30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 30:1
Ayahs 30:2–7

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

روم والے قریب کے ملک میں مغلوب ہوگئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

اور وہ چند سال میں مغلوب ہونے کے بعد جلد غالب ہوں گے۔

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

(فتح شکست کا اختیار) اس سے پہلے بھی اللہ ہی کو تھا اور اس کے بعد بھی اور اس روز (جس روز رومی غالب ہوں گے) مسلمان بھی اللہ کی فتح سے خوش ہوجائیں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست رحم کرنے والا ہے۔

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ کا وعدہ ہوچکا۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور لیکن اکثر آدمی جانتے ہی نہیں،

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

کچھ دنیا کی زندگی کی ظاہر باتیں جانتے ہیں اور آخرت سے تو وہ غافل ہی ہیں۔

ترکیب : فی ادنی الارض فی غلبت سے متعلق ھم مبتدا سیغلبون خبر من بعد غلبہم اس سے متعلق غلبہم میں اول قرأت یعنی غلبت کو مجہول مانا جاوے تو مصدر مفعول کی طرف اور دوسری تقدیر میں مصدر فاعل کی طرف مضاف ہے۔ فی بضع متعلق ہے۔ سیغلبون سے بنصر اللہ متعلق ہے۔ یفرح المؤمنون سے وعد اللہ مصدر مؤکد ای وعد اللہ وعدا دول ماتقدم علی فعل المحذوف لا نہ وعد۔ وعدہ مفعول لایخلف۔ تفسیر : اگلی سورة میں اہل کتاب کو مشرکین پر ترجیح دی تھی، بقولہ ولا تجادلوا اھل الکتاب الی قولہ و الہنا و الٰہکم واحد کہ اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر نرمی سے اور یہ کہہ دو جو کچھ تمہارے انبیاء پر نازل ہوا ہے، ہم اس کو مانتے ہیں اور ہمارا تمہارا ایک ہی خدا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بہ نسبت مشرکوں کے اہل اسلام کو اہل کتاب سے ایک خاص برادرانہ تعلق ہے، ان کی ان کی صدہا باتیں ملتی ہیں۔ اس پر مشرکوں کو اہل کتاب سے بھی نفرت ہوگئی۔ اب ان کے پاس آنا جانا بھی چھوڑ دیا۔ اس عرصہ میں شاہ ایران خسرو اور شاہ روم ہر کلیوس کی لڑائی ہوئی اور ہمیشہ ان دونوں سلطنتوں میں لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔ خدا کی قدرت اب کے بادشاہ روم جو اہل کتاب یعنی عیسائی تھا۔ شاہ ایران سے مغلوب ہوگیا اور شاہ ایران کے ہاں بت پرستی کے اصول کو زندہ کرنے والی آتش پرستی مروج تھی، اس لیے مشرکین کو اس سے جانب داری اور شاہ روم سے منافرت تھی، اس موقع پر مشرکوں نے بڑی خوشی منائی اور مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ لو تمہارے بھائی جو اہل کتاب ہیں اور ان کا اور تمہارا خدا ایک ہے، مغلوب ہوگئے۔ تمہارے خدا سے کچھ بھی نہ ہوسکا، اس پر یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی، مسلمانوں کی تسلی کے لیے جس میں شاہ روم 1 ؎ کے پھر غالب ہونے کی اور نیز مسلمانوں کو فتح نصیب ہونے کی بشارت ہے۔ 1 ؎ روم تو دراصل اٹالیہ کو شہر رومۃ کے سبب سے کہتے ہیں مگر ایشیائے کو چک سے لے کر قسطنطنیہ تک اور اس کے آگے تک بہت سے ملکوں کو عرب روم ہی الٓم ہم بارہا بیان کر آئے ہیں کہ اوائل سورت میں یہ حروف مفردات آیندہ مضمون کے مہتم بالشان ہونے پر دلالت کرنے کے لیے آیا کرتے ہیں اور ان میں مخاطب کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی بڑی بات بیان ہوگی تاکہ متوجہ ہو کر سنے اور نیز ان میں کسی خاص امر کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے۔ اس جگہ الف سے اسلام کی طرف اور ل سے اہل کتاب کی طرف م سے مغلوب ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ گو اہل کتاب ایرانیوں پر غالب ہوں گے، مگر اخیر میں اہل اسلام کے ہاتھ سے مغلوب ہوجائیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا اور اس کو وہ قرأت بھی مؤید ہے کہ جس میں غلبت کو معروف اور سیغلبون کو مجہول پڑھا ہے کہ اہل کتاب یعنی رومی غالب آئے، مگر اس غالب آنے کے بعد پھر مغلوب ہوں گے اور اگر حرف سیغلبون کو ہی مجہول کا صیغہ لیا جاوے تو بھی یہی مقصد حاصل ہوتا ہے کہ رومی اب دب گئے مگر من بعد غلبہم اپنے غلبہ پانے کے بعد پھر مغلوب ہوں گے، اس میں ایک بار ان کے غالب ہونے کی بشارت ہے، پھر مغلوب ہونے کی بھی پیشین گوئی ہے، چناچہ دونوں باتیں وقوع میں آئیں اور رومی ایرانیوں پر فتح بدر کے روز غالب آئے، پھر چند برس کے بعد خلافت ابوبکر و عمر ؓ میں مغلوب ہوگئے۔ والعلم عند اللہ تعالیٰ ۔ غلبت الروم فی ادنی الارض کہ بالفعل رومی لوگ ہر کلیوس کہ جس کو اہل اسلام ہرقل 1 ؎ کہتے ہیں۔ قریب کی زمین میں مغلوب ہوگئے ہیں۔ ادنیٰ الارض کو معنی ہیں۔ قریب کی زمین، اس کی تفسیر میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، بعض کہتے ہیں کہ عرب کے قریب کی زمین اطراف شام باذرعات 2 ؎ و بصری اور یہیں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہو کر روم مغلوب ہوا تھا اور یہی جگہ شام کے ملک باعتبار عرب کے قریب ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں اردن اور فلسطین مراد ہے۔ مجاہد کہتے ہیں۔ ارض جزیرہ مراد ہے اور یہی ملک روم کی سرحد میں سے فارس کے قریب ہے۔ فقیر کہتا ہے۔ ہجرت سے تخمیناً چھ برس پہلے روم کے بادشاہ ہر کلیوس اور شاہ ایران خسرو میں جنگ شروع ہوئی اور طرفین سے سخت لڑائیاں ہوئیں۔ ایرانی لشکر بصرہ کی طرف سے بڑھا اور رومیوں کو دباتا ہوا چلا شام کے ملک میں پہنچا اور خاص بیت المقدس کو بھی فتح کرلیا، ایشائے کو چک کے تمام علاقہ دبالئے، آخر قسطنطنیہ کے محاصرہ تک نوبت پہنچی تھی۔ ہزاروں رومی اس جنگ میں مارے گئے۔ بڑی شکست فاش ہوئی۔ (اب سب کے قول ٹھیک ہوگئے) جب یہ خبریں مکہ میں پہنچیں تو مشرکین بڑے خوش ہوئے اور مسلمانوں کو طعنہ دینے لگے، تب مسلمانوں کی تسلی کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان میں تین پیشین گوئیاں ہیں۔ ایک باوجود ان کے مغلوب ہونے کے رومیوں کا ایرانیوں پر غالب آنا، دوم پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب ہونا۔ سوم اس پر مسلمانوں کا فتح پانا۔ بحمدللہ یہ تینوں باتیں بہت جلد چند سال کے بعد واقع ہوئیں۔ فقال اللہ تعالیٰ وھم من بعد غلبہم سیغلبون اور وہ رومی ایرانیوں کے غلبہ کے بعد ان پر غالب آویں گے۔ فی بضع سنین 3 ؎ چند برس اور ان کی شکستہ حالی پر کوئی نہ جائے کیونکہ للہ الامرمن قبل ومن بعد اللہ ہی کے ہاتھ میں زمامِ کہتے تھے جو ان ملکوں میں رہتا ہے اور جو وہاں کا بادشاہ سب کو روم یا رومی کہتے ہیں جس طرح کہ ایشیائے کو چک کے جنوبی ملکوں کو شامل کہتے ہیں ہر کلیوس عیسائی مذہب کا بادشاہ تھا۔ 12 منہ 1 ؎ کسری شاہ فارس اور ہرقل شاہ روم کی غرب قریب کے ملک یعنی عراق میں آنحضرت ﷺ کے عہد میں فتح مکہ سے پہلے لڑائی ہوئی تھی جس میں وہ مغلوب ہوگئے تھے قریش کہ عناصر پرستی وغیرہ کے رشتے سے ایرانیوں سے خوش اور اہل کتاب ہونے کے سبب رومیوں سے ناخوش تھے اور ان کو مسلمانوں سے منسوب کرتے تھے اس آیت میں رومیوں کے غالب ہونے کی اور اسی روز مسلمانوں کے غالب ہونے کی پیش خبری ہے چناچہ اس واقعہ کے چند سال کے بعد پھر لڑائی ہوئی اور رومی غالب آگئے اور اسی روز بدر کی لڑائی میں قریش مکہ پر مسلمانوں نے بھی بڑی فتح پائی اور خوشی ہوئی حقانی۔ 2 ؎ اور نیز بضع کے لفظ میں مخالف کے غلط افواہ کی بھی روک ہے اگر ایک معین سال کا نام لیا جاتا تو تکذیب کرنے کے لیے اس سے پہلے ہی مخالف فتح یابی کی افواہ اڑا دیتے۔ 12 منہ 3 ؎ اے عقد و فاسدہ۔ 12 منہ حکومت ہے آگے بھی اور پیچھے بھی۔ دوسری قرآت پر یہ معنی ہوں گے کہ وہ رومی اپنے اس غلبہ کے بعد جو چند برس میں ہونے والا ہے عنقریب مسلمانوں کے ہاتھوں سے مغلوب ہوں گے، چناچہ اس شکست کے سات برس بعد ہجرت کے دوسرے سال روم نے پھر اپنا سازوسامان تیار کرکے ایرانیوں سے جنگ شروع کی اور اب کے ان کو اس پیشین گوئی کے مطابق ایرانیوں پر وہ غلبہ ہوا کہ اپنا تمام ملک مقبوضہ ان کے ہاتھ سے چھڑا کر ان کے ملک میں بھی گھس آئے۔ یہاں تک کہ مدائن تک پہنچ گئے اور وہاں اپنی فتح کی یادگاری میں ایک عمارت بنوائی، جس کو رومیہ کہتے ہیں اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو ایک تیسری (بھی) پیشین گوئی سناتا ہے ویو مئذ یفرح المؤمنون بنصر اللہ کہ اس روز مسلمان بھی اللہ کی فتح دینے سے خوش ہوں گے، چناچہ ادھر رومیوں کی فتح کی خبر آئی، اسی دن بدر کی لڑائی میں جو کفار قریش سے تھی، مسلمانوں کو بڑی فتح نصیب ہوئی۔ بضع کے معنی چند کے ہیں جو تین سے لے کر نو تک کے عدد کو شامل ہے۔ اس آیۃ پر کفار قریش نے بڑا تمسخر کیا اور ابوبکر ؓ سے پوچھا کہ تعداد قائم کرو کہ یہ بات کتنے برس میں واقع ہوگی، کیونکہ لفظ بضع میں ابہام تھا، اس پر ابوبکر صدیق ؓ اور ابی بن خلف کافر میں بحث ہو کر ایک شرط ٹھہری ابوبکر ؓ نے فرمایا نو برس کے اندر اگر روم غالب آگیا تو میں تجھ سے سو اونٹ لے لوں گا، ورنہ تجھ کو سو اونٹ دوں گا۔ جب پیشین گوئی پوری ہوئی۔ ابی بن خلف مرچکا تھا۔ ابوبکر ؓ نے ابی کے وارثوں سے سو اونٹ لیے اور حضرت ﷺ کے روبرو لائے، آپ نے فرمایا ان کو للہ دے دو ۔ انہوں نے دے دیے۔ (نیشاپوری) اس عہد تک شاید اس قسم کی شرط جائز ہوگی۔ پھر جب قمار کی حرمت آئی، ایسی شرطیں بھی قمار میں شامل ہو کر ممنوع ہوگئیں۔ ہاں اگر ایک طرف سے شرط ہو تو مضائقہ نہیں۔ حنفیہ اس واقعہ سے اس بات پر دلیل لاتے ہیں کہ دارالحرب میں اگر مسلمان کفار سے اس قسم کے معاملات قائم کریں تو جائز ہے۔ (بیضاوی) پیشین گوئیاں : یہ پیشین گوئیاں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے لیے دلیل واضح ہیں۔ اب بضع کے لفظ پر شبہ کرنا عبث ہے، کس لیے کہ اکثر پیشین گوئیوں کی مدتوں میں قدرے ابہام ہوا کرتا ہے۔ کتاب دانیال وغیرہ ملاحظہ کرو اور دراصل ابہام بھی جاتا رہا، جبکہ صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ کے اشارے سے مدت معین کردی۔ پھر بضع کا لفظ ایک محاورہ کے لیے آیا اور یہ شبہ بھی بعید از عقل ہے کہ کچھ قرآئن دیکھ کر یہ پیشین گوئی کردی ہوگی، کس لیے کہ اس وقت ہر کلیوس کی فتح کا کوئی بھی قرینہ باقی نہ رہا تھا نہ مسلمانوں کی فتح بدر کا قرینہ تھا، نہ اہل کتاب پر فتح یابی کا کوئی قرینہ تھا بلکہ اس وقت یہ پیشین گوئیاں ایسی خلاف قیاس معلوم ہوتی تھیں کہ جن پر کفار قریش مضحکہ کرتے تھے، جن کے جواب میں خدا تعالیٰ بھی قدرت اور اسباب ظاہر پر تکیہ کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ فقال ینصر من یشاء و ھو العزیز الرحیم کہ وہ جس کو چاہے فتح دے۔ زبردست ہے رحمت کرنے والا ہے۔ جس پر چاہے رحم کرکے غالب کردے۔ وعد اللہ لایخلف اللہ کا وعدہ ہوچکا وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ ولکن اکثر الناس لایعلمون، لیکن اکثر لوگ اس بات کو جانتے نہیں یعلمون ظاہرًا من الحیواۃ الدنیا وہ دنیا کی زندگی کے ظاہری اسباب کو جانتے ہیں اور انہیں پر ان کو تکیہ ہے۔ وھم عن الآخرۃ ھم غافلون پیچھے آنے والی بات سے کہ جس کو وہ ظاہر نہیں دیکھتے۔ غافل ہیں پیچھے آنے والی بات میں یہ پیشین گوئیاں اور دیگر امور اور قوموں کے ادبار و اقبال اور ان کی موت اور عالم آخرت حشر و نشر جنت دوزخ، سب آگئے۔ ہرقل 1 ؎ کی فتح کے سولہویں برس حضرت عمر ؓ نے رومیوں کو مغلوب کیا۔ بیت المقدس کو لیا۔ 1 ؎ چڑھائی تو نویں برس میں ہوئی مگر سولہویں میں بہت کچھ روم مغلوب ہوگئی 12 منہ۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا وہ اپنے دل میں (یہ بھی) خیال نہیں کرتے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عمدگی سے اور وقت مقرر تک کے لیے بنایا ہے اور البتہ بہت سے لوگ تو اپنے رب سے ملنے کے منکر ہی ہیں،

ترکیب : ماخلق مانا فیۃ و فی التقدیر و جہان احد ھما ھو مستانف لا موضع لہ والکلام تام قبلہ والثانی موضعہ نصب یتفکروا والنفی لایمنع ذلک کمالم یمنع فی قولہ وظنوا مالہم من محیص عاقبۃ فمن رفعہ جعلہ اسم کان و فی الخبرو جہان احد ھما السوی ان کذبوا فی موضع نصب مفعولا لہ ای لان کذبوا وبان کذبوا والثانی ان کذبوا و السوئی علی ھذا صفۃ مصدر و من نصب جعلھا خبر کان والاسم السوءی اوان کذبوا والسوءی تانیث الاسوء وھو الاقبح۔ تفسیر : ان لوگوں کو کہ جو ظاہر دنیا پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں، ان آیات میں اپنی قدرت اور جبروت کا مشاہدہ کراتا ہے، فقال اولم یتفکروا الخ کہ وہ اپنے دل میں نہیں سوچتے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر جو کچھ چیزیں ہیں سب کو کس عمدگی کے ساتھ بنایا ہے، کوئی بات نکمی نہیں اور ہر ایک کی ایک عمر مقرر کردی ہے۔ نباتات، حیوان ‘ انسان کی چونکہ تھوڑی عمر ہے، اس لیے اس کے فانی ہونے میں تو کسی کو شبہ نہیں مگر پتھر اور عناصر اور آسمان اور کواکب کی عمریں بہت ہیں، اس لیے بہت سے کم عقلوں کو گمان ہوگیا ہے کہ یہ چیزیں فنا نہ ہوں گی، ہمیشہ رہیں گی اور جب ہمیشہ کا رہنا مان لیا تو لاچار ہو کر یہ بھی کہنا پڑا کہ ان کی ابتداء بھی نہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں، پھر جب یہ ہوا تو حشر کا خواہ مخواہ انکار کرنا پڑا، جیسا کہ حکماء کے بعض فریق اور ہنود کے بعض گروہ قائل ہیں مگر یہ نہ سوچا کہ جو چیز ازلی اور ابدی ہے وہ اللہ کی ذات ہے اور کوئی نہیں مگر عرب کے مشرک اس بات کے قائل تھے کہ ان سب چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے، اس لیے ان پر تو حجت جلد قائم ہوگئی کہ جس کی ابتداء ہے اس کی انتہا بھی ضرور ہوگی، اس لیے اللہ نے خلق اللہ السموٰت والارض وما بینہما میں ان چیزوں کا حادث اور مخلوق ہونا بیان فرمادیا اور الا بالحق میں یہ کہ اس نے ان کو اضطراراً نہیں بنایا ہے، جیسا کہ بعض حکماء کہتے ہیں بلکہ قصداً اور ان میں ہر ایک مصلحت رکھی ہے، بےاختیاری بنانے میں یہ کب ہوتا ہے ؟ واجل مسمٰی میں یہ بیان کردیا کہ ان کی انتہا بھی ہے، پھر جب یہ ہے تو حشر اور قیامت اور خدا کے پاس جانے میں کیا شبہ باقی رہا ؟ وان کثیرا من الناس بلقاء ربہم لکفرون بہت سے لوگ خدا کے پاس جانے کا انکار کرتے ہیں اور یہ انکار ان کا چونکہ غفلت اور دنیا کے غرور اور محبت سے تھا، اس لیے ان سے پہلوں کا حال بیان فرمایا کہ وہ سب جو تم سے زیادہ قوی اور مالدار اور زمین میں بسنے والے تھے، اسی سبب سے برباد ہوئے۔ ذرا دنیا میں پھر کر دیکھو ان کے آثار قدیمہ تمہیں دکھائی دیں گے۔ فقال اولم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم کہ کیا انہوں نے زمین میں پھر کر نہیں دیکھ لیا ہے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ کانوا اشد منہم قوۃ واثاروا الارض و عمرو ھا اکثر مما عمروھا وجائتہم رسلہم بالبینت وہ ان سے بھی زیادہ قوی تھے اور زمین کو جو تتے تھے اور آباد کرتے تھے، ان سے زیادہ اور ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے۔ فما کان اللہ الخ پھر ان پر اللہ کا عذاب آیا لیکن اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ وہ خود اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے جو رسولوں سے بمقابلہ پیش آئے۔ ثم کان الخ پھر ان کا برا انجام ہوا، اس سبب سے کہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے تمسخر کرتے تھے۔ ان آیات میں اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرما کر یہ بھی بتلادیا کہ ہم نے جو فتح کی خبر دی ہے وہ بھی سچ ہے، ہماری قدرت سے بعید نہیں اور آخرت سے جو ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا، اس کو بھی اٹھادیا کہ ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہے، یہ عالم فنا ہوگا۔ تم کو اس کے پاس جانا ہے اور یہ بھی بتلادیا کہ پہلے لوگوں نے دنیا کے غرور میں ان باتوں کو نہیں مانا۔ وہ ہلاک ہوئے، دیکھو دنیا فانی ہے وہ کہاں گئے ؟
Ayahs 30:9–10

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین پر پھر کر نہیں دیکھ لیا کہ ان سے پہلوں کا کیسا انجام ہوا وہ ان سے بھی بڑھ کر قوت والے تھے اور انہوں نے زمین کو جوتا تھا اور ان سے بہت زیادہ آباد کیا اور ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر بھی آئے 1 ؎ تھے۔ پھر اللہ تو ان پر کا ہے کو ظلم کرنے لگا تھا، پر وہی اپنے اوپر آپ ظلم ڈھاتے تھے،

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر برا کرنے والوں کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے۔

مگر انہوں نے نہ مانا آخر اپنے کیے کی سزا کو پہنچے ہلاک ہوئے۔ 12 منہ
Ayahs 30:11–16

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے، پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، پھر اس کے پاس لوٹ کر آوے گی

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی گناہ گار ناامید ہوجائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے معبودوں میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور یہ بھی اپنے معبودوں سے منکر ہوجاویں گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز لوگ جدا جدا ہوجاویں گے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

پھر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے سو وہ بہشت میں چین کریں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور وہ جو منکر ہوئے اور انہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا۔ سو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے آویں گے۔

ترکیب : یبلس المجرمون یسکتون متحرین آیسین یقال ناظرتہ فابلس اذا سکت و ایس من ان یحتج وکانوا بشرکائھم کفرین ای یکفرون بالھتھم حین یئسوا منھم۔ وقیل کانوا فی الدنیا کافرین بسببھم، یوم کا ناصب یلبس، شفعاء جمیع شفیع اسم لم یکن ولہم خبر مقدم۔ من شرکائہم بیان لشفعاء، یوم یقوم کا عامل۔ یتفرقون یومئذ یوم کی تاکید، ولقاء الآخرۃ مصدر مضاف ہے، مفعول کی طرف یہ آیتنا پر معطوف تحت میں باجار کی مفعول ہے۔ کذبوا کا۔ تفسیر : اللہ یبد الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون یہاں سے معاد یعنی حشر شروع ہوتا ہے اور اس بات کو مدلل کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ مخلوق کو شروع سے پیدا کرتا ہے، یہ بات نہیں کہ پیدا کرکے فارغ ہوگیا، اگرچہ بھاری بھاری چیزیں اس عالم کی تو پیدا کردیں۔ جیسا کہ آسمان و زمین ‘ کواکب و عناصر۔ اب ان کے علاوہ انسان نباتات حیوان ہر روز لاکھوں چیزیں پیدا کیا کرتا ہے کہ ان کا اول میں کچھ نام و نشان بھی نہیں ہوتا ہے۔ پھر جو سرے سے پیدا کرتا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے بلکہ اس کا وعدہ ہے کہ وہ اس عالم کے فنا ہونے کے بعد ہر چیز کو بارد گر پیدا کرے گا اور پھر لوگ عدالت کے دربار میں خدا تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے۔ ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون یہاں سے اس روز کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی نافرمان و مجرم ناامید ہوجاویں گے۔ مجرم کون ہیں، کافر و مشرک اور اہل اسلام میں سے فاسق و بدکار، مگر آیت میں کافر و مشرک مراد ہیں، ان کے وہ دلی منصوبے سب جاتے رہیں گے۔ بعض کہا کرتے تھے کہ ہم کو گنگامائی بچالے گی، بعض کہتے تھے کہ گائے کی دم پکڑکے بحر عذاب سے پار ہوجاویں گے اور برہمن نے اس مسئلہ کو اپنے معتقدوں کے دل میں خوب جما رکھا تھا، اس لیے دھرماتما گائے دان کیا کرتے تھے۔ بعض مہاراجہ یہ سمجھتے تھے کہ بیل پر سوار ہو کر پار ہوجاویں گے۔ بعض کہتے تھے ہنومان جی بچالیں گے، بعض کہتے تھے۔ حضرت عیسیٰ مسیح تو ہمارے تمام گناہ خواہ وہ کیسے ہی ہوں، اپنے اوپر اٹھا کے لے گئے۔ اب کیا ہے جس نے بپتسمہ یعنی اصطباغ پایا مرتے ہی خدا تعالیٰ کے دائیں طرف تخت رب العالمین کا کنارہ دباکر بیٹھ جاویں گے، اس طرح مکہ بلکہ عرب کے بت پرست کہیں لات منات پر تکیہ کئے ہوئے تھے، کہیں ملائکہ عناصر اور آفتاب کو قاضی الحاجات ‘ دافع المشکلات جانتے تھے۔ جیسا کہ آج کل جہال مسلمان تعزیہ اور اسپ حضرت حسین ؓ کے فرضی نعل کو کہیں کسی جھنڈے اور تھان کو حاجت روا سمجھتے ہیں۔ وہاں دیکھیں گے تو کچھ بھی نہیں ولم یکن لہم من بشرکائہم شفعاء کہ ان کے معبودوں میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی کھڑا نہ ہوگا، بلکہ وکانوا بشر کا ئہم کفرین۔ اپنے ان معبودوں سے منکر ہو کر کہنے لگیں گے کہ ہم تو ان کو نہیں پوجتے تھے کما قال اللہ تعالیٰ سیکفرون بعبادتہم۔ ہاں حضرات انبیاء خصوصاً سید المرسلین اور ان کے پیرو کاملین ان ایمانداروں کے لیے ضرور سفارش کریں گے کہ جن سے بمقتضائے بشریت کوئی خطا دنیا میں ہوگئی ہے، کیونکہ وہ درگاہ کبریائی کے باغی نہ تھے کہ جو اس کے سواء انہوں نے کسی کو معبود بنالیا ہو اور آیت میں صاف اشارہ ہے کہ جو کوئی ان انبیاء کو معبود بنالے گا، اس کی وہ سفارش نہ کریں گے۔ پھر انجام کار وہاں کیا ہوگا ؟ اس کی تفصیل فرماتا ہے، ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون کہ اس روز قیامت برپا ہوگی۔ خدا تعالیٰ کے مجرموں کو فرمانبرداروں سے الگ کردیا جاوے گا۔ فاما الذین آمنوا الخ پھر جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ بہشتوں میں چین کریں گے۔ مدار نجات کا ایمان اور نیک کام کرنے پر رکھا ہے، خواہ اس میں کوئی غریب ہو یا امیر ‘ وضیع ہو یا شریف و اما الذین کفروا الخ اور جس نے کہ کفر اختیار کیا۔ اللہ کی آیتیں جھٹلائیں اور قیامت کے منکر ہوئے۔ اس میں شرک اور ہر قسم کی بدکاری اور گناہ بھی آگئے، جن کو کذبوا باٰیتینا ولقاء الآخرہ میں اجمالاً بیان کردیا کس لیے کہ کفار جو شرک کرتے ہیں۔ وہ آیات توحید کی تکذیب کرتے ہیں اور معصیت کو حلال جان کر کرتے ہیں، اس میں تکذیبِ آیات قیامت ہے۔ فاولئک فی العذاب محضرون پس وہ عذاب میں پکڑے ہوئے لائے جاویں گے۔ یحبرون یسرون بانواع المسار لحظۃ فلحظۃ جرہ اذا سرہ (نیشاپوری)
Ayahs 30:17–26

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پھر اللہ کی تسبیح کیا کرو، جبکہ تم شام کرو اور جبکہ تم صبح کرو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی کی ستائش 1 ؎ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور پچھلے پہر کو اور دن ڈھلے کو۔

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

زندہ کو مردہ سے پیدا کرکے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زندہ کرتا ہے، زمین کو اس کے مرنے کے بعد اور اسی طرح سے تم بھی زندہ کئے جاؤ گے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ تم کو خاک سے پیدا کیا، پھر تو تم انسان بن کر پھیل رہے ہو

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ تمہارے لیے تمہی میں سے بیویاں پیدا کیں کہ ان کے پاس تم کو قرار آوے اور تم میں باہم محبت و مہربانی پیدا کی، البتہ یہ بڑی نشانیاں ہیں، غور کرنے والوں کے لیے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا بھی ہے، البتہ اس میں علم والوں کے لیے نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اس کے فضل (روزی) کا تلاش کرنا بھی ہے، البتہ اس میں سننے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم کو خوف اور امید دلانے کو بجلی دکھاتا ہے اور اوپر سے پانی برساتا ہے پھر اس سے خشک ہوجانے کے بعد زمین کو تروتازہ کرتا ہے البتہ اس میں عقل مندوں کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب تم کو زمین میں سے یکبارگی بلاوے گا تو تم نکل آؤ گے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اس کے آگے گردن جھکائے ہوئے ہیں

ترکیب : فسبحن اللہ قد مروجہ الاعراب فی سورة الاسرا و حین تمسون الجمہور علی الاضافۃ والعامل فیہ سبحان و قریٰ منونا ( 1 ؎ حین تمسون وحین تصبحون۔ 12 منہ) علی ان یجعل تمسون صفۃ لہ والعائد محذوف ای تمسون فیہ وعشیا معطوف علی حین فکلہا داخل التسبیح ولہ الحمد معترض و فی السموات حال من الحمد ویمکن ان یکون عشیا معطوفا علی فی السموات۔ تفسیر : وعدہ و وعید کے بعد یہ بتلانا مناسب تھا کہ وہ کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعدہ انعام کا مستحق ٹھہرے اور کون سی باتیں ہیں کہ جن سے وعید جہنم سے بچے ؟ اس لیے فرمایا فسبحان اللہ حین تمسون الخ کہ ان اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح وتحمید کرنا گرچہ یہ ظاہر میں جملہ خبر یہ ہے۔ پر معناً امر ہے کہ ایسا کرو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اول آیات میں قیامت اور وہاں کے وعدہ وو عید بیان فرمائے تھے جس سے کسی کوتاہ فہم کو خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی فرمانبرداری کرانے کا محتاج ہے۔ جیسا کہ دنیا میں بادشاہوں کو اطاعت و تندہی رعیت کی حاجت پڑتی ہے، پھر جب کوئی اطاعت نہیں کرتا سزا پاتا ہے۔ اطاعت پر انعام کا مستحق ہوتا ہے۔ اس خیال کے غلط کرنے کو یہ فرمایا فسبحٰن اللہ الخ کہ اس کو تمہاری بندگی وطاعت کی کچھ ضرورت نہیں، وہ جو کچھ فرماتا ہے۔ تمہارے بھلے کو آسمانوں کے فرشتے اور ہر ممکن کا حال اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے۔ اس صورت میں جملہ خبر یہ ہی مانا جاوے تو ہوسکتا ہے، مگر جمہور اس کو بمعنی امر لیتے ہیں، یعنی ان اوقات مذکورہ پر اس کی تسبیح وتحمید کرنی چاہیے۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ اللہ کی تسبیح بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت اور ظہر و عصر کے وقت (اس صورت میں ولہ الحمد فی السموات والارض ایک درمیانی جملہ مانا جاوے گا) اس بات کے بتلانے کے لیے کہ آسمانوں اور زمین میں اس کی ستائش ہورہی ہے، تم بھی اوقات مذکورہ میں اس کی تسبیح بیان کرو، یعنی سبحان اللہ کہو کہ اللہ پاک اور منزہ ہے اور جب اس کو جملہ معترضہ نہ مانا جاوے وعشیا کا فی السموات پر عطف قرار دیا جاوے تو یہ معنی ہوں گے کہ صبح اور شام تو اس کی تسبیح بیان کر اور ظہر و عصر کے وقت اس کی حمد کرو۔ الحمد للہ کہو جس کے معنی اس کی خوبیاں بیان کرنا اور اسی کے انعام و الطاف کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا وے جو کوئی ہر صبح و شام سو بار سبحان اللہ وبحمدہ کہے گا اس روز اس کے برابر کسی کی نیکیاں نہ ہوں گی مگر اس کی جو اس قدر کہے یا اس سے زائد متفق علیہ۔ علمائِ اسلام کی ایک جماعت یہی کہتی ہے کہ یہ آیات مکہ میں نازل ہوئیں۔ اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی اوقات مذکورہ میں اللہ کی تسبیح وتحمید کرلینا کافی تھا اور اس کی کوئی تعداد نہ تھی کہ کَے بار تسبیح وتحمید کی جاوے۔ مگر ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد پنجگانہ نماز ہے۔ قرآن کی عادت ہے کہ وہ نماز کو اس کے اجزاء کے ساتھ تعبیر کیا کرتا ہے، نماز میں تسبیح بھی ہے، تحمید بھی ہے۔ رکوع بھی، سجدہ بھی، پھر کبھی اس کو تسبیح سے کبھی تحمید سے کبھی رکوع سے کبھی سجدہ سے بیان کیا کرتا ہے، حین تمسون سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز اور حین تصبحون سے صبح کی نماز اور عشیا سے عصر کی نماز اور تظہرون سے ظہر کی نماز مراد ہے اور مکہ میں ہر وقت کے لیے دو دو ہی رکعت مقرر ہوئی تھیں، پھر مدینہ میں آکر اور زیادہ ہوگئیں۔ (چنانچہ حضرت عائشہ 2 ؎ صدیقہ ؓ کی وہ حدیث کہ جس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے، اس کی مؤید ہے) ۔ ان اوقات کی خصوصیت چند اسرار کی وجہ سے ہے۔ (1) یہ کہ یہ وقت غفلت اور دنیاوی کاروبار کے ہیں، ان میں اللہ کو یاد کرنا ضروری ہے۔ (2) یہی اوقات تجدد نعمائِ الٰہی کے ہیں۔ (3) عالم غیب میں یہ اوقات اہل زمین کی عبادت و دعائِ و استغفار کے لیے اجابت کے واسطے مخصوص ہیں۔ اس کے بعد چند دلائل بیان فرماتا ہے کہ جن سے خاص اسی کا اس تسبیح وتحمید کے لیے مستحق ہونا ثابت ہوتا ہے اور بت پرستی کی قباحت 2 ؎ عن عائشۃ قالت فرضت الصلوٰۃ رکعتین ثم ہاجر رسول اللہ ﷺ ففرضت اربعاً وترکت صلوۃ السفر علی الفریضۃ الاولی منطق علیہ 12 منہ۔ ثابت ہوتی ہے۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ ان دلائل میں اپنے انعام و اکرام ذکر فرماتا ہے کہ جو اس کی طرف سے اس کے بندوں کو پہنچتے ہیں اور جن پر اس کی زندگی اور آرام کا مدار ہے، پھر جس کے انعام و نعماء ہیں، اس کی ستائش و تسبیح بھی ہونی چاہیے۔ فقال یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی یہ پہلی دلیل ہے کہ وہ مردہ سے یعنی نطفہ سے زندہ آدمی پیدا کرتا ہے۔ پھر زندہ عورت سے مردہ بچہ بھی پیدا کرتا ہے۔ اس کے معنی متعدد کئی جگہ بیان ہوچکے ہیں۔ ویحی الارض بعد موتہا اور مری ہوئی زمین کو زندہ کرتا ہے، یعنی خشک کو جڑی بوٹیوں سے جو اگلے موسم میں مرچکی تھیں تروتازہ کرکے زندہ کرتا ہے۔ اس میں زندگی بعد موت اور موت کے بعد زندگی عطا کرنا ثابت کیا گیا، اس لیے بعد میں فرمایا۔ وکذالک تخرجون کہ اسی طرح مرنے کے بعد جڑی بوٹیوں کی طرح قیامت میں تم کو بھی زندہ کردے گا اور زمین سے اوپر نکالے گا، حشر کا مسئلہ بھی ثابت کردیا۔ (2) ومن آیتہ ان خلقکم من تراب الخ کہ تم کو مٹی سے بنایا۔ آدم کو اول مٹی سے بنایا، پھر اس سے اس کی تمام نسل بنی یا کہو نطفہ سے انسان بنتا ہے، وہ خاکی غذاؤں سے جو دراصل خاک تھیں اور خاک ہوجاویں گی۔ (3) ومن آیتہ خلق لکم من انفسکم ازواجا الخ کہ تمہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے۔ مرد کا جوڑا عورت، عورت کا جوڑ مرد جنس کے اگر غیر جنس ہوتے تو بڑی خرابی ہوتی۔ الفت نہ ہوتی اور پھر باہم باوجود غیر غیر ہونے کے میاں بیوی میں وہ محبت و الفت دی کہ ایک کو دوسرے بغیر چین نہیں۔ (4) ومن آیتہ من خلق السموات والارض الخ کہ اس نے آسمان و زمین بنائے اور زمین کے مختلف قطعات پر تم کو بسایا جس سے تمہاری زبانیں اور رنگتیں جدا جدا ہوگئیں۔ باوجودیکہ ایک شخص کی نسل پر کوئی گورا کوئی کالا کسی کی کچھ زبان کسی کی کچھ، یہ اس کی کیسی قدرت ہے ؟ (5) ومن آیتہ منامکم بالیل الخ کہ رات تمہارے سونے آرام کرنے کو بنائی دن تمہارے کاروبار روزی کے سامان مہیا کرنے کو اگر سدارات ہی رہتی یا رات ہی نہ ہوتی تو کیسی خرابی تھی ؟ اس میں ہر روز مرنے اور جی اٹھنے کا بھی نمونہ ہے، اس لیے اس کے بعد فرمایا لقوم یسمعون کہ اس کو سن رکھیں، حشر بھی ہوگا۔ یہاں تک دلائل الانفس تھے، اس کے بعد دلائل الآفاق ذکر کرتا ہے۔ (6) ومن آیتہ یریکم البرق الخ کہ وہ تم کو بجلی چمکا کر دکھاتا ہے جس سے جان کا خوف اور بارش کی امید ہے۔ پھر مینہ برساتا ہے، اس سے خشک زمین کو تروتازہ کرتا ہے۔ (7) ومن آیتہ تقوم السماء والارض بامرہ کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، آسمان کا کوئی ستون نہیں کسی چیز کے اوپر دھری ہوئی نہیں، اس کے بعد پھر حشر کے مسئلہ کا اعادہ کرتا ہے، ثم اذا دعا کم الخ کہ وہ قادر مطلق جب تم کو زمین سے بلاوے گا، سب نکل کر چلے آؤ گے۔ ولہ من فی السموات الخ کیونکہ آسمان و زمین کی ہر چیز اس کے بس میں ہے۔ وھو الذی یبدء الخلق الخ اور وہی اول بار بناتا ہے، بار دیگر بنانا اس کو کیا مشکل ہے بلکہ تمہارے خیال کے بموجب بار دگر بنانا اول بار بنانے سے آسان تر ہے، اس کی آسمانوں اور زمین میں بلند شان ہے، اس پر کوئی چیز مشکل نہیں، وہ زبردست ہے ‘ حکیم ہے۔ ہر ایک تدبیر جانتا ہے۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ابتداء ً پیدا کرے گا اور یہ اس کے نزدیک بہت آسان ہے اور اس کی شان بلند ہے۔ آسمانوں اور زمین میں 1 ؎ اور وہ (بڑا) زبردست ‘ حکمت والا ہے۔

1 ؎ ای الصفۃ العلیا وھو انہ لا الہ الا ھو۔ 12 منہ
Ayahs 30:28–32

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لیے تمہارے حال سے ایک شان بیان کی ہے کہ بھلا تمہارے غلاموں میں سے کہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں، تمہارا اس چیز میں کہ جو ہم نے تم کو دی ہے، کوئی بھی حصہ دار ہے کہ تم اس میں برابر ہوجاؤ، ان سے ویسا ہی خطرہ رکھو کہ جیسا اپنے برابر کے لوگوں سے رکھتے ہو۔ عقلمندوں کے لیے ہم یوں آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ بےانصاف بےسمجھے بوجھے اپنی خواہش پر چلنے لگے ہیں۔ پھر کون ہدایت کرسکتا ہے جس کو کہ اللہ نے بےگمراہ کردیا ہو اور ان کا کوئی بھی مددگار نہیں،

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پھر آپ تو دین پر یک طرفہ ہو کر قائم ہوجاؤ ‘ فطرتِ الٰہی پر کہ جس پر لوگوں کو پیدا کیا۔ خدا کی بناوٹ میں ردوبدل نہیں۔ یہ ہے سیدھا طریقہ لیکن اکثر آدمی جانتے نہیں،

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(فطرتِ الٰہی پر قائم رہو) اس کی طرف رجوع ہو کر اور اس سے ڈرا کرو اور نماز ادا کرتے رہو اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوجاؤ

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

ان میں کہ جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈال دی اور مختلف فرقے ہوگئے۔ ہر فرقہ اس پر جو ان کے پاس ہے خوش ہے۔

ترکیب : من انفسکم فمن للابتداء و فی قولہ من ما ملکت للتبعیض والثالثہ مزید لتاکید الاستفہام الجاری مجری النفی۔ و معنی من انفسکم انہ اخذ مثلاً و انتزعہ من اقرب شیء منکم وھی انفسکم فالمعنی ھل ترضون لانفسکم ان یکون لکم شرکاء من بعض عبید کم یشاء کو نکم فیما رزقکم فانتم ایہا السادات والعبید فی ذلک المرزوق سواء تخافون العبیدان یستعبدوا بالتصرف کخیفتکم انفسکم ای کما یخاف بعضکم بعضا من الاحرار فانتم فیہ سواء والجملۃ فی موضع نصب جواب الاستفہام ای ھل لکم۔ فطرۃ اللہ الزموھا اوعلیکم بھا منیبین الیہ راجعین الیہ من اناب اذا رجع مرۃ بعد اخریٰ وھو حال من الضمیر فی المناصب المقدر لفطرۃ اللہ اوفی اقم لان الایۃ خطاب للرسول والامۃ لقولہ واتقوہ من الذین فرقوا یدل من المشرکین باعادۃ الجار۔ تفسیر : اس سے پہلے چند دلائل اس کے خالق و رازق و قابل ستائش ہونے پر بیان ہوئے تھے۔ ہرچند وہ ردّ شرک کے لیے بھی کافی تھے کہ عالم میں اور کوئی اس کے برابر نہیں، مگر زیادہ واضح کرنے کے لیے ایک مثال بیان کی جس سے شرک کی برائی اور بھی ظاہر ہوجاوے۔ فقال ضرب لکم مثلاً من انفسکم الخ کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ہی حالت سے تم کو ایک مثال سناتا ہے، وہ یہ کہ بھلا تم اپنے غلاموں سے کسی کو اپنے برابر ہونا پسند کرتے ہو کہ برابر ہو کر مال میں تصرف کرنے لگیں اور تم ان سے ایسے ڈرنے لگو کہ جیسا باہم کے شریک سے ڈرا کرتے ہو کہ ایک دوسرے کے پوچھے بغیر کوئی تصرف کرنا کبھی پسند نہ کرو گے۔ پھر غور کرو کہ جب غلام کو جو تمہارا بنایا ہوا نہیں وہ بھی اللہ کا بندہ ہے، تم اپنے مال میں کہ تم کو اللہ نے دیا ہے۔ تمہارا بنایا ہوا نہیں شریک اور برابر ہونا پسند نہیں کرتے تو پھر خدا تعالیٰ کو (کہ جس نے یہ یہ کیا جس کا بیان اوپر کی آیتوں میں آیا) کب پسند ہوگا کہ تم اس کی مخلوق کو خواہ وہ اشرف ہو خواہ ارذل، اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں اس کا شریک بناؤ اور عبادت کرنے اور پکارنے اور نذر و نیاز کرنے میں یا ان کی تعظیم و تکریم میں اس کی برابری کرو ان کے بھی حصہ لگاؤ ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ کذلک نفصل الایات لقوم یعقلون، ہم اپنی آیتوں کو یعنی کلام کو تفصیل سے مثال دے کر عقل والوں کے لیے بیان کرتے ہیں مگر حمقاء کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آتا اور انہوں نے جو یہ معبود بنا رکھے ہیں ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل و سند نہیں بل اتبع الذین ظلموا ھواء ھم بغیر علم الخ بلکہ ستمگاروں نے جہالت سے اپنی دلی خواہشوں کی پیروی کرنی اختیار کرلی ہے۔ ان کو تقدیر ازلی نے ہدایت میں حصہ ہی نہیں دیا۔ فمن یہدی من اضل اللہ پھر ایسے ازلی گمراہ کو کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ ان کا درد مند ‘ خیر خواہ ان کو لا کھ سمجھائے وہ کب مانتے ہیں ؟ ومالہم من نصرین کے یہ معنی ہیں۔ مشرکین کو الزام دے کر اور ان سے مایوسی ظاہر فرما کر آنحضرت ﷺ کی طرف خطاب کرکے دینداروں کو حکم دیتا ہے۔ فاقم وجہک للدین حنیفا کہ تم ادھر ادھر نہ ڈگمگاؤ ایک طرفہ ہو کر دین پر قائم ہوجاؤ۔ فطرۃ اللہ لتی فطر الناس علیہا فطرتِ الٰہی پر قائم ہوجاؤ کہ جس پر اس نے بنی آدم کو بنایا ہے، یعنی فطرت انسان کی ایک اصلی حالت ہے کہ جس پر قائم رہنا انسان کا کمال ہے۔ کبھی توہمات باطلہ اور رسم و عادات فطرت سے باز رکھ کر اس کو ناموزوں حالت پر ڈال دیتے ہیں جو اس پر پھر قائم کرنے کے لیے دنیا میں حضرات انبیاء بھیجے جاتے ہیں۔ وہی آکر بتلاتے ہیں کہ فلاں فلاں باتیں فطرت کے مطابق نہیں، عن ابی ہریرۃ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ومامن مولود لایولد علٰی فطرۃ فابواہ یہودانہ اوینصرانہ ویمجسانہ کما تنتج البھیمۃ بہیمۃ جمعا، ھل تحسون فیہا من جدعاء ثم یقول فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا لاتبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم، متفق علیہ۔ ابوہریرۃ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک بچہ فطرت ہی پر پیدا ہوتا ہے، پھر بعد میں اس کے ماں باپ کہیں اس کو یہودی بنالیتے، کہیں نصرانی، کہیں مجوسی جیسا کہ حیوانات میں بچہ جو پیدا ہوتا ہے تو بےعیب ہوتا ہے، کسی کا کان کٹا ہوا نہیں ہوتا، بعد میں لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، پھر اس کی سند میں حضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی، فطرت اللہ التی الخ یعنی بدء الخلقت میں جس طرح کہ حیوانات کے بچے اپنی اصلی حالت اور صورت پر پیدا ہوتے ہیں، اس طرح ہر ایک بچہ انسان کا اخلاق و عادات و خیالات میں بھی اپنی اصلی حالت پر پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس پر کوئی اثر بیرونی نہ پڑے تو وہ جوان ہو کر بھی اسی حالت پر رہے۔ اللہ کو وحدہ لاشریک جانے اپنے خالق و محسن کی تابعداری کرے۔ یہ اجمالی حالت ہے۔ تفصیلی طور پر ہر ہر بات میں اس کی مرکز طبعی وہی باتیں ہو ویں کہ جو انسان کے لیے ہونی چاہییں۔ راست بازی، رحمدلی، ہمدردی، مگر بعد میں جب اس پر اور اثر پڑتے ہیں تو یہ اس اصلی حالت سے بدل جاتا ہے۔ چالاکی، فریب دہی، ظلم و ستم، بدکاری، بت پرستی وغیرہ اوصاف رذیلہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسی جملہ کی طرف سید الانبیاء نے فابواہ یہودانہ سے ایماء فرمایا کہ ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی کرلیتے ہیں اور اس اصلی حالت کا نام دین قیم ہے اور اسی کو اسلام بھی کہتے ہیں۔ فرماتا ہے لاتبدیل لخلق اللہ یا تو یہی ہے کہ تم خلق اللہ یعنی فطرتِ الٰہی کو نہ بدلو، اسی پر قائم رہو۔ یا جملہ خبر یہ ہے کہ فطرت الٰہی بدلتی نہیں۔ تمام انبیاء کا اس میں ایک ہی رستہ ہے۔ اس کو ہم منسوخ نہیں کیا کرتے، ولکن اکثر الناس لایعلمون لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں، وہ اپنے توہمات باطلہ اور عادات و اخلاق باطلہ کو دین اور فطرت سمجھ بیٹھے ہیں اور پھر جب یہ باطل طریقہ پشت درپشت چلا آتا ہے تو معاذ اللہ پھر اس کو فطرت کیا فطرت کی بھی جان سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد فطرتِ الٰہی کی قدرے شرح کرتا ہے کہ اس کی چند باتیں بتلاکر ان کی پابندی کا حکم دیتا ہے، فقال منیبین الیہ اسی کی طرف رجوع کرتے رہو، ہر امر میں گو وہ رحیم و کریم ہے۔ واتقوہ اس سے ڈرتے بھی رہا کرو نافرمانی پر سزا بھی دیا کرتا ہے۔ واقیموا الصلوٰۃ اور نماز قائم کیا کرو۔ ولا تکونوا من المشرکین اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہو، یعنی اس جماعت میں داخل نہ ہو ‘ شرک نہ کرو۔ پھر ان کا حال بیان فرماتا ہے۔ من الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعًا وہ لوگ ہیں مشرک کہ جنہوں نے اپنے اصلی دین میں یعنی فطرت اللہ میں پھوٹ ڈالی، اس سے الگ راہ نکالی اور ہر ایک جگہ کے لوگوں نے جدا جدا معبود بنائے اور جدا جدا رسمیں قائم کیں اور ان کا حسن باطنی جاتا رہا، کھرے کھوٹے پر کھنے کا امتیاز باقی نہ رہا۔ ہر ایک گروہ اپنے عقائد و رسوم پر کہ جس کو انہوں نے مذہب سمجھ رکھا ہے، خوش و خرم ہیں، اسی کو بہتر جانتے ہیں۔ فطرت : دانائی زیر کی۔ ابتدائِ اختراع حالت یہاں اخیر معنی حالت والے معتبر ہیں، یعنی اصلی حالت ہر چیز کی ایک اصلی حالت ہوتی ہے، پانی میں روانگی، ہوا میں خفت وغیرہ وغیرہ اگر ان میں کوئی آمیزش یا تغیر نہ ہو تو یہ چیزیں اپنی حالت طبعی پر رہیں۔ انسان کی اصلی حالت کو شروع میں فطرت اللہ کہتے ہیں، جو ایک عمدہ اور کمالی حالت ہے اور اسی کو اسلام اور اسی کو دین قیم کہتے ہیں۔ یہ حضرات انبیاء کا طریقہ ہے، نہ اور کسی کا۔ واللہ الہادی وبیدہ المقاصد المبادی۔
Ayahs 30:33–35

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور لوگوں کو جب کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی طرف رجوع ہو کر پھر جب ان کو اپنی عنایت کا مزہ چکھا تا ہے تو جب ہی کوئی ایک فرقہ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شریک پیدا کرنے لگتا ہے،

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں، پھر (دُنیا کے چند روزہ) فائدہ اٹھالو۔ پھر تو تم کو معلوم ہی ہوجائے گا،

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کے لیے کوئی سند بھیجی ہے کہ وہ ان کو شرک کرنا بتا رہی ہے

ترکیب : واذا مس الناس شرط دعوا جواب منیبین حال من الضمیر الفاعل فی دعوا اذا فریق اذا مکانیۃ للمفاجاۃ نائب عن الفاء فی جواب الشرط فتمتعوا فیہ التفات عن الغیبۃ سلطنا یذکر لانہ بمعنی الدلیل و یونث لانہ بمعنی الحجۃ۔ وقیل ھو جمع سلیط کر غیف درغفان۔ واسناد التکلم الیہ مجاز کما تقول نطقت الحال بکذا ای یتکلم تکلم دلالۃ بما کانوا ما مصدریۃ والضمیر فی بہ اللہ۔ اوموصولۃ والضمیر لھا ای بالامر الذی بسببہ یشرکون۔ تفسیر : واذا مس الناس ضر دعواربہم الخ یہاں سے انسانی جذبات میں فطرت الہیہ کا ثبوت کیا جاتا ہے کہ جب انسان پر کوئی سخت مصیبت آپڑتی ہے جو اس کے بیرونی آثار سے اس کو قدرے بیخبر کر ڈالتی ہے تو یہ پھر اسی فطرت اور اصلی حالت پر آکر کمال اخلاص سے اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ ثم اذا اذاقہم منہ رحمۃ اذا فریق منہم بربہم یشرکون پھر وہ جب ان کی مصیبت کو ٹال دیتا ہے اور اپنی رحمت کا کچھ بھی مزہ چکھاتا ہے، سب تو نہیں پر بعض لوگ کہ جن پر پھر وہی بیرونی آثار وتعلیمات باطلہ و توہمات فاسدہ کا دیوآکر سوار ہوتا ہے تو اپنے رب کے ساتھ اوروں کو بھی اس دفع مصیبت میں شریک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا بما آتینہم تاکہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کریں، یعنی ان کا یہ کام خدا تعالیٰ کی ناشکری ہے، اس کے بدلے میں شکر کرنا چاہیے تھا نہ کہ ناشکری کہ اب اوروں کو بھی اس میں شریک کرنے لگے۔ فتمتعوا فسوف تعلمون اب تم اے ناقدرو ! اپنے نزدیک امن و راحت کی حالت میں آگئے ہو، کچھ دنوں دنیا کا مزہ اٹھالو، پھر مرنے کے بعد تم کو معلوم ہوجاوے گا، کیونکہ اس وقت حسن و ادراک کامل عود کر آوے گا، اب یہ نشہ تم کو معلوم ہونے نہیں دیتا، مرنے کے بعد یہ نشہ اتر جاوے گا یا یہ کلمہ تہدید ہے جو عذاب کی خبر دیتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے محاورہ میں مجرم کو کہا کرتے ہیں کہ معلوم ہوجاوے گا، یعنی سزا ملے گی۔ ام انزلنا علیہم سلطانا فہو یتکلم بما کانوا بہ یشرکون یہاں سے یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ وہ جو شریک بناتے ہیں انہیں توہمات باطلہ کا اثر ہے ورنہ ان کے پاس اس بات کی ہم نے کوئی سند نہیں اتاری ہے کہ وہ ان کو شرک کرنے کا حکم دیتی ہو۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس پر خوش ہوجاتے ہیں اور جو ان کو ان کی شامت اعمال سے کچھ دکھ پہنچتا ہے تو فوراً نااُمید ہوجاتے ہیں۔

واذا اذقنا الناس رحمۃ فرحوا بہا وان تصبہم سیئۃ بما قدمت ایدیہم اذا ھم یقنطون یہاں سے ایک اور جذبہ انسانی بتلایا جاتا ہے جو اس میں بیرونی آثار سے پیدا ہوا کرتا ہے، وہ کیا خدا تعالیٰ کی جب رحمت اور نعمت ملے تو اس پر اترانا شکر گزاری نہ کرنا، اس کو اپنی کوشش اور عقل کا ثمرہ قرار دینا اور اس پر کوئی مصیبت آوے اور وہ بھی اسی کے کردار سے تو اس وقت خدا تعالیٰ سے مایوس ہوجانا ‘ روٹھ بیٹھنا یعنی نعمت کا شکر نہ کرنا، مصیبت پر صبر نہ کرنا یہ نالائقی اس کی اس خارجی اثر کا نتیجہ ہے جو پیدا ہونے کے بعد اس کو نادان ماں باپ کی تعلیم سے یا اور کسی کی صحبت بد سے حاصل ہوا ہے۔ ان آیات میں انسان کے دونوں جذبات کا حال بیان کردیا۔ جذبہ فطرت اللہ کا بھی کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف کھنچ لاتی ہے، جو اس کی روح نورانی کا ایک کچھ ذرا سا اثر باقی تھا۔ دوسرا جذبہ اس کی کایا پلٹ کر شرافت انسانی سے باہر ہوجانے کا جو اس کے قوائے بہیمیہ اور توہمات فاسدہ اور تخیلات باطلہ کا نتیجہ ہے، جس پر یہ بےشعور بڑا مسرور ہے۔ کماقال کل حزب بما لدیہم فرحون یہ وہ حالت ہے جس سے طبقہ انسان کامل سے نکل کر ارذل طبقہ میں جاملتا ہے۔
Ayahs 30:37–38

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا یہ وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے نپی تلی کرتا ہے، البتہ اس میں ایمانداروں کے لیے نشانیاں ہیں۔

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پھر (اے مخاطب ! ) قرابت دار کو اس کا حق دیتا رہ اور فقیر اور مسافر کو بھی یہ بہتر ہے، ان کے لیے جو اللہ کے طالب ہیں اور یہی فلاح بھی پانے والے ہیں

ترکیب : وما اتیتم مافی موضع نصب باتیتم بالمد بمعنی اعطیتم والقصر بمعنی جئتم وقصدتم۔ لیربوا ای الربا۔ اس تقدیر پر لیربوا صیغہ و احد غائب کا ہے، اس کا فاعل الربا فالمعنی لیزید الرباویز کوا فی اموال الناس فاؤلئک فیہ التفات حسن کانہ قال ذلک لخواصہ ولملائکتہ وھو مدح لھم من ان یقول فانتم المضعفون کشاف۔ ھل من الخ من الاولیٰ للتبعیض کانہ اقام فعل البعض مقام فعل الکل توسعۃ علی الخصم والثالثۃ لتاکید الاستفہام والمتوسطۃ للابتداء۔ تفسیر : انسان کی اس حالت قنوط یعنی نا امیدی کے جذبہ کی دوا بتلاتا ہے، فقال اولم یروان اللہ یبسط الرزق کہ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تنگدستی اور فراخ دستی اللہ کی طرف سے ہے۔ محقق کی نظر دونوں حالتوں میں اللہ ہی کی طرف ہونی چاہیے۔ فراخ دستی میں شکر کرنا چاہیے نہ اترانا ‘ حق داروں کی دستگیری سے ہاتھ روکنا مناسب نہیں اور تنگدستی میں صبر کرنا چاہیے۔ اللہ سے فضل و کرم کا امیدوا رہنا چاہیے۔ یہ نہ خیال کرے کہ اللہ میری فراخ دستی پر قادر نہیں یا اس کی ادھر عنایت کی نظر نہیں بلکہ اپنے قصور کا تازیانہ خیال کرکے توبہ و استغفار کرے اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔ یہ حالت فطرت اللہ ہے اور پہلی حالتیں اس کی بر خلاف تھیں اور فطرت اللہ پر قائم رہنا مومن کی شان ہے، اس لیے اخیر میں فرمادیا۔ ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون چونکہ یہ بات (کہ ہر چیز کی تنگی فراخی اللہ ہی کی طرف سے ہے) ایک بدیہی بات تھی۔ گو انسان اپنے جذبہ میں اس سے اندھا ہورہا تھا، اس لیے اولم یروا فرمایا۔ فات ذالقربیٰ حقہ والمسکین وابن السبیل جب مومن کو یہ بتلایا گیا کہ تنگی ‘ فراخ دستی اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس کو یہ بھی فطری حکم سنایا گیا کہ تو قرابت دار اور مسکین اور مسافر کے حق ادا کرنے میں کوتاہی نہ کر اور اس لیے فات پرف کا آنا مستحسن ہوا۔ (علمائِ احناف (رح) فرماتے ہیں آیت عام ہے اس میں زکوٰۃ اور دیگر صدقات بھی آگئے، اس طرح ذی القربیٰ کا لفظ بھی عام ہے۔ ذی الفروض اور عصبات اور اولی الارحام بھی آگئے، اس لیے جو ان میں سے ایسا محتاج ہو کہ خود نہ کماسکے اقارب اہل استطاعت پر اس کا خرچ واجب ہے۔ امام شافعی (رح) وغیرہ فرماتے ہیں۔ ذوی الارحام کا نفقہ واجب نہیں) ۔ فرماتا ہے ذلک خیر للذین یریدون وجہہ اللہ کہ یہ حق ادا کرنا ان کے حق میں بہتر ہے کہ جو اللہ کے طالب ہیں۔ وجہ اللہ سے مراد اس کی ذات اور اس لفظ کے ساتھ تعبیر کرنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو اس کے طالب دیدار ہیں اور اس کے عاشق صادق ہیں۔ اولئک ھم المفلحون اور یہی لوگ فلاح پانے والے دنیا سے کامیاب ہو کر جانے والے ہیں، یعنی اس میں نقصان نہیں بلکہ فلاح ہے، چونکہ اللہ کے لیے دینے کا ذکر تھا کہ جو فطرت اللہ کا ایک جذبہ ہے، اس مناسبت سے اس کے برخلاف ایک دوسرے جذبہ انسانی کا بھی ذکر کرنا مناسب ہوا۔ فقال وما آتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ کہ وہ جو تم سود دیتے ہو کہ اس سے لینے والا سمجھتا ہے کہ جس طرح اور اموال تجارت سے بڑھتے ہیں، اس سے بھی بڑھے گا تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا، یعنی اس میں خیروبرکت نہیں۔ سود خوروں کا آخر کار بہت برا دیکھا گیا ہے۔ دیوالہ نکل جانا ‘ رقم ڈوب جانا تو معمولی بات ہے اور بےمروتی ‘ تنگ دلی اس کا بدیہی نتیجہ ہے، جو شخصی اور قومی ترقی کے لیے سخت حارج ہے۔ وما اتیتم من زکوٰۃ الخ برخلاف زکوٰۃ یعنی صدقہ و خیرات اور مقرر، زکوٰۃ کے کہ ان کے مال میں بھی خیروبرکت ہوتی ہے۔ آخرت میں بھی دو چند اجر ملے گا۔ مضعفون کا لفظ کہ جس کے معنی ہیں بڑھانے والے زیادہ کرنے والے کے ہر قسم کے اضافہ کو شامل دنیاوی و اخروی سب کو اس کے بعد انسانی فطرت کو توحید کے بارے میں ابھارتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ ہے کہ جس میں یہ اوصاف ہیں۔ پیدا کرنا، روزی دینا، مارنا، پھر جلانا، پھر بتاؤ کہ تمہارے معبود میں سے کون ہے جو ایسا کرسکتا ہے۔ پھر تمہارا یہ فعل محض بےسود ہے اور تمہارے یہ خیالات محض غلط ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ عما یشرکون۔
Ayahs 30:39–40

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو کچھ کہ تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو۔ سو اللہ کے نزدیک تو افزائش ہوتی نہیں اور وہ جو کچھ کہ تم خدا کی رضا جوئی کے لیے زکوٰۃ دیتے ہو۔ سو وہی بڑھا بھی رہے ہیں،

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم کو روزی دی پھر تم کو مارے گا، پھر تم کو زندہ کرے گا۔ بھلا تمہارے معبودوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے کہ جو ان (چار) کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے۔ وہ پاک اور بلند ہے ان کے شرک کرنے سے۔

1 ؎ (1) وما اتیتم من ربا یربوا فی اموال الناس تفصیل القام یا موصولہ آتیتیم اس کا صلہ اور حائد محذوف من ربا کا بیان کہلانا منصوب ہے۔ اتیتم سے اور قراءت وہ نظر ہے کہ جس میں اتیتم کو مد کے ساتھ پڑھا ہے (مکی) اور لبریوا کو صیغہ منفرد جو لام کی وجہ سے مفتوح ہے من ربا یربوا کے متعلق ہے اور یہ ہی تسلیم کیا جاوے کہ ربا سے مراد ربا محرم نہیں ہدیہ اوطی خیباً ہدیۃ اور ہتہً یطلب اکروکم باہم المطلوب من الزیادۃ فی المعاملۃ (جلالین اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ جو تم ہدیہ دے رہے ہو کہ جو ہدیہ بڑھے اور دو چند سہ چند ہوجائے لوگوں کے مال میں سے کیونکہ لوگوں کی عادت تھی اور اب بھی ہے کہ ہدیہ کے طور پر کوئی کسی کو اس لیے دیا کرتے ہیں کہ وہ اس کے صلہ میں اس کو اس سے زیادہ دے فلا یربواعند اللہ اس ہدیہ دینے کا عند اللہ کچھ ثواب نہیں کیونکہ بوجہ اللہ نہ تھا یعنی اللہ کے واسطے نہ دیا تھا (2) دوسری صورت میں کہ الفاظ اور ترکیب تو یہی رہے مگر ربا سے مراد ربا حرام لیا جاوے جس کو سو وہ کہتی ہیں تو یہ معنی ہوں گے وہ جو تم نے سود پر روپیہ دیا ہے (سود سے مراد سود ہے۔ روپیہ مجازاً اطلاق السبب علی السبب) یعنی دیا کرتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں پڑ کر یہ بھی بڑھتا رہے مثلاً سو روپیہ کسی کو سود پر دیے روپیہ سینکڑے پڑھ لینے والے نے اس کو کسی بیوپار میں لگادیا اب جس طرح اس کا مال بڑھ رہا ہے اس کا سودی روپیہ بھی جوں جوں دن گزرتے جاتے ہیں بڑھتا جاتا ہے فلا یربواپس یہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا (3) تیسری ایک صورت ہے وہ یہ کہ لیربوا کو جمع کا صیغہ مانا جاوے نیز اس کی یہی دو صورت ہیں ایک یہ کجمع مذکور غائب جیسا کہ نیشا پوری میں ہے بضم ایسا سے و سکون الراء علی الجمع ابوجعفرنا ونافع وسہل ویعقوب یعنی ان قراء نے اس کو صیغہ جمع پڑھا ہے یہ اصل اس میں یربون تھا لام کے کی وجہ سے نون جمع ساقط ہوگیا اس تقصیر پر یہ معنی ہوں گے کہ وہ جو تم نے سود کی غرض سے دیا ہے کہ لوگ اور لوگوں کے مال سے بڑھ جاویں یعنی اس سے سودی روپیہ سے مال میں نفع حاصل کرکے بڑھیں فی اموال الناس ای بسبب اموال الناس المطعین فلا یربوا عند اللہ پس ہرگز نفع عند اللہ ہوگا اور دوسری صورت یہ ہے کہ یربوا کو تربوا جمع حاضر کا صیغہ مانا جاوے وقرونا فع ویعقوب لتربوا الی التزیدد او لتصریوا اذ ربوًا۔ بیضاوی اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ وہ جو تم سود پر دیتے ہو تاکہ تم لوگوں کے مال میں ٹھہراؤ یعنی اور لوگوں کے ال سے تم کو نفع حاصل ہو پس عند اللہ نفع حاصل نہ ہوگا (4) چوتھی یہ ہے ایک صورت ہے کہ اتیتم کو بالقصر پڑھا جاوے جس کے معنی یہ ہے کہ وہ جو رقم ربا یعنی سود لے کر آتی ہو ای ما حکم بہ من ربا یعنی وہ جو تم نے سود حاصل کیا ہے اور سودی لینے والے نے تم کو دنیاوی غرض سے دیا ہے۔ (5) اس پانچویں صورت میں یربوا کو مفرد مانا جائے یا جمع غائب یا حاضر کا صیغہ لیا جاوے ہوسکتا ہے اسی طرح ہر ایک معنی سود یا ہدیہ کو مختلف قراتوں کے ساتھ لحاظ کیا جائے تو متعدد معنی حاصل ہوں گے اور یہی احتمالات ہیں کیا ہے بلیغ کلام ہے 12 منہ۔