہ سب باہم ملے ہوئے ہیں۔ اور ابتلاء و آزمائش اور تزکیہ و تطہیر وغیرہ کے تقاضوں کے مطابق اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتح مند ہوتے ہیں۔ اس لیے اکثر لوگ دھوکہ کھاتے ہیں اور وہ حق و باطل کے درمیان فرق و تمییز کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ سو قیامت کے اس یوم فرقان میں جب ایمان و یقین اور عمل و اَخلاق کی بنیاد پر تقسیم ہوگی تو یہ سب ایک دوسرے سے کٹ کر اور چھٹ کر الگ ہوجائیں گے۔ اور حق و باطل کا فرق عملا اور پوری طرح سب کے سامنے آجائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 30:15

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

پھر جو ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے تو وہ ایک عظیم الشان اور (بےمثل) باغ میں شاداں وفرحاں ہوں گے2

15 اہل ایمان کیلئے عظیم الشان خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے ہوں گے وہ ایک عظیم الشان باغ میں شاداں وفرحاں ہوں گے "۔ " حبر " اور " حبور " دراصل اس خوشی کو کہا جاتا ہے جس کا اثر انسان کے چہرے بشرے پر ظاہر ہو ۔ " إذا سَرَّ سُرُوْرًا تَہَلَّلَ بِہٖ وَجْہُہ ‘ وَظَہَرَ فِیْہِ اَثَرُہ " ۔ (المراغی : ج 21 ص 32) ۔ سو اہل جنت کی خوشی ان کے چہروں بشروں پر ظاہر و ہویدا ہوگی اور ان کے چہرے چمک دمک رہے ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ " روضتہ " کی تنکیر و تنوین تعظیم شان کیلئے ہے۔ یعنی انکو وہاں عظیم الشان باغ سے سرفرازی نصیب ہوگی اور ان کی مسرت کو دوبالا کرنے کیلئے تمام اسباب مہیا کردیئے جائیں گے۔ اور یہی ہوگی اصل اور حقیقی کامیابی جس جیسی دوسری کوئی کامیابی نہ ہوئی ہے، نہ ہوسکتی ہے۔ اور اس سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ سو ایمان اور عمل صالح کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفراز کرنے والی دولت ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہذہ النعمۃ ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 30:16

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور انہوں نے جھٹلایا ہوگا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو تو ایسے لوگوں کو (پابجولاں) عذاب میں حاضر کیا جائے گا3

16 اہل کفر و باطل کی ذلت و بےبسی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور انہوں نے جھٹلایا ہوگا ہماری آیتوں اور آخرت کی پیشی کو "۔ سو ایسے لوگ اس طرح پکڑے اور جکڑے ہوئے دوزخ میں ڈالے جائیں گے کہ ان کیلئے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ " َای مُدْخَلُوْنَ فِیْہِ لَا یَغِیْبُوْنَ عَنْہَ " ۔ (المراغی) سو { محضرون } کے اس لفظ سے اہل کفر و باطل کی ذلت و رسوائی اور ان کی بےبسی و لاچاری کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ ان کو پکڑ اور جکڑ کر اس طرح لایا جائے گا جس طرح سنگین مجرموں کو لایا جاتا ہے۔ جس سے ان کی انتہائی تذلیل و تحقیر بھی ہوگی اور پھر وہاں کی پکڑ اور جکڑ کی تو حقیقت ہی اور ہوگی۔ اس کا اس دنیا جہاں میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ سو اس موقع پر ایسے کافروں اور منکروں کو نہ ان کا مال و دولت کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی ان کی حکومت و اقتدار۔ اور یہ لوگ کامل بےبسی اور بےکسی کی تصویر بنے اپنے انجام اخیر کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔
Ayahs 30:17–18

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

بس تم تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی کے لئے ہے تعریف آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور (اسی کی تعریف کرو تم لوگ بھی) دن کے پچھلے حصے میں اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوجاؤ

17 توحید خداوندی اور قانون مجازات کا تقاضا تسبیح خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم سب اللہ ہی کی تسبیح کرو ہر حال میں "۔ یعنی جب تم لوگوں کو اہل کفر و باطل اور اصحاب صدق و یقین کے ان دونوں گروہوں کا حال معلوم ہوگیا تو اللہ کی تسبیح و پاکی بیان کرتے رہا کرو کہ وہ تمہیں دوسرے گروہ سے بچا کر پہلے گروہ میں داخل فرما دے اور جبکہ یہ سب کچھ اللہ پاک ہی کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیت مطلقہ کا فضل و کرم اور انعام و احسان ہے تو تسبیح و تقدیس اور حمد و ثنا کا مستحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو اللہ پاک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کے قانون عدل و مجازات کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اس وحدہ لاشریک کی تسبیح کرے اور اسی کے ذکر اور یاد دلشاد سے سرشار و سرفراز رطب اللسان رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 18 ہر نئی حالت و کیفیت پر اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کی تسبیح کرو جب تم شام کرو اور حب تم صبح کرو "۔ یہ پانچ وقت جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ہر حال کا ظہور و وقوع اللہ تعالیٰ کی قدرت و عنایت اور اس کی حکمت و رعایت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی زبان حال سے اس خالق حکیم کی قدرت و حکمت پر اس کی تسبیح و تقدیس کی دعوت دیتا ہے ۔ فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم ۔ چونکہ خاص طور پر انتقال اور تبدیلی کے اوقات ہیں اس لئے ان میں بطور خاص اللہ پاک کی تسبیح بیان کیا کرو اور خاص کر ان پانچ نمازوں کی صورت میں جو انہی وقتوں میں ادا کی جاتی ہیں کہ نماز اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی تسبیح کی سب سے بڑی اور سب سے اہم صورت ہے کہ اس میں دل، زبان اور اعضاء وجوارح سب ہی سے اس کی پاکی کا اظہار وبیان ہوتا ہے۔ سو اس طرح یہ پانچ نمازوں کی طرف اشارہ ہوجائے گا جس طرح کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ۔ فسجان اللّٰہِ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم حمدا یلیق لجلال وجہہ و عظیم سلطانہ ۔ اور جب اس وحدہ لاشریک کی ان عظیم الشان رحمتوں اور عنایتوں کی بخشش وعطاء میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ کہ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کوئی خوبی و کمال اور حسن و جمال موجود ہے وہ سب اسی وحدہ لا شریک کی قدرت و عنایت اور رحمت بےپایاں سے ہے۔ اس لئے اصل اور ہر تعریف اسی کیلئے ہے۔ اور اس کائنات کی ہر شئی اسی کی حمد وثناء میں محو و منہمک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کائنات میں ظہور پذیر ہونے والی ہر نئی حالت و کیفیت اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی عظمت شان کا پتہ دیتی ہے۔ اس لیے ایسی ہر حالت کا تقاضا ہے کہ انسان اس وحدہ لاشریک کی حمد وثناء اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہوجائے۔ اور یہ شان مومن کے سوا اور کسی کی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مومن کی شان کتنی اونچی اور کس قدر عظیم ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ -
Ayahs 30:19–20

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہی نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے اور وہی زندگی بخشتا ہے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد اور اسی طرح تم کو بھی نکالا جائے گا (تمہاری قبروں سے)

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے پیدا فرمایا تم سب کو (اے لوگو ! بےجان) مٹی سے پھر تم یکایک انسان ہو کر (زمین بھر میں) پھیلے پھرتے ہو1

20 انسان کا خود اپنا وجود قدرت و حکمت خداوندی کا ایک عظیم الشان شاہکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم سب کو پیدا فرمایا مٹی سے "۔ کہ تمہارے جدِّ امجد اور اصل اول حضرت آدم کو تو اس نے اس مٹی سے براہ راست اور بلاواسطہ پیدا فرمایا۔ اور تم سب بھی اس کی اولاد اور نسل ہونے کے سبب بالواسطہ طور پر اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہو۔ نیز خود تمہارے جسموں کے اندر کاربن، کیلشیم اور لوہا وغیرہ جیسے اجزء زمین کی صورت میں اس مٹی کاست ۔ { سُلالَۃ من طِیْن } ۔ بھی ایک حیرت انگیز اور نہایت پر حکمت طریقے سے رکھ دیا گیا ہے۔ اور پھر اس سب کا خلاصہ اور نچوڑ مادئہ تولید کے ان باریک جراثیم اور بیضہ جات کے اندر رکھ دیا گیا ہے جو خوردبین کے بغیر نظر بھی نہیں آسکتے۔ اور اس کثرت سے رکھ دیا کہ تم لوگ احساس و شعور رکھنے والے کامل الادارک بشر و انسان کی شکل میں پھیلتے چلے جا رہے ہو۔ تو کیا اس قادر مطلق کے سوا کسی کے بس میں ہے کہ وہ ان میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ ۔ { فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ } ۔ اور کیا اس بےمثال خالق ومالک منعم و محسن کا تم پر کوئی حق نہیں ؟ اور یہیں سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ ایسے خالق ومالک کے ساتھ اور اس کی کسی بھی صفت میں اس کی کسی بھی مخلوق کو شریک ماننا کس قدر بےانصافی اور کتنا بڑا ظلم ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اگر تم لوگ غور و فکر سے کام لو تو تمہیں خود اپنے وجود کے اندر اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں اور حکمت لایزال کے عظیم الشان دلائل نظر آئیں گے، جن کا تقاضا یہ ہے کہ تم دل و جان سے اس کے حضور جھک جھک جاؤ۔ یہ اس قادر مطلق خالق کل کا تم پر حق بھی ہے اور اسی میں خود تمہارا اپنا بھلا بھی ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے لیے تم لوگوں کو کسی خارجی دلیل کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے تم خود اپنے اندر جھانک کر دیکھ لو سب کچھ تمہیں اسی کے اندر مل جائے گا ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے (ایک اہم نشانی یہ) ہے کہ اس نے پیدا فرمائیں تمہارے لئے تمہاری بیویاں خود تمہاری ہی جنس سے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو اور اس نے رکھ دی تمہارے درمیان محبت اور رحمت بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں2

21 زوجین کے وجود میں دلائل قدرت و حکمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا فرمائیں خود تمہاری اپنی جنس سے تاکہ ان سے تم سکون حاصل کرسکو اور اس نے تمہارے درمیان رکھ دی محبت اور رحمت۔ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں "۔ جو اس بارے غور و فکر سے کام لیتے ہیں کہ کس نے ان کے اندر ایسے جذبات و احساسات رکھے اور ایسے تقاضے پیدا فرما دئیے کہ مرد اور عورت میں سے ہر ایک دوسرے کا محتاج اور اس قدر محتاج ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ناقص اور ادھوری ہے۔ اور انکو ایسی فطرت وجبلت پر پیدا فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کی تکمیل و تسکین کا ذریعہ بن گئے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا لباس اور اس کی زینت ہے اور وہ دونوں آپس میں بالکل الگ اور اجنبی ہونے کے باوجود ازدواج باہمی جیسے ایک ایسے عظیم الشان رشتے میں باہم منسلک ہوجاتے ہیں کہ ایک دوسرے پر جان چھڑکنے کو ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح ایک طرف لوگوں کو پرسکون زندگی نصیب ہوتی ہے اور دوسری طرف خاندانوں پر خاندان وجود میں آتے چلے جاتے ہیں جس سے دارین کی سعادت و کامرانی کا سامان وابستہ ہے۔ سو سوچیئے کہ یہ قدرت کا کتنا بڑا احسان اور کس قدر بڑا عظیم الشان فضل و کرم ہے ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو اس میں ایک بڑی واضح اور اہم نشانی یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہر چیز کا ایک جوڑا بنایا ہے اور اسی سے اس چیز کے مقصد وجود کی تکمیل ہوتی ہے۔ ورنہ وہ چیز بیکار اور لاحاصل ہو کر رہ جاتی ہے۔ سو اسی سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دنیا کے مقابلے میں آخرت بھی ہو تاکہ اس طرح اس کے مقصد وجود کی تکمیل ہوسکے۔ ورنہ محض دنیا کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نیز اضداد کے اندر اس طرح توافق اور مطابقت کے پائے جانے سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوجاتی ہے کہ اس کائنات اور اس کی ہر چیز میں ایک ہی مشیت اور ارادہ کارفرما ہے۔ ورنہ اضداد کا وجود اس طرح انسان کیلئے مفید اور کارآمد نہیں ہوسکتا تھا۔ سو اضداد کے اندر پائے جانے والے اس توافق سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اس سب کا خالق ومالک ایک ہی ہے جو نہایت قدرت اور حکمت والا ہے اور دوسری طرف اس سے یہ بات بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ اس سب میں ایک ہی ارادہ اور ایک ہی مشیت کارفرما ہے۔ سو کائنات کے ان مختلف مظاہر میں اس کائنات کے خالق ومالک کے وجود باجود اور اس کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کے واضح اور عظیم الشان دلائل موجود ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ان لوگوں کے لیے ہے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے (ایک اہم نشانی) آسمان اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کا پیدا کرنا بھی ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا باہم اختلاف بھی بیشک اس میں بھی بڑی بھاری نشانیاں ہیں علم کی (روشنی) رکھنے والوں کے لئے

22 زبانوں اور رنگوں کے باہمی اختلاف میں عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور خود تم لوگوں کی زبانوں اور رنگوں کے اختلاف میں بھی عظیم الشان نشانیاں ہیں۔ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت اور عنایت و رحمت بےنہایت کی۔ سو ذرا دیکھو اور سوچو اے عقلمندو کہ کس طرح آسمان و زمین کے ان عظیم کروں کو پیدا فرما کر ایک ایسے نظام کشش و جاذبیت میں باہم جکڑ دیا کہ نہ یہ باہم ٹکرانے پائیں نہ ان کی کارکردگی میں کبھی ذرہ برابر کوئی فرق آئے۔ اور کتنے ہی عظیم الشان اور بےحد و حساب فوائد و منافع ہیں انسانوں کیلئے اور دوسری گوناگوں اور طرح طرح کی مخلوق کیلئے جو شب و روز کے اس ادل بدل اور اس آمدورفت سے وابستہ ہیں۔ پھر اس کی قدرت و حکمت کا ایک اور مظہر دیکھو کہ انسانوں میں ایک ہی اصل سے پیدا ہونے کے باوجود باہم رنگ و نسل، زبان وبیان، عادات واطوار اور بود و باش کے کتنے کتنے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اور ان کے درمیان رنگوں اور زبانوں کے کتنے کتنے اور کیسے کیسے اختلافات پائے جاتے ہیں ؟ مگر ان متنوع اور عظیم الشان نشانیوں سے سبق وہی لیتے ہیں جو علم و فکر کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں ورنہ ایک حیوان یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اور اس سے طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہونے کے باوصف اس سے کوئی سبق نہیں لے سکتا کہ اس کو تو صرف اپنا پیٹ بھرنے اور اس کے بعد نفسانی خواہشات کی تسکین سے غرض ہوتی ہے اور بس۔ سو کس قدر خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو انسانیت کے مقام بلند سے گرا کر حیوانیت کی اس سطح پرلا کھڑا کردیتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی نیچے گرا کر وہ اسفل السافلین بن جاتے ہیں۔ اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو بھلا کر اس کی پیدا کردہ مخلوق میں سے طرح طرح کی اشیاء کی پوجا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ اور اس کی عطا فرمودہ نعمتوں سے کفران کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سو اس طرح ایسے لوگ خود اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کثرت کے اندر اس وحدت اور اضداد کے اندر اس توافق سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور اس کا حاکم و متصرف ایک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کا کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں کوئی شریک نہیں۔ وہی معبود برحق ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں (ایک اہم نشانی) تمہارا یہ سونا (جاگنا) بھی ہے رات اور دن (کے مختلف حصوں) میں اور تمہارا تلاش کرنا بھی اس کے فضل سے بلاشبہ اس میں بھی بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں (گوش ہوش سے)

23 نیند کی نعمت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی نشانیوں میں سے تم لوگوں کا دن رات کا سونا جاگنا بھی ہے۔ سو تمہاری یہ نیند جس کے بارے میں تم سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے بھی کئی اعتبار سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت کاملہ حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ پہلے تو تم لوگ یہی دیکھو کہ دن رات میں اپنے اوپر طاری ہونے والی اس نیند اور اس کی حقیقت و ماہیت کے احاطہ و ادراک ہی سے تم لوگ قاصر و عاجز ہو۔ بڑے سے بڑا فلسفی بھی اور سب دانشور مل کر بھی اس کے بارے میں آخرکار اتنا ہی کہہ اور بتاسکیں گے کہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان پر ازخود طاری ہوجاتی ہے۔ اور یہ اس کی راحت کا ایک بنیادی عنصر اور لازمی تقاضا ہے اور بس۔ اور پھر خود انسان کے اندر پائے جانے کے باوجود نہ اسے دیکھا جاسکتا ہے اور نہ چھوا جاسکتا ہے۔ اور انسان جو اپنی سائنسی ترقی کے بلند بانگ دعوے کرتا ہے اپنے جسم کے اندر کی اس عظیم الشان حقیقت کو نہ خود دیکھ سکتا ہے نہ دوسروں کو دکھا سکتا ہے۔ جو اس کے عجز و قصور اور اس کے محدود ہونے کا ایک عظیم الشان اور کھلم کھلا مظہر اور واضح ثبوت ہے۔ پھر اس انسان کو اپنے بارے میں تکبرو غرور اور استکبار و اعراض کا کوئی حق کس طرح پہنچ سکتا ہے ؟ جبکہ اسکا دوسرا پہلو یہ قابل غور ہے کہ اس میں ایک ایسی خاصیت اور اثر ہے کہ اس سے انسان کی زائل شدہ قوت پھر بحال ہوجاتی ہے اور نیند کے بعد انسان نشیط اور تازہ دم ہو کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ سو ذرا سوچو کہ یہ قدرت کی کس قدر عظیم الشان حکمت اور رحمت و عنایت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ازخود اور بلا کسی اپیل و درخواست کے نوازا ہے۔ سو اس سے سوچو کہ وہ اپنے بندوں پر کتنا بڑا مہربان اور کس قدر وہاب و کریم ہے۔ پھر بھی جو اس سے منہ موڑے وہ کتنا بڑا ظالم اور کس قدر نمک حرام اور بےانصاف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تیسری جانب یہ قدرت کی طرف سے ایک ایسی جبری راحت ہے کہ انسان کو اس سے چارہ کار نہیں۔ وہ اگر کبھی آرام نہ بھی کرنا چاہے تو بھی یہ نیند اس پر ایسی غالب آجاتی ہے کہ اس کو بہرحال سونا پڑتا ہے۔ اور اس کے آگے اسے سپر انداز ہونا پڑتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت خالق ۔ جل و علا ۔ انسان پر خود اس کی اپنی ذات سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے اس نے انسان کے جسم کے اندر آرام و راحت کا یہ ایک ایسا جبری نظام رکھ دیا ہے کہ یہ اگر نہ بھی چاہے تو بھی اس کو آرام کرنا ہی پڑتا ہے ۔ فَلَہ ‘ الْحَمْدُ وَلَہُ الشکر جل وعلا شانہ ۔ سو اس مالک مہربان کو بھول جانا کتنی بڑی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ناشکری اور بےانصافی کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں دکھاتا ہے (گرجتی چمکتی) بجلی جس سے تمہیں خوف بھی ہوتا ہے اور امید بھی بندھتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعے وہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مر چکنے کے بعد بلاشبہ اس میں بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں

24 آسمانی بجلی میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اس کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جس میں طمع اور خوف دونوں پائے جاتے ہیں۔ یعنی اس میں اس بات کا خوف بھی ہوتا ہے کہ کہیں یہ بجلی جان لیوا ثابت نہ ہوجائے یا اس کے ساتھ برسنے والی بارش کسی بڑے سیلاب اور طوفان کا باعث نہ بن جائے۔ اور ساتھ ہی یہ امید بھی بندھتی ہے کہ اب باران رحمت بر سے گی اور اس سے طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل ہوں گے۔ زمین کو نئی زندگی ملے گی اور اس میں قسما قسم کی پیداواریں ہوں گی۔ ہریالی ہوگی اور گل و گلزار جنم لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو قدرت کے اس عظیم الشان مظہر کے رحمت والے پہلو کو ہم لوگ آئے دن اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور بار بار اور جگہ جگہ دیکھتے ہیں کہ یہ ابر رحمت کی بشارت اور اس کا مقدمہ الجیش بن کر نمودار ہوتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ کسی قوم اور کسی علاقہ کیلئے تازیانہ عبرت بھی بن جاتی ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے قوم عاد وغیرہ مختلف قوموں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے۔ سو اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو اپنی عقلوں سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ نعمت اور نقمت دونوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں اور اس کے حکم و ارشاد کے تابع ہے۔ اس لیے امید و بیم کی ہر حالت میں بندے کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رہنا چاہیئے۔ نیز یہ کہ کسی قوم کے عذاب کیلئے اللہ تعالیٰ کو کسی خاص لشکر کے تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے کسی قوم کو موت کے گھاٹ اتار دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو بندوں کی لیے سلامتی اور خیر کی راہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع رہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 25 آسمان سے اترنے والی بارش میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی آسمان سے پانی اتارتا ہے۔ پھر وہ اس کے ذریعے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد کہ اس سے پہلے خشک پڑی اس زمین اور اس کی اڑتی خاک سے اگنے پیدا ہونے کے کوئی آثار تک موجود نہ تھے۔ اور اب اس میں ہر طرف ہریالی اور ایک نئی رونق اور نئی زندگی ہے۔ سو یہ سب کس کی کارستانی ہے ؟ صرف اور صرف اللہ ۔ جل جلالہ ۔ کی جو قادر مطلق بھی ہے اور رحمن و رحیم بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جس طرح وہ خالق ومالک تمہاری زمین کو زندہ کرنے کیلئے آسمان سے پانی اتارتا ہے اسی طرح اس نے تمہارے دلوں کی زندگی کیلئے وحی کی روحانی بارش کا انتظام فرمایا۔ سو وحی کی اس روحانی بارش سے منہ موڑنا خود اپنی ہلاکت کا سامان کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو آسمان سے بارش کا اتارنا اور اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرنا اور باران سماوی کو مخلوق کے لیے فائدے اور نفع کا ذریعہ بنانا سب کچھ اسی قادر مطلق وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ کبھی ایسے بھی ہوتا ہے اور کل کی طرح آج بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی کسی قوم یا ملک اور کسی علاقے کے لیے یہی بارش سیلاب اور طوفان بن کر ان کے لیے ہلاکت اور تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے جن کے مظاہر آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔ سو بندوں کے لیے صحت و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اسی قادر مطلق ۔ وحدہ لا شریک۔ کی طرف رجوع اور اسی کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے کوشاں رہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین قائم ہیں اسی کے حکم (و ارشاد) سے پھر جب وہ تم کو بلائے گا ایک ہی بار زمین سے تو تم سب کے سب یکایک نکل پڑو گے (اپنی اپنی قبروں سے)

26 آسمان اور زمین کا قیام اور ان کی بقاء اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں "۔ سو وہ قادر مطلق ان کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تھامے ہوئے ہے کہ خالق بھی وہی ہے اور قادر وقیوم بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ورنہ اس کے سوا اور کس کے بس میں ہوسکتا ہے کہ وہ ان عظیم الشان کروں کو تھام سکے ۔ { وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِہ } ۔ (فاطر : 41) سو جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آسمان و زمین کا یہ نظام اٹل ہے کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ وہ سخت غلطی پر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے اذن پر موقوف ہے اور بس۔ سو آسمان اور زمین جو قائم ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے قائم ہیں اور یہ اسی وقت تک قائم رہیں گے جب تک کہ اللہ کو منظور ہوگا اور وہ ان کو قائم رکھنا چاہے گا۔ پھر جب وہ ان کے اس موجودہ نظام کو درہم برہم کر کے نئے قوانین و نوامیس کی بنیاد پر ایک نئے جہان کو قائم کرنا چاہے گا تو اس کے لیے ایسا کرنا کچھ بھی شکل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اس قادر مطلق کا محض ارادئہ و اشارہ ہی کافی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 27 قیام قیامت ایک ہی حکم وارشاد کا نتیجہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیام قیامت ایک ہی جھڑکی اور حکم وارشاد کا نتیجہ ہوگی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ جب تم لوگوں کو پکارے گا ایک ہی بار زمین کی طرف سے تو تم سب کے سب نکل پڑو گے۔ یعنی نفخہ ثانیہ کے وقت جب کہ اسرافیل کے صور پھونکنے پر تم سب زندہ ہو کر نکل کھڑے ہوؤ گے اور { مِنَ الاَرْضِ } کا مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں ہوؤ گے نہ کہ وہ پکارنے والا۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ میں اس کو مسجد سے بلا کر لایا ہوں۔ بہرکیف اس روز اس کی ایک ہی پکار سے تم سب لوگ یکایک نکل کھڑے ہوؤ گے اور کسی میں مجال انکار نہ ہوگی ۔ { اِنَّماْ ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ بالسّاہِرَۃ } ۔ (النازعات : 13-14) سو اس کو بار بار پکارنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ اس کی ایک ہی جھڑکی اس کیلئے کافی ہوگی۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہوگا کہ اس روز یہ اس کی حمد و ثنا کے گیت گاتے ہوئے اس کی بارگہ اقدس میں آموجود ہوں گے۔ کسی طرح کی کوئی اینکڑی پینکڑی اور کجی وغیرہ نام کو نہ ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یَوْمَ یدْعُوْکُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَبِثْتُمْ الاَّ قَلِیْلًا } ۔ (بنی اسرائیل : 52) ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس میں منکرین قیامت کے لیے بڑا درس عبرت و بصیرت ہے۔